Al-Anbiyaa 21:28

Al-Anbiyaa · from ayah 28

21:28

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا یَشْفَعُوْنَ ۙ— اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰی وَهُمْ مِّنْ خَشْیَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ ۟يَعۡلَمُ مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ وَ لَا يَشۡفَعُوۡنَۙ اِلَّا لِمَنِ ارۡتَضٰى وَهُمۡ مِّنۡ خَشۡيَـتِهٖ مُشۡفِقُوۡنَ‏

جو کچھ ان کے آگے ہوچکا ہے اور پیچھے ہوگا وہ سب سے واقف ہے اور وہ (اس کے پاس کسی کی) سفارش نہیں کرسکتے مگر اس شخص کی جس سے خدا خوش ہو اور وہ اس کی ہیبت سے ڈرتے رہتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

He knows what is [presently] before them and what will be after them, and they cannot intercede except on behalf of one whom He approves. And they, from fear of Him, are apprehensive.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anbiyaa

All translations of 21:28

جو کچھ اُن کے سامنے ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اُن سے اوجھل ہے اس سے بھی وہ باخبر ہے وہ کسی کی سفارش نہیں کرتے بجز اُس کے جس کے حق میں سفارش سننے پر اللہ راضی ہو، اور وہ اس کے خوف سے ڈرے رہتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو کچھ ان کے آگے ہوچکا ہے اور پیچھے ہوگا وہ سب سے واقف ہے اور وہ (اس کے پاس کسی کی) سفارش نہیں کرسکتے مگر اس شخص کی جس سے خدا خوش ہو اور وہ اس کی ہیبت سے ڈرتے رہتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه ان کے آگے پیچھے تمام امور سے واقف ہے وه کسی کی بھی سفارش نہیں کرتے بجز ان کے جن سے اللہ خوش ہو وه تو خود ہیبت الٰہی سے لرزاں وترساں ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ ان کی تمام اگلی پچھلی باتوں کو جانتا ہے اور وہ کسی کی سفارش نہیں کرسکتے، سوائے اس کے جس کے لیے اللہ کی مرضی ہو، اور وہ اس کے خوف سے سہمے رہتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ جانتا ہے جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور شفاعت نہیں کرتے مگر اس کے لیے جسے وہ پسند فرمائے اور وہ اس کے خوف سے ڈر رہے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ (اﷲ) ان چیزوں کو جانتا ہے جو ان کے سامنے ہیں اور جو ان کے پیچھے ہیں اور وہ (اس کے حضور) سفارش بھی نہیں کرتے مگر اس کے لئے (کرتے ہیں) جس سے وہ خوش ہوگیا ہو اور وہ اس کی ہیبت و جلال سے خائف رہتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وہ سفارش نہیں کرتے مگر اسی کے لیے جسے وہ پسند کرے اور وہ اسی کے خوف سے ڈرنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ ان بندوں کے سامنے کے (ظاہری) احوال کو بھی جانتا ہے اور پوشیدہ احوال کو بھی۔ اور وہ صرف اسی کے حق میں سفارش کرسکیں گے جس کے لئے اللہ راضی ہو اور وہ ہمیشہ اس کے خوف سے ڈرتے رہتے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ ان کے آگے اور ان کے پیچھے جو کچھ ہے سب سے باخبر ہے اور وہ شفاعت نہیں کیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اللہ ایک برابر جانتا ہے وہ سب کچھ جو کہ ان کے سامنے ہے اور وہ سب کچھ بھی جو کہ ان کے پیچھے ہے اور وہ سفارش بھی نہیں کرتے مگر اسی کے لئے جس کے لئے اللہ پسند فرمائے اور وہ ہمیشہ اس کے خوف سے ڈرتے رہتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔ اور وہ شفاعت بھی نہیں کرسکتے (کسی کی) بجز اس کے کہ جس کیلئے (اللہ کی) مرضی ہو اور وہ (سب) اس کی ہیبت سے ڈرتے رہتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور وہ شفاعت نہیں کریں گے سوائے اس کے جس کے لیے وہ راضی ہوگا اور وہ تو خود اس کے خوف سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو کچھ ان کے آگے ہوچکا اور جو کچھ پیچھے ہوگا وہ سب سے واقف ہے اور وہ اس کے پاس کسی کی سفارش نہیں کرسکتے مگر اس شخص کی جس سے اللہ خوش ہو اور وہ اس کی ہیبت سے ڈرتے رہتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He knows whatever is before them and whatsoever is remote from them and they do not intercede except for him, intercession on whose behalf pleases Him, and they stand constantly in awe of Him.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He knows what is in front of them and what is behind them, and they make recommendation for none but for whom He likes, and in awe of Him they are fearful.

— Muhammad Taqi Usmani

He knows what is in front of them and what is behind them, and they make recommendation for none but for whom He likes, and in awe of Him they are fearful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He knows what is before them, and what is behind them, and they cannot intercede except for him with whom He is pleased. And they stand in awe for fear of Him.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He knoweth what is before them and what is behind them, and they cannot intercede except for him whom He accepteth, and they quake for awe of Him.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He knows what is [presently] before them and what will be after them, and they cannot intercede except on behalf of one whom He approves. And they, from fear of Him, are apprehensive.

— Saheeh International

He knows all that is in front of them and all that is behind them. (These servants of God) will not intercede with Him for anyone without His permission and they tremble in awe (before His greatness).

— Muhammad Sarwar

He knows what is before them and what is behind them, and they do not intercede except for him whom He approves and for fear of Him they tremble.

— Muhammad Habib Shakir

He knoweth whatsoever is before them and whatsoever is behind them; and they intercede not except for him whom He approveth, and in awe of Him they are fearful.

— Abdul Majid Daryabadi

He knows what is before them, and what is behind them, and they offer no intercession except for those who are acceptable, and they stand in awe and reverence of His (Glory).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 21:28

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 26–29

خشیت الٰہی۔ کفار مکہ کا خیال تھا کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں۔ ان کے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے اللہ پاک فرماتا ہے کہ یہ بالکل غلط ہے، فرشتے اللہ تعالیٰ کے بزرگ بندے ہیں، بڑے بڑائیوں والے ہیں اور ذی عزت ہیں قولاً اور فعلاً ہر وقت اطاعت الہٰی میں مشغول ہیں۔ نہ تو کسی امر میں اس سے آگے بڑھیں، نہ کسی بات میں اس کے فرمان کا خلاف کریں بلکہ جو وہ فرمائے دوڑ کر اس کی بجا آوری کرتے ہیں۔ اللہ کے علم میں گھرے ہوئے ہیں اس پر کوئی بات پوشیدہ نہیں آکے پیچھے دائیں بائیں کا اسے علم ہے ذرے ذرے کا وہ دانا ہے۔ یہ پاک فرشتے بھی اتنی مجال نہیں رکھتے کہ اللہ کے کسی مجرم کی اللہ کے سامنے اس کی مرضی کے خلاف سفارش کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 26–28

سورة الْاَنْبِیَآء 26 یہاں پھر فرشتوں ہی کا ذکر ہے جن کو مشرکین عرب خدا کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ بعد کی تقریر سے یہ بات خود ظاہر ہوجاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 27–29

لَا يَسْبِقُوْنَهٗ بالْقَوْلِ وَهُمْ بِاَمْرِهٖ يَعْمَلُوْنَ ، یعنی فرشتے حق تعالیٰ کی اولاد تو کیا ہوتے وہ تو ایسے خائف اور مؤ دب رہتے ہیں کہ نہ قول میں اللہ تعالیٰ سے سبقت کرتے ہیں نہ عمل میں اس کے خلاف کبھی کچھ کرتے ہیں۔ قول میں سبقت نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک حق تعالیٰ ہی کی طرف سے کوئی ارشاد نہ ہو خود کوئی کلام کرنے میں مسابقت کی ہمت نہیں کرتے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بڑوں کا ایک ادب یہ بھی ہے کہ جب مجلس میں کوئی بات آئے تو جو اس مجلس کا بڑا ہے اس کے کلام کا انتظار کیا جائے پہلے ہی کسی اور کا بول پڑنا خلاف ادب ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یعلم مابین ایدیھم وما خلفھم یعنی ان کے آگے پیچھے اور حاضر و مستقبل میں جو کچھ ہے خدا ان ساری باتوں سے خود اچھی طرح واقف ہے اس وجہ سے نہ تو وہ کسی کے باب میں خدا کے علم میں کوئی اضافہ کرسکتے ہیں اور نہ کی بات کو کچھ گھٹا یا بڑھا سکتے ہیں۔ ولایشفعون الا لمن ارتضی پھر یہ بات بھی ہے کہ وہ کسی کے بارے میں سفارش کے لئے خود سبقت نہیں کریں گے بلکہ جن کے لئے خدا پسند فرمائے گا صرف انہی کے لئے سفارش کریں گے۔ وھم من خشیتہ مشفقون مزید برآں یہ بات بھی ہے کہ وہ خدا کے خوف سے ہر وقت لرزاں و ترساں رہنے والے ہیں اس وجہ سے اس کا بھی کوئی امکان نہیں ہے کہ کوئی خلاف حق بات زبان سے نکالیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

28۔ 1 اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء صالحین کے علاوہ فرشتے بھی سفارش کریں گے۔ حدیث صحیح سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، لیکن یہ سفارش انہی کے حق میں ہوگی جن کے لئے اللہ تعالیٰ پسند فرمائے گا۔ اور ظاہر بات ہے کہ اللہ تعالیٰ سفارش اپنے نافرمان بندوں کے لئے نہیں، صرف گناہ گار مگر فرماں بردار بندوں یعنی اہل ایمان و توحید کے لئے پسند فرمائے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 26–29

12: اہل عرب فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 26–29

وقالوا اتخذالرحمن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نجزی الظلمین ” اللہ کے لیے بیٹا ہونے کا تصور زمانہ جاہلیت میں مختلف لوگوں کے درمیان مختلف تھا۔ مشرکین عرب خیال کرتے تھے کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ مشرکین یہود کہتے تھے کہ عزیز ابن اللہ ہیں اور مشرکین نصاریٰ کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت مسیح اللہ کے بیٹے ہیں۔ یہ سب شرکیہ عقائد ہیں اور دوسری اقوام مشرک کے ہاں اور طرح کے ہیں۔ یہاں اشارہ عربوں کے عقیدہ کی طرف ہے جو ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے۔ یہاں ان کے عقیدے کی تردید فرشتوں کی نوعیت اور حقیقت کے بیان سے کی جاتی ہے کہ وہ اللہ کی بیٹیاں نہیں ‘ جس طرح ان لوگوں کا زعم ہے بلکہ یہ اللہ کے ہاں مکرم بندے ہیں۔ یہ ایسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 حق تعالیٰ کا علم ان کے تمام ظاہری و باطنی احوال کو محیط ہے۔ ان کی کوئی حرکت اور کوئی قول و فعل اس سے پوشیدہ نہیں، چناچہ وہ مقرب بندے اسی حقیقت کو سمجھ کر ہمہ وقت اپنے احوال کا مراقبہ کرتے رہتے ہیں کہ کوئی حالت اس کی مرضی کے خلاف نہ ہو۔ 2 یعنی اس کی مرضی معلوم کیے بدون کسی کی سفارش بھی نہیں کرتے چونکہ مومنین موحدین سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے اس لیے ان کے حق میں دنیا و آخرت میں استغفار کرنا ان کا وظیفہ ہے۔ 3 پھر ان کو خدا کیسے کہا جاسکتا ہے۔ جب خدا نہیں تو خدا کے بیٹے یا بیٹیاں بھی نہیں بن سکتے۔ کیونکہ صحیح اولاد جنس والدین سے ہونی چاہیے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 28–30

آیت 30 اَوَلَمْ یَرَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰہُمَا ط ” یعنی شدید گرمی اور حبس کی صورت حال جس میں لوگوں کی جان پر بنی ہوئی ہوتی ہے۔ اس کیفیت میں بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ آسمان کے دروازے بھی بند ہیں ‘ زمین کے سوتے بھی خشک ہیں ‘ بارش کا دور دور تک کوئی امکان نہیں ‘ ہر طرف خشک سالی کا راج ہے اور پھر یکا یک اللہ کی رحمت سے یہ صورت حال تبدیل ہوجاتی ہے۔ آسمان کے دہانے کھل جاتے ہیں اور بارش کے پانی سے زمین پر نباتاتی اور حیواناتی زندگی کی چہل پہل شروع ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ اس آیت میں یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ Big Bang کے بعد مادے کا جو ایک بہت…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

23 مشرکین مکہ دو وجوہ سے فرشتوں کی عبادت کرتے تھے۔ ایک یہ کہ وہ اللہ کی اولاد ہیں۔ دوسرے اس لئے کہ وہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں اور اللہ کے حضور ہمارے قرب کا ذریعہ ہیں۔ اس کے جواب میں اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ سفارشی نہیں کریں گے کیونکہ کتاب و سنت کی رو سے انبیاو و صالحین فرشتوں اور خود قرآن کا سفارش کرنا ثابت ہے۔ بلکہ یوں فرمایا کہ وہ سفارش صرف اس کے حق میں کرسکتیں گے جس کے حق میں سفارش اللہ کو منظور ہو اور اس کی وجہ یہ بتلائی کہ فرشتوں کو علم غیب نہیں ہے۔ انھیں یہ معلوم نہیں کہ جس کے حق میں وہ سفارش کر رہے ہیں اس کے اعمال کی کیا صورت اور کیفیت ہے اور یہ حالات صرف اللہ ہی کو معلوم ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

36۔ فرشتوں کو یہ بھی یقین ہے کہ اللہ سب کے اگلے پچھلے احوال خوب جانتا ہے، اس لئے اس کا جو اور جب حکم ہوگا حکمت کے موافق ہی ہوگا، اس لئے چون وچرا کی گنجائش ہی نہیں۔ 37۔ یہ نقشہ ہے ان کے ادب و اطاعت گزاری، اور ان کی مغلوبیت ومحکومیت کا، فرشتوں والا شرک دنیا میں بہت پھیلا رہا ہے، اسی لئے اس کی تردید کی مفصل اور بار بار ضرورت ہوئی۔ ہندوستان میں دیوتا پرستی کے نام سے جو شرک چلا ہوا ہے وہ حقیقۃ یہی ملائکہ پرستی ہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 24–29

آیت نمبر 24 تا 29 ترجمہ : کیا ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور معبود بنا رکھے ہیں ؟ اس میں استفہام توبیخی ہے ان سے کہہ دو کہ لاؤ اس بات (یعنی اتخاذ اِلٰہ پر) اپنی دلیل پیش کرو ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے (نہ عقلی نہ نقلی) یہ میرے ساتھیوں کی کتاب موجود ہے یعنی میری امت کی اور وہ قرآن ہے اور مجھ سے پہلی امتوں کی (کتابیں) موجود ہیں اور وہ تورات و انجیل وغیرہما ہیں اللہ کی کتابوں میں سے، ان میں سے کسی میں بھی یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دیگر معبود ہیں جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں، اللہ تو اس سے وراء الوراء ہے بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ حق کو نہیں جانتے یعنی اللہ کی توحید کو اسی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یعلم ما بین ایدیہم وما خلفہم اللہ ان کے اگلے پچھلے احوال کو جانتا ہے۔ یہ گویا کلام سابق کی علت ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ سے فرشتوں کا کوئی عمل پوشیدہ نہیں نہ گزشتہ عمل نہ موجودہ عمل نہ ہونے والا عمل اور چونکہ اللہ ان کے تمام احوال سے واقف ہے اس لئے وہ بھی اپنے احوال کی نگہداشت کرتے اور اعمال کا انضباط رکھتے ہیں۔ ولا یشفعون الا لمن ارتضی وہم من خشیتہ مشفقون۔ اور بجز اس کے جس کے لئے شفاعت کرنے کی خدا تعالیٰ کی مرضی ہو اور کسی کی سفارش نہیں کرسکتے اور وہ سب اللہ کی ہیبت سے ڈرتے رہتے ہیں۔ یعنی ہیبت الٰہیہ کی وجہ سے ان کا یہ حال ہے کہ فقط انہی لوگوں کی شفاعت کرتے ہیں جن کے حق میں شفاعت کو اللہ پسند…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(28) اللہ تعالیٰ ان کے امور آخرت اور امور دنیا سب کو جانتا ہے اور قیامت کے دن وہ فرشتے سوائے اس شخص کے جس کے لیے شفاعت کرنے کی اللہ کی مرضی ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی توحید کو قبول فرما لیا ہو اور کسی کی سفارش نہیں کرسکتے اور وہ سب فرشتے اللہ تعالیٰ کے غضب سے ڈرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ : یعنی جو کام وہ کرچکے یا جو آئندہ کریں گے وہ ان سب کو جانتا ہے۔ اس میں ان کے اس قدر اطاعت گزار اور فرماں بردار ہونے کی وجہ بیان فرمائی ہے، یعنی وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری پہلی، پچھلی، ظاہر اور پوشیدہ ہر بات جانتا ہے، اس لیے وہ اس کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔ وَلَا يَشْفَعُوْنَ ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى : یعنی وہ اسی کے حق میں سفارش کرتے ہیں جسے وہ پسند کرے اور جس کے حق میں سفارش کو پسند کرے اور اس کی اجازت دے۔ دیکھیے سورة بقرہ (255) اور سبا (23) مراد اس سے اہل ایمان اور اہل توحید ہیں، کیونکہ کافر و مشرک نہ اللہ کو پسند ہیں اور نہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 26–28

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و قالواتخذ الرحمن ولداً سبحنہ یہ خزاعۃ قبیلہ کے بارے میں نازل ہوئی کیونکہ انہوں نے کہا : فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور وہ اس امید سے ان کی عبادت کرتے ہیں کہ وہ ان کی سفارش کریں گے۔ معمر نے قتادہ سے روایت کیا ہے فرمایا : یہودیوں نے کہا معمر نے اپنی روایت میں کہا لوگوں میں سے ایک طائفہ نے کہا اللہ تعالیٰ نے جنوں سے رشتہ جوڑا اور ملائکہ جنوں سے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : سبحنہ وہ اس سے پاک ہے۔ بل عباد مکرمون۔ بلکہ ملائکہ تو اس کے معزز بندے ہیں ایسا نہیں جیسا کہ کفار نے کہا ہے۔ عباد مکرمون کو زجاج کے نزدیک منصوب پڑھنا بھی جائز ہے۔ اس معنی پر بل اتخذ عباداً مکرمین، الوعد…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 26–30

1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ یہودیوں نے کہا اللہ عزوجل نے جنوں سے رشتہ داری قائم کی ہے اور ان کے درمیان فرشتے تھے کہ انہوں نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا اللہ تعالیٰ نے ان کو جھٹلاتے ہوئے فرمایا (آیت) ” بل عباد مکرمون “ یعنی وہ فرشتے ایسے نہیں ہیں جیسے انہوں نے کہا بلکہ وہ ایسے بندے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کی وجہ سے عزت دی (آیت) ” لا یسبقونہ بالقول “ یعنی اللہ تعالیٰ فرشتوں کی تعریف فرما رہے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے بات کرنے میں سبقت نہیں لے جاتے (آیت) ” ولا یشفعون “ یعنی قیامت کے دن فرشتے سفارش نہیں کریں گے (آیت) ” لمن ارتضی “ مگر توحید والوں کے لئے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ يَعْلَمُ : وہ جانتا ہے ] [ مَا : اس کو جو ] [ بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ : ان کے آگے ہے ] [ وَمَا : اور اس کو جو ] [ خَلْفَهُمْ : ان کے پیچھے ہے ] [ وَلَا يَشْفَعُوْنَ : اور وہ لوگ شفاعت نہیں کریں گے ] [ اِلَّا : مگر ] [ لِمَنِ : اس کی جس کے لئے ] [ ارْتَضٰى: وہ (یعنی اللہ) پسند کرے ] [ وَهُمْ : اور وہ لوگ ] [ مِّنْ خَشْيَتِهٖ : اس کے رعب و دبدبہ سے ] [ مُشْفِقُوْنَ : ڈرنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 26–29

رشاد فرمایا (وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَہٗ بَلْ عِبَادٌ مُّکْرَمُوْنَ ) (الایۃ) کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے پابند ہیں۔ یکسر وہ حکم کی خلاف ورزی نہیں کرسکتے۔ وہ ہیبت الٰہی سے ڈرتے رہتے ہیں اور سفارش بھی اسی کے لیے کرسکتے ہیں جس کے لیے سفارش کرنا اللہ کی رضا کے مطابق ہو، ان میں سے کوئی فرد بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں معبود ہوں۔ بالفرض اگر ایسا کہے گا تو دیگر مدعیان الوہیت کی طرح وہ بھی دوزخ میں جائے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–29

بیان توحید و ابطال شرک قال اللہ تعالیٰ وما خلقنا السماء والارض وما بینھما لعبین .... الیٰ .... کذلک نجزی الظلمین۔ (ربط) ابتداء سورت سے لیکر یہاں تک کا مضمون تحقیق نبوت و رسالت سے متعلق تھا، اب آئندہ آیات میں توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال فرماتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ آسمان و زمین کی پیدائش میں غوروفکر کرو تاکہ تم کو اللہ کی معرفت حاصل ہو عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام چیزیں اللہ کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں۔ (یا یوں کہو) کہ گزشتہ آیات میں کفار کی غفلت اور اعراض اور ان کے لہو ولعب کو بیان کیا اب آگے یہ بیان کرتے ہیں کہ عالم کی پیدائش کھیل تماشہ نہیں بلکہ حق اور باطل میں فرق کرنے کے لیے یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 26–28

21:۔ یہ شکوی ہے یعنی انبیاء (علیہم السلام) اسی مسئلہ توحید کے مبلغ تھے ان کے بعد ناخلف اور گمراہ لوگوں نے شرک پھیلایا۔ انبیاء (علیہم السلام) تو مسئلہ توحید کو خوب واضح کرتے رہے لیکن اس کے باوجود مشرکین نے خود ساختہ کارساز بنا لیے۔ اس کے بعد اس کے ساتھ جواب مذکور ہیں۔ جواب اول ” سُبْحٰنَهٗ “ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے بہت بلندو برتر اور اعلیٰ وارفع ہے۔ کہ اس کی عاجز و بےبس مخلوق میں سے کوئی اس کا ولد اور نائب ہو۔ جواب ثانی ” بَلْ عِبَادٌ مُّکْرَمُوْنَ الخ “ فرشتوں کو اللہ کا ولد اور اس کے کارخانہ عالم میں دخیل سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ وہ اللہ کے باعزت بندے ہیں۔ جواب ثالث ” لَایَسْبِقُوْنَهٗ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 25–29

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کا رد فرمایا جنہوں نے زمین کو مختلف چیزوں کو معبود تسلیم کرلیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ارض وسما میں اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا معبود ہوتا تو سارانظام کائنات بگڑ جاتا چونکہ کائنات کا نظام بالکل ٹھیک چل رہا ہے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ پورے نظام کو کنٹرول کرنے والا صرف ایک ہی خدا ہے اور اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ کی ذات ان تمام لغویات سے پاک ہے جن کو وہ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قادر مطلق اور مختار مطلق ہے ، لہٰذا اس سے کسی بات میں باز پرس نہیں ہوسکتی بلکہ وہ ساری مخلوق کے محاسبے کا حق رکھتا ہے۔ پھر فرمایا کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے ورے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ وَلَا يَشْفَعُوْنَ۝ 0 ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَہُمْ مِّنْ خَشْيَتِہٖ مُشْفِقُوْنَ۝ 28 خلف ( پیچھے ) خَلْفُ : ضدّ القُدَّام، قال تعالی: يَعْلَمُ ما بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَما خَلْفَهُمْ [ البقرة/ 255] ، وقال تعالی: لَهُ مُعَقِّباتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ [ الرعد/ 11] ( خ ل) خلف ( پیچھے ) یہ قدام کی ضد ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ يَعْلَمُ ما بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَما خَلْفَهُمْ [ البقرة/ 255] جو کچھ ان کے روبرو ہو راہا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہوچکا ہے اسے سب معلوم ہے ۔ لَهُ مُعَقِّباتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ [ الرعد/ 11] اس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 26–29

و قالوا اتخذ الرحمن ولدً سبحانہ الخ کہ وہ مشرکین کہتے ہیں کہ خدا نے اولاد جنائی ہے وہ ایسی باتوں سے پاک ہے اور وہ فرشتے کہ جن کو وہ خدا کی بیٹیاں کہتے ہیں اس کے بندے ہاں معزز بندے ہیں۔ مگر اس کے حکم کے ایسے مطیع ہیں کہ (1) کلام بھی اس کی اجازت بغیر نہیں کرتے جب وہ کچھ فرما لیتا ہے تو بولتے جواب دیتے ہیں۔ (2) وہ اس کے حکم کے پابند ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کو ان کا ظاہر و باطن معلوم ہے۔ یا یہ معنی کہ خدا تعالیٰ نے جو ان کو عزت دی ہے وہ ان کے ابتداء و انتہا سے خوب واقف ہے کہ وہ نافرمانی نہیں کرتے۔ یا یہ کہ وہ اس کی قدرت و علم کے احاطہ میں ہیں پھر ان کی الوہیت کیسی۔ (3) اور وہ سفارش…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یَعْلَمُ مَابَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ وَلاَ یَشْفَعُوْنَ لا اِلاَّ لِمَنِ ارْتَضٰی وَھُمْ مِّنْ خَشْیَتِہٖ مُشْفِقُوْنَ ۔ (الانبیاء : 29) (اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور وہ شفاعت نہیں کریں گے مگر صرف اس کے لیے جسے وہ پسند فرمائے اور وہ اللہ کی خشیت سے لرزاں رہتے ہیں۔ ) شفاعت کون کرے گا ؟ انسان دنیا میں اس طرح زندگی گزارتا ہے کہ وہ جیسے جیسے آگے بڑھتا جاتا ہے گزرا ہوا زمانہ اور گزشتہ اعمال اس کا ماضی بنتے جاتے ہیں اور آنے والا زمانہ جو اس کا مستقبل ہے کبھی اس کو امیدیں دلاتا ہے اور کبھی اس کے لیے ڈرائونا خواب بن جاتا ہے۔ اس کا حال ہر لمحہ ماضی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 27–29

فہم القرآن ربط کلام : عباد مکرمون کی عاجزی کی انتہا ملائکہ، انبیاء (علیہ السلام) اور اولیاء اللہ کے اس قدر عاجز بندے اور غلام ہیں کہ ” اللہ “ کے کسی حکم سے آگے بڑھنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ عَبَدٌکی جمع ” عِبَادٌ“ ہے اور اہل لغت نے اس کا معنی بندہ اور غلام لکھا ہے۔ ظاہر ہے غلام کتنا ہی قابل صد احترام کیوں نہ ہو۔ وہ اپنے آقا کا بندہ اور اس کے سامنے عاجز ہو کر ہی زندگی بسر کرتا ہے۔ اس لیے ملائکہ ہوں یا انبیاء (علیہ السلام) اور اولیاء وہ سب کے سب اپنے رب کے غلام ہیں۔ وہ اپنے عظیم بےمثال آقا جو صرف ان کا ہی نہیں بلکہ پوری کائنات کا آقا، خالق، رازق اور مالک ہے۔ وہی ہمہ صفت موصوف اور تمام اختیارات…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

28: یَعْلَمُ مَابَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ (اللہ تعالیٰ ان کے اگلے پچھلے احوال کو جانتا ہے) یعنی جو اعمال انہوں نے پہلے اور بعد کیے ہیں۔ وَلَا یَشْفَعُوْنَ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰی (اور وہ کسی کی سفارش نہیں کرسکتے مگر اس کی جس کیلئے شفاعت کرنے کی اللہ تعالیٰ کی مرضی ہو) یعنی جس کے لئے وہ پسند کرے۔ نمبر 2۔ جس نے لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کیا ہو۔ وَھُمْ مِّنْ خَشْیَتِہٖ مُشْفِقُوْنَ (وہ اس کے ڈر سے ہیبت زدہ ہیں) خائف ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

28۔ یعلم مابین ایدیھم وماخلفھم، جو انہوں نے عمل کرلیے اور جو عمل ابھی تک انہوں نے نہیں کیے بعض نے کہا کہ اس سے مراد جو اس سے پہلے پیدا کیا اور جوان کے بعد پیدا ہوئے۔ ولایشفعون الالمن ارتضی، ابن عباس کا بیان ہے کہ اس سے مراد جو شخص لاالہ الا اللہ کہے، مجاہد کا بیان ہے کہ جس سے اس کا رب راضی ہو۔ وھم من خشیۃ مشفقون، وہ سب اللہ کی ہیبت سے ڈرتے ہیں اور نہ ہی کسی کی طرف سے دکھ پہنچنے سے ڈرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 26–29

26۔ 29:۔ سورة والصافات میں شعب الایمان بیہقی ‘ تفسیر سدی ‘ تفسیر مقاتل وغیرہ کے حوالہ سے قتادہ وغیرہ کا قول آوے گا کہ مشرکین مکہ سے قبیلہ خزاعہ کے لوگ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی اولاد کہتے تھے اور ان کی مورتوں کی پوجا کر کے یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ جن بتوں کی مورتوں کی ہم پوجا کرتے ہیں ‘ اگر قیامت قائم ہوئی تو وہ فرشتے اللہ کے روبرو ہماری سفارش کرکے ہم کو دوزخ کی آگ سے چھڑا لیویں گے ‘ اسی کے جواب میں فرمایا کہ جس طرح ان مشرکوں کے پاس بت پرستی کی کچھ سند نہیں ‘ اسی طرح فرشتوں کو اللہ کی اولاد ٹھہرانے کی بھی ان کے پاس کوئی سند نہیں ہے ‘ شیطان کے بہکانے سے اپنی اٹکل سے یہ لوگ جو جی میں آتا ہے بکتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 26–29

آیت 26-29 اللہ تبارک و تعالیٰ رسول ﷺ کی تکذیب کرنے والے مشرکین کی سفاہت اور ان کے زعم باطل کے بارے میں خبر دیتا ہے۔۔۔۔ ان کا برا ہو۔۔۔۔ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا بیٹا بنایا ہے اور وہ ہر زہ سرائی کرتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس ہر زہ سرائی سے بلند وبالا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے اوصاف کے متعلق آگاہ فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ربویت کے مرہون بندے اور اس کے دست تدبیر کے تحت مجبور ہیں اور انہیں کسی قسم کا اختیار حاصل نہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں لائق تکریم ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی رحمت اور کرامت کے مستحق بندوں میں شامل کیا ہے، انہیں رذائل سے پاک اور بیشمار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 28–29

35 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کے ایک اہم پہلو کا ذکر وبیان : کہ وہ وحدہ لا شریک ایک برابر جانتا ہے اس سب کو جو کہ ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے۔ عام اس سے کہ وہ سامنے ہو زمانے اور وقت کے اعتبار سے یا جگہ اور مکان کے لحاظ سے۔ اس کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں کہ آگے پیچھے اور ماضی اور مستقبل کی یہ تقسیم بندوں کے اعتبار سے ہے۔ ورنہ اس وحدہ لاشریک کے اعتبار سے یہ سب ایک برابر ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور جب یہ شان اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی کیلئے ممکن نہیں تو پھر اس کیلئے کوئی شریک آخر کس طرح ہوسکتا ہے ؟ اور اس کے اسی کمال علم کی بنا پر نہ تو ان تمام ہستیوں میں سے جن کو یہ لوگ اس کا شریک…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–29

غافل لوگ، عقیدہ آخرت اور انبیاء کا رد کرنیوالوں کا انجام تشریح : ان آیات میں ان عربی بدوئوں کے اعتقادات ‘ اعتراضات ‘ ہٹ دھرمی اور دین سے نفرت کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) کو نبوت دی گئی اور اس کے بعد تمام انبیاء نے لوگوں کو توحید کا سبق دیا اور سب سے آخر میں سیدنا محمد ﷺ تشریف لائے۔ انہوں نے بھی توحید کا ہی سبق دیا۔ جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا تھا کہ جب بھی کوئی نبی اور رسول کسی قوم کی طرف بھیجا جاتا تو لوگوں میں تین گروہ پیدا ہوجاتے یعنی مومن کافر اور منافق۔ منافقین دونوں طرف گھومتے رہتے کفار اعتراضات اور مخالفت رسول میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے جیسا کہ کفار مکہ نے آپ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–29

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف اور کتنی بستیاں تھیں جو ان سے پہلے ایسے ہی افعال پر اور ان جیسے کردار کے باعث تباہ کردی گئیں اور معمورہ عالم آباد بھی رہا ان کی جگہ اور پیدا کردیے ان ظالموں نے بھی عذاب کو واقع ہوتے دیکھا تب یقین آیا اور لگے بھاگ بھاگ کر جان بچانے مگر اللہ جل جلالہ کی گرفت سے کون بھاگ سکتا ہے بلکہ ارشاد ہوتا ہے مت بھاگو اپنے مکان اور عیش و عشرت کو کیوں چھوڑتے ہو آج اپنے ہمدرد تلاش کرو مگر وہ کہتے تھے کہ ہماری بدبختی کہ ہم نے ظلم کا راستہ اختیار کیا اور یونہی شور مچاتے رہے کہ عذاب الہی نے پیس کر رکھ دیا جیسے کٹے ہوئے کھیت ہوں یا بجھی ہوئی آگ ، بعض مفسرین کرام نے یمن کی بستیاں مراد لی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 یعنی جو کام وہ پہلے کرچکے ہیں، یا جو آئندہ کرینگے وہ ان سب کو جانتا ہے کہ کذا قال ابن عباس (قرطبی) اس میں ان کے مطیع و مقاد ہونے کی علت کی طرف اشارہ ہے یعنی چونکہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا علم ان کے ظاہر و باطن کو محیوط ہے اس لئے اس کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔ (کبیر)7 یعنی جن کے لئے سفارش کرنے کی اللہ تعالیٰ اجازت دے، مردا اہل توحید ہیں۔ یہاں سفاشر کرنیوالوں سے فرشتے بھی مراد ہوسکتے ہیں۔ جیسا کہ نظم قرآن کے سیاق و سبقا سے معلوم ہوتا ہے اور صحیح علم میں اس کی تائید میں ایک حدیث بھی ہے اور انبیاء بھی جیسا کہ حضرت جابر سے روایت ہے کہ آنحضرت نے یہ آیت تلاوت کی اور پھر فرمایا : ان…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 28–29

(21:28) لا یشفعون۔ میں ضمیر فاعل عباد مکرمون کی طرف راجع ہے۔ ارتضی۔ وہ راضی ہوا۔ اس نے پسند کیا۔ ارتضاء (افتعال) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ ضمیر فاعل کا مرجع اللہ تعالیٰ ہے الا لمن ارتضی۔ مگر صرف اس کے لئے (سفارش کریں گے) جسے وہ (یعنی اللہ تعالیٰ ) پسند کرے گا۔ خشیتہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کی ہیبت۔ اس کا ڈر۔ اس کا خوف۔ مشفقون۔ اسم فاعل جمع مذکر اشفاق (افعال) مصدر۔ مشفق واحد ڈرنے والے اس کا مادہ شفق ہے اور شفق کا معنی ہے غروب آفتاب کے وقت روشنی کا تاریکی سے اختلاط اسی لئے جو محبت خوف کے ساتھ مخلوط ہو اس کو شفقت کہتے ہیں۔ اشفق (باب افعال) سے پہلے من مذکور ہو تو خوف کا معنی نمایاں ہوتا ہے جیسے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 21–29

لغات القرآن آیت نمبر 12 تا 29 ینشرون وہ زندہ کردیتے ہیں۔ یصفون وہ بناتے ہیں گھڑتے ہیں۔ یسئلون وہ پوچھے جائیں گے۔ عباد (عبد) بندے۔ مکرمون عزت والے۔ لایسبقون وہ آگے نہیں بڑھتے۔ لایشفعون وہ سفارش نہیں کرتے۔ خشیۃ خوف۔ مشفقون ڈرنے والے۔ الظالمین بےانصافی کرنے والے۔ تشریح : آیت نمبر 12 تا 29 اس نظام کائنات کو اللہ نے اپنے قدرت کاملہ سے پیدا کیا اور وہ ایک ایسے ہمہ گیر قانون کے تحت اس کو چلا رہا ہے جس میں مکمل تو ازن اور ہم آہنگی ہے۔ اگر اس نظام میں ذرا بھی تو ازن نہ رے تو اس کا ئنات کا شیرازہ بکھر کر رہ جائے گا۔ اس کائنات میں ساری قوتیں اور طاقتیں صرف ایک اللہ کو حاصل ہیں۔ وہ جو عرش عظیم کا مالک ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 26–29

(ف 2) شان نزول۔ یہ آیت خزاعہ کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے فرشتوں کو اللہ کی اولاد کہا تھا، اور ان کی مورتوں کی پوجا کرکے یہ اعتقاد رکھتے تھے اگر قیامت قائم ہوئی تو وہ فرشتے اللہ کے روبرو ہماری سفارش کرکے ہم کو دوزخ کے عذاب سے چھڑالیں گے ، اس کا جواب ان آیتوں میں فرمایا کہ جس طرح ان مشرکوں کے پاس بت پرستی کی کچھ سند نہیں ہے اسی طرح فرشتوں کو اللہ کی اولاد ٹھہرانے کی بھی ان کے پاس کوئی سند نہیں ہے پھر فرمایا کہ جو مشرک بغیر توبہ کے مرجائے گا تو جس طرح سوئی کے ناکہ میں اونٹ کا گھس جانا ناممکن ہے اسی طرح ایسے مشرک کی نجات ناممکن ہے پھر فرشتے ان مشرکوں کی سفارش کیونکر کرسکتے ہیں پھر فرمایا فرشتے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 28–29

(ف 1) جس طرح عیسائی حضرت مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا سمجھتے تھے ، اسی طرح مکہ والے فرشتوں کو خدا کی اولاد قرار دیتے تھے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ الزام غلط ہے ، وہ اس نوع کی نسبتوں سے پاک ہے ، اس کا تخیل ہی شرک کے منافی ہے ، فرمایا بدبختو ! تم جن فرشتوں کو خدا کی اولاد سمجھتے ہو ، وہ تو اس کی فرمانبردار اور اطاعت شعار مخلوق ہیں ، ان کی مجال نہیں کہ اس کے احکام کی مخالفت کرسکیں ، ان کا کام تو محض یہ ہے کہ وہ ہر وقت اس کے احکام کی تعمیل میں مصروف رہیں ۔ اور ایک لمحہ غفلت میں نہ گزاریں ۔ مکے والوں کا دوسرا عقیدہ یہ تھا کہ یہ فرشتے جن کی وہ پرستش کرتے تھے ان کی سفارش کریں گے ، فرمایا یہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-28 اللہ تعالیٰ ان کے اگلے اور پچھلے حالات کو خوب جانتا ہے اور وہ فرشتے بجز اس شخص کے کسی دوسرے کی سفارش نہیں کرسکتے جس کے حق میں اللہ تعالیٰ کی مرضی ہو اور وہ اس کی ہیبت سے ڈرتے رہتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے تمام اگلے پچھلے حالات کو جانتا ہے اور ان کی یہ طاقت بھی نہیں کہ کسی کی سفارش کریں البتہ جس کے اللہ تعالیٰ کی مرضی پاتے ہیں اور جس کے حق میں اس کی مرضی ہوتی ہے اس کے علاوہ کسی دوسرے لئے سفارش بھی نہیں کرسکتے ان کے خوف و خشیت کی یہ حالت ہے کہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی ہیبت و جلال سے ڈرتے رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 22–28

ف 5۔ کیونکہ علوة دونوں کے ارادوں اور افعال میں تزاحم ہوتا اور اس کے لئے فساد لازم۔ لیکن فساد واقع نہیں ہے، اس لئے تعدد الہ بھی منفی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

انبیاء ورسل کے آگے اور پیچھے سے اللہ تعالیٰ واقف ہے اور اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں : 28۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ ان آیات سے زیادہ تر فرشتوں ہی سے خطاب سمجھا گیا ہے تاہم بعض مفسرین نے آیت 26 سے ہی بیان انبیاء کرام (علیہ السلام) اور رسل عظام بھی سمجھا اور بیان کیا ۔ اس لئے ہم نے عرض کیا تھا کہ پیچھے سے بیان فرشتوں کا شروع ہوا پھر انبیاء کرام (علیہ السلام) کا جیسا کہ آیت 19 سے آیت 25 تک ہے اس لئے آیت 27 تک تو یقینا دونوں احتمال ہو سکتے ہیں اور دونوں کا ذکر بھی اوپر نیچے آیا ہے لیکن آیت 28 ‘ 29 میں اس لئے اس مضمون کو انبیاء کرام (علیہ السلام) کے متعلق ہی سمجھنا ضروری ہے کہ ان دونوں آیتوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 27–29

لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُم بِأَمْرِ‌هِ يَعْمَلُونَ (They do not precede Him in speech and only under His command they act. 21:27) This verse refutes the claim of pagans of Makkah that angels were daughters of Allah. How can angels be Allah's children when they stand in such awe in His presence that they neither initiate any talk nor act against His commands. They simply await His words and act accordingly. This also points towards an important etiquette of behaving in the company of elders. That is, when a matter is brought forth in front of a group of people, the people before…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 28–29

27. These two verses refute the two reasons for which the mushriks had made the angels their deities: (1) They took them for the offspring of Allah. (2) They thought that if they worshiped the angels, they would be so pleased that they would intercede with Allah on their behalf. See (Surah Younus, Ayat 18); (Surah AzZumur, Ayat 3). In this connection, it should also be noted that the Quran refutes the doctrine of intercession of the mushriks, saying, that their so called intercessors are not qualified to intercede for anyone. This is so because they have no knowledge of the hidden things,…

Read the full tafseer →