Explained with ayahs 44–47
ذلت و رسوائی کے مارے لوگ
کافروں کے کینہ کی اور اپنی گمراہی پر جم جانے کی وجہ بیان رہی ہے کہ انہیں کھانے پینے کو ملتارہا، لمبی لمبی عمریں ملیں۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ ہمارے کرتوت اللہ کو پسند ہیں، اس کے بعد انہیں نصیحت کرتا ہے کہ کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے کافروں کی بستیوں کی بستیاں بوجہ ان کے کفر کے ملیامیٹ کردیں ؟ اس جملے کے اور بھی بہت سے معنی کئے گئے ہیں جو سورة رعد میں ہم بیان کر آئے ہیں۔ لیکن زیادہ ٹھیک معنی یہی ہیں۔ جیسے فرمایا آیت (وَلَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَصَرَّفْنَا الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ 27) 46۔ الأحقاف :27) ہم نے تمہارے آس پاس کی بستیاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
سورة الْاَنْبِیَآء 44
یعنی ہماری اس مہربانی اور پرورش سے یہ اس غلط فہمی میں پڑگئے ہیں کہ یہ سب کچھ ان کا کوئی ذاتی استحقاق ہے جس کا چھیننے والا کوئی نہیں۔ اپنی خوشحالیوں اور سرداریوں کو یہ لازوال سمجھنے لگے ہیں اور ایسے سرمست ہوگئے ہیں کہ انہیں کبھی یہ خیال تک نہیں آتا کہ اوپر کوئی خدا بھی ہے جو ان کی قسمتیں بنانے اور بگاڑنے کی قدرت رکھتا ہے۔
سورة الْاَنْبِیَآء 45
یہ مضمون اس سے پہلے سورة رعد آیت 41 میں گزر چکا ہے اور وہاں ہم اس کی تشریح بھی کرچکے ہیں (ملاحظہ ہو حاشیہ 60)۔ یہاں اس سیاق وسباق میں یہ ایک اور معنی بھی دے رہا ہے۔ وہ یہ کہ زمین میں ہر طرف ایک غالب طاقت کی کار فرمائی کے یہ آثار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–46
جلد بازی مذموم
خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ ، عجل بمعنے عجلت اور جلدی کے ہے جس کی حقیقت کسی چیز کو اس کے وقت سے پہلے طلب کرنا ہے اور یہ وصف فی نفسہ مذموم ہے قرآن کریم میں دوسری جگہ بھی اس کو انسانی کمزوری کے طور پر ذکر فرمایا ہے۔ وَكَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا یعنی انسان بڑا جلد باز ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ جب کوہ طور پر اپنی قوم سے آگے بڑھ کر حق تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو وہاں بھی اس عجلت پر عتاب ہوا اور انبیاء و صلحاء کے بارے میں جو مسارعت اور مسابقت فی الخیرات کو بطور مدح کے ذکر کیا گیا ہے وہ جلد بازی اور عجلت کے مفہوم میں داخل نہیں۔ کیونکہ وہ وقت سے پہلے کسی چیز کی طلب نہیں بلکہ وقت پر…
Read the full tafseer →اصل سبب استکبار و اعراض
یہ ان کے اصل سبب استکبار و اعراض سے پردہ اٹھایا ہے کہ ایک طویل مدت تک خدا کی نعمتوں سے بہرہ مند رہنے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ان کے دل سخت و سیاہ ہوچکے ہیں۔ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ عزت و اقتدار جو ان کو حاصل ہے ان کے آباء و اجداد کا ورثہ ہے، یہ اس کے موروثی حق دار ہیں، اسی میں وہ پیدا ہوئے ہیں، اسی میں عیش کریں گے اور اس کے وارث ان کے اخلاف ہوں گے۔ اس زعم باطل نے پیغمبر کے انذار سے ان کو بالکل بےپروا کر رکھا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پیغمبر کی ساری تنبیہات محض ہوائی ہیں۔ ان کے اقتدار کو کوئی چیلنج نہیں کرسکتا۔
ایک طویل مدت تک خدا کی نعمت سے برہ مند رہنے کا نتیجہ نا شکروں پر…
Read the full tafseer →44۔ 1 یعنی ان کی یا ان کے آبا واجداد، کی زندگیاں اگر عیش و راحت میں گزر گئیں تو کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ صحیح راستے پر ہیں ؟ اور آئندہ بھی انھیں کچھ نہیں ہوگا ؟ نہیں بلکہ یہ چند روزہ زندگی کا آرام تو ہمارے اصول مہلت کا ایک حصہ ہے، اس سے کسی کو دھوکا اور فریب میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔
44۔ 2 یعنی زمین کفر بتدریج گھٹ رہی ہے اور دولت اسلام وسعت پذیر ہے۔ کفر کے پیروں تلے سے زمین کھسک رہی ہے اور اسلام کا غلبہ بڑھ رہا ہے اور مسلمان علاقے پر علاقہ فتح کرتے چلے جا رہے ہیں۔
44۔ 3 یعنی کفر کو سمٹتا اور اسلام کو بڑھتا ہوا دیکھ کر بھی، کیا وہ کافر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ غالب ہیں ؟ استفہام انکاری ہے۔ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
21: یعنی ہم نے انہیں اور ان کے باپ دادوں کو عیش و عشرت کا جو سامان دے دیا تھا، اس سے وہ لمبے عرصے تک مزے اراتے رہے، اور یہ سمجھ بیٹھے کہ یہ ان کا حق ہے، اور وہ جو کچھ کر رہے ہیں، ٹھیک کر رہے ہیں۔ اس غرور میں مبتلا ہو کر وہ حق کے انکار پر آمادہ ہوگئے۔
22: یہ وہی بات ہے جو سورة رعد آیت 41 میں بھی گذری ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جزیرہ عرب کے مختلف اطراف سے شرک اور مشرکین کا اثر و رسوخ گھٹتا چلا جا رہا ہے، اور اسلام اور مسلمانوں کے اثرات بڑھ رہے ہیں۔
Read the full tafseer →بل متعنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ افھم الغلبون (44) ” ۔ درحقیقت ہم نے ان کو اور ان کے آبائو اجداد کو موروثی طور پر خوشحال بنایا تھا ‘ اسدولتمندی نے ان کی فطرت کو بگاڑ دیا تھا۔ ان کا دماغ خراب ہوگیا تھا۔ اور انکے احساسات اور میلانات بدل گئے تھے۔ خدا کے ساتھ ان کا تعلق کمزور پڑگیا تھا اور اس کائنات میں ذات باری پر دلالت کرنے والے جس قدر دلائل تھے ان پر یہ غور نہ کرتے تھے۔ یہ تھی ان کی آزمائش مگر یہ آزمائش خوشحالی کے ساتھ کی گئی اور خوشحالی میں اگر اللہ کسی کا امتحان لے تو وہ سخت ہوتا ہے حالانکہ دولتمندی میں یاد الہٰی اور اللہ کے ساتھ تعلق کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔
چناچہ قرآن مجید ان لوگوں کے احساس کو ایک دوسرا…
Read the full tafseer →2 یعنی رحمان کی کلاءت و حفاظت اور بتوں کا عجزو بیچارگی ایسی چیز نہیں جس کو یہ لوگ سمجھ نہ سکیں۔ بات یہ ہے کہ پشت ہاپشت سے یہ لوگ بےفکری کی زندگی گزار رہے ہیں۔ کوئی جھٹکا عذاب الٰہی کا نہیں لگا۔ اس پر مغرور ہوگئے اور غفلت کے نشہ میں چور ہو کر حق تعالیٰ کا پیغام اور پیغمبروں کی نصیحت قبول کرنے سے منہ موڑ لیا۔
3 یعنی عرب کے ملک میں اسلام پھیلنے لگا ہے اور کفر گھٹنے لگا۔ آہستہ آہستہ وہاں کی زمین کافروں پر تنگ ہوتی جا رہی ہے۔ ان کی حکومتیں اور سرداریاں ٹوٹتی جا رہی ہیں۔ کیا ایسے کھلے ہوئے آثار و قرائن دیکھ کر بھی انھیں اپنا انجام نظر نہیں آتا۔ اور کیا ان مشاہدات کے باوجود وہ اسی کے امیدوار ہیں کہ…
Read the full tafseer →آیت 44 بَلْ مَتَّعْنَا ہٰٓؤُلَآءِ وَاٰبَآءَ ہُمْ حَتّٰی طَالَ عَلَیْہِمُ الْعُمُرُ ط ”
ہم انہیں مسلسل دنیوی نعمتوں سے نوازتے رہے ‘ یہاں تک کہ وہ ان کے عادی ہوگئے ‘ انہیں اپنی ملکیت سمجھنے لگے اور ان پر خوب اترانے لگے۔
اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُہَا مِنْ اَطْرَافِہَا ط ”
کیا مشرکین مکہ کو یہ ٹھوس حقیقت نظر نہیں آرہی کہ اس سرزمین میں ان کا اثر و رسوخ روز بروز کم ہو رہا ہے۔ اسلام کا پیغام مسلسل پھیل رہا ہے۔ مکہ کے اندر سے بھی اس روشنی کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے اور باہر کے قبائل میں بھی دعوت اسلام کا تعارف رفتہ رفتہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ گویا مشرکین مکہ کے لیے زمین مسلسل سکڑتی…
Read the full tafseer →39 یعنی ان قریش مکہ کی حالت یہ ہے کہ ایک طویل مدت سے ان پر سختی کا کوئی دور نہیں آیا۔ کعبہ کی تولیت کی بنا پر ان کی عرب بھر میں عزت ہے۔ ان کے تجارتی قافلوں پر کوئی طبھی قبیلہ ڈاکہ ڈالنے کی جرأت نہیں کرتا۔ بلکہ جس قافلے کو یہ لوگ پروانہ راہداری دے دیں۔ وہ بھی لوٹ مار سے محفوظ و مامون ہوجاتا ہے۔ سردی اور گرمی کے تجارتی سفروں کی بنا پر بہت دولت کما رہے ہیں اور آسودہ حال ہیں۔ اسی آسودہ حال نے انھیں اللہ اور اس کی یاد سے غافل بنادیا ہے۔ اب ان کے دماغ اس وقت تک درست نہیں ہوسکتے جب تک یہ اللہ کے عذاب کا مزا نہ چکھ لیں۔
40 یہ لوگ بچشم خود دیکھ رہے ہیں کہ اسلام کو روکنے کی ان کی ساری تدبیروں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
58۔ (اور انہوں نے اپنے عیش و عشرت میں کوئی خلل پڑتے نہ دیکھا) سو ان کے اصرار علی الکفر اور جمود کی اصل بنیاد ان کی طویل غفلت ہے۔
59۔ (فتوح اسلامیہ کے ذریعہ سے) سو ان کی بیداری اور تنبیہ کے لئے اور انہیں غفلت کی نوم طویل سے چونکا نے کے لئے تو یہی امر کافی ہوجانا چاہیے۔ ” ابتدا میں اسلام کا مغلوب ہونا اس کی اشاعت میں مخل تھا اور اس کی تبلیغ و اشاعت کافی ہوچکی جو اصل مقصود تھی، اب مغلوب ہونے سے وہ مفقود نہیں ہوسکتا چناچہ مشاہد ہے۔ “ (تھانوی (رح )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–50
آیت نمبر 42 تا 50
ترجمہ : اے محمد ﷺ ان تمسخر کرنے والوں سے کہئے رحمان کے عذاب سے رات اور دن کون ہے جو تمہاری نگرانی حفاظت کرتا ہے اگر تم پر عذاب نازل ہونے لگے (اللہ کے سوا) ایسا کوئی نہیں کرتا، اور یہ مخاطبین عذاب الٰہی سے نہیں ڈرتے اس عذاب کے منکر ہونے کی وجہ سے بلکہ یہ لوگ اپنے رب کے ذکر یعنی قرآنی سے اعراض کرتے ہیں یعنی اس میں غور و فکر نہیں کرتے اَمْ اس میں ہمزہ معنی انکاری کے لئے ہے کیا ان کے پاس ہمارے علاوہ ایسے معبود ہیں جو ان کو (ان کی تکلیف) عذاب سے بچا سکیں ؟ یعنی کیا ان کے پاس ہمارے علاوہ کوئی ایسی ذات ہے جو ان کو عذاب سے بچا سکے کوئی نہیں وہ معبود ان (باطلہ) خود اپنی حفاظت نہیں…
Read the full tafseer →بل متعنا ہولآء وابآء ہم حتی طال علیہم العمر بلکہ ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو (دنیا کا)
خوب سامان دیا یہاں تک کہ ان پر اسی حالت میں عرصۂ دراز گزر گیا۔
مَتَّعْنَا یعنی ہم نے نعمت دی اور مہلت بھی دی۔ ہٰؤُلآءِان کافروں کو۔ حَتّٰی طَالَ عَلَیْہِمُ الْعُمْر یعنی ان کی مدت زندگی لمبی ہوگئی۔
کافروں کو وہم ہوسکتا تھا یا وہم تھا کہ یہ تمام امور ہمارے معبودوں کی وجہ سے ہوئے اللہ نے اس خیال سے اعراض کیا اور فرمایا ایسا نہیں ہے کہ تم کو نعمت و مدت زندگی معبودوں کی وجہ سے ملی ہو بلکہ یہ سب کچھ ہم نے دیا۔ یا یوں کہا جائے کہ اللہ نے جو ان کو نعمت سے نوازا اور طویل زندگی عطا کی تو یہ خیال ہوا کہ ہم کو…
Read the full tafseer →(44) بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ ہم نے ان مکہ والوں کو اور ان سے پہلے ان کے آباؤ اجداد کو بہت مہلت دی یہاں تک کہ اسی حالت میں ایک زمانہ گزر گیا، کیا مکہ والے یہ نہیں دیکھتے کہ ہم ان کی سرزمین کو چارون طرف سے رسول اکرم ﷺ کے ہاتھ پر فتح کرتے چلے آرہے ہیں تو کیا یہ لوگ اب رسول اکرم ﷺ کے مقابلہ میں آئیں گے۔
Read the full tafseer →بَلْ مَتَّعْنَا هٰٓؤُلَاۗءِ وَاٰبَاۗءَهُمْ۔۔ : یعنی ان کے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بےپروا ہونے، پیغمبر کا مذاق اڑانے اور جلدی عذاب لانے کا مطالبہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ان پر جو مہربانی کی، انھیں اور ان کے آبا و اجداد کو دنیا کے سازو سامان سے فائدہ اٹھانے کا جو موقع دیا تو اس پر احسان مند ہونے کے بجائے اس غلط فہمی میں پڑگئے کہ یہ نعمت ہمیشہ رہے گی، کبھی زائل نہ ہوگی، جیسا کہ فرمایا : (اَوَلَمْ تَكُوْنُوْٓا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍ) [ إبراہیم : 44 ] ”اور کیا تم نے اس سے پہلے قسمیں نہ کھائی تھیں کہ تمہارے لیے کوئی بھی زوال نہیں۔“ اور پھر ہوتے ہوتے اپنی خوش حالی میں…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بل متعنا ھولآء و ابآء ھم حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس سے مراد اہل مکہ ہیں یعنی ہم نے ان کے لیے اور ان کے لیے اپنی نعمتوں کو پھیلایا۔ طال علیھم العمر اور ان نعمتوں میں عرصہ دراز گزر گیا انہوں نے سمجھا کہ یہ نعمتیں ان سے زائل نہیں ہوں گی پس وہ فریب میں مبتلا ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حجج کی تدبیر سے اعراض کیا۔ افلا یرون اناناتی الارض ننقصھا من اطرافھا یعنی اے محمد ﷺ ایک علاقہ کے بعد دوسرے علاقہ پر علبہ اور ایک شہر کے بعد دوسرے شہر کی فتح تمہیں عطا کر کے زمین کو سمیٹ رہے ہیں، یہ اس کا معنی حسن وغیرہ نے بیان کیا ہے۔ بعض نے فرمایا : قتل اور قیدہ بنا کر، یہ معنی کلبی نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
1:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قل من یکلوکم “ یعنی (کون) تمہاری حفاظت کرے گا (آیت) ” ولا ھم منا یصحبون “ یعنی وہ مدد نہیں کئے جائیں گے۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا ھم منا یصحبون “ یعنی وہ مدد نہیں کئے جائیں گے۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قل من یکلوکم “ یعنی (کون) تمہاری حفاظت کرے گا۔
4:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا ھم منا یصحبون “ یعنی وہ پناہ نہیں دیئے جائیں گے۔
5:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا ھم منا یصحبون “ یعنی وہ روکے نہیں…
Read the full tafseer →[ بَلْ : بلکہ ] [ مَتَّعْنَا : ہم نے فائدہ اٹھانے کو سامان دیا ] [ هٰٓؤُلَاۗءِ : ان لوگوں کو ] [ وَاٰبَاۗءَهُمْ : اور ان کے آباء اجداد کو ] [ حَتّٰى: یہاں تک کہ ] [ طَالَ : طویل ہوئی ] [ عَلَيْهِمُ : ان لوگوں پر ] [ الْعُمُرُ : عمر ] [ اَفَلَا يَرَوْنَ : تو کیا یہ لوگ غور نہیں کرتے ] [ انا : کہ ] [ نَاتِي : ہم آتے ہیں ] [ الْاَرْضَ : زمین کی طرف ] [ نَنْقُصُهَا : گھٹاتے ہوئے اس کو ] [ مِنْ اَطْرَافِهَا : اس کے کناروں سے ] [ اَفَـهُمُ : تو کیا یہ لوگ ] [ الْغٰلِبُوْنَ : غالب آنے والے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
رحمن کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں ہے، منکرین دنیاوی عیش و عشرت کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے اور بہرے پکار کو نہیں سنتے
ان آیات میں مخاطبین سے یہ فرمایا ہے کہ دیکھو رات دن گزرتے چلے جا رہے ہیں۔ بتاؤ خالق اور مالک جل مجدہ کے عذاب سے تمہاری کون حفاظت کرتا ہے ؟ یہ استفہام انکاری ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر عذاب بھیج دے تو تمہیں اس کے عذاب سے بچانے والا اور تمہاری حفاظت کرنے والا کوئی بھی نہیں ہے۔ تم بھی اس بات کو جانتے اور مانتے ہو۔ یہ جانتے ہوئے پھر بھی اپنے پروردگار کی یاد سے اور اس کو وحدہ لا شریک لہ ماننے سے اعراض کیے ہوئے ہو۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ معبود حقیقی جل مجدہ کو چھوڑ کر جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–47
بیان انجام استہزاء ببارگاہ رسالت و تہدید عذاب آخرت
وال اللہ تعالیٰ واذاراک الذین کفروا .... الیٰ .... وکفی بنا حسنین۔
(ربط) گزشتہ آیت میں آنحضرت ﷺ کے انتقال پر شماتت کرنے والوں کا جواب تھا اب ان آیات میں ان لوگوں کے انجام بد کو بیان کرتے ہیں جو آنحضرت ﷺ کے ساتھ مسخرہ پن کرتے تھے اور قیامت کا مذاق اڑاتے تھے کہ قیامت کب آئے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ دفعتا آجائے گی اور اس وقت ان کو اپنے استہزاء اور تمسخر کا مزہ معلوم ہوجائے گا۔
چناچہ فرماتے ہیں اور ان عاشقان دنیا اور منکرین آخرت کی حالت یہ ہے کہ یہ کافر جب آپ کو دیکھتے ہیں تو بس آپ ﷺ کو ٹھٹھا اور مذاق ہی بنا لیتے ہیں، یہ بھی ابتلاء الٰہی…
Read the full tafseer →30: تخویف دنیوی۔ کیا مشرکین اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ رہے کہ ہم ان کے مقبوضہ علاقے ان سے لے کر مسلمانوں کو قبضے میں دیتے اور ان کو ان پر مسلط کرتے جا رہے ہیں ؟ کیا اب بھی ان کو امید ہے کہ وہ مسلمانوں پر غلبہ حاصل کرسکیں گے۔ ؟ افلا یری ھؤلاء المشرکون اثار قدرتنا فی اتیان الارض من جو انبہا باخذ الواحد بعد الواحد و فتح البلاد والقری مما حول مکۃ وادخالھا فی ملک محمد ﷺ (خازن ج 4 ص 240) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
ربط آیات :
سورۃ الانبیاء میں بنیادی طور پر تین مسائل کا ذکر ہے یعنی توحید ، رسالت اور معاد۔ اس کے علاوہ اس سورة میں مختلف انبیاء (علیہم السلام) کے طریقہ تبلیغ پر روشنی ڈالی گئی ہے اور ان کی مناجات کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اپنی حوائج اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کس طرح پیش کرتے تھے۔ گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کا ذکر اور کفار ومشرکین کا رد فرمایا۔ اس کے ساتھ ساتھ توحید کے دلائل بھی بیان کیے اور رسالت کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کرنے والوں کو موثر جوابات بھی دیے۔ فرمایا ، یہ لوگ عذاب طلب کرنے میں جلد بازی کرتے ہیں ۔ اگر یہ لوگ اس حالت کو دیکھ لیں جب یہ دوزخ کی آگ کو اپنے چہروں اور پشتوں سے…
Read the full tafseer →بَلْ مَتَّعْنَا ہٰٓؤُلَاۗءِ وَاٰبَاۗءَہُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَيْہِمُ الْعُمُرُ 0ۭ اَفَلَا يَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِي الْاَرْضَ نَنْقُصُہَا مِنْ اَطْرَافِہَا 0 ۭ اَفَـہُمُ الْغٰلِبُوْنَ 44
متع
الْمُتُوعُ : الامتداد والارتفاع . يقال : مَتَعَ النهار ومَتَعَ النّبات : إذا ارتفع في أول النّبات، والْمَتَاعُ : انتفاعٌ ممتدُّ الوقت، يقال : مَتَّعَهُ اللهُ بکذا، وأَمْتَعَهُ ، وتَمَتَّعَ به . قال تعالی:
وَمَتَّعْناهُمْ إِلى حِينٍ [يونس/ 98] ،
( م ت ع ) المتوع
کے معنی کیس چیز کا بڑھنا اور بلند ہونا کے ہیں جیسے متع النھار دن بلند ہوگیا ۔ متع النسبات ( پو دا بڑھ کر بلند ہوگیا المتاع عرصہ دراز تک فائدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
2 ؎ یہ پیشین گوئی ہے کہ کیا کفار مکہ نہیں دیکھتے کہ ارض یعنی زمین عرب کو چاروں طرف سے کم کرتے یعنی فتح کرتے ہوئے یا کھولتے ہوئے چلے آتے ہیں چناچہ ایسا ہی واقعہ بھی ہوا۔ اس آیت کے نازل ہونے کے وقت گرچہ ظہور و غلبہ اسلام نہیں ہوا تھا مگر جس کا ہونا یقینی ہوتا ہے اس کو ہوا ہی کہہ کر تعبیر کرتے ہیں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →بَلْ مَتَّعْنَا ھٰٓؤُلَآئِ وَاٰبَآئَ ھُمْ حَتّٰی طَالَ عَلَیْھِمُ الْعُمُرُ ط اَفَلاَ یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُھَا مِنْ اَطْرَافِھَا ط اَفَھُمُ الْغٰلِبُوْنَ ۔ (الانبیاء : 44)
(بلکہ ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو دنیا سے بہرہ مند کیا حتیٰ کہ اسی حال میں ان پر ایک طویل عرصہ گزر گیا، کیا وہ دیکھ نہیں رہے ہیں کہ ہم سرزمین (مکہ) کی طرف اس کو اس کے اطراف سے کم کرتے ہوئے بڑھ رہے ہیں تو کیا یہ لوگ غالب آسکتے ہیں۔ )
مخالفین کے انکار کا اصل سبب
نبی کریم ﷺ کی دلآویز شخصیت اور آپ ﷺ کی حکمت و دانش میں ڈوبی ہوئی فصاحت و بلاغت اور قرآن کریم کے محکم دلائل کے باوجود قریش اور دیگر اہل مکہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : لوگوں کا اپنے رب کی ذات اور اس کے فرمان سے اعراض کرنے کا بنیادی سبب۔
اللہ تعالیٰ جب کسی فرد یا قوم کو طویل مدت تک اسباب عطا کرنے کے ساتھ ڈھیل دیتا ہے تو وہ اس کے شکر گزار بندے بننے کی بجائے یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم پر ناراض نہیں جس وجہ سے دنیا کے اسباب و وسائل، اقتدار اور وقار دئیے جا رہا ہے۔ خاص طور پر یہ سلسلہ نسل در نسل جاری رہے تو نافرمان لوگوں کا یہ اعتقاد بن جاتا ہے کہ واقعی ہی ہم میں ایسے اوصاف ہیں جس بناء پر ہم وسائل، اقتدار اور وقار کا حق رکھتے ہیں۔ بعض دفعہ ایسے لوگوں پر اچانک برے حالات و ارد کردیے جاتے ہیں جن کا یہ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ یہی…
Read the full tafseer →طویل مہلت :
44: بَلْ مَتَّعْنَا ھٰٓؤُلَآئِ وَاٰبَآ ئَھُمْ حَتّٰی طَالَ عَلَیْہِمُ الْعُمُرُ (بلکہ ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو خوب سامان دیا۔ یہاں تک ان پر اسی حالت میں عرصہ دراز گزر گیا) جس حفاظت و نگہبانی میں وہ رہ رہے ہیں وہ ہماری ہی طرف سے ہے۔ ورنہ ان کو ہلاک کرنے میں ہمارے سامنے کوئی رکاوٹ نہیں جو ہلاکت سے ان کو بچا سکے۔ ہم نے انہیں اور ان کے گزشتہ آباء کو عذاب سے اس لئے بچائے رکھاتا کہ دنیا کا وہ نفع اٹھا لیں اور مہلت پوری کرلیں۔ جیسا کہ دیگر کفار کو ہم نے دنیا کا نفع دیا اور مہلت دی اور یہ زمانہ طویل ہونے سے ان کے دلوں میں سختی پیدا ہوگئی پس وہ سمجھ بیٹھے کہ وہ اس مہلت پر ہمیشہ…
Read the full tafseer →تفسیر۔
44۔ بل متعنا ھولائ، ہم نے کفار کو خوب مہلت دی۔ وآباء ھم، دنیا میں ان کے باپ دادا کو بھی خوب منافع دیے اور بعض نے کہا کہ ہم نے ان کو خوب نعمتیں دیں۔ حتی طال علیھم العمر، یعنی ان کی مدت زندگی طویل ہوگئی۔ افلا یرون انا ناتی الارض ننقصھا من اطرافھا، ہم مشرکین کی سرزمین کو گھٹا رہے ہیں ۔ اور مومنین کے اطراف کو بڑھا رہے ہیں ۔ اس سے مراد نبی کریم کا ظہور اور مشرکین کے علاقوں کو فتح کرنا ہے زمین درزمین ، مشرکین کی زمین مسلمانوں کے قبضہ میں آنے لگیں۔ افھم الغالبون، تو کیا ایسی حالت میں کافر مسلمانوں پر غلبہ پاسکیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
42۔ 46:۔ اوپر ذکر تھا کہ منکرین قیامت عذاب کی جلدی کرتے تھے ان آیتوں میں فرمایا کہ جب تک وقت نہیں آتا ‘ ہر بلا سے اللہ ہی ان کی نگہبانی کر رہا ہے ‘ ورنہ آدمی کے پیچھے تو رات دن اتنی بلائیں لگی ہوئی ہیں کہ دم بھر بھی اس کا جینا مشکل ہے کیونکہ قحط کے وقت یہ تو ان لوگوں کو تجربہ ہوگیا کہ ان کے بت ایسے عاجز ہیں کہ اللہ کی مدد کے بغیر کسی مصیبت کو ٹال نہیں سکتے، یہ لوگ قرآن کی نصیحت کو ٹال دیتے ہیں ‘ ورنہ اس تجربہ کے بعد یہ لوگ قرآن کی نصیحت کے پابند ہوجاتے اور عذاب کی جلدی نہ کرتے ‘ پھر فرمایا کہ ان کو اور ان کے بڑوں کو وقت مقررہ تک اللہ نے چھوڑ رکھا ہے نہیں تو ان کے کرتوت تو ایسے تھے کہ ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
آیت 42-44
اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کی بےبسی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے جنہوں نے اللہ کے بغیر دوسرے معبود بنا لئے۔۔۔. کہ وہ اپنے رب رحمان کے محتاج ہیں جس کی بےپایاں رحمت شب و روز ہر نیک اور بد پر سایہ کناں ہے، چناچہ فرمایا : (قل من یکلوکم) یعنی کون تمہاری حفاظت کرتا ہے (بالیل) ” رات کو۔ “ یعنی جب تم اپنے بستروں میں سو رہے اور اپنے حواس سے محروم ہوتے ہو (والنھار) ” اور دن کو۔ “ یعنی تمہارے زمین میں پھیل جانے اور تمہاری غفلت کے وقت (من الرحمن) ” رحمن کے مقابلے میں۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کون تمہاری حفاظت کرتا ہے اس کے بغیر کوئی ہے جو تمہاری حفاظت کرتا ہو ؟ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
60 منکرین و مکذبین کے اعراض و استکبار کی اصل وجہ : سو اس سے منکرین و مکذبین کے اعراض و استکبار کی اصل وجہ کو واضح فرما دیا گیا کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی شان حلم و کرم اور اس کے امہال سے دھوکے میں پڑگئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اللہ تعالیٰ کی شان کرم و حلم کو بھول کر یہ لوگ یہ سمجھ بیٹھے کہ یہ سب کچھ ہمارا حق ہے جو ہمیں اپنی محنت و قابلیت سے ملا ہے۔ اور یہ ہمارے پاس ہمیشہ اور ایسے ہی رہے گا ۔ { یَحْسَبُ اَنَّ مَالَہُ اَخْلَدَہُ } ۔ اور اس طرح یہ لوگ اپنے خالق ومالک اور اس کے حقِّ بندگی سے غافل ہو کر یہ لوگ راہ حق سے بھٹک گئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو دنیاوی ساز و سامان اور مال و متاع سے مست و مغرور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–47
حضور ﷺ سے کفار کی بدتمیزی اور ان کے لیے عذاب کی خبر
تشریح : مندرجہ بالا آیات میں شروع میں ہی اللہ رحمن و رحیم اپنے آخری رسول ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ کو ان لوگوں کی حرکتوں ‘ بدتمیزیوں سے ہرگز پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ کافر شخص یہی کرسکتا ہے کہ رسول کا مذاق اڑائے کیونکہ رسول ہمیشہ کفر اور برائی سے منع کرتا ہے۔ اسی لیے وہ رسول کے مخالف ہوجاتے ہیں اور ہر صورت رسول کو تنگ کرتے ہیں کیونکہ وہ کفر و شرک میں اس قدر پھنس چکے ہوتے ہیں کہ وہ اللہ کے ذکر سے ہی دور بھاگتے ہیں اور پھر اسی لیے ہر وقت اس عذاب کے مطالبہ کرتے رہتے ہیں جس سے آپ انہیں ڈراتے ہیں۔ اس سے ایک تو ان کی حق سے نفرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–50
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
ان سے فرمادیجیے کہ انہیں اللہ کے عذاب سے کوئی بھی نہیں بچا سکتا اور نہ ہی شب روز کوئی ان کی نگہبانی کر رہا ہے یہ تو صرف اللہ جل جلالہ کی رحمانیت ہے جس کے صدقے یہ دنیا کی نعمتیں حاصل کر رہے ہیں حالانکہ یہ اس کی یاد تک سے منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔
(رحمانیت)
پہلے گذر چکا ہے کہ رحمانیت وہ کیفیت ہے جو دار دنیا میں انسانوں کو وجود ، عمریں ، رزق وغیرہ عطا کرتی ہے اسی لیے باقی مخلوق میں سے کوئی ذکر سے غافل ہو تو اس کی موت واقع ہوجاتی ہے مگر انسان جب تک فرصت دیا گیا ہے ظاہری بدن سے ضرور زندہ رہتا ہے اگرچہ اندر سے یہ بھی مردہ ہی ہوجاتا ہے کہ روح کی حیات کی بنیاد تو ایمان ہے مگر یہ…
Read the full tafseer →ف 5 ۔ یعنی ہم نے جو ان پر مہربانی کی اس پر احسان مند ہونے کی بجائے اس غلط فہمی میں پڑگئے کہ یہ ان کے ذاتی کمالات کا کرشمہ ہے اور پھر ہوتے ہوتے اپنی خوشحالی میں اس قدر مست ہوگئے کہ سرے سے بھول ہی گئے کہ اوپر کوئی خدا بھی ہے۔ وہ جب چاہے ان سے سب کچھ چھین سکتا ہے اور ان کو فاقہ کشی میں مبتلا کرسکتا ہے۔ (شوکانی، کبیر)
6 ۔ یعنی یہ جلدی عذاب مانگنے والے ہمارے قدرت کے آثار پر غور نہیں کرتے اور اس سے عبرت حاصل نہیں کرتے کہ ہر طرف اسلام کو فتح نصیب ہورہی ہے اور کفر کا دائرہ اختیار سکڑتا جارہا ہے۔ مزید دیکھئے سورة رعد آیت :14 (کبیر)
Read the full tafseer →(21:44) بل۔ حرف اضراب ہے (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو 2:135) اور یہاں اضراب (رو گردانی کرنا) کے معنی ایک غرض سے دوسری غرض کی طرف منتقل ہونے کے ہیں۔ یہاں بل کا ماقبل (ذکر رحمن سے روگردانی۔ ان کی سرکشی۔ اور لجاجت فی الکفر) اپنی اصل حالت پر قائم رہنا ہے۔
یہاں ایک مزید وجہ ان کی سرکشی کی بیان کی ہے۔ بلکہ ہم نے ان کے آباء و اجداد کو سامان تعیش دئیے رکھا اور اسی عیش و عشرت میں عرصہ بعید گذر گیا (اور یہ سمجھنے لگے کہ وہ حق پر ہیں اور یہ کہ یہ سارا سامان عیش و آرام ان کو بوجہ استحقاق مل رہا ہے اور اسی وجہ سے وہ کسی داعی الی الحق کی بات سننے کے لئے تیار نہیں اور اپنی سرکشی اور کفر کی حالت پر مصر ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–47
لغات القرآن آیت نمبر 42 تا 47
یکلو حفاظت کرتا ہے۔ بچاتا ہے۔ معرضون منہ پھیرنے والے۔ تمنع بچاتا ہے۔ روکتا ہے۔ طال طویل ہوگیا۔ لمبا وہ گیا۔ ننقص ہم گھٹاتے ہیں۔ الصم بہرے۔ نفحۃ لپٹ، شعلہ۔ الموازین (میزان) ترازوئیں۔ القسط انصاف، عدل مثقال وزن۔ حبۃ زرہ، ایک دانہ۔ خردل رائی۔ حاسبین حساب لینے والے۔
تشریح : آیت نمبر 42 تا 47
اللہ نے اپنے فضل و کرم سے قریش کو عرب میں ایک خاص مقام اور شدید بدامنی اور قتل و غارت گری کے دور میں بھی امن و سکون عطا کر رکھا تھا۔ وہ اللہ ان کو ہر طرح کی مشکلات، مصیبتوں اور پریشانیوں سے بچاتا رہتا تھا۔ ان کے باپ دادا کو ہر طرح کا راحت و آرام اور بہترین اسباب دے رکھتے تھے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
رسول کریم ﷺ کی نصیحت۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جب تک وقت نہیں آتا ہر بلا سے اللہ ہی اس کی نگہبانی کررہا ہے ورنہ آدمی کے پیچھے تورات دن میں اتنی بلائیں لگی ہوئی ہیں کہ دم بھر بھی اس کا جینا مشکل ہے کیونکہ قحط کے وقت یہ تو ان لوگوں کو تجربہ ہوگیا کہ ان کے بت ایسے عاجز ہیں کہ اللہ کی مدد کے بغیر کسی مصیبت کو ٹال نہیں سکتے لیکن یہ لوگ قرآن کی نصیحت کو ٹال دیتے ہیں ورنہ اس تجربہ کے بعد یہ لوگ ان کی نصیحت کے پابند ہوجاتے اور عذاب کی جلدی نہ کرتے پھر فرمایا کہ ان اور ان کے بڑوں کو وقت مقررہ تک اللہ نے چھوڑ رکھا ہے نہیں تو ان کے کرتوت ایسے تھے کہ ان کانشان بھی ان کو دین اسلام کا برحق ہونا ثابت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
[29] یہ مضمون سورة رعد کی آیت 41 میں گزر چکا ہے۔ وہاں اس پر حاشیہ دیکھ لیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
(ف 1) مخالفین اسلام کو اپنی معاندانہ کوششوں پر بڑا ناز تھا ، ان کا خیال تھا کہ ان کی ناپاک مساعی سے اسلام کی بڑھتی ہوئی برکات رک جائیں گی ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، یہ محض وہم باطل ہے انہیں دیکھنا چاہئے ، کہ فتوحات اسلامی کی وسعتیں کہاں تک پھیلتی چلی جا رہی ہیں ، کیا اسی مغلوبیت کا نام قبضہ و غلبہ ہے ؟
یہ تاریخ کا چمکتا ہوا واقع ہے ، کہ اسلام جس ہمہ گیری اور غیر محدود طور پر پھیلا دنیا کا کوئی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا ، تاریخ عاجز ہے کہ مسلمان مجاہدین کی مثال پیش کرسکے ۔
پھر کیا باطل اس طرح کامیاب ہو سکتا ہے ؟ کیا جھوٹ کو اتنا فروغ حاصل ہوتا ہے کہ لوگ جوق در جوق اس کو قبول کریں ، اور خاص…
Read the full tafseer →(44) نہ ان کا کوئی رحمن کے سوا معبود ہے نہ کوئی بچانے والا ہے بلکہ اصل واقعہ یہ ہے اور اصل وجہ یہ ہے کہ ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادوں کو ہر قسم کے سامان عیش و تنعم سے بہرہ مند کیا اور ان کو ہر قسم کا سامان برتنے کو دیا یہاں تک کہ اسی حالت میں ان پر ایک طویل زمانہ گزر گیا تو کیا یہ لوگ اس بات کو نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو ان کے کناروں کی طرف سے کم کرتے اور گھٹاتے چلے آتے ہیں تو کیا وہ ان حالات میں غالب ہونے والے ہیں۔ یعنی ان کا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے جو ان کی رات اور دن میں حفاظت کرے بلکہ پشتہا پشت سے چین و آرام کی زندگی بسر کررہے ہیں اس لئے گمراہ ہوگئے انہوں نے کسی عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
ف 2۔ مثلا ان کو کوئی توڑنے پھوڑنے لگے تو مدافعت بھی نہیں کرسکتے۔
Read the full tafseer →ان کو ‘ ان کے آباؤ و اجداد کو ہم نے آسانیاں پہنچائیں لیکن یہ لوگ غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے :
44۔ زیر نظر آیت میں ان خوشحال لوگوں کے اعراض و استکبار سے مکمل طور پر پردہ اٹھایا جا رہا ہے کہ جس مال و دولت پر یہ پھولے نہیں سماتے اور طرح طرح کی اٹھکیلیاں کر رہے ہیں ان کی سمجھ پر ایسا پردہ پڑا ہے کہ انکی سمجھ میں یہ نہیں آ رہا کہ یہ سب کچھ ان کو کس نے دیا ہے ؟ یہ سمجھ رہے ہیں کہ یقینا یہ ان کا ذاتی استحقاق ہے جس کا نہ کوئی دینے والا ہے اور نہ ہی کوئی لینے والا ۔ اس لئے لوگ اپنی سرداریوں اور خوش حالیوں کو لازوال سمجھ بیٹھے ہیں اور ایسے سرمست ہوگئے ہیں کہ انہیں کبھی یہ خیال تک نہیں آیا کہ یہ سب کچھ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–46
Haste is undesirable
خُلِقَ الْإِنسَانُ مِنْ عَجَلٍ (Man is made of haste. - 21:37). عَجَل ('ajal) means haste or hurry. The word is used in situations when one desires things to happen before their time, and this trait is bad by its very nature. In another place also the word is used to denote human weakness. For instance وَكَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا i.e. Man is prone to haste - 17:11, meaning that he is very impatient. When Sayyidna Musa (علیہ السلام) went to the mount Tur in a hurry leaving his people behind, he was censured by Allah Ta` ala.
Prophets (علیہم السلام) and the devout people…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
44. In other words it means: These people have been deluded by Our favor and Our provisions. They think they are enjoying prosperity and good life as their personal right and there is none to take it away from them. They have forgotten that there is God above them Who is able to make or mar their fortune.
45. In this connection, see (Surah Ar-Raad, Ayat 41 and E.N. 60) thereof. Here it bears an additional meaning also: Do they not see that an All-Powerful Being is showing His signs every now and then everywhere on the earth in the form of famines, epidemics, floods, earthquakes and other…
Read the full tafseer →