Explained with ayahs 41–43
انبیاء کی تکذیب کافروں کا شیوہ ہے
اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ تمہیں جو ستایا جارہا ہے، مذاق میں اڑایا جاتا ہے اور جھوٹا کہا جاتا ہے اس پر پریشان نہ ہونا، کافروں کی یہ پرانی عادت ہے۔ اگلے نبیوں کے ساتھ بھی انہوں یہی کیا جس کی وجہ سے آخرش عذابوں میں پھنس گئے۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰي مَا كُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ ۚ وَلَقَدْ جَاۗءَكَ مِنْ نَّبَاِى الْمُرْسَلِيْنَ 34) 6۔ الانعام :34) ، تجھ سے پہلے کے انبیاء بھی جھٹلائے گئے اور انہوں نے اپنے جھٹلائے جانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
سورة الْاَنْبِیَآء 43
یعنی اگر اچانک دن کو یا رات کو کسی وقت خدا کا زبردست ہاتھ تم پر پڑجائے تو آخر وہ کون سا زور آور حامی و ناصر ہے جو اس کی پکڑ سے تم کو بچا لے گا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–46
جلد بازی مذموم
خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ ، عجل بمعنے عجلت اور جلدی کے ہے جس کی حقیقت کسی چیز کو اس کے وقت سے پہلے طلب کرنا ہے اور یہ وصف فی نفسہ مذموم ہے قرآن کریم میں دوسری جگہ بھی اس کو انسانی کمزوری کے طور پر ذکر فرمایا ہے۔ وَكَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا یعنی انسان بڑا جلد باز ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ جب کوہ طور پر اپنی قوم سے آگے بڑھ کر حق تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو وہاں بھی اس عجلت پر عتاب ہوا اور انبیاء و صلحاء کے بارے میں جو مسارعت اور مسابقت فی الخیرات کو بطور مدح کے ذکر کیا گیا ہے وہ جلد بازی اور عجلت کے مفہوم میں داخل نہیں۔ کیونکہ وہ وقت سے پہلے کسی چیز کی طلب نہیں بلکہ وقت پر…
Read the full tafseer →عذاب کے لئے جلدی مچانے والوں سے ایک سوال
فرمایا کہ عذاب کے لئے جو لوگ اتنی جلدی مچائے ہوئے ہیں ان سے پوچھو کہ اس سے بچنے کے لئے انہوں نے کیا بندوبست کر رکھا ہے ! آخر رات اور دن خدائے رحمان کی پکڑ سے بچانے کے لئے ان کی کون حفاظت کر رہا ہے ؟ خدا کا عذاب رات میں آجائے یا دن میں کوئی اس کو روکنے والا نہیں بن سکتا تو اس طنطنہ کے ساتھ جو یہ اس کا مطالبہ کر رہے ہیں اس کے مقابلہ کے لئے ان کے پاس کون سا لشکر ہے !
بل ھم عن ذکر ربھم معرضون یہ ان کی اس بدبختی پر اظہار فاسوس ہے کہ ان کے اس سارے طنطنہ کی عمارت ریت پر قائم ہے۔ یہ نہیں ہے کہ خدا کی پکڑ سے بچنے کے لئے انہوں نے کوئی انتظام کر رکھا ہے، جس کے بل…
Read the full tafseer →42۔ 1 یعنی تمہارے جو کرتوت ہیں، وہ تو ایسے ہیں کہ دن یا رات کی کسی گھڑی میں تم پر عذاب آسکتا ہے ؟ اس عذاب سے دن اور رات تمہاری کون حفاطت کرتا ہے ؟ کیا اللہ کے سوا بھی کوئی اور ہے جو عذاب الٰہی سے تمہاری حفاظت کرسکے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–43
20: جب آنحضرت ﷺ دنیا یا آخرت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے تھے تو یہ لوگ اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے تھے کہ وہ عذاب ابھی لے آؤ۔ ان آیتوں میں اس کا جواب دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
قل من یکلئو کم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولاھم منا یصحبون (24 : 34) ’
اللہ رات دن ہر ذی روح کو مختلف مضرتوں سے بچانے والا ہے۔ یہ صفت رحمن ہے یعنی بہت زیادہ مہربان۔ اللہ کے سوا اور کوئی ذات بچانے والی یا مدد گار نہیں ہے۔ اے پیغمبر ‘ ان سے پوچھو کہ اللہ کے سوا ہے کوئی اور تمہارا حامی اور محافظ ؟ یہ سوال دراصل سرزنش اور توبیخ کے لیے کیا گیا ہے اور استفہام انکاری ہے یعنی کوئی نہیں ہے۔ تم بہت بڑی غفلت میں پڑے ہوئے ہو یہ تو اللہ ہی ہے جو رات اور دن تمہیں بچاتا ہے اور اس کے سوا کوئی بھی بچانے والا یا حفاظت کرنے والا نہیں ہے۔
بل ھم۔۔۔۔ معرضون (12 : 24) ” مگر یہ اپنے رب کی نصیحت سے منہ موڑتے ہیں “۔ اسی سوال کو ایک…
Read the full tafseer →8 یعنی رحمان کے غصہ اور عذاب سے تمہاری حفاظت کرنے والا دوسرا کون ہے، محض اس کی رحمت واسعہ ہے جو فوراً عذاب نازل نہیں کرتا لیکن ایسے رحمت والے حلیم و بردبار کے غصہ سے ڈرنا بھی بہت چاہیے نعوذباللہ من غضب الحلیم۔
9 یعنی رحمان کی حفاظت کا ان کو احساس و اعتراف نہیں۔ عیش و تنعم اور پر امن زندگی نے پروردگار حقیقی کی یاد سے غافل کر رکھا ہے۔ اسی لیے جب اس کی طرف سے کوئی نصیحت کی جاتی ہے تو منہ پھیر لیتے ہیں کہ یہ کہاں کی باتیں شروع کردیں۔
Read the full tafseer →آیت 42 قُلْ مَنْ یَّکْلَؤُکُمْ بالَّیْلِ وَالنَّہَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ ط ”
یعنی اللہ تعالیٰ ہی نے تمہارے لیے محافظ Body guards مقرر کر رکھے ہیں۔ یہ مضمون دو مرتبہ اس سے پہلے بھی آچکا ہے۔ سورة الانعام : 61 میں فرمایا گیا : وَیُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَۃً ط کہ وہ فرشتوں کی صورت میں تمہارے لیے محافظ مقرر کرتا ہے۔ سورة الرعد : 11 میں ارشاد ہوا : لَہٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْم بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ یَحْفَظُوْنَہٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ ط ”اس انسان کے لیے باری باری آنے والے پہرے دار ہیں ‘ وہ اس کے سامنے اور اس کے پیچھے سے اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں اللہ کے حکم سے“۔ مراد یہ ہے کہ جب تک اللہ کو منظور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
38 یعنی ان کافروں کی کرتوتیں تو اس لائق ہیں کہ انھیں کسی وقت بھی رات کو یا دن کو اللہ کا عذاب آلے۔ یہ تو اللہ کی رحمت واسعہ اور اس کی خاص مہربانی ہے کہ لوگوں کی خطاؤں پر فوری گرفت نہیں کرتا۔ اور اگر اس کا عذاب آجائے تو ان کے پاس وہ کون سا ذریعہ ہے جس سے وہ اللہ کے عذاب سے بچ سکیں گے ؟ یا وہ کون سی ہستی ہے جو اللہ کے علاوہ انھیں عذاب سے بچا سکتی ہے۔ دراصل یہ اللہ کے قانون تدریح و امہال کا، جو لوگوں کے لئے سراسر رحمت ہے، مذاق اڑا رہے ہیں۔ حالانکہ انھیں چاہئے یہ تھا کہ ایسے مالک کے احسان مند ہوتے جو ان کی خطاؤں کے باوجود مہلت دیئے جاتا ہے۔ لیکن ان کی یہ حالت ہے کہ اس کا ذکر تک سننا بھی گوارا…
Read the full tafseer →57۔ (اس لئے دلائل توحید پر غور ہی نہیں کرتے) (آیت) ” من ...... الرحمن “۔ یعنی اگر خدائے رحمن تمہیں گرفت میں لینا ہی چاہے تو دن رات میں کون اتنی مجال رکھتا ہے جو تمہارے بچاؤ میں کام دے سکے ؟ یعنی عارفین نے لکھا ہے کہ اپنے نفس کی حفاظت کی طرف سے بےاختیاری میں تو مومن و کافر سب برابر ہیں البتہ فرق یہ ہے کہ مومن کی تائید، حفاظت ونصرت من اللہ ومع اللہ ہوتی رہتی ہے۔ اور کافر کی آس ادھر سے ٹوٹی رہتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–50
آیت نمبر 42 تا 50
ترجمہ : اے محمد ﷺ ان تمسخر کرنے والوں سے کہئے رحمان کے عذاب سے رات اور دن کون ہے جو تمہاری نگرانی حفاظت کرتا ہے اگر تم پر عذاب نازل ہونے لگے (اللہ کے سوا) ایسا کوئی نہیں کرتا، اور یہ مخاطبین عذاب الٰہی سے نہیں ڈرتے اس عذاب کے منکر ہونے کی وجہ سے بلکہ یہ لوگ اپنے رب کے ذکر یعنی قرآنی سے اعراض کرتے ہیں یعنی اس میں غور و فکر نہیں کرتے اَمْ اس میں ہمزہ معنی انکاری کے لئے ہے کیا ان کے پاس ہمارے علاوہ ایسے معبود ہیں جو ان کو (ان کی تکلیف) عذاب سے بچا سکیں ؟ یعنی کیا ان کے پاس ہمارے علاوہ کوئی ایسی ذات ہے جو ان کو عذاب سے بچا سکے کوئی نہیں وہ معبود ان (باطلہ) خود اپنی حفاظت نہیں…
Read the full tafseer →قل من یکلوکم بالیل والنہار من الرحمن (اے محمد ﷺ ! آپ ان استہزاء کرنے والوں سے) کہئے کہ رات اور دن میں رحمن (کے عذاب) سے تمہاری کون حفاظت کرے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اس کی تفسیر میں فرمایا یعنی اگر رحمن تم کو عذاب دینا چاہے گا تو تمہارا بچاؤ کون کرے گا یا یہ مطلب ہے کہ اگر رحمن کا عذاب تم پر نازل ہوگا تو کون تم کو بچائے گا۔ مقصد یہ ہے کہ عذاب سے دنیا میں بچانے والا سوائے اللہ کی رحمت عامہ کے اور کوئی نہیں اور عذاب کا دفاع اسی وقت ہوگا جب اللہ ہی مہلت دے گا۔
بل ہم عن ذکر ربہم معرضون۔ بلکہ وہ لوگ اپنے رب کے ذکر سے روگرداں ہی ہیں۔ یہ حکم سوال سے اعراض ہے مطلب یہ ہے کہ رحمن سے ان کو خوف دلاؤ اور اس…
Read the full tafseer →(42) اور اے محمد ﷺ آپ ان مکہ والوں سے یہ بھی فرمائیے کہ وہ کون ہے جو رات میں اور دن میں اللہ کے عذاب سے تمہاری حفاظت کرتا ہے یا یہ کہ اللہ کے علاوہ اور کون ہے جو اس کے عذاب سے حفاظت کرتا ہے بلکہ یہ لوگ اب بھی اپنے رب حقیقی کی توحید اور اس کی کتاب کو جھٹلانے والے اور اسے پس پشت ڈالنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →قُلْ مَنْ يَّـكْلَـؤُكُمْ بالَّيْلِ۔۔ :”کَلَأَ یَکْلَؤُ“ (ف) پہرا دینا، حفاظت کرنا۔ (قاموس) ”مِنَ الرَّحْمٰنِ“ سے مراد ”مِنْ أَمْرِ الرَّحْمَانِ“ یا ”مِنْ عَذَاب الرَّحْمٰنِ“ ہے۔ (طبری وغیرہ) پچھلی آیت میں رسولوں کا مذاق اڑانے والی گزشتہ اقوام کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے گھیر لینے کا ذکر تھا، اس آیت میں موجود کفار سے خطاب ہے کہ وہ کون ہے جو رات یا دن کسی وقت آنے والے رحمٰن کے عذاب سے تمہاری حفاظت کرتا ہے ؟ درحقیقت یہ سوال کفار کو لاجواب کرنے کے لیے ہے، کیونکہ اگر وہ اس کا جواب دیں تو انھیں ماننا پڑے گا کہ دن رات پیش آنے والی بیشمار آفات و مصائب سے اللہ تعالیٰ کے سوا نہ کوئی ان کی حفاظت کرتا ہے…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قل من یکلوکم یکلو کا معنی حفاظت کرنا اور نگرانی کرنا۔ الکلاء کا معنی حفاظت کرنا ہے۔ کلاہ اللہ کلاہءۃ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کی۔ کہا جاتا ہے : اذھب فی کلاءۃ اللہ و اکتلات منھم یعنی حفاظت کی۔
شاعر نے کہا :
ان سلیمی واللہ یکلوھا ضنت بشیء ما کان یرزوھا
دوسرے شاعر نے کہا :
انخت بعیری و اکتلات بعینیہ
کسائی نے اور فراء نے حکایت کیا ہے : قل من یکلوکم لام کے فتحہ اور واو کے سکون کے ساتھ۔ ان دونوں نے من یکلاکم کو دونوں صورتوں میں ہمزہ کی تحفیف کے ساتھ حکایت کیا ہے۔ اور معروف ہمزہ کی تحقیق ہے یہ اکثر کی قرأت ہے اور رہا یکلاکم دو اعتبار سے خطا ہے، یہ نحاس نے ذکر کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
1:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قل من یکلوکم “ یعنی (کون) تمہاری حفاظت کرے گا (آیت) ” ولا ھم منا یصحبون “ یعنی وہ مدد نہیں کئے جائیں گے۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا ھم منا یصحبون “ یعنی وہ مدد نہیں کئے جائیں گے۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قل من یکلوکم “ یعنی (کون) تمہاری حفاظت کرے گا۔
4:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا ھم منا یصحبون “ یعنی وہ پناہ نہیں دیئے جائیں گے۔
5:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا ھم منا یصحبون “ یعنی وہ روکے نہیں…
Read the full tafseer →[ قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [ مَنْ : کون ] [ يَّـكْلَـؤُ : بچاتا ہے ] [ كُمْ : تم لوگوں کو ] [ بِالَّيْلِ : رات میں ] [ وَالنَّهَارِ : اور دن میں ] [ مِنَ الرَّحْمٰنِ : رحمن (کے عذاب) سے ] [ بَلْ : بلکہ ] [ هُمْ : وہ لوگ ] [ عَنْ ذِكْرِ رَبِهِمْ : اپنے رب کے ذکر سے ] [ مُّعْرِضُوْنَ : اعراض کرنے والے ہیں ]
[ ک ل ء ](ف) کَلْأً بچانا۔ حفاظت کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 42]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
رحمن کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں ہے، منکرین دنیاوی عیش و عشرت کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے اور بہرے پکار کو نہیں سنتے
ان آیات میں مخاطبین سے یہ فرمایا ہے کہ دیکھو رات دن گزرتے چلے جا رہے ہیں۔ بتاؤ خالق اور مالک جل مجدہ کے عذاب سے تمہاری کون حفاظت کرتا ہے ؟ یہ استفہام انکاری ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر عذاب بھیج دے تو تمہیں اس کے عذاب سے بچانے والا اور تمہاری حفاظت کرنے والا کوئی بھی نہیں ہے۔ تم بھی اس بات کو جانتے اور مانتے ہو۔ یہ جانتے ہوئے پھر بھی اپنے پروردگار کی یاد سے اور اس کو وحدہ لا شریک لہ ماننے سے اعراض کیے ہوئے ہو۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ معبود حقیقی جل مجدہ کو چھوڑ کر جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–47
بیان انجام استہزاء ببارگاہ رسالت و تہدید عذاب آخرت
وال اللہ تعالیٰ واذاراک الذین کفروا .... الیٰ .... وکفی بنا حسنین۔
(ربط) گزشتہ آیت میں آنحضرت ﷺ کے انتقال پر شماتت کرنے والوں کا جواب تھا اب ان آیات میں ان لوگوں کے انجام بد کو بیان کرتے ہیں جو آنحضرت ﷺ کے ساتھ مسخرہ پن کرتے تھے اور قیامت کا مذاق اڑاتے تھے کہ قیامت کب آئے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ دفعتا آجائے گی اور اس وقت ان کو اپنے استہزاء اور تمسخر کا مزہ معلوم ہوجائے گا۔
چناچہ فرماتے ہیں اور ان عاشقان دنیا اور منکرین آخرت کی حالت یہ ہے کہ یہ کافر جب آپ کو دیکھتے ہیں تو بس آپ ﷺ کو ٹھٹھا اور مذاق ہی بنا لیتے ہیں، یہ بھی ابتلاء الٰہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
29:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ رات دن میں آنے والی مصائب سے تمہیں اللہ ہی محفوط رکھتا ہے اگر وہ چاہے تو تمہارے انکار وعناد پر تمہیں فورًا پکڑ لے۔ ” بَلْ ھُمْ عَنْ ذِکْرِ رَبِّھِمْ مُّعْرِضُوْنَ “ زجر ہے۔ ” اَمْ لَھُمْ اٰلِھَةٌ“ یہ بھی زجر ہے۔ فرمایا دن رات میں حوادث روزگار سے انہیں اللہ کے سوا کون بچاتا ہے ؟ کیا اللہ کے سوا ان کے معبودان باطلہ ان کی حفاظت کرسکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں کیونکہ وہ تو خود اپنی مدد سے بھی عاجز و درماندہ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
ربط آیات :
سورۃ الانبیاء میں بنیادی طور پر تین مسائل کا ذکر ہے یعنی توحید ، رسالت اور معاد۔ اس کے علاوہ اس سورة میں مختلف انبیاء (علیہم السلام) کے طریقہ تبلیغ پر روشنی ڈالی گئی ہے اور ان کی مناجات کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اپنی حوائج اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کس طرح پیش کرتے تھے۔ گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کا ذکر اور کفار ومشرکین کا رد فرمایا۔ اس کے ساتھ ساتھ توحید کے دلائل بھی بیان کیے اور رسالت کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کرنے والوں کو موثر جوابات بھی دیے۔ فرمایا ، یہ لوگ عذاب طلب کرنے میں جلد بازی کرتے ہیں ۔ اگر یہ لوگ اس حالت کو دیکھ لیں جب یہ دوزخ کی آگ کو اپنے چہروں اور پشتوں سے…
Read the full tafseer →قُلْ مَنْ يَّـكْلَـؤُكُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّہَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ 0ۭ بَلْ ہُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّہِمْ مُّعْرِضُوْنَ 42
كلأ
الْكِلَاءَةُ : حفظ الشیء وتبقیته، يقال : كَلَأَكَ الله، وبلغ بك أَكْلَأَ العُمرِ ، واكْتَلَأْتُ بعیني كذا . قال : قُلْ مَنْ يَكْلَؤُكُمْ الآية [ الأنبیاء/ 43] .
والْمُكَلَّأُ : موضع تحفظ فيه السُّفُنُ ، والْكَلَّاءُ : موضع بالبصْرَةِ ، سمّي بذلک لأنهم يَكْلَئُونَ سفنهم هناك، وعبّر عن النّسيئة بِالْكَالِئِ. وروي أنه عليه الصلاة والسلام : «نهى عن الْكَالِئِ بالکالئ» «3» . والْكَلأُ : العِشْبُ الذي يحفظ . ومکان مُكْلَأٌ وكَالِئٌ: يكثر كَلَؤُهُ
( ک ل ء ) الکلاء ۃ
کے معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
1 ؎ الکلائۃ الحراستہ والحفظ یقال کلاہ الیہ کلاۃ ای حفظ و قری یکلوکو بفتح اللام واسکان واویصحبون قال ابن قتیبہ اے لایجیرھم ھم منااحدلان للخیر صاحب الجارو الغرب تقول صحبک اللہ اے حفظک۔ 12 منہ
ترکیب : من استفہامیہ مبتداء یکلؤ کم ای یحفظکم خبر من الرحمن ای من باسہ موضع نصب میں یکلؤ سے ام استفہام انکاری لا یستطیعون جملہ مستانفہ یصحبون مازنی کہتا ہے یہ اصحبت الرجل اذامنعۃ سے ہے نہ صحبت سے بعض کہتے ہیں اس جگہ بمعنی نصرت و معونت ہے۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ آخرت میں ان پر ہر طرف سے عذاب محیط ہوگا آگے سے اور پیچھے سے ‘ یہ اس کو دفع نہ کرسکیں گے۔ اب فرماتا ہے آخرت تو آخرت اگر دنیا میں ان پر رات دن…
Read the full tafseer →قُلْ مَنْ یَّکْلَؤُکُمْ بِالَّیْلَ وَالنَّھَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ ط بَلْ ھُمْ عَنْ ذِکْرِ رَبِّھِمْ مُّعْرِضُوْنَ ۔ (الانبیاء : 42)
(اے پیغمبر ان سے پوچھئے رات اور دن خدائے رحمن کی پکڑ سے کون تمہاری حفاظت کر رہا ہے بلکہ یہ لوگ اپنے رب کے ذکر سے روگردانی کررہے ہیں۔ )
عذاب کا مطالبہ کرنے والوں سے ایک سوال
گزشتہ مضمون کے تسلسل میں فرمایا جارہا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ انھیں عذاب دینے کا فیصلہ کرلے تو انھیں اس کے عذاب سے رات اور دن میں کون بچانے والا ہے۔ کیا انھوں نے اپنے بچائو کا کوئی سامان کر رکھا ہے جس کی وجہ سے یہ بےخوف اور نڈر ہو کر بار بار عذاب کا مطالبہ کررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ہمہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ مشرکین مکہ الرّحمن کے منکر تھے اس لیے یہاں الرّحمن کی صفات کا ذکر کیا گیا ہے۔
منکرین حق کو مختلف الفاظ اور انداز میں انتباہ کیا جا رہا ہے۔ اے پیغمبر ﷺ ! استہزاء کرنے والوں سے پوچھیں کہ کون ہے ؟ جو رات اور دن میں تمہاری نگرانی کرتا ہے، کیا الرّحمن کے سوا کوئی اور ہوسکتا ہے ؟ ظاہر ہے کہ رب رحمن کے سوا کوئی نہیں ہے جو اس سے بڑھ کر تم پر نرمی اور مہربانی کرنے والا ہو۔ الرّحمن کی مہربانی کا نتیجہ ہے کہ تمہاری گستاخیوں کے باوجود دن، رات تمہاری نگرانی اور ضرورتیں پوری کرتا ہے۔ اس کے باوجود لوگ رب کی ذات اور اس کے فرمان سے اعراض کرنے والے ہیں۔ کیا ان کے اور بھی…
Read the full tafseer →دلائلِ قدرت :
42: قُلْ مَنْ یَّکْلَؤُکُمْ (کہہ دیں کہ کون تمہاری کون حفاظت کرے گا) یکلؤ کا معنی حفاظت کرنا۔ بِالَّیْلِ وَالنَّھَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ (رات اور دن کو رحمان سے) یعنی رحمان کے عذاب سے بچانے کیلئے اگر وہ عذاب تمہارے پاس رات یا دن کو آن پہنچے۔ بَلْ ھُمْ عَنْ ذِکْرِ رَبِّھِمْ مُّعْرِضُوْنَ (بلکہ وہ اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرنے والے ہیں) یعنی وہ اس کی یاد سے منہ موڑنے والے ہیں اور اپنے دل میں اس کا خیال بھی نہیں کرتے چہ جائیکہ وہ اس کی پکڑ سے بچتے۔ یہاں تک کہ جب ان کو اس کی طرف سے حفاظت مل جائے گی تو وہ پہچانیں گے کہ محافظ کون ہے۔ تب وہ اس قابل ہونگے کہ ان سے اس کے متعلق سوال کیا…
Read the full tafseer →42۔ قل من یکلوکم ، ، تمہاری کون حفاظت کرتا ہے۔ باللیل والنھار من الرحمن، اگر اس کی طرف سے تم پر عذاب نازل ہوگیا، ابن عباس کا بیان ہے کہ اگر رحمن تم کو عذاب دیناچا ہے گا تو تمہارا بچاؤ کون کرے گا ؟ بل ھم عن ذکر ربھم ، ذکر سے مراد قرآن اور اللہ تعالیٰ کی نصیحت ہے۔ معرضون۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
42۔ 46:۔ اوپر ذکر تھا کہ منکرین قیامت عذاب کی جلدی کرتے تھے ان آیتوں میں فرمایا کہ جب تک وقت نہیں آتا ‘ ہر بلا سے اللہ ہی ان کی نگہبانی کر رہا ہے ‘ ورنہ آدمی کے پیچھے تو رات دن اتنی بلائیں لگی ہوئی ہیں کہ دم بھر بھی اس کا جینا مشکل ہے کیونکہ قحط کے وقت یہ تو ان لوگوں کو تجربہ ہوگیا کہ ان کے بت ایسے عاجز ہیں کہ اللہ کی مدد کے بغیر کسی مصیبت کو ٹال نہیں سکتے، یہ لوگ قرآن کی نصیحت کو ٹال دیتے ہیں ‘ ورنہ اس تجربہ کے بعد یہ لوگ قرآن کی نصیحت کے پابند ہوجاتے اور عذاب کی جلدی نہ کرتے ‘ پھر فرمایا کہ ان کو اور ان کے بڑوں کو وقت مقررہ تک اللہ نے چھوڑ رکھا ہے نہیں تو ان کے کرتوت تو ایسے تھے کہ ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
آیت 42-44
اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کی بےبسی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے جنہوں نے اللہ کے بغیر دوسرے معبود بنا لئے۔۔۔. کہ وہ اپنے رب رحمان کے محتاج ہیں جس کی بےپایاں رحمت شب و روز ہر نیک اور بد پر سایہ کناں ہے، چناچہ فرمایا : (قل من یکلوکم) یعنی کون تمہاری حفاظت کرتا ہے (بالیل) ” رات کو۔ “ یعنی جب تم اپنے بستروں میں سو رہے اور اپنے حواس سے محروم ہوتے ہو (والنھار) ” اور دن کو۔ “ یعنی تمہارے زمین میں پھیل جانے اور تمہاری غفلت کے وقت (من الرحمن) ” رحمن کے مقابلے میں۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کون تمہاری حفاظت کرتا ہے اس کے بغیر کوئی ہے جو تمہاری حفاظت کرتا ہو ؟ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی تمہاری…
Read the full tafseer →56 خدائے رحمان کی گرفت و پکڑ سے کوئی بھی نہیں بچا سکتا : سو استفہام تنبیہ و توبیخ کے طور پر فرمایا گیا۔ " بھلا کون ہے جو خدائے رحمن سے تمہاری حفاظت کرسکے ؟ "۔ اور اس کی پکڑ اور عذاب سے تمہیں بچا سکے ؟ ظاہر ہے کہ کوئی بھی ایسا نہیں سوائے اس کی رحمت بیکراں کے۔ تو پھر یہ کس قدر ظلم اور کتنی بڑی ناانصافی ہے کہ انسان اسی خدائے رحمن اور اس کی عبودیت اور عبادت و بندگی سے منہ موڑے جس کی رحمت و عنایت میں یہ سرتاپا ڈوبا ہوا ہے ؟ سو یہ سوال تقریع و توبیخ اور ان لوگوں کے ضمیروں کو جھنجھوڑنے کیلئے ہے کہ جس خدائے رحمن کی رحمتوں میں تم لوگ سر تا پا ڈوبے ہوئے ہو اور جو محض اپنی رحمت و عنایت سے تمہیں ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–47
حضور ﷺ سے کفار کی بدتمیزی اور ان کے لیے عذاب کی خبر
تشریح : مندرجہ بالا آیات میں شروع میں ہی اللہ رحمن و رحیم اپنے آخری رسول ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ کو ان لوگوں کی حرکتوں ‘ بدتمیزیوں سے ہرگز پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ کافر شخص یہی کرسکتا ہے کہ رسول کا مذاق اڑائے کیونکہ رسول ہمیشہ کفر اور برائی سے منع کرتا ہے۔ اسی لیے وہ رسول کے مخالف ہوجاتے ہیں اور ہر صورت رسول کو تنگ کرتے ہیں کیونکہ وہ کفر و شرک میں اس قدر پھنس چکے ہوتے ہیں کہ وہ اللہ کے ذکر سے ہی دور بھاگتے ہیں اور پھر اسی لیے ہر وقت اس عذاب کے مطالبہ کرتے رہتے ہیں جس سے آپ انہیں ڈراتے ہیں۔ اس سے ایک تو ان کی حق سے نفرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–50
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
ان سے فرمادیجیے کہ انہیں اللہ کے عذاب سے کوئی بھی نہیں بچا سکتا اور نہ ہی شب روز کوئی ان کی نگہبانی کر رہا ہے یہ تو صرف اللہ جل جلالہ کی رحمانیت ہے جس کے صدقے یہ دنیا کی نعمتیں حاصل کر رہے ہیں حالانکہ یہ اس کی یاد تک سے منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔
(رحمانیت)
پہلے گذر چکا ہے کہ رحمانیت وہ کیفیت ہے جو دار دنیا میں انسانوں کو وجود ، عمریں ، رزق وغیرہ عطا کرتی ہے اسی لیے باقی مخلوق میں سے کوئی ذکر سے غافل ہو تو اس کی موت واقع ہوجاتی ہے مگر انسان جب تک فرصت دیا گیا ہے ظاہری بدن سے ضرور زندہ رہتا ہے اگرچہ اندر سے یہ بھی مردہ ہی ہوجاتا ہے کہ روح کی حیات کی بنیاد تو ایمان ہے مگر یہ…
Read the full tafseer →ف 2 ۔ اور تخویف عذاب اخروی سے تھی۔ اب یہاں تخویف عذاب دنیوی سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم برآن اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہو۔ (کبیر)3 ۔ یعنی رات اور دن کے اوقات میں خدا ہی ان کی حفاظت کرتا ہے مگر یہ ہیں کہ اس کی یاد یا اس کی نصیحت سے بھاگتے ہیں۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(21:42) یکلؤکم۔ یکلؤ مضارع واحد مذکر غائب کلاء ۃ مصدر باب فتح۔ سمع کم ضمیر مفعول جمع مذکرحاضر۔ وہ تمہاری حفاظت کرے گا۔ الکلاء ۃ کے معنی کسی چیز کی حفاظت کرنا اور اسے باقی رکھنا کے ہیں۔ کلأک اللہ۔ اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں محفوظ رکھے۔ المکلأ گودی۔ ہر وہ مقام جہاں کشتیوں کو محفوظ رکھا جاسکے۔
من یکلؤکم بالیل والنھار۔ کون تمہاری نگہبانی کرسکتا ہے رات کو دن یا دن کے وقت خدائے رحمان سے ۔ ک ل ء مادہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–47
لغات القرآن آیت نمبر 42 تا 47
یکلو حفاظت کرتا ہے۔ بچاتا ہے۔ معرضون منہ پھیرنے والے۔ تمنع بچاتا ہے۔ روکتا ہے۔ طال طویل ہوگیا۔ لمبا وہ گیا۔ ننقص ہم گھٹاتے ہیں۔ الصم بہرے۔ نفحۃ لپٹ، شعلہ۔ الموازین (میزان) ترازوئیں۔ القسط انصاف، عدل مثقال وزن۔ حبۃ زرہ، ایک دانہ۔ خردل رائی۔ حاسبین حساب لینے والے۔
تشریح : آیت نمبر 42 تا 47
اللہ نے اپنے فضل و کرم سے قریش کو عرب میں ایک خاص مقام اور شدید بدامنی اور قتل و غارت گری کے دور میں بھی امن و سکون عطا کر رکھا تھا۔ وہ اللہ ان کو ہر طرح کی مشکلات، مصیبتوں اور پریشانیوں سے بچاتا رہتا تھا۔ ان کے باپ دادا کو ہر طرح کا راحت و آرام اور بہترین اسباب دے رکھتے تھے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
رسول کریم ﷺ کی نصیحت۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جب تک وقت نہیں آتا ہر بلا سے اللہ ہی اس کی نگہبانی کررہا ہے ورنہ آدمی کے پیچھے تورات دن میں اتنی بلائیں لگی ہوئی ہیں کہ دم بھر بھی اس کا جینا مشکل ہے کیونکہ قحط کے وقت یہ تو ان لوگوں کو تجربہ ہوگیا کہ ان کے بت ایسے عاجز ہیں کہ اللہ کی مدد کے بغیر کسی مصیبت کو ٹال نہیں سکتے لیکن یہ لوگ قرآن کی نصیحت کو ٹال دیتے ہیں ورنہ اس تجربہ کے بعد یہ لوگ ان کی نصیحت کے پابند ہوجاتے اور عذاب کی جلدی نہ کرتے پھر فرمایا کہ ان اور ان کے بڑوں کو وقت مقررہ تک اللہ نے چھوڑ رکھا ہے نہیں تو ان کے کرتوت ایسے تھے کہ ان کانشان بھی ان کو دین اسلام کا برحق ہونا ثابت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–43
[26] یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اگر انسان کی طبیعت میں جلد بازی ہے تو قرآن اس خاصے کی مذمت نہیں کرتا کیونکہ اس کے نزدیک فطرت انسانی کا کوئی خاصہ بھی برائی کے لئے نہیں ہے۔ چناچہ سورة التین میں فرمایا ( لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْٓ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ ۡ) 95 ۔ التین :4) (ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا) چناچہ ضروری تھا کہ اس کی طبیعت میں جلدبازی بھی ہوتی جو اس کے اندر سعی عمل کا فوری ولولہ پیدا کرتی اور اس کی ساری سرگرمیوں کے لئے محرک کا کام دیتی۔ لیکن طبیعت کے اور خواص کی طرح یہاں بھی ٹھوکر اصل خاصے کے تقاضے میں نہیں لگتی ہے بلکہ اس کے بےمحل اور بےاعتدالانہ استعمال میں لگتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
صرف خدا محافظ ہے :
(ف 2) حقیقت یہ ہے کہ یہ محض اللہ کی مہربانی ہے ، کہ انسان باوجود اس درجہ نافرمانیوں کے سطح زمین پر دنداناتاپھرتا ہے ورنہ کائنات کا ذرہ ذرہ ہمارے لئے مصائب و حوادث کا عظیم الشان پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے ، یہی پانی جو اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے ، اگر سیلاب کی شکل اختیار کرلے تو ہمارے لئے کتنا عذاب دہ ہوجاتا ہے ، ہوا کے ٹھنڈے ٹھنڈے فرحت افزا جھونکے اگر بادتند میں تبدیل ہوجائیں ، تو کس درجہ تباہی پھیل جاتی ہے ، اور آگ جس سے روزانہ ہم طرح طرح کے کھانے پکا کر نوش جان کرتے ہیں ، اگر پھیل جائے تو آن کی آن میں کئی گھر پھونک کے راکھ بنادیتی ہے ۔
اس لئے اللہ تعالیٰ مشرکین سے…
Read the full tafseer →-42 اے پیغمبر ! آپ ان لوگوں سے فرمائیے وہ کون ہے جو رات کو اور دن کو رحمٰن کے عذاب سے تم ہاری حفاظت کرتا ہے بلکہ بات یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے پروردگار کی یاد سے ہی روگردانی کرتے ہیں اثبات نبوت کے بعد پھر توحید کے دلائل بیان فرماتا ہے۔ اے پیغمبر ! آپ ان سے یہ فرمائیے کہ رات اور دن میں رحمٰن کی گرفت اور اس کے عذاب سے تمہارا بچائو کون کرتا ہے اصل واقعہ یہ ہے کہ یہ تو اپنے پروردگار کے ذکر اور اس کی توحید سے روگردانی ہی کرتے رہتے ہیں۔
ظاہر ہے کہ رحمٰن کی گرفت سے سوائے رحمان کے کون بچا سکتا ہے اتنی صاف اور کھلی ہوئی بات کے بعد بھی یہ لوگ توحید کے قائل نہیں ہوتے اور توحید کے قائل کس طرح ہوں واقعہ یہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
ف 1۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ کفر موجب عذاب ہے، پس اگر دنیا میں وقوع نہ ہو تو آخرت میں ہوگا۔
Read the full tafseer →ان کے مذاق کے باوجود ان کی نگرانی کون کر رہا ہے ؟ :
42۔ اس وقت جب یہ مذاق اڑا رہے ہیں اور استہزاء کی نئی نئی صورتیں اختیار کر رہے ہیں تو وہ کون ہے جس نے ان کو اس طرح کرنے کی ڈھیل دے رکھی ہے ؟ وہی خدائے رحمن ‘ جس کو ماننے کے لئے یہ تیار نہیں اور یہ اس کی رحمانیت کا تقاضا ہے کہ ان کو ڈھیل پر ڈھیل دی جاری ہے کیوں ؟ اس لئے کہ انکو دودھ کی طرح اچھی طرح ہلایا جائے اور کام کی چیز انہی میں سے جو مکھن کے طور پر ان سے الگ کرلی جائے گی تو ان کو چھاچھ کی طرح بیکار کردیا جائے گا ۔ اس حکمت کے تحت رب کریم نے یہ ڈھیل کا قانون مقرر کردیا ہے اور کفر کرنے والوں کو فورا نہیں پکڑ لیا جاتا کہ ان بےرخوں کے اندر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–46
Haste is undesirable
خُلِقَ الْإِنسَانُ مِنْ عَجَلٍ (Man is made of haste. - 21:37). عَجَل ('ajal) means haste or hurry. The word is used in situations when one desires things to happen before their time, and this trait is bad by its very nature. In another place also the word is used to denote human weakness. For instance وَكَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا i.e. Man is prone to haste - 17:11, meaning that he is very impatient. When Sayyidna Musa (علیہ السلام) went to the mount Tur in a hurry leaving his people behind, he was censured by Allah Ta` ala.
Prophets (علیہم السلام) and the devout people…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
43. That is to say, who is there to protect and save you from the scourge of Allah if you are suddenly visited by it any time during the night or day.
Read the full tafseer →