Explained with ayahs 26–29
خشیت الٰہی۔ کفار مکہ کا خیال تھا کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں۔ ان کے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے اللہ پاک فرماتا ہے کہ یہ بالکل غلط ہے، فرشتے اللہ تعالیٰ کے بزرگ بندے ہیں، بڑے بڑائیوں والے ہیں اور ذی عزت ہیں قولاً اور فعلاً ہر وقت اطاعت الہٰی میں مشغول ہیں۔ نہ تو کسی امر میں اس سے آگے بڑھیں، نہ کسی بات میں اس کے فرمان کا خلاف کریں بلکہ جو وہ فرمائے دوڑ کر اس کی بجا آوری کرتے ہیں۔ اللہ کے علم میں گھرے ہوئے ہیں اس پر کوئی بات پوشیدہ نہیں آکے پیچھے دائیں بائیں کا اسے علم ہے ذرے ذرے کا وہ دانا ہے۔ یہ پاک فرشتے بھی اتنی مجال نہیں رکھتے کہ اللہ کے کسی مجرم کی اللہ کے سامنے اس کی مرضی کے خلاف سفارش کے…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْبِیَآء 27
مشرکین فرشتوں کو دو وجوہ سے معبود بناتے تھے۔ ایک یہ کہ انکے نزدیک وہ خدا کی اولاد تھے۔ دوسرے یہ کہ وہ انکی پرستش (خوشامد) کر کے انہیں خدا کے ہاں اپنا شفیع (سفارشی) بنانا چاہتے تھے۔ وَیَقُوْلُوْ نَ ھٰؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عند اللہ (یونس۔ آیت۔ 18۔ اور مانَعْبُدُھُمْ الاَّ لِیُقَرِّبُوْنَآ اِلَی اللہِ زُلْفاً ہ (الزمر۔ آیت 3)۔ ان آیات میں دونوں وجوہ کی تردید کردی گئی ہے۔
اس جگہ یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ قرآن بالعموم شفاعت کے مشرکانہ عقیدے کی تردید کرتے ہوئے اس حقیقت پر زور دیتا ہے کہ جنہیں تم شفیع قرار دیتے ہو وہ علم غیب نہیں رکھتے اور یہ اللہ تعالیٰ ان باتوں کو بھی جانتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
لَا يَسْبِقُوْنَهٗ بالْقَوْلِ وَهُمْ بِاَمْرِهٖ يَعْمَلُوْنَ ، یعنی فرشتے حق تعالیٰ کی اولاد تو کیا ہوتے وہ تو ایسے خائف اور مؤ دب رہتے ہیں کہ نہ قول میں اللہ تعالیٰ سے سبقت کرتے ہیں نہ عمل میں اس کے خلاف کبھی کچھ کرتے ہیں۔ قول میں سبقت نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک حق تعالیٰ ہی کی طرف سے کوئی ارشاد نہ ہو خود کوئی کلام کرنے میں مسابقت کی ہمت نہیں کرتے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بڑوں کا ایک ادب یہ بھی ہے کہ جب مجلس میں کوئی بات آئے تو جو اس مجلس کا بڑا ہے اس کے کلام کا انتظار کیا جائے پہلے ہی کسی اور کا بول پڑنا خلاف ادب ہے۔
Read the full tafseer →یعنی تم نے تو ان کو یہ دجہ دے رکھا ہے کہ گویا خدا ان کے ہاتھ میں ایک کھلونا ہے، وہ اس کو جس طرح چاہیں کھیل سکتے ہیں لیکن اصل حقیقت یہ ہے، اس کو اچھی طرح کان کھول کر سن لو، کہ اگر ان میں سے بھی کوئی کہیں یہ کہہ بیٹھے کہ خدا کے سوا وہ بھی ایک الہ ہے تو ہم اس کو جہنم میں جھونک دیں گے۔ یہی جہنم کی سزا ہے جو ہم نے تمام مشرکوں کے لئے ٹھہرا رکھی ہے وہی ہم ان کو بھی دے کے رہیں گے۔ یاد ہوگا کہ بعینیہ یہی بات اللہ تعالیٰ نے عیسائیوں کو خطاب کر کے حضرت مسیح اور ان کی والدہ ماجدہ کے باب میں بھی فرمائی ہے۔
Read the full tafseer →29۔ 1 یعنی ان فرشتوں میں سے بھی اگر کوئی اللہ ہونے کا دعویٰ کر دے تو ہم اسے بھی جہنم میں پھینک دیں گے۔ یہ شرطیہ کلام ہے، جس کا وقوع ضروری نہیں۔ مقصد، شرک کی تردید اور توحید کا اثبات ہے۔ جیسے (قُلْ اِنْ كَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌ ڰ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ) 43۔ الزخرف :81) ' اگر بالفرض رحمٰن کی اولاد ہو تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرنے والوں میں سے ہوں گا ' (لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ) 39۔ الزمر :65) ' اے پیغمبر ! اگر تو بھی شرک کرے تو تیرے عمل برباد ہوجائیں گے ' یہ سب مشروط ہیں جن کا وقوع غیر ضروری ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
12: اہل عرب فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
وقالوا اتخذالرحمن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نجزی الظلمین ”
اللہ کے لیے بیٹا ہونے کا تصور زمانہ جاہلیت میں مختلف لوگوں کے درمیان مختلف تھا۔ مشرکین عرب خیال کرتے تھے کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ مشرکین یہود کہتے تھے کہ عزیز ابن اللہ ہیں اور مشرکین نصاریٰ کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت مسیح اللہ کے بیٹے ہیں۔ یہ سب شرکیہ عقائد ہیں اور دوسری اقوام مشرک کے ہاں اور طرح کے ہیں۔
یہاں اشارہ عربوں کے عقیدہ کی طرف ہے جو ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے۔ یہاں ان کے عقیدے کی تردید فرشتوں کی نوعیت اور حقیقت کے بیان سے کی جاتی ہے کہ وہ اللہ کی بیٹیاں نہیں ‘ جس طرح ان لوگوں کا زعم ہے بلکہ یہ اللہ کے ہاں مکرم بندے ہیں۔ یہ ایسی…
Read the full tafseer →4 یعنی جن کو تم خدا کی اولاد یا خدا بنا رہے ہو اگر بفرض محال ان میں سے کوئی اپنی نسبت (معاذ اللہ) ایسی بات کہہ گزرے تو وہ ہی دوزخ کی سزا جو حد سے گزرنے والے ظالموں کو ملتی ہے ہم ان کو بھی دیں گے۔ ہمارے لا محدود اقتدار و جبروت سے وہ بھی باہر نہیں جاسکتے، پھر بھلا خدا کیسے ہوسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
آیت 30 اَوَلَمْ یَرَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰہُمَا ط ”
یعنی شدید گرمی اور حبس کی صورت حال جس میں لوگوں کی جان پر بنی ہوئی ہوتی ہے۔ اس کیفیت میں بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ آسمان کے دروازے بھی بند ہیں ‘ زمین کے سوتے بھی خشک ہیں ‘ بارش کا دور دور تک کوئی امکان نہیں ‘ ہر طرف خشک سالی کا راج ہے اور پھر یکا یک اللہ کی رحمت سے یہ صورت حال تبدیل ہوجاتی ہے۔ آسمان کے دہانے کھل جاتے ہیں اور بارش کے پانی سے زمین پر نباتاتی اور حیواناتی زندگی کی چہل پہل شروع ہوجاتی ہے۔
اس کے علاوہ اس آیت میں یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ Big Bang کے بعد مادے کا جو ایک بہت…
Read the full tafseer →24 ان سب باتوں کے باوجود اگر کوئی شخص بالفرض اپنی خدائی کا دعویٰ کرتا ہے۔ جیسا کہ فرعون اور نمرود جیسے کئی سرکش انسانوں نے کیا تھا تو یہ ان کا اللہ تعالیٰ پر افتراء ہے اور وہ دوہرے تہرے مجرم ہیں۔ ان ظالموں کو ہم جہنم میں پھینک دیں گے اور ان کے جرائم کے مطابق انھیں قرار واقعی سزا دیں گے۔
Read the full tafseer →38۔ یعنی جس طرح اور مخلوقات تمامتر خدا کے قابو اور اختیار میں ہے، فرشتے بھی ہیں، ان کا یہ قول کہ ہم بھی معبود ہیں، ظاہر ہے کہ بطور فرض محال نقل ہوا ہے۔ ومن یقل منھم علی سبیل الفرض (روح) اور قرآن مجید میں ایسے مفروضات و احتمالات کا استعمال بار بار ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–29
آیت نمبر 24 تا 29
ترجمہ : کیا ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور معبود بنا رکھے ہیں ؟ اس میں استفہام توبیخی ہے ان سے کہہ دو کہ لاؤ اس بات (یعنی اتخاذ اِلٰہ پر) اپنی دلیل پیش کرو ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے (نہ عقلی نہ نقلی) یہ میرے ساتھیوں کی کتاب موجود ہے یعنی میری امت کی اور وہ قرآن ہے اور مجھ سے پہلی امتوں کی (کتابیں) موجود ہیں اور وہ تورات و انجیل وغیرہما ہیں اللہ کی کتابوں میں سے، ان میں سے کسی میں بھی یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دیگر معبود ہیں جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں، اللہ تو اس سے وراء الوراء ہے بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ حق کو نہیں جانتے یعنی اللہ کی توحید کو اسی وجہ سے…
Read the full tafseer →ومن یقل منہم انی الہ من دونہ فذلک نجزیہ جہنم کذلک نجزی الظلمین۔
اور (بالفرض اگر) ان میں سے کوئی کہے کہ میں اللہ کے سوا معبود ہوں تو ہم اس کو جہنم کی سزا دیں گے۔ ہم ظالموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں ‘ یعنی کوئی فرشتہ یا کوئی مخلوق الٰہ ہونے کا مدعی بالفرض ہوجائے تو اس کی سزا جہنم ہے۔ اس آیت کا مقصد غیر اللہ کی ربوبیت کی نفی اور اس بات کی تکذیب ہے کہ فرشتے مدعی الوہیت ہیں اور مدعی الوہیت کی سزا کا اظہار کر کے مشرکوں کو عذاب کی تہدید ہے۔ اس آیت کا مضمون (تقریباً ) ویسا ہی ہے جیسا آیت (لَنْ یَّسْتَنْکِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّکُوْنَ عَبْدًالِلّٰہِ وَلاَ الْمَلٰءِکَۃُ الْمُقَرَّبُوْنَ وَمَنْ…
Read the full tafseer →(29) اور ان فرشتوں میں سے یا یہ کہ مخلوق میں سے جو شخص نعوذ باللہ فرضایوں کہے کہ میں اللہ کے علاوہ معبود ہوں تو ہم اس کے بدلے اسے جہنم کی سزا دیں گیا اور ہم کافروں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَمَنْ يَّقُلْ مِنْهُمْ اِنِّىْٓ اِلٰهٌ۔۔ : یعنی بالفرض اگر ان فرشتوں یا انبیاء میں سے کوئی یہ کہے کہ اللہ کو چھوڑ کر میری بندگی کرو، تو ہم اسے اس کی جزا جہنم دیں گے۔ فرشتوں اور انبیاء سے یہ بات کبھی سرزد نہیں ہوسکتی۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے رسول اللہ ﷺ اور تمام انبیاء کو شرک کرنے کی صورت میں تمام اعمال ضائع ہونے کی وعید سنائی ہے، حالانکہ انھوں نے شرک کرنا ہی نہیں تھا۔ دیکھیے سورة انعام (83 تا 88) اور زمر (65)۔
كَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ : اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا کہ ہر لحاظ سے ناقص اور فقیر مخلوق اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں رب اور معبود ہونے کا دعویٰ کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ شرک سے بڑا ظلم اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و من یقل منھم انی الہ من دونہ قتادہ اور ضحاک وغیرہمانے کہا : اس آیت سے مراد ابلیس ہے جس نے شرکت کا دعوی کیا تھا اس نے اپنی عبادت کی طرف بلایا جبکہ وہ ملائکہ میں سے تھا۔ اس کے علاوہ ملائکہ میں سے کسی نے یہ نہیں کہ کہ میں خدا ہوں۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ تمام ملائکہ کی طرف اشارہ ہے۔ جو ایسا کہے گا نجزیہ جھنم ہم اسے جہنم کی سزا دیں گے۔ یہ دلیل ہے کہ اگرچہ وہ عصمت کے ساتھ عزت دیے گئے ہیں پھر بھی وہ عبادت کرتے ہیں وہ عبادت پر مجبور نہیں ہیں جیسا کہ بعض جہلاء کا خیال ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے ہے کہ محمد ﷺ اہل آسمان سے افضل ہیں۔ یہ سورة بقرہ میں گزر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ یہودیوں نے کہا اللہ عزوجل نے جنوں سے رشتہ داری قائم کی ہے اور ان کے درمیان فرشتے تھے کہ انہوں نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا اللہ تعالیٰ نے ان کو جھٹلاتے ہوئے فرمایا (آیت) ” بل عباد مکرمون “ یعنی وہ فرشتے ایسے نہیں ہیں جیسے انہوں نے کہا بلکہ وہ ایسے بندے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کی وجہ سے عزت دی (آیت) ” لا یسبقونہ بالقول “ یعنی اللہ تعالیٰ فرشتوں کی تعریف فرما رہے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے بات کرنے میں سبقت نہیں لے جاتے (آیت) ” ولا یشفعون “ یعنی قیامت کے دن فرشتے سفارش نہیں کریں گے (آیت) ” لمن ارتضی “ مگر توحید والوں کے لئے…
Read the full tafseer →[ وَمَنْ : اور جو ] [ يَّقُلْ : کہے ] [ مِنْهُمْ : ان میں سے ] [ انىٓ: کہ میں ] [ اِلٰهٌ: اِلٰہ ہوں ] [ مِّنْ دُوْنِهٖ : اس کے علاوہ ] [ فَذٰلِكَ : تو وہ ہے ] [ نَجْزِيْهِ : ہم بدلہ میں دیں گے جس کو ] [ جَهَنَّمَ : جہنم ] [ كَذٰلِكَ : اسی طرح ] [ نَجْزِي : ہم بدلہ دیتے ہیں ] [ الظّٰلِمِيْنَ : ظلم کرنے والوں کو ]
نوٹ۔ 1: سابق انبیاء کے جو صحیفے موجود ہیں، ان میں اگرچہ بیشمار تحریفیں ہوچکی ہیں، لیکن توحید کی تعلیم آج بھی ان میں محفوظ ہے۔ ان کے حاملوں نے اگر شرک اختیار کیا ہے تو اپنے فاسد علم کلام کے سہارے پر اختیار کیا ہے، نہ کہ ان صحیفوں کی تعلیم کی بنا پر۔ جس طرح قرآن کی نہایت واضح تعلیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
رشاد فرمایا (وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَہٗ بَلْ عِبَادٌ مُّکْرَمُوْنَ ) (الایۃ) کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے پابند ہیں۔ یکسر وہ حکم کی خلاف ورزی نہیں کرسکتے۔ وہ ہیبت الٰہی سے ڈرتے رہتے ہیں اور سفارش بھی اسی کے لیے کرسکتے ہیں جس کے لیے سفارش کرنا اللہ کی رضا کے مطابق ہو، ان میں سے کوئی فرد بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں معبود ہوں۔ بالفرض اگر ایسا کہے گا تو دیگر مدعیان الوہیت کی طرح وہ بھی دوزخ میں جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–29
بیان توحید و ابطال شرک
قال اللہ تعالیٰ وما خلقنا السماء والارض وما بینھما لعبین .... الیٰ .... کذلک نجزی الظلمین۔
(ربط) ابتداء سورت سے لیکر یہاں تک کا مضمون تحقیق نبوت و رسالت سے متعلق تھا، اب آئندہ آیات میں توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال فرماتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ آسمان و زمین کی پیدائش میں غوروفکر کرو تاکہ تم کو اللہ کی معرفت حاصل ہو عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام چیزیں اللہ کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں۔
(یا یوں کہو) کہ گزشتہ آیات میں کفار کی غفلت اور اعراض اور ان کے لہو ولعب کو بیان کیا اب آگے یہ بیان کرتے ہیں کہ عالم کی پیدائش کھیل تماشہ نہیں بلکہ حق اور باطل میں فرق کرنے کے لیے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
22:۔ یہ جواب شکوی کی تمام شقوں پر متفرع ہے۔ یعنی فرشتے تو اللہ کے باعزت لیکن عاجز اور فرمانبردار بندے ہیں۔ وہ اس لائق نہیں کہ نظام کائنات میں دخیل ہوں یا عبادت اور پکار کے مستحق ہوں۔ بلکہ ان کا کام تو یہ ہے کہ ہر وقت اللہ کی اطاعت و عبادت میں مصروف رہیں۔ لیکن اگر بہ فرض محال ان میں سے کوئی الوہیت کا دعوی کر بیٹھے اور اپنی عبادت اور پکار کی طرف دعوت دینے لگے تو ہم اسے ہرگز معاف نہیں کریں گے بلکہ جہنم کے سخت عذاب میں مبتلا کردیں گے جو ظالموں اور باغیوں کی سزا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کا رد فرمایا جنہوں نے زمین کو مختلف چیزوں کو معبود تسلیم کرلیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ارض وسما میں اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا معبود ہوتا تو سارانظام کائنات بگڑ جاتا چونکہ کائنات کا نظام بالکل ٹھیک چل رہا ہے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ پورے نظام کو کنٹرول کرنے والا صرف ایک ہی خدا ہے اور اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ کی ذات ان تمام لغویات سے پاک ہے جن کو وہ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قادر مطلق اور مختار مطلق ہے ، لہٰذا اس سے کسی بات میں باز پرس نہیں ہوسکتی بلکہ وہ ساری مخلوق کے محاسبے کا حق رکھتا ہے۔ پھر فرمایا کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے ورے…
Read the full tafseer →وَمَنْ يَّقُلْ مِنْہُمْ اِنِّىْٓ اِلٰہٌ مِّنْ دُوْنِہٖ فَذٰلِكَ نَجْزِيْہِ جَہَنَّمَ ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِــمِيْنَ 29ۧ
دون
يقال للقاصر عن الشیء : دون، قال بعضهم :
هو مقلوب من الدّنوّ ، والأدون : الدّنيء وقوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] ،
( د و ن ) الدون
جو کسی چیز سے قاصر اور کوتاہ ہودہ دون کہلاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دنو کا مقلوب ہے ۔ اور الادون بمعنی دنی آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کو راز دار مت بناؤ جو دیانت میں تمہارے ہم مرتبہ ( یعنی مسلمان ) نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
و قالوا اتخذ الرحمن ولدً سبحانہ الخ کہ وہ مشرکین کہتے ہیں کہ خدا نے اولاد جنائی ہے وہ ایسی باتوں سے پاک ہے اور وہ فرشتے کہ جن کو وہ خدا کی بیٹیاں کہتے ہیں اس کے بندے ہاں معزز بندے ہیں۔ مگر اس کے حکم کے ایسے مطیع ہیں کہ (1) کلام بھی اس کی اجازت بغیر نہیں کرتے جب وہ کچھ فرما لیتا ہے تو بولتے جواب دیتے ہیں۔ (2) وہ اس کے حکم کے پابند ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کو ان کا ظاہر و باطن معلوم ہے۔ یا یہ معنی کہ خدا تعالیٰ نے جو ان کو عزت دی ہے وہ ان کے ابتداء و انتہا سے خوب واقف ہے کہ وہ نافرمانی نہیں کرتے۔ یا یہ کہ وہ اس کی قدرت و علم کے احاطہ میں ہیں پھر ان کی الوہیت کیسی۔ (3) اور وہ سفارش…
Read the full tafseer →وَمَنْ یَّقُلْ مِنْھُمْ اِنِّیْٓ اِلٰـہٌ مِّنْ دُوْنِہٖ فَذٰلِکَ نَجْزِیْہٖ جَھَنَّمَ ط کَذٰلِکَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ ۔ (الانبیاء : 29)
(اور جو ان میں سے یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا میں اِلٰہ ہوں تو ہم اس کو جہنم کی سزا دیں گے، ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں۔ )
شرک اللہ تعالیٰ کے مقام سے جہالت کا نتیجہ ہے
اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اور اپنے نام نہاد معبودوں کو ہر حالت میں اپنا شفیع سمجھنا یہ دراصل اللہ تعالیٰ کی ذات کے حقیقی مقام و مرتبہ سے جہالت کا نتیجہ ہے۔ اور یہ جہالت دو طرح کی ہے۔ ایک جہالت تو وہ ہے جس کو علمی جہالت کہنا چاہیے یعنی اس عقیدے کا حامل سرے سے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
فہم القرآن
ربط کلام : عباد مکرمون کی عاجزی کی انتہا ملائکہ، انبیاء (علیہ السلام) اور اولیاء اللہ کے اس قدر عاجز بندے اور غلام ہیں کہ ” اللہ “ کے کسی حکم سے آگے بڑھنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔
عَبَدٌکی جمع ” عِبَادٌ“ ہے اور اہل لغت نے اس کا معنی بندہ اور غلام لکھا ہے۔ ظاہر ہے غلام کتنا ہی قابل صد احترام کیوں نہ ہو۔ وہ اپنے آقا کا بندہ اور اس کے سامنے عاجز ہو کر ہی زندگی بسر کرتا ہے۔ اس لیے ملائکہ ہوں یا انبیاء (علیہ السلام) اور اولیاء وہ سب کے سب اپنے رب کے غلام ہیں۔ وہ اپنے عظیم بےمثال آقا جو صرف ان کا ہی نہیں بلکہ پوری کائنات کا آقا، خالق، رازق اور مالک ہے۔ وہی ہمہ صفت موصوف اور تمام اختیارات…
Read the full tafseer →29: وَمَنْ یَّقُلْ مِنْھُمْ اور (بالفرض اگر) ان میں سے کوئی کہے ملائکہ میں سے اِنِّیْ اِلٰـہٌ مِّنْ دُوْنِہٖ (کہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا معبود ہوں) اللہ تعالیٰ کے سوا۔
قراءت : اِنِّیَ مدنی اور ابو عمرو نے پڑھا ہے۔
فَذٰلِکَ نَجْزِیْہِ جَھَنَّمَ (تو ہم اس کو جہنم کی سزا دیں گے۔ )
نحو : ذلکمبتدا ہے نَجْزِیْہؔ جہنم اس کی خبر ہے۔ ذٰلک کا مشار الیہ قائل ہے۔ اور یہ دونوں جواب شرط ہیں۔
کَذٰلِکَ نَجْزِیْ الظّٰلِمِیْنَ (ہم ظالموں کو اسی قسم کی سزادیتے ہیں) ظالم سے کافر مراد ہیں۔ جنہوں نے الوہیت کو غیر مقام پر رکھ دیا۔ اور یہ کلام بر سبیل فرض اور تمثیل ہے کیونکہ فرشتوں کا معصوم ہونا قطعی ہے۔
قول ابن عباس…
Read the full tafseer →29۔ ومن یقل منھم انی الہ من دونہ، ، مقاتل کا بیان ہے کہ اس سے مراد ابلیس ہے جو حقیقتا یاحکما ملائکہ میں سے تھا کہ جب اس نے لوگوں کو اپنی عبادت کی طرف بلایا اور اپنے نفس کی طرف اطاعت کرنے کا کہا حالانکہ فرشتوں میں سے ، کسی کا کوئی کلام ایسا نہیں کہ کوئی یہ کہہ دے کہ ، انی الہ من دون اللہ، ،۔۔ تا۔۔ الظالمین۔ جو الوہیت کا دعوی کرے اور جس کی عبادت کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس کے علاوہ کی عبادت کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
26۔ 29:۔ سورة والصافات میں شعب الایمان بیہقی ‘ تفسیر سدی ‘ تفسیر مقاتل وغیرہ کے حوالہ سے قتادہ وغیرہ کا قول آوے گا کہ مشرکین مکہ سے قبیلہ خزاعہ کے لوگ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی اولاد کہتے تھے اور ان کی مورتوں کی پوجا کر کے یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ جن بتوں کی مورتوں کی ہم پوجا کرتے ہیں ‘ اگر قیامت قائم ہوئی تو وہ فرشتے اللہ کے روبرو ہماری سفارش کرکے ہم کو دوزخ کی آگ سے چھڑا لیویں گے ‘ اسی کے جواب میں فرمایا کہ جس طرح ان مشرکوں کے پاس بت پرستی کی کچھ سند نہیں ‘ اسی طرح فرشتوں کو اللہ کی اولاد ٹھہرانے کی بھی ان کے پاس کوئی سند نہیں ہے ‘ شیطان کے بہکانے سے اپنی اٹکل سے یہ لوگ جو جی میں آتا ہے بکتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
آیت 26-29
اللہ تبارک و تعالیٰ رسول ﷺ کی تکذیب کرنے والے مشرکین کی سفاہت اور ان کے زعم باطل کے بارے میں خبر دیتا ہے۔۔۔۔ ان کا برا ہو۔۔۔۔ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا بیٹا بنایا ہے اور وہ ہر زہ سرائی کرتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس ہر زہ سرائی سے بلند وبالا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے اوصاف کے متعلق آگاہ فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ربویت کے مرہون بندے اور اس کے دست تدبیر کے تحت مجبور ہیں اور انہیں کسی قسم کا اختیار حاصل نہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں لائق تکریم ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی رحمت اور کرامت کے مستحق بندوں میں شامل کیا ہے، انہیں رذائل سے پاک اور بیشمار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
35 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کے ایک اہم پہلو کا ذکر وبیان : کہ وہ وحدہ لا شریک ایک برابر جانتا ہے اس سب کو جو کہ ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے۔ عام اس سے کہ وہ سامنے ہو زمانے اور وقت کے اعتبار سے یا جگہ اور مکان کے لحاظ سے۔ اس کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں کہ آگے پیچھے اور ماضی اور مستقبل کی یہ تقسیم بندوں کے اعتبار سے ہے۔ ورنہ اس وحدہ لاشریک کے اعتبار سے یہ سب ایک برابر ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور جب یہ شان اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی کیلئے ممکن نہیں تو پھر اس کیلئے کوئی شریک آخر کس طرح ہوسکتا ہے ؟ اور اس کے اسی کمال علم کی بنا پر نہ تو ان تمام ہستیوں میں سے جن کو یہ لوگ اس کا شریک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
غافل لوگ، عقیدہ آخرت اور انبیاء کا رد کرنیوالوں کا انجام
تشریح : ان آیات میں ان عربی بدوئوں کے اعتقادات ‘ اعتراضات ‘ ہٹ دھرمی اور دین سے نفرت کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) کو نبوت دی گئی اور اس کے بعد تمام انبیاء نے لوگوں کو توحید کا سبق دیا اور سب سے آخر میں سیدنا محمد ﷺ تشریف لائے۔ انہوں نے بھی توحید کا ہی سبق دیا۔ جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا تھا کہ جب بھی کوئی نبی اور رسول کسی قوم کی طرف بھیجا جاتا تو لوگوں میں تین گروہ پیدا ہوجاتے یعنی مومن کافر اور منافق۔ منافقین دونوں طرف گھومتے رہتے کفار اعتراضات اور مخالفت رسول میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے جیسا کہ کفار مکہ نے آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–29
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
اور کتنی بستیاں تھیں جو ان سے پہلے ایسے ہی افعال پر اور ان جیسے کردار کے باعث تباہ کردی گئیں اور معمورہ عالم آباد بھی رہا ان کی جگہ اور پیدا کردیے ان ظالموں نے بھی عذاب کو واقع ہوتے دیکھا تب یقین آیا اور لگے بھاگ بھاگ کر جان بچانے مگر اللہ جل جلالہ کی گرفت سے کون بھاگ سکتا ہے بلکہ ارشاد ہوتا ہے مت بھاگو اپنے مکان اور عیش و عشرت کو کیوں چھوڑتے ہو آج اپنے ہمدرد تلاش کرو مگر وہ کہتے تھے کہ ہماری بدبختی کہ ہم نے ظلم کا راستہ اختیار کیا اور یونہی شور مچاتے رہے کہ عذاب الہی نے پیس کر رکھ دیا جیسے کٹے ہوئے کھیت ہوں یا بجھی ہوئی آگ ، بعض مفسرین کرام نے یمن کی بستیاں مراد لی…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی بفرض محال اگر ان فرشتوں میں سے کوئی یہ کہے کہ خدا کو چھوڑ کر میری بندگی کرو تو …
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
(21:28) لا یشفعون۔ میں ضمیر فاعل عباد مکرمون کی طرف راجع ہے۔ ارتضی۔ وہ راضی ہوا۔ اس نے پسند کیا۔ ارتضاء (افتعال) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ ضمیر فاعل کا مرجع اللہ تعالیٰ ہے الا لمن ارتضی۔ مگر صرف اس کے لئے (سفارش کریں گے) جسے وہ (یعنی اللہ تعالیٰ ) پسند کرے گا۔ خشیتہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کی ہیبت۔ اس کا ڈر۔ اس کا خوف۔
مشفقون۔ اسم فاعل جمع مذکر اشفاق (افعال) مصدر۔ مشفق واحد ڈرنے والے اس کا مادہ شفق ہے اور شفق کا معنی ہے غروب آفتاب کے وقت روشنی کا تاریکی سے اختلاط اسی لئے جو محبت خوف کے ساتھ مخلوط ہو اس کو شفقت کہتے ہیں۔ اشفق (باب افعال) سے پہلے من مذکور ہو تو خوف کا معنی نمایاں ہوتا ہے جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
لغات القرآن آیت نمبر 12 تا 29
ینشرون وہ زندہ کردیتے ہیں۔ یصفون وہ بناتے ہیں گھڑتے ہیں۔ یسئلون وہ پوچھے جائیں گے۔ عباد (عبد) بندے۔ مکرمون عزت والے۔ لایسبقون وہ آگے نہیں بڑھتے۔ لایشفعون وہ سفارش نہیں کرتے۔ خشیۃ خوف۔ مشفقون ڈرنے والے۔ الظالمین بےانصافی کرنے والے۔
تشریح : آیت نمبر 12 تا 29
اس نظام کائنات کو اللہ نے اپنے قدرت کاملہ سے پیدا کیا اور وہ ایک ایسے ہمہ گیر قانون کے تحت اس کو چلا رہا ہے جس میں مکمل تو ازن اور ہم آہنگی ہے۔ اگر اس نظام میں ذرا بھی تو ازن نہ رے تو اس کا ئنات کا شیرازہ بکھر کر رہ جائے گا۔ اس کائنات میں ساری قوتیں اور طاقتیں صرف ایک اللہ کو حاصل ہیں۔ وہ جو عرش عظیم کا مالک ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
(ف 2) شان نزول۔
یہ آیت خزاعہ کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے فرشتوں کو اللہ کی اولاد کہا تھا، اور ان کی مورتوں کی پوجا کرکے یہ اعتقاد رکھتے تھے اگر قیامت قائم ہوئی تو وہ فرشتے اللہ کے روبرو ہماری سفارش کرکے ہم کو دوزخ کے عذاب سے چھڑالیں گے ، اس کا جواب ان آیتوں میں فرمایا کہ جس طرح ان مشرکوں کے پاس بت پرستی کی کچھ سند نہیں ہے اسی طرح فرشتوں کو اللہ کی اولاد ٹھہرانے کی بھی ان کے پاس کوئی سند نہیں ہے پھر فرمایا کہ جو مشرک بغیر توبہ کے مرجائے گا تو جس طرح سوئی کے ناکہ میں اونٹ کا گھس جانا ناممکن ہے اسی طرح ایسے مشرک کی نجات ناممکن ہے پھر فرشتے ان مشرکوں کی سفارش کیونکر کرسکتے ہیں پھر فرمایا فرشتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
[17] یعنی ان کا ماضی بھی اور مستقبل بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
(ف 1) جس طرح عیسائی حضرت مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا سمجھتے تھے ، اسی طرح مکہ والے فرشتوں کو خدا کی اولاد قرار دیتے تھے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ الزام غلط ہے ، وہ اس نوع کی نسبتوں سے پاک ہے ، اس کا تخیل ہی شرک کے منافی ہے ، فرمایا بدبختو ! تم جن فرشتوں کو خدا کی اولاد سمجھتے ہو ، وہ تو اس کی فرمانبردار اور اطاعت شعار مخلوق ہیں ، ان کی مجال نہیں کہ اس کے احکام کی مخالفت کرسکیں ، ان کا کام تو محض یہ ہے کہ وہ ہر وقت اس کے احکام کی تعمیل میں مصروف رہیں ۔ اور ایک لمحہ غفلت میں نہ گزاریں ۔
مکے والوں کا دوسرا عقیدہ یہ تھا کہ یہ فرشتے جن کی وہ پرستش کرتے تھے ان کی سفارش کریں گے ، فرمایا یہ…
Read the full tafseer →-29 اور باوجود اس مغلوبیت اور محکومیت کے ان میں سے جو شخص یوں کہے کہ خدا کے سوا میں معبود ہوں تو ہم اس کو جہنم کی سزا دیں گے ہم ظالموں اور نا انصافوں کو ایسی ہی سزا اور ایسا ہی بدلہ دیا کرتے۔ یعنی جن کے متعلق تم اولاد کی نسبت کرتے ہو اگر ان میں سے کبھی کوئی الوہیت کا مدعی ہو جائیتو ہم اس کو بھی جہنم کا عذاب دیں گے اور وہی سزا تجویز کریں گے جو ہر ظالم اور دعوئے خدائی کرنے والے کو دی جانے والی ہے وہ سب ہمارے زیر اقتدار اور ہمارے پوری طرح بس میں ہیں۔
Read the full tafseer →ف 1۔ یعنی خدا کا ان پر پورا بس ہے جیسے اور مخلوقات پر، پھر وہ خدا کی اولاد جس کے لئے خدا ہونا ضروری ہے کیسے ہوسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →ان میں سے بھی اگر کوئی اللہ کے سوا معبود بناتا تو اس کو ہم جہنم کی سزا دیتے :
29۔ یہ شرک کی تردید میں بات کہی جا رہی ہے کہ اگر ان رسولوں اور نبیوں میں سے بھی کوئی اس شرک کا مرتکب ہوتا تو ہم کبھی اس کو معاف نہ کرتے بلکہ سیدھا دوزخ میں اس کو گرا دیتے کیونکہ شرک اتنی بری چیز ہے اور اتنا بڑا ظلم ہے اس سے بڑی بری چیز اور اس سے بڑا کوئی اور ظلم نہیں ہو سکتا ، بلاشبہ ان بزرگ و برتر ہستیوں میں نہ ہی کوئی ایسا تھا اور نہ ہی ہو سکتا تھا جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا لیکن تاہم وہ انسان تھے اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق تھے اور خالق کو حق ہے کہ وہ ان کا بیان اس زور دار الفاظ سے کرے کیونکہ لوگوں نے بدبختی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُم بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ (They do not precede Him in speech and only under His command they act. 21:27) This verse refutes the claim of pagans of Makkah that angels were daughters of Allah. How can angels be Allah's children when they stand in such awe in His presence that they neither initiate any talk nor act against His commands. They simply await His words and act accordingly. This also points towards an important etiquette of behaving in the company of elders. That is, when a matter is brought forth in front of a group of people, the people before…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
27. These two verses refute the two reasons for which the mushriks had made the angels their deities:
(1) They took them for the offspring of Allah.
(2) They thought that if they worshiped the angels, they would be so pleased that they would intercede with Allah on their behalf. See (Surah Younus, Ayat 18); (Surah AzZumur, Ayat 3).
In this connection, it should also be noted that the Quran refutes the doctrine of intercession of the mushriks, saying, that their so called intercessors are not qualified to intercede for anyone. This is so because they have no knowledge of the hidden things,…
Read the full tafseer →