Explained with ayahs 38–40
خود عذاب کے طالب لوگ
عذاب الٰہی کو، قیامت کے آنے کو یہ لوگ چونکہ محال جانتے تھے اس لئے جرات سے کہتے تھے کہ بتاؤ تو سہی تمہارے یہ ڈراوے کب پورے ہوں گے ؟ انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ تم اگر سمجھ دار ہوتے اور اس دن کی ہولناکیوں سے آگاہ ہوتے تو جلدی نہ مچاتے اس وقت عذاب الٰہی اوپر تلے سے اوڑھنا بچھونا بنے ہوئے ہونگے، طاقت نہ ہوگی کہ آگے پیچھے سے اللہ کا عذاب ہٹاسکو۔ گندھک کا لباس ہوگا جس میں آگ لگی ہوئی ہوگی اور کھڑے جل رہے ہوں گے، ہر طرف سے جہنم گھیرے ہوئے ہوگی۔ کوئی نہ ہوگا جو مدد کو اٹھے جہنم اچانک دبوچ لے گی اس وقت حیران وششدر رہ جاؤ گے مبہوت اور بیہوش ہوجاؤ گے، کوئی حیلہ نہ ملے گا کہ اسے دفعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
سورة الْاَنْبِیَآء 41
اصل میں خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن کا لفظی ترجمہ ہے " انسان جلد بازی سے بنایا گیا ہے، یا پیدا کیا گیا ہے "۔ لیکن یہ لفظی معنی اصل مقصود کلام نہیں ہیں۔ جس طرح ہم اپنی زبان میں کہتے ہیں فلاں شخص عقل کا پتلا ہے، اور فلاں شخص حرفوں کا بنا ہوا ہے، اسی طرح عربی زبان میں کہتے ہیں کہ وہ فلاں چیز سے پیدا کیا گیا ہے، اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ فلاں چیز اس کی سرشت میں ہے۔ یہی بات جس کو یہاں خُلِقَ الْاِنْسَنُ مِنْ عَجَلٍ کہہ کر ادا کیا گیا ہے، دوسری جگہ وَکَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا، " انسان جلد باز واقع ہوا ہے، " (بنی اسرائیل آیت 11) کے الفاظ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–46
جلد بازی مذموم
خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ ، عجل بمعنے عجلت اور جلدی کے ہے جس کی حقیقت کسی چیز کو اس کے وقت سے پہلے طلب کرنا ہے اور یہ وصف فی نفسہ مذموم ہے قرآن کریم میں دوسری جگہ بھی اس کو انسانی کمزوری کے طور پر ذکر فرمایا ہے۔ وَكَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا یعنی انسان بڑا جلد باز ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ جب کوہ طور پر اپنی قوم سے آگے بڑھ کر حق تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو وہاں بھی اس عجلت پر عتاب ہوا اور انبیاء و صلحاء کے بارے میں جو مسارعت اور مسابقت فی الخیرات کو بطور مدح کے ذکر کیا گیا ہے وہ جلد بازی اور عجلت کے مفہوم میں داخل نہیں۔ کیونکہ وہ وقت سے پہلے کسی چیز کی طلب نہیں بلکہ وقت پر…
Read the full tafseer →فرمایا کہ وہ جب آئے گی تو دقت بتا کر نہیں آئے گی۔ اس کا صحیح وقت نہ کسی کو معلوم ہے نہ معلوم ہوسکتا ہے۔ اس وجہ سے یہ نہ پوچھو کہ وہ کب آئے گی ! وہ جب اس کا وقت آجائے گا اچانک آدھمکے گی۔ اس وقت نہ اس کا امکان ہوگا کہ وہ اس کو دفع کرسکیں اور نہ ان کو اس کے بعد کوئی مہلت ہی دی جائے گی کہ وہ ذرا دم لے لیں یا تو بہ و اصلاح کر کے اس سے چھٹکارا حاصل کرسکیں۔
Read the full tafseer →40۔ 1 یعنی انھیں کچھ سجھائی نہ نہیں دے گا کہ وہ کیا کریں ؟
40۔ 2 کہ وہ توبہ و اعتذار کا اہتمام کرلیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–43
20: جب آنحضرت ﷺ دنیا یا آخرت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے تھے تو یہ لوگ اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے تھے کہ وہ عذاب ابھی لے آؤ۔ ان آیتوں میں اس کا جواب دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
لویعلم الذین کفروا۔۔۔۔۔۔ ماکانوا بہ یستھزء ون (93 : 14) ”
اگر انکو علم ہوجائے کہ ان کی حالت کیا ہوگی ‘ تو ان کا رویہ یہ نہ ہوتا ‘ جواب ہے۔ یہ عذاب میں نہ جلدی کا مطالبہ کرتے اور نہ یہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مذاق کرتے۔ ان کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اس وقت ہوگا کیا۔ وہاں ان کی حالت یہ وہگی کہ ہر طرف سے آگے کے شعلے انہیں نوچ رہے ہوں گے ‘ جھلسا رہے ہوں گے اور یہ اپنے آپ کو بچانے کی نااکم کوششیں کررہے ہوں گے ‘ قرآن اس کی تصویر اس طرح کھینچتا ہے کہ چہروں پر شعلے حملہ کریں گے ‘ پیٹھوں پر کریں گے اور یہ کسی طرح کا دفاع نہ کرسکیں گے بلک یہ آگ ہمہ جہست ان پر شعلہ بار ہوگی اور یہ کسی شعلے کو رد نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
6 یعنی اگر ان پر حقیقت منکشف ہوجائے اور اس ہولناک گھڑی کو ٹھیک ٹھیک سمجھ لیں تو کبھی ایسی درخواست نہ کریں۔ یہ باتیں اس وقت بےفکری میں سوجھ رہی ہیں، جب وہ وقت سامنے آجائے گا کہ آگے پیچھے ہر طرف سے آگ گھیرے ہوگی تو نہ کسی طرف سے اس کو دفع کرسکیں گے، نہ کہیں سے مدد پہنچے گی، نہ مہلت ملے گی، نہ پہلے سے اس کا کامل اندازہ ہوگا۔ اس کے اچانک سامنے آجانے سے ہوش باختہ ہوجائیں گے تب پتہ چلے گا کہ جس چیز کی ہنسی کرتے تھے وہ حقیقت ثابتہ تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
آیت 40 بَلْ تَاْتِیْہِمْ بَغْتَۃً فَتَبْہَتُہُمْ ”
یعنی ان کے ہوش کھو دے گی۔ یہ وہی لفظ ب ہ ت ہے جو البقرہ : 258 میں نمرود کے بارے میں آیا ہے : فَبُہِتَ الَّذِیْ کَفَرَ ط ”تو یہ سن کر وہ کافرّ ہکا بکا رہ گیا۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
36 یعنی ان کے اس مطالبہ کی وجہ صرف یہ ہے کہ جس آگ کے عذاب سے انھیں ڈرایا جاتا ہے اس پر ان کا یقین ہی نہیں۔ اگر ان پر یہ حقیقت منکشف ہوجائے اور وہ اس ہولناک گھڑی کو ٹھیک ٹھیک سمجھ لیں تو کبھی ایسی درخواست نہ کریں۔ پھر جب وہ وقت سامنے آجائے گا اور انھیں آگے سے پیچھے سے، دائیں سے بائیں سے، اوپر سے، نیچے سے غرض ہر طرف سے آگ گھیرے ہوئے ہوگی تو اس سے بچاؤ کی انھیں کوئی صورت نظر نہ آئے گی۔ اور آج جو کچھ یہ باتیں بنا رہے ہیں اس دن ایسے حواس باختہ ہوں گے کہ ان میں سے کوئی بات بھی انھیں یاد نہ رہے گی۔
Read the full tafseer →55۔ وہ عذاب شدید اگر ان کے معلوم و متعین وقت پر آتا، جب بھی کچھ غنیمت تھا، وہ تو بالکل دفعۃ نازل ہوگا کہ وہ بالکل ہکا بکا رہ جائیں گے اور کچھ ان کے بنائے بن بھی نہ پڑے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–41
آیت نمبر 30 تا 41
ترجمہ : کیا کافر یہ نہیں جانتے کہ آسمان اور زمین (منہ) بند تھے ؟ اَوَلَمْ میں واؤ اور ترک واؤ دونوں ہیں رَتَقًا بمعنی سَدًّا ہے اور سَدًّا بمعنی مَسْدُوْدًا ہے پھر ہم نھے ان کو کھول دیا یعنی سات آسمان اور سات زمین بنادیں یا فتق سماء کا مطلب یہ ہے کہ آسمان سے بارش نہیں ہوتی تھی پھر بارش ہونے لگی، اور فتق ارض کا مطلب یہ ہے کہ زمین اگاتی نہیں تھی پھر اگانے لگی اور ہم نے آسمان سے برسنے والے اور زمینی چشموں سے نکلنے والے پانی سے ہر جاندار کو بنایا گھاس وغیرہ کو لہٰذا پانی ہر جاندار کے لئے سبب حیات ہے پھر بھی میری توحید پر ایمان نہیں لاتے اور ہم نے زمین پر ثابت رہنے والے پہاڑ…
Read the full tafseer →بل تاتیہم بغتۃ فتبہتہم فلا یستطیعون ردہا ولا ہم ینظرون۔ بلکہ وہ ساعت ان پر اچانک
آ پڑے گی اور ان کو حیران بنا دے گی پھر نہ وہ اس کو لوٹا سکیں گے اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔
تَاْتِیِہِمْکی فاعلی ضمیر نار کی طرف راجع ہے یا وعد کی طرف یا حین کی طرف۔ معنوی اعتبار سے وعدہ بمعنی مدت مقررہ اور حین بمعنی ساعت ہے اس لئے مؤنث کی ضمیر ان کی طرف لوٹ سکتی ہے۔
بَغْتَۃً اچانک ناگہاں۔ وَلاَ ہُمْ یَنْظَرُوْنَیعنی جس طرح دنیا میں مہلت دی گئی ہے اس وقت مہلت نہیں دی جائے گی۔
لاَ ہُمْ یُنْصَرُوْنَاور لاہُمْ یَنْظَرُوْنَمیں ھُم کو فعل سے پہلے ذکر کرنے سے یہ بات معلوم ہوئی کہ صرف کافروں کا کوئی مددگار نہ ہوگا اور…
Read the full tafseer →(40) بلکہ قیامت کا عذاب ان پر ایک دم سے آئے گا سو ان کے ہوش و حواس بھلا دے گا پھر اپنے اوپر سے نہ اس کو ہٹانے کی ان کو قدرت ہوگی اور نہ ان کو عذاب کے بارے میں مہلت دی جائے گی۔
Read the full tafseer →بَلْ تَاْتِيْهِمْ بَغْتَةً۔۔ : ”بلکہ وہ ان کے پاس اچانک آئے گا۔“ ”تَاْتِيْهِمْ“ کی ضمیر سے مراد قیامت ہے، کیونکہ آگ کا چاروں طرف سے گھیرنا قیامت کے دن ہوگا۔ اچانک آنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے آنے سے پہلے اس کا وقت معلوم ہونے کی کوئی صورت ہی نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ نے وہ کسی کو بتایا ہے۔ دیکھیے سورة طٰہٰ (15) ، اعراف (187) اور نازعات (42 تا 46) نہ قیامت آہستہ آہستہ بتدریج آئے گی کہ اس کے آنے کا علم ہوجائے۔ (بقاعی) بلکہ اچانک آئے گی، اسی لیے اس کا ایک نام ”اَلسَّاعَۃُ“ ہے، اس لیے کہ وہ ایک ساعت (گھڑی) میں قائم ہوجائے گی۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (وَلَتَقُوْمَنَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لو یعلم الذین کفروا یہاں علم بمعنی معرفت ہے جو مفعول ثانی کا تقاضا نہیں کرتا جیسے : لا تعلمونھم، اللہ یعلمھم (الانفال :60) اور لو کا جواب محذوف ہے، یعنی اگر وہ اس وقت کو جان لیتے جس میں وہ اپنے چہروں سے اور اپنی پیٹھوں سے آگ کے شعلوں کو نہ روک سکیں گے اور نہ ان کی مدد کی جائے گی اگر وہ اسکو جان لیتے تو وعید کے لیے جلدی نہ کرتے۔ زجاج نے کہا : اگر وہ جان لیتے تو وعدہ کی سچائی کو جان لیتے۔ بعض نے فرمایا : اگر وہ اسے جان لیتے تو وہ کفر پر قائم نہ رہتے اور ایمان لے آتے۔ کسائی نے کہا : یہ قیامت کے وقوع کے تحقیق پر تنبیہ ہے، یعنی اگر وہ علم یقین سے جان لیتے تو جان لیتے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
1:۔ بخاری اور مسلم نے عدی بن حاتم (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے کہ عنقریب اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن (اس حال میں) کلام فرمائیں گے کہ اس کے اور ان کے درمیان کوئی پردہ نہ ہوگا اور نہ کوئی ترجمان ترجمانی کرے گا پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا میں نے تجھ کو مال نہ دیا تھا ؟ کہے گا کیوں نہیں (آپ نے مال دیا تھا) پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا میں نے تیری طرف رسول نہ بھیجا تھا ؟ وہ کہے گا کیوں نہیں (آپ نے رسول بھیجا تھا) پس بندہ اپنے داہنی طرف دیکھے گا تو آگ کے سوا کچھ نہ دیکھے گا اور اپنے بائیں طرف دیکھے گا تو آگ کے سوا کچھ نہ دیکھے گا پس چاہئے کہ تم میں سے…
Read the full tafseer →[ بَلْ تَاْتِيْهِمْ : بلکہ وہ (یعنی قیامت) پہنچے گی ان کے پاس ] [ بَغْتَةً : بےسان و گمان ] [ فَتَبْهَتُهُمْ : تو وہ مبہوت کر دے گی ان کو ] [ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ : پھر انھیں استطاعت نہیں ہوگی ] [ رَدَّهَا : اس کو لوٹانے کی ] [ وَلَا هُمْ : اور نہ ان کو ] [ يُنْظَرُوْنَ : مہلت دی جائے گی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
یہاں ان کے جواب میں فرمایا (لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا حِیْنَ لَا یَکُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْھِھِمُ النَّارَ وَ لَا عَنْ ظُھُوْرِھِمْ وَ لَا ھُمْ یُنْصَرُوْنَ بَلْ تَاْتِیْھِمْ بَغْتَۃً فَتَبْھَتُھُمْ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّھَا وَ لَا ھُمْ یُنْظَرُوْنَ ) (اگر کافروں کو اس وقت کی خبر ہوتی جب وہ نہ اپنے چہروں سے آگ کو ہٹا سکیں گے اور نہ اپنی پشتوں سے اور نہ ان کی مدد کی جائے گی، بلکہ وہ آگ ان کے پاس اچانک آجائے گی سو وہ انہیں بد حواس بنا دے گی پھر وہ اسے ہٹا نہ سکیں گے اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی) یعنی جب وہ لوگ دوزخ کی آگ کی لپیٹ میں اور اس کی لپٹوں میں گھریں گے اگر انہیں اس وقت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–47
بیان انجام استہزاء ببارگاہ رسالت و تہدید عذاب آخرت
وال اللہ تعالیٰ واذاراک الذین کفروا .... الیٰ .... وکفی بنا حسنین۔
(ربط) گزشتہ آیت میں آنحضرت ﷺ کے انتقال پر شماتت کرنے والوں کا جواب تھا اب ان آیات میں ان لوگوں کے انجام بد کو بیان کرتے ہیں جو آنحضرت ﷺ کے ساتھ مسخرہ پن کرتے تھے اور قیامت کا مذاق اڑاتے تھے کہ قیامت کب آئے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ دفعتا آجائے گی اور اس وقت ان کو اپنے استہزاء اور تمسخر کا مزہ معلوم ہوجائے گا۔
چناچہ فرماتے ہیں اور ان عاشقان دنیا اور منکرین آخرت کی حالت یہ ہے کہ یہ کافر جب آپ کو دیکھتے ہیں تو بس آپ ﷺ کو ٹھٹھا اور مذاق ہی بنا لیتے ہیں، یہ بھی ابتلاء الٰہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
27:۔ شکوی ” لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ “ تا ” وَ لَا ھُمْ یُنْظَرُوْنَ “ جواب شکوی مع تخویف اخروی مشرکین ماننے کے بجائے عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن نادانوں کو پتہ نہیں لیکن نادانوں کو پتہ نہیں جب اللہ کا عذاب آجائے گا تو وہ اپنے کو اس سے ہرگز نہیں بچا سکیں گے۔ ” فَتَبْھَتُھُمْ “ ان کو حواس باختہ اور حیران و پریشان کردے گی۔ قال الفراء (فَتَبْھَتُھُمْ ) ای تحیرھم (قرطبی ج 11 ص 290) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–41
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں اور مشرکوں کا رد فرمایا دلائل قدرت کا ذکر کیا۔ ان میں سے ایک دلیل یہ تھی کہ آسمان اور زمین ابتداء میں اکٹھے تھے ، بعد میں ان کو الگ الگ کردیا گیا۔ پھر فرمایا کہ زمین پر بوجھل پہاڑ گاڑھ دیئے تاکہ یہ ڈولنے نہ پائے۔ پھر ان پہاڑوں میں کشادہ راستے بنادیے اور آسمان کو ایک محفوظ چھت بنادیا۔ فرمایا کہ لوگ ان نشانیوں کو دیکھ کر توحید خداوندی کے قائل نہیں ہوتے بلکہ ان نشانات قدرت سے اعراض کرتے ہیں۔
اب آج کے درس میں اللہ نے آسمان اور زمین پیدا کیے گئے بعض نشانات قدرت کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وھولاذی خلق الیل والنھار اللہ تعالیٰ کی ذات وہی ہے جس نے رات…
Read the full tafseer →بَلْ تَاْتِيْہِمْ بَغْتَۃً فَتَبْہَتُہُمْ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ رَدَّہَا وَلَا ہُمْ يُنْظَرُوْنَ 40
أتى
الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه
( ا ت ی ) الاتیان
۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے
بغت
البَغْت : مفاجأة الشیء من حيث لا يحتسب . قال تعالی: لا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً [ الأعراف/ 187] ، وقال : بَلْ تَأْتِيهِمْ بَغْتَةً [ الأنبیاء/ 40] ، وقال : تَأْتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً [يوسف/ 107]
( ب غ ت) البغت
( ف) کے معنی کسی چیز کا یکبارگی ایسی جگہ سے ظاہر ہوجانا کے ہیں ۔ جہاں سے اس کے ظہور کا گمان تک بھی نہ ہو ۔ قرآن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
1 ؎ یعنی آگے پیچھے ہر طرف سے آگ گھیرے ہوگی نہ اس کو سامنے سے دور کرسکیں گے نہ پیچھے سے۔ 12 حقانی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
لَوْیَعْلَمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا حِیْنَ لاَ یَکُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْھِھِمُ النَّارَ وَلاَ عَنْ ظُہُوْرِ ھِمْ وَلاَ ھُمْ یُنْصَرُوْنَ ۔ بَلْ تَاْ تِیْھِمْ بَغْتَۃً فَتَبْھَتُھُمْ فَلاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّھَا وَلاَ ھُمْ یُنْظَرُوْنَ ۔ (الانبیاء : 39، 40)
(کاش یہ کفر کرنے والے جان لیتے اس وقت کو جب وہ روک نہ سکیں گے اپنے چہروں سے عذاب نار کو، نہ اپنی پشتوں سے اور نہ ان کی کسی طرف سے مدد کی جائے گی۔ بلکہ وہ اچانک ان پر آدھمکے گی، سو انھیں بدحواس کردے گی پھر وہ نہ اسے رد کرسکیں گے اور نہ ہی انھیں مزید مہلت دی جائے گی۔ )
مخالفین کے رویئے پر اظہارِ حسرت
نہایت حسرت کے انداز میں فرمایا جارہا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
فہم القرآن
ربط کلام : جس عذاب کے لیے کفار جلدبازی کا مظاہرہ کرتے ہیں اس کی ہولناکیوں کی ایک جھلک۔
رسول معظم ﷺ سے کفار عذاب اور قیامت کا بار بار مطالبہ کرتے تھے۔ عذاب کی ہولناکیوں کا ذکر کرکے کفار کو ان کے مطالبہ سے یہ کہہ کر ڈرایا اور روکا جا رہا ہے کہ اگر ان کو معلوم ہوجائے کہ رب ذوالجلال کا عتاب اور عذاب کس قدر سخت اور شدید تر ہوتا ہے تو یہ بھول کر بھی ایسا مطالبہ نہ کریں۔ انھیں پتہ ہونا چاہیے کہ جب ان پر رب ذوالجلال کا عذاب نازل ہوگا تو وہ اپنے آپ کو بچانا چاہیں تو ہرگز بچا نہیں سکیں گے۔ اے پیغمبر ﷺ ! آپ سے پہلے انبیاء کے ساتھ بھی مذاق ہوتا رہا لیکن ایک وقت ایسا آیا کہ جب مذاق کرنے والوں…
Read the full tafseer →40: بَلْ تَاْ تِیْھِمْ (بلکہ ان پر آپڑے گی) قیامت۔ بَغْتَۃً (اچانک) فَتَبْھَتُھُمْ (پس ان کو حیران کر دے گی۔ ) اس کو روک نہ سکیں گے بلکہ اچانک آکر ان پر غلبہ پالے گی۔ فَـلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّھَا (وہ اس کو واپس لوٹانے کی طاقت نہ رکھیں گے) اس کے دفع کرنے کی ان میں طاقت نہ ہوگی۔ وَ لَاھُمْ یُنْظَرُوْنَ (اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔ )
Read the full tafseer →40۔ بل تاتیھم، ، قیامت کی گھڑی ان پر آپڑے گی۔ بغتہ، اچانک ناگہاں، فتبھتھم، اس وقت یہ حیران رہ جائیں گے جیسے کہا، جاتا ہے فلاں متحیر پریشان ہے۔ یعنی وہ حیران ہے۔ فلایستطیعون ردھا ولاھم ینظرون، اور ان کو مہلت نہیں دی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–41
36۔ 41:۔ تفسیر سدی اور تفسیر ابن ابی حاتم 4 ؎ میں چند روایتوں سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے ‘ اس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن شریف میں مشرکوں کے بتوں کی مذمت کی آیتیں جو نازل ہوتی تھیں اور آنحضرت ﷺ وہ آیتیں مشرکوں کو پڑھ کر سناتے تھے تو مشرک لوگ اپنے بتوں کی مذمت سن کر دل میں تو بہت چڑتے اور برا مانتے تھے اور ظاہر میں آنحضرت ﷺ کو مسخراپن میں اڑاتے تھے ‘ چلتے پھرتے جہاں کہیں آنحضرت ﷺ کو دیکھتے تو ابوجہل وغیرہ آپس میں آنحضرت ﷺ کو چھیڑنے کو کہتے تھے ‘ کیا قریش کی ہدایت کو یہی نبی آئے ہیں جو ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرما دیا کہ جو عذاب ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–41
آیت 36-41
یہ ان کے کفر کی شدت کی طرف اشارہ ہے۔ مشرکین جب رسول اللہ ﷺ کو دیکھتے تو آپ ﷺ کا تمسخر اڑاتے اور کہتے ( اھذا الذی یذکر الھتکم) یعنی ان کے زعم کے مطابق یہی ہے جو تمہارے معبودں کی تحقیر کرتا ہے، ان کو سب و شتم اور ان کی مذمت کرتا ہے اور ان کی برائیاں بیان کرتا ہے اس کی پیروا کرو نہ اس کی طرف دھیان دو ۔۔۔۔ یہ سب کچھ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کا استہزاء اور آپ ﷺ کی تحقیر ہے جو آپ ﷺ کی صفات کمال شمار ہوتی ہیں۔ آپ ﷺ وہ اکمل افضل ہستی ہیں جس کے فضائل و مکارم میں اخلاص اللہ، غیر اللہ کی عبادت مذمت اور عبادت کے اصل مقام و مرتبہ کا ذکر شامل ہے۔
ذلت و استہزاء تو ان کفار کے لئے ہے جن میں ہر قسم کے…
Read the full tafseer →52 قیامت بالکل اچانک آئے گی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ قیامت کی وہ ہولناک گھڑی اچانک آپہنچے گی اور اپنے وقت پر اس نے بہرحال آ کر رہنا ہے۔ خواہ کوئی مانے یا نہ مانے۔ چاہے یا نہ چاہے۔ سو اس وقت ان لوگوں کا حال بہت برا ہوگا جنہوں نے زندگی بھر اس کا انکار کیا ہوگا۔ ایسے لوگوں کے ہوش اس وقت اڑ جائیں گے اور ان کی حسرت و مایوسی کی کوئی حد و انتہاء نہ رہے گی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور کسی کو پتہ نہیں کہ وہ ہولناک گھڑی کب اور کس حال میں آئیگی۔ کیونکہ وہ بالکل اچانک آئے گی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { لَا تَاْتِیْکُمْ الاَّ بَغْتَۃً } ۔ (الاعراف : 87) ۔ اور پھر کفار و منکرین تو چونکہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–47
حضور ﷺ سے کفار کی بدتمیزی اور ان کے لیے عذاب کی خبر
تشریح : مندرجہ بالا آیات میں شروع میں ہی اللہ رحمن و رحیم اپنے آخری رسول ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ کو ان لوگوں کی حرکتوں ‘ بدتمیزیوں سے ہرگز پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ کافر شخص یہی کرسکتا ہے کہ رسول کا مذاق اڑائے کیونکہ رسول ہمیشہ کفر اور برائی سے منع کرتا ہے۔ اسی لیے وہ رسول کے مخالف ہوجاتے ہیں اور ہر صورت رسول کو تنگ کرتے ہیں کیونکہ وہ کفر و شرک میں اس قدر پھنس چکے ہوتے ہیں کہ وہ اللہ کے ذکر سے ہی دور بھاگتے ہیں اور پھر اسی لیے ہر وقت اس عذاب کے مطالبہ کرتے رہتے ہیں جس سے آپ انہیں ڈراتے ہیں۔ اس سے ایک تو ان کی حق سے نفرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–41
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
کیا کافر جان نہیں چکے کہ آسمان اور زمین پہلے بند تھے یعنی اب تو عقل انسانی نے بھی یہ بات دریافت کرلی ہے کہ نہ آسمانوں سے بارش برستی تھی اور نہ زمین میں روئیدگی تھی اور نہ ان کی صورت اس قابل تھی پھر رب کریم نے معمورہ عالم کو بسانا چاہا تو انہیں کھول دیا یعنی اس نظام حیات کو رواں کردیا سورج کی گرمی و روشنی اور ہواؤں کی آمد وشد اپنا اپنا کام دکھانے لگی ، بادل برسنے لگے اور زمین سے رنگا رنگ چیزیں پیدا ہونے لگیں لیکن یہ سب اتفاقا نہیں ہو رہا بلکہ اللہ کریم کا نظام ہے جس کی ایک اصل یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ نے ہر شے کی حیات خواہ حیوانات ہوں یا نباتات پانی پر مقرر کردی ہے ،…
Read the full tafseer →ف 9 آیت میں ” تاتیھم وہ آئیگی) کی ضمیر “ ھی “ (وہ) ” النار “ یعنی آگ کے لئے بھی ہوسکتی ہے۔ اور ” الساعۃ “ (قیامت) کے لئے بھی اور ” الوعد “ (دنیا میں عذاب کے وعدہ) کے لئے بھی یعنی ان میں سے کوئی چیز بھی آئے گی وہ بتا کر نہیں آئے گی، بلکہ یکایک آئے گی۔ پھر نہ اس سے بچ نکلنے کی راہ پائو گے اور نہ تمہیں کوئی مہلت دی جائے گی کہ توبہ کرسکو۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(21:40) بل تاتیہم۔ بلکہ وہ ان کو آلے گی۔ ضمیر فاعل واحد مؤنث غائب النار کے لئے ہے یا الوعد (الموعدۃ) کے لئے یا حین (الساعۃ) کے لئے ہے۔ اول الذکر واضح ہے۔ بغتۃ۔ اچانک۔ یک دم ۔ یکایک۔
فتبھتہم۔ وہ ان کو حواس باختہ کر دے گی۔ وہ ان کو مبہوت کر دے گی۔ وہ ان کو ہکا بکا کر دے گی۔ بھت یبھت (سمع) بھت مصدر۔ مضارع واحد مؤنث غائب باب کرم سے اسی معنی میں آتا ہے بھت یبھت (فتح) کسی کو اچانک پکڑ لینا۔
ولا ینظرون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–41
لغات القرآن آیت نمبر 34 تا 41
الخلد ہمیشہ زندہ رہنا۔ مت تو مر گیا۔ تیرا اتنقال ہوگیا۔ ضائقۃ چکھنے والا۔ فتنۃ آزمائش۔ ھزو مذاق۔ عجل جلد باز۔ لاتستعجلون تم جلدی نہ مچاؤ۔ لایکفون وہ نہ روک سکیں گے۔ بغتۃ اچانک۔ تبھت حیران۔ حاق گھیر لیا۔ آپڑا۔
تشریح :- آیت نمبر 34 تا 41
سورۃ الانبیاء کی یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں جب کفار مکہ کی مخالفت اور دشمنی انتہاؤں تک پہنچ چکی تھی وہ ہر حال میں اس ابھرتی ہوئی تحریک کو اپنی سازشوں سے کچل ڈالنا چاہتے تھے۔ ان سے جو کچھ ممکن تھا انہوں نے اس میں کسر اٹھا نہ رکھی تھی ان لوگوں نے یہاں تک فیصلہ کرلیا کہ نبی کریم ﷺ کو نعوذ باللہ قتل کردیا جائے تاکہ یہ مقصد اور مشن ہمیشہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–41
حضور نبی کریم سے قریش کا تمسخر۔
(ف 1) شان نزول : یہ آیت ابوجہل کے حق میں نازل ہوئی نبی تشریف لے جاتے تھے وہ آپ کو دیکھ کر ہنسا، اور کہنے لگا کیا قریش کی ہدایت کو یہ نبی آئے ہیں کیا یہی نبی ہیں جو ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کی تسکین فرمائی اور فرمایا کہ جو عذاب ان مشرکوں کے لیے آخرت میں مہیا کیا گیا ہے اگر اس کو یہ لوگ جان لیں تو یہ مسخراپن کی سب باتیں بھول جائیں اور یہ بھی فرمایا کہ دنیا چند روزہ ہے آنکھوں کے سامنے ان کے بڑے مر گئے ان کو بھی اسی طرح آخر مرنا ہے مرتے ہی اس طرح کے ناگہانی عذاب میں یہ لوگ پھنس جائیں گے کہ پھر ان کا کچھ بس نہ چلے گا جب مشرکین مکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–43
[26] یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اگر انسان کی طبیعت میں جلد بازی ہے تو قرآن اس خاصے کی مذمت نہیں کرتا کیونکہ اس کے نزدیک فطرت انسانی کا کوئی خاصہ بھی برائی کے لئے نہیں ہے۔ چناچہ سورة التین میں فرمایا ( لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْٓ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ ۡ) 95 ۔ التین :4) (ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا) چناچہ ضروری تھا کہ اس کی طبیعت میں جلدبازی بھی ہوتی جو اس کے اندر سعی عمل کا فوری ولولہ پیدا کرتی اور اس کی ساری سرگرمیوں کے لئے محرک کا کام دیتی۔ لیکن طبیعت کے اور خواص کی طرح یہاں بھی ٹھوکر اصل خاصے کے تقاضے میں نہیں لگتی ہے بلکہ اس کے بےمحل اور بےاعتدالانہ استعمال میں لگتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
(ف 1) عذاب کے باب میں اللہ کا قانون یہ ہے کہ مجرموں کو ابتدا میں ڈھیل دی جاتی ہے مگر جب وہ حد مقرر سے آگے بڑھ جاتے ہیں ، اس وقت اللہ کا عذاب اچانک آجاتا ہے اور پھر دنیا کی کوئی طاقت ان کو اس عذاب سے بچا نہیں سکتی ، مگر بیوقوف لوگ اس ڈھیل کا مطلب سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے اعمال حسنہ کا نتیجہ ہے جو دنیا میں نازونعمت کے سارے سامان ہمیں میسر ہیں ، ورنہ ایک لمحہ بھی ہم دنیا میں زندہ نہیں رہ سکتے تھے ، یہی وجہ ہے کہ مکہ والے بار بار حضور ﷺ سے عذاب کا مطالبہ کرتے ، وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات نہایت حکمت اور قدرت والی ہے ، جسے جب چاہے ، اپنے مصالح کے ماتحت گرفتار…
Read the full tafseer →-40 بلکہ وہ آگ تو ان کو اچانک اور یکایک آ لے گی اور ان کو مبہوت و بد حواس کر دے گی پھر یہ اس عذاب کی آگ کو نہ ہٹا سکیں گے اور نہ ان کو اس کی مہلت ہی دی جائے گی۔ یعنی چونکہ قیامت اور اس کا عذاب دفعتہً نازل ہوگا اس لئے ہوش و حواس سب باختہ ہوجائیں گے اس آگ کو نہ دفع کرنے کی قدرت ہوگی اور نہ ایسا کرنے کی مہلت عطا ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
ف 10۔ یعنی اگر اس مصیبت کا علم ہوتا تو ایسے باتیں نہ بناتے۔
Read the full tafseer →عذاب ان کو اچانک دبوچ لے گا ‘ ان کے لئے مہلت بھی نہیں ہوگی :
40۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کے تذکروں میں آپ پیچھے پڑھتے چلے آ رہے ہیں کہ مجرمین مطالبہ عذاب کرتے رہے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ اس کے آنے کا ان کو کبھی یقین نہیں آیا لیکن جب بھی وہ گھڑی کسی قوم پر آئی تو اس نے اس وقت اس کو آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد یقین کیا لیکن اس یقین نے ان کو کچھ فائدہ نہ دیا ‘ ایسا کیوں ہوا ؟ فرمایا اس لئے کہ عذاب کو سامنے دیکھ کر ہی مجرموں کو یقین آیا کرتا ہے کہ واقعی پیغمبر نے جو کچھ کہا تھا وہ سچ تھا ۔ اس وقت وہ حسرت کے ساتھ ہاتھ مل کر کہتے ہیں کہ کاش ہمیں اب کچھ مہلت مل جائے حالانکہ مہلت کا وقت گزر چکا ہوتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–46
Haste is undesirable
خُلِقَ الْإِنسَانُ مِنْ عَجَلٍ (Man is made of haste. - 21:37). عَجَل ('ajal) means haste or hurry. The word is used in situations when one desires things to happen before their time, and this trait is bad by its very nature. In another place also the word is used to denote human weakness. For instance وَكَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا i.e. Man is prone to haste - 17:11, meaning that he is very impatient. When Sayyidna Musa (علیہ السلام) went to the mount Tur in a hurry leaving his people behind, he was censured by Allah Ta` ala.
Prophets (علیہم السلام) and the devout people…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
41. This is not the literal translation of the text; its purport according to the Arabic usage is: Man is a hasty and impatient creature by his very nature. The same thing has been stated in (Surah Al-Isra, Ayat 11): Man is very hasty and impatient.
42. From the succeeding sentences it is obvious that signs here stands for the things that have been mentioned therein, the threat of the scourge of Allah, Resurrection and Hell. They made fun of these, as if to say: This man threatens us with the scourge of Allah and the torment of the Day of Resurrection if we deny him and that we shall become…
Read the full tafseer →