Al-Anbiyaa 21:41

Al-Anbiyaa · from ayah 41

21:41

وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ ۟۠وَلَـقَدِ اسۡتُهۡزِئَ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِيۡنَ سَخِرُوۡا مِنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ

اور تم سے پہلے بھی پیغمبروں کے ساتھ استہزاء ہوتا رہا ہے تو جو لوگ ان میں سے تمسخر کیا کرتے تھے ان کو اسی (عذاب) نے جس کی ہنسی اُڑاتے تھے آگھیرا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And already were messengers ridiculed before you, but those who mocked them were enveloped by what they used to ridicule.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 3 of surah · Ruku 3 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Anbiyaa

All translations of 21:41

مذاق تم سے پہلے بھی رسُولوں کا اڑایا جا چکا ہے، مگر اُن کا مذاق اڑانے والے اُسی چیز کے پھیر میں آ کر رہے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تم سے پہلے بھی پیغمبروں کے ساتھ استہزاء ہوتا رہا ہے تو جو لوگ ان میں سے تمسخر کیا کرتے تھے ان کو اسی (عذاب) نے جس کی ہنسی اُڑاتے تھے آگھیرا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور تجھ سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی ہنسی مذاق کیا گیا پس ہنسی کرنے والوں کو ہی اس چیز نے گھیر لیا جس کی وه ہنسی اڑاتے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (اے پیغمبر) تم سے پہلے بھی پیغمبروں کا مذاق اڑایا گیا تھا، پھر ان کا مذاق بنانے والوں کو اسی چیز نے آگھیرا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک تم سے اگلے رسولوں کے ساتھ ٹھٹھا کیا گیا تو مسخرگی کرنے والوں کا ٹھٹھا انہیں کو لے بیٹھا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک آپ سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ مذاق کیا گیا سو ان لوگوں میں سے انہیں جو تمسخر کرتے تھے اسی (عذاب) نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ یقینا تجھ سے پہلے کئی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا تو ان میں سے جن لوگوں نے مذاق اڑایا انھیں اسی چیز نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اے نبی) آپ سے پہلے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا جاچکا ہے۔ مگر ان کا مذاق اڑانے والے اسی چیز میں خود گھر گئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تم سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا تو جن لوگوں نے ان سے مذاق اڑایا ان کو اس چیز نے گھیر لای جس کا وہ مذاق اڑاتے رہے تھے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اے پیغمبر ! آپ ان کی ٹھٹھا بازی سے دلگیر نہ ہوں کیونکہ یقینی طور پر آپ سے پہلے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا مگر انجام کار ان میں سے ان لوگوں کا جو مذاق اڑایا کرتے تھے گھیر لیا اسی چیز نے جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

اور یقیناً آپ سے پہلے بھی جو پیغمبروں کے ساتھ تمسخر کیا جاچکا ہے پھر جن لوگوں نے ہنسی اڑائی تھی ان کے اوپر وہی (عذاب) آ واقع ہوا جس پر وہ تمسخر کر رہے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (اے نبی ﷺ !) آپ سے پہلے جو رسول آئے تھے ان کا بھی مذاق اڑایا گیا تھا تو پھر گھیر لیا ان میں سے مذاق اڑانے والوں کو اسی (عذاب) نے جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور تم سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ ٹھٹھے ہوچکے ہیں۔ تو جو لوگ ان میں سے تمسخر کیا کرتے تھے ان کو اسی عذاب نے جس کی ہنسی اڑاتے تھے آگھیرا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Other Messengers before you were also mocked, but those who scoffed at the Messengers were overtaken by the same scourge that they had scoffed at.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

In fact, messengers have been mocked at prior to you. So those who laughed at them were besieged by what they used to ridicule.

— Muhammad Taqi Usmani

In fact, messengers have been mocked at prior to you. So those who laughed at them were besieged by what they used to ridicule.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Indeed (many) Messengers were mocked before you, but the scoffers were surrounded by what they used to mock.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Messengers before thee, indeed, were mocked, but that whereat they mocked surrounded those who scoffed at them.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And already were messengers ridiculed before you, but those who mocked them were enveloped by what they used to ridicule.

— Saheeh International

They mocked the Messengers who were sent before you; thus, the torment which they had ridiculed encompassed them all.

— Muhammad Sarwar

And certainly apostles before you were scoffed at, then there befell those of them who scoffed that at which they had scoffed.

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly mocked were the apostles before thee, then there surrounded those of them Who scoffed that whereat they had been mocking!

— Abdul Majid Daryabadi

Mocked were (many) messenger before thee; But their scoffers were hemmed in by the thing that they mocked.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 21:41

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 41–43

انبیاء کی تکذیب کافروں کا شیوہ ہے اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ تمہیں جو ستایا جارہا ہے، مذاق میں اڑایا جاتا ہے اور جھوٹا کہا جاتا ہے اس پر پریشان نہ ہونا، کافروں کی یہ پرانی عادت ہے۔ اگلے نبیوں کے ساتھ بھی انہوں یہی کیا جس کی وجہ سے آخرش عذابوں میں پھنس گئے۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰي مَا كُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ ۚ وَلَقَدْ جَاۗءَكَ مِنْ نَّبَاِى الْمُرْسَلِيْنَ 34؀) 6۔ الانعام :34) ، تجھ سے پہلے کے انبیاء بھی جھٹلائے گئے اور انہوں نے اپنے جھٹلائے جانے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 37–41

سورة الْاَنْبِیَآء 41 اصل میں خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن کا لفظی ترجمہ ہے " انسان جلد بازی سے بنایا گیا ہے، یا پیدا کیا گیا ہے "۔ لیکن یہ لفظی معنی اصل مقصود کلام نہیں ہیں۔ جس طرح ہم اپنی زبان میں کہتے ہیں فلاں شخص عقل کا پتلا ہے، اور فلاں شخص حرفوں کا بنا ہوا ہے، اسی طرح عربی زبان میں کہتے ہیں کہ وہ فلاں چیز سے پیدا کیا گیا ہے، اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ فلاں چیز اس کی سرشت میں ہے۔ یہی بات جس کو یہاں خُلِقَ الْاِنْسَنُ مِنْ عَجَلٍ کہہ کر ادا کیا گیا ہے، دوسری جگہ وَکَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا، " انسان جلد باز واقع ہوا ہے، " (بنی اسرائیل آیت 11) کے الفاظ میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 37–46

جلد بازی مذموم خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ ، عجل بمعنے عجلت اور جلدی کے ہے جس کی حقیقت کسی چیز کو اس کے وقت سے پہلے طلب کرنا ہے اور یہ وصف فی نفسہ مذموم ہے قرآن کریم میں دوسری جگہ بھی اس کو انسانی کمزوری کے طور پر ذکر فرمایا ہے۔ وَكَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا یعنی انسان بڑا جلد باز ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ جب کوہ طور پر اپنی قوم سے آگے بڑھ کر حق تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو وہاں بھی اس عجلت پر عتاب ہوا اور انبیاء و صلحاء کے بارے میں جو مسارعت اور مسابقت فی الخیرات کو بطور مدح کے ذکر کیا گیا ہے وہ جلد بازی اور عجلت کے مفہوم میں داخل نہیں۔ کیونکہ وہ وقت سے پہلے کسی چیز کی طلب نہیں بلکہ وقت پر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آنضحتر صلعم کی تسلی کے لئے تاریخ کا حوالہ یہ آنحضرت ﷺ کی تسلی کے لئے تاریخ کا حوالہ ہے کہ تم سے پہلے اللہ کے جو رسول گزرے ہیں ان کے انذار کا بھی اس طرح مذاق اڑایا گیا جس طرح تمہارے انذار کا مذاق اڑایا جا رہا ہے بالآخر اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جس عذاب کا مذاق اڑایا گیا اس نے ان لوگوں کو آگھیرا جنہوں نے اس کا مذاق اڑایا۔ مطلب یہ ہے کہ وہی روز بد تمہارے ان مذاق اڑانے والوں کے سامنے بھی آنے والا ہے۔ سخروامنھم سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ رسولوں کی تکذیب کے نتیجہ میں ان قوموں پر جو فیصلہ کن عذات اتا ہے اس میں صرف وہی لوگ ہلاک ہوتے ہیں جو اپنی تکذیب پر اڑے رہ جاتے ہیں اس سنت الٰہی کی طرف دوسرے مقامات…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

41۔ 1 رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ مشرکین کے مذاق اور جھٹلانے سے بددل نہ ہوں، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، تجھ سے پہلے آنے والے پیغمبروں کے ساتھ بھی یہی معاملہ کیا گیا، بالآخر وہی عذاب ان پر الٹ پڑا، یعنی اس نے انھیں گھیر لیا، جس کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور جس کا وقوع ان کے نزدیک ابھی مستبعد تھا جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا (وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰي مَا كُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا) 6۔ الانعام :34) تجھ سے پہلے بھی رسول جھٹلائے گئے پس انہوں نے تکذیب پر اور ان تکلیفوں پر جو انھیں دی گئیں صبر کیا یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی رسول…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 37–43

20: جب آنحضرت ﷺ دنیا یا آخرت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے تھے تو یہ لوگ اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے تھے کہ وہ عذاب ابھی لے آؤ۔ ان آیتوں میں اس کا جواب دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 39–41

لویعلم الذین کفروا۔۔۔۔۔۔ ماکانوا بہ یستھزء ون (93 : 14) ” اگر انکو علم ہوجائے کہ ان کی حالت کیا ہوگی ‘ تو ان کا رویہ یہ نہ ہوتا ‘ جواب ہے۔ یہ عذاب میں نہ جلدی کا مطالبہ کرتے اور نہ یہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مذاق کرتے۔ ان کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اس وقت ہوگا کیا۔ وہاں ان کی حالت یہ وہگی کہ ہر طرف سے آگے کے شعلے انہیں نوچ رہے ہوں گے ‘ جھلسا رہے ہوں گے اور یہ اپنے آپ کو بچانے کی نااکم کوششیں کررہے ہوں گے ‘ قرآن اس کی تصویر اس طرح کھینچتا ہے کہ چہروں پر شعلے حملہ کریں گے ‘ پیٹھوں پر کریں گے اور یہ کسی طرح کا دفاع نہ کرسکیں گے بلک یہ آگ ہمہ جہست ان پر شعلہ بار ہوگی اور یہ کسی شعلے کو رد نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی جس چیز سے ٹھٹھا کرتے تھے اس کی سزا نے گھیر لیا اور ان کی ہنسی ان پر ہی الٹ دی گئی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 41 وَلَقَدِ اسْتُہْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِکَ ” لہٰذا آپ ﷺ اس صورت حال کو برداشت کیجیے اور صبر کا دامن تھام کر اپنا فرض ادا کرتے رہیے۔ فَحَاق بالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْہُمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِءُ وْنَ ” پھر جب اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق عذاب موعود آیا تو ان مذاق اڑانے والوں کو نیست و نابود کر کے نَسْیًا مَّنْسِیًّاکر دیا گیا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

37 یعنی اللہ کے جس عذاب کی وعید کا مذاق اڑاتے تھے۔ اسی عذاب میں پھنس گئے۔ ان کا مذاق انہی پر الٹ پڑا اور اس کے وبال میں ایسے گرفتار ہوئے کہ اب دوسرے لوگ ان کا مذاق اڑانے لگے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

56۔ ساری تاریخ انبیاء مکذب، منکر، معاند قوموں کی تباہی و بربادی سے بھری پڑی ہے۔ اور ہر دنیوی ومادی عذاب تو محض ایک ہلکا سا نمونہ ہے آخرت کے اشد العذاب کا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 30–41

آیت نمبر 30 تا 41 ترجمہ : کیا کافر یہ نہیں جانتے کہ آسمان اور زمین (منہ) بند تھے ؟ اَوَلَمْ میں واؤ اور ترک واؤ دونوں ہیں رَتَقًا بمعنی سَدًّا ہے اور سَدًّا بمعنی مَسْدُوْدًا ہے پھر ہم نھے ان کو کھول دیا یعنی سات آسمان اور سات زمین بنادیں یا فتق سماء کا مطلب یہ ہے کہ آسمان سے بارش نہیں ہوتی تھی پھر بارش ہونے لگی، اور فتق ارض کا مطلب یہ ہے کہ زمین اگاتی نہیں تھی پھر اگانے لگی اور ہم نے آسمان سے برسنے والے اور زمینی چشموں سے نکلنے والے پانی سے ہر جاندار کو بنایا گھاس وغیرہ کو لہٰذا پانی ہر جاندار کے لئے سبب حیات ہے پھر بھی میری توحید پر ایمان نہیں لاتے اور ہم نے زمین پر ثابت رہنے والے پہاڑ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد استہزی برسل من قبلک فحاق بالذین سخروا منہم ما کانوا بہ یستہزون۔ اور آپ سے پہلے جو پیغمبر گزرے ان سے بھی استہزاء (مسخرا پن) کیا جا چکا ہے آخر وہی (عذاب) ان پر نازل ہوگیا جس کا وہ مذاق بناتے تھے ‘ اس میں رسول اللہ ﷺ کے لئے پیام تسکین ہے اور استہزاء کرنے والوں کے لئے عذاب کی وعید۔ فَحَاقَیعنی جس چیز کا وہ استہزاء کرتے تھے اسی کی سزا اور عذاب ان پر نازل ہوا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(41) اور آپ سے پہلے جتنے پیغمبر گزرے ہیں ان کے ساتھ بھی ان کی قوم نے مذاق کیا جیسا کہ آپ کا آپ کی قوم مذاق اڑاتی ہے سو جن لوگوں نے انبیاء کرام کے ساتھ مذاق کیا تھا تو ان پر وہ عذاب نازل ہوگیا جس کے ساتھ وہ مذاق کیا کرتے تھے یا یہ کہ ان کیا ستہزاء اور تمسخر کی وجہ سے ان پر عذاب نازل ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ۔۔ :”حَاقَ یَحِیْقُ“ گھیر لینا۔ اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ آپ کفار کے مذاق اڑانے اور جھٹلانے سے بددل نہ ہوں، آپ سے پہلے پیغمبروں کا بھی اسی طرح مذاق اڑایا گیا۔ انھوں نے اللہ کے جس عذاب سے ڈرایا اس کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ آخر کار ان مذاق اڑانے والوں کو اسی عذاب نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ آپ کا مذاق اڑانے والوں کا انجام بھی یہی ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 39–41

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لو یعلم الذین کفروا یہاں علم بمعنی معرفت ہے جو مفعول ثانی کا تقاضا نہیں کرتا جیسے : لا تعلمونھم، اللہ یعلمھم (الانفال :60) اور لو کا جواب محذوف ہے، یعنی اگر وہ اس وقت کو جان لیتے جس میں وہ اپنے چہروں سے اور اپنی پیٹھوں سے آگ کے شعلوں کو نہ روک سکیں گے اور نہ ان کی مدد کی جائے گی اگر وہ اسکو جان لیتے تو وعید کے لیے جلدی نہ کرتے۔ زجاج نے کہا : اگر وہ جان لیتے تو وعدہ کی سچائی کو جان لیتے۔ بعض نے فرمایا : اگر وہ اسے جان لیتے تو وہ کفر پر قائم نہ رہتے اور ایمان لے آتے۔ کسائی نے کہا : یہ قیامت کے وقوع کے تحقیق پر تنبیہ ہے، یعنی اگر وہ علم یقین سے جان لیتے تو جان لیتے کہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 39–41

1:۔ بخاری اور مسلم نے عدی بن حاتم (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے کہ عنقریب اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن (اس حال میں) کلام فرمائیں گے کہ اس کے اور ان کے درمیان کوئی پردہ نہ ہوگا اور نہ کوئی ترجمان ترجمانی کرے گا پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا میں نے تجھ کو مال نہ دیا تھا ؟ کہے گا کیوں نہیں (آپ نے مال دیا تھا) پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا میں نے تیری طرف رسول نہ بھیجا تھا ؟ وہ کہے گا کیوں نہیں (آپ نے رسول بھیجا تھا) پس بندہ اپنے داہنی طرف دیکھے گا تو آگ کے سوا کچھ نہ دیکھے گا اور اپنے بائیں طرف دیکھے گا تو آگ کے سوا کچھ نہ دیکھے گا پس چاہئے کہ تم میں سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ : اور بیشک مذاق کیا جا چکا ہے ] [ بِرُسُلٍ : رسولوں کے ساتھ ] [ مِّنْ قَبْلِكَ : آپ ﷺ سے پہلے ] [ فَحَـاقَ : تو چھا گیا ] [ بِالَّذِينَ : ان پر جنھوں نے ] [ سَخِــرُوْا : تمسخر کیا ] [ مِنْهُمْ : ان میں سے ] [ مَا : (وہ) جو ] [ كَانوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ : وہ لوگ مذاق کیا کرتے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

آخر میں فرمایا (وَ لَقَدِ اسْتُھْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَحَاق بالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْھُمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِءُ وْنَ ) (اور یہ واقعی بات ہے کہ آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ تمسخر کیا گیا سو جن لوگوں نے ان سے تمسخر کیا ان پر وہ عذاب واقع ہوگیا جس کا وہ تمسخر کرتے تھے) اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ آپ سے پہلے بھی حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تکذیب کی گئی، ان کا مذاق بنایا گیا۔ پھر انجام کے طور پر تمسخر کرنے والوں نے اپنے تمسخر اور تکذیب کا مزہ چکھ لیا اور جس عذاب کا وہ مذاق بناتے تھے یہ عذاب ان پر نازل ہوگیا۔ آپ کے مخالفین جو عذاب کا مذاق بنا رہے ہیں یہ بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 36–47

بیان انجام استہزاء ببارگاہ رسالت و تہدید عذاب آخرت وال اللہ تعالیٰ واذاراک الذین کفروا .... الیٰ .... وکفی بنا حسنین۔ (ربط) گزشتہ آیت میں آنحضرت ﷺ کے انتقال پر شماتت کرنے والوں کا جواب تھا اب ان آیات میں ان لوگوں کے انجام بد کو بیان کرتے ہیں جو آنحضرت ﷺ کے ساتھ مسخرہ پن کرتے تھے اور قیامت کا مذاق اڑاتے تھے کہ قیامت کب آئے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ دفعتا آجائے گی اور اس وقت ان کو اپنے استہزاء اور تمسخر کا مزہ معلوم ہوجائے گا۔ چناچہ فرماتے ہیں اور ان عاشقان دنیا اور منکرین آخرت کی حالت یہ ہے کہ یہ کافر جب آپ کو دیکھتے ہیں تو بس آپ ﷺ کو ٹھٹھا اور مذاق ہی بنا لیتے ہیں، یہ بھی ابتلاء الٰہی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

28:۔ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ یعنی آپ مشرکین کے استہزاء و سخریہ سے دل برداشتہ نہ ہوں ایسے ایسے بد قماش لوگوں کا ہمیشہ اللہ کے پیغمبروں کے ساتھ یہی وطیرہ رہا ہے۔ لیکن آخر کار ان کو اپنی بدکرداری کی سخت سزا ملی۔ اور وہ دنیا ہی میں ذلیل و رسوا ہوئے۔ آپ کے دشمنوں کا بھی یہی حشر ہوگا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 33–41

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں اور مشرکوں کا رد فرمایا دلائل قدرت کا ذکر کیا۔ ان میں سے ایک دلیل یہ تھی کہ آسمان اور زمین ابتداء میں اکٹھے تھے ، بعد میں ان کو الگ الگ کردیا گیا۔ پھر فرمایا کہ زمین پر بوجھل پہاڑ گاڑھ دیئے تاکہ یہ ڈولنے نہ پائے۔ پھر ان پہاڑوں میں کشادہ راستے بنادیے اور آسمان کو ایک محفوظ چھت بنادیا۔ فرمایا کہ لوگ ان نشانیوں کو دیکھ کر توحید خداوندی کے قائل نہیں ہوتے بلکہ ان نشانات قدرت سے اعراض کرتے ہیں۔ اب آج کے درس میں اللہ نے آسمان اور زمین پیدا کیے گئے بعض نشانات قدرت کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وھولاذی خلق الیل والنھار اللہ تعالیٰ کی ذات وہی ہے جس نے رات…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَقَدِ اسْتُہْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَـاقَ بِالَّذِيْنَ سَخِــرُوْا مِنْہُمْ مَّا كَانُوْا بِہٖ يَسْتَہْزِءُوْنَ۝ 41ۧ هزؤ والاسْتِهْزَاءُ : ارتیاد الْهُزُؤِ وإن کان قد يعبّر به عن تعاطي الهزؤ، کالاستجابة في كونها ارتیادا للإجابة، وإن کان قد يجري مجری الإجابة . قال تعالی: قُلْ أَبِاللَّهِ وَآياتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِؤُنَ [ التوبة/ 65] ( ھ ز ء ) الھزء الا ستھزاء اصل میں طلب ھزع کو کہتے ہیں اگر چہ کبھی اس کے معنی مزاق اڑانا بھی آجاتے ہیں جیسے استجا بۃ کے اصل منعی طلب جواب کے ہیں اور یہ اجابۃ جواب دینا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَبِاللَّهِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 39–41

1 ؎ یعنی آگے پیچھے ہر طرف سے آگ گھیرے ہوگی نہ اس کو سامنے سے دور کرسکیں گے نہ پیچھے سے۔ 12 حقانی

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَقَدِاسْتُھْزِیَٔ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَخَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْھُمْ مَّاکَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ ۔ (الانبیاء : 41) (اور آپ سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا تو جن لوگوں نے ان میں سے مذاق اڑایا ان کو اس چیز نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی اس آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور ساتھ ہی ساتھ مذاق اڑانے والوں کو تنبیہ بھی کی گئی ہے۔ تسلی کا مضمون یہ ہے کہ اے پیغمبر ! آپ ان بدبختوں کی زبان درازیوں سے بدمزہ نہ ہوں۔ تبلیغ و دعوت کے راستے کی کچھ سنتیں ہیں جن میں ایک سنت یہ ہے کہ جس نے بھی انسانوں کی ہدایت اور اللہ تعالیٰ کا دین پہنچانے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 39–41

فہم القرآن ربط کلام : جس عذاب کے لیے کفار جلدبازی کا مظاہرہ کرتے ہیں اس کی ہولناکیوں کی ایک جھلک۔ رسول معظم ﷺ سے کفار عذاب اور قیامت کا بار بار مطالبہ کرتے تھے۔ عذاب کی ہولناکیوں کا ذکر کرکے کفار کو ان کے مطالبہ سے یہ کہہ کر ڈرایا اور روکا جا رہا ہے کہ اگر ان کو معلوم ہوجائے کہ رب ذوالجلال کا عتاب اور عذاب کس قدر سخت اور شدید تر ہوتا ہے تو یہ بھول کر بھی ایسا مطالبہ نہ کریں۔ انھیں پتہ ہونا چاہیے کہ جب ان پر رب ذوالجلال کا عذاب نازل ہوگا تو وہ اپنے آپ کو بچانا چاہیں تو ہرگز بچا نہیں سکیں گے۔ اے پیغمبر ﷺ ! آپ سے پہلے انبیاء کے ساتھ بھی مذاق ہوتا رہا لیکن ایک وقت ایسا آیا کہ جب مذاق کرنے والوں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

41: وَلَقَدِِ اسْتُھْزِیَٔ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِکَ (تحقیق آپ سے پہلے پیغمبروں سے استہزاء کیا جاچکا) فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْھُمْ (پس اسی عذاب نے ان کو آن گھیرا) یعنی اس کا بدلہ۔ مَا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ (جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ ) اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو ان کے استہزاء کے سلسلہ میں انبیاء (علیہم السلام) کا اسوہ پیش کر کے تسلی دی اور یہ بتلایا جو کچھ وہ آج کررہے ہیں یہ ان کو آگھیرے گا۔ جیسا کہ انبیاء (علیہ السلام) کا مذاق اڑانے والوں کے ساتھ ہوا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

41۔ ولقد استھزی برسل من قبلک فحاق، جس چیز کی وہ استہزاء کرتے تھے اسی کی سزا اور عذاب ان پر نازل ہوا۔ بالذین سخروا منھم ماکانوا بہ یستھزون۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 36–41

36۔ 41:۔ تفسیر سدی اور تفسیر ابن ابی حاتم 4 ؎ میں چند روایتوں سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے ‘ اس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن شریف میں مشرکوں کے بتوں کی مذمت کی آیتیں جو نازل ہوتی تھیں اور آنحضرت ﷺ وہ آیتیں مشرکوں کو پڑھ کر سناتے تھے تو مشرک لوگ اپنے بتوں کی مذمت سن کر دل میں تو بہت چڑتے اور برا مانتے تھے اور ظاہر میں آنحضرت ﷺ کو مسخراپن میں اڑاتے تھے ‘ چلتے پھرتے جہاں کہیں آنحضرت ﷺ کو دیکھتے تو ابوجہل وغیرہ آپس میں آنحضرت ﷺ کو چھیڑنے کو کہتے تھے ‘ کیا قریش کی ہدایت کو یہی نبی آئے ہیں جو ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرما دیا کہ جو عذاب ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 36–41

آیت 36-41 یہ ان کے کفر کی شدت کی طرف اشارہ ہے۔ مشرکین جب رسول اللہ ﷺ کو دیکھتے تو آپ ﷺ کا تمسخر اڑاتے اور کہتے ( اھذا الذی یذکر الھتکم) یعنی ان کے زعم کے مطابق یہی ہے جو تمہارے معبودں کی تحقیر کرتا ہے، ان کو سب و شتم اور ان کی مذمت کرتا ہے اور ان کی برائیاں بیان کرتا ہے اس کی پیروا کرو نہ اس کی طرف دھیان دو ۔۔۔۔ یہ سب کچھ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کا استہزاء اور آپ ﷺ کی تحقیر ہے جو آپ ﷺ کی صفات کمال شمار ہوتی ہیں۔ آپ ﷺ وہ اکمل افضل ہستی ہیں جس کے فضائل و مکارم میں اخلاص اللہ، غیر اللہ کی عبادت مذمت اور عبادت کے اصل مقام و مرتبہ کا ذکر شامل ہے۔ ذلت و استہزاء تو ان کفار کے لئے ہے جن میں ہر قسم کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

54 اہل باطل کی طرف سے اہل حق کا مذاق و استہزاء : سو اہل باطل کی طرف سے اہل حق کا ہمیشہ ہی مذاق اڑایا گیا۔ یہاں تک کہ حضرات انبیاء و رسل کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ تو آج کے ان فرزندان کفر و باطل کا یہ طریقہ و وطیرہ کوئی نئی اور انوکھی چیز نہیں بلکہ پہلے سے ایسا ہوتا آیا ہے۔ مگر اس کا وبال خود ان ہی پر پڑے گا۔ جیسا کہ ان سے پہلوں کے ساتھ ہوچکا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس اس ارشاد ربانی میں ایک طرف تو آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کے لئے اور پھر آپ ﷺ کے واسطے سے آپ کی امت کے ہر داعی حق کے لئے تسلی کا بڑا سامان ہے اور دوسری طرف اس میں منکرین و مکذبینِ حق کیلئے سخت تنبیہ و تذکیر بھی کہ وہ حق اور اہل حق سے مذاق اور استہزاء…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 36–47

حضور ﷺ سے کفار کی بدتمیزی اور ان کے لیے عذاب کی خبر تشریح : مندرجہ بالا آیات میں شروع میں ہی اللہ رحمن و رحیم اپنے آخری رسول ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ کو ان لوگوں کی حرکتوں ‘ بدتمیزیوں سے ہرگز پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ کافر شخص یہی کرسکتا ہے کہ رسول کا مذاق اڑائے کیونکہ رسول ہمیشہ کفر اور برائی سے منع کرتا ہے۔ اسی لیے وہ رسول کے مخالف ہوجاتے ہیں اور ہر صورت رسول کو تنگ کرتے ہیں کیونکہ وہ کفر و شرک میں اس قدر پھنس چکے ہوتے ہیں کہ وہ اللہ کے ذکر سے ہی دور بھاگتے ہیں اور پھر اسی لیے ہر وقت اس عذاب کے مطالبہ کرتے رہتے ہیں جس سے آپ انہیں ڈراتے ہیں۔ اس سے ایک تو ان کی حق سے نفرت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 30–41

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف کیا کافر جان نہیں چکے کہ آسمان اور زمین پہلے بند تھے یعنی اب تو عقل انسانی نے بھی یہ بات دریافت کرلی ہے کہ نہ آسمانوں سے بارش برستی تھی اور نہ زمین میں روئیدگی تھی اور نہ ان کی صورت اس قابل تھی پھر رب کریم نے معمورہ عالم کو بسانا چاہا تو انہیں کھول دیا یعنی اس نظام حیات کو رواں کردیا سورج کی گرمی و روشنی اور ہواؤں کی آمد وشد اپنا اپنا کام دکھانے لگی ، بادل برسنے لگے اور زمین سے رنگا رنگ چیزیں پیدا ہونے لگیں لیکن یہ سب اتفاقا نہیں ہو رہا بلکہ اللہ کریم کا نظام ہے جس کی ایک اصل یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ نے ہر شے کی حیات خواہ حیوانات ہوں یا نباتات پانی پر مقرر کردی ہے ،…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 ۔ مراد ہے خدا کا عذابط جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ اس آیت سے مقصود آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا ہے۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(21:41) استھزیء ب استھزاء (استفعال) سے ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ اس سے ٹھٹھا گیا۔ استھزیء برسل رسولوں کا مذاق اڑایا گیا۔ فحاق بپس نازل ہوا (ان پر) گھیر لیا اس نے (ان کو) حاق یحیق (ضرب) ۔ سخروا۔ سخر مصدر (باب سمع) ماضی جمع مذکر غائب۔ انہوں نے ٹھٹھا کیا۔ فحاق بالذین سخروا منہم ما کانوا بہ یستھزء ون۔ حاق فعل الذین۔ اسم موصول۔ سخروا منہم اسم موصول کی تعریف اسم موصول معہ اپنی تعریف کے حاق کا مفعول ہوا۔ پس گھیر لیا ان لوگوں کو جو ان میں سے ٹھٹھا کیا کرتے تھے ما اسم موصول کانوا بہ یستھزء ون۔ اسم موصول کی تعریف۔ اس عذاب نے جس کے متعلق وہ ٹھٹھا کیا کرتے تھے۔ یہ جملہ ما کانوا بہ یستھزء ون فاعل ہے فعل…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 34–41

لغات القرآن آیت نمبر 34 تا 41 الخلد ہمیشہ زندہ رہنا۔ مت تو مر گیا۔ تیرا اتنقال ہوگیا۔ ضائقۃ چکھنے والا۔ فتنۃ آزمائش۔ ھزو مذاق۔ عجل جلد باز۔ لاتستعجلون تم جلدی نہ مچاؤ۔ لایکفون وہ نہ روک سکیں گے۔ بغتۃ اچانک۔ تبھت حیران۔ حاق گھیر لیا۔ آپڑا۔ تشریح :- آیت نمبر 34 تا 41 سورۃ الانبیاء کی یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں جب کفار مکہ کی مخالفت اور دشمنی انتہاؤں تک پہنچ چکی تھی وہ ہر حال میں اس ابھرتی ہوئی تحریک کو اپنی سازشوں سے کچل ڈالنا چاہتے تھے۔ ان سے جو کچھ ممکن تھا انہوں نے اس میں کسر اٹھا نہ رکھی تھی ان لوگوں نے یہاں تک فیصلہ کرلیا کہ نبی کریم ﷺ کو نعوذ باللہ قتل کردیا جائے تاکہ یہ مقصد اور مشن ہمیشہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 36–41

حضور نبی کریم سے قریش کا تمسخر۔ (ف 1) شان نزول : یہ آیت ابوجہل کے حق میں نازل ہوئی نبی تشریف لے جاتے تھے وہ آپ کو دیکھ کر ہنسا، اور کہنے لگا کیا قریش کی ہدایت کو یہ نبی آئے ہیں کیا یہی نبی ہیں جو ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کی تسکین فرمائی اور فرمایا کہ جو عذاب ان مشرکوں کے لیے آخرت میں مہیا کیا گیا ہے اگر اس کو یہ لوگ جان لیں تو یہ مسخراپن کی سب باتیں بھول جائیں اور یہ بھی فرمایا کہ دنیا چند روزہ ہے آنکھوں کے سامنے ان کے بڑے مر گئے ان کو بھی اسی طرح آخر مرنا ہے مرتے ہی اس طرح کے ناگہانی عذاب میں یہ لوگ پھنس جائیں گے کہ پھر ان کا کچھ بس نہ چلے گا جب مشرکین مکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 37–43

[26] یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اگر انسان کی طبیعت میں جلد بازی ہے تو قرآن اس خاصے کی مذمت نہیں کرتا کیونکہ اس کے نزدیک فطرت انسانی کا کوئی خاصہ بھی برائی کے لئے نہیں ہے۔ چناچہ سورة التین میں فرمایا ( لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْٓ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ ۝ۡ) 95 ۔ التین :4) (ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا) چناچہ ضروری تھا کہ اس کی طبیعت میں جلدبازی بھی ہوتی جو اس کے اندر سعی عمل کا فوری ولولہ پیدا کرتی اور اس کی ساری سرگرمیوں کے لئے محرک کا کام دیتی۔ لیکن طبیعت کے اور خواص کی طرح یہاں بھی ٹھوکر اصل خاصے کے تقاضے میں نہیں لگتی ہے بلکہ اس کے بےمحل اور بےاعتدالانہ استعمال میں لگتی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 40–41

(ف 1) عذاب کے باب میں اللہ کا قانون یہ ہے کہ مجرموں کو ابتدا میں ڈھیل دی جاتی ہے مگر جب وہ حد مقرر سے آگے بڑھ جاتے ہیں ، اس وقت اللہ کا عذاب اچانک آجاتا ہے اور پھر دنیا کی کوئی طاقت ان کو اس عذاب سے بچا نہیں سکتی ، مگر بیوقوف لوگ اس ڈھیل کا مطلب سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے اعمال حسنہ کا نتیجہ ہے جو دنیا میں نازونعمت کے سارے سامان ہمیں میسر ہیں ، ورنہ ایک لمحہ بھی ہم دنیا میں زندہ نہیں رہ سکتے تھے ، یہی وجہ ہے کہ مکہ والے بار بار حضور ﷺ سے عذاب کا مطالبہ کرتے ، وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات نہایت حکمت اور قدرت والی ہے ، جسے جب چاہے ، اپنے مصالح کے ماتحت گرفتار…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-41 اور بیشک آپ سے پہلے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا ہے اور آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ ٹھٹا کیا گیا ہے پھر ان مذاق کرنے والوں کو اسی عذاب نے آگھیرا جس عذاب کا یہ لوگ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ یعنی جس عذاب کے آنے کا مذاق اڑاتے تھے وہی عذاب گلے کا ہار بن گیا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی جس چیز سے ٹھٹھا کرتے تھے اس چیز کی جزا نے انہیں گھیر لیا۔ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 41–42

ف 1۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ کفر موجب عذاب ہے، پس اگر دنیا میں وقوع نہ ہو تو آخرت میں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آپ ﷺ سے یہ لوگ مذاق کرتے ہیں تو ان کے پہلے بھی اپنے نبیوں سے استہزاء کرچکے ہیں : 41۔ فرمایا گیا کہ اگر آج یہ لوگ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ کا مذاق اڑا رہے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے ان کے آباؤ و اجداد بھی اسی طرح کی حرکتیں کرچکے ہیں پھر جو انجام ان کا ہوا وہی ان کا بھی ہوگا ۔ ساری تاریخ ہی انبیاء کرام کے مکذب ‘ منکر اور معاند قوموں کی تباہی و بربادی سے بھری پڑی ہے اور پھر یہ دنیوی ومادی عذاب تو محض ایک ہلکا سا نمونہ ہے آخرت کا عذاب تو اشد ال عذاب ہے ۔ گویا نبی اعظم وآخر ﷺ کو سمجھایا جارہا ہے کہ آپ کی بعثت بھی اتمام حجت کے لئے ہے ان کا انجام ہم کو خوب معلوم ہے کہ کیا ہوگا ؟ جن لوگوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 37–46

Haste is undesirable خُلِقَ الْإِنسَانُ مِنْ عَجَلٍ (Man is made of haste. - 21:37). عَجَل ('ajal) means haste or hurry. The word is used in situations when one desires things to happen before their time, and this trait is bad by its very nature. In another place also the word is used to denote human weakness. For instance وَكَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا i.e. Man is prone to haste - 17:11, meaning that he is very impatient. When Sayyidna Musa (علیہ السلام) went to the mount Tur in a hurry leaving his people behind, he was censured by Allah Ta` ala. Prophets (علیہم السلام) and the devout people…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 37–41

41. This is not the literal translation of the text; its purport according to the Arabic usage is: Man is a hasty and impatient creature by his very nature. The same thing has been stated in (Surah Al-Isra, Ayat 11): Man is very hasty and impatient. 42. From the succeeding sentences it is obvious that signs here stands for the things that have been mentioned therein, the threat of the scourge of Allah, Resurrection and Hell. They made fun of these, as if to say: This man threatens us with the scourge of Allah and the torment of the Day of Resurrection if we deny him and that we shall become…

Read the full tafseer →