Explained with ayahs 44–47
ذلت و رسوائی کے مارے لوگ
کافروں کے کینہ کی اور اپنی گمراہی پر جم جانے کی وجہ بیان رہی ہے کہ انہیں کھانے پینے کو ملتارہا، لمبی لمبی عمریں ملیں۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ ہمارے کرتوت اللہ کو پسند ہیں، اس کے بعد انہیں نصیحت کرتا ہے کہ کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے کافروں کی بستیوں کی بستیاں بوجہ ان کے کفر کے ملیامیٹ کردیں ؟ اس جملے کے اور بھی بہت سے معنی کئے گئے ہیں جو سورة رعد میں ہم بیان کر آئے ہیں۔ لیکن زیادہ ٹھیک معنی یہی ہیں۔ جیسے فرمایا آیت (وَلَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَصَرَّفْنَا الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ 27) 46۔ الأحقاف :27) ہم نے تمہارے آس پاس کی بستیاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
سورة الْاَنْبِیَآء 44
یعنی ہماری اس مہربانی اور پرورش سے یہ اس غلط فہمی میں پڑگئے ہیں کہ یہ سب کچھ ان کا کوئی ذاتی استحقاق ہے جس کا چھیننے والا کوئی نہیں۔ اپنی خوشحالیوں اور سرداریوں کو یہ لازوال سمجھنے لگے ہیں اور ایسے سرمست ہوگئے ہیں کہ انہیں کبھی یہ خیال تک نہیں آتا کہ اوپر کوئی خدا بھی ہے جو ان کی قسمتیں بنانے اور بگاڑنے کی قدرت رکھتا ہے۔
سورة الْاَنْبِیَآء 45
یہ مضمون اس سے پہلے سورة رعد آیت 41 میں گزر چکا ہے اور وہاں ہم اس کی تشریح بھی کرچکے ہیں (ملاحظہ ہو حاشیہ 60)۔ یہاں اس سیاق وسباق میں یہ ایک اور معنی بھی دے رہا ہے۔ وہ یہ کہ زمین میں ہر طرف ایک غالب طاقت کی کار فرمائی کے یہ آثار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–46
جلد بازی مذموم
خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ ، عجل بمعنے عجلت اور جلدی کے ہے جس کی حقیقت کسی چیز کو اس کے وقت سے پہلے طلب کرنا ہے اور یہ وصف فی نفسہ مذموم ہے قرآن کریم میں دوسری جگہ بھی اس کو انسانی کمزوری کے طور پر ذکر فرمایا ہے۔ وَكَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا یعنی انسان بڑا جلد باز ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ جب کوہ طور پر اپنی قوم سے آگے بڑھ کر حق تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو وہاں بھی اس عجلت پر عتاب ہوا اور انبیاء و صلحاء کے بارے میں جو مسارعت اور مسابقت فی الخیرات کو بطور مدح کے ذکر کیا گیا ہے وہ جلد بازی اور عجلت کے مفہوم میں داخل نہیں۔ کیونکہ وہ وقت سے پہلے کسی چیز کی طلب نہیں بلکہ وقت پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
آیت 46-45
فرمایا کہ جو لوگ تم سے کسی نشانی عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں ان سے کہہ دو کہ میں تو تم کو کسی اس طرح کی نشانی کے بجائے صرف وحی کے ذریعہ سے متنبہ کر رہا ہوں تاکہ تم کسی آفت میں مبتلا ہونے کے بجائے اپنی عقل و بصیرت سے کام لے کر خدا کے غضب سے بچنے کی فکر کرو۔ یہ چیز تمہارے لئے نافع اور شکر کی سزاوار تھی لیکن تم اس کی قدر کرنے کے بجائے اپنی شامت کو دعوت دے رہے ہو !
ولا یسمع الصم الدعآء اذا ماینذرون یہ پیغمبر ﷺ کو تسلی ہے کہ اگر یہ لوک اس نعمت کی قدر نہیں کر رہے ہیں تو یہ ان کی اپنی محرومی ہے۔ یہ عقل و دل کے بہرے ہیں اور جو بہرے ہوتے ہیں وہ جب کسی خطرے سے آگاہ کئے جاتے ہیں تو داعی کی پکار…
Read the full tafseer →45۔ 1 یعنی قرآن سنا کر انھیں وعظ و نصیحت کر رہا ہوں اور یہی میری ذمہ داری ہے اور منصب ہے۔ لیکن جن لوگوں کے کانوں کو اللہ نے حق کے سننے سے بہرا کردیا، آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اور دلوں پر مہر لگا دی، ان پر اس قرآن کا اور وعظ و نصیحت کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
21: یعنی ہم نے انہیں اور ان کے باپ دادوں کو عیش و عشرت کا جو سامان دے دیا تھا، اس سے وہ لمبے عرصے تک مزے اراتے رہے، اور یہ سمجھ بیٹھے کہ یہ ان کا حق ہے، اور وہ جو کچھ کر رہے ہیں، ٹھیک کر رہے ہیں۔ اس غرور میں مبتلا ہو کر وہ حق کے انکار پر آمادہ ہوگئے۔
22: یہ وہی بات ہے جو سورة رعد آیت 41 میں بھی گذری ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جزیرہ عرب کے مختلف اطراف سے شرک اور مشرکین کا اثر و رسوخ گھٹتا چلا جا رہا ہے، اور اسلام اور مسلمانوں کے اثرات بڑھ رہے ہیں۔
Read the full tafseer →قل انمآ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اذا ماینذرون (54) ” لوگوخیال کرو ‘ کہیں تم بہرے تو نہیں ہو۔ تم کیوں نہیں سنتے۔ ورنہ تمہارے پیروں تلے سے زمین سرک جائے گی اور دست قدرت تمہیں سیکڑ کر رکھ دے گا۔ ان کو دولت کے گھمنڈ اور مالدری کی مستی سے ڈرایا جاتا ہے۔
سیاق کلام اپنی موثر بات مزید بڑھاتا ہے اور عذاب کے وقت خود ان کی تصویری حالت ان کو بتاتا ہے۔
Read the full tafseer →4 یعنی ہمارا کام وحی الٰہی کے موافق نصیحت سنا دینا اور انجام سے آگاہ کردینا ہے۔ دل کے بہرے اگر اس پکار کو نہ سنیں تو ہمارا قصور نہیں۔ وہ خود اپنے بہرے پن کا خمیازہ بھگتیں گے۔
Read the full tafseer →وَلَا یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ اِذَا مَا یُنْذَرُوْنَ ”
اگر آپ ایک بہرے کو چلا چلا کر خبردار کر رہے ہوں کہ تمہارے پیچھے سے ایک شیر تم پر حملہ آور ہونے جا رہا ہے تو وہ کہاں خود کو اس خطرے سے بچائے گا۔ یہی مثال ان منکرین کی ہے جو دعوت حق کی آواز سننے کی صلاحیت سے محروم ہوچکے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
41 اصل بات یہ ہے کہ یہ ابھی تک اندھے اور بہرے بنے ہوئے ہیں۔ نہ وقت کی آواز کو سنتے ہیں اور نہ ہی وقت کی رفتار دیکھنے کی زحمت گوارا کرتے ہیں اور اگر انھیں اللہ کا پیغام سنایا جائے اور اخروی انجام سے ڈرایا جائے تو سننے کی زحمت تک گوارا نہیں کرتے۔ یہ لوگ دراصل لاتوں کے بھوت ہیں۔ جب تک انہوں نے اللہ کے عذاب کا مزا نہ چکھا، اپنی خواب غفلت سے کبھی بیدار نہ ہوں گے۔ اس وقت وہ اپنی خطاؤں اور کوتاہیوں کا اعتراف تو کرنے لگیں گے۔ مگر اس وقت ان کے اعتراف کا کچھ فائد نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →60۔ (باقی عذاب لانا نہ لانا میرے اختیار میں بالکل نہیں)
61۔ سو یہ بہرے جنہوں نے ہر دعوت حق کی طرف سے اپنے کان بہرے کر رکھے ہیں، ان پر بھلا میری تنبیہ کا کیا اثر ہوگا ؟ )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–50
آیت نمبر 42 تا 50
ترجمہ : اے محمد ﷺ ان تمسخر کرنے والوں سے کہئے رحمان کے عذاب سے رات اور دن کون ہے جو تمہاری نگرانی حفاظت کرتا ہے اگر تم پر عذاب نازل ہونے لگے (اللہ کے سوا) ایسا کوئی نہیں کرتا، اور یہ مخاطبین عذاب الٰہی سے نہیں ڈرتے اس عذاب کے منکر ہونے کی وجہ سے بلکہ یہ لوگ اپنے رب کے ذکر یعنی قرآنی سے اعراض کرتے ہیں یعنی اس میں غور و فکر نہیں کرتے اَمْ اس میں ہمزہ معنی انکاری کے لئے ہے کیا ان کے پاس ہمارے علاوہ ایسے معبود ہیں جو ان کو (ان کی تکلیف) عذاب سے بچا سکیں ؟ یعنی کیا ان کے پاس ہمارے علاوہ کوئی ایسی ذات ہے جو ان کو عذاب سے بچا سکے کوئی نہیں وہ معبود ان (باطلہ) خود اپنی حفاظت نہیں…
Read the full tafseer →قل انما انذرکم بالوحی آپ کہہ دیجئے میں تم کو وحی کے ذریعہ سے (عذاب سے) ڈرا رہا ہوں۔ یعنی عذاب کا ڈراوا اپنی طرف سے نہیں دے رہا ہوں بلکہ جو قرآن میرے اوپر اترا ہے اس میں اللہ نے عذاب کی اطلاع دی ہے اور اللہ کی اطلاع میں غلطی کا احتمال بھی نہیں ہے۔ اس لئے اس خبر کو تم بعید از فہم نہ سمجھو اور نہ تعجب کرو۔
ولا یسمع الصم الدعآء اذا ما ینذرون۔ اور بہرے پکار کو نہیں سنتے ‘ جب ان کو ڈرایا جاتا ہے۔ (کیونکہ وہ
بہرے ہیں پکارنے سے ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا) مطلب یہ کہ کافر بہرے ہیں ان کو پکارنے سے کوئی فائدہ نہیں۔
Read the full tafseer →(45) آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں تو صرف وحی یعنی قرآن کریم کے ذریعے سے تمہیں ڈراتا ہوں اور ان بہروں کو جس وقت حق کی دعوت دی جاتی ہے اور اس سے ان کو ڈرایا جاتا ہے تو یہ سنتے ہی نہیں یا یہ کہ آپ ان بہروں کو حق کی بات کہاں سنا سکتے ہیں۔
Read the full tafseer →قُلْ اِنَّمَآ اُنْذِرُكُمْ بالْوَحْيِ : یعنی آپ ان سے کہہ دیں کہ میرا کام تو وحی کے مطابق تمہیں اللہ کے عذاب سے ڈرانا ہے، عذاب لانا نہیں۔ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور فوراً عذاب لانا اس کی کونی اور شرعی حکمتوں کے خلاف ہے، کیونکہ اس سے آزمائش کا مقصد فوت ہوتا ہے۔
وَلَا يَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَاۗءَ : بہروں سے مراد کفار ہیں جنھیں حق سنائی ہی نہیں دیتا۔ الف لام عہد کا ہے، اس لیے ترجمہ ”یہ بہرے“ کیا گیا ہے۔ آیت کے شروع میں کفار کو مخاطب فرمایا کہ ”میں تو تمہیں وحی کے ساتھ ڈراتا ہوں“ پھر فرمایا ”یہ بہرے پکار نہیں سنتے“ ، بعد میں انھیں غائب کے صیغے سے ذکر فرمایا کہ یہ لوگ مخاطب کرنے کے اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قل انما انذرکم بالوحی یعنی میں تمہیں قرآن کے ذریعے ڈراتا ہوں۔ ولا یسمع الصم الدعآء یعنی اللہ تعالیٰ جن کے دل کو بہرہ کردیتا ہے اور جن کے کانوں پرم مہر لگا دیتا ہے اور آنکھوں پر پردہ ڈال دیتا ہے وہ آیات کو سمجھنے اور حق کو سننے سے اندھے اور بہرے ہوجاتے ہیں۔ ابو عبد الرحمن سلمی اور محمد بن سمیقع نے یسمع یاء مضمومہ اور میم کے فتحہ کے ساتھ مجہول کا صیغہ پڑھا ہے۔ الصم کو مرفوع پڑھا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ انہیں نہیں سناتا۔ ابن عامر اور سلمی، ابو حیوہ اور یحییٰ بن حرث نے لا تمبع تاء مضمومہ اور میم کے کسرہ کے ساتھ اور الصم کو منصوب پڑھا ہے۔ یعنی اے محمد ! ﷺ آپ بہروں کو آواز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
1:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قل من یکلوکم “ یعنی (کون) تمہاری حفاظت کرے گا (آیت) ” ولا ھم منا یصحبون “ یعنی وہ مدد نہیں کئے جائیں گے۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا ھم منا یصحبون “ یعنی وہ مدد نہیں کئے جائیں گے۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قل من یکلوکم “ یعنی (کون) تمہاری حفاظت کرے گا۔
4:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا ھم منا یصحبون “ یعنی وہ پناہ نہیں دیئے جائیں گے۔
5:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا ھم منا یصحبون “ یعنی وہ روکے نہیں…
Read the full tafseer →[ قُلْ : آپ ﷺ کہہ دیجئے ] [ انمَآ : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ انذِرُكُمْ : میں خبردار کرتا ہوں تم لوگوں کو ] [ بِالْوَحْيِ : وحی کے ذریعہ سے ] [ وَلَا يَسْمَعُ : اور نہیں سنتے ] [ الصُّمُّ : بہرے لوگ ] [ الدُّعَاۗءَ : اس دعوت کو ] [ اِذَا مَا " جب کبھی بھی ] [ يُنْذَرُوْنَ : انھیں خبردار کیا جاتا ہے۔]
نوٹ۔ 1: آیت۔ 44 کا یہ جملہ کہ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُھَا مِنْ اَطْرَافِھَا عربی محاورہ ہے۔ جیسے اردو میں ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص پر زمین تنگ ہوگئی۔ فلاں کے گرد گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ اس عربی محاورہ کا بھی یہی مفہوم ہے۔ یہ قریش کے لئے وارننگ تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے گرد اپنا گھیرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
رحمن کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں ہے، منکرین دنیاوی عیش و عشرت کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے اور بہرے پکار کو نہیں سنتے
ان آیات میں مخاطبین سے یہ فرمایا ہے کہ دیکھو رات دن گزرتے چلے جا رہے ہیں۔ بتاؤ خالق اور مالک جل مجدہ کے عذاب سے تمہاری کون حفاظت کرتا ہے ؟ یہ استفہام انکاری ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر عذاب بھیج دے تو تمہیں اس کے عذاب سے بچانے والا اور تمہاری حفاظت کرنے والا کوئی بھی نہیں ہے۔ تم بھی اس بات کو جانتے اور مانتے ہو۔ یہ جانتے ہوئے پھر بھی اپنے پروردگار کی یاد سے اور اس کو وحدہ لا شریک لہ ماننے سے اعراض کیے ہوئے ہو۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ معبود حقیقی جل مجدہ کو چھوڑ کر جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–47
بیان انجام استہزاء ببارگاہ رسالت و تہدید عذاب آخرت
وال اللہ تعالیٰ واذاراک الذین کفروا .... الیٰ .... وکفی بنا حسنین۔
(ربط) گزشتہ آیت میں آنحضرت ﷺ کے انتقال پر شماتت کرنے والوں کا جواب تھا اب ان آیات میں ان لوگوں کے انجام بد کو بیان کرتے ہیں جو آنحضرت ﷺ کے ساتھ مسخرہ پن کرتے تھے اور قیامت کا مذاق اڑاتے تھے کہ قیامت کب آئے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ دفعتا آجائے گی اور اس وقت ان کو اپنے استہزاء اور تمسخر کا مزہ معلوم ہوجائے گا۔
چناچہ فرماتے ہیں اور ان عاشقان دنیا اور منکرین آخرت کی حالت یہ ہے کہ یہ کافر جب آپ کو دیکھتے ہیں تو بس آپ ﷺ کو ٹھٹھا اور مذاق ہی بنا لیتے ہیں، یہ بھی ابتلاء الٰہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
31:۔ مشرکین عذاب اور قیامت کے جلدی آنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ آپ فرما دیں کہ میں وحی کے ذریعہ اسی عذاب اور قیامت سے تم کو ڈراتا ہوں۔ تاکہ تم ان کے لیے کچھ تیاری کرلو۔ مگر یہ لوگ ایسے بہرے بن چکے ہیں کہ جب انہیں عذاب الٰہی اور اہوال قیامت سے ڈرایا جاتا ہے تو وہ داعی کی آواز کو سن ہی نہیں پاتے۔ ” وَلَئِنْ مَّسَّتْھُمْ “ لیکن وہ جب عذاب موعود میں مبتلا ہوجاتے ہیں تو چلا اٹھتے ہیں اے کاش ! ظالم ہم ہی تھے۔ اب اپنے قصور کا اعتراف کرتے ہیں مگر بےفائدہ۔ اخبر تعالیٰ ان ھؤلاء الذین صموا عن سماع ما انذروا بہ اذا ناالھم شیء مما انذروا بہ ولو کان یسیرا نادوا بالھلاک واقروا بانہم کانوا ظلمین (بحر ج 6 ص 316) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
ربط آیات :
سورۃ الانبیاء میں بنیادی طور پر تین مسائل کا ذکر ہے یعنی توحید ، رسالت اور معاد۔ اس کے علاوہ اس سورة میں مختلف انبیاء (علیہم السلام) کے طریقہ تبلیغ پر روشنی ڈالی گئی ہے اور ان کی مناجات کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اپنی حوائج اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کس طرح پیش کرتے تھے۔ گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کا ذکر اور کفار ومشرکین کا رد فرمایا۔ اس کے ساتھ ساتھ توحید کے دلائل بھی بیان کیے اور رسالت کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کرنے والوں کو موثر جوابات بھی دیے۔ فرمایا ، یہ لوگ عذاب طلب کرنے میں جلد بازی کرتے ہیں ۔ اگر یہ لوگ اس حالت کو دیکھ لیں جب یہ دوزخ کی آگ کو اپنے چہروں اور پشتوں سے…
Read the full tafseer →قُلْ اِنَّمَآ اُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْيِ 0ۡۖ وَلَا يَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَاۗءَ اِذَا مَا يُنْذَرُوْنَ 45
نذر
وَالإِنْذارُ : إخبارٌ فيه تخویف، كما أنّ التّبشیر إخبار فيه سرور . قال تعالی: فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14]
والنَّذِيرُ :
المنذر، ويقع علی كلّ شيء فيه إنذار، إنسانا کان أو غيره . إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ نوح/ 2]
( ن ذ ر ) النذر
الا نذار کے معنی کسی خوفناک چیز سے آگاہ کرنے کے ہیں ۔ اور اس کے بالمقابل تبشیر کے معنی کسی اچھی بات کی خوشخبری سنا نیکے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14] سو میں نے تم کو بھڑکتی آگ سے متنبہ کردیا ۔
النذ یر
کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
2 ؎ یہ پیشین گوئی ہے کہ کیا کفار مکہ نہیں دیکھتے کہ ارض یعنی زمین عرب کو چاروں طرف سے کم کرتے یعنی فتح کرتے ہوئے یا کھولتے ہوئے چلے آتے ہیں چناچہ ایسا ہی واقعہ بھی ہوا۔ اس آیت کے نازل ہونے کے وقت گرچہ ظہور و غلبہ اسلام نہیں ہوا تھا مگر جس کا ہونا یقینی ہوتا ہے اس کو ہوا ہی کہہ کر تعبیر کرتے ہیں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →قُلْ اِنَّمَا اُنْذِرُکُمْ بِالْوَحْیِ صلے ز وَلاَ یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَـآئَ اِذَا مَا یُنْذَرُوْنَ ۔
(الانبیاء : 45)
(اے پیغمبر کہہ دیجیے ! میں تو تمہیں بس وحی کے ذریعے سے انذار کررہا ہوں اور بہرے جب وہ خطرے سے آگاہ کیے جاتے ہیں تو پکار کو نہیں سنتے۔ )
ایک مزید تنبیہ
سابقہ آیت کریمہ میں قریش کو جو وارننگ دی گئی ہے اور ایک نشانی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اس کے بارے میں ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ اے پیغمبر ان پر یہ بات واضح کردیجیے کہ اسلام کے عمومی غلبے اور تمہاری شکست اور نامرادی کی جو پیشگوئی کی گئی ہے اس کو محض مفروضہ نہ سمجھو بلکہ یہ بات مجھ پر اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعے نازل کی گئی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
فہم القرآن
ربط کلام : ایک دفعہ پھر منکرین حق کو انتباہ کیا گیا ہے۔
اے پیغمبر ﷺ ! ان سے فرمائیں کہ میں تمہیں اپنی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعے ڈراتا ہوں۔ لیکن کانوں سے بہرے لوگ اس وحی کو ناسنتے ہیں اور نا ہی اس کے انتباہ سے ڈرتے ہیں۔ اگر انھیں ان کے رب کی طرف سے عذاب کا معمولی جھٹکا بھی آجائے تو یہ آہ وزاری اور اپنے آپ پر افسوس کا اظہار کرنے کے ساتھ اعتراف کریں گے کہ ہم ہی ظالم تھے۔ جب انسان مفاد کا بندہ اور تعصب کا غلام ہوجائے تو پھر نہ وہ حقیقت کی نگاہ سے دیکھتا ہے، نہ اچھی بات کو سننا گوارا کرتا ہے اور نہ ہی کسی بات پر غور و فکر کرتا ہے۔ ایسے لوگوں کے کان سننے کے قابل،…
Read the full tafseer →45: قُلْ اِنَّمَآ اُنْذِرُکُمْ بِالْوَحْیِ (کہہ دیں میں تم کو وحی کے ذریعہ ڈرا رہا ہوں) میں قرآن کے ذریعہ تمہیں عذاب سے ڈرا رہا ہوں۔ ولَا یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآئَ (اور بہرے پکار کو نہیں سنتے) ۔
قراءت : یاءؔ مفتوح اور میم بھی مفتوح اور الصُّم مرفوع پڑھا گیا۔ اور شامی اور علی نے لا تسمع الصُّمَ پڑھا ہے۔ اس میں خطاب آپ ﷺ کو ہے۔
اِذَامَایُنْذَرُوْنَ (جبکہ ان کو ڈرایا جاتا ہے) خوف دلایا جاتا ہے۔ الصمؔ کی الف لام عہد خارجی کا ہے۔ اس سے موجود ین
مراد تھے۔ جن کو براہ رست ڈرایا گیا اور اصل اس طرح کلام ہے ولا یسمعون اذا ماینذرون پس ظاہر کو مضمر کی جگہ لائے کیونکہ ان کے بہرے پن اور کانوں کے بند…
Read the full tafseer →45۔ قل انما انذرکم بالوحی، کہ میں تمہیں قرآن کے ذریعے سے ڈراتا ہوں ۔ ولایسمع الصم الدعا ، ابن عباس نے تاء کے ضمہ کے ساتھ اور میم کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ الصم، منصوب ہے۔ خطاب نبی کریم کو ہے کہ کافر بہرے ہیں آپ کی پکار کو نہیں سمجھتے۔ دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ اور ان دونوں کے فتحہ کے ساتھ اور میم کے فتحہ کے ساتھ اور اس صورت میں ، الصم، مرفوع ہوگا۔ اذاماینذرون ، ان کو ڈرایا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
42۔ 46:۔ اوپر ذکر تھا کہ منکرین قیامت عذاب کی جلدی کرتے تھے ان آیتوں میں فرمایا کہ جب تک وقت نہیں آتا ‘ ہر بلا سے اللہ ہی ان کی نگہبانی کر رہا ہے ‘ ورنہ آدمی کے پیچھے تو رات دن اتنی بلائیں لگی ہوئی ہیں کہ دم بھر بھی اس کا جینا مشکل ہے کیونکہ قحط کے وقت یہ تو ان لوگوں کو تجربہ ہوگیا کہ ان کے بت ایسے عاجز ہیں کہ اللہ کی مدد کے بغیر کسی مصیبت کو ٹال نہیں سکتے، یہ لوگ قرآن کی نصیحت کو ٹال دیتے ہیں ‘ ورنہ اس تجربہ کے بعد یہ لوگ قرآن کی نصیحت کے پابند ہوجاتے اور عذاب کی جلدی نہ کرتے ‘ پھر فرمایا کہ ان کو اور ان کے بڑوں کو وقت مقررہ تک اللہ نے چھوڑ رکھا ہے نہیں تو ان کے کرتوت تو ایسے تھے کہ ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
آیت 45-46
(قل) اے محمد آپ) تمام لوگوں سے کہہ دیجئے (انما انذرکم بالوحی) یعنی میں تو اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں جو کچھ تمہارے پاس لایا ہوں وہ پانی طرف سے نہیں لایا نہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں، نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں دعویٰ کرتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں، میں تو صرف اس چیز کے ذریعے سے تمہیں ڈراتا ہوں جو اللہ تعالیٰ میری طرف وحی کرتا ہے۔ اگر تم نے میری دعوت پر لبیک کہی تو یہ اللہ تعالیٰ کی دعوت پر لبیک ہے وہ تمہیں اس پر ثواب عطا کرے گا اور اگر تم روگردانی کر کے اس کی مخالفت کرو گے، تو میرے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں۔ اختیار تو تمام تر اللہ تعالیٰ کے قبضہٓ قدرت میں ہے اور تقدیر صرف اسی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
60 منکرین و مکذبین کے اعراض و استکبار کی اصل وجہ : سو اس سے منکرین و مکذبین کے اعراض و استکبار کی اصل وجہ کو واضح فرما دیا گیا کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی شان حلم و کرم اور اس کے امہال سے دھوکے میں پڑگئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اللہ تعالیٰ کی شان کرم و حلم کو بھول کر یہ لوگ یہ سمجھ بیٹھے کہ یہ سب کچھ ہمارا حق ہے جو ہمیں اپنی محنت و قابلیت سے ملا ہے۔ اور یہ ہمارے پاس ہمیشہ اور ایسے ہی رہے گا ۔ { یَحْسَبُ اَنَّ مَالَہُ اَخْلَدَہُ } ۔ اور اس طرح یہ لوگ اپنے خالق ومالک اور اس کے حقِّ بندگی سے غافل ہو کر یہ لوگ راہ حق سے بھٹک گئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو دنیاوی ساز و سامان اور مال و متاع سے مست و مغرور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–47
حضور ﷺ سے کفار کی بدتمیزی اور ان کے لیے عذاب کی خبر
تشریح : مندرجہ بالا آیات میں شروع میں ہی اللہ رحمن و رحیم اپنے آخری رسول ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ کو ان لوگوں کی حرکتوں ‘ بدتمیزیوں سے ہرگز پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ کافر شخص یہی کرسکتا ہے کہ رسول کا مذاق اڑائے کیونکہ رسول ہمیشہ کفر اور برائی سے منع کرتا ہے۔ اسی لیے وہ رسول کے مخالف ہوجاتے ہیں اور ہر صورت رسول کو تنگ کرتے ہیں کیونکہ وہ کفر و شرک میں اس قدر پھنس چکے ہوتے ہیں کہ وہ اللہ کے ذکر سے ہی دور بھاگتے ہیں اور پھر اسی لیے ہر وقت اس عذاب کے مطالبہ کرتے رہتے ہیں جس سے آپ انہیں ڈراتے ہیں۔ اس سے ایک تو ان کی حق سے نفرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–50
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
ان سے فرمادیجیے کہ انہیں اللہ کے عذاب سے کوئی بھی نہیں بچا سکتا اور نہ ہی شب روز کوئی ان کی نگہبانی کر رہا ہے یہ تو صرف اللہ جل جلالہ کی رحمانیت ہے جس کے صدقے یہ دنیا کی نعمتیں حاصل کر رہے ہیں حالانکہ یہ اس کی یاد تک سے منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔
(رحمانیت)
پہلے گذر چکا ہے کہ رحمانیت وہ کیفیت ہے جو دار دنیا میں انسانوں کو وجود ، عمریں ، رزق وغیرہ عطا کرتی ہے اسی لیے باقی مخلوق میں سے کوئی ذکر سے غافل ہو تو اس کی موت واقع ہوجاتی ہے مگر انسان جب تک فرصت دیا گیا ہے ظاہری بدن سے ضرور زندہ رہتا ہے اگرچہ اندر سے یہ بھی مردہ ہی ہوجاتا ہے کہ روح کی حیات کی بنیاد تو ایمان ہے مگر یہ…
Read the full tafseer →ف 7 ۔ یعنی میرا کام تو خدا کے حکم کے مطابق نہیں ہیں کہ عذاب سے متنبہ کرنا ہے۔ اگر تم میری بات نہیں سنو گے تو اس کا وبال تم پر ہوگا۔
Read the full tafseer →(21:45) اذا ما۔ جب۔ جب کبھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–47
لغات القرآن آیت نمبر 42 تا 47
یکلو حفاظت کرتا ہے۔ بچاتا ہے۔ معرضون منہ پھیرنے والے۔ تمنع بچاتا ہے۔ روکتا ہے۔ طال طویل ہوگیا۔ لمبا وہ گیا۔ ننقص ہم گھٹاتے ہیں۔ الصم بہرے۔ نفحۃ لپٹ، شعلہ۔ الموازین (میزان) ترازوئیں۔ القسط انصاف، عدل مثقال وزن۔ حبۃ زرہ، ایک دانہ۔ خردل رائی۔ حاسبین حساب لینے والے۔
تشریح : آیت نمبر 42 تا 47
اللہ نے اپنے فضل و کرم سے قریش کو عرب میں ایک خاص مقام اور شدید بدامنی اور قتل و غارت گری کے دور میں بھی امن و سکون عطا کر رکھا تھا۔ وہ اللہ ان کو ہر طرح کی مشکلات، مصیبتوں اور پریشانیوں سے بچاتا رہتا تھا۔ ان کے باپ دادا کو ہر طرح کا راحت و آرام اور بہترین اسباب دے رکھتے تھے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
رسول کریم ﷺ کی نصیحت۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جب تک وقت نہیں آتا ہر بلا سے اللہ ہی اس کی نگہبانی کررہا ہے ورنہ آدمی کے پیچھے تورات دن میں اتنی بلائیں لگی ہوئی ہیں کہ دم بھر بھی اس کا جینا مشکل ہے کیونکہ قحط کے وقت یہ تو ان لوگوں کو تجربہ ہوگیا کہ ان کے بت ایسے عاجز ہیں کہ اللہ کی مدد کے بغیر کسی مصیبت کو ٹال نہیں سکتے لیکن یہ لوگ قرآن کی نصیحت کو ٹال دیتے ہیں ورنہ اس تجربہ کے بعد یہ لوگ ان کی نصیحت کے پابند ہوجاتے اور عذاب کی جلدی نہ کرتے پھر فرمایا کہ ان اور ان کے بڑوں کو وقت مقررہ تک اللہ نے چھوڑ رکھا ہے نہیں تو ان کے کرتوت ایسے تھے کہ ان کانشان بھی ان کو دین اسلام کا برحق ہونا ثابت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
[29] یہ مضمون سورة رعد کی آیت 41 میں گزر چکا ہے۔ وہاں اس پر حاشیہ دیکھ لیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
(ف 1) مخالفین اسلام کو اپنی معاندانہ کوششوں پر بڑا ناز تھا ، ان کا خیال تھا کہ ان کی ناپاک مساعی سے اسلام کی بڑھتی ہوئی برکات رک جائیں گی ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، یہ محض وہم باطل ہے انہیں دیکھنا چاہئے ، کہ فتوحات اسلامی کی وسعتیں کہاں تک پھیلتی چلی جا رہی ہیں ، کیا اسی مغلوبیت کا نام قبضہ و غلبہ ہے ؟
یہ تاریخ کا چمکتا ہوا واقع ہے ، کہ اسلام جس ہمہ گیری اور غیر محدود طور پر پھیلا دنیا کا کوئی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا ، تاریخ عاجز ہے کہ مسلمان مجاہدین کی مثال پیش کرسکے ۔
پھر کیا باطل اس طرح کامیاب ہو سکتا ہے ؟ کیا جھوٹ کو اتنا فروغ حاصل ہوتا ہے کہ لوگ جوق در جوق اس کو قبول کریں ، اور خاص…
Read the full tafseer →(45) اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تو صرف تم کو اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعہ اور وحی الٰہی کے موافق اڑاتا ہوں اور جو لوگ بہرے ہیں ان کی حالت یہ ہے کہ یہ بہرے جب ڈرائے جائیں تو کسی کی پکار کو نہیں سنا کرتے۔ یعنی عذاب میں جلدی کرنا یا تاخیر کرنا میرے بس میں نہیں ہے میں تو صرف وحی الٰہی کے مطابق نافرمانوں کو ڈراتا ہوں مگر جو لوگ صحیح آواز کو سننے سے بہرے ہیں ان کی حالت یہ ہے کہ ان کو جب ڈرایا جائے اور ہوشیا کیا جائے تو وہ پکار کو سنتے ہی نہیں اس میں میرا کیا قصور ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
ف 2۔ مثلا ان کو کوئی توڑنے پھوڑنے لگے تو مدافعت بھی نہیں کرسکتے۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ متنبہ کئے جائیں اگر یہ بہرے نہیں سنتے تو یہ سنیں :
45۔ زیر نظر آیت نے دعوت حق کی پوری حقیقت واضح کردی ہے کہ میں تمہیں وحی الہی سے خبر پاکر متنبہ کر رہا ہوں اور جانتا ہوں کہ جو بہرے ہیں اور ہر سنی ان سنی کردینے کے عادی ہیں انہیں کتنا ہی خبردار کیا جائے وہ سننے والا نہیں۔ لیکن اگر وہ ان طرح سنی ان سنی کرتے رہے تو نقصان کس کا ہوگا ؟ ان لوگوں کی بچوں کی سی رٹ ہے کی نشانی ‘ اے رسول نشانی ‘ آپ فرما دیجئے کہ عقل کے ناخن لو تم بچے نہیں ہو ۔ جس چیز کو تم نشانی کہتے ہو وہ ہے کیا ؟ ایک آفت ہی تو ہے ‘ تم آفت میں مبتلا ہونے کی بجائے اپنی عقل وبصیرت سے کام لو اور غضب الہی سے بچنے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–46
Haste is undesirable
خُلِقَ الْإِنسَانُ مِنْ عَجَلٍ (Man is made of haste. - 21:37). عَجَل ('ajal) means haste or hurry. The word is used in situations when one desires things to happen before their time, and this trait is bad by its very nature. In another place also the word is used to denote human weakness. For instance وَكَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا i.e. Man is prone to haste - 17:11, meaning that he is very impatient. When Sayyidna Musa (علیہ السلام) went to the mount Tur in a hurry leaving his people behind, he was censured by Allah Ta` ala.
Prophets (علیہم السلام) and the devout people…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
44. In other words it means: These people have been deluded by Our favor and Our provisions. They think they are enjoying prosperity and good life as their personal right and there is none to take it away from them. They have forgotten that there is God above them Who is able to make or mar their fortune.
45. In this connection, see (Surah Ar-Raad, Ayat 41 and E.N. 60) thereof. Here it bears an additional meaning also: Do they not see that an All-Powerful Being is showing His signs every now and then everywhere on the earth in the form of famines, epidemics, floods, earthquakes and other…
Read the full tafseer →