Explained with ayahs 30–33
زبردست غالب
اللہ تعالیٰ اس بات کو بیان فرماتا ہے کہ اس کی قدرت پوری ہے اور اس کا غلبہ زبردست ہے۔ فرماتا ہے کہ جو کافر اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کرتے ہیں کیا انہیں اتنا بھی علم نہیں کہ تمام مخلوق کا پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے اور سب چیز کا نگہبان بھی وہی ہے پھر اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت تم کیوں کرتے ہو ؟ ابتدا میں زمین و آسمان ملے جلے ایک دوسرے سے پیوست تہ بہ تہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں الگ الگ کیا زمینیں پیدا کیں اور سات ہی آسمان بنائے۔ زمین اور پہلے آسمان کے درمیان جوف اور خلا رکھا۔ آسمان سے پانی برسایا اور زمین سے پیداوار اگائی۔ ہر زندہ چیز پانی سے پیدا کی۔ کیا یہ تمام چیزیں جن میں سے…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْبِیَآء 28
اصل میں لفظ " رتق " اور " فتق " کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ رتق کے معنی ہیں یکجا ہونا، اکٹھا ہونا، ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہونا، متصل اور متلاصق ہونا۔ اور فتق کے معنی پھاڑنے اور جدا کرنے کے ہیں۔ بظاہر ان الفاظ سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ کائنات کی ابتدائی شکل ایک تودے (Mass) کی سی تھی، بعد میں اس کو الگ الگ حصوں میں تقسیم کر کے زمین اور دوسرے اجرام فلکی جدا جدا دنیاؤں کی شکل میں بنائے گئے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد چہارم حٰمٓ السجدہ، حاشیہ 13۔ 14۔ 15)۔
سورة الْاَنْبِیَآء 29
اس سے جو مفہوم سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ پانی کو خدا نے سبب زندگی…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
کیا ان کافروں کو یہ معلوم نہیں ہوا کہ آسمان اور زمین (پہلے) بند تھے (یعنی نہ آسمان سے بارش ہوتی تھی نہ زمین سے کچھ پیداوار، اسی کو بند ہونا فرمایا جیسا کہ اب بھی اگر کسی جگہ یا کسی زمانے میں آسمان سے بارش اور زمین سے پیداوار نہ ہو تو اس جگہ یا اس زمانے کے اعتبار سے ان کو بند کہا جاسکتا ہے) پھر ہم نے دونوں کو (اپنی قدرت) کھول دیا (کہ آسمان سے بارش اور زمین سے نباتات کا اگنا شروع ہوگیا) اور (بارش سے صرف نباتات ہی کو نمو نہیں ہوتا بلکہ ہم نے (بارش کے) پانی سے ہر جاندار چیز کو بنایا ہے (یعنی ہر زندہ جاندار کے وجود اور بقاء میں پانی کا دخل ضرور ہے خواہ بلاواسطہ ہو یا کسی واسطہ سے جیسا…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون ……آیات 33-30
اوپر کی آیات میں معاد و توحید کی وہ دلیلیں بیان ہوئی ہیں جو عقل و فطرت اور صفات الٰہی کے بدیہیات و مقتضیات پر مبنی ہیں۔ اب یہ نشانیوں کا مطالبہ کرنے والوں کو جن کا ذکر آیت 5 میں ہے۔ آفاق کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی کہ وہ کسی نئی نشانی کا مطالبہ کیوں کرتے ہیں، خدا کی یہ کائنات، اس کی قدرت، رحمت، ربوبیت اور توحید و معاد کی نشانیوں سے بھری پڑی ہے، ان نشانیوں پر کیوں نہیں غور کرتے ؟ جب وہ ان ساری نشانیوں سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں تو اس کی کیا ضمانت ہے کہ اگر کوئی نئی نشانی دکھا دی گئی تو ان کی آنکھیں کھل جائیں گی ! دل میں ہدایت کے اترنے کی اصل راہ عقل ہے، جب انہوں نے…
Read the full tafseer →30۔ 1 یعنی آسمان و زمین، ابتدائے امر ہیں، باہم ملے ہوئے اور ایک دوسرے کے ساتھ پیوست تھے۔ ہم نے ان کو ایک دوسرے سے الگ کیا، آسمانوں کو اوپر کردیا جس سے بارش برستی ہے اور زمین کو اپنی جگہ پر رہنے دیا، تاہم وہ پیداوار کے قابل ہوگئی۔
30۔ 2 اس سے مراد اگر بارش اور چشموں کا پانی ہے، تب بھی واضح ہے کہ اس کی روئیدگی ہوتی ہے اور ہر ذی روح کو حیات نو ملتی ہے اور اگر مراد نطفہ ہے، تو اس میں بھی کوئی اشکال نہیں کہ ہر زندہ چیز کے وجود کے باعث وہ قطرہ آب ہے جو نر کی پیٹھ کی ہڈیوں سے نکلتا اور مادہ کے رحم میں جاکر قرار پکڑتا ہے۔
Read the full tafseer →13: اکثر مفسرین کی تفسیر کے مطابق اس آیت میں آسمان کے بند ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے بارش نہیں ہوتی تھی، اور زمین کے بند ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے کوئی پیداوار نہیں ہوتی تھی، اور ان دونوں کو کھولنے کا مطلب یہ ہے کہ آسمان سے پانی برسنے لگا، اور زمین سے سبزیاں اگنے لگیں، یہ تفسیر متعدد صحابہ اور تابعین سے منقول ہے۔ لیکن دوسرے بعض مفسرین نے اس کی یہ تفسیر بھی کی ہے کہ آسمان اور زمین دونوں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے اور یک جان تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو الگ الگ کیا۔
14: اس آیت نے واضح کردیا ہے کہ ہر جان دار چیز کی تخلیق میں پانی کا کوئی نہ کوئی دخل ضرور ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
اولم یرالذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کل فی فلک یسبحون ”
یہ اس نظر آنے والی کائنات کی سیر ہے ‘ جبکہ انسانوں کے دل و دماغ اس میں موجود دلائل و شواہد سے بالکل غافل ہیں۔ اگر کھلے دل و دماغ سے اس پر غور کیا جائے تو اس میں ایسے شواہد ہیں جو عقل و خرو کے دامن گیر ہوجاتے ہیں ‘ صرف چشم بینا چاہیے۔
یہ بات کہ زمین و آسمان پہلے ملے ہوئے تھے اور ہم نے ان کو بعد میں جدا کردیا ‘ قابل غور ہے۔ فلکیات کے شعبے میں انسانی علم جس قدر آگے بڑھتا ہے وہ قرآن کے اس فرمان کی توثیق کرتا ہے جو قرآن نے آج سے چودہ سو سال پہلے کہی۔ آج تک انسانوں نے جو نظریات قائم کیے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ سورج کی کہکشاں جس میں سورج ‘ چاند ‘ زمین…
Read the full tafseer →5 " رتق " کے اصل معنے ملنے اور ایک دوسرے میں گھسنے کے ہیں۔ ابتداء زمین و آسمان دونوں ظلمت عدم میں ایک دوسرے سے غیر متمیز پڑے تھے پھر وجود کے ابتدائی مراحل میں دونوں خلط ملط رہے، بعدہ، قدرت کے ہاتھ نے دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کیا۔ اس تمیز کے بعد ہر ایک کے طبقات الگ الگ بنے، اس پر بھی منہ بند تھے، نہ آسمان سے بارش ہوتی تھی نہ زمین سے روئیدگی، آکر خدا تعالیٰ نے بنی نوع انسان کے فائدہ کے لیے دونوں کے منہ کھول دیے، اوپر سے پانی کا دہانہ کھلا، نیچے سے زمین کے مسام کھل گئے۔ اسی زمین میں سے حق تعالیٰ نے نہریں اور کانیں اور طرح طرح کے سبزے نکالے، آسمان کو کتنے بیشمار ستاروں سے مزین کردیا جن میں سے ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
آیت 30 اَوَلَمْ یَرَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰہُمَا ط ”
یعنی شدید گرمی اور حبس کی صورت حال جس میں لوگوں کی جان پر بنی ہوئی ہوتی ہے۔ اس کیفیت میں بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ آسمان کے دروازے بھی بند ہیں ‘ زمین کے سوتے بھی خشک ہیں ‘ بارش کا دور دور تک کوئی امکان نہیں ‘ ہر طرف خشک سالی کا راج ہے اور پھر یکا یک اللہ کی رحمت سے یہ صورت حال تبدیل ہوجاتی ہے۔ آسمان کے دہانے کھل جاتے ہیں اور بارش کے پانی سے زمین پر نباتاتی اور حیواناتی زندگی کی چہل پہل شروع ہوجاتی ہے۔
اس کے علاوہ اس آیت میں یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ Big Bang کے بعد مادے کا جو ایک بہت…
Read the full tafseer →25 اس آیت میں رتق اور فتق کے الفاظ استمعال ہوئے ہیں۔ اور یہ دونوں الفاظ ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ رتق کے معنی دو چیزوں یا کئی چیزوں کا مل کر جڑ جانا اور چیدہ ہوتا ہے اور فتق کے معنی ایسی گڈ مڈ شدہ اور جڑی ہوئی چیزوں کو الگ الگ کردیتا ہے۔ اس آیت میں کائنات کا نقطہ آغاز بیان کیا گیا ہے کہ ابتداء صرف ایک گڈ مڈ اور کئی چیزوں سے مخلوط مادہ تھا۔ اسی کو کھول کر اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور دوسرے اجرام فلکی کو پیدا فرمایا۔
26 ہر وہ چیز جس میں زندگی کے آثار پائے جاتے ہوں اس کی زندگی کا سبب پانی ہی ہوتی ہے اور اس میں نباتات، حیوانات سب شامل ہیں۔ اور ایسی تمام اشیاء پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتیں۔ اور اس…
Read the full tafseer →39۔ چناچہ نہ آسمان سے بارش ہوتی تھی نہ زمین سے پیداوار۔ آسمان اور زمین جامد محض ہیں۔ کوئی دیوی دیوتا یا صاحب اختیار مخلوق ہی سرے سے نہیں کہ خودبخود اپنے ارادہ ومرضی سے کسی کے کام آنے لگیں (آیت) ” اولم یر الذین کفروا “۔ سے مراد یہ ہے کہ یہ مشرکین جو توحید کے منکر ہیں، کیا طبعیات ومادیات کے ان حقائق پر بھی غور نہیں کرتے ؟ آسمان اور زمین جیسے قوی الجثہ مخلوقات تک میں یہ قدرت کب تھی کہ اپنے ارادہ واختیار سے وہ کچھ کرنے لگیں ؟ رؤیت سے مراد رؤیت عینی نہیں، رؤیت عقلی یا علم ہے۔ المراد من الرؤیۃ ھو العلم (کبیر) (آیت) ” کانتا “۔ (آیت) ” سموت “۔ صیغہ جمع ہے۔ مراد یہاں مجموعہ سموت یا طبقہ سموت ہے۔ اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–41
آیت نمبر 30 تا 41
ترجمہ : کیا کافر یہ نہیں جانتے کہ آسمان اور زمین (منہ) بند تھے ؟ اَوَلَمْ میں واؤ اور ترک واؤ دونوں ہیں رَتَقًا بمعنی سَدًّا ہے اور سَدًّا بمعنی مَسْدُوْدًا ہے پھر ہم نھے ان کو کھول دیا یعنی سات آسمان اور سات زمین بنادیں یا فتق سماء کا مطلب یہ ہے کہ آسمان سے بارش نہیں ہوتی تھی پھر بارش ہونے لگی، اور فتق ارض کا مطلب یہ ہے کہ زمین اگاتی نہیں تھی پھر اگانے لگی اور ہم نے آسمان سے برسنے والے اور زمینی چشموں سے نکلنے والے پانی سے ہر جاندار کو بنایا گھاس وغیرہ کو لہٰذا پانی ہر جاندار کے لئے سبب حیات ہے پھر بھی میری توحید پر ایمان نہیں لاتے اور ہم نے زمین پر ثابت رہنے والے پہاڑ…
Read the full tafseer →اولم یر الذین کفروا ان السموت والارض کانتا رتقا ففتنقہما کیا ان کافروں کو یہ معلوم نہیں
ہوا کہ آسمان و زمین (پہلے) بند تھے ‘ پھر ہم نے دونوں کو (اپنی قدرت سے) کھول دیا۔
السَّمٰوٰت یعنی آسمانوں کا مجموعہ۔ الْاَرْضَزمینوں کا مجموعہ۔ رَتْقًا حضرت ابن عباس ؓ :‘ ضحاک ‘ عطا اور قتادہ نے کہا آسمان و زمین سب باہم چسپاں اور ایک ہی تھے۔ فَفَتَقْنٰہُمَا پھر ہوا داخل کر کے ہم نے دونوں کو الگ الگ کردیا۔ رتق کا لغوی معنی ہے بند کرنا ‘ ملا دینا اور فتق کا معنی ہے پھاڑ دینا ‘ کھول دینا۔ کعب نے کہا اللہ نے آسمان و زمین کو اوپر نیچے (تہ برتہ) بنایا تھا پھر ہوا پیدا کر کے اس کو دونوں کے بیچ میں داخل کر کے دونوں…
Read the full tafseer →(30) کیا یہ لوگ جو کہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کے منکر ہیں نہیں جانتے کہ آسمان اور زمین پہلے بند تھے یعنی نہ آسمان سے بارش کا ایک قطرہ گرتا تھا اور نہ زمین سے کچھ پیداوار ہوتی تھی ایک دوسرے کے اس اعتبار سے ملے ہوئے تھے پھر ہم نے دونوں کو کھول دیا اور ایک دوسرے سے جدا کردیا کہ آسمان سے بارش ہونے لگی اور زمین میں نباتات اگنے لگے، بلکہ ہم نے مرد و عورت کے پانی سے ہر ایک چیز کو بنایا جو بارش کے پانی کی محتاج ہے کیا ان باتوں کو سن کر بھی مکہ والے رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان نہیں لاتے۔
Read the full tafseer →اَوَلَمْ يَرَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا۔۔ : ”رَتْقًا“ کا معنی دو یا کئی چیزوں کا آپس میں سختی سے جڑا اور چپکا ہوا ہونا ہے، خواہ وہ فطری ہو (جیسے پتھر) یا کسی کے بنانے سے۔ (راغب) یہ مصدر بمعنی اسم فاعل برائے مبالغہ ہے، یعنی بالکل بند۔ ”فَتْقٌ“ کا معنی ایسی جڑی ہوئی چیزوں کو الگ الگ کرنا ہے۔ ”اَوَلَمْ يَرَ“ کا معنی ہے ”اور کیا دیکھا نہیں“ اور جہاں دیکھی جانے والی چیز نہ ہو وہاں معنی ہے ”اور کیا جانا نہیں۔“ (دیکھیے سورة فیل) اس آیت کے دو معنی ہیں اور دونوں درست ہیں۔ طبری نے حسن سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے : (کَانَتَا مُلْتَزِقَتَیْنِ) ”سارے آسمان اور زمین آپس میں سختی سے ملے ہوئے تھے۔“ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و من یقل منھم انی الہ من دونہ قتادہ اور ضحاک وغیرہمانے کہا : اس آیت سے مراد ابلیس ہے جس نے شرکت کا دعوی کیا تھا اس نے اپنی عبادت کی طرف بلایا جبکہ وہ ملائکہ میں سے تھا۔ اس کے علاوہ ملائکہ میں سے کسی نے یہ نہیں کہ کہ میں خدا ہوں۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ تمام ملائکہ کی طرف اشارہ ہے۔ جو ایسا کہے گا نجزیہ جھنم ہم اسے جہنم کی سزا دیں گے۔ یہ دلیل ہے کہ اگرچہ وہ عصمت کے ساتھ عزت دیے گئے ہیں پھر بھی وہ عبادت کرتے ہیں وہ عبادت پر مجبور نہیں ہیں جیسا کہ بعض جہلاء کا خیال ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے ہے کہ محمد ﷺ اہل آسمان سے افضل ہیں۔ یہ سورة بقرہ میں گزر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ یہودیوں نے کہا اللہ عزوجل نے جنوں سے رشتہ داری قائم کی ہے اور ان کے درمیان فرشتے تھے کہ انہوں نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا اللہ تعالیٰ نے ان کو جھٹلاتے ہوئے فرمایا (آیت) ” بل عباد مکرمون “ یعنی وہ فرشتے ایسے نہیں ہیں جیسے انہوں نے کہا بلکہ وہ ایسے بندے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کی وجہ سے عزت دی (آیت) ” لا یسبقونہ بالقول “ یعنی اللہ تعالیٰ فرشتوں کی تعریف فرما رہے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے بات کرنے میں سبقت نہیں لے جاتے (آیت) ” ولا یشفعون “ یعنی قیامت کے دن فرشتے سفارش نہیں کریں گے (آیت) ” لمن ارتضی “ مگر توحید والوں کے لئے…
Read the full tafseer →[ اَوَ : اور کیا ] [ لَمْ يَرَ : غور نہیں کیا ] [ الَّذِينَ : ان لوگوں نے جنھوں نے ] [ كَفَرُوْٓا : کفر کیا ] [ ان : کہ ] [ السَّمٰوٰتِ : سارے آسمان ] [ وَالْاَرْضَ : اور یہ زمین ] [ كَانتَا : دونوں تھے ] [ رَتْقًا : جوڑے ہوئے ] [ فَفَتَقْنٰهُمَا : پھر ہم نے بخیہ ادھیڑا دونوں کا ] [ وَجَعَلْنَا : اور ہم نے بنایا ] [ مِنَ الْمَاۗءِ : پانی سے ] [ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ : ہر ایک زندہ چیز کو ] [ اَفَلَا يُؤْمِنُوْنَ : تو کیا وہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے ]
[ ر ت ق ](ن) رَتْقًا جوڑنا۔ ملانا۔ پھٹے ہوئے کپڑے کی سلائی کر کے ملانا۔]
[ رَتْقٌ جوڑی ہوئی چیز۔ زیر مطالعہ آیت۔ 30 ۔]
[ت ق ](ض) فَتْقًا جوڑی ہوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
مزید دلائل توحید کا بیان، تخلیق ارض و سما، پہاڑوں کا جما دینا اور شمس و قمر کا ایک ہی دائرہ میں گردش کرنا
ان آیات میں اللہ جل شانہٗ نے اپنی صفت خالقیت کو بیان فرمایا ہے اور مخلوق میں جو بڑی بڑی چیزیں ہیں ان کو بطور نشانی کے پیش فرما کر اہل کفر کو ایمان کی دعوت دی ہے۔ ارشاد فرمایا کہ کافروں کو یہ معلوم نہیں کہ آسمان و زمین سب بند تھے۔ نہ آسمان سے بارش ہوتی تھی نہ زمین سے کچھ پیدا ہوتا تھا۔ پھر ہم نے انہیں اپنی قدرت سے کھول دیا۔ بارشیں بھی خوب ہونے لگیں اور زمین سے نباتات بھی نکلنے لگی۔ یہ چیزیں منکرین کے سامنے ہیں۔ کچھ لوگ تو خالق ومالک کو مانتے ہی نہیں اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو مانتے تو ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
بیان دلائل قدرت برائے اثبات وحدانیت
قال اللہ تعالیٰ اولم یر الذین کفروا ان السموت والارض کانتا رتقا .... الیٰ .... کل فی فلک یسبحون۔
(ربط) گزشتہ آیت میں تخلیل عالم اور دلیل توحید کا ذکر تھا اور اس سے پہلے اس بات کا ذکر تھا کہ ہم نے اس عالم کو عبث اور باطل اور بیکار اور بےفائدہ نہیں بنایا بلکہ انواع اقسام کے صنائع اور بدائع سے مملو پیدا کیا تاکہ نظر کرنے والوں کے لیے تبصرہ اور عبرت پکڑنے والوں کے لیے تذکرہ ہوجائیں اور جس سے بندوں کے امور معاش اور معاد منتظم ہوں اور ان کو دیکھ کر ان کے خالق اور تدبر کو پہچائیں اور اس کے واحد قہار ہونے پر استدلال کریں۔ اب آئندہ آیات میں کچھ اور دلائل قدرت و حکمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
22:۔ یہ جواب شکوی کی تمام شقوں پر متفرع ہے۔ یعنی فرشتے تو اللہ کے باعزت لیکن عاجز اور فرمانبردار بندے ہیں۔ وہ اس لائق نہیں کہ نظام کائنات میں دخیل ہوں یا عبادت اور پکار کے مستحق ہوں۔ بلکہ ان کا کام تو یہ ہے کہ ہر وقت اللہ کی اطاعت و عبادت میں مصروف رہیں۔ لیکن اگر بہ فرض محال ان میں سے کوئی الوہیت کا دعوی کر بیٹھے اور اپنی عبادت اور پکار کی طرف دعوت دینے لگے تو ہم اسے ہرگز معاف نہیں کریں گے بلکہ جہنم کے سخت عذاب میں مبتلا کردیں گے جو ظالموں اور باغیوں کی سزا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
ربط آیات :
ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کا ذکر کیا۔ پھر شرک کرنیوالوں کی تردید فرمائی اور توحید کے دلائل بیان کیے۔ انبیاء کے متعلق فرمایا کہ وہ سب اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے بیان کرنے پر متفق تھے۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے وحدانیت کے حق میں بعض دلائل کی طرف اشارہ فرمایا ہے ، اور کفر کرنے والوں کا رد کیا ہے ۔ فرمایا ہے کہ اگر لوگ ان دلائل میں غوروفکر کریں تو اللہ کی وحدانیت آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے مگر یہ لوگ ایسا نہیں کرتے۔
رئویت کا مفہوم :
ارشاد ہوتا ہے اولم یرالذین۔۔۔۔۔ کیا نہیں دیکھا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا۔ یہاں پر رئویت کا معنی غور وفکر کرنا اور…
Read the full tafseer →اَوَلَمْ يَرَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰہُمَا 0ۭ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاۗءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ 0 ۭ اَفَلَا يُؤْمِنُوْنَ 30
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99]
( کر ) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام…
Read the full tafseer →1 ؎ اولم یر بمعنی اولم یعلموا کا بح الضیر الی السماء والارض بلحاظ الجنس لہذا لم یقل کن الرتق السد صند انتق یقال الرتقہ فارتتق اے التائم اے کانتاتمر ممتین وقال رتقا ولم یقل رتقین لانہ مصدر 12 منہ
ترکیب : کل شیئٍ مفعول جعلنا حی اس کی صفت من الماء لابتداء الغایت ویجوزان یکون صفۃ لکل تقدم علیہ فصار حالا۔
تفسیر : مشرکین کا خیال رد کر کے اب ان کے سامنے (جو بہت سے معبودوں کے قائل تھے اور کبھی اس کی معزز مخلوق کو اس کا بیٹا یا بیٹیاں کہتے تھے) یہ چند دلائل بیان فرماتا ہے کہ معلوم ہوجائے کہ عالم میں یہ تمام صنعتکاری اسی کی ہے۔ کسی معبود یا بیٹے نے کیا پیدا کیا ہے ؟ اور چونکہ یہ دلائل ایسے بدیہی ہیں کہ…
Read the full tafseer →اَوَلَمْ یَرَالَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ کَانَتَارَتْقًا فَفَتَقْنٰـھُمَا ط وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَـآئِ کُلَّ شَیْ ئٍ حَیٍّ ط اَفَلاَ یُؤْمِنُوْنَ ۔ (الانبیاء : 30)
(کیا ان کفر کرنے والوں نے کبھی غور نہیں کیا کہ آسمان اور زمین آپس میں ملے ہوئے تھے پھر ہم نے ان کو الگ الگ کردیا اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا فرمائی۔ کیا وہ اب بھی ایمان نہیں لاتے۔ )
توحید اور معاد پر آفاق اور مشاہدات کی شہادت
سابقہ آیات میں توحید اور معاد پر وہ دلیلیں قائم کی گئی ہیں جو عقل و فطرت اور صفاتِ الٰہی کے بدیہیات و مقتضیات پر مبنی تھیں۔ اب آفاق کی ان نشانیوں کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے جو…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جس اِلٰہ کے سامنے کوئی دَم نہیں مار سکتا اس کی الوہیت کے دلائل۔
اللہ تعالیٰ کے واحد اِلٰہ ہونے کا جو لوگ انکار کرتے ہیں کیا انھیں معلوم نہیں کہ زمین و آسمان آپس میں خلط ملط تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں جدا جدا کردیا اور اس نے ہر چیز کو پانی سے پیدا کیا۔ اتنے ٹھوس دلائل کے باوجود لوگ پھر بھی اس کے واحد اِلٰہ ہونے پر یقین نہیں کرتے۔ پہلے پارے میں یہ بتلایا ہے کہ ” اللہ “ نے زمین و آسمان کو بغیر کسی نمونے کے پیدا کیا کیونکہ جب کسی کام کے کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے حکم دیتا ہے کہ ” ہوجا “ وہ کام من و عن اس کی مرضی کے مطابق ہوجاتا ہے۔ (البقرۃ : 117)
” رَتْقًا “ کا معنی ہے کہ…
Read the full tafseer →30: اَوَلَمْ یَرَالَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا (کیا ان کافروں کو معلوم نہیں ہوا)
قراءت : مکی نے ألم یَر پڑھا ہے۔
رتق کا معنی اور مطلب :
اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ کَانَتَا (کہ آسمان و زمین بند تھے) مجموعہ سماوات اور مجموعہ ارض مراد ہے اسی لئے کن ؔ نہیں فرمایا۔ رَتْقًا (بند) یہ مصدر ہے جو مفعول کے معنی میں ہے ای کانتا مرتوقتین ہے مصدریت کی وجہ سے جمع کی جگہ لائے ہیں۔ فَفَتَقْنٰـھُمَا (پس ہم نے ان دونوں کو چیر دیا) الفتقؔ دو چیزوں میں جدائی کرنا اور پھاڑنا اور الرتقؔ اس کی ضد ہے باہم ملانا، بند کرنا۔
سوال : کہ اولم ؔ یَر کہہ کر کفار کو آسمان و زمین کا رتق ہونا بتایا جارہا ہے انہوں نے دیکھا ہی کب ہے…
Read the full tafseer →تفسیر۔
30۔ اولم یرالذین کفرو، ، عام قراء نے واؤ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابن کثیر نے ، لم یر، پڑھا ہے بغیر واؤ کے۔ اسی طرح ان کے مصحف میں بھی ہے اس کا معنی یہ ہے کہ اگر جان لیتے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا۔ ان السموات والارض کانتا رتقا، ابن عباس ، ضحاک عطاء و قتادہ کا بیان ہے کہ آسمان و زمین سب باہم چسپاں اور ایک ہی تھے۔
ففتقناھما کی مختلف تفاسیر۔
” ففتقناھما “ پھر ہوا داخل کرکے ہم نے دونوں کو الگ الگ کردیا۔ رتق، لغت میں کہاجاتا ہے بند باندھنا، ملادینا اور رفیق کا معنی ہے پھاڑ دینا، کھول دینا، کعب نے کہا اللہ نے آسمان اور زمین کو اوپرنیچے بنایا تھا۔ پھر ہوا پیدا کرکے اس کو دونوں کے بیچ مین داخل کرکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
30۔ 33:۔ اگرچہ پہلی آیت کی تفسیر میں سلف کے کئی قول ہیں مگر بیہقی کی کتاب اسماء وصفات ‘ تفسیر عبد بن حمید اور مستدرک 1 ؎ حاکم میں معتبر سند سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے جس میں انہوں نے کانتا رتقا ففتقنھما کی تفسیر یوں بیان فرمائی ہے کہ آسمان بند تھا ‘ اس میں مینہ برسنے کی تاثیر نہیں تھی ‘ اللہ تعالیٰ نے اس میں مینہ برسنے کی تاثیر پیدا کی اسی طرح زمین بند تھی ‘ اس میں کسی طرح کی پیداوار نہیں تھی ‘ اللہ تعالیٰ نے اس میں پیداوار کی قوت پیدا کی ‘ حافظ ابو جعفر ابن جریر نے سلف کے سب قولوں میں سے اسی قول کو معتبر ٹھہرایا ہے ‘ آخر آیت میں اللہ تعالیٰ نے بھی مینہ کا ذکر فرمایا ہے ‘ اس واسطے…
Read the full tafseer →آیت 30
کیا ان لوگوں نے۔۔۔۔ جنہوں نے اپنے رب سے کفر کیا اور عبودیت کو اس کے لئے خالص کرنے سے انکار کیا۔۔۔۔ ان نشانیوں کو نہیں دیکھا جو عیاں طور پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی رب محمود و کریم اور معبود۔ وہ زمین و آسمان کا مشاہدہ کرتے ہیں وہ ان کو ایک دوسرے سے جڑا ہوا پاتے ہیں، آسمان میں کوئی بادل ہوتا ہے نہ بارش، زمین مردہ، بےآب وگیاہ اور بنجر دکھائی دیتی ہے، پھر ہم دونوں کو جدا کردیتے ہیں، آسمان کو پانی کے ذریعے سے اور زمین کو نباتات کے ذریعے سے۔
کیا وہ ہستی جو آسمان پر بادل وجود میں لائی تھی جبکہ آسمان بالکل صاف تھا کہیں بادل کا ٹکڑا نہیں آتات ھا، پھر اس نے اس میں بہت سا پانی ودیعت کیا،…
Read the full tafseer →38 توحید و معاد کی دلیل کائنات سے : سو توحید خداوندی کی ایک اور عظیم الشان دلیل آسمانوں اور زمین کا کھول دینا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان دونوں کو ہم نے اپنی قدرت کاملہ سے الگ کردیا۔ پھر آسمان سے بارش برسانے کا انتظام فرمایا جس سے زمین کو قوت و زندگی ملتی ہے اور زمین کو روئیدگی کی صلاحیت بخشی جس سے انسان اور دوسری بیشمار مخلوق کی زندگی کے لئے قسما قسم کے اور طرح طرح کے سامان پیدا ہوتے ہیں۔ تو یہ سب کچھ کھلا ثبوت اور عظیم الشان نشانی ہے ہماری بےپایاں قدرت، بےنہایت رحمت اور وحدانیت مطلقہ کی۔ سو یہ بھی توحید خداوندی کی ایک عظیم الشان اور واضح دلیل ہے۔ اور اس میں اس بات کا بھی کھلا ثبوت ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
کائنات اور انسان کی پیدائش کے راز
تشریح : یہ آیات سائنسی نکات اور بڑے بڑے رازوں کو ظاہر کرتی ہیں۔ جبکہ بظاہر تخلیق کائنات، تخلیق حیوانات، جمادات، نباتات اور تمام اجرام فلکیات کا ذکر ہے کہ یہ سب اللہ نے بنائے ہیں۔ انسان کی آزمائش کے لیے اس کو نعمتیں دیں اور پھر بتایا کہ زندگی ختم ہونے والی چیز ہے۔ اور پھر آخرت کا بھی بتا دیا کہ مرنے کے بعد تم کہاں جاؤ گے اور اس نے ذرے سے لے کر آسمان تک ہر چیز کا حساب کتاب بڑی وضاحت سے اپنے پاس لکھ رکھا ہے۔
آیت 30 میں بہت بڑا انکشاف ہے۔ کہ زمین آسمان جڑے ہوئے تھے تو ان کو ہم نے علیحدہ کردیا۔ علم فلکیات نے جب تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ واقعی زمین و آسمان جڑے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–41
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
کیا کافر جان نہیں چکے کہ آسمان اور زمین پہلے بند تھے یعنی اب تو عقل انسانی نے بھی یہ بات دریافت کرلی ہے کہ نہ آسمانوں سے بارش برستی تھی اور نہ زمین میں روئیدگی تھی اور نہ ان کی صورت اس قابل تھی پھر رب کریم نے معمورہ عالم کو بسانا چاہا تو انہیں کھول دیا یعنی اس نظام حیات کو رواں کردیا سورج کی گرمی و روشنی اور ہواؤں کی آمد وشد اپنا اپنا کام دکھانے لگی ، بادل برسنے لگے اور زمین سے رنگا رنگ چیزیں پیدا ہونے لگیں لیکن یہ سب اتفاقا نہیں ہو رہا بلکہ اللہ کریم کا نظام ہے جس کی ایک اصل یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ نے ہر شے کی حیات خواہ حیوانات ہوں یا نباتات پانی پر مقرر کردی ہے ،…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی دونوں ایک چیز اور ایک ہی طبقہ تھے یا دونوں کے منہ بند تھے۔ چناچہ نہ آسمان سے بارش ہوتی تھی اور نہ زمین میں سے کوئی چیز اگتی تھی (کبیر)10 یعنی زمین کو اپنی جگہ رہنے دیا اور آسمان کو اوپر اٹھا دیا اور درمیان میں ہوا کا نظام قائم کردیا یا دونوں کے منہ کھول دیئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آسمان سے بارش ہونے لگی اور زمین میں پیداوار (کبیر)11 یعنی جن چیزوں میں جان سے جیسے حیوانات اور نباتات ان سب کی نشات پانی سے ہے لیکن فرشتے اور جن یا دوسری کوئی چیز جس کے متعلق ثابت ہوجائے کہ اس کے مادہ میں پانی کو دخل نہیں ہے وہ اس سے مستثنیٰ قرار پائیں گی۔ (کبیر) یا سب جاندار چیزوں کی زندگی کا انحصار پانی پر…
Read the full tafseer →(21:30) کانتا رتقا۔ دونوں باہم ملے ہوئے تھے۔ جڑے ہوئے تھے۔ رتقا ملا ہوا جڑا ہوا۔ رتق رتق یرتق کا مصدر ہے۔ رتق کے اصل معنی ہیں جڑ جانا۔ بند ہوجانا خواہ خلقی طور پر خواہ صناعی طور پر۔ یہاں مصدر بمعنی اسم فاعل یا اسم مفعول کے ہے۔
ففتقنا ہما۔ پھر ہم نے ان دونوں کو الگ الگ کردیا الفتق (باب ضرب) کے معنی دو متصل چیزوں کو الگ الگ کردینے کے ہں۔ اور یہ رتق کی ضد ہے۔ تخلیق عالم کا ذکر کرتے ہوئے مولانا ابوالکلام آزاد ترجمان القرآن میں لکھتے ہیں :۔
موجودہ زمانہ میں اجرام سماویہ کی ابتدائی تخلیق اور کرہ ارضی کی ابتدائی نشو و نما کے جو نظرئیے تسلیم کر لئے گئے ہیں یہ اشارات بظاہر ان کی تائید کرتے ہیں اور اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 33
رتق ایک دوسرے میں گھسے ہوئے۔ ملے ہوئے۔ فتقنا ہم نے الگ الگ کردیا۔ جدا کردیا۔ حی زندہ۔ رواسی (راسیۃ) بوجھ، جمی ہوئی چیزیں، بوجھل۔ ان تمید یہ کہ جھک پڑے، ایک طرف کو ڈھلک جائے۔ فجاج (فج) کھلے ہوئے پہاڑی درے۔ سقف چھت، سائبان۔ فلک گول چیز، گھومنا، مدار۔ یسبحون وہ تیرتے ہیں۔ بلا روک ٹوک راستے پر چلتے ہیں۔
تشریح : آیت نمبر 30 تا 33
وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی ذات ، اس کی قدرت کا ملہ اور آخرت کا انکار کرتے ہیں ان سے فرمایا جا رہا ہے اس اللہ نے انسان کے اس دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے ہی زمین و آسمان کو پیدا کر کے سارے اسباب مہیا کردیئے تھے پانی کو پیدا کیا تاکہ اس کے ذریعے ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
توحید کا ذکر۔
(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابن عباس اور جمہور مفسرین رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کے معنی یہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو جو کہ بند تھے کھول دیا یعنی آسمان سے مینہ نہ برستا تھا ہم نے برسادیا، زمین میں نباتات اگانے کی صلاحیت نہ تھی ہم نے پیدا کرائی کیا کفار اس بات کو نہیں آزماچکے ، ہر سال گرمی اور جاڑے کی شدت میں جب بارش نہیں ہوتی اور زمین میں کچھ پیدا نہیں ہوتا دیکھتے ہیں کہ آسمان اور زمین بند ہوجاتے ہیں اللہ تعالیٰ ہی اپنی قدرت سے ان کو کھولتا ہے مینہ برساتا ہے سبزہ اگاتا ہے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی وہی نشانی ہر وقت ان لوگوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
[18] یعنی کائنات کی ابتدائی شکل ایک تودے (Mass) کی سی تھی۔ بعد میں اس تودے کو الگ الگ حصوں
میں تقسیم کیا گیا جس کے نتیجے میں ہمارا نظام شمسی اور کہکشائیں وجود میں آئیں۔
[19] جدید ماہرین علم الحیات کی تحقیق ہے کہ ہر جاندار کی ترکیب میں اصلی عنصر نخرمایہ (Protoplasm) کا ہوتا ہے جس کا غالب حصہ پانی ہے۔ اس طرح پانی کو اللہ نے سبب زندگی بنایا اور اس سے زندگی کا آغاز کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
(ف 2) طبعیات اور علم الحیات کے ماہرین کی تازہ ترین تحقیقات یہ ہے کہ آسمان اور زمین درحقیقت ایک ہی کرہ تھے ، بعد میں نامعلوم وجوہ کی بنا پر انفصال ہوا ، اور یہ دونوں الگ الگ ہوگئے نیز یہ کہ ابتدا میں بحری جانور پیدا ہوئے ، بعد میں دوسری زندہ چیزیں ظہور پذیر ہوئیں ، گویا پانی ہی زندگی کا باعث بنا ہے اور یہیں سے حیات کا آغاز ہوا ۔
غور فرمائیے ، قرآن حکیم بھی اس آیت میں اسی حقیقت کا اظہار کرتا ہے ، مگر کب سے ، آج سے چودہ سو سال قبل سے جب کہ موجودہ علوم وفنون کا وجود تک نہ تھا ۔
حل لغات :
مشفقون : اشفاق سے ہے ، ڈر اور خوف ۔
رتقا : انضمام ، باہم ملنا ، مفعول کے معنوں میں ہے ۔
Read the full tafseer →-30 کیا ان لوگوں کو جو کفر و انکار کے مرتکب ہیں یہ بات معلوم نہیں کہ آسمان و زمین دونوں بند تھے یعنی نہ آسمان سے بارش ہوتی تھی اور نہ زمین سے روئیدگی ، پھر ہم نے ان دونوں کو کھول دیا اور ہم نے ہر جاندار کو پانی سے بنایا ہے کیا اس پر بھی یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ یعنی جب زمین پر کوئی مخلوق نہ تھی تو آسمان و زمین بھی بند تھے نہ آسمان سے بارش ہوتی تھی اور نہ زمین سے کچھ اگتا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ملہ سے دونوں کو کھول دیا اور آسمان سے بارش شروع ہوئی اور زمین کے مسامات کھل گئے اور نباتات اگنی شروع ہوئی اور ہم نے ہر چیز کو بالواسطہ یا بلاواسطہ پانی سے بنایا ہے کیا پھر یہ لوگ ان باتوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
ف 2۔ یعنی نہ آسمان سے بارش ہوتی تھی نہ زمین سے کچھ پیداوار، اور اسی کو بند ہونا فرما دیا، چناچہ جس زمانہ میں بارش نہیں ہوتی اور زمین سے کچھ پیدا نہیں ہوتا اب بھی بند ہوتے ہیں۔
3۔ کہ آسمان سے بارش ہونے لگی اور زمین سے نباتات اگنے لگیں۔
4۔ خواہ حدوثا خواہ بقاء خواہ بواسطہ یا بلا واسطہ۔
Read the full tafseer →مشرکین سے ایک سوال کہ زمین و آسمان اور ہرچیز کا پیدا کرنے والا کون ؟
30۔ زیر نظر آیت میں اشارہ ہے کہ زمین و آسمان کی پیدائش اور ان کا قیام ‘ ان کی وسعت ‘ ان کے اندر مختلف قسم کے مادے ‘ ان دونوں کے درمیان اتنا بڑا خلا اور پھر خلا کے اندر ستارے اور سیارے جن میں سے بعض کی وسعت تمہاری زمین سے بھی زیادہ بتائی گئی ہے اور پھر ان کے اندر طرح طرح کی مخلوق اور ان کی زندگی کی بقا کا سامان جس کی نہ انتہا اور نہ شمار کہ انسان کے احاطہ علم میں آئے کہ ان سب چیزوں کا پیدا کرنے والا اور اس سارے نظام کا پیدا کرنے کے بعد اس کا انتظام کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے کوئی ہے جس کے متعلق تم کہہ سکتے ہو کہ اس نے ان چیزوں…
Read the full tafseer →Commentary
أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا (Have the disbelievers not seen. - 21:30) Here the word رُؤیَت (to see, to think) is used in its general sense i.e. knowledge, whether acquired by visual observation or by way of logical conclusion. The discussion which follows refers partly to actual observation and partly to logical inference.
أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا (The heavens and the earth were closed, then We opened them. - 30) The word رَتَق (ratq) means to close and فَتَق (fatq) means to open. When used in combination the words mean full…
Read the full tafseer →28. From the wording of the text, it appears that at first the whole universe was a single mass of matter; then it was split into different parts and the earth and the other heavenly bodies were formed. For more details, please see (Surah HaMim, E.Ns 13-15).
29. From the wording of the text, it appears that Allah made water the cause and origin of life. See also (Surah An- Nur, Ayat 45).
Read the full tafseer →