Al-Anbiyaa 21:32

Al-Anbiyaa · from ayah 32

21:32

وَجَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا ۖۚ— وَّهُمْ عَنْ اٰیٰتِهَا مُعْرِضُوْنَ ۟وَجَعَلۡنَا السَّمَآءَ سَقۡفًا مَّحۡفُوۡظًا ۖۚ وَّهُمۡ عَنۡ اٰيٰتِهَا مُعۡرِضُوۡنَ‏

اور آسمان کو محفوظ چھت بنایا۔ اس پر بھی وہ ہماری نشانیوں سے منہ پھیر رہے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We made the sky a protected ceiling, but they, from its signs, are turning away.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 3 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anbiyaa

All translations of 21:32

اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنا دیا، مگر یہ ہیں کہ اس کی نشانیوں کی طرف توجّہ ہی نہیں کرتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور آسمان کو محفوظ چھت بنایا۔ اس پر بھی وہ ہماری نشانیوں سے منہ پھیر رہے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

آسمان کو محفوظ چھت بھی ہم نے ہی بنایا ہے۔ لیکن لوگ اس کی قدرت کے نمونوں پر دھیان نہیں دھرتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنادیا ہے، اور یہ لوگ ہیں کہ اس کی نشانیوں سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے آسمان کو چھت بنایا نگاہ رکھی گئی اور وہ اس کی نشانیوں سے روگرداں ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے سماء (یعنی زمین کے بالائی کرّوں) کو محفوظ چھت بنایا (تاکہ اہلِ زمین کو خلا سے آنے والی مہلک قوتوں اور جارحانہ لہروں کے مضر اثرات سے بچائیں) اور وہ اِن (سماوی طبقات کی) نشانیوں سے رُوگرداں ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنایا اور وہ اس کی نشانیوں سے منہ پھیرنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور آسمان کو ایک محفوظ چھت بنادیا۔ پھر بھی یہ لوگ اللہ کی نشانیوں کی طرف توجہ نہیں کرتے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنایا اور وہ اس کی نشانیں سے منہ پھیرے ہوئے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہم نے زمین کے اس عظیم الشان فرش کے لئے آسمان کو ایک عظیم الشان محفوظ چھت بنادیا مگر یہ لوگ ہیں کہ اس کی ان تمام عظیم الشان نشانیوں سے منہ موڑے ہوئے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنا دیا۔ اور یہ لوگ اس کی نشانیوں سے منہ پھیرے ہوئے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنا دیا لیکن یہ لوگ اس (آسمان) کی نشانیوں کو دھیان میں نہیں لاتے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور آسمان کو محفوظ چھت بنایا اس پر بھی وہ ہماری نشانیوں سے منہ پھیر رہے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and We made the sky a secure canopy; and yet they turn away from these Signs.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We made the sky a protected roof; and they are averse to its signs.

— Muhammad Taqi Usmani

We made the sky a protected roof; and they are averse to its signs.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We have made the heaven a roof, safe and well-guarded. Yet they turn away from its signs.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And we have made the sky a roof withheld (from them). Yet they turn away from its portents.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We made the sky a protected ceiling, but they, from its signs, are turning away.

— Saheeh International

We made the sky above them as a well-guarded ceiling, but they have neglected the evidence (of Our existence) therein.

— Muhammad Sarwar

And We have made the heaven a guarded canopy and (yet) they turn aside from its signs.

— Muhammad Habib Shakir

And We have made the heaven a roof, safe, and from the signs there of they are averters.

— Abdul Majid Daryabadi

And We have made the heavens as a canopy well guarded: yet do they turn away from the Signs which these things (point to)!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 21:32

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 30–33

زبردست غالب اللہ تعالیٰ اس بات کو بیان فرماتا ہے کہ اس کی قدرت پوری ہے اور اس کا غلبہ زبردست ہے۔ فرماتا ہے کہ جو کافر اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کرتے ہیں کیا انہیں اتنا بھی علم نہیں کہ تمام مخلوق کا پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے اور سب چیز کا نگہبان بھی وہی ہے پھر اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت تم کیوں کرتے ہو ؟ ابتدا میں زمین و آسمان ملے جلے ایک دوسرے سے پیوست تہ بہ تہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں الگ الگ کیا زمینیں پیدا کیں اور سات ہی آسمان بنائے۔ زمین اور پہلے آسمان کے درمیان جوف اور خلا رکھا۔ آسمان سے پانی برسایا اور زمین سے پیداوار اگائی۔ ہر زندہ چیز پانی سے پیدا کی۔ کیا یہ تمام چیزیں جن میں سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْبِیَآء 33 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة الحجر، حواشی نمبر 8، 10، 110۔ 120۔ سورة الْاَنْبِیَآء 34 یعنی ان نشانیوں کی طرف جو آسمان میں ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 31–32

وَجَعَلْنَا فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ اَنْ تَمِيْدَ بِهِمْ لفظ مید عربی زبان میں اضطرابی حرکت کو کہا جاتا ہے اور مراد آیت کی یہ ہے کہ زمین پر پہاڑوں کا بوجھ حق تعالیٰ نے اس کا توازن برقرار رکھنے کے لئے ڈال دیا ہے تاکہ وہ اضطرابی حرکت نہ کرسکے جس سے اس کے اوپر بسنے والوں کو نقصان پہنچے۔ اس کی فلسفیانہ تحقیق کہ پہاڑوں کے بوجھ کو زمین کے قرار میں کیا دخل ہے اس کی یہاں ضرورت نہیں۔ تفسیر کبیر وغیرہ میں اس کا مفصل بیان اہل علم دیکھ سکتے ہیں اور بقدر ضرورت سورة نمل کی تفسیر میں حضرت حکیم الامۃ نے تفسیر بیان القرآن میں بھی لکھ دیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آسمان اور اس کی نشانیوں کی اشارہ زمین کی بعض نمایاں نشانیوں کی طرف اشارہ کرنے کے بعد آسمان کی طرف توجہ دلائی۔ فرمایا کہ آخر یہ نشانیاں طلب کرنے والے آسمان کی اس ناپید کنارسقف نیلگوں کو کیوں نہیں دیکھتے جس کی وسعت و پہنائی کی کوئی حد نہیں لیکن اس کے باوجود اس کے اندر کسی معمولی سے معملوی خلل کی بھی کوئی نشان دہی نہیں کی جاسکتی۔ کوئی نہیں جانتا کہ یہ چھت کب بنی لیکن اس امتداد زمانہ کے باوجود نہ اس پر کوئی کہنگی طاری ہوئی، نہ اس میں کوئی نقص و خلل پیدا ہوا۔ ہر قسم کے دراڑا اور شگاف سے بالکل محفوظ یہ قائم و دائم ہے۔ یہی مضمون سورة ق میں یوں بیان ہوا ہے۔ افلم ینظروآ الی السمآء فوقھم کیف بینھا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

32۔ 1 زمین کے لئے محفوظ چھت، جس طرح خیمے اور قبے کی چھت ہوتی ہے یا اس معنی میں محفوظ کہ ان کو زمین پر گرنے سے روک رکھا ہے، ورنہ آسمان زمین پر گرپڑیں تو زمین کا سارا نظام تہ وبالا ہوسکتا ہے۔ یا شیاطین سے محفوظ جیسے فرمایا (وَحَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَيْطٰنٍ رَّجِيْمٍ) 45۔ الحجر :17)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

16: یعنی وہ گرنے اور ٹوٹنے پھوٹنے سے بھی محفوظ ہے، اور شیطانوں کی دست برد سے بھی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وجعلنا فیھا ۔۔۔۔۔۔۔ یھتدون (12 : 13) ” اور اس میں کشادہ راہیں بنا دیں شاید کہ لوگ اپنا راستہ معلوم کریں “۔ پہاڑروں کے درمیان کشادہ راہیں اور وادیاں ہیں تاکہ لوگ انمیں اپنے راستے متعین کریں۔ یہاں وادیوں اور شاہراہوں کا پہلا مفہوم تو یہ ہے کہ لوگ اس میں چلنے پھرنے کے راستے معلوم کریں لیکن اس میں ایک خفیہ سا اشارہ اس طرف بھی ہے کہ ان ظاہری راستوں سے وہ راہ ہدایت بھی معلوم کریں کیونکہ یہ پوری کائنات انسان کے لیے راہ ہدایت فراہم کرتی ہے۔ وجعلنا السمآء سقفا محفوظا (12 : 23) ” اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنادیا “۔ آسمان سے مراد ہر وہ چیز ہے جو اوپر نظر آئے۔ ہم جب سر کی سمت دیکھتے ہیں تو ہمیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی نہ گرے نہ ٹوٹے پھوٹے نہ بدلی جائے اور شیاطین کے استراق سمع سے بھی محفوظ ہے۔ اور چھت اس لیے کہا کہ دیکھنے میں چھت کی طرح معلوم ہوتی ہے۔ 11 کہ کیسی مضبوط و محکم اور وسیع و بلند چھت اتنی مدت سے بدون ستون اور کھمبے کے کھڑی ہے۔ ذرا سا رنگ و روغن اور پلاسٹر بھی نہیں جھڑتا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 32 وَجَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًاج وَّہُمْ عَنْ اٰیٰتِہَا مُعْرِضُوْنَ ” اس سے پہلے یہ مضمون سورة الحجر میں اس طرح بیان ہوا ہے : وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّزَیَّنّٰہَا للنّٰظِرِیْنَ۔ وَحَفِظْنٰہَا مِنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍ ”اور ہم نے آسمان میں برج بنائے ہیں اور اسے مزین کردیا ہے دیکھنے والوں کے لیے اور ہم نے حفاظت کی ہے اس کی ہر شیطان مردود سے“۔ یعنی آسمان دنیا پر جو ستارے ہیں وہ باعث زینت بھی ہیں ‘ لیکن دوسری طرف یہ شیاطین جن کے لیے میزائل سنٹر بھی ہیں۔ ان میں سے جو کوئی بھی اپنی حدود سے تجاوز کر کے غیب کی خبروں کی ٹوہ میں عالم بالا کی طرف جانے کی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

30 یعنی کائنات میں اللہ تعالیٰ کی ایسی بیشمار نشانیاں موجود ہیں جن میں غور کرنے سے باسانی انسان اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ ان اشیاء کو پیدا کرنے والی اور ان میں نظم و ضبط برقرار رکھنے والی ضرور کوئی نہ کوئی ہستی موجود ہے جو اتنی بااختیار، علیم اور مقتدر ہے کہ ان تمام اشیاء پر کنٹرول کر رہی ہے اور وہ ایک ہی ہوسکتی ہے اور یہ لوگ جو کسی نئی نشانی یا کسی نئے معجزہ کا مطالبہ کرتے ہیں تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان نشانیوں کی طرف توجہ ہی نہیں دیتے اگر وہ توجہ دیتے تو پھر انھیں کسی معجزہ کے مطالبہ کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

43۔ یعنی ہر طرح کی شکست ریخت، نقصان سے محفوظ۔ آسمان کے چھت ہونے یا عمارت حاشیہ سورة بقرہ پ 1 رکوع 4 گزر چکا۔ عدیم المثال بلندی اور عدیم المثال احاطت دونوں کے لحاظ سے آسمان کا جو بہترین صفاتی نام دیا جاسکتا ہے وہ چھت ہی کا ہوسکتا ہے۔ ہئیت و فلکیات کی ہر علمی اصطلاح سے کہیں بہتر اور کہیں واضح تر۔ 44۔ مقصود ان سارے مادی و طبعی حقائق کی طرف اشارہ کرنے سے یہ ہے کہ یہ سب اللہ کی توحید اور کمال صناعی ہی پر دلالت کررہی ہیں۔ (آیت) ” کل “۔ تنوین حذف مضاف کے ظاہر کرنے کو ہے۔ تقدیر کلام کلھم ہے۔ التنوین فیہ عوض من المضاف الیہ اے کلھم (کشاف)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 30–41

آیت نمبر 30 تا 41 ترجمہ : کیا کافر یہ نہیں جانتے کہ آسمان اور زمین (منہ) بند تھے ؟ اَوَلَمْ میں واؤ اور ترک واؤ دونوں ہیں رَتَقًا بمعنی سَدًّا ہے اور سَدًّا بمعنی مَسْدُوْدًا ہے پھر ہم نھے ان کو کھول دیا یعنی سات آسمان اور سات زمین بنادیں یا فتق سماء کا مطلب یہ ہے کہ آسمان سے بارش نہیں ہوتی تھی پھر بارش ہونے لگی، اور فتق ارض کا مطلب یہ ہے کہ زمین اگاتی نہیں تھی پھر اگانے لگی اور ہم نے آسمان سے برسنے والے اور زمینی چشموں سے نکلنے والے پانی سے ہر جاندار کو بنایا گھاس وغیرہ کو لہٰذا پانی ہر جاندار کے لئے سبب حیات ہے پھر بھی میری توحید پر ایمان نہیں لاتے اور ہم نے زمین پر ثابت رہنے والے پہاڑ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وجعلنا السمآء سقفاً محفوظا وہم عن ایتہا معرضون۔ اور ہم نے آسمان کو (مثل ایک) چھت (کے) بنایا جو محفوظ ہے اور وہ لوگ اس کے اندر کی نشانیوں سے اعتراض کئے ہوئے ہیں (غور نہیں کرتے) یعنی ہم نے آسمان کو گرنے سے محفوظ بنایا محض اپنی قدرت سے بغیر ستونوں کے سہارے کے۔ یا قیامت تک ٹوٹنے ‘ پھوٹنے تباہ و برباد ہونے اور بگڑنے سے محفوظ کردیا۔ یا اس بات سے محفوظ کردیا کہ کوئی شیطان اوپر چڑھ کر چوری چھپے کوئی خبر سن نہ پائے۔ عن ایاتہا یعنی چاند ‘ سورج ستارے اور ان کے مختلف احوال جو صانع کے وجود ‘ وحدت کمال قدرت اور وسعت حکمت پر دلالت کر رہے ہیں ان کی طرف سے وہ لوگ روگرداں ہیں غور نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(32) اور آسمان کو زمین کے اوپر چھت بنایا جو گرنے سے بھی اور بذریعہ ستاروں کی مار کے شیاطین سے بھی محفوظ ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَجَعَلْنَا السَّمَاۗءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا : زمین کے چند عجائب کے ذکر کے بعد آسمان کے عجائب کی طرف متوجہ فرمایا۔ لوگوں کی بنائی ہوئی چھوٹی سی چھتیں بھی دیواروں یا ستونوں کے بغیر قائم نہیں رہ سکتیں اور پھر ان میں ٹوٹ پھوٹ کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ان سے گرنے والی چیزیں کسی نہ کسی نقصان کا باعث بنتی ہیں، وہ جتنی دیر بھی رہیں آخر گر پڑتی ہیں۔ چور ان میں نقب لگا کر مال و متاع چرا کرلے جاتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے آسمان کو زمین کے لیے ایسی چھت بنایا جو ستونوں کے بغیر قائم ہے۔ دیکھیے سورة رعد (2) اور لقمان (10) اور گرنے سے ہر طرح سے محفوظ ہے۔ دیکھیے سورة فاطر (41) اور سورة حج (65) اس سے کوئی نقصان…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 32–33

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وجعلنا السمآء سقفا محفوظا یعنی گرنے اور زمین پر سقوط سے محفوظ کیا، اس کی دلیل یہ ارشاد ہے : و یمسسک السمآء ان تقع علی الارض الا باذنہ (الحج :65) بعض علماء نے فرمایا : اس کا مطلب ہے ستاروں کے ذریعے، شیطانوں سے اس کو محفوظ کیا، یہ فراء کا قول ہے اس کی دلیل یہ ارشاد ہے : وحفظنھا من کل شیطن رحیم۔ (الحجر :17) بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے ٹوٹنے پھوٹنے سے محفوظ بنایا اور اس سے محفوظ کیا کہ کوئی حیلہ کے ساتھ اس تک پہنچ سکے۔ بعض نے فرمایا : ایسا محفوظ بنایا کہ ستون کا محتاج نہیں۔ مجاہد نے محفوظ کا معنی مرفوعاً (بلند کیا گیا) بیان کیا ہے۔ بعض نے فرمایا : شرک اور معاصی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 31–33

1:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجعلنا فیھا فجاجا سبلا “ یعنی ہم نے پہاڑوں کے درمیان کھلے کھلے راستے بنائے۔ 2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فجاجا “ سے مراد ہے نشانات (آٰیت) ” سبلا “ یعنی راستے۔ 3:۔ فریابی، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجعلنا السمآء سقفا محفوظا “ میں محفوظا سے مراد ہے مرفوعا یعنی بلند (آیت) ” وھم عن ایتھا معرضون “ یعنی سورج چاند اور ستارے آسمان کی نشانیوں میں سے ہیں۔ 4:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ یہودیوں نے نبی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَجَعَلْنَا : اور ہم نے بنایا ] [ السَّمَاۗءَ : آسمان کو ] [ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا : ایک محفوظ چھت ] [ وَّهُمْ : اور وہ لوگ ] [ عَنْ اٰيٰـتِهَا : اس (آسمان) کی نشانیوں سے ] [ مُعْرِضُوْنَ : اعراض کرنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 30–32

مزید دلائل توحید کا بیان، تخلیق ارض و سما، پہاڑوں کا جما دینا اور شمس و قمر کا ایک ہی دائرہ میں گردش کرنا ان آیات میں اللہ جل شانہٗ نے اپنی صفت خالقیت کو بیان فرمایا ہے اور مخلوق میں جو بڑی بڑی چیزیں ہیں ان کو بطور نشانی کے پیش فرما کر اہل کفر کو ایمان کی دعوت دی ہے۔ ارشاد فرمایا کہ کافروں کو یہ معلوم نہیں کہ آسمان و زمین سب بند تھے۔ نہ آسمان سے بارش ہوتی تھی نہ زمین سے کچھ پیدا ہوتا تھا۔ پھر ہم نے انہیں اپنی قدرت سے کھول دیا۔ بارشیں بھی خوب ہونے لگیں اور زمین سے نباتات بھی نکلنے لگی۔ یہ چیزیں منکرین کے سامنے ہیں۔ کچھ لوگ تو خالق ومالک کو مانتے ہی نہیں اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو مانتے تو ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 30–33

بیان دلائل قدرت برائے اثبات وحدانیت قال اللہ تعالیٰ اولم یر الذین کفروا ان السموت والارض کانتا رتقا .... الیٰ .... کل فی فلک یسبحون۔ (ربط) گزشتہ آیت میں تخلیل عالم اور دلیل توحید کا ذکر تھا اور اس سے پہلے اس بات کا ذکر تھا کہ ہم نے اس عالم کو عبث اور باطل اور بیکار اور بےفائدہ نہیں بنایا بلکہ انواع اقسام کے صنائع اور بدائع سے مملو پیدا کیا تاکہ نظر کرنے والوں کے لیے تبصرہ اور عبرت پکڑنے والوں کے لیے تذکرہ ہوجائیں اور جس سے بندوں کے امور معاش اور معاد منتظم ہوں اور ان کو دیکھ کر ان کے خالق اور تدبر کو پہچائیں اور اس کے واحد قہار ہونے پر استدلال کریں۔ اب آئندہ آیات میں کچھ اور دلائل قدرت و حکمت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 29–32

22:۔ یہ جواب شکوی کی تمام شقوں پر متفرع ہے۔ یعنی فرشتے تو اللہ کے باعزت لیکن عاجز اور فرمانبردار بندے ہیں۔ وہ اس لائق نہیں کہ نظام کائنات میں دخیل ہوں یا عبادت اور پکار کے مستحق ہوں۔ بلکہ ان کا کام تو یہ ہے کہ ہر وقت اللہ کی اطاعت و عبادت میں مصروف رہیں۔ لیکن اگر بہ فرض محال ان میں سے کوئی الوہیت کا دعوی کر بیٹھے اور اپنی عبادت اور پکار کی طرف دعوت دینے لگے تو ہم اسے ہرگز معاف نہیں کریں گے بلکہ جہنم کے سخت عذاب میں مبتلا کردیں گے جو ظالموں اور باغیوں کی سزا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 30–32

ربط آیات : ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کا ذکر کیا۔ پھر شرک کرنیوالوں کی تردید فرمائی اور توحید کے دلائل بیان کیے۔ انبیاء کے متعلق فرمایا کہ وہ سب اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے بیان کرنے پر متفق تھے۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے وحدانیت کے حق میں بعض دلائل کی طرف اشارہ فرمایا ہے ، اور کفر کرنے والوں کا رد کیا ہے ۔ فرمایا ہے کہ اگر لوگ ان دلائل میں غوروفکر کریں تو اللہ کی وحدانیت آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے مگر یہ لوگ ایسا نہیں کرتے۔ رئویت کا مفہوم : ارشاد ہوتا ہے اولم یرالذین۔۔۔۔۔ کیا نہیں دیکھا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا۔ یہاں پر رئویت کا معنی غور وفکر کرنا اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَجَعَلْنَا السَّمَاۗءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا۝ 0 وَّہُمْ عَنْ اٰيٰـتِہَا مُعْرِضُوْنَ۝ 32 سقف سَقْفُ البیت، جمعه : سُقُفٌ ، وجعل السماء سقفا في قوله تعالی: وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوعِ [ الطور/ 5] ، وقال تعالی: وَجَعَلْنَا السَّماءَ سَقْفاً مَحْفُوظاً [ الأنبیاء/ 32] ، وقال : لِبُيُوتِهِمْ سُقُفاً مِنْ فِضَّةٍ [ الزخرف/ 33] ، والسَّقِيفَةُ : كلّ مکان له سقف، کالصّفّة، والبیت، والسَّقَفُ : طول في انحناء تشبيها بالسّقف ( س ق) سقف البیت مکان کی چھت کر کہتے ہیں اس کی جمع سقف ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ لِبُيُوتِهِمْ سُقُفاً مِنْ فِضَّةٍ [ الزخرف/ 33]( ہم ) ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنادیتے ۔ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

(5) وجعلنا السماء سقفا محفوظا آسمان کو چھت زمین سے فوقیت کے لحاظ سے کہا جاتا ہے۔ اب رہا اس کا محفوظ ہونا سو وہ کئی وجہ سے ہے۔ ایک یہ کہ وہ گرنے اور پرانا ہونے سے محفوظ ہے اور گھروں کی چھتوں کی مانند وہ نہیں کقولہ ویمسک السماء ان تقع علی الارض الاباذنہ دوم یہ کہ شیاطین سے محفوظ ہے شیاطین کو وہاں تک رسائی نہیں کماقال وحفظنا ھا من کل شیطان رجیم۔ زمین گویا فرش اور آسمان اس کی چھت ہے اور یہ ایک عمدہ گھر ہے جس کی روشنی کی قندیلیں آفتاب و ماہتاب ہیں اور اسی طرح سیارے بھی۔ جن کا آگے ذکر فرماتا ہے پھر یہ تمام مخلوق جو اس کے گھر میں اس کی نعمت کھاپی رہے اور یہ گھر اور اس کی نعمتیں جو روز اپنے مہمانوں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَجَعَلْنَا السَّمَـآئَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا صلے ج وَّھُمْ عَنْ اٰیٰـتِھَا مُعْرِضُوْنَ ۔ (الانبیاء : 32) (اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنایا اور وہ لوگ اس کی نشانیوں سے روگردانی کیے ہوئے ہیں۔ ) آسمان کی نشانیوں کی طرف اشارہ اسی سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ معجزات طلب کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ اس ناپیداکنار سقف نیلگوں کو کیوں نہیں دیکھتے جس کی وسعت کا عالم یہ ہے کہ آج تک انسانی پیمانے اسے ناپ نہیں سکے اور جس کی بلندی کا حال یہ ہے کہ انسان اسے دیکھتا ہے لیکن آج تک وہاں تک رسائی حاصل نہیں کرسکا۔ اور یہ بھی معلوم نہیں کرسکا کہ یہ چھت کب بنائی گئی لیکن حیرانی کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 32–33

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے اِلٰہ ہونے کا چھٹا، ساتواں اور آٹھواں ثبوت۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو زمین والوں کے لیے محفوظ چھت بنایا۔ اس کے باوجود لوگ اپنے رب کی نشانیوں سے اعراض کرتے ہیں۔ اسی نے رات اور دن پیدا کیے، چاند اور سورج بنائے جو فضا میں تیر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو کسی ستون کے بغیر چھت بنایا یہ ایسی مضبوط چھت ہے کہ نامعلوم کتنے عرصہ سے قائم ہے اور اس وقت تک قائم رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ اسے قائم رکھے گا اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھنے والے کو بالکل ہموار، صاف اور شفاف نظر آتی ہے۔ نہ اس کا رنگ بدلا ہے اور نہ ہی اس میں کوئی دراڑ اور جھکاؤ واقع ہوا ہے۔ ارشاد فرمایا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

32ـ : وَجَعَلْنَا السَّمَآ ئَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا (اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنایا) کہ وہ گرنے سے بچی ہوئی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ویمسک السماء ان تقع علی الارض الا باذنہٖ الحج : 65 نمبر 2۔ محفوظ کا مطلب شہابوں کے ذریعہ شیاطین سے ان کی حفاظت کردی جیسا کہ فرمایا : وحفظنٰھا من کل شیطان رجیم ] الحجر : 17 [ وَّھُمْ عَنْ ٰایٰتِھَا (وہ کافر اس کی نشانیوں سے) ہمؔ سے مراد کفار ہیں آیات سے مراد سورج، چاند، ستارے۔ مُعْرِضُوْنَ (اعراض کرنے والے ہیں) ان میں غورو فکر نہیں کرتے کہ ایمان لائیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

32۔ وجعلناالسماء سقفا محفوظا، ، کہ وہ تم پر گرجائے۔ اس کے گرنے سے محفوظ بنالیا۔ ویمسک السماء ان تقع علی الارض الاباذنہ، ، بعض نے کہا کہ آسمان کو محفوظ کردیاشہاب ثاقب کے ساتھ۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ، وحفظناھا من کل شیطان رجیم۔ وھم ، اس سے کفار مراد ہیں۔ عن ایا تھا، یعنی چاند ستارے ، سورج اور ان کے مختلف احوال جو صانع کے وجود وحدوث اور کمال قدرت اور وسعت حکمت پر دلالت کررہے ہیں ان کی طرف سے وہ لوگ روگرداں ہیں غور نہیں کرتے۔ معرضون، اس میں غور و فکر نہیں کرتے اور نہ ہی عبرت پکڑتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 30–33

30۔ 33:۔ اگرچہ پہلی آیت کی تفسیر میں سلف کے کئی قول ہیں مگر بیہقی کی کتاب اسماء وصفات ‘ تفسیر عبد بن حمید اور مستدرک 1 ؎ حاکم میں معتبر سند سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے جس میں انہوں نے کانتا رتقا ففتقنھما کی تفسیر یوں بیان فرمائی ہے کہ آسمان بند تھا ‘ اس میں مینہ برسنے کی تاثیر نہیں تھی ‘ اللہ تعالیٰ نے اس میں مینہ برسنے کی تاثیر پیدا کی اسی طرح زمین بند تھی ‘ اس میں کسی طرح کی پیداوار نہیں تھی ‘ اللہ تعالیٰ نے اس میں پیداوار کی قوت پیدا کی ‘ حافظ ابو جعفر ابن جریر نے سلف کے سب قولوں میں سے اسی قول کو معتبر ٹھہرایا ہے ‘ آخر آیت میں اللہ تعالیٰ نے بھی مینہ کا ذکر فرمایا ہے ‘ اس واسطے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 31–33

آیت 31- یعنی یہ بات اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کے کمال، اس کی وحدانیت اور رحمت پر دلیل ہے کہ جب زمین میں پہاڑوں کے بغیر ٹھہراؤ نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے ذریعے سے اس میں ٹھہراؤ پیدا کیا تاکہ وہ بندوں کے ساتھ جھک نہ جائے یعنی زمین میں اضطراب پیدا نہ ہو اور بندے سکون اور کھیتی باڑی کرنے سے محروم نہ رہ جائیں اور کہیں ایسا نہ ہو کہ زمین میں ٹھہراؤ نہ رہے۔۔۔۔۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے ذریعے سے زمین کو ٹھہراؤ عطا کیا تب اس سبب سے بندوں کو جو بہت سے مصالح اور منافع حاصل ہوئے، وہ محتاج وضاحت نہیں۔ چونکہ پہاڑ ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں اور ان میں بہت زیادہ اتصال ہے۔ اگر اسی حالت اتصال میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

41 آسمان کی نشانیوں میں دعوت غور و فکر : سو آسمان کی سقف محفوظ اس مالک الملک کی وحدانیت مطلقہ کا ایک اور عظیم الشان مظہر و ثبوت ہے۔ ایسی محفوظ اور اس قدر مضبوط چھت جو نہ گرتی ہے اور نہ اس میں کوئی ٹوٹ پھوٹ اور شکست و ریخت ہوتی ہے۔ اور جو تمام سیاروں ستاروں کے بالائی نظام کو سنبھالے ہوئے ہے۔ اور اس طرح آسمان کا یہ سقف محفوظ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی قدرت اور اس کی عظمت و عنایت کے ایک عظیم الشان شاہکار کے طور پر دنیا پر تنا ہوا اور ان کو ہر وقت اور ہر جگہ درس عبرت دے رہا ہے اور اپنی زبان حال سے پکار پکار کر اہل دنیا کو دعوت غور و فکر دے رہا ہے کہ وہ اپنے خالق ومالک کی عظمت کو پہچان کر صدق دل سے اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 30–35

کائنات اور انسان کی پیدائش کے راز تشریح : یہ آیات سائنسی نکات اور بڑے بڑے رازوں کو ظاہر کرتی ہیں۔ جبکہ بظاہر تخلیق کائنات، تخلیق حیوانات، جمادات، نباتات اور تمام اجرام فلکیات کا ذکر ہے کہ یہ سب اللہ نے بنائے ہیں۔ انسان کی آزمائش کے لیے اس کو نعمتیں دیں اور پھر بتایا کہ زندگی ختم ہونے والی چیز ہے۔ اور پھر آخرت کا بھی بتا دیا کہ مرنے کے بعد تم کہاں جاؤ گے اور اس نے ذرے سے لے کر آسمان تک ہر چیز کا حساب کتاب بڑی وضاحت سے اپنے پاس لکھ رکھا ہے۔ آیت 30 میں بہت بڑا انکشاف ہے۔ کہ زمین آسمان جڑے ہوئے تھے تو ان کو ہم نے علیحدہ کردیا۔ علم فلکیات نے جب تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ واقعی زمین و آسمان جڑے ہوئے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 30–41

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف کیا کافر جان نہیں چکے کہ آسمان اور زمین پہلے بند تھے یعنی اب تو عقل انسانی نے بھی یہ بات دریافت کرلی ہے کہ نہ آسمانوں سے بارش برستی تھی اور نہ زمین میں روئیدگی تھی اور نہ ان کی صورت اس قابل تھی پھر رب کریم نے معمورہ عالم کو بسانا چاہا تو انہیں کھول دیا یعنی اس نظام حیات کو رواں کردیا سورج کی گرمی و روشنی اور ہواؤں کی آمد وشد اپنا اپنا کام دکھانے لگی ، بادل برسنے لگے اور زمین سے رنگا رنگ چیزیں پیدا ہونے لگیں لیکن یہ سب اتفاقا نہیں ہو رہا بلکہ اللہ کریم کا نظام ہے جس کی ایک اصل یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ نے ہر شے کی حیات خواہ حیوانات ہوں یا نباتات پانی پر مقرر کردی ہے ،…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 32–33

ف 2 امام رازی لکھتے ہیں کہ پہلی تشریح زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس سے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی عظمت کا اظہار ہوتا ہے گو دوسری تشریح بھی غلط نہیں ہے۔ دیکھیے (سورج حج 65، فاطر 41، حجرات :17) 3 جیسے چاند سورج اور تارے وغیرہ

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(21:32) ایتھا۔ اس کی نشانیاں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب السماء کی طرف راجع ہے ۔ ایتھا ای ما خلق اللہ فیھا من الشمس والقمر والنجوم وکیفیۃ حرکا تہافی افلاکھا ومطالعھا ومغاربھا وغیرہم۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آسمانوں میں سورج۔ چاند۔ ستارے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ پھر ان کے افلاک میں دائمی گھومتے رہنا ان کے طلوع ان کے غروب کی کیفیات وغیرہم۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 30–33

لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 33 رتق ایک دوسرے میں گھسے ہوئے۔ ملے ہوئے۔ فتقنا ہم نے الگ الگ کردیا۔ جدا کردیا۔ حی زندہ۔ رواسی (راسیۃ) بوجھ، جمی ہوئی چیزیں، بوجھل۔ ان تمید یہ کہ جھک پڑے، ایک طرف کو ڈھلک جائے۔ فجاج (فج) کھلے ہوئے پہاڑی درے۔ سقف چھت، سائبان۔ فلک گول چیز، گھومنا، مدار۔ یسبحون وہ تیرتے ہیں۔ بلا روک ٹوک راستے پر چلتے ہیں۔ تشریح : آیت نمبر 30 تا 33 وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی ذات ، اس کی قدرت کا ملہ اور آخرت کا انکار کرتے ہیں ان سے فرمایا جا رہا ہے اس اللہ نے انسان کے اس دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے ہی زمین و آسمان کو پیدا کر کے سارے اسباب مہیا کردیئے تھے پانی کو پیدا کیا تاکہ اس کے ذریعے ہر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 30–33

توحید کا ذکر۔ (ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابن عباس اور جمہور مفسرین رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کے معنی یہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو جو کہ بند تھے کھول دیا یعنی آسمان سے مینہ نہ برستا تھا ہم نے برسادیا، زمین میں نباتات اگانے کی صلاحیت نہ تھی ہم نے پیدا کرائی کیا کفار اس بات کو نہیں آزماچکے ، ہر سال گرمی اور جاڑے کی شدت میں جب بارش نہیں ہوتی اور زمین میں کچھ پیدا نہیں ہوتا دیکھتے ہیں کہ آسمان اور زمین بند ہوجاتے ہیں اللہ تعالیٰ ہی اپنی قدرت سے ان کو کھولتا ہے مینہ برساتا ہے سبزہ اگاتا ہے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی وہی نشانی ہر وقت ان لوگوں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[20] یعنی گرے نہ ٹوٹے پھوٹے نہ بدلی جائے اور شیاطین کی چوری چھپے آسمانی خبروں کی سن گن لینے سے بھی محفوظ ہے۔ اور چھت اس لئے کہا کہ دیکھنے میں چھت کی طرح معلوم ہوتا ہے۔ [21] یعنی ان نشانیوں سے جو آسمان میں ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 30–32

(ف 2) طبعیات اور علم الحیات کے ماہرین کی تازہ ترین تحقیقات یہ ہے کہ آسمان اور زمین درحقیقت ایک ہی کرہ تھے ، بعد میں نامعلوم وجوہ کی بنا پر انفصال ہوا ، اور یہ دونوں الگ الگ ہوگئے نیز یہ کہ ابتدا میں بحری جانور پیدا ہوئے ، بعد میں دوسری زندہ چیزیں ظہور پذیر ہوئیں ، گویا پانی ہی زندگی کا باعث بنا ہے اور یہیں سے حیات کا آغاز ہوا ۔ غور فرمائیے ، قرآن حکیم بھی اس آیت میں اسی حقیقت کا اظہار کرتا ہے ، مگر کب سے ، آج سے چودہ سو سال قبل سے جب کہ موجودہ علوم وفنون کا وجود تک نہ تھا ۔ حل لغات : مشفقون : اشفاق سے ہے ، ڈر اور خوف ۔ رتقا : انضمام ، باہم ملنا ، مفعول کے معنوں میں ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-32 اور ہم نے اپنی قدرت کاملہ سے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنایا اور ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ یہ اس کی نشانیوں سے اعراض اور روگردانی کرتے ہیں۔ یعنی آسمان ایک چھت کی طرح معلوم ہوتا ہے نہ ٹوٹتا ہے نہ پرانا ہوتا ہے نہ اس میں کوئی شگاف اور ڈراڑ ہے یغیر کسی ستون کے قائم ہے ہر طرح سے محفوظ ہے کسی شیطان رجیم کو اس میں جانے کی ہمت نہیں اس کی نشانیاں یہ کہ اندھیرا اجالا رات اور دن کا تغیر و تبدل ان باتوں پر دھیان نہیں دیتے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں بچائو کی چھت یعنی کوئی اس کو توڑ نہیں سکتا اور اس کے نمونے تارے اور چاند اور رات اور دن 11

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ یعنی محفوظ بنایا گرن سے بھی، ٹوٹنے سے بھی، شیاطین کے استراق اخبار سے بھی اور یہ محفوظیت دہر طویل تک رہے گی، ابدیت کے ساتھ موصوف نہیں۔ 6۔ یعنی ان میں تدبر نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آسمانوں کو ایک چھت کی طرح محفوظ بنا دیا گیا لیکن لوگ ان نشانات پر غور نہیں کرتے : 32۔ زمینی نشانات کے بعد دوبارہ آسمان کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے اور نصائح کا معاملہ اسی طرح چلتا رہتا ہے کہ ایک بات نصیحت آمیز کی جس کا تعلق بچپن کے ساتھ تھا لیکن معا اس کے بڑھاپے کی طرف ذہن چلا گیا اور پھر جو لوٹا تو جوانی کی طرف رخ پھر گیا اور اس طرح دوبارہ بات کرنے لگے تو پھر بچپنا اس کا یاد آگیا چونکہ انسان اکثر نصائح اور بہلاوے کی باتیں اسی طرح کرتا ہے لہذا یہی انداز اس جگہ اختیار کیا گیا ۔ اس جگہ آسمان سے مراد وہ پورا عالم بالا ہے جسے انسان شب وروز اپنے اوپر چھایا ہوا دیکھتا ہے جس میں دن کو سورج چمکتا ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 31–32

وَجَعَلْنَا فِي الْأَرْ‌ضِ رَ‌وَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِهِمْ (And We created mountains on the earth, lest it should shake with them. 21:31) The word مَید (mayd) in Arabic language means to be convulsed. Therefore, the meaning of this verse is that Allah Ta` ala has planted mountains on the earth to hold it in place because any violent movement of the earth would be catastrophic to those who live on it.

Read the full tafseer →