Al-Anbiyaa 21:31

Al-Anbiyaa · from ayah 31

21:31

وَجَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِهِمْ ۪— وَجَعَلْنَا فِیْهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ ۟وَجَعَلۡنَا فِى الۡاَرۡضِ رَوَاسِىَ اَنۡ تَمِيۡدَ بِهِمۡ ۖوَجَعَلۡنَا فِيۡهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمۡ يَهۡتَدُوۡنَ‏

اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے تاکہ لوگوں (کے بوجھ) سے ہلنے (اور جھکنے) نہ لگے اور اس میں کشادہ راستے بنائے تاکہ لوگ ان پر چلیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We placed within the earth firmly set mountains, lest it should shift with them, and We made therein [mountain] passes [as] roads that they might be guided.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 3 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anbiyaa

All translations of 21:31

اور ہم نے زمین میں پہاڑ جما دیے تاکہ وہ انہیں لے کر ڈھلک نہ جائے اور اس میں کشادہ راہیں بنا دیں، شاید کہ لوگ اپنا راستہ معلوم کر لیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے تاکہ لوگوں (کے بوجھ) سے ہلنے (اور جھکنے) نہ لگے اور اس میں کشادہ راستے بنائے تاکہ لوگ ان پر چلیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنا دیئے تاکہ وه مخلوق کو ہلا نہ سکے، اور ہم نے اس میں کشاده راہیں بنا دیں تاکہ وه راستہ حاصل کریں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے زمین میں جمے ہوئے پہاڑ پیدا کیے ہیں تاکہ وہ انہیں لے کر ہلنے نہ پائے، اور اس میں ہم نے چوڑے چوڑے راستے بنائے ہیں، تاکہ وہ منزل تک پہنچ سکیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور زمین میں ہم نے لنگر ڈالے کہ انھیں لے کر نہ کانپے اور ہم نے اس میں کشادہ راہیں رکھیں کہ کہیں وہ راہ پائیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے زمین میں مضبوط پہاڑ بنا دیئے تاکہ ایسا نہ ہو کہ کہیں وہ (اپنے مدار میں حرکت کرتے ہوئے) انہیں لے کر کانپنے لگے اور ہم نے اس (زمین) میں کشادہ راستے بنائے تاکہ لوگ (مختلف منزلوں تک پہنچنے کے لئے) راہ پاسکیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے کہ وہ انھیں ہلانہ دے اور ہم نے ان میں کشادہ راستے بنا دیے، تاکہ وہ راہ پائیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے تاکہ وہ انھیں لے کر ہچکولے نہ کھائے۔ نیز اس میں کشادہ راہیں بنادیں تاکہ لوگ راستہ معلوم کرلیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے زمین میں پہاڑ گاڑ دیئے کہ وہ ان کو لے کر لڑھک نہ جائے اور ان پہاڑوں کے اندر ہم نے راستہ کے لئے درے بنائے تاکہ وہ راہ پائیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہم نے گاڑ دئیے زمین میں طرح طرح کے پہاڑوں کے عظیم الشان لنگر کہ کہیں یہ ڈولنے نہ لگے اپنے اوپر رہنے والے ان لوگوں کو لیکر اور رکھ دئیے ہم نے اس کے اندر طرح طرح کے کشادہ راستے تاکہ یہ لوگ راہ پاسکیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے زمین میں پہاڑ اس لئے رکھ دیئے کہ وہ لوگوں کو لے کر ہلنے نہ لگے۔ اور ہم نے اس میں کشادہ راستے بنادئیے تاکہ لوگ راستہ پاتے رہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے زمین میں مضبوط پہاڑ جما دیے تاکہ وہ انہیں لے کر (ایک طرف) جھک نہ جائے اور ہم نے اس کے اندر بڑے کشادہ راستے بنائے تاکہ یہ لوگ راہ یاب ہوں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے تاکہ وہ لوگوں کے بوجھ سے ہلنے اور جھکنے نہ لگے اور اس میں کشادہ رستے بنائے تاکہ لوگ ان پر چلیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And We placed firm mountains on earth lest it should sway with them, and We made wide paths in them that they may find their way;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And We created mountains on the earth, lest it should shake with them, and We have made therein paths and ways, so that they are guided.

— Muhammad Taqi Usmani

And We created mountains on the earth, lest it should shake with them, and We have made therein paths and ways, so that they are guided.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We have placed on the earth firm mountains, lest it should shake with them, and We placed therein broad highways for them to pass through, that they may be guided.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We have placed in the earth firm hills lest it quake with them, and We have placed therein ravines as roads that haply they may find their way.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We placed within the earth firmly set mountains, lest it should shift with them, and We made therein [mountain] passes [as] roads that they might be guided.

— Saheeh International

We placed firm mountains on earth lest it would shake them away. We made wide roads for them so that they might have the right guidance.

— Muhammad Sarwar

And We have made great mountains in the earth lest it might be convulsed with them, and We have made in it wide ways that they may follow a right direction.

— Muhammad Habib Shakir

And We have placed in the earth firm mountains lest it should move away with them, and We placed therein Passages for paths, that haply they may be guided.

— Abdul Majid Daryabadi

And We have set on the earth mountains standing firm, lest it should shake with them, and We have made therein broad highways (between mountains) for them to pass through: that they may receive Guidance.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 21:31

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 30–33

زبردست غالب اللہ تعالیٰ اس بات کو بیان فرماتا ہے کہ اس کی قدرت پوری ہے اور اس کا غلبہ زبردست ہے۔ فرماتا ہے کہ جو کافر اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کرتے ہیں کیا انہیں اتنا بھی علم نہیں کہ تمام مخلوق کا پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے اور سب چیز کا نگہبان بھی وہی ہے پھر اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت تم کیوں کرتے ہو ؟ ابتدا میں زمین و آسمان ملے جلے ایک دوسرے سے پیوست تہ بہ تہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں الگ الگ کیا زمینیں پیدا کیں اور سات ہی آسمان بنائے۔ زمین اور پہلے آسمان کے درمیان جوف اور خلا رکھا۔ آسمان سے پانی برسایا اور زمین سے پیداوار اگائی۔ ہر زندہ چیز پانی سے پیدا کی۔ کیا یہ تمام چیزیں جن میں سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْبِیَآء 30 اس کی تشریح سورة نحل 12 میں گزر چکی ہے۔ سورة الْاَنْبِیَآء 31 یعنی پہاڑوں کے درمیان ایسے درے رکھ دیے اور دریا نکال دیے جن کی وجہ سے پہاڑی علاقوں سے گزرنے اور زمین کے ایک خطے سے دوسرے خطے کی طرف عبور کرنے کے راستے نکل آتے ہیں۔ اسی طرح زمین کے دوسرے حصوں کی ساخت بھی ایسی رکھی ہے کہ ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک پہنچنے کے لیے راہ بن جاتی ہے یا بنا لی جاسکتی ہے۔ سورة الْاَنْبِیَآء 32 ذو معنی فقرہ ہے۔ یہ مطلب بھی ہے کہ لوگ زمین میں چلنے کے لیے راہ پائیں، اور یہ بھی کہ وہ اس حکمت اور اس کاریگری اور اس انتظام کو دیکھ کر حقیقت تک پہنچنے کا راستہ پالیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 31–32

وَجَعَلْنَا فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ اَنْ تَمِيْدَ بِهِمْ لفظ مید عربی زبان میں اضطرابی حرکت کو کہا جاتا ہے اور مراد آیت کی یہ ہے کہ زمین پر پہاڑوں کا بوجھ حق تعالیٰ نے اس کا توازن برقرار رکھنے کے لئے ڈال دیا ہے تاکہ وہ اضطرابی حرکت نہ کرسکے جس سے اس کے اوپر بسنے والوں کو نقصان پہنچے۔ اس کی فلسفیانہ تحقیق کہ پہاڑوں کے بوجھ کو زمین کے قرار میں کیا دخل ہے اس کی یہاں ضرورت نہیں۔ تفسیر کبیر وغیرہ میں اس کا مفصل بیان اہل علم دیکھ سکتے ہیں اور بقدر ضرورت سورة نمل کی تفسیر میں حضرت حکیم الامۃ نے تفسیر بیان القرآن میں بھی لکھ دیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

پہاڑوں جیسی عظیم نشانیاں رواسی عربی میں پہاڑوں کی صفت کے لئے آتا ہے اور یہ صفت ایسی مشہور ہوگئی ہے کہ موصوف کے قائم مقام کی حیثیت سے استعمال ہوتی ہے۔ ان تمیدبھم میں ان سے پہلے کراھیۃ یا اس کے ہم معنی کوئی لفظ محذوف ہے مجاج فج کی جمع ہے۔ فج دو پہاڑوں کے درمیان کے شگاف کو کہتے ہیں۔ فرمایا کہ ہم نے زمین میں پہاڑ گاڑ دیئے جو اس کے توازن کو قائم رکھے ہوئے ہیں کہ مبادا وہ ان کی سمیت کسی سمت کو لڑھک کر کسی اور کرہ سے جا ٹکرائے اور یہ اہتمام بھی کیا کہ ان پہاڑوں کے درمیان درے بنا دیئے ہیں کہ وہ لوگوں کے راستہ کا کام دیں کہ وہ ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ اور ایک ملک سے دوسرے ملک کو آجا سکیں۔ اگر خدا نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

31۔ 1 یعنی اگر زمین پر یہ بڑے بڑے پہاڑ نہ ہوتے تو زمین جنبش اور لرزش ہوتی رہتی، جس کی وجہ سے انسانوں اور حیوانوں کے لئے زمین مسکن اور مستقر بننے کی صلاحیت سے محروم رہتی۔ ہم نے پہاڑوں کا بوجھ اس پر ڈال کر اسے ڈانوا ڈول ہونے سے محفوظ کردیا۔ 31۔ 2 اس سے مراد زمین یا پہاڑ ہیں، یعنی زمین میں کشادہ راستے بنا دیئے یا پہاڑوں میں درے رکھ دیئے، جس سے ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں آنا جانا آسان ہوگیا، دوسرا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے تاکہ ان کے ذریعے سے اپنی معاش کے مصالح و مفادات حاصل کرسکیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

15: یہ حقیقت قرآن کریم نے کئی مقامات پر بیان فرمائی ہے کہ جب زمین کو بچھایا گیا تو وہ ہلتی تھی، اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے پہاڑ پیدا کر کے اس پر جمائے تو اس کو قرار حاصل ہوا۔ جدید سائنس نے بھی صدیوں کے بعد یہ پتہ لگایا ہے کہ بڑے بڑے بر اعظم اب بھی بہت سست رفتار سے سمندر کے پانی پر سرکتے رہتے ہیں، مگر اب ان کی رفتار اتنی دھیمی ہے کہ عام آنکھیں ان کا ادراک نہیں کرسکتیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 30–31

اولم یرالذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کل فی فلک یسبحون ” یہ اس نظر آنے والی کائنات کی سیر ہے ‘ جبکہ انسانوں کے دل و دماغ اس میں موجود دلائل و شواہد سے بالکل غافل ہیں۔ اگر کھلے دل و دماغ سے اس پر غور کیا جائے تو اس میں ایسے شواہد ہیں جو عقل و خرو کے دامن گیر ہوجاتے ہیں ‘ صرف چشم بینا چاہیے۔ یہ بات کہ زمین و آسمان پہلے ملے ہوئے تھے اور ہم نے ان کو بعد میں جدا کردیا ‘ قابل غور ہے۔ فلکیات کے شعبے میں انسانی علم جس قدر آگے بڑھتا ہے وہ قرآن کے اس فرمان کی توثیق کرتا ہے جو قرآن نے آج سے چودہ سو سال پہلے کہی۔ آج تک انسانوں نے جو نظریات قائم کیے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ سورج کی کہکشاں جس میں سورج ‘ چاند ‘ زمین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 اس کی تقریر سورة نحل میں گزر چکی۔ 9 یعنی ایک ملک کے لوگ دوسرے ملک والوں سے مل سکیں۔ اگر پہاڑ ایسے ڈھب پر پڑتے کہ راہیں بند ہوجاتیں تو یہ بات کہاں ہوتی (کذا فی الموضح) ان ہی کشادہ راہوں کو دیکھ کر انسان حق تعالیٰ کی قدرت و حکمت اور توحید کی طرف راہ پاسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

وَجَعَلْنَا فِیْہَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّہُمْ یَہْتَدُوْنَ ” میدانی راستوں کے علاوہ بڑے بڑے پہاڑی سلسلوں کے اندر بھی قدرتی راستے رکھے اور وادیاں بنائیں تاکہ ایسے علاقوں میں بھی لوگوں کے لیے سفر کرنا ممکن ہو سکے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

27 اس جملہ کی تشریح کے لئے دیکھئے سورة نحل کی آیت نمبر 15 کا حاشیہ۔ 28 یعنی پہاڑ پیدا کئے۔ پھر ان میں وادیاں اور ندی نالے بن گئے۔ انھیں ندی نالوں سے نشیب و فراز کو معلوم کرکے انسان کو ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ تک پہنچنے کے لئے راستوں کی نشاندہی ہوتی گئی۔ پھر اس زمین میں اور کئی طرح کی علامات پیدا کردیں۔ کہیں گھاٹیاں ہیں، کہیں چھوٹے پہاڑ، کہیں درے، کہیں بڑے بڑے پہاڑ اور ندی نالے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کی ساخت بھی ایسی بنادی ہے کہ ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ تک پہنچنے کی راہ بن جاتی ہے یا بنائی جاسکتی ہے۔ 29 اس جملہ کے بھی دو مطلب ہیں۔ ایک تو واضح ہے کہ زمین میں چلنے پھرنے کے لئے راہ پالیں۔ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

42۔ مراد یہاں ڈانواڈول حرکت سے ہے۔ نفی یہاں مطلق حرکت ارض کی نہیں بلکہ اس کی اضطرابی حرکت کی ہورہی ہے۔ یہ پہاڑ جو ہیں گویا زمین کا توازن برابر رکھنے کا کام دے رہے ہیں کہ ایسا نہ ہو وہ ایک طرف کو جھک جائے، ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 99 الحجر پارہ 14۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 30–41

آیت نمبر 30 تا 41 ترجمہ : کیا کافر یہ نہیں جانتے کہ آسمان اور زمین (منہ) بند تھے ؟ اَوَلَمْ میں واؤ اور ترک واؤ دونوں ہیں رَتَقًا بمعنی سَدًّا ہے اور سَدًّا بمعنی مَسْدُوْدًا ہے پھر ہم نھے ان کو کھول دیا یعنی سات آسمان اور سات زمین بنادیں یا فتق سماء کا مطلب یہ ہے کہ آسمان سے بارش نہیں ہوتی تھی پھر بارش ہونے لگی، اور فتق ارض کا مطلب یہ ہے کہ زمین اگاتی نہیں تھی پھر اگانے لگی اور ہم نے آسمان سے برسنے والے اور زمینی چشموں سے نکلنے والے پانی سے ہر جاندار کو بنایا گھاس وغیرہ کو لہٰذا پانی ہر جاندار کے لئے سبب حیات ہے پھر بھی میری توحید پر ایمان نہیں لاتے اور ہم نے زمین پر ثابت رہنے والے پہاڑ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وجعلنا فی الارض رواسی ان تمیدبہم وجعلنا فیہا فجاجا سبلا لعلہم یہتدون۔ اور ہم نے زمین میں اس لئے پہاڑ بنائے کہ زمین ان لوگوں کو لے کر ہلنے نہ لگے اور ہم نے اس (زمین) میں کشادہ کشادہ راستے بنائے تاکہ وہ لوگ (ان کے ذریعہ سے) منزل مقصود کو پہنچ جائیں۔ رَوَاسِیَ ۔ جِبَالاً محذوف کی صفت ہے جمے ہوئے پہاڑ گڑے ہوئے پہاڑ۔ یہ لفظ رساً سے ماخوذ ہے رسا کا معنی ہے ثبت۔ اَنْ تَمِیْدَِ بہُمْلفظ کَرَاہَۃَیا حرف نفی (لا) اس سے پہلے محذوف ہے تاکہ زمین اپنے باشندوں کو لے کر نہ لرزے۔ وَجَعَلْنَا فِیْہَا یعنی زمین میں یا پہاڑوں میں۔ فِجَاجًادو پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے (قاموس) سبلاً کھلے ہوئے راستے۔ یہ سبیل کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(31) اور ہم نے زمین پر مضبوط پہاڑوں کو جو کہ زمین کے لیے میخیں ہیں، اس لیے بنایا کہ زمین ان کو لے کر ہلنے نہ لگے اور ہم نے اس زمین میں گھاٹیاں اور کھلے کھلے رستے بنائے تاکہ وہ لوگ ان رستوں کے ذریعے سے سفر کی آمد ورفت میں منزل مقصود کو پہنچ جائیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَجَعَلْنَا فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ : ”رَوَاسِيَ“ ”رَاسِیَۃٌ“ کی جمع ہے جو ”رَسَا یَرْسُوْ رُسُوًّا“ سے اسم فاعل ہے، یعنی زمین میں گڑے ہوئے۔ ارضیات کے ماہروں پر اب یہ حقیقت ظاہر ہوئی ہے کہ پہاڑوں کا بہت بڑا حصہ زمین کے نیچے گڑا ہوا ہے۔ اَنْ تَمِيْدَ بِهِمْ : ”مَادَ یَمِیْدُ مَیْدًا وَ مَیْدَانًا“ حرکت کرنا، ٹیڑھا ہونا۔ (قاموس) ”اَنْ تَمِيْدَ بِهِمْ ۠“ اصل میں ”أَنْ لَا تَمِیْدَ“ ہے۔ یہ تیسری دلیل ہے، یعنی اگر زمین میں یہ بھاری پہاڑ نہ گاڑ دیے جاتے تو اس میں ہر وقت زلزلے اور حرکت کی حالت رہتی، اس میں نہ وہ توازن ہوتا اور نہ سکون جو مخلوق کے رہنے کے لیے ضروری ہے۔ وہ کسی وقت بھی ایک طرف جھک…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و جعلنافی الارض رواسی یعنی ثابت و قائم پہاڑ۔ ان تمید بھم یعنی تاکہ ان کے ساتھ لرزتی نہ رہے اور حرکت کرنے کی کراہیت کی وجہ سے۔ المید کا معنی حرکت کرنا اور گردش کرنا ہے۔ کہا جاتا ہے : مادراسہ یعنی اس کا سر چکرایا اس پر تفصیلی گفتگو سورة النحل میں گزر چکی ہے۔ وجعلنا فیھا فجاجا فعنی ان پہاڑوں میں راستے بنائے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے الفجاج راستے۔ الفج دو پہاڑوں کے درمیان کھلا راستہ۔ بعض علماء نے فرمایا : ہم نے زمین میں راستے بنائے، یہ طبری کا اختیار ہے کیونکہ فرمایا : لعلھم یھتدون۔ زمین میں چلنے کی طرف ہدایت پائیں۔ سبلا، الفجاج کی تفسیر ہے کیونکہ افج کبھی نافذ راستہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 31–33

1:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجعلنا فیھا فجاجا سبلا “ یعنی ہم نے پہاڑوں کے درمیان کھلے کھلے راستے بنائے۔ 2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فجاجا “ سے مراد ہے نشانات (آٰیت) ” سبلا “ یعنی راستے۔ 3:۔ فریابی، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجعلنا السمآء سقفا محفوظا “ میں محفوظا سے مراد ہے مرفوعا یعنی بلند (آیت) ” وھم عن ایتھا معرضون “ یعنی سورج چاند اور ستارے آسمان کی نشانیوں میں سے ہیں۔ 4:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ یہودیوں نے نبی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَجَعَلْنَا : اور ہم نے بنائے ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ رَوَاسِيَ : کچھ پہاڑ ] [ ان : کہ (کہیں)] [ تميْدَ : وہ لرزے ] [ بِهِمْ : ان لوگوں کے ساتھ ] [ وَجَعَلْنَا : اور ہم نے بنائیں ] [ فِيْهَا : ان (پہاڑوں) میں ] [ فِجَـاجًا : کچھ کشادہ جگہیں ] [ سُبُلًا : راستے ہوتے ہوئے ] [ لَعَلَهُمْ : شاید وہ لوگ ] [ يَهْتَدُوْنَ : ہدایت پائیں ] [ج ج ](ن) فَجًّا دو پیروں کے درمیان فاصلہ کرنا۔ پھیلانا ۔ کشادہ کرنا۔] [ فَجٌّ ج فِجَاجٌ۔ صفت ہے۔ کشادہ۔ پھر کشادہ راستے کے لئے بھی آتا ہے۔ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ (ہر ایک دور دراز کشادہ راستے سے) 22:27 ۔ اور زیر مطالعہ آیت۔ 31]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 30–32

مزید دلائل توحید کا بیان، تخلیق ارض و سما، پہاڑوں کا جما دینا اور شمس و قمر کا ایک ہی دائرہ میں گردش کرنا ان آیات میں اللہ جل شانہٗ نے اپنی صفت خالقیت کو بیان فرمایا ہے اور مخلوق میں جو بڑی بڑی چیزیں ہیں ان کو بطور نشانی کے پیش فرما کر اہل کفر کو ایمان کی دعوت دی ہے۔ ارشاد فرمایا کہ کافروں کو یہ معلوم نہیں کہ آسمان و زمین سب بند تھے۔ نہ آسمان سے بارش ہوتی تھی نہ زمین سے کچھ پیدا ہوتا تھا۔ پھر ہم نے انہیں اپنی قدرت سے کھول دیا۔ بارشیں بھی خوب ہونے لگیں اور زمین سے نباتات بھی نکلنے لگی۔ یہ چیزیں منکرین کے سامنے ہیں۔ کچھ لوگ تو خالق ومالک کو مانتے ہی نہیں اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو مانتے تو ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 30–33

بیان دلائل قدرت برائے اثبات وحدانیت قال اللہ تعالیٰ اولم یر الذین کفروا ان السموت والارض کانتا رتقا .... الیٰ .... کل فی فلک یسبحون۔ (ربط) گزشتہ آیت میں تخلیل عالم اور دلیل توحید کا ذکر تھا اور اس سے پہلے اس بات کا ذکر تھا کہ ہم نے اس عالم کو عبث اور باطل اور بیکار اور بےفائدہ نہیں بنایا بلکہ انواع اقسام کے صنائع اور بدائع سے مملو پیدا کیا تاکہ نظر کرنے والوں کے لیے تبصرہ اور عبرت پکڑنے والوں کے لیے تذکرہ ہوجائیں اور جس سے بندوں کے امور معاش اور معاد منتظم ہوں اور ان کو دیکھ کر ان کے خالق اور تدبر کو پہچائیں اور اس کے واحد قہار ہونے پر استدلال کریں۔ اب آئندہ آیات میں کچھ اور دلائل قدرت و حکمت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 29–32

22:۔ یہ جواب شکوی کی تمام شقوں پر متفرع ہے۔ یعنی فرشتے تو اللہ کے باعزت لیکن عاجز اور فرمانبردار بندے ہیں۔ وہ اس لائق نہیں کہ نظام کائنات میں دخیل ہوں یا عبادت اور پکار کے مستحق ہوں۔ بلکہ ان کا کام تو یہ ہے کہ ہر وقت اللہ کی اطاعت و عبادت میں مصروف رہیں۔ لیکن اگر بہ فرض محال ان میں سے کوئی الوہیت کا دعوی کر بیٹھے اور اپنی عبادت اور پکار کی طرف دعوت دینے لگے تو ہم اسے ہرگز معاف نہیں کریں گے بلکہ جہنم کے سخت عذاب میں مبتلا کردیں گے جو ظالموں اور باغیوں کی سزا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 30–32

ربط آیات : ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کا ذکر کیا۔ پھر شرک کرنیوالوں کی تردید فرمائی اور توحید کے دلائل بیان کیے۔ انبیاء کے متعلق فرمایا کہ وہ سب اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے بیان کرنے پر متفق تھے۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے وحدانیت کے حق میں بعض دلائل کی طرف اشارہ فرمایا ہے ، اور کفر کرنے والوں کا رد کیا ہے ۔ فرمایا ہے کہ اگر لوگ ان دلائل میں غوروفکر کریں تو اللہ کی وحدانیت آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے مگر یہ لوگ ایسا نہیں کرتے۔ رئویت کا مفہوم : ارشاد ہوتا ہے اولم یرالذین۔۔۔۔۔ کیا نہیں دیکھا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا۔ یہاں پر رئویت کا معنی غور وفکر کرنا اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَجَعَلْنَا فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ اَنْ تَمِيْدَ بِہِمْ 0۠ وَجَعَلْنَا فِيْہَا فِجَـاجًا سُـبُلًا لَّعَلَّہُمْ يَہْتَدُوْنَ۝ 31 رسا يقال : رَسَا الشیء يَرْسُو : ثبت، وأَرْسَاهُ غيره، قال تعالی: وَقُدُورٍ راسِياتٍ [ سبأ/ 13] ، وقال : رَواسِيَ شامِخاتٍ [ المرسلات/ 27] ، أي : جبالا ثابتات، وَالْجِبالَ أَرْساها[ النازعات/ 32] ، ( ر س و ) رسا الشئی ۔ ( ن ) کے معنی کسی چیز کے کسی جگہ پر ٹھہرنے اور استوار ہونے کے ہیں اور ارسٰی کے معنی ٹھہرانے اور استوار کردینے کے ۔ قرآن میں ہے : وَقُدُورٍ راسِياتٍ [ سبأ/ 13] اور بڑی بھاری بھاری دیگیں جو ایک پر جمی رہیں ۔ رَواسِيَ شامِخاتٍ [ المرسلات/ 27] اور انچے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

(3) جعلنا فی الارض رواسی ان تمید بہم اے لئلا یمتد لام ولاعدم التباس کی وجہ سے حذف کیا گیا۔ راسیہ زمین میں گڑی ہوئی چیز جس کی جمع رواسی ہے۔ مراد پہاڑ یعنی کرہ ارض زمین میں پہاڑوں کی وجہ سے یا خود اس کی ذات میں ثقل اور بوجھل ہونا کردیا جو ڈگمگاتی نہیں اگر یہ بھی ہوا یا پانی کی طرح خفیف و سبک ہوتی ہلتی جلتی تب اس پر نہ کوئی مکان رہتا نہ مکین یہ بھی بڑا انعامِ الٰہی ہے۔ (4) وجعلنا فیہا فجاجا سبلا لعلھم یہتدون کہ زمین میں تمہارے راہ پانے کے لیے کشادہ رستے رکھے اگر سخت ناہموار و دشوار گزار زمین ہوتی جیسا کہ بعض خیال ہوتے ہیں تو بھی دنیا اس لطف کے ساتھ نہ بستی۔ الفج الطریق الواسع لعلھم یھتدون میں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَجَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِہِمْ ص وَجَعَلْنَا فِیْھَا فِجَاجًا سُبُلاً لَّعَلَّھُمْ یَھْتَدُوْنَ ۔ (الانبیاء : 31) (اور ہم نے زمین میں پہاڑ گاڑ دیئے کہ وہ ان کو لے کر لڑھک نہ جائے اور ہم نے ان میں کشادہ راہیں بنادیں تاکہ یہ لوگ راستہ پاسکیں۔ ) رَوَاسِیَ … پہاڑوں کی صفت کے لیے آتا ہے لیکن اب اپنی شہرت کے باعث موصوف کے قائم مقام ہوگیا۔ اس کا معنی ہے بلند پہاڑ۔ اَنْ تَمِیْدَ بِہِمْ … میں اَنْ سے پہلے مَخَافَۃًیا اس کے ہم معنی کوئی لفظ محذوف ہے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ ان کو ساتھ لے کر لڑھک جائے۔ فِجَاجًا، فَجٌ کی جمع ہے۔ دو پہاڑوں کے درمیان کے شگاف کو کہتے ہیں۔ کشادہ راستے کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ ! اللہ تعالیٰ کے اِلٰہ ہونے کا تیسرا، چوتھا اور پانچواں ثبوت۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا فرما کر اس میں بڑے بڑے پہاڑ نصب فرمائے تاکہ زمین اپنے بوجھ کی وجہ سے ہلنے اور ایک طرف جھکنے نہ پائے۔ پھر اس میں کشادہ راہیں بنائیں تاکہ لوگوں کو ایک سے دوسرے مقام تک جانے کے لیے سہولت اور رہنمائی حاصل ہو۔ عربی زبان جاننے والا ہر شخص جانتا ہے کہ عربی لغت میں ارض کا لفظ واحد اور جمع دونوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں جہاں بھی الارض کا لفظ آیا ہے اس سے مراد تہہ بہ تہہ سات زمینیں ہیں۔ اٹھائیسویں پارہ میں زمین کے لیے بھی ” مِثْلَھُنَّ “ کا لفظ استعمال فرما کر سات…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

31: وَجَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ (اور زمین میں ہم نے بوجھ بنا دیئے) قائم رہنے والے پہاڑ۔ یہ رسا یرسو سے ہے جس کا معنی قائم و ثابت رہنا ہے۔ اَنْ تَمِیْدَ بِھِمْ (کہ زمین ان کو لے کر ہلنے نہ لگے) ان کو لیکر مضطرب و بےقرار نہ ہوجائے۔ یہاں لاؔ محذوف ہے اور لام بھی۔ لاؔ کا یہ حذف جائز ہے کیونکہ التباس نہیں جیسا کہ اس ارشاد میں مراد ہے۔ لئلا یعلم اہل الکتاب۔ ] الحدید : 29 [ راستوں کی کیفیت وَجَعَلْنَا فِیْھَا سُبُلاً فِجَاجًا (اور ہم نے اس زمین میں کشادہ راستے بنائے) فجاجًا : وسیع راستے۔ یہ فجٌّ کی جمع ہے۔ نحو : یہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ سُبُلاً ذو الحال مقدم ہے۔ اعتراض : اس ارشاد اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

31۔ وجعلنا فی الارض رواسی، جمے ہوئے پہاڑ اور گڑھے ہوئے پہار، ان تمیدبھم، تاکہ وہ اپنے باشندوں کو لے کر نہ لرزے۔ وجعلنا فیھا، زمین میں یا پہاڑوں میں، فجاجا، کشادہ راستے بنائے۔ دو پہاڑوں کے درمیان۔ فج، اسی کو کہتے ہیں کہ ہم نے ان پہاڑوں کے درمیان راستے بنادیے تاکہ تم اپنے مقاصد اور کام کاج میں لگے رہو۔ سبلا، فجاج کی تفسیر ہے ۔ لعلھم یھتدون۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 30–33

30۔ 33:۔ اگرچہ پہلی آیت کی تفسیر میں سلف کے کئی قول ہیں مگر بیہقی کی کتاب اسماء وصفات ‘ تفسیر عبد بن حمید اور مستدرک 1 ؎ حاکم میں معتبر سند سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے جس میں انہوں نے کانتا رتقا ففتقنھما کی تفسیر یوں بیان فرمائی ہے کہ آسمان بند تھا ‘ اس میں مینہ برسنے کی تاثیر نہیں تھی ‘ اللہ تعالیٰ نے اس میں مینہ برسنے کی تاثیر پیدا کی اسی طرح زمین بند تھی ‘ اس میں کسی طرح کی پیداوار نہیں تھی ‘ اللہ تعالیٰ نے اس میں پیداوار کی قوت پیدا کی ‘ حافظ ابو جعفر ابن جریر نے سلف کے سب قولوں میں سے اسی قول کو معتبر ٹھہرایا ہے ‘ آخر آیت میں اللہ تعالیٰ نے بھی مینہ کا ذکر فرمایا ہے ‘ اس واسطے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 31–33

آیت 31- یعنی یہ بات اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کے کمال، اس کی وحدانیت اور رحمت پر دلیل ہے کہ جب زمین میں پہاڑوں کے بغیر ٹھہراؤ نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے ذریعے سے اس میں ٹھہراؤ پیدا کیا تاکہ وہ بندوں کے ساتھ جھک نہ جائے یعنی زمین میں اضطراب پیدا نہ ہو اور بندے سکون اور کھیتی باڑی کرنے سے محروم نہ رہ جائیں اور کہیں ایسا نہ ہو کہ زمین میں ٹھہراؤ نہ رہے۔۔۔۔۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے ذریعے سے زمین کو ٹھہراؤ عطا کیا تب اس سبب سے بندوں کو جو بہت سے مصالح اور منافع حاصل ہوئے، وہ محتاج وضاحت نہیں۔ چونکہ پہاڑ ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں اور ان میں بہت زیادہ اتصال ہے۔ اگر اسی حالت اتصال میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

40 آیات ارضی میں غور وفکر کی دعوت : سو اس سے آیات ارضی یعنی زمین کے اندر کی نشانیوں کی طرف توجہ مبذول کرنے کی دعوت دی گئی ہے کہ زمین کے اندر بھی طرح طرح کے نشانہائے قدرت موجود ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے زمین کے اندر طرح طرح کے [ پہاڑوں کے ] عظیم الشان لنگڑ ڈال دیے تاکہ یہ کہیں ڈولنی نہ لگیں [ اپنے اوپر رہنے بسنے والے ] ان لوگوں کو لے کر۔ نیز اس میں ہم نے طرح طرح کے کشادہ راستے بھی رکھ دیے۔ تاکہ لوگ راہ پاس کیں۔ اپنی منزل مقصود تک پہنچنے کی راہ۔ نیز اس سے وہ دنیاوی زندگی کی ان عارضی منزلوں سے بڑھ کر اپنے اس ربِّ حقیقی کی معرفت کی حقیقی منزل مراد تک بھی رسائی حاصل کرسکیں جس نے انکو یہ سب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 30–35

کائنات اور انسان کی پیدائش کے راز تشریح : یہ آیات سائنسی نکات اور بڑے بڑے رازوں کو ظاہر کرتی ہیں۔ جبکہ بظاہر تخلیق کائنات، تخلیق حیوانات، جمادات، نباتات اور تمام اجرام فلکیات کا ذکر ہے کہ یہ سب اللہ نے بنائے ہیں۔ انسان کی آزمائش کے لیے اس کو نعمتیں دیں اور پھر بتایا کہ زندگی ختم ہونے والی چیز ہے۔ اور پھر آخرت کا بھی بتا دیا کہ مرنے کے بعد تم کہاں جاؤ گے اور اس نے ذرے سے لے کر آسمان تک ہر چیز کا حساب کتاب بڑی وضاحت سے اپنے پاس لکھ رکھا ہے۔ آیت 30 میں بہت بڑا انکشاف ہے۔ کہ زمین آسمان جڑے ہوئے تھے تو ان کو ہم نے علیحدہ کردیا۔ علم فلکیات نے جب تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ واقعی زمین و آسمان جڑے ہوئے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 30–41

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف کیا کافر جان نہیں چکے کہ آسمان اور زمین پہلے بند تھے یعنی اب تو عقل انسانی نے بھی یہ بات دریافت کرلی ہے کہ نہ آسمانوں سے بارش برستی تھی اور نہ زمین میں روئیدگی تھی اور نہ ان کی صورت اس قابل تھی پھر رب کریم نے معمورہ عالم کو بسانا چاہا تو انہیں کھول دیا یعنی اس نظام حیات کو رواں کردیا سورج کی گرمی و روشنی اور ہواؤں کی آمد وشد اپنا اپنا کام دکھانے لگی ، بادل برسنے لگے اور زمین سے رنگا رنگ چیزیں پیدا ہونے لگیں لیکن یہ سب اتفاقا نہیں ہو رہا بلکہ اللہ کریم کا نظام ہے جس کی ایک اصل یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ نے ہر شے کی حیات خواہ حیوانات ہوں یا نباتات پانی پر مقرر کردی ہے ،…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 13 یہ تیسری دلیل ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر پہاڑ نہ ہوتے اور زمین ہلکی ہوتی تو زمین میں وہ انضباط نہ پایا جاتا جواب موجود ہے اور جو سطح زمین پر زندہ رہنے کے لئے ضروری ہے۔ (نیز دیکھیے سورة نحل :15)14 یا ہم نے زمین میں چوڑے چوڑے راستے رکھے۔ واختارہ الطبری (قرطبی) 1 یعنی ایک ملک کے لوگ دوسرے ملک والوں سے مل سکیں۔ اگر پہاڑ اس طرح واقع ہوتے کہ راہیں بند ہوجاتیں تو یہ بات کہاں سے پیدا ہوتی 1 (موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(21:31) رواسی۔ رسی یرسو (نصر) رسو ورسو (مصدر) سے اسم فاعل کا صیغہ جمع۔ راسیۃ واحد۔ رسا الشیء (نصر) کے معنی کسی چیز کے کسی جگہ پر ٹھہرنے اور استوار ہونے کے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے وقدور راسیت اور بڑی بڑی بھاری دیگیں جو ایک جگہ پر جمی رہیں۔ رواسی وہ مضبوط پہاڑ جو ایک جگہ جم کر ٹھہرے ہوئے ہوں۔ المرسی۔ بندرگاہ۔ جمع مر اس۔ المرساۃ۔ کشتی یا جہاز کا لنگر۔ مرسی مصدر میمی بھی ہے لنگر انداز ہونا۔ ظرف زمان وظرف مکان بھی ہے۔ لنگر انداز ہونے کا وقت یا لنگر انداز ہونے کی جگہ۔ ان بمعنی لئلا استعمال ہوا ہے اور ہم سے مراد اہل الارض ہیں۔ تمیدبہم۔ تمید مضارع واحد مؤنث غائب (ضرب) وہ ہلے۔ وہ جھکے۔ یا وہ ہلتی ہے یا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 30–33

لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 33 رتق ایک دوسرے میں گھسے ہوئے۔ ملے ہوئے۔ فتقنا ہم نے الگ الگ کردیا۔ جدا کردیا۔ حی زندہ۔ رواسی (راسیۃ) بوجھ، جمی ہوئی چیزیں، بوجھل۔ ان تمید یہ کہ جھک پڑے، ایک طرف کو ڈھلک جائے۔ فجاج (فج) کھلے ہوئے پہاڑی درے۔ سقف چھت، سائبان۔ فلک گول چیز، گھومنا، مدار۔ یسبحون وہ تیرتے ہیں۔ بلا روک ٹوک راستے پر چلتے ہیں۔ تشریح : آیت نمبر 30 تا 33 وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی ذات ، اس کی قدرت کا ملہ اور آخرت کا انکار کرتے ہیں ان سے فرمایا جا رہا ہے اس اللہ نے انسان کے اس دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے ہی زمین و آسمان کو پیدا کر کے سارے اسباب مہیا کردیئے تھے پانی کو پیدا کیا تاکہ اس کے ذریعے ہر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 30–33

توحید کا ذکر۔ (ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابن عباس اور جمہور مفسرین رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کے معنی یہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو جو کہ بند تھے کھول دیا یعنی آسمان سے مینہ نہ برستا تھا ہم نے برسادیا، زمین میں نباتات اگانے کی صلاحیت نہ تھی ہم نے پیدا کرائی کیا کفار اس بات کو نہیں آزماچکے ، ہر سال گرمی اور جاڑے کی شدت میں جب بارش نہیں ہوتی اور زمین میں کچھ پیدا نہیں ہوتا دیکھتے ہیں کہ آسمان اور زمین بند ہوجاتے ہیں اللہ تعالیٰ ہی اپنی قدرت سے ان کو کھولتا ہے مینہ برساتا ہے سبزہ اگاتا ہے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی وہی نشانی ہر وقت ان لوگوں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 30–31

[18] یعنی کائنات کی ابتدائی شکل ایک تودے (Mass) کی سی تھی۔ بعد میں اس تودے کو الگ الگ حصوں میں تقسیم کیا گیا جس کے نتیجے میں ہمارا نظام شمسی اور کہکشائیں وجود میں آئیں۔ [19] جدید ماہرین علم الحیات کی تحقیق ہے کہ ہر جاندار کی ترکیب میں اصلی عنصر نخرمایہ (Protoplasm) کا ہوتا ہے جس کا غالب حصہ پانی ہے۔ اس طرح پانی کو اللہ نے سبب زندگی بنایا اور اس سے زندگی کا آغاز کیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 30–32

(ف 2) طبعیات اور علم الحیات کے ماہرین کی تازہ ترین تحقیقات یہ ہے کہ آسمان اور زمین درحقیقت ایک ہی کرہ تھے ، بعد میں نامعلوم وجوہ کی بنا پر انفصال ہوا ، اور یہ دونوں الگ الگ ہوگئے نیز یہ کہ ابتدا میں بحری جانور پیدا ہوئے ، بعد میں دوسری زندہ چیزیں ظہور پذیر ہوئیں ، گویا پانی ہی زندگی کا باعث بنا ہے اور یہیں سے حیات کا آغاز ہوا ۔ غور فرمائیے ، قرآن حکیم بھی اس آیت میں اسی حقیقت کا اظہار کرتا ہے ، مگر کب سے ، آج سے چودہ سو سال قبل سے جب کہ موجودہ علوم وفنون کا وجود تک نہ تھا ۔ حل لغات : مشفقون : اشفاق سے ہے ، ڈر اور خوف ۔ رتقا : انضمام ، باہم ملنا ، مفعول کے معنوں میں ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

.31 اور ہم نے زمین میں اس لئے بھاری بھاری پہاڑ بنائے کہ وہ زمین ان لوگوں کو لے کر نہ ہلنے لگے اور ہم نے ان پہاڑوں میں کشادہ کشادہ گھاٹیاں اور گھاٹے بنائے تاکہ وہ لوگ منزل مقصود تک پہنچ سکیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی ایک ملک کے لوگ دوسرے ملک والوں سے مل سکیں اگر پہاڑ ایسے ڈھب پر پڑتے کہ راہیں بند ہوتیں تو یہ بات کہاں تھی۔ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 30–31

ف 2۔ یعنی نہ آسمان سے بارش ہوتی تھی نہ زمین سے کچھ پیداوار، اور اسی کو بند ہونا فرما دیا، چناچہ جس زمانہ میں بارش نہیں ہوتی اور زمین سے کچھ پیدا نہیں ہوتا اب بھی بند ہوتے ہیں۔ 3۔ کہ آسمان سے بارش ہونے لگی اور زمین سے نباتات اگنے لگیں۔ 4۔ خواہ حدوثا خواہ بقاء خواہ بواسطہ یا بلا واسطہ۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

زمین کے اندر پہاڑوں کے رکھے جانے کے فوائد کا مختصر ذکر : 31۔ (مائدہ) مید سے ہے جس کے معنی کھانا دینے کے بھی آئے ہیں اور عظیم الشان چیز کے اضطراب کے بھی اور اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ ایک چیز ایک طرف کو مائل ہوگئی اور (ان تمیدبکم) تمہارے ساتھ وہ ایک طرف کو اضطراب سے رک جائے اور یہ بھی کہ وہ تم کو کھانے پینے کی چیزیں پیش کرے جن کو اس نے تمہارے لئے ان پہاڑوں کے باعث روکا ہوا ہے ۔ قرآن کریم میں جہاں بھی اجرام فلکی کا ذکر آیا ہے ساتھ ہی زمین کے تعلق کو بھی بیان کیا گیا ہے ، اس جگہ بھی اجرام فلکی کے بعد عالم ارضی کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے اور اس جگہ بھی اس سے خدا کی قدرت اور حکمت کے نشانات سے انہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 31–32

وَجَعَلْنَا فِي الْأَرْ‌ضِ رَ‌وَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِهِمْ (And We created mountains on the earth, lest it should shake with them. 21:31) The word مَید (mayd) in Arabic language means to be convulsed. Therefore, the meaning of this verse is that Allah Ta` ala has planted mountains on the earth to hold it in place because any violent movement of the earth would be catastrophic to those who live on it.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

30. For explanation, see (E. N. 12 of Surah An-Nahl). 31.“Broad highways”are the passes between high mountains and the valleys and ravines made by the rivers in the mountainous regions and other natural ways that connect different regions on the earth. 32. This is a very meaningful sentence. It may mean that the people may find paths for traveling on the earth, and it may also mean that the wisdom that underlies the skill and the system of their creation may guide them to the reality.

Read the full tafseer →