Explained with ayahs 30–33
زبردست غالب
اللہ تعالیٰ اس بات کو بیان فرماتا ہے کہ اس کی قدرت پوری ہے اور اس کا غلبہ زبردست ہے۔ فرماتا ہے کہ جو کافر اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کرتے ہیں کیا انہیں اتنا بھی علم نہیں کہ تمام مخلوق کا پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے اور سب چیز کا نگہبان بھی وہی ہے پھر اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت تم کیوں کرتے ہو ؟ ابتدا میں زمین و آسمان ملے جلے ایک دوسرے سے پیوست تہ بہ تہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں الگ الگ کیا زمینیں پیدا کیں اور سات ہی آسمان بنائے۔ زمین اور پہلے آسمان کے درمیان جوف اور خلا رکھا۔ آسمان سے پانی برسایا اور زمین سے پیداوار اگائی۔ ہر زندہ چیز پانی سے پیدا کی۔ کیا یہ تمام چیزیں جن میں سے…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْبِیَآء 35
کُلٌّ اور یَسْبَحُوْنَ کے الفاظ بتاتے ہیں کہ مراد صرف سورج اور چاند ہی نہیں ہیں بلکہ دوسرے اجرام فلکی، یعنی تارے بھی مراد ہیں، ورنہ جمع کے بجائے تثنیہ کا صیغہ استعمال کیا جاتا۔ فَلَکِ جو فارسی کے چرخ اور گردوں کا ٹھیک ہم معنی ہے، عربی زبان میں آسمان کے معروف ناموں میں سے ہے۔ " سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں " سے دو باتیں صاف سمجھ میں آتی ہیں۔ ایک یہ کہ یہ سب تارے ایک ہی " فلک " میں نہیں ہیں بلکہ ہر ایک کا فلک الگ ہے۔ دوسرے یہ کہ فلک کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس میں یہ تارے کھونٹیوں کی طرح جڑے ہوئے ہوں اور وہ خود انہیں لیے ہوئے گھوم رہا ہو، بلکہ وہ کوئی سیال شے ہے یا فضا اور…
Read the full tafseer →كُلٌّ فِيْ فَلَكٍ يَّسْبَحُوْنَ لفظ فلک دراصل ہر دائرے اور گول چیز کو کہا جاتا ہے اسی وجہ سے چرغے میں جو گول چمڑا لگا ہوتا ہے اس کو فلکۃ المغزل کہتے ہیں (روح) اور اسی وجہ سے آسمان کو بھی فلک کہہ دیا جاتا ہے۔ یہاں مراد شمس و قمر کی وہ مداریں ہیں جن پر وہ حرکت کرتے ہیں۔ الفاظ قرآن میں اس کی کوئی تصریح نہیں ہے یہ مداریں آسمان کے اندر ہیں یا باہر فضاء میں حالیہ خلائی تحقیقات نے واضح کردیا ہے کہ یہ مداریں آسمان کے اندر ہیں یا باہر فضاء میں۔ حالیہ خلائی تحقیقات نے واضح کردیا ہے کہ یہ مداریں خلاء اور فضاء میں آسمان سے بہت نیچے ہیں۔
اس آیت کے ظاہر سے یہ بھی مفہوم ہوتا ہے کہ آفتاب بھی ایک مدار پر حرکت…
Read the full tafseer →آسمان کی طرف اشارہ کرنے کے بعد آسمان کی نمایاں نشانیوں کی طرف توجہ دلائی کہ وہی خدا ہے جس نے رات اور دن، سورج اور چاند پیدا کئے۔ ہر چندان میں باہمدگر نسبت اضداد کی ہے لیکن یہ پورے توافق اور کامل ہم آہنگی کے ساتھ اس کائنات کی خدمت میں سرگرم عمل ہیں۔ یہ اس بات کی شہادت ہے کہ ایک ہی قوت قاہرہ کے ہاتھ میں ان کی باگ ہے جو دنیا کے مجموعی مفاد کے لئے ان کو مسخر کئے ہوئے ہے۔
کل فی فلک یسبحون کل سے مراد سورج اور چاند ہیں۔ ہم دور سے محل میں ذکر کرچکے ہیں کہ لفظ کل جب اس طرح آتا ہے تو یہ معرفہ کے حکم میں ہوتا ہے اور اس سے مراد سابق الذکر چیزیں ہی ہوتی ہیں عام اس سے کہ وہ دو ہیں یا اس سے زائد فرمایا کہ…
Read the full tafseer →33۔ 1 یعنی رات کو آرام اور دن کو معاش کے لئے بنایا، سورج کو دن کی نشانی چاند کو رات کی نشانی بنایا، تاکہ مہینوں اور سالوں کا حساب کیا جاسکے، جو انسان کی اہم ضروریات میں سے ہے۔
33۔ 2 جس طرح پیراک سطح آب پر تیرتا ہے، اسی طرح چاند اور سورج اپنے اپنے مدار پر تیرتے یعنی رواں دواں رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →17: قرآن کریم میں اصل لفظ ”فلک“ ہے جو عربی زبان میں گول دائرے کو کہتے ہیں۔ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی، اس وقت فلکیات میں یہ بطلیموسی نظریہ دنیا پر چھایا ہوا تھا کہ چاند سورج اور دوسرے سیارے آسمانوں میں جڑے ہوئے ہیں، اور آسمان کی گردش کے ساتھ وہ سیارے بھی گردش کرتے ہیں۔ لیکن اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جو الفاظ اختیار فرمائے، وہ اس بطلیموسی نظریے پر پوری طرح منطبق نہیں ہوتے، اس کے بجائے اس آیت کے مطابق ہر سیارے کا اپنا مدار ہے جس میں وہ ”تیر رہا ہے“۔ تیرنے کا لفظ بطور خاص قابل توجہ ہے، جو خلا میں تیرنے پر زیادہ صادق آتا ہے۔ سائنس اس حقیقت تک بھی بہت بعد میں پہنچی ہے کہ سیارے خلا میں تیر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →وھوالذی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یسبحون (12 : 33) ” وہ اللہ ہی ہے جس نے رات اور دن بنائے اور سورج اور چاند کو پیدا کیا ‘ سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں “۔ رات اور دن اس کائنات کے دو اہم رنگ ہیں اور شمس و قمر دو بڑے اجرام ہیں۔ ان دونوں کا اس کرئہ ارض پر انسانی زندگی سے گہرا تعلق ہے ‘ بلکہ نفس حیات سے ان کا گہرا تعلق ہے ‘ پھر گردش لیل و نہار اور حرکت شمس و قمر کو اگر غور سے دیکھا جائے تو زمانہ دراز سے یہ نہایت ہی دقیق ٹائم کے مطابق چل رہے ہیں۔ کبھی بھی اس ٹائم ٹیبل میں خلل نہیں پڑا اور مسلسل حرکت ہے بلا کسی معمولی وقفے کے۔ یہ امور اس قابل ہیں کہ انسان ان پر غور کرے اور معلوم کرے کہ اس کائنات کے لیے ایک ہی…
Read the full tafseer →12 یہ ان ہی آسمانی نشانیوں کی قدرے تفصیل ہوئی۔
13 یعنی سورج چاند بلکہ ہر سیارہ اپنے مدار پر پڑا چکر کھا رہا ہے۔ " یَسْبَحُوْنَ " کے لفظ سے ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیارات اللہ کے حکم سے بذات خود چلتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
اَفَاْءِنْ مِّتَّ فَہُمُ الْخٰلِدُوْنَ ”
آپ ﷺ کے یہ مخالفین ابوجہل ‘ ابولہب وغیرہ ہمیشہ کی زندگیاں لے کر تو نہیں آئے۔ ان سب کو ایک دن مرنا ہے اور ہمارے سامنے پیش ہونا ہے۔
Read the full tafseer →31 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نام تو دو سیاروں سورج اور چاند کا لیا اور بعد میں فرمایا سب (اپنے اپنے) فلک میں تیر رہے ہیں۔ جس سے بہت سے حقائق کا پتہ چلتا ہے۔
(1) سبح کے معنی پانی یا فضا میں تیرنا یا تیز رفتاری سے گزر جانا ہے۔ گویا سیارے فضا یا خلا میں تیز رفتاری سے گردش کر رہے ہیں۔
(2) سورج اور چاند کے علاوہ بھی جتنے سیارے ہیں وہ سب کے سب محو گردش ہیں۔
(3) چاند کی طرح سورج ہی یقیناً محو گردش ہے۔ یہاں ایک نہایت اہم سوال سامنے آتا ہے۔ جو یہ ہے کہ آیا ہماری زمین ساکن ہے اور سورج اس کے گرد گھوم رہا ہے یا سورج ساکن ہے اور زمین اس کے گرد گھوم رہی ہے ؟ یہ ایسا سوال ہے جس کے جواب میں آج تک چار مختلف…
Read the full tafseer →45۔ (اور جو قاعدہ قانون ان کیلئے بنادیا گیا ہے، اس سے باہر نہیں جاسکتے) اور یہ ضمیر (آیت) ” ھم “ جنس طوالع کی جانب ہے۔ الضمیر للشمس والقمر والمراد بھما جنس الطوالع (کشاف) الغرض الدلالۃ علی الجنس (کشاف)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–41
آیت نمبر 30 تا 41
ترجمہ : کیا کافر یہ نہیں جانتے کہ آسمان اور زمین (منہ) بند تھے ؟ اَوَلَمْ میں واؤ اور ترک واؤ دونوں ہیں رَتَقًا بمعنی سَدًّا ہے اور سَدًّا بمعنی مَسْدُوْدًا ہے پھر ہم نھے ان کو کھول دیا یعنی سات آسمان اور سات زمین بنادیں یا فتق سماء کا مطلب یہ ہے کہ آسمان سے بارش نہیں ہوتی تھی پھر بارش ہونے لگی، اور فتق ارض کا مطلب یہ ہے کہ زمین اگاتی نہیں تھی پھر اگانے لگی اور ہم نے آسمان سے برسنے والے اور زمینی چشموں سے نکلنے والے پانی سے ہر جاندار کو بنایا گھاس وغیرہ کو لہٰذا پانی ہر جاندار کے لئے سبب حیات ہے پھر بھی میری توحید پر ایمان نہیں لاتے اور ہم نے زمین پر ثابت رہنے والے پہاڑ…
Read the full tafseer →وہو الذی خلق اللیل والنہار والشمس والقمر کل فی فلک یسبحون۔
اور وہ ایسا ہے کہ اسی نے رات و دن اور سورج اور چاند بنائے ہر ایک۔ ایک ایک دائرے میں تیر رہے ہیں۔
یہ بعض آیات ربوبیت والوہیت کا بیان ہے۔ کُلٌّیعنی ہر ایک فی فلک یعنی مدار نجوم جو سب ستاروں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے (قاموس) فلک کی جمع افلاک آتی ہے۔ عربی زبان میں ہر گول گھیرے کو فلک کہتے ہیں تکلے کے دمر کہ کو بھی اسی مناسبت سے فلک کہا جاتا ہے حسن نے کہا فلک تکلے کے دمر کہ کی شکل کی ایک چکی سے مراد یہ ہے کہ چکی کے گول چکر کی طرح ستارے دائرہ میں چلتے ہیں یعنی ستاروں کی رفتار مستدیر ہے۔ قتادہ نے کہا فلک سے مراد آسمان ہے جس کے اندر ستارے…
Read the full tafseer →(33) اور یہ اہل مکہ اس آسمان کے اندر کی نشانیوں سے یعنی چاند، سورج، ستاروں سے اعراض کیے ہوئے ہیں ان میں تدبر اور غور و فکر نہیں کرتے، اور اس نے چاند وسورج کو مسخر کیا کہ ہر ایک ایک، الگ الگ دائرے میں اسطرح چل رہیں گویا تیر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →وَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ : پچھلی آیت میں مشرکوں کے زمین و آسمان کی نشانیوں سے منہ موڑنے کا ذکر فرمایا، اس آیت میں ان میں سے چند نشانیاں ذکر فرمائی ہیں، یعنی رات، دن، سورج اور چاند۔ بڑی نشانیوں کے ذکر کے بعد چھوٹی نشانیوں، مثلاً ستاروں وغیرہ کے ذکر کی ضرورت نہیں رہی۔ ان کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بنی اسرائیل (12) ، قصص (71، 72) ، یونس (5، 6) ، فرقان (61، 62) ، انعام (96) اور یس (37 تا 40)۔rnۭ كُلٌّ فِيْ فَلَكٍ يَّسْبَحُوْنَ : ”فَلَكٍ“ دراصل چرخے کے دھاگا بنانے والے تکلے پر گھومنے والے گول چمڑے کو کہتے ہیں، پھر ہر دائرے کو فلک کہہ لیتے ہیں۔ ”سَبَحَ یَسْبَحُ“ (ف) کا معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وجعلنا السمآء سقفا محفوظا یعنی گرنے اور زمین پر سقوط سے محفوظ کیا، اس کی دلیل یہ ارشاد ہے : و یمسسک السمآء ان تقع علی الارض الا باذنہ (الحج :65) بعض علماء نے فرمایا : اس کا مطلب ہے ستاروں کے ذریعے، شیطانوں سے اس کو محفوظ کیا، یہ فراء کا قول ہے اس کی دلیل یہ ارشاد ہے : وحفظنھا من کل شیطن رحیم۔ (الحجر :17) بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے ٹوٹنے پھوٹنے سے محفوظ بنایا اور اس سے محفوظ کیا کہ کوئی حیلہ کے ساتھ اس تک پہنچ سکے۔ بعض نے فرمایا : ایسا محفوظ بنایا کہ ستون کا محتاج نہیں۔ مجاہد نے محفوظ کا معنی مرفوعاً (بلند کیا گیا) بیان کیا ہے۔ بعض نے فرمایا : شرک اور معاصی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
1:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجعلنا فیھا فجاجا سبلا “ یعنی ہم نے پہاڑوں کے درمیان کھلے کھلے راستے بنائے۔
2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فجاجا “ سے مراد ہے نشانات (آٰیت) ” سبلا “ یعنی راستے۔
3:۔ فریابی، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجعلنا السمآء سقفا محفوظا “ میں محفوظا سے مراد ہے مرفوعا یعنی بلند (آیت) ” وھم عن ایتھا معرضون “ یعنی سورج چاند اور ستارے آسمان کی نشانیوں میں سے ہیں۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ یہودیوں نے نبی…
Read the full tafseer →[ وَهُوَ : اور وہ ] [ الَّذِي : وہی ہے جس نے ] [ خَلَقَ : پیدا کیا ] [ الَّيْلَ : رات کو ] [ وَالنَّهَارَ : اور دن کو ] [ وَالشَّمْسَ : اور سورج کو ] [ وَالْقَمَرَ : اور چاند کو ] [ كُلٌّ: ہر ایک ] [ فِيْ فَلَكٍ : کسی مدار میں ] [ يَّسْبَحُوْنَ : تیرتے ہیں ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَ ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَ النَّھَارَ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ ) (اور اللہ وہی ہے جس نے رات کو اور دن کو اور چاند کو اور سورج کو پیدا فرمایا) یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔ جو شخص بھی ان میں غور کرے گا اللہ تعالیٰ کے قادر مطلق اور حکیم مطلق اور مدبر ہونے کا اعتقاد رکھنے پر مجبور ہوگا۔ (کُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ ) (سب ایک ایک دائرہ میں تیر رہے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے راستے مقرر فرما دیئے ہیں۔ ان میں رواں رواں ہیں) ۔ انہیں راستوں پر چلتے ہیں۔
عربی میں فلک گول چیز کو کہا جاتا ہے۔ اسی لیے اس کا ترجمہ دائرہ سے کیا گیا ہے۔ صاحب جلالین لکھتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
بیان دلائل قدرت برائے اثبات وحدانیت
قال اللہ تعالیٰ اولم یر الذین کفروا ان السموت والارض کانتا رتقا .... الیٰ .... کل فی فلک یسبحون۔
(ربط) گزشتہ آیت میں تخلیل عالم اور دلیل توحید کا ذکر تھا اور اس سے پہلے اس بات کا ذکر تھا کہ ہم نے اس عالم کو عبث اور باطل اور بیکار اور بےفائدہ نہیں بنایا بلکہ انواع اقسام کے صنائع اور بدائع سے مملو پیدا کیا تاکہ نظر کرنے والوں کے لیے تبصرہ اور عبرت پکڑنے والوں کے لیے تذکرہ ہوجائیں اور جس سے بندوں کے امور معاش اور معاد منتظم ہوں اور ان کو دیکھ کر ان کے خالق اور تدبر کو پہچائیں اور اس کے واحد قہار ہونے پر استدلال کریں۔ اب آئندہ آیات میں کچھ اور دلائل قدرت و حکمت…
Read the full tafseer →23:۔ ” اَوَلَمْ یَرَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا “ تا ” کُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ “ یہ توحید پر تیسری عقلی دلیل ہے۔ ” کَانَتَا رَتْقًا “ یعنی زمین و آسمان موجود نہ تھے۔ بلکہ حالت عدم میں تھے۔ ” فَفَتَقْنٰھُمَا “ تو ہم نے ان کو از سر نو پیدا کیا۔ فمعنی الایۃ الم یعلموا ان السموت والارض کانتا معدومتین فاوجدناھما (روح ج 17 ص 34) ۔ زمین و آسمان کو عالم نیست سے عالم ہست میں لانا زمین میں پہاڑوں اور شاہراہوں کا پیدا کرنا آسمان کو ستونوں کے بغیر سہارا دینا، دن رات اور سورج چاند کی پیدائش غرضیکہ پورا نظام شمسی جس تکنیک اور کمال صنعت سے پیدا کیا گیا ہے اور نظام شمسی کے تمام احوال کوائف کی موزونیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–41
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں اور مشرکوں کا رد فرمایا دلائل قدرت کا ذکر کیا۔ ان میں سے ایک دلیل یہ تھی کہ آسمان اور زمین ابتداء میں اکٹھے تھے ، بعد میں ان کو الگ الگ کردیا گیا۔ پھر فرمایا کہ زمین پر بوجھل پہاڑ گاڑھ دیئے تاکہ یہ ڈولنے نہ پائے۔ پھر ان پہاڑوں میں کشادہ راستے بنادیے اور آسمان کو ایک محفوظ چھت بنادیا۔ فرمایا کہ لوگ ان نشانیوں کو دیکھ کر توحید خداوندی کے قائل نہیں ہوتے بلکہ ان نشانات قدرت سے اعراض کرتے ہیں۔
اب آج کے درس میں اللہ نے آسمان اور زمین پیدا کیے گئے بعض نشانات قدرت کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وھولاذی خلق الیل والنھار اللہ تعالیٰ کی ذات وہی ہے جس نے رات…
Read the full tafseer →وَہُوَالَّذِيْ خَلَقَ الَّيْلَ وَالنَّہَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ 0ۭ كُلٌّ فِيْ فَلَكٍ يَّسْبَحُوْنَ 33
خلق
الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما،
( خ ل ق ) الخلق
۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی…
Read the full tafseer →(6) وھوالذی خلق الیل والنہار والشمس والقمر کل فی فلک یسبحون اس آیت میں ان چند نشانیوں کا ذکر کرتا ہے کہ جن سے وہ اعراض کرتے ہیں رات دن کا بہ تعاقب آنا علاوہ ان بیشمار فوائد کے جو انسان اور دیگر مخلوق کے لیے ہیں جیسا کہ رات میں سونا آرام کرنا ‘ دن میں روزی تلاش کرنا ‘ کاروبار کرنا ‘ پھلوں پھولوں کا نمودار ہونا ‘ اس کی قدرت کی بھی ایک دلیل واضح ہے۔ پھر آفتاب کے مختلف حرکات اور مختلف طور پر طلوع و غروب کرنے میں رات دن کے پیدا ہونے کے سوا ہزاروں فوائد ہیں اور یہ گویا اس دنیا کے گھر کا چراغ ہے اسی طرح ماہتاب کے حرکات اور مختلف طور پر طلوع و غروب بھی ان فوائد کی تکمیل ہے اور یہی حال دیگر ستاروں کا…
Read the full tafseer →وَھُوَالَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ط کُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ ۔
(الانبیاء : 33)
(اور وہی ہے جس نے رات اور دن، سورج اور چاند بنائے، سب اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں۔ )
رات اور دن کی عنایات کی طرف اشارہ
اللہ تعالیٰ نے مزید کرم یہ فرمایا کہ رات اور دن کا تسلسل قائم فرمایا۔ دن کی ہمہ ہمی اور سرگرمی کے لیے سورج کا تنور جلایا اور اس سے ہر گھر کا صرف چولہا ہی نہیں جلا بلکہ انسانی زندگی کا ایک ایک چراغ روشن ہوا اور رات کو چاند سے منور فرمایا۔ دن کی روشنی انسانی سرگرمیوں کی ضامن ہے اور چاند کی چاندنی دلوں کے لیے ٹھنڈک کا باعث اور انسان کے لیے آرام و راحت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے اِلٰہ ہونے کا چھٹا، ساتواں اور آٹھواں ثبوت۔
اللہ تعالیٰ نے آسمان کو زمین والوں کے لیے محفوظ چھت بنایا۔ اس کے باوجود لوگ اپنے رب کی نشانیوں سے اعراض کرتے ہیں۔ اسی نے رات اور دن پیدا کیے، چاند اور سورج بنائے جو فضا میں تیر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو کسی ستون کے بغیر چھت بنایا یہ ایسی مضبوط چھت ہے کہ نامعلوم کتنے عرصہ سے قائم ہے اور اس وقت تک قائم رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ اسے قائم رکھے گا اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھنے والے کو بالکل ہموار، صاف اور شفاف نظر آتی ہے۔ نہ اس کا رنگ بدلا ہے اور نہ ہی اس میں کوئی دراڑ اور جھکاؤ واقع ہوا ہے۔ ارشاد فرمایا…
Read the full tafseer →33: وَھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ (اور وہ ایسا ہے کہ اس نے رات کو بنایا) تاکہ تم سکون حاصل کرو اور وَالنَّھَارَ (اور دن بنائے) تاکہ تم اس میں کام کاج کرسکو۔ وَالشَّمْسَ (اور سورج کو) تاکہ دن کو روشنی کا کام دے۔ وَالْقَمَرَ (اور چاند کو) تاکہ رات کو چاند کرے۔ کُلٌّ (تمام) یعنی ہر ایک ان میں سے۔ اس میں تنوین مضاف کے بدلے میں ہے۔ ای کلہم ضمیر شمس و قمر کی طرف راجع ہے۔ اور مراد اس سے تمام نیرّات کی جنس ہے اور یہاں جمع عقلاء والی لائی گئی ہے ان کے فعل سباحت کو بیان کرنے کیلئے ہے۔
فِیْ فَلَکٍ یَسْبَحُوْنَ (ہر ایک اپنے دائرے میں تیر رہے ہیں) قول ابن عباس ؓ الفلک آسمان کو کہتے ہیں۔ قول جمہور یہ ہے…
Read the full tafseer →33۔ وھوالذی خلق اللیل والنھار والشمس والقمر کل فی فلک یسبحون، ، تیرتے ہیں تیز چلتے ہیں جیسے سمندر میں تیزی سے بھاگ رہے ہوں۔ یسبحون، فرمایا، تسبح نہیں فرمایا، کیونکہ یہ اشیاء ذوی العقول میں سے نہں ہیں اور تسبیح پڑھنا ذوی العقول کا کام ہے۔ فلک، یعنی مدار نجوم جو سب ستاروں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ فلک، کلام عرب میں ہرگول گھیرے کو فلک کہاجاتا ہے ۔ اسکی جمع افلاک ہے ۔ حسن کا قول ہے کہ چکی سے مراد یہ ہے کہ چکی کے گول چکر کی طرح ستارے دائرہ میں چلتے ہیں یعنی ستاروں کی رفتار مستدیر ہے۔
مجاہد (رح) کا قول ہے کہ چکی کے گول چکر کی طرح چکر کاٹتے ہیں۔ بعض نے کہا کہ فلک آسمان ہی ہے۔ آسمان دنیا ہی پر سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
30۔ 33:۔ اگرچہ پہلی آیت کی تفسیر میں سلف کے کئی قول ہیں مگر بیہقی کی کتاب اسماء وصفات ‘ تفسیر عبد بن حمید اور مستدرک 1 ؎ حاکم میں معتبر سند سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے جس میں انہوں نے کانتا رتقا ففتقنھما کی تفسیر یوں بیان فرمائی ہے کہ آسمان بند تھا ‘ اس میں مینہ برسنے کی تاثیر نہیں تھی ‘ اللہ تعالیٰ نے اس میں مینہ برسنے کی تاثیر پیدا کی اسی طرح زمین بند تھی ‘ اس میں کسی طرح کی پیداوار نہیں تھی ‘ اللہ تعالیٰ نے اس میں پیداوار کی قوت پیدا کی ‘ حافظ ابو جعفر ابن جریر نے سلف کے سب قولوں میں سے اسی قول کو معتبر ٹھہرایا ہے ‘ آخر آیت میں اللہ تعالیٰ نے بھی مینہ کا ذکر فرمایا ہے ‘ اس واسطے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
آیت 31-
یعنی یہ بات اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کے کمال، اس کی وحدانیت اور رحمت پر دلیل ہے کہ جب زمین میں پہاڑوں کے بغیر ٹھہراؤ نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے ذریعے سے اس میں ٹھہراؤ پیدا کیا تاکہ وہ بندوں کے ساتھ جھک نہ جائے یعنی زمین میں اضطراب پیدا نہ ہو اور بندے سکون اور کھیتی باڑی کرنے سے محروم نہ رہ جائیں اور کہیں ایسا نہ ہو کہ زمین میں ٹھہراؤ نہ رہے۔۔۔۔۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے ذریعے سے زمین کو ٹھہراؤ عطا کیا تب اس سبب سے بندوں کو جو بہت سے مصالح اور منافع حاصل ہوئے، وہ محتاج وضاحت نہیں۔
چونکہ پہاڑ ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں اور ان میں بہت زیادہ اتصال ہے۔ اگر اسی حالت اتصال میں…
Read the full tafseer →42 ہر کرہ اپنے فلک میں تیرے جا رہا ہے : اور اس قدر پر حکمت نظام کے تحت کہ نہ وہ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں اور نہ اپنی مقررہ حدود سے باہر نکلتے ہیں۔ سو اس سب میں مخلوق کے لئے طرح طرح کے اور عظیم الشان فوائد و منافع بھی ہیں اور اس کے خالق ومالک کی عظمت، قدرت اور وحدانیت کے کھلے اور روشن دلائل بھی۔ سو زمین و آسمان اور سورج و چاند جیسے ایسے عظیم الشان کروں میں سے ہر ایک کا اپنے فلک اور دائرے میں اس قدر عمدگی اور پابندی سے برابر چلتے اور گردش کیے جانا حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی قدرت بےپایاں، حکمت بےنہایت اور عنایت بےغایت کے عظیم الشان مظہر ہیں۔ اور اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ اس کی کارفرمائی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
کائنات اور انسان کی پیدائش کے راز
تشریح : یہ آیات سائنسی نکات اور بڑے بڑے رازوں کو ظاہر کرتی ہیں۔ جبکہ بظاہر تخلیق کائنات، تخلیق حیوانات، جمادات، نباتات اور تمام اجرام فلکیات کا ذکر ہے کہ یہ سب اللہ نے بنائے ہیں۔ انسان کی آزمائش کے لیے اس کو نعمتیں دیں اور پھر بتایا کہ زندگی ختم ہونے والی چیز ہے۔ اور پھر آخرت کا بھی بتا دیا کہ مرنے کے بعد تم کہاں جاؤ گے اور اس نے ذرے سے لے کر آسمان تک ہر چیز کا حساب کتاب بڑی وضاحت سے اپنے پاس لکھ رکھا ہے۔
آیت 30 میں بہت بڑا انکشاف ہے۔ کہ زمین آسمان جڑے ہوئے تھے تو ان کو ہم نے علیحدہ کردیا۔ علم فلکیات نے جب تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ واقعی زمین و آسمان جڑے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–41
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
کیا کافر جان نہیں چکے کہ آسمان اور زمین پہلے بند تھے یعنی اب تو عقل انسانی نے بھی یہ بات دریافت کرلی ہے کہ نہ آسمانوں سے بارش برستی تھی اور نہ زمین میں روئیدگی تھی اور نہ ان کی صورت اس قابل تھی پھر رب کریم نے معمورہ عالم کو بسانا چاہا تو انہیں کھول دیا یعنی اس نظام حیات کو رواں کردیا سورج کی گرمی و روشنی اور ہواؤں کی آمد وشد اپنا اپنا کام دکھانے لگی ، بادل برسنے لگے اور زمین سے رنگا رنگ چیزیں پیدا ہونے لگیں لیکن یہ سب اتفاقا نہیں ہو رہا بلکہ اللہ کریم کا نظام ہے جس کی ایک اصل یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ نے ہر شے کی حیات خواہ حیوانات ہوں یا نباتات پانی پر مقرر کردی ہے ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
ف 2 امام رازی لکھتے ہیں کہ پہلی تشریح زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس سے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی عظمت کا اظہار ہوتا ہے گو دوسری تشریح بھی غلط نہیں ہے۔ دیکھیے (سورج حج 65، فاطر 41، حجرات :17)
3 جیسے چاند سورج اور تارے وغیرہ
Read the full tafseer →(21:33) فلک ستاروں کا مدار۔ اسے کشتی نما ہونے کی وجہ سے فلک کہا گیا ہے۔ الفلک۔ کشتی۔
یسبحون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ وہ تیر رہے ہیں۔ السبح کے اصل معنی پانی یا ہوا میں تیز رفتاری سے گذر جانے کے ہیں۔ استعارہ کے طور پر یہ لفظ فلک میں شمس وقمر نجوم کی گردش کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ کل فی فلک یسبحون۔ سب اپنے اپنے مدار میں تیزی سے چل رہے ہیں۔ اور جگہ ارشاد ربانی ہے۔ والسبحت سبحا (79:3) قسم ہے ان فرشتوں کی جو کہ (آسمان اور زمین کے درمیان) تیرتے پھرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 33
رتق ایک دوسرے میں گھسے ہوئے۔ ملے ہوئے۔ فتقنا ہم نے الگ الگ کردیا۔ جدا کردیا۔ حی زندہ۔ رواسی (راسیۃ) بوجھ، جمی ہوئی چیزیں، بوجھل۔ ان تمید یہ کہ جھک پڑے، ایک طرف کو ڈھلک جائے۔ فجاج (فج) کھلے ہوئے پہاڑی درے۔ سقف چھت، سائبان۔ فلک گول چیز، گھومنا، مدار۔ یسبحون وہ تیرتے ہیں۔ بلا روک ٹوک راستے پر چلتے ہیں۔
تشریح : آیت نمبر 30 تا 33
وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی ذات ، اس کی قدرت کا ملہ اور آخرت کا انکار کرتے ہیں ان سے فرمایا جا رہا ہے اس اللہ نے انسان کے اس دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے ہی زمین و آسمان کو پیدا کر کے سارے اسباب مہیا کردیئے تھے پانی کو پیدا کیا تاکہ اس کے ذریعے ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
توحید کا ذکر۔
(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابن عباس اور جمہور مفسرین رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کے معنی یہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو جو کہ بند تھے کھول دیا یعنی آسمان سے مینہ نہ برستا تھا ہم نے برسادیا، زمین میں نباتات اگانے کی صلاحیت نہ تھی ہم نے پیدا کرائی کیا کفار اس بات کو نہیں آزماچکے ، ہر سال گرمی اور جاڑے کی شدت میں جب بارش نہیں ہوتی اور زمین میں کچھ پیدا نہیں ہوتا دیکھتے ہیں کہ آسمان اور زمین بند ہوجاتے ہیں اللہ تعالیٰ ہی اپنی قدرت سے ان کو کھولتا ہے مینہ برساتا ہے سبزہ اگاتا ہے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی وہی نشانی ہر وقت ان لوگوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
[22] آیات 30 تا 33 میں تخلیق کائنات کا بیان ہے جس کا مقصد یہ بتلانا ہے کہ کائنات کا یہ نظام ایک سے زیادہ الہٰوں کی کار فرمائی میں نہیں بن سکتا تھا اور نہ ہی اس باقاعدگی کے ساتھ جاری رہ سکتا تھا۔ پھر کتنی حیرت انگیز بات ہے کہ زمین و آسمان کے ایک دوسرے سے ملے ہونے، پھر الگ ہونے، پھر پانی سے تمام جاندار چیزیں پیدا ہونے اور اجرام فلکی کا اپنے اپنے مدار میں تیرنے کا جو تذکرہ قرآن نے چودہ سو سال پہلے کیا تھا وہ موجودہ زمانے کا انسان بالکل اپنی جدید ترین معلومات کے مطابق پاتا ہے۔ قرآن کے منجانب اللہ ہونے کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →جمال قدرت کا مشاہدہ کرو :
(ف 1) تذکیر بآلاء اللہ بھی قرآن حکیم کا ایک خاص طرز بیان ہے کیونکہ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں ، جنہیں خشک دلائل سے زیادہ کائنات کا جمال اپنی طرف کھینچتا ہے ، اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو دعوت نظر دیتے ہیں ، اور فرماتے ہیں کہ تم اگر واقعی قدرت کے جمال و کمال کو دیکھنا چاہتے ہو تو صرف مادیت کی تسکین کے لئے نہ دیکھو ، بلکہ دیدئہ عبرت سے ملاحظہ کرو ، تمہیں معلوم ہوگا کہ کس صنعت و حکمت سے اللہ تعالیٰ نے اس نظام کو پیدا کیا ہے زمین وآسمان کی تخلیق پر غور کرو ، پانی کے حیات بخش اثرات دیکھو ، پہاڑوں کے فوائد سمجھو ، آسمان ، دن ، رات اور چاند سورج کو دیکھو کہ کیونکر ہر چیز اللہ کی وسعت…
Read the full tafseer →-33 اور وہ قادر مطلق ایسا ہے جس نے رات اور دن کو اور سورج و چاند کو بنایا یہ سب آسمان یعنی اپنے اپنے مدار پر تیرتے رہتے ہیں۔ مدار کو خاص مناسبت سے فلک فرمایا مدار پر اس طرح گھومتے اور چکر لگاتے ہیں جس طرح کوئی پانی میں تیرتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اپنی راہ پر ہیں اس سے نہیں ہٹتے 12 یعنی اجرام علویہ بھی اس کے اسی طرح زیر نگیں ہیں جس طرح عالم سفلی پر اس کا تصرف ہے جس کے لئے جو جگہ مقرر کردی ہے اسی پر وہ حرکت کرتا رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
ف 7۔ فلک گول چیز کو کہتے ہیں چونکہ شمس و قمر کی حرکت مستدیر ہے اس لئے اس کے مدار کو فلک فرمادیا۔ خواہ وہ آسمان ہو یا فضاء بین السمائین ہو یا فضاء بین الارض والسماء ہو یا ثخن سماء ہو، کوئی نص اس میں قطعی نہیں۔
Read the full tafseer →رات اور دن کے اختلاف میں اور سورج و چاند میں بھی نشانیاں موجود ہیں :
33۔ رات اور دن کے اختلاف میں کیا نشانیاں ہیں ؟ رات اور دن کا یہ فرق واختلاف اس اعتبار سے بھی نشانی ہے کہ دونوں پوری باقاعدگی کے ساتھ ایک دوسرے کے بعد آتے ہیں اور اس اعتبار سے بھی کہ ایک روشن ہے اور دوسرا تاریک اور اس اعتبار سے بھی کہ ایک مدت تک بڑی تدریج کے ساتھ دن چھوٹا اور رات بڑی ہوتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ پھر ایک وقت پر جا کر دونوں برابر ہوجاتے ہیں ۔ یہ مختلف قسم کے فرق واختلاف جو رات اور دن میں پائے جاتے ہیں اور ان سے جو عظیم حکمتیں وابستہ ہیں وہ اس بات کی صریح علامت ہیں کہ سورج اور زمین اور موجودات زمین کا خالق ایک ہی…
Read the full tafseer →كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (Each floating in an orbit - 21:33) The word فَلَک '' (falak) is used for circle or anything round. For this reason the word فَلَک '' (falak) is also used sometimes for sky. In this verse it means the orbits of the sun and the moon in which they revolve. The Qur'anic words do not specify the location of the orbits in the space but space research has now established that these orbits are located in the space much below the sky. This verse apparently indicates that the Sun also moves around an orbit. The scientists previously did not believe in the rotation of the…
Read the full tafseer →35. The use of the words kullun (all) and yasbahun (float) in the plural (for more than two) indicates that not only the sun and the moon but all the heavenly bodies are floating in their own separate orbits and none of them is fixed or stationary. These (verses 30-33) are capable of being interpreted in the modern scientific terms in accordance with the present day conceptions of Physics, Biology and Astronomy.
Here it should also be noted that(verses 19-23) refute shirk while verses 30-33 present positive proofs of Tauhid. They imply that the creation and regular functioning of the universe…
Read the full tafseer →