Al-Anbiyaa 21:39

Al-Anbiyaa · from ayah 39

21:39

لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا حِیْنَ لَا یَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَلَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ ۟لَوۡ يَعۡلَمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا حِيۡنَ لَا يَكُفُّوۡنَ عَنۡ وُّجُوۡهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَنۡ ظُهُوۡرِهِمۡ وَلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ‏

اے کاش کافر اس وقت کو جانیں جب وہ اپنے مونہوں پر سے (دوزخ کی) آگ کو روک نہ سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھوں پر سے اور نہ ان کا کوئی مددگار ہوگا

— Fateh Muhammad Jalandhari

If those who disbelieved but knew the time when they will not avert the Fire from their faces or from their backs and they will not be aided...

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 3 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anbiyaa

All translations of 21:39

کاش اِن کافروں کو اُس وقت کا کچھ علم ہوتا جبکہ یہ نہ اپنے منہ آگ سے بچا سکیں گے نہ اپنی پیٹھیں، اور نہ ان کو کہیں سے مدد پہنچے گی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے کاش کافر اس وقت کو جانیں جب وہ اپنے مونہوں پر سے (دوزخ کی) آگ کو روک نہ سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھوں پر سے اور نہ ان کا کوئی مددگار ہوگا

— مولانا فتح محمد جالندہری

کاش! یہ کافر جانتے کہ اس وقت نہ تو یہ کافر آگ کو اپنے چہروں سے ہٹا سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھوں سے اور نہ ان کی مدد کی جائے گی

— مولانا محمد جوناگڑہی

کاش ان کافروں کو اس وقت کی کچھ خبر لگ جاتی جب یہ نہ اپنے چہروں سے آگ کو دور کرسکیں گے، اور نہ اپنی پشتوں سے، اور نہ ان کو کوئی مدد میسر آئے گی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کسی طرح جانتے کافر اس وقت کو جب نہ روک سکیں گے اپنے مونہوں سے آگے اور نہ اپنی پیٹھوں سے اور نہ ان کی مدد ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اگر کافر لوگ وہ وقت جان لیتے جبکہ وہ (دوزخ کی) آگ کو نہ اپنے چہروں سے روک سکیں گے اور نہ اپنی پشتوں سے اور نہ ہی ان کی مدد کی جائے گی (تو پھر عذاب طلب کرنے میں جلدی کا شور نہ کرتے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کاش ! وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، اس وقت کو جان لیں جب وہ نہ اپنے چہروں سے آگ کو روک سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھوں سے اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کاش یہ کافر لوگ اس وقت کا علم رکھتے جب وہ آگ سے نہ تو اپنے چہروں کو بچا سکیں گے اور نہ اپنی پشتوں کو اور نہ ہی انھیں کہیں سے مدد مل سکے گی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کاش یہ کفر کرنے والے جان پاتے اس وقت کہ جب کہ یہ عذاب نار کو نہ اپنے چہروں سے دفع کرسکیں گے، نہ اپنی پیٹھوں سے اور نہ ان کی کسی طرف سے کوئی مدد ہو گی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اگر کسی طرح جان لیتے کافر لوگ اس ہولناک وقت کو کہ جب یہ دوزخ کی لپکیں مارتی ہوئی اس آگ کو نہ روک سکیں گے نہ اپنے چہروں سے اور نہ اپنی پیٹھوں سے اور نہ ہی ان کی کہیں سے کوئی مدد کی جائے گی تو ان کا حال کچھ اور ہی ہوتا

— مولانا اسحاق مدنی

کاش ان کافروں کو اس وقت کی خبر ہوتی جب یہ آگ کو نہ روک سکیں گے نہ اپنے چہروں سے اور نہ اپنی پشتوں سے اور نہ انہیں مدد پہنچ سکے گی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کاش ! ان کافروں کو معلوم ہوتا (اس وقت کے بارے میں) جب وہ آگ کو ہٹا نہ سکیں گے اپنے چہروں سے اور نہ ہی اپنی پیٹھوں سے اور نہ ہی ان کی مدد کی جائے گی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اگر یہ منکر لوگ اس وقت کو جان لیں جب وہ نہ اپنے منہ کے سامنے سے آگ کو روک سکیں گے نہ اپنی پیٹھ کے پیچھے سے اور نہ کوئی ان کا مددگار ہوگا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

If only the unbelievers knew of the Hour when they shall not be able to keep off the Fire from their faces, nor from their backs; nor shall they be helped.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Only if the disbelievers were to know the time when they will not (be able to) keep off the fire from their faces or from their backs, nor will they be helped.

— Muhammad Taqi Usmani

Only if the disbelievers were to know the time when they will not (be able to) keep off the fire from their faces or from their backs, nor will they be helped.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

If only those who disbelieved knew (the time) when they will not be able to ward off the Fire from their faces, nor from their backs, and they will not be helped.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

If those who disbelieved but knew the time when they will not be able to drive off the fire from their faces and from their backs, and they will not be helped!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

If those who disbelieved but knew the time when they will not avert the Fire from their faces or from their backs and they will not be aided...

— Saheeh International

Would that the unbelievers knew that no one would protect their faces and backs against the fire, nor they would be helped.

— Muhammad Sarwar

Had those who disbelieve but known (of the time) when they shall not be able to ward off the fire from their faces nor from their backs, nor shall they be helped.

— Muhammad Habib Shakir

If only those who disbelieve have known of the time when they shall not be able to ward off from their faces the Fire nor from their backs, nor shall they be succoured!

— Abdul Majid Daryabadi

If only the Unbelievers knew (the time) when they will not be able to ward off the fire from their faces, nor yet from their backs, and (when) no help can reach them!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 21:39

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 38–40

خود عذاب کے طالب لوگ عذاب الٰہی کو، قیامت کے آنے کو یہ لوگ چونکہ محال جانتے تھے اس لئے جرات سے کہتے تھے کہ بتاؤ تو سہی تمہارے یہ ڈراوے کب پورے ہوں گے ؟ انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ تم اگر سمجھ دار ہوتے اور اس دن کی ہولناکیوں سے آگاہ ہوتے تو جلدی نہ مچاتے اس وقت عذاب الٰہی اوپر تلے سے اوڑھنا بچھونا بنے ہوئے ہونگے، طاقت نہ ہوگی کہ آگے پیچھے سے اللہ کا عذاب ہٹاسکو۔ گندھک کا لباس ہوگا جس میں آگ لگی ہوئی ہوگی اور کھڑے جل رہے ہوں گے، ہر طرف سے جہنم گھیرے ہوئے ہوگی۔ کوئی نہ ہوگا جو مدد کو اٹھے جہنم اچانک دبوچ لے گی اس وقت حیران وششدر رہ جاؤ گے مبہوت اور بیہوش ہوجاؤ گے، کوئی حیلہ نہ ملے گا کہ اسے دفعہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 37–41

سورة الْاَنْبِیَآء 41 اصل میں خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن کا لفظی ترجمہ ہے " انسان جلد بازی سے بنایا گیا ہے، یا پیدا کیا گیا ہے "۔ لیکن یہ لفظی معنی اصل مقصود کلام نہیں ہیں۔ جس طرح ہم اپنی زبان میں کہتے ہیں فلاں شخص عقل کا پتلا ہے، اور فلاں شخص حرفوں کا بنا ہوا ہے، اسی طرح عربی زبان میں کہتے ہیں کہ وہ فلاں چیز سے پیدا کیا گیا ہے، اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ فلاں چیز اس کی سرشت میں ہے۔ یہی بات جس کو یہاں خُلِقَ الْاِنْسَنُ مِنْ عَجَلٍ کہہ کر ادا کیا گیا ہے، دوسری جگہ وَکَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا، " انسان جلد باز واقع ہوا ہے، " (بنی اسرائیل آیت 11) کے الفاظ میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 37–46

جلد بازی مذموم خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ ، عجل بمعنے عجلت اور جلدی کے ہے جس کی حقیقت کسی چیز کو اس کے وقت سے پہلے طلب کرنا ہے اور یہ وصف فی نفسہ مذموم ہے قرآن کریم میں دوسری جگہ بھی اس کو انسانی کمزوری کے طور پر ذکر فرمایا ہے۔ وَكَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا یعنی انسان بڑا جلد باز ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ جب کوہ طور پر اپنی قوم سے آگے بڑھ کر حق تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو وہاں بھی اس عجلت پر عتاب ہوا اور انبیاء و صلحاء کے بارے میں جو مسارعت اور مسابقت فی الخیرات کو بطور مدح کے ذکر کیا گیا ہے وہ جلد بازی اور عجلت کے مفہوم میں داخل نہیں۔ کیونکہ وہ وقت سے پہلے کسی چیز کی طلب نہیں بلکہ وقت پر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 39 یہ بانداز حسرت فرمایا کہ آج تو یہ اس ڈھٹائی کے ساتھ عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اس کے لئے جلدی مچائے ہوئے ہیں، کاش یہ اس وقت کا بھی کچھ اندازہ کر پاتے جب خدا کے عذاب کی آگ ان کو آگے پیچھے ہر طرف سے گھیر لے گی اور ان کی بےکسی کا یہ حال ہوگا کہ نہ یہ اپنے آگے سے اس کو دفع کرسکیں گے، نہ یچھے سے اور نہ ان کے ان حمایتوں کی طرف سے ان کی کوئی مدد ہو سکے گی جن کی جمعیت پر ان کو ناز ہے اور نہ ان معبودوں ہی سے ان کو کچھ سہارا مل سکے گا جن کے بل پر وہ خدا سے اکڑ رہے ہیں !

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

39۔ 1 اس کا جواب علیحدہ ہے، یعنی اگر یہ جان لیتے تو پھر عذاب کا جلدی مطالبہ نہ کرتے یا یقینا جان لیتے کہ قیامت آنے والی ہے یا کفر پر قائم نہ رہتے بلکہ ایمان لے آتے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 37–43

20: جب آنحضرت ﷺ دنیا یا آخرت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے تھے تو یہ لوگ اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے تھے کہ وہ عذاب ابھی لے آؤ۔ ان آیتوں میں اس کا جواب دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 39–41

لویعلم الذین کفروا۔۔۔۔۔۔ ماکانوا بہ یستھزء ون (93 : 14) ” اگر انکو علم ہوجائے کہ ان کی حالت کیا ہوگی ‘ تو ان کا رویہ یہ نہ ہوتا ‘ جواب ہے۔ یہ عذاب میں نہ جلدی کا مطالبہ کرتے اور نہ یہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مذاق کرتے۔ ان کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اس وقت ہوگا کیا۔ وہاں ان کی حالت یہ وہگی کہ ہر طرف سے آگے کے شعلے انہیں نوچ رہے ہوں گے ‘ جھلسا رہے ہوں گے اور یہ اپنے آپ کو بچانے کی نااکم کوششیں کررہے ہوں گے ‘ قرآن اس کی تصویر اس طرح کھینچتا ہے کہ چہروں پر شعلے حملہ کریں گے ‘ پیٹھوں پر کریں گے اور یہ کسی طرح کا دفاع نہ کرسکیں گے بلک یہ آگ ہمہ جہست ان پر شعلہ بار ہوگی اور یہ کسی شعلے کو رد نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 39–40

6 یعنی اگر ان پر حقیقت منکشف ہوجائے اور اس ہولناک گھڑی کو ٹھیک ٹھیک سمجھ لیں تو کبھی ایسی درخواست نہ کریں۔ یہ باتیں اس وقت بےفکری میں سوجھ رہی ہیں، جب وہ وقت سامنے آجائے گا کہ آگے پیچھے ہر طرف سے آگ گھیرے ہوگی تو نہ کسی طرف سے اس کو دفع کرسکیں گے، نہ کہیں سے مدد پہنچے گی، نہ مہلت ملے گی، نہ پہلے سے اس کا کامل اندازہ ہوگا۔ اس کے اچانک سامنے آجانے سے ہوش باختہ ہوجائیں گے تب پتہ چلے گا کہ جس چیز کی ہنسی کرتے تھے وہ حقیقت ثابتہ تھی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 39–40

آیت 40 بَلْ تَاْتِیْہِمْ بَغْتَۃً فَتَبْہَتُہُمْ ” یعنی ان کے ہوش کھو دے گی۔ یہ وہی لفظ ب ہ ت ہے جو البقرہ : 258 میں نمرود کے بارے میں آیا ہے : فَبُہِتَ الَّذِیْ کَفَرَ ط ”تو یہ سن کر وہ کافرّ ہکا بکا رہ گیا۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 39–40

36 یعنی ان کے اس مطالبہ کی وجہ صرف یہ ہے کہ جس آگ کے عذاب سے انھیں ڈرایا جاتا ہے اس پر ان کا یقین ہی نہیں۔ اگر ان پر یہ حقیقت منکشف ہوجائے اور وہ اس ہولناک گھڑی کو ٹھیک ٹھیک سمجھ لیں تو کبھی ایسی درخواست نہ کریں۔ پھر جب وہ وقت سامنے آجائے گا اور انھیں آگے سے پیچھے سے، دائیں سے بائیں سے، اوپر سے، نیچے سے غرض ہر طرف سے آگ گھیرے ہوئے ہوگی تو اس سے بچاؤ کی انھیں کوئی صورت نظر نہ آئے گی۔ اور آج جو کچھ یہ باتیں بنا رہے ہیں اس دن ایسے حواس باختہ ہوں گے کہ ان میں سے کوئی بات بھی انھیں یاد نہ رہے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

54۔ یعنی کاش ان منکروں کو اس وقت کا استحضار ہوتا جب آتش دوزخ ان پر ہر طرف سے بےپناہ حملے کرے گی اور انہیں بچاؤ کا، یا مدد کا، کسی طرف سے کوئی ادنی بھی سہارا نہ ملے گا تو آج یہ اس طرح کی بڑھ بڑھ کر باتیں نہ بناتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 30–41

آیت نمبر 30 تا 41 ترجمہ : کیا کافر یہ نہیں جانتے کہ آسمان اور زمین (منہ) بند تھے ؟ اَوَلَمْ میں واؤ اور ترک واؤ دونوں ہیں رَتَقًا بمعنی سَدًّا ہے اور سَدًّا بمعنی مَسْدُوْدًا ہے پھر ہم نھے ان کو کھول دیا یعنی سات آسمان اور سات زمین بنادیں یا فتق سماء کا مطلب یہ ہے کہ آسمان سے بارش نہیں ہوتی تھی پھر بارش ہونے لگی، اور فتق ارض کا مطلب یہ ہے کہ زمین اگاتی نہیں تھی پھر اگانے لگی اور ہم نے آسمان سے برسنے والے اور زمینی چشموں سے نکلنے والے پانی سے ہر جاندار کو بنایا گھاس وغیرہ کو لہٰذا پانی ہر جاندار کے لئے سبب حیات ہے پھر بھی میری توحید پر ایمان نہیں لاتے اور ہم نے زمین پر ثابت رہنے والے پہاڑ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لو یعلم الذین کفروا حین لا یکفون عن وجوہہم النار ولا عن ظہورہم ولا ہم ینصرون۔ اگر کافر جان لیتے اس وقت (کے سماں) کو جب کہ وہ آگ کو نہ اپنے چہروں کی طرف سے روک سکیں گے نہ پشت کی جانب سے اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔ شرط کا جواب محذوف ہے یعنی اگر کافر جان لیں اس وقت کو جب کہ ہر طرف سے ان کو آگ اپنے گھیرے میں لے لے گی اور اس کو وہ نہ خود دفع کرسکیں گے نہ کوئی اور ایسا مددگار بنے گا جو عذاب کو دفع کرسکے تو اپنے کفر پر قائم نہیں رہیں گے یا عذاب آنے کی جلدی نہیں مچائیں گے یا ایسی بات نہیں کہیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(39) کاش ان لوگوں کو جو کہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کے منکر ہیں اس وقت کی خبر ہوتی کہ عذاب میں ان کی کیا درگت بنے گی تو یہ ہرگز نزول عذاب کے بارے میں جلدی نہ کرتے، نزول عذاب کے وقت تو یہ لوگ اس عذاب کی آگ کو نہ اپنے سامنے سے روک سکیں گے اور نہ اپنے پیچھے سے اور نہ ان کی کوئی حمایت کرے گا کہ اس عذاب کو ان سے دور کر دے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَوْ يَعْلَمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۔۔ : یعنی ان لوگوں کے عذاب کو جھٹلانے اور اسے ناممکن سمجھنے کی اصل وجہ ان کا جہل ہے، انھیں اس وقت کا علم ہی نہیں جب آگ انھیں چاروں طرف سے گھیر لے گی۔ یہ نہ اپنے چہروں سے آگ کو روک سکیں گے، جو ان کے جسم کا سب سے اہم اور خوبصورت حصہ ہے اور نہ پشتوں سے، جو جسم کا سب سے مضبوط حصہ ہے۔ جب ان اعضا کو آگ سے نہ بچا سکے تو دوسرے اعضا کو کیسے بچائیں گے ؟ کفار کو آگ کے چاروں طرف سے گھیرنے کا ذکر کئی جگہ آیا ہے۔ دیکھیے سورة کہف (29) ، اعراف (41) ، زمر (16) ، ابراہیم (50) ، مومنون (104) اور دوسری آیات۔ ”لو“ کی دو تفسیریں ہیں، ایک یہ کہ یہ حرف شرط ہے اور اس کی جزا محذوف ہے،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 39–41

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لو یعلم الذین کفروا یہاں علم بمعنی معرفت ہے جو مفعول ثانی کا تقاضا نہیں کرتا جیسے : لا تعلمونھم، اللہ یعلمھم (الانفال :60) اور لو کا جواب محذوف ہے، یعنی اگر وہ اس وقت کو جان لیتے جس میں وہ اپنے چہروں سے اور اپنی پیٹھوں سے آگ کے شعلوں کو نہ روک سکیں گے اور نہ ان کی مدد کی جائے گی اگر وہ اسکو جان لیتے تو وعید کے لیے جلدی نہ کرتے۔ زجاج نے کہا : اگر وہ جان لیتے تو وعدہ کی سچائی کو جان لیتے۔ بعض نے فرمایا : اگر وہ اسے جان لیتے تو وہ کفر پر قائم نہ رہتے اور ایمان لے آتے۔ کسائی نے کہا : یہ قیامت کے وقوع کے تحقیق پر تنبیہ ہے، یعنی اگر وہ علم یقین سے جان لیتے تو جان لیتے کہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 39–41

1:۔ بخاری اور مسلم نے عدی بن حاتم (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے کہ عنقریب اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن (اس حال میں) کلام فرمائیں گے کہ اس کے اور ان کے درمیان کوئی پردہ نہ ہوگا اور نہ کوئی ترجمان ترجمانی کرے گا پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا میں نے تجھ کو مال نہ دیا تھا ؟ کہے گا کیوں نہیں (آپ نے مال دیا تھا) پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا میں نے تیری طرف رسول نہ بھیجا تھا ؟ وہ کہے گا کیوں نہیں (آپ نے رسول بھیجا تھا) پس بندہ اپنے داہنی طرف دیکھے گا تو آگ کے سوا کچھ نہ دیکھے گا اور اپنے بائیں طرف دیکھے گا تو آگ کے سوا کچھ نہ دیکھے گا پس چاہئے کہ تم میں سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ لَوْ : کاش ] [ يَعْلَمُ : جانتے ہوتے ] [ الَّذِينَ : وہ لوگ جنھوں نے ] [ كَفَرُوْا : کفر کیا ] [ حِيْنَ : (اس وقت کو) جس وقت ] [ لَا يَكُفُّوْنَ : وہ نہ روک سکیں گے ] [ عَنْ وُّجوهِهِمُ : اپنے چہروں سے ] [ النَارَ : آگ کو ] [ وَلَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ : اور نہ ہی اپنی پیٹھوں سے ] [ وَلَا هُمْ : اور نہ ان کی ] [ يُنْــصَرُوْنَ : مدد کی جائے گی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 39–40

یہاں ان کے جواب میں فرمایا (لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا حِیْنَ لَا یَکُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْھِھِمُ النَّارَ وَ لَا عَنْ ظُھُوْرِھِمْ وَ لَا ھُمْ یُنْصَرُوْنَ بَلْ تَاْتِیْھِمْ بَغْتَۃً فَتَبْھَتُھُمْ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّھَا وَ لَا ھُمْ یُنْظَرُوْنَ ) (اگر کافروں کو اس وقت کی خبر ہوتی جب وہ نہ اپنے چہروں سے آگ کو ہٹا سکیں گے اور نہ اپنی پشتوں سے اور نہ ان کی مدد کی جائے گی، بلکہ وہ آگ ان کے پاس اچانک آجائے گی سو وہ انہیں بد حواس بنا دے گی پھر وہ اسے ہٹا نہ سکیں گے اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی) یعنی جب وہ لوگ دوزخ کی آگ کی لپیٹ میں اور اس کی لپٹوں میں گھریں گے اگر انہیں اس وقت کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 36–47

بیان انجام استہزاء ببارگاہ رسالت و تہدید عذاب آخرت وال اللہ تعالیٰ واذاراک الذین کفروا .... الیٰ .... وکفی بنا حسنین۔ (ربط) گزشتہ آیت میں آنحضرت ﷺ کے انتقال پر شماتت کرنے والوں کا جواب تھا اب ان آیات میں ان لوگوں کے انجام بد کو بیان کرتے ہیں جو آنحضرت ﷺ کے ساتھ مسخرہ پن کرتے تھے اور قیامت کا مذاق اڑاتے تھے کہ قیامت کب آئے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ دفعتا آجائے گی اور اس وقت ان کو اپنے استہزاء اور تمسخر کا مزہ معلوم ہوجائے گا۔ چناچہ فرماتے ہیں اور ان عاشقان دنیا اور منکرین آخرت کی حالت یہ ہے کہ یہ کافر جب آپ کو دیکھتے ہیں تو بس آپ ﷺ کو ٹھٹھا اور مذاق ہی بنا لیتے ہیں، یہ بھی ابتلاء الٰہی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 39–40

27:۔ شکوی ” لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ “ تا ” وَ لَا ھُمْ یُنْظَرُوْنَ “ جواب شکوی مع تخویف اخروی مشرکین ماننے کے بجائے عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن نادانوں کو پتہ نہیں لیکن نادانوں کو پتہ نہیں جب اللہ کا عذاب آجائے گا تو وہ اپنے کو اس سے ہرگز نہیں بچا سکیں گے۔ ” فَتَبْھَتُھُمْ “ ان کو حواس باختہ اور حیران و پریشان کردے گی۔ قال الفراء (فَتَبْھَتُھُمْ ) ای تحیرھم (قرطبی ج 11 ص 290) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 33–41

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں اور مشرکوں کا رد فرمایا دلائل قدرت کا ذکر کیا۔ ان میں سے ایک دلیل یہ تھی کہ آسمان اور زمین ابتداء میں اکٹھے تھے ، بعد میں ان کو الگ الگ کردیا گیا۔ پھر فرمایا کہ زمین پر بوجھل پہاڑ گاڑھ دیئے تاکہ یہ ڈولنے نہ پائے۔ پھر ان پہاڑوں میں کشادہ راستے بنادیے اور آسمان کو ایک محفوظ چھت بنادیا۔ فرمایا کہ لوگ ان نشانیوں کو دیکھ کر توحید خداوندی کے قائل نہیں ہوتے بلکہ ان نشانات قدرت سے اعراض کرتے ہیں۔ اب آج کے درس میں اللہ نے آسمان اور زمین پیدا کیے گئے بعض نشانات قدرت کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وھولاذی خلق الیل والنھار اللہ تعالیٰ کی ذات وہی ہے جس نے رات…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَوْ يَعْلَمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا حِيْنَ لَا يَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْہِہِمُ النَّارَ وَلَا عَنْ ظُہُوْرِہِمْ وَلَا ہُمْ يُنْــصَرُوْنَ۝ 39 كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( کر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 39–41

1 ؎ یعنی آگے پیچھے ہر طرف سے آگ گھیرے ہوگی نہ اس کو سامنے سے دور کرسکیں گے نہ پیچھے سے۔ 12 حقانی

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 39–40

لَوْیَعْلَمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا حِیْنَ لاَ یَکُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْھِھِمُ النَّارَ وَلاَ عَنْ ظُہُوْرِ ھِمْ وَلاَ ھُمْ یُنْصَرُوْنَ ۔ بَلْ تَاْ تِیْھِمْ بَغْتَۃً فَتَبْھَتُھُمْ فَلاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّھَا وَلاَ ھُمْ یُنْظَرُوْنَ ۔ (الانبیاء : 39، 40) (کاش یہ کفر کرنے والے جان لیتے اس وقت کو جب وہ روک نہ سکیں گے اپنے چہروں سے عذاب نار کو، نہ اپنی پشتوں سے اور نہ ان کی کسی طرف سے مدد کی جائے گی۔ بلکہ وہ اچانک ان پر آدھمکے گی، سو انھیں بدحواس کردے گی پھر وہ نہ اسے رد کرسکیں گے اور نہ ہی انھیں مزید مہلت دی جائے گی۔ ) مخالفین کے رویئے پر اظہارِ حسرت نہایت حسرت کے انداز میں فرمایا جارہا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 39–41

فہم القرآن ربط کلام : جس عذاب کے لیے کفار جلدبازی کا مظاہرہ کرتے ہیں اس کی ہولناکیوں کی ایک جھلک۔ رسول معظم ﷺ سے کفار عذاب اور قیامت کا بار بار مطالبہ کرتے تھے۔ عذاب کی ہولناکیوں کا ذکر کرکے کفار کو ان کے مطالبہ سے یہ کہہ کر ڈرایا اور روکا جا رہا ہے کہ اگر ان کو معلوم ہوجائے کہ رب ذوالجلال کا عتاب اور عذاب کس قدر سخت اور شدید تر ہوتا ہے تو یہ بھول کر بھی ایسا مطالبہ نہ کریں۔ انھیں پتہ ہونا چاہیے کہ جب ان پر رب ذوالجلال کا عذاب نازل ہوگا تو وہ اپنے آپ کو بچانا چاہیں تو ہرگز بچا نہیں سکیں گے۔ اے پیغمبر ﷺ ! آپ سے پہلے انبیاء کے ساتھ بھی مذاق ہوتا رہا لیکن ایک وقت ایسا آیا کہ جب مذاق کرنے والوں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

39: لَوْیَعْلَمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا حِیْنَ لَایَکُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْھِھِمُ (اگر کافر جان لیتے اس وقت کو جب کہ وہ آگ کو نہ اپنے چہروں کی طرف سے) النَّارَ وَلَا عَنْ ظُھُوْرِھِمْ وَلَا ھُمْ یُنْصَرُوْنَ (روک سکیں گے اور نہ ہی پشت کی جانب سے اور نہ ہی ان کی مدد کی جائے گی) لوؔ کا جواب محذوف ہے اور حینؔ یہ لیعلم کا مفعول بہٖ ہے۔ ای لو یعلمون الوقت الذی یتعجلونہ بقولھم متی ھذا الو عد الخ یعنی اگر ان کو اس وقت کا علم ہوجائے جس کو اپنے قول متی ھذا الوعد سے جلد طلب کر رہے ہیں تو وہ ایسا وقت ہے کہ آگ ان کو ہر طرف آگے پیچھے سے گھیر لے گی اور اس کو روکنے کی ان کو طاقت نہ ہوگی اور اپنے نفسوں سے اس کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 39۔ لویعلم الذین کفرو حین لایکفون، نہ وہ پھیر سکیں گے ۔ عن وجوھھم النار ولاعن ظھورھم ، بعض نے کہا کہ وہ اپنی پیٹھوں کی جانب سے نہ روک سکیں گے۔ ولاھم ینصرون، اور نہ ہی ان سے عذاب کو روکا جائے گا۔ (لو) کا جواب اس قول میں ہے، لویعلم الذین ، یہ محذوف ہے ، اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ اگر کافر جان لیں کہ اس وقت کو جب کہ ان کی طرف سے ان کو آگ اپنے گھیرے میں لے لی گی اور اس کو وہ نہ خود دفع کرسکیں گے اور نہ کوئی ایسا مددگار بنے گا جو عذاب کو دفع کرسکے تو وہ اپنے کفر پر قائم نہیں رہیں گے یا عذاب آنے میں جلدی کریں گے اور یہ نہیں کہیں گے کہ اس کا وعدہ کب آئے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 36–41

36۔ 41:۔ تفسیر سدی اور تفسیر ابن ابی حاتم 4 ؎ میں چند روایتوں سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے ‘ اس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن شریف میں مشرکوں کے بتوں کی مذمت کی آیتیں جو نازل ہوتی تھیں اور آنحضرت ﷺ وہ آیتیں مشرکوں کو پڑھ کر سناتے تھے تو مشرک لوگ اپنے بتوں کی مذمت سن کر دل میں تو بہت چڑتے اور برا مانتے تھے اور ظاہر میں آنحضرت ﷺ کو مسخراپن میں اڑاتے تھے ‘ چلتے پھرتے جہاں کہیں آنحضرت ﷺ کو دیکھتے تو ابوجہل وغیرہ آپس میں آنحضرت ﷺ کو چھیڑنے کو کہتے تھے ‘ کیا قریش کی ہدایت کو یہی نبی آئے ہیں جو ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرما دیا کہ جو عذاب ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 36–41

آیت 36-41 یہ ان کے کفر کی شدت کی طرف اشارہ ہے۔ مشرکین جب رسول اللہ ﷺ کو دیکھتے تو آپ ﷺ کا تمسخر اڑاتے اور کہتے ( اھذا الذی یذکر الھتکم) یعنی ان کے زعم کے مطابق یہی ہے جو تمہارے معبودں کی تحقیر کرتا ہے، ان کو سب و شتم اور ان کی مذمت کرتا ہے اور ان کی برائیاں بیان کرتا ہے اس کی پیروا کرو نہ اس کی طرف دھیان دو ۔۔۔۔ یہ سب کچھ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کا استہزاء اور آپ ﷺ کی تحقیر ہے جو آپ ﷺ کی صفات کمال شمار ہوتی ہیں۔ آپ ﷺ وہ اکمل افضل ہستی ہیں جس کے فضائل و مکارم میں اخلاص اللہ، غیر اللہ کی عبادت مذمت اور عبادت کے اصل مقام و مرتبہ کا ذکر شامل ہے۔ ذلت و استہزاء تو ان کفار کے لئے ہے جن میں ہر قسم کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

51 دولت ایمان و یقین سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ایمان و یقین اور خاص کر آخرت کا ایمان و یقین دارین کی سعادت و سرخروئی کی اصل بنیاد ہے۔ اگر آخرت کا ایمان و یقین ان لوگوں کو ہوتا اور وہاں کے حال سے یہ کسی قدر واقف و آگاہ ہوتے تو ان کا حال یقینا اس سے یکسر مختلف ہوتا۔ یعنی " لو " شرطیہ کی جزاء یہاں پر محذوف ہے جو کہ بلاغت کا تقاضا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کفار چونکہ آخرت کی سزا و جزاء پر ایمان نہیں رکھتے اس لئے اپنی غفلت و بیخبر ی اور لاپرواہی کی بناء پر یہ اس طرح کے سوال کرتے اور ایسی بےمقصد و لایعنی زندگی گزارتے ہیں۔ ورنہ اگر آخرت کے اس ہولناک دن اور وہاں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 36–47

حضور ﷺ سے کفار کی بدتمیزی اور ان کے لیے عذاب کی خبر تشریح : مندرجہ بالا آیات میں شروع میں ہی اللہ رحمن و رحیم اپنے آخری رسول ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ کو ان لوگوں کی حرکتوں ‘ بدتمیزیوں سے ہرگز پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ کافر شخص یہی کرسکتا ہے کہ رسول کا مذاق اڑائے کیونکہ رسول ہمیشہ کفر اور برائی سے منع کرتا ہے۔ اسی لیے وہ رسول کے مخالف ہوجاتے ہیں اور ہر صورت رسول کو تنگ کرتے ہیں کیونکہ وہ کفر و شرک میں اس قدر پھنس چکے ہوتے ہیں کہ وہ اللہ کے ذکر سے ہی دور بھاگتے ہیں اور پھر اسی لیے ہر وقت اس عذاب کے مطالبہ کرتے رہتے ہیں جس سے آپ انہیں ڈراتے ہیں۔ اس سے ایک تو ان کی حق سے نفرت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 30–41

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف کیا کافر جان نہیں چکے کہ آسمان اور زمین پہلے بند تھے یعنی اب تو عقل انسانی نے بھی یہ بات دریافت کرلی ہے کہ نہ آسمانوں سے بارش برستی تھی اور نہ زمین میں روئیدگی تھی اور نہ ان کی صورت اس قابل تھی پھر رب کریم نے معمورہ عالم کو بسانا چاہا تو انہیں کھول دیا یعنی اس نظام حیات کو رواں کردیا سورج کی گرمی و روشنی اور ہواؤں کی آمد وشد اپنا اپنا کام دکھانے لگی ، بادل برسنے لگے اور زمین سے رنگا رنگ چیزیں پیدا ہونے لگیں لیکن یہ سب اتفاقا نہیں ہو رہا بلکہ اللہ کریم کا نظام ہے جس کی ایک اصل یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ نے ہر شے کی حیات خواہ حیوانات ہوں یا نباتات پانی پر مقرر کردی ہے ،…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 37–39

ف 7 یعنی جلد بازی اس کی سرشت بن چکی ہے۔ (اسراء 11)8 قدرت کی نشانیوں سے مراد جیسا کہ آئندہ مضمون سے معلوم ہوتا ہے۔ انتقامی کارروئیاں میں یعنی تم عذاب کے جلدی آنے کا مطالبہ کیوں کرتے ہو ؟ اب تک جو ہم نے تمہیں ڈھیل دی ہے اس سے تم نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ ہمیں تمہاری کارستانیاں اور شرارتیں گوارا ہیں۔ ذرا ٹھہرو ! ابھی تمہیں معلوم ہو ائے گا کہ ہم تم سے کیسے انتقام لیتے ہیں۔ دنیا میں بھی قتل ہو گے اور ذلت و رسوائی برداشت کرنی پڑے گی اور آخرت میں بھی تمہیں جہنم کی آگ کا ایندھن بنایا جائے۔ (کبیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(21:39) لا یکفون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ کف یکف (نصر) کف روکنا دفع کرنا۔ وہ نہیں روک سکیں گے۔ وہ دور نہیں کرسکیں گے۔ لو۔ حرف شرط ہے تو جواب شرط محذوف ہے۔ ای لو یعلم الذین کفروا حین لا یکفون عن وجوہم النار ولا عن ظہورہم ولاہم ینصرون لما فعلوا ما فعلوا من الاستعجال۔ اگر کافر لوگ اس وقت کو جانتے ہوتے جب یہ آگ کو نہ روک سکیں گے اپنے چہروں سے نہ اپنی پشتوں کی طرف سے اور ان کو مدد نہ پہنچ سکے گی تو وہ شتابی کی بات جو کر رہے ہیں نہ کرے۔ یا لو یہاں بطور حرف تمنا ہے۔ اس صورت میں جواب درکار نہیں ۔ ترجمہ ہوگا :۔ اے کاش ان کافروں کو اس وقت کی خبر ہوتی جب یہ آگ کو نہ روک سکیں گے اپنے چہروں سے اور نہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 34–41

لغات القرآن آیت نمبر 34 تا 41 الخلد ہمیشہ زندہ رہنا۔ مت تو مر گیا۔ تیرا اتنقال ہوگیا۔ ضائقۃ چکھنے والا۔ فتنۃ آزمائش۔ ھزو مذاق۔ عجل جلد باز۔ لاتستعجلون تم جلدی نہ مچاؤ۔ لایکفون وہ نہ روک سکیں گے۔ بغتۃ اچانک۔ تبھت حیران۔ حاق گھیر لیا۔ آپڑا۔ تشریح :- آیت نمبر 34 تا 41 سورۃ الانبیاء کی یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں جب کفار مکہ کی مخالفت اور دشمنی انتہاؤں تک پہنچ چکی تھی وہ ہر حال میں اس ابھرتی ہوئی تحریک کو اپنی سازشوں سے کچل ڈالنا چاہتے تھے۔ ان سے جو کچھ ممکن تھا انہوں نے اس میں کسر اٹھا نہ رکھی تھی ان لوگوں نے یہاں تک فیصلہ کرلیا کہ نبی کریم ﷺ کو نعوذ باللہ قتل کردیا جائے تاکہ یہ مقصد اور مشن ہمیشہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 36–41

حضور نبی کریم سے قریش کا تمسخر۔ (ف 1) شان نزول : یہ آیت ابوجہل کے حق میں نازل ہوئی نبی تشریف لے جاتے تھے وہ آپ کو دیکھ کر ہنسا، اور کہنے لگا کیا قریش کی ہدایت کو یہ نبی آئے ہیں کیا یہی نبی ہیں جو ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کی تسکین فرمائی اور فرمایا کہ جو عذاب ان مشرکوں کے لیے آخرت میں مہیا کیا گیا ہے اگر اس کو یہ لوگ جان لیں تو یہ مسخراپن کی سب باتیں بھول جائیں اور یہ بھی فرمایا کہ دنیا چند روزہ ہے آنکھوں کے سامنے ان کے بڑے مر گئے ان کو بھی اسی طرح آخر مرنا ہے مرتے ہی اس طرح کے ناگہانی عذاب میں یہ لوگ پھنس جائیں گے کہ پھر ان کا کچھ بس نہ چلے گا جب مشرکین مکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 37–43

[26] یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اگر انسان کی طبیعت میں جلد بازی ہے تو قرآن اس خاصے کی مذمت نہیں کرتا کیونکہ اس کے نزدیک فطرت انسانی کا کوئی خاصہ بھی برائی کے لئے نہیں ہے۔ چناچہ سورة التین میں فرمایا ( لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْٓ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ ۝ۡ) 95 ۔ التین :4) (ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا) چناچہ ضروری تھا کہ اس کی طبیعت میں جلدبازی بھی ہوتی جو اس کے اندر سعی عمل کا فوری ولولہ پیدا کرتی اور اس کی ساری سرگرمیوں کے لئے محرک کا کام دیتی۔ لیکن طبیعت کے اور خواص کی طرح یہاں بھی ٹھوکر اصل خاصے کے تقاضے میں نہیں لگتی ہے بلکہ اس کے بےمحل اور بےاعتدالانہ استعمال میں لگتی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 38–39

(ف 2) مکہ والے جب یہ دیکھتے کہ انکار اسلام کے باوجود ان پر اللہ کا عذاب نہیں آتا ، تو وہ یہ سمجھتے شاید یہ ان کی نیک سختی کی وجہ سے ہے ، اس لئے حضور ﷺ سے مطالبہ کرتے ، کہ کیوں عذاب نہیں آجاتا ، اور ہمیں کیوں نہیں مٹا دیتا ، قرآن حکیم کہتا ہے یہ عذاب طلبی تمہاری فطری عجلت پسندی کا نتیجہ ہے ، اور صاف وصریح بےعقلی کی بات ہے ، عنقریب تم لوگ اپنی آنکھوں سے اللہ کے غضب وغصہ کو دیکھ لو گے ۔ حل لغات : عجل : جلدی یا عجلت ، اور اس کے معنے مٹی کے بھی ہیں ۔ بغتۃ : اچانک ، ناگاہ ۔ فتبھتھم : ان کے حواس باختہ کر دے گی ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-39 کاش ان کافروں کو اگر اس وقت کی خبر ہوتی اور یہ اس وقت کی خرابیوں کو جانتے کہ جب ان کو آگ سب طرف سے گھیر لے گی اور یہ لوگ دوزخ کی آگ نہ اپنے سامنے سے روک سکیں گے اور نہ اپنے پیچھے سے اس آگ کو روک سکیں گے اور نہ ان کی کہیں سے کوئی مدد کی جائے گی تو یہ کبھی عذاب کی جلدی نہ کرتے۔ یعنی ان کو عذاب کی حقیقت معلوم نہیں اگر ان کو معلوم ہوتی تو یہ کبھی جلدی نہ کرتے اور مسلمانوں سے متیٰ ہذا الوعد نہ کہتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جب وہ عذاب کی گھڑی آگئی تو ان کا کوئی حامی و مددگار نہیں ہوگا : 39۔ فرمایا اب تو یہ ضدی اور ہٹ دھرم لوگ ضد اور ہٹ دھرمی سے عذاب خداوندی طلب کر رہے ہیں اور ہنسی و مذاق کے لہجے میں اس کو دریافت کر رہے ہیں لیکن جب وہ عذاب کی گھڑی ان کے سر پر آکھڑی ہوگی تو افسوس کہ ان کو اس بات کا علم بھی نہیں کہ اس وقت ان کی حالت کیا ہوگی ؟ جب عذاب الہی کی آگ انکو آگے پیچھے اور دائیں بائیں سب اطراف سے گھیرے ہوئے ہوگی اور یہ کسی طرف سے بھی اس آگ کو اپنے آپ سے دور نہیں کرسکیں گے اور نہ اس وقت ان کا کوئی حمایتی اور مددگار ان کی حمایت اور مدد کے لئے آگے بڑھے گا اور جن کی جمعیت پر ان کو ناز تھا وہ سب کے سب ہوا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 37–46

Haste is undesirable خُلِقَ الْإِنسَانُ مِنْ عَجَلٍ (Man is made of haste. - 21:37). عَجَل ('ajal) means haste or hurry. The word is used in situations when one desires things to happen before their time, and this trait is bad by its very nature. In another place also the word is used to denote human weakness. For instance وَكَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا i.e. Man is prone to haste - 17:11, meaning that he is very impatient. When Sayyidna Musa (علیہ السلام) went to the mount Tur in a hurry leaving his people behind, he was censured by Allah Ta` ala. Prophets (علیہم السلام) and the devout people…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 37–41

41. This is not the literal translation of the text; its purport according to the Arabic usage is: Man is a hasty and impatient creature by his very nature. The same thing has been stated in (Surah Al-Isra, Ayat 11): Man is very hasty and impatient. 42. From the succeeding sentences it is obvious that signs here stands for the things that have been mentioned therein, the threat of the scourge of Allah, Resurrection and Hell. They made fun of these, as if to say: This man threatens us with the scourge of Allah and the torment of the Day of Resurrection if we deny him and that we shall become…

Read the full tafseer →