Al-Anbiyaa 21:46

Al-Anbiyaa · from ayah 46

21:46

وَلَىِٕنْ مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ ۟وَلَئِنۡ مَّسَّتۡهُمۡ نَفۡحَةٌ مِّنۡ عَذَابِ رَبِّكَ لَيَقُوۡلُنَّ يٰوَيۡلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ

اور اگر ان کو تمہارے پروردگار کا تھوڑا سا عذاب بھی پہنچے تو کہنے لگیں کہ ہائے کم بختی ہم بےشک ستمگار تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And if [as much as] a whiff of the punishment of your Lord should touch them, they would surely say, "O woe to us! Indeed, we have been wrongdoers."

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 4 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anbiyaa

All translations of 21:46

اور اگر تیرے رب کا عذاب ذرا سا انہیں چھو جائے تو ابھی چیخ اٹھیں کہ ہائے ہماری کم بختی، بے شک ہم خطا وار تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اگر ان کو تمہارے پروردگار کا تھوڑا سا عذاب بھی پہنچے تو کہنے لگیں کہ ہائے کم بختی ہم بےشک ستمگار تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اگر انہیں تیرے رب کے کسی عذاب کا جھونکا بھی لگ جائے تو پکار اٹھیں کہ ہائے ہماری بدبختی! یقیناً ہم گنہگار تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اگر تمہارے پروردگار کے عذاب کا ایک جھونکا بھی انہیں چھو جائے تو یہ کہہ اٹھیں گے کہ : ہائے ہماری کم بختی ! واقعی ہم لوگ ظالم تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اگر انہیں تمہارے رب کے عذاب کی ہوا چھو جائے تو ضرور کہیں گے ہائے خرابی ہماری بیشک ہم ظالم تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اگر واقعتاً انہیں آپ کے رب کی طرف سے تھوڑا سا عذاب (بھی) چھو جائے تو وہ ضرور کہنے لگیں گے: ہائے ہماری بدقسمتی! بیشک ہم ہی ظالم تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور یقینا اگر انھیں تیرے رب کے عذاب کی ایک لپٹ چھو جائے تو ضرور ہی کہینگے ہائے ہماری بربادی ! بلاشبہ ہم ہی ظالم تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اگر انھیں تیرے پروردگار کے عذاب کی ایک لپٹ بھی چھو جائے تو فوراً بول اٹھیں۔ افسوس ! یقینا ہم ہی ظالم تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اگر تمہارے رب کے عذاب کا کوئی جھونکا ان کو پہنچ گیا تو پکار اٹھیں گے کہ ہائے ہماری بدبختی ! بیشک ہم اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان کی بڑکیں تو یہ ہیں مگر ان کی بلند ہمتی کا حال یہ ہے کہ اگر ان کو تیرے رب کے عذاب کا ایک جھونکا بھی چھو جائے تو یہ چیخ اٹھیں کہ ہائے ہماری کم بختی بیشک ہم لوگ ظالم تھے

— مولانا اسحاق مدنی

اور اگر ان کو آپ کے پروردگار کے عذاب کا ایک جھونکا بھی چھوجائے تو یوں کہنے لگیں ہائے ہماری کم بختی بیشک ہم ہی خطاوار تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اگر انہیں آپ ﷺ کے رب کے عذاب کا ایک بھبکا بھی لگ جائے تو فوراً چیخ اٹھیں گے کہ ہائے ہماری شامت ہم ہی ظالم تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اگر ان کو تمہارے رب کا تھوڑا سا عذاب بھی پہنچے تو کہنے لگیں کہ ہائے کمبختی ہم بیشک گنہگار تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Were only the slightest whiff from your Lord's punishment to touch them, they would cry out: "Woe to us; we were indeed wrong-doers."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

If a whiff of your Lord‘s torment were to touch them, they would certainly say, :Alas to us! We were wrongdoers indeed.

— Muhammad Taqi Usmani

If a whiff of your Lord‘s torment were to touch them, they would certainly say, :Alas to us! We were wrongdoers indeed.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And if a breath of the torment of your Lord touches them, they will surely cry: "Woe unto us! Indeed we have been wrongdoers."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And if a breath of thy Lord's punishment were to touch them, they assuredly would say: Alas for us! Lo! we were wrong-doers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And if [as much as] a whiff of the punishment of your Lord should touch them, they would surely say, "O woe to us! Indeed, we have been wrongdoers."

— Saheeh International

If a blast of the torment of your Lord strikes them, they will say, "Woe to us! We have been unjust people."

— Muhammad Sarwar

And if a blast of the chastisement of your Lord were to touch them, they will certainly say: O woe to us! surely we were unjust.

— Muhammad Habib Shakir

And if a breath of the torment of thy Lord were to touch them, they will say: woe unto us! we have been wrong-doers.

— Abdul Majid Daryabadi

If but a breath of the Wrath of thy Lord do touch them, they will then say, "Woe to us! we did wrong indeed!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 21:46

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 44–47

ذلت و رسوائی کے مارے لوگ کافروں کے کینہ کی اور اپنی گمراہی پر جم جانے کی وجہ بیان رہی ہے کہ انہیں کھانے پینے کو ملتارہا، لمبی لمبی عمریں ملیں۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ ہمارے کرتوت اللہ کو پسند ہیں، اس کے بعد انہیں نصیحت کرتا ہے کہ کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے کافروں کی بستیوں کی بستیاں بوجہ ان کے کفر کے ملیامیٹ کردیں ؟ اس جملے کے اور بھی بہت سے معنی کئے گئے ہیں جو سورة رعد میں ہم بیان کر آئے ہیں۔ لیکن زیادہ ٹھیک معنی یہی ہیں۔ جیسے فرمایا آیت (وَلَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَصَرَّفْنَا الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ 27؀) 46۔ الأحقاف :27) ہم نے تمہارے آس پاس کی بستیاں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْبِیَآء 47 وہی عذاب جس کے لیے یہ جلدی مچاتے ہیں اور مذاق کے انداز میں کہتے ہیں کہ لاؤ نا وہ عذاب کیوں نہیں وہ ٹوٹ پڑتا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 37–46

جلد بازی مذموم خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ ، عجل بمعنے عجلت اور جلدی کے ہے جس کی حقیقت کسی چیز کو اس کے وقت سے پہلے طلب کرنا ہے اور یہ وصف فی نفسہ مذموم ہے قرآن کریم میں دوسری جگہ بھی اس کو انسانی کمزوری کے طور پر ذکر فرمایا ہے۔ وَكَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا یعنی انسان بڑا جلد باز ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ جب کوہ طور پر اپنی قوم سے آگے بڑھ کر حق تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو وہاں بھی اس عجلت پر عتاب ہوا اور انبیاء و صلحاء کے بارے میں جو مسارعت اور مسابقت فی الخیرات کو بطور مدح کے ذکر کیا گیا ہے وہ جلد بازی اور عجلت کے مفہوم میں داخل نہیں۔ کیونکہ وہ وقت سے پہلے کسی چیز کی طلب نہیں بلکہ وقت پر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 45–46

آیت 46-45 فرمایا کہ جو لوگ تم سے کسی نشانی عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں ان سے کہہ دو کہ میں تو تم کو کسی اس طرح کی نشانی کے بجائے صرف وحی کے ذریعہ سے متنبہ کر رہا ہوں تاکہ تم کسی آفت میں مبتلا ہونے کے بجائے اپنی عقل و بصیرت سے کام لے کر خدا کے غضب سے بچنے کی فکر کرو۔ یہ چیز تمہارے لئے نافع اور شکر کی سزاوار تھی لیکن تم اس کی قدر کرنے کے بجائے اپنی شامت کو دعوت دے رہے ہو ! ولا یسمع الصم الدعآء اذا ماینذرون یہ پیغمبر ﷺ کو تسلی ہے کہ اگر یہ لوک اس نعمت کی قدر نہیں کر رہے ہیں تو یہ ان کی اپنی محرومی ہے۔ یہ عقل و دل کے بہرے ہیں اور جو بہرے ہوتے ہیں وہ جب کسی خطرے سے آگاہ کئے جاتے ہیں تو داعی کی پکار…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

46۔ 1 یعنی عذاب کا ایک ہلکا سا چھٹا اور تھوڑا حصہ بھی پہنچے گا تو پکار اٹھیں گے اور اعتراف جرم کرنے لگ جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 44–46

21: یعنی ہم نے انہیں اور ان کے باپ دادوں کو عیش و عشرت کا جو سامان دے دیا تھا، اس سے وہ لمبے عرصے تک مزے اراتے رہے، اور یہ سمجھ بیٹھے کہ یہ ان کا حق ہے، اور وہ جو کچھ کر رہے ہیں، ٹھیک کر رہے ہیں۔ اس غرور میں مبتلا ہو کر وہ حق کے انکار پر آمادہ ہوگئے۔ 22: یہ وہی بات ہے جو سورة رعد آیت 41 میں بھی گذری ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جزیرہ عرب کے مختلف اطراف سے شرک اور مشرکین کا اثر و رسوخ گھٹتا چلا جا رہا ہے، اور اسلام اور مسلمانوں کے اثرات بڑھ رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ولئن مستھم۔۔۔۔۔۔۔۔ انا کنا ظلمین ” ۔ لفظ نفحہ کا اطلاق خیر اور رحمت کے مفہوم میں ہوتا ہے یعنی جھونکا۔ یہاں مراد ہے عذاب الہٰی یعنی عذاب الہیٰ کا ایک ہلکا جھونکا بھی انہیں چھو جائے تو یہ اعتراف گناہ کرلیں گے لیکن اس وقت پھر اعتراف کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ اس سے کقبل اس سورة میں بستیوں والوں کی یہ پکار گزر گئی ہے کہ جب ان پر عذاب آیا تو انہوں نے اعتراف کرلیا۔ یویلنآ۔۔۔۔۔۔ خمدین (51) (12 : 41۔ 51) ” ہائے ہماری کم بختی ‘ بیشک ہم خطا وار تھے اور یہی پکار تے رہے یہاں تک کہ ہم نے ان کو کھلیان کردیا ‘ زندگی کا ایک شرارہ تک ان میں نہ رہا “۔ لیکن یہ اعتراف بعد ازوقت تھا۔ لہٰذا ان کے لیے بہتر ہے کہ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی یہ لوگ جو بہرے بنے ہوئے ہیں، صرف اس وقت تک ہے کہ ذرا زور سے کھٹکھٹائے نہ جائیں۔ اگر عذاب الٰہی کی ذرا سی بھنک کان میں پڑگئی یا خدا کے قہر و انتقام کی ادنیٰ بھاپ بھی ان کو چھو گئی تو آنکھ کان سب کھل جائیں گے اس وقت بدحواس ہو کر چلائیں گے کہ بیشک ہم بڑے بھاری مجرم تھے جو ایسی کم بختی آئی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 46 وَلَءِنْ مَّسَّتْہُمْ نَفْحَۃٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّکَ لَیَقُوْلُنَّ یٰوَیْلَنَآ اِنَّا کُنَّا ظٰلِمِیْنَ ” یہی لوگ جو اب اکڑ اکڑ کر باتیں کرتے ہیں اور آپ ﷺ پر طنز و استہزاء کے تیر برساتے ہیں ‘ عذاب الٰہی کا ایک جھٹکا بھی نہیں سہہ سکیں گے اور دہائی مچانا شروع کردیں گے کہ قصور وار ہم خود ہی تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 45–46

41 اصل بات یہ ہے کہ یہ ابھی تک اندھے اور بہرے بنے ہوئے ہیں۔ نہ وقت کی آواز کو سنتے ہیں اور نہ ہی وقت کی رفتار دیکھنے کی زحمت گوارا کرتے ہیں اور اگر انھیں اللہ کا پیغام سنایا جائے اور اخروی انجام سے ڈرایا جائے تو سننے کی زحمت تک گوارا نہیں کرتے۔ یہ لوگ دراصل لاتوں کے بھوت ہیں۔ جب تک انہوں نے اللہ کے عذاب کا مزا نہ چکھا، اپنی خواب غفلت سے کبھی بیدار نہ ہوں گے۔ اس وقت وہ اپنی خطاؤں اور کوتاہیوں کا اعتراف تو کرنے لگیں گے۔ مگر اس وقت ان کے اعتراف کا کچھ فائد نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

62۔ یعنی پورا عذاب تو الگ رہا، اس کا ایک شمہ بھی اگر ان پر نازل ہوجائے ہوجائے تو ان کی آنکھیں کھل جائیں، ہوش درست ہوجائیں، اور ساری غفلت اور تعلی رفو چکر ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 42–50

آیت نمبر 42 تا 50 ترجمہ : اے محمد ﷺ ان تمسخر کرنے والوں سے کہئے رحمان کے عذاب سے رات اور دن کون ہے جو تمہاری نگرانی حفاظت کرتا ہے اگر تم پر عذاب نازل ہونے لگے (اللہ کے سوا) ایسا کوئی نہیں کرتا، اور یہ مخاطبین عذاب الٰہی سے نہیں ڈرتے اس عذاب کے منکر ہونے کی وجہ سے بلکہ یہ لوگ اپنے رب کے ذکر یعنی قرآنی سے اعراض کرتے ہیں یعنی اس میں غور و فکر نہیں کرتے اَمْ اس میں ہمزہ معنی انکاری کے لئے ہے کیا ان کے پاس ہمارے علاوہ ایسے معبود ہیں جو ان کو (ان کی تکلیف) عذاب سے بچا سکیں ؟ یعنی کیا ان کے پاس ہمارے علاوہ کوئی ایسی ذات ہے جو ان کو عذاب سے بچا سکے کوئی نہیں وہ معبود ان (باطلہ) خود اپنی حفاظت نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولئن مستہم نفحۃ من عذاب ربک لیقولن یولینا انا کنا ظلمین۔ اور اگر آپ کے رب کے (اس) عذاب کی (جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے اور جس کے جلد آجانے کے یہ خواستگار ہیں) ایک ذرا سی لپٹ بھی چھو جائے تو کہنے لگیں گے ہائے ہماری خرابی ہم ہی ظالم تھے اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک قرار دے کر اور اللہ سے نہ ڈر کر ہم نے اپنے اوپر خود ظلم کیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے نفحۃ کا ترجمہ کیا کنارہ بعض نے کہا تھوڑا سا۔ ابن جریج نے کہا نفحۃ یعنی ایک حصہ نَفَخَ فُلاَنٌ لِفُلاَن ‘ فلاں نے فلاں کو اپنے مال میں سے ایک حصہ دے دیا۔ بعض نے نفحۃ کا ترجمہ کیا مارنا نفحت الدَّابَّۃُ بِرِجْلہَاگھوڑے نے اپنی ٹانگ ماری۔ لغوی اعتبار سے نفحہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(46) اور اگر ان کو آپ کے رب کے عذاب کا ایک جھونکا بھی لگ جائے تو یوں کہنے لگیں گے کہ ہائے ہماری کم بختی ہم نے ہی اللہ تعالیٰ کا کفر کرکے اپنے اوپر ظلم کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَىِٕنْ مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ۔۔ : ”نَفْحَةٌ“ کسی چیز کا ایک دفعہ کا تھوڑا سا حصہ، مثلاً ہوا کا ہلکا سا جھونکا، آگ یا گرمی کی معمولی سی لپٹ، خوشبو کی ہلکی سی لپٹ۔ یعنی آج تو یہ لوگ تکبر کی وجہ سے بہرے ہو رہے ہیں مگر جلد ہی ان کی یہ حالت بدل جائے گی اور عذاب کا تو ذکر ہی کیا، اگر صرف ایک مرتبہ اس کی ذرا سی لپٹ انھیں چھو بھی گئی تو ساری شیخی ختم ہوجائے گی اور واویلا کرنے لگیں گے، مگر اس وقت چیخ پکار کچھ فائدہ نہ دے گی۔ کفار کا عذاب دیکھتے ہی اپنے ظالم ہونے کا اقرار قرآن مجید میں کئی جگہ مذکور ہے۔ دیکھیے سورة مومن (84، 85)۔ ہلکے سے ہلکے عذاب سے ان کی یہ حالت ہونے کی تصویر کشی کے لیے تین مبالغے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 45–46

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قل انما انذرکم بالوحی یعنی میں تمہیں قرآن کے ذریعے ڈراتا ہوں۔ ولا یسمع الصم الدعآء یعنی اللہ تعالیٰ جن کے دل کو بہرہ کردیتا ہے اور جن کے کانوں پرم مہر لگا دیتا ہے اور آنکھوں پر پردہ ڈال دیتا ہے وہ آیات کو سمجھنے اور حق کو سننے سے اندھے اور بہرے ہوجاتے ہیں۔ ابو عبد الرحمن سلمی اور محمد بن سمیقع نے یسمع یاء مضمومہ اور میم کے فتحہ کے ساتھ مجہول کا صیغہ پڑھا ہے۔ الصم کو مرفوع پڑھا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ انہیں نہیں سناتا۔ ابن عامر اور سلمی، ابو حیوہ اور یحییٰ بن حرث نے لا تمبع تاء مضمومہ اور میم کے کسرہ کے ساتھ اور الصم کو منصوب پڑھا ہے۔ یعنی اے محمد ! ﷺ آپ بہروں کو آواز…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 42–46

1:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قل من یکلوکم “ یعنی (کون) تمہاری حفاظت کرے گا (آیت) ” ولا ھم منا یصحبون “ یعنی وہ مدد نہیں کئے جائیں گے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا ھم منا یصحبون “ یعنی وہ مدد نہیں کئے جائیں گے۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قل من یکلوکم “ یعنی (کون) تمہاری حفاظت کرے گا۔ 4:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا ھم منا یصحبون “ یعنی وہ پناہ نہیں دیئے جائیں گے۔ 5:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا ھم منا یصحبون “ یعنی وہ روکے نہیں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَلَىِٕنْ : اور بیشک اگر ] [ مَّسَّتْهُمْ : چھو جائے ان کو ] [ نَفْحَةٌ: کوئی ہلکا سا جھونکا ] [ مِّنْ عَذَابِ رَبِكَ : آپ ﷺ کے رب کے عذاب میں سے ] [ لَيَقُوْلُنَّ : تو وہ لازماً کہیں گے ] [ يٰوَيْلَنَآ : ہائے ہماری بدبختی ] [ انا كُنَا : بیشک ہم تھے ] [ ظٰلِمِيْنَ : ظلم کرنے والے ] [ نح ](ف) نَفْحًا ہوا کا چلنا۔ خوشبو مہکنا۔ [ نَفْحَۃٌ ہوا کا ہلکا جھونکا۔ مہک۔ زیر مطالعہ آیت۔ 46] ترکیب : (آیت۔ 47) اَلْمَوَازِیْنَ جمع ہے اور اس کی صفت اَلْقِسْطَ واحد آئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اَلْقِسْطَ مصدر ہے اور مصدر کی جمع نہیں آتی۔ اِنْ کَانَ میں کَانَ کا اسم ھُوَ کی ضمیر ہے جو عَمَلٌ کے لئے ہے، اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 42–46

رحمن کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں ہے، منکرین دنیاوی عیش و عشرت کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے اور بہرے پکار کو نہیں سنتے ان آیات میں مخاطبین سے یہ فرمایا ہے کہ دیکھو رات دن گزرتے چلے جا رہے ہیں۔ بتاؤ خالق اور مالک جل مجدہ کے عذاب سے تمہاری کون حفاظت کرتا ہے ؟ یہ استفہام انکاری ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر عذاب بھیج دے تو تمہیں اس کے عذاب سے بچانے والا اور تمہاری حفاظت کرنے والا کوئی بھی نہیں ہے۔ تم بھی اس بات کو جانتے اور مانتے ہو۔ یہ جانتے ہوئے پھر بھی اپنے پروردگار کی یاد سے اور اس کو وحدہ لا شریک لہ ماننے سے اعراض کیے ہوئے ہو۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ معبود حقیقی جل مجدہ کو چھوڑ کر جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 36–47

بیان انجام استہزاء ببارگاہ رسالت و تہدید عذاب آخرت وال اللہ تعالیٰ واذاراک الذین کفروا .... الیٰ .... وکفی بنا حسنین۔ (ربط) گزشتہ آیت میں آنحضرت ﷺ کے انتقال پر شماتت کرنے والوں کا جواب تھا اب ان آیات میں ان لوگوں کے انجام بد کو بیان کرتے ہیں جو آنحضرت ﷺ کے ساتھ مسخرہ پن کرتے تھے اور قیامت کا مذاق اڑاتے تھے کہ قیامت کب آئے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ دفعتا آجائے گی اور اس وقت ان کو اپنے استہزاء اور تمسخر کا مزہ معلوم ہوجائے گا۔ چناچہ فرماتے ہیں اور ان عاشقان دنیا اور منکرین آخرت کی حالت یہ ہے کہ یہ کافر جب آپ کو دیکھتے ہیں تو بس آپ ﷺ کو ٹھٹھا اور مذاق ہی بنا لیتے ہیں، یہ بھی ابتلاء الٰہی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 45–46

31:۔ مشرکین عذاب اور قیامت کے جلدی آنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ آپ فرما دیں کہ میں وحی کے ذریعہ اسی عذاب اور قیامت سے تم کو ڈراتا ہوں۔ تاکہ تم ان کے لیے کچھ تیاری کرلو۔ مگر یہ لوگ ایسے بہرے بن چکے ہیں کہ جب انہیں عذاب الٰہی اور اہوال قیامت سے ڈرایا جاتا ہے تو وہ داعی کی آواز کو سن ہی نہیں پاتے۔ ” وَلَئِنْ مَّسَّتْھُمْ “ لیکن وہ جب عذاب موعود میں مبتلا ہوجاتے ہیں تو چلا اٹھتے ہیں اے کاش ! ظالم ہم ہی تھے۔ اب اپنے قصور کا اعتراف کرتے ہیں مگر بےفائدہ۔ اخبر تعالیٰ ان ھؤلاء الذین صموا عن سماع ما انذروا بہ اذا ناالھم شیء مما انذروا بہ ولو کان یسیرا نادوا بالھلاک واقروا بانہم کانوا ظلمین (بحر ج 6 ص 316) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 42–46

ربط آیات : سورۃ الانبیاء میں بنیادی طور پر تین مسائل کا ذکر ہے یعنی توحید ، رسالت اور معاد۔ اس کے علاوہ اس سورة میں مختلف انبیاء (علیہم السلام) کے طریقہ تبلیغ پر روشنی ڈالی گئی ہے اور ان کی مناجات کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اپنی حوائج اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کس طرح پیش کرتے تھے۔ گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کا ذکر اور کفار ومشرکین کا رد فرمایا۔ اس کے ساتھ ساتھ توحید کے دلائل بھی بیان کیے اور رسالت کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کرنے والوں کو موثر جوابات بھی دیے۔ فرمایا ، یہ لوگ عذاب طلب کرنے میں جلد بازی کرتے ہیں ۔ اگر یہ لوگ اس حالت کو دیکھ لیں جب یہ دوزخ کی آگ کو اپنے چہروں اور پشتوں سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَىِٕنْ مَّسَّتْہُمْ نَفْحَۃٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَيَقُوْلُنَّ يٰوَيْلَنَآ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيْنَ۝ 46 مسس المسّ کاللّمس لکن اللّمس قد يقال لطلب الشیء وإن لم يوجد والمسّ يقال في كلّ ما ينال الإنسان من أذى. نحو قوله : وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] ، ( م س س ) المس کے معنی چھونا کے ہیں اور لمس کے ہم معنی ہیں لیکن گاہے لمس کیس چیز کی تلاش کرنے کو بھی کہتے ہیں اور اس میں یہ ضروری نہیں کہ وہ چیز مل جل بھی جائے ۔ اور مس کا لفظ ہر اس تکلیف کے لئے بول دیا جاتا ہے جو انسان تو پہنچے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 46–47

1 ؎ نفح ومیدن بوسے خوش وپائے زون ناقہ وبہ شمشیر زون دو زویدن باد دواون چیزے نفح بشی اعطاہ قال الاصفی ماکان من الریاح نفح فھو و برد و ماکان نفخ فھو حرمن الصراح 12 منہ۔ ترکیب : ولئن شرط من عذاب ربک نفخۃ کی صفت۔ واصل النفح من الریح اللیۃ والمعنی ولئن مستہم شیء قلیل من عذاب اللہ لیقولن جواب الموازین جمع میزان موصوف القسط گومفرد ہے مگر مصدر ہے جو جمع کی صفت ہوسکتا ہے یا یہ تقدیر و ذات القسط تب بھی الموازین کی صفت ہوسکتا ہے مثقال منصوب خبر کان ہو کر ای وان کان العمل وزن مثقال۔ ثقل بمعنی بوجہہ سے مشتق ہے جس کے معنی وزن ہیں من خردل صفۃ ہے حبۃ یا مثقال کی۔ کفی بنا کی ترکیب : گزر چکی۔ تفسیر : ہاں اگر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَئِنْ مَّسَّتْھُمْ نَفْحَۃٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّکَ لَیَقُوْلُنَّ یٰـوَیْلَنَـآ اِنَّاکُنَّا ظٰلِمِیْنَ ۔ (الانبیاء : 46) (اگر آپ کے رب کے عذاب کا کوئی جھونکا انھیں چھو گیا تو یہ چیخ اٹھیں گے کہ ہائے ہماری بدبختی، بیشک ہم ہی اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہیں۔ ) آج یہ ہر وارننگ کے جواب میں جس طرح مذاق اڑاتے اور منہ چڑاتے ہیں کاش انھیں عذاب کی حقیقت اور شدت کا کچھ بھی اندازہ ہوتا تو کبھی یہ ایسا رویہ اختیار نہ کرتے۔ اللہ تعالیٰ کا عذاب تو جڑ اکھاڑ دینے والی چیز ہے، اس کی شدت کا عالم تو یہ ہے کہ اگر اس کا معمولی جھونکا بھی انھیں چھو جائے تو ان کی ساری شیخی دھری رہ جائے۔ نَفْحَۃٌمیں تنوین تنکیر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 45–46

فہم القرآن ربط کلام : ایک دفعہ پھر منکرین حق کو انتباہ کیا گیا ہے۔ اے پیغمبر ﷺ ! ان سے فرمائیں کہ میں تمہیں اپنی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعے ڈراتا ہوں۔ لیکن کانوں سے بہرے لوگ اس وحی کو ناسنتے ہیں اور نا ہی اس کے انتباہ سے ڈرتے ہیں۔ اگر انھیں ان کے رب کی طرف سے عذاب کا معمولی جھٹکا بھی آجائے تو یہ آہ وزاری اور اپنے آپ پر افسوس کا اظہار کرنے کے ساتھ اعتراف کریں گے کہ ہم ہی ظالم تھے۔ جب انسان مفاد کا بندہ اور تعصب کا غلام ہوجائے تو پھر نہ وہ حقیقت کی نگاہ سے دیکھتا ہے، نہ اچھی بات کو سننا گوارا کرتا ہے اور نہ ہی کسی بات پر غور و فکر کرتا ہے۔ ایسے لوگوں کے کان سننے کے قابل،…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

46: وَلَئِنْ مَّسَّتْھُمْ نَفْحَۃٌ (اگر ان کو ذرا سی لپٹ چھو جائے) یعنی معمولی دھکا اور مار مِّنْ عَذَابِ رَبِّکَ (تیرے رب کے عذاب کی) نحو : یہ نفحۃ کی صفت ہے۔ لَیَقُوْلُنَّ یٰوَیْلَنَـآ اِنَّا کُنَّا ظٰلِمِیْنَ (وہ ضرور کہیں گے ہائے ہماری خرابی ہم ہی ظالم تھے) یعنی اگر ان کو اس عذاب کا ادنی حصہ بھی آکرکے چھولے جس عذاب سے ان کو ڈرایا جارہا ہے۔ تو ذلت کا اظہار کرتے ہوئے اپنے نفسوں کے خلاف وہ ہلاکت و تباہی کو پکارنے لگیں گے اور اقرار کرلیں گے کہ انہوں نے ہی اپنے اوپر ظلم کیا جب بہرا پن اختیار کیا اور اعراض کیا۔ فائدہ عجیبہ : اس آیت میں انتہائی مبالغہ فرمایا گیا اس کی رمز اس طرح ہے کہ المسّ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

46۔ ولئن مستھم، اگر ان کو تھوڑا سا عذاب چھوجائے۔ نفخہ، ابن عباس نے ، نفخہ، کا ترجمہ کیا ہے کنارہ، بعض نے کیا تھوڑا سا۔ ابن جریج نے کہا کہ ایک حصہ مراد ہے۔ نفخ فلان فلاں، فلاں نے فلاں ، کو اپنے مال میں سے ایک حصہ دے دیا، اور بعض نے ، نفحہ کا معنی کیا ہے مارنا، نفحت الدابہ برجلھا، گھوڑے نے اپنی ٹانگ ماری ، لغوی اعتبار سے ، نفحہ، خوشبو کی لپٹ کو کہتے ہیں۔ ” من عذاب ربک لیقولن یاویلنا انا کناظالمین۔ ہم نے ان کو اس وجہ سے ہلاک کیا کہ وہ مشرکین ہیں۔ جب وہ اپنی ہلاکت کو دیکھ لیں گے تواسوقت اپنے شرک کا اقرار کرلیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 42–46

42۔ 46:۔ اوپر ذکر تھا کہ منکرین قیامت عذاب کی جلدی کرتے تھے ان آیتوں میں فرمایا کہ جب تک وقت نہیں آتا ‘ ہر بلا سے اللہ ہی ان کی نگہبانی کر رہا ہے ‘ ورنہ آدمی کے پیچھے تو رات دن اتنی بلائیں لگی ہوئی ہیں کہ دم بھر بھی اس کا جینا مشکل ہے کیونکہ قحط کے وقت یہ تو ان لوگوں کو تجربہ ہوگیا کہ ان کے بت ایسے عاجز ہیں کہ اللہ کی مدد کے بغیر کسی مصیبت کو ٹال نہیں سکتے، یہ لوگ قرآن کی نصیحت کو ٹال دیتے ہیں ‘ ورنہ اس تجربہ کے بعد یہ لوگ قرآن کی نصیحت کے پابند ہوجاتے اور عذاب کی جلدی نہ کرتے ‘ پھر فرمایا کہ ان کو اور ان کے بڑوں کو وقت مقررہ تک اللہ نے چھوڑ رکھا ہے نہیں تو ان کے کرتوت تو ایسے تھے کہ ان کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 45–46

آیت 45-46 (قل) اے محمد آپ) تمام لوگوں سے کہہ دیجئے (انما انذرکم بالوحی) یعنی میں تو اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں جو کچھ تمہارے پاس لایا ہوں وہ پانی طرف سے نہیں لایا نہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں، نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں دعویٰ کرتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں، میں تو صرف اس چیز کے ذریعے سے تمہیں ڈراتا ہوں جو اللہ تعالیٰ میری طرف وحی کرتا ہے۔ اگر تم نے میری دعوت پر لبیک کہی تو یہ اللہ تعالیٰ کی دعوت پر لبیک ہے وہ تمہیں اس پر ثواب عطا کرے گا اور اگر تم روگردانی کر کے اس کی مخالفت کرو گے، تو میرے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں۔ اختیار تو تمام تر اللہ تعالیٰ کے قبضہٓ قدرت میں ہے اور تقدیر صرف اسی کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 44–46

60 منکرین و مکذبین کے اعراض و استکبار کی اصل وجہ : سو اس سے منکرین و مکذبین کے اعراض و استکبار کی اصل وجہ کو واضح فرما دیا گیا کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی شان حلم و کرم اور اس کے امہال سے دھوکے میں پڑگئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اللہ تعالیٰ کی شان کرم و حلم کو بھول کر یہ لوگ یہ سمجھ بیٹھے کہ یہ سب کچھ ہمارا حق ہے جو ہمیں اپنی محنت و قابلیت سے ملا ہے۔ اور یہ ہمارے پاس ہمیشہ اور ایسے ہی رہے گا ۔ { یَحْسَبُ اَنَّ مَالَہُ اَخْلَدَہُ } ۔ اور اس طرح یہ لوگ اپنے خالق ومالک اور اس کے حقِّ بندگی سے غافل ہو کر یہ لوگ راہ حق سے بھٹک گئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو دنیاوی ساز و سامان اور مال و متاع سے مست و مغرور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 36–47

حضور ﷺ سے کفار کی بدتمیزی اور ان کے لیے عذاب کی خبر تشریح : مندرجہ بالا آیات میں شروع میں ہی اللہ رحمن و رحیم اپنے آخری رسول ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ کو ان لوگوں کی حرکتوں ‘ بدتمیزیوں سے ہرگز پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ کافر شخص یہی کرسکتا ہے کہ رسول کا مذاق اڑائے کیونکہ رسول ہمیشہ کفر اور برائی سے منع کرتا ہے۔ اسی لیے وہ رسول کے مخالف ہوجاتے ہیں اور ہر صورت رسول کو تنگ کرتے ہیں کیونکہ وہ کفر و شرک میں اس قدر پھنس چکے ہوتے ہیں کہ وہ اللہ کے ذکر سے ہی دور بھاگتے ہیں اور پھر اسی لیے ہر وقت اس عذاب کے مطالبہ کرتے رہتے ہیں جس سے آپ انہیں ڈراتے ہیں۔ اس سے ایک تو ان کی حق سے نفرت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 42–50

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف ان سے فرمادیجیے کہ انہیں اللہ کے عذاب سے کوئی بھی نہیں بچا سکتا اور نہ ہی شب روز کوئی ان کی نگہبانی کر رہا ہے یہ تو صرف اللہ جل جلالہ کی رحمانیت ہے جس کے صدقے یہ دنیا کی نعمتیں حاصل کر رہے ہیں حالانکہ یہ اس کی یاد تک سے منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔ (رحمانیت) پہلے گذر چکا ہے کہ رحمانیت وہ کیفیت ہے جو دار دنیا میں انسانوں کو وجود ، عمریں ، رزق وغیرہ عطا کرتی ہے اسی لیے باقی مخلوق میں سے کوئی ذکر سے غافل ہو تو اس کی موت واقع ہوجاتی ہے مگر انسان جب تک فرصت دیا گیا ہے ظاہری بدن سے ضرور زندہ رہتا ہے اگرچہ اندر سے یہ بھی مردہ ہی ہوجاتا ہے کہ روح کی حیات کی بنیاد تو ایمان ہے مگر یہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 ۔ یعنی آج تو یہ بہرے ہورہے ہیں مگر عنقریب ان کی یہ حالت بدل جائے گی اور عذاب کا تو ذکر ہی کیا اگر اس کی ذرا سی ہوا بھی انہیں لگ جائے تو ساری شیخی رفو چکر ہوجائے اور واویلا کرنے لگیں مگر اس وقت چیخ پکار کچھ فائدہ نہ دے گی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(21:46) نفحۃ۔ نفح ینفح (فتح) نفح۔ ہوا کا چلنا۔ نفحۃ ہوا کا ہلکا سا جھونکا ۔ یہاں استعارۃ اس کا مطلب ہے ذرا سا ۔ تھوڑا سا۔ کہتے ہیں نفحہ باالسیف۔ اس نے ہلکی سی تلوار ماری۔ یہاں مراد ہے مستہم ادنی شیء من عذابہ تعالی۔ خدا تعالیٰ کے عذاب کا ہلکا سا جھونکا بھی ان کو چھو جائے ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 42–47

لغات القرآن آیت نمبر 42 تا 47 یکلو حفاظت کرتا ہے۔ بچاتا ہے۔ معرضون منہ پھیرنے والے۔ تمنع بچاتا ہے۔ روکتا ہے۔ طال طویل ہوگیا۔ لمبا وہ گیا۔ ننقص ہم گھٹاتے ہیں۔ الصم بہرے۔ نفحۃ لپٹ، شعلہ۔ الموازین (میزان) ترازوئیں۔ القسط انصاف، عدل مثقال وزن۔ حبۃ زرہ، ایک دانہ۔ خردل رائی۔ حاسبین حساب لینے والے۔ تشریح : آیت نمبر 42 تا 47 اللہ نے اپنے فضل و کرم سے قریش کو عرب میں ایک خاص مقام اور شدید بدامنی اور قتل و غارت گری کے دور میں بھی امن و سکون عطا کر رکھا تھا۔ وہ اللہ ان کو ہر طرح کی مشکلات، مصیبتوں اور پریشانیوں سے بچاتا رہتا تھا۔ ان کے باپ دادا کو ہر طرح کا راحت و آرام اور بہترین اسباب دے رکھتے تھے جس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 42–46

رسول کریم ﷺ کی نصیحت۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جب تک وقت نہیں آتا ہر بلا سے اللہ ہی اس کی نگہبانی کررہا ہے ورنہ آدمی کے پیچھے تورات دن میں اتنی بلائیں لگی ہوئی ہیں کہ دم بھر بھی اس کا جینا مشکل ہے کیونکہ قحط کے وقت یہ تو ان لوگوں کو تجربہ ہوگیا کہ ان کے بت ایسے عاجز ہیں کہ اللہ کی مدد کے بغیر کسی مصیبت کو ٹال نہیں سکتے لیکن یہ لوگ قرآن کی نصیحت کو ٹال دیتے ہیں ورنہ اس تجربہ کے بعد یہ لوگ ان کی نصیحت کے پابند ہوجاتے اور عذاب کی جلدی نہ کرتے پھر فرمایا کہ ان اور ان کے بڑوں کو وقت مقررہ تک اللہ نے چھوڑ رکھا ہے نہیں تو ان کے کرتوت ایسے تھے کہ ان کانشان بھی ان کو دین اسلام کا برحق ہونا ثابت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 44–46

[29] یہ مضمون سورة رعد کی آیت 41 میں گزر چکا ہے۔ وہاں اس پر حاشیہ دیکھ لیا جائے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 44–46

(ف 1) مخالفین اسلام کو اپنی معاندانہ کوششوں پر بڑا ناز تھا ، ان کا خیال تھا کہ ان کی ناپاک مساعی سے اسلام کی بڑھتی ہوئی برکات رک جائیں گی ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، یہ محض وہم باطل ہے انہیں دیکھنا چاہئے ، کہ فتوحات اسلامی کی وسعتیں کہاں تک پھیلتی چلی جا رہی ہیں ، کیا اسی مغلوبیت کا نام قبضہ و غلبہ ہے ؟ یہ تاریخ کا چمکتا ہوا واقع ہے ، کہ اسلام جس ہمہ گیری اور غیر محدود طور پر پھیلا دنیا کا کوئی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا ، تاریخ عاجز ہے کہ مسلمان مجاہدین کی مثال پیش کرسکے ۔ پھر کیا باطل اس طرح کامیاب ہو سکتا ہے ؟ کیا جھوٹ کو اتنا فروغ حاصل ہوتا ہے کہ لوگ جوق در جوق اس کو قبول کریں ، اور خاص…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(46) اور اگر آپ کے پروردگار کے عذاب کا ایک ہلکا سا جھونکا اور ایک ہلکی سی بھاپ ان کو لگ جائے تو یقیناً یوں کہنے لگیں گے کہ ہائے ہماری خرابی بیشک ہم ظالم تھے۔ یعنی یہ بہرا پن اسی وقت تک ہے جب تک ان کو عذاب کی خبر نہیں ہوتی۔ اگر ان کو کوئی ہلکی سی بھاپ اور ہلکا سا جھونکا بھی چھولے گا تو پھر چیختے پھریں گے اور کہتے پھریں گے ہائے ہماری بدبختی ہم ہی ظالم تھے اپنے جرم کا اقرار بھی کریں گے اور پناہ بھی تلاش کرتے پھریں گے اس کمزوری کے باوجود عذاب کا تقاضا کرتے ہیں حالانکہ عذاب کا ایک ہلکا سا جھٹکا بھی نہیں سہہ سکتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 43–46

ف 2۔ مثلا ان کو کوئی توڑنے پھوڑنے لگے تو مدافعت بھی نہیں کرسکتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

عذاب الہی ان کو چھو بھی گیا تو ان کی ہوا نکل جائے گی : 46۔ (نفحہ) کیا ہے ؟ ایک ہوا کا جھونکا ہی تو ہے اور ظاہر ہے کہ عذاب کا جھونکا کیسے اچھا ہوگا ؟ فرمایا یہ تو بڑی ڈھٹائی سے نشانی نشانی کر رہے ہیں اور گویا وہ عذاب طلب کرتے ہیں جس کے آنے کی آپ ﷺ نے ان کو اطلاع دی ہے تو آپ ﷺ ان کو کہہ دیجئے کہ اس کا ایک نفخہ بھی ایسا ہے کہ جب آئے گا تو تمہارا سارا سارا نشہ کافور ہوجائے گا اور تم اس وقت سر پیٹ کر رہ جاؤ گے کہ ہماری بدبختی ! ہم خود اپنی جانوں پر آفت ڈھانے والے بنے کہ ہم نے رسول کی وحی سے فائدہ اٹھانے کی بجائے اس سے عذاب کا مطالبہ کیا ۔ اب معلوم ہوا کہ خدا کا عذاب تو بہت بڑی چیز ہے ہم تو اس کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 37–46

Haste is undesirable خُلِقَ الْإِنسَانُ مِنْ عَجَلٍ (Man is made of haste. - 21:37). عَجَل ('ajal) means haste or hurry. The word is used in situations when one desires things to happen before their time, and this trait is bad by its very nature. In another place also the word is used to denote human weakness. For instance وَكَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا i.e. Man is prone to haste - 17:11, meaning that he is very impatient. When Sayyidna Musa (علیہ السلام) went to the mount Tur in a hurry leaving his people behind, he was censured by Allah Ta` ala. Prophets (علیہم السلام) and the devout people…

Read the full tafseer →