Al-Anbiyaa 21:27

Al-Anbiyaa · from ayah 27

21:27

لَا یَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ وَهُمْ بِاَمْرِهٖ یَعْمَلُوْنَ ۟لَا يَسۡبِقُوۡنَهٗ بِالۡقَوۡلِ وَهُمۡ بِاَمۡرِهٖ يَعۡمَلُوۡنَ

اس کے آگے بڑھ کر بول نہیں سکتے۔ اور اس کے حکم پر عمل کرتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

They cannot precede Him in word, and they act by His command.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anbiyaa

All translations of 21:27

اُس کے حضور بڑھ کر نہیں بولتے اور بس اُس کے حکم پر عمل کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اس کے آگے بڑھ کر بول نہیں سکتے۔ اور اس کے حکم پر عمل کرتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کسی بات میں اللہ پر پیش دستی نہیں کرتے بلکہ اس کے فرمان پر کاربند ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ اس سے آگے بڑھ کر کوئی بات نہیں کرتے، اور وہ اسی کے حکم پر عمل کرتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بات میں اس سے سبقت نہیں کرتے اور وہ اسی کے حکم پر کاربند ہوتے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ کسی بات (کے کرنے) میں اس سے سبقت نہیں کرتے اور وہ اسی کے امر کی تعمیل کرتے رہتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ بات کرنے میں اس سے پہل نہیں کرتے اور وہ اس کے حکم کے ساتھ ہی عمل کرتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ اس کے حضور بڑھ کر نہیں بولتے بس اسی کے حکم پر عمل کرتے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ اس کے آگے بات میں پہل نہیں کرتے، وہ بس اس کے حکم ہی کی تعمیل کرتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ تو اس کے حضور آگے بڑھ کر بات بھی نہیں کرسکتے اور وہ کام بھی اسی کے حکم پر کرتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

وہ اس سے آگے بڑھ کر بات نہیں کرسکتے۔ اور وہ اسی کے حکم پر عمل کرتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ سبقت نہیں کرتے اس سے بات میں اور وہ اس کے حکم ہی کی تعمیل کرتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ اس کے سامنے بڑھ کر بول نہیں سکتے اور اس کے حکم پر عمل کرتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They do not outstrip Him in speech and only act as He commands.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They do not precede Him in speech, and only under His command they act.

— Muhammad Taqi Usmani

They do not precede Him in speech, and only under His command they act.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They speak not until He has spoken, and they act on His command.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They speak not until He hath spoken, and they act by His command.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They cannot precede Him in word, and they act by His command.

— Saheeh International

These servants do not speak before He speaks. They simply act according to His orders.

— Muhammad Sarwar

They do not precede Him in speech and (only) according to His commandment do they act.

— Muhammad Habib Shakir

They precede Him not in words, and by His command they work.

— Abdul Majid Daryabadi

They speak not before He speaks, and they act (in all things) by His Command.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 21:27

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 26–29

خشیت الٰہی۔ کفار مکہ کا خیال تھا کہ فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں۔ ان کے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے اللہ پاک فرماتا ہے کہ یہ بالکل غلط ہے، فرشتے اللہ تعالیٰ کے بزرگ بندے ہیں، بڑے بڑائیوں والے ہیں اور ذی عزت ہیں قولاً اور فعلاً ہر وقت اطاعت الہٰی میں مشغول ہیں۔ نہ تو کسی امر میں اس سے آگے بڑھیں، نہ کسی بات میں اس کے فرمان کا خلاف کریں بلکہ جو وہ فرمائے دوڑ کر اس کی بجا آوری کرتے ہیں۔ اللہ کے علم میں گھرے ہوئے ہیں اس پر کوئی بات پوشیدہ نہیں آکے پیچھے دائیں بائیں کا اسے علم ہے ذرے ذرے کا وہ دانا ہے۔ یہ پاک فرشتے بھی اتنی مجال نہیں رکھتے کہ اللہ کے کسی مجرم کی اللہ کے سامنے اس کی مرضی کے خلاف سفارش کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 26–28

سورة الْاَنْبِیَآء 26 یہاں پھر فرشتوں ہی کا ذکر ہے جن کو مشرکین عرب خدا کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ بعد کی تقریر سے یہ بات خود ظاہر ہوجاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 27–29

لَا يَسْبِقُوْنَهٗ بالْقَوْلِ وَهُمْ بِاَمْرِهٖ يَعْمَلُوْنَ ، یعنی فرشتے حق تعالیٰ کی اولاد تو کیا ہوتے وہ تو ایسے خائف اور مؤ دب رہتے ہیں کہ نہ قول میں اللہ تعالیٰ سے سبقت کرتے ہیں نہ عمل میں اس کے خلاف کبھی کچھ کرتے ہیں۔ قول میں سبقت نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک حق تعالیٰ ہی کی طرف سے کوئی ارشاد نہ ہو خود کوئی کلام کرنے میں مسابقت کی ہمت نہیں کرتے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بڑوں کا ایک ادب یہ بھی ہے کہ جب مجلس میں کوئی بات آئے تو جو اس مجلس کا بڑا ہے اس کے کلام کا انتظار کیا جائے پہلے ہی کسی اور کا بول پڑنا خلاف ادب ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 26–27

آیت 27-26 خدا کے دربار میں فرشتوں کی حیثیت یہ مشرکین کے باطل عقیدہ شفاعت کی تردید ہے کہ وہ خدا کے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں بنائے بیٹھے ہیں اور اس خبط میں مبتلا ہیں کہ اس دنیا میں جو رزق و فضل ان کو ملتا ہے انہی کی عنایت سے ملات ہے اور اگر آخرت ہوئی تو انہی کی سفارش سے وہاں بھی یہ نہایت اعلیٰ مراتب حاصل کرلیں گے۔ اس عقیدہ باطل کی تردید یہاں، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، اس پہلو سے فرمائی گئی کہ اگر اللہ تعالیٰ کے ہاں اس قسم کی سفارش کی کوئی گنجائش مان لی جائے تو آخرت کا ہونا نہ ہونا دونوں یکساں ہوا اس لئے کہ جب خدا کی عدالت میں رشوت یا سفارش سے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا جاسکتا ہے تو یہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

27۔ 1 اس میں مشرکین کا کہنا ہے جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔ فرمایا وہ بیٹیاں نہیں، اس کے ذی عزت بندے اور اس کے فرما بردار ہیں۔ علاوہ ازیں بیٹے، بیٹیوں کی ضرورت، اس وقت پڑتی ہے۔ جب عالم پیری میں ضعف و بڑھاپا، ایسے عوارض ہیں جو انسان کو لاحق ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی ذات ان تمام کمزوریوں اور کوتاہیوں سے پاک ہے۔ اس لئے اسے اولاد کی یا کسی سہارے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں بار بار اس امر کی صراحت کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 26–29

12: اہل عرب فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 26–29

وقالوا اتخذالرحمن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نجزی الظلمین ” اللہ کے لیے بیٹا ہونے کا تصور زمانہ جاہلیت میں مختلف لوگوں کے درمیان مختلف تھا۔ مشرکین عرب خیال کرتے تھے کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ مشرکین یہود کہتے تھے کہ عزیز ابن اللہ ہیں اور مشرکین نصاریٰ کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت مسیح اللہ کے بیٹے ہیں۔ یہ سب شرکیہ عقائد ہیں اور دوسری اقوام مشرک کے ہاں اور طرح کے ہیں۔ یہاں اشارہ عربوں کے عقیدہ کی طرف ہے جو ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے۔ یہاں ان کے عقیدے کی تردید فرشتوں کی نوعیت اور حقیقت کے بیان سے کی جاتی ہے کہ وہ اللہ کی بیٹیاں نہیں ‘ جس طرح ان لوگوں کا زعم ہے بلکہ یہ اللہ کے ہاں مکرم بندے ہیں۔ یہ ایسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 یعنی جن برگزیدہ ہستیوں کو تم خدا کی اولاد بتلاتے ہو وہ اولاد نہیں۔ ہاں اس کے معزز بندے ہیں اور باوجود انتہائی معزز و مقرب ہونے کے ان کے ادب و اطاعت کا حال یہ ہے کہ جب تک اللہ کی مرضی اور اجازت نہ پائیں اس کے سامنے خود آگے بڑھ کر لب نہیں ہلا سکتے اور نہ کوئی کام اس کے حکم کے بدون کرسکتے ہیں۔ گویا کمال عبودیت و بندگی ہی ان کا طغرائے امتیاز ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 27 لَا یَسْبِقُوْنَہٗ بالْقَوْلِ وَہُمْ بِاَمْرِہٖ یَعْمَلُوْنَ ” فرشتے اللہ تعالیٰ کے آگے بڑھ کر بات نہیں کرتے۔ وہ اللہ کے احکام کے منتظر رہتے ہیں اور اس کے ہر فرمان کی تعمیل کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 26–27

22 یہ خطاب صرف مشرکین مکہ کو ہے جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ کیونکہ آگے اسی بات کی وضاحت آرہی ہے۔ یہ فرشتے اللہ کے دست بستہ غلام ہیں اور معزز اس لحاظ سے ہیں کہ ہر وقت اللہ کی تسبیح و تقدیس میں مشغول رہتے ہیں۔ وہ باادب اتنے ہیں کہ اللہ کے حضور کوئی بات ہی نہیں کرتے بس صرف حکم کے منتظر رہتے ہیں۔ اور جب انھیں کوئی حکم دیا جاتا ہے تو فوراً اس کی تعمیل کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

34۔ (بلکہ اسی کے حکم کے منتظر رہتے ہیں) یہ کیفیت ہے ان مقرب بندوں کے ادب، خشوع وتعبد کی۔ 35۔ اس میں رد آگیا یہود ونصاری کی گمراہی کا جو ” نافرمان “ فرشتوں کے وجود کے قائل ہیں، یہاں ان کی صحیح کیفیت بیان کردی ہے کہ ان سے نہ قولی مسابقت ہی ہوتی ہے اور نہ فعلی مخالفت۔ والمعنی انھم یتبعونہ فی قولہ ولا یقولون شیئا حتی یقولہ وکما ان قولھم تابع لقولہ فعملھم ایضا کذلک مبنی علی امرہ (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 24–29

آیت نمبر 24 تا 29 ترجمہ : کیا ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور معبود بنا رکھے ہیں ؟ اس میں استفہام توبیخی ہے ان سے کہہ دو کہ لاؤ اس بات (یعنی اتخاذ اِلٰہ پر) اپنی دلیل پیش کرو ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے (نہ عقلی نہ نقلی) یہ میرے ساتھیوں کی کتاب موجود ہے یعنی میری امت کی اور وہ قرآن ہے اور مجھ سے پہلی امتوں کی (کتابیں) موجود ہیں اور وہ تورات و انجیل وغیرہما ہیں اللہ کی کتابوں میں سے، ان میں سے کسی میں بھی یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دیگر معبود ہیں جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں، اللہ تو اس سے وراء الوراء ہے بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ حق کو نہیں جانتے یعنی اللہ کی توحید کو اسی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لا یسبقونہ بالقول وہم بامرہ یعملون۔ وہ اس سے آگے بڑھ کر بات نہیں کرسکتے اور اسی کے حکم کے موافق عمل کرتے ہیں۔ یعنی اللہ کی اجازت و اذن کے بغیر کوئی بات نہیں کہتے اور اللہ جو حکم ان کو دیتا ہے اس کی تعمیل کرتے ہیں۔ خلاف حکم کچھ نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 26–27

(26۔ 27) اور ان کفار مکہ میں سے بعض یوں کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں میں اولاد بنا رکھی ہے توبہ توبہ اس کی ذات اولاد اور شریک سے پاک ہے، بلکہ وہ فرشتے اس کے بندے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت وفرمانبرداری کے صلے میں ان کو اعزاز واکرام سے نوازا ہے، قول وفعل میں اللہ کے حکم کے بغیر جبریل، میکائیل سے آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کرتے اور وہ اس کے حکم کے مطابق قول وفعل انجام دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ۙلَا يَسْبِقُوْنَهٗ بالْقَوْلِ یعنی ان کی بندگی اور فرماں برداری کا یہ حال ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر بات تک نہیں کرتے۔ وَهُمْ بِاَمْرِهٖ يَعْمَلُوْنَ : ”بِاَمْرِهٖ“ کو پہلے لانے سے دو باتیں واضح ہوئیں، ایک یہ کہ وہ جو کرتے ہیں اس کے حکم سے کرتے ہیں، اس کے حکم کے بغیر نہیں کرتے۔ دوسری یہ کہ وہ ہر کام صرف اس کے حکم سے کرتے ہیں، کسی اور کے حکم سے نہیں۔ غور کرو، بندگی اور غلامی کی انتہا ہے کہ مولا کی مرضی کے بغیر نہ بولتے ہیں نہ کچھ کرتے ہیں، بھلا اولاد بھی اس طرح ہوتی ہے ؟ اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ سے اولاد کی نفی فرمائی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 26–28

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : و قالواتخذ الرحمن ولداً سبحنہ یہ خزاعۃ قبیلہ کے بارے میں نازل ہوئی کیونکہ انہوں نے کہا : فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور وہ اس امید سے ان کی عبادت کرتے ہیں کہ وہ ان کی سفارش کریں گے۔ معمر نے قتادہ سے روایت کیا ہے فرمایا : یہودیوں نے کہا معمر نے اپنی روایت میں کہا لوگوں میں سے ایک طائفہ نے کہا اللہ تعالیٰ نے جنوں سے رشتہ جوڑا اور ملائکہ جنوں سے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : سبحنہ وہ اس سے پاک ہے۔ بل عباد مکرمون۔ بلکہ ملائکہ تو اس کے معزز بندے ہیں ایسا نہیں جیسا کہ کفار نے کہا ہے۔ عباد مکرمون کو زجاج کے نزدیک منصوب پڑھنا بھی جائز ہے۔ اس معنی پر بل اتخذ عباداً مکرمین، الوعد…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 26–30

1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ یہودیوں نے کہا اللہ عزوجل نے جنوں سے رشتہ داری قائم کی ہے اور ان کے درمیان فرشتے تھے کہ انہوں نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا اللہ تعالیٰ نے ان کو جھٹلاتے ہوئے فرمایا (آیت) ” بل عباد مکرمون “ یعنی وہ فرشتے ایسے نہیں ہیں جیسے انہوں نے کہا بلکہ وہ ایسے بندے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کی وجہ سے عزت دی (آیت) ” لا یسبقونہ بالقول “ یعنی اللہ تعالیٰ فرشتوں کی تعریف فرما رہے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے بات کرنے میں سبقت نہیں لے جاتے (آیت) ” ولا یشفعون “ یعنی قیامت کے دن فرشتے سفارش نہیں کریں گے (آیت) ” لمن ارتضی “ مگر توحید والوں کے لئے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ لَا يَسْبِقُوْنَهٗ : وہ حکم عدولی نہیں کرتے اس کی ] [ بِالْقَوْلِ : بات میں [ وَهُمْ : اور وہ ] [ بِاَمْرِهٖ : اس کے حکم سے ] [ يَعْمَلُوْنَ : عمل کرتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 26–29

رشاد فرمایا (وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَہٗ بَلْ عِبَادٌ مُّکْرَمُوْنَ ) (الایۃ) کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے پابند ہیں۔ یکسر وہ حکم کی خلاف ورزی نہیں کرسکتے۔ وہ ہیبت الٰہی سے ڈرتے رہتے ہیں اور سفارش بھی اسی کے لیے کرسکتے ہیں جس کے لیے سفارش کرنا اللہ کی رضا کے مطابق ہو، ان میں سے کوئی فرد بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں معبود ہوں۔ بالفرض اگر ایسا کہے گا تو دیگر مدعیان الوہیت کی طرح وہ بھی دوزخ میں جائے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–29

بیان توحید و ابطال شرک قال اللہ تعالیٰ وما خلقنا السماء والارض وما بینھما لعبین .... الیٰ .... کذلک نجزی الظلمین۔ (ربط) ابتداء سورت سے لیکر یہاں تک کا مضمون تحقیق نبوت و رسالت سے متعلق تھا، اب آئندہ آیات میں توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال فرماتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ آسمان و زمین کی پیدائش میں غوروفکر کرو تاکہ تم کو اللہ کی معرفت حاصل ہو عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام چیزیں اللہ کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں۔ (یا یوں کہو) کہ گزشتہ آیات میں کفار کی غفلت اور اعراض اور ان کے لہو ولعب کو بیان کیا اب آگے یہ بیان کرتے ہیں کہ عالم کی پیدائش کھیل تماشہ نہیں بلکہ حق اور باطل میں فرق کرنے کے لیے یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 26–28

21:۔ یہ شکوی ہے یعنی انبیاء (علیہم السلام) اسی مسئلہ توحید کے مبلغ تھے ان کے بعد ناخلف اور گمراہ لوگوں نے شرک پھیلایا۔ انبیاء (علیہم السلام) تو مسئلہ توحید کو خوب واضح کرتے رہے لیکن اس کے باوجود مشرکین نے خود ساختہ کارساز بنا لیے۔ اس کے بعد اس کے ساتھ جواب مذکور ہیں۔ جواب اول ” سُبْحٰنَهٗ “ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے بہت بلندو برتر اور اعلیٰ وارفع ہے۔ کہ اس کی عاجز و بےبس مخلوق میں سے کوئی اس کا ولد اور نائب ہو۔ جواب ثانی ” بَلْ عِبَادٌ مُّکْرَمُوْنَ الخ “ فرشتوں کو اللہ کا ولد اور اس کے کارخانہ عالم میں دخیل سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ وہ اللہ کے باعزت بندے ہیں۔ جواب ثالث ” لَایَسْبِقُوْنَهٗ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 25–29

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کا رد فرمایا جنہوں نے زمین کو مختلف چیزوں کو معبود تسلیم کرلیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ارض وسما میں اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا معبود ہوتا تو سارانظام کائنات بگڑ جاتا چونکہ کائنات کا نظام بالکل ٹھیک چل رہا ہے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ پورے نظام کو کنٹرول کرنے والا صرف ایک ہی خدا ہے اور اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ کی ذات ان تمام لغویات سے پاک ہے جن کو وہ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قادر مطلق اور مختار مطلق ہے ، لہٰذا اس سے کسی بات میں باز پرس نہیں ہوسکتی بلکہ وہ ساری مخلوق کے محاسبے کا حق رکھتا ہے۔ پھر فرمایا کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے ورے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَا يَسْبِقُوْنَہٗ بِالْقَوْلِ وَہُمْ بِاَمْرِہٖ يَعْمَلُوْنَ۝ 27 سبق أصل السَّبْقِ : التّقدّم في السّير، نحو : فَالسَّابِقاتِ سَبْقاً [ النازعات/ 4] ، والِاسْتِبَاقُ : التَّسَابُقُ. قال : إِنَّا ذَهَبْنا نَسْتَبِقُ [يوسف/ 17] ، وَاسْتَبَقَا الْبابَ [يوسف/ 25] ، ثم يتجوّز به في غيره من التّقدّم، قال : ما سَبَقُونا إِلَيْهِ [ الأحقاف/ 11] ، ( س ب ق) السبق اس کے اصل معنی چلنے میں آگے بڑھ جانا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : فَالسَّابِقاتِ سَبْقاً [ النازعات/ 4] پھر وہ ( حکم الہی کو سننے کے لئے لپکتے ہیں ۔ الاستباق کے معنی تسابق یعنی ایک دوسرے سے سبقت کرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :َ إِنَّا ذَهَبْنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 26–29

و قالوا اتخذ الرحمن ولدً سبحانہ الخ کہ وہ مشرکین کہتے ہیں کہ خدا نے اولاد جنائی ہے وہ ایسی باتوں سے پاک ہے اور وہ فرشتے کہ جن کو وہ خدا کی بیٹیاں کہتے ہیں اس کے بندے ہاں معزز بندے ہیں۔ مگر اس کے حکم کے ایسے مطیع ہیں کہ (1) کلام بھی اس کی اجازت بغیر نہیں کرتے جب وہ کچھ فرما لیتا ہے تو بولتے جواب دیتے ہیں۔ (2) وہ اس کے حکم کے پابند ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کو ان کا ظاہر و باطن معلوم ہے۔ یا یہ معنی کہ خدا تعالیٰ نے جو ان کو عزت دی ہے وہ ان کے ابتداء و انتہا سے خوب واقف ہے کہ وہ نافرمانی نہیں کرتے۔ یا یہ کہ وہ اس کی قدرت و علم کے احاطہ میں ہیں پھر ان کی الوہیت کیسی۔ (3) اور وہ سفارش…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 26–27

وَقَالُوْا اتَّخَذَالرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَـہٗ ط بَلْ عِبَادٌ مُّکْرَمُوْنَ ۔ لاَ یَسْبِقُوْنَـہٗ بِالْقَوْلِ وَھُمْ بِاَمْرِہٖ یَعْمَلُوْنَ ۔ (الانبیاء : 26، 27) (اور وہ کہتے ہیں کہ خدائے رحمن نے (اپنے لیے) اولاد بنا لی ہے، وہ ان باتوں سے پاک ہے بلکہ وہ خدا کے مقرب بندے ہیں۔ اس سے بات کرنے میں سبقت نہیں کرتے وہ بس اس کے حکم ہی کی تعمیل کرتے ہیں۔ ) اللہ تعالیٰ کے دربار میں فرشتوں کی حیثیت سابقہ آیات میں پروردگار نے عقلی اور نقلی دلائل سے یہ بات ثابت کردی کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات وصفات اور حقوق میں واحد اور یکتا ہے، کوئی اس کا شریک نہیں۔ لیکن تعجب ہے بعض قوموں پر کہ اس قدر واضح اور عقلاً…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 27–29

فہم القرآن ربط کلام : عباد مکرمون کی عاجزی کی انتہا ملائکہ، انبیاء (علیہ السلام) اور اولیاء اللہ کے اس قدر عاجز بندے اور غلام ہیں کہ ” اللہ “ کے کسی حکم سے آگے بڑھنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ عَبَدٌکی جمع ” عِبَادٌ“ ہے اور اہل لغت نے اس کا معنی بندہ اور غلام لکھا ہے۔ ظاہر ہے غلام کتنا ہی قابل صد احترام کیوں نہ ہو۔ وہ اپنے آقا کا بندہ اور اس کے سامنے عاجز ہو کر ہی زندگی بسر کرتا ہے۔ اس لیے ملائکہ ہوں یا انبیاء (علیہ السلام) اور اولیاء وہ سب کے سب اپنے رب کے غلام ہیں۔ وہ اپنے عظیم بےمثال آقا جو صرف ان کا ہی نہیں بلکہ پوری کائنات کا آقا، خالق، رازق اور مالک ہے۔ وہی ہمہ صفت موصوف اور تمام اختیارات…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

27: لَایَسْبِقُوْنَہٗ بِالْقَوْلِ (وہ اس سے آگے بڑھ کر بات نہیں کرسکتے) القولؔ میں الف لام اضافت کے قائم مقام ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ خود اللہ تعالیٰ کے قول کے پیرو ہیں۔ اور ان کا قول اس کے حکم سے سبقت کرنے والا نہیں۔ اور نہ اپنے قول سے اس کے قول کو مقدم کرسکتے ہیں۔ وَھُمْ بِاَمْرِہٖ یَعْمَلُوْنَ (وہ اسی کے حکم پر عمل کرنے والے ہیں) یعنی جس طرح انکا قول اس کے حکم کے تابع ہے اسی طرح انکا فعل بھی اس کے حکم کے مطابق ہے۔ وہ کوئی ایساعمل نہیں کرتے جس کا اس نے حکم نہ دیا ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

27۔ لایسبقونہ بالقول۔ اس کی بات کے آگے کوئی کلام نہ کرتے اور اللہ کی اجازت اور اذن کے بغیر کوئی بات نہیں کہتے اور اللہ جو حکم ان کو دیتا ہے اس کی تعمیل کرتے ہیں۔ اس کے حکم خلاف کچھ نہیں کرتے۔ وھم بامرہ یعملون، اس کا معنی یہ ہے کہ وہ ان کی مخالفت نہیں کرتے نہ قولا اور نہ عملا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 26–29

26۔ 29:۔ سورة والصافات میں شعب الایمان بیہقی ‘ تفسیر سدی ‘ تفسیر مقاتل وغیرہ کے حوالہ سے قتادہ وغیرہ کا قول آوے گا کہ مشرکین مکہ سے قبیلہ خزاعہ کے لوگ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی اولاد کہتے تھے اور ان کی مورتوں کی پوجا کر کے یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ جن بتوں کی مورتوں کی ہم پوجا کرتے ہیں ‘ اگر قیامت قائم ہوئی تو وہ فرشتے اللہ کے روبرو ہماری سفارش کرکے ہم کو دوزخ کی آگ سے چھڑا لیویں گے ‘ اسی کے جواب میں فرمایا کہ جس طرح ان مشرکوں کے پاس بت پرستی کی کچھ سند نہیں ‘ اسی طرح فرشتوں کو اللہ کی اولاد ٹھہرانے کی بھی ان کے پاس کوئی سند نہیں ہے ‘ شیطان کے بہکانے سے اپنی اٹکل سے یہ لوگ جو جی میں آتا ہے بکتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 26–29

آیت 26-29 اللہ تبارک و تعالیٰ رسول ﷺ کی تکذیب کرنے والے مشرکین کی سفاہت اور ان کے زعم باطل کے بارے میں خبر دیتا ہے۔۔۔۔ ان کا برا ہو۔۔۔۔ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا بیٹا بنایا ہے اور وہ ہر زہ سرائی کرتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس ہر زہ سرائی سے بلند وبالا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے اوصاف کے متعلق آگاہ فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ربویت کے مرہون بندے اور اس کے دست تدبیر کے تحت مجبور ہیں اور انہیں کسی قسم کا اختیار حاصل نہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں لائق تکریم ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی رحمت اور کرامت کے مستحق بندوں میں شامل کیا ہے، انہیں رذائل سے پاک اور بیشمار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 26–27

34 اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں : جیسا کہ مشرک لوگوں نے سمجھ رکھا ہے۔ یہود و نصاریٰ نے اپنے نبیوں کو خدا کی اولاد قرار دیا اور مشرکوں نے اس کے فرشتوں کو۔ سو اس کی کوئی اولاد نہیں بلکہ سب اس کے بندے ہیں۔ اور اس کے بندوں اور اس کی مخلوق کو اس کی اولاد قرار دینا ایسی ناروا جسارت ہے جو عقل و نقل سب کے خلاف اور نہایت ہی سنگین جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور یہ ایسی جسارت اور اس قدر بڑا جرم ہے کہ قریب ہے کہ آسمان اس سے پھٹ پڑیں، زمین شق ہوجائے اور پہاڑ لرز کر گرپڑیں۔ جیسا کہ سورة مریم کی آیت نمبر 88 تا آیت نمبر 92 میں اس کی تصریح فرمائی گئی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–29

غافل لوگ، عقیدہ آخرت اور انبیاء کا رد کرنیوالوں کا انجام تشریح : ان آیات میں ان عربی بدوئوں کے اعتقادات ‘ اعتراضات ‘ ہٹ دھرمی اور دین سے نفرت کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) کو نبوت دی گئی اور اس کے بعد تمام انبیاء نے لوگوں کو توحید کا سبق دیا اور سب سے آخر میں سیدنا محمد ﷺ تشریف لائے۔ انہوں نے بھی توحید کا ہی سبق دیا۔ جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا تھا کہ جب بھی کوئی نبی اور رسول کسی قوم کی طرف بھیجا جاتا تو لوگوں میں تین گروہ پیدا ہوجاتے یعنی مومن کافر اور منافق۔ منافقین دونوں طرف گھومتے رہتے کفار اعتراضات اور مخالفت رسول میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے جیسا کہ کفار مکہ نے آپ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–29

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف اور کتنی بستیاں تھیں جو ان سے پہلے ایسے ہی افعال پر اور ان جیسے کردار کے باعث تباہ کردی گئیں اور معمورہ عالم آباد بھی رہا ان کی جگہ اور پیدا کردیے ان ظالموں نے بھی عذاب کو واقع ہوتے دیکھا تب یقین آیا اور لگے بھاگ بھاگ کر جان بچانے مگر اللہ جل جلالہ کی گرفت سے کون بھاگ سکتا ہے بلکہ ارشاد ہوتا ہے مت بھاگو اپنے مکان اور عیش و عشرت کو کیوں چھوڑتے ہو آج اپنے ہمدرد تلاش کرو مگر وہ کہتے تھے کہ ہماری بدبختی کہ ہم نے ظلم کا راستہ اختیار کیا اور یونہی شور مچاتے رہے کہ عذاب الہی نے پیس کر رکھ دیا جیسے کٹے ہوئے کھیت ہوں یا بجھی ہوئی آگ ، بعض مفسرین کرام نے یمن کی بستیاں مراد لی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 یعنی ان کی اطاعت اور انقیاد کا حال یہ ہے کہ ہر قول و عمل میں اللہ تعالیٰ کے مطیع و فرمانبردار ہیں۔ نہ اس کی اجازت کے بغیر لب کشائی کرت یہیں اور نہ اس کی مرضی کے خلاف کوئی قدم ہی اٹھاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(21:27) لا یسبقونہ۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب ہ ضمیر واحد مذکر غائب سبق (ضرب) سے مصدر ۔ اس سے وہ سبقت نہیں کرتے۔ پہل نہیں کرتے (بالقول۔ بات کرنے میں) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 21–29

لغات القرآن آیت نمبر 12 تا 29 ینشرون وہ زندہ کردیتے ہیں۔ یصفون وہ بناتے ہیں گھڑتے ہیں۔ یسئلون وہ پوچھے جائیں گے۔ عباد (عبد) بندے۔ مکرمون عزت والے۔ لایسبقون وہ آگے نہیں بڑھتے۔ لایشفعون وہ سفارش نہیں کرتے۔ خشیۃ خوف۔ مشفقون ڈرنے والے۔ الظالمین بےانصافی کرنے والے۔ تشریح : آیت نمبر 12 تا 29 اس نظام کائنات کو اللہ نے اپنے قدرت کاملہ سے پیدا کیا اور وہ ایک ایسے ہمہ گیر قانون کے تحت اس کو چلا رہا ہے جس میں مکمل تو ازن اور ہم آہنگی ہے۔ اگر اس نظام میں ذرا بھی تو ازن نہ رے تو اس کا ئنات کا شیرازہ بکھر کر رہ جائے گا۔ اس کائنات میں ساری قوتیں اور طاقتیں صرف ایک اللہ کو حاصل ہیں۔ وہ جو عرش عظیم کا مالک ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 26–29

(ف 2) شان نزول۔ یہ آیت خزاعہ کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے فرشتوں کو اللہ کی اولاد کہا تھا، اور ان کی مورتوں کی پوجا کرکے یہ اعتقاد رکھتے تھے اگر قیامت قائم ہوئی تو وہ فرشتے اللہ کے روبرو ہماری سفارش کرکے ہم کو دوزخ کے عذاب سے چھڑالیں گے ، اس کا جواب ان آیتوں میں فرمایا کہ جس طرح ان مشرکوں کے پاس بت پرستی کی کچھ سند نہیں ہے اسی طرح فرشتوں کو اللہ کی اولاد ٹھہرانے کی بھی ان کے پاس کوئی سند نہیں ہے پھر فرمایا کہ جو مشرک بغیر توبہ کے مرجائے گا تو جس طرح سوئی کے ناکہ میں اونٹ کا گھس جانا ناممکن ہے اسی طرح ایسے مشرک کی نجات ناممکن ہے پھر فرشتے ان مشرکوں کی سفارش کیونکر کرسکتے ہیں پھر فرمایا فرشتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 24–27

[14] یعنی قرآن۔ [15] یعنی سابقہ امتوں کی کتب آسمانی (تورات، انجیل وغیرہ) ۔ [16] یعنی توحید پر بہت سی دلیلیں قائم ہیں، عقلی بھی اور نقلی بھی۔ تم شرک پر بھی تو کوئی دلیل پیش کرکے دکھاؤ۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 25–27

(ف 1) اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ فطرت کی آواز کیا ہے ؟ وہ کون سا پیغام ہے جس کو تمام انبیاء نے مشترکہ طور پر پیش کیا ، وہ کون سی دعوت ہے جس کو سب پیغمبروں نے متحدہ شکل میں ظاہر کیا ، وہ ایک خدا کی پرستش اور عبادت ہے ، آدم (علیہ السلام) سے جناب محمد ﷺ تک سب لوگوں نے اس روشن حقیقت کو نمایاں کیا ، کہ خدا ایک ہے مالک وآقا ایک ہے محبوب ودوست ایک ہے اور وہ ذات ذی الجلال ایک ہے ، جس کے سامنے جھکنا چاہئے ۔ غور فرمائیے کس قدر صحیح ، روشن اور عملی تعلیم ہے ، ایک خدا کی پرستش کے معنی یہ ہیں ، کہ تمام کائنات کو اپنے قدموں پر جھکا لیا جائے ، اور بجز خدا کی کبریائی اور جلال کے اور کسی کی عظمت کا اعتراف نہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-27 باوجود مقرب اور محترم ہنے کے حضرت حق تعالیٰ سے بات کرنے میں پیش قدمی نہیں کرسکتے اور اس سے بڑھ کر نہیں بول سکتے اور وہ سب فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ یعنی باوجود ذی مرتبت ہونے کے ان کی یہ مجال نہیں کہ حضرت حق کی مرضی کے خلاف زبان کھول سکیں یا اس کے آگے بڑھ کر بول سکیں اور اس کے ہر حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 22–28

ف 5۔ کیونکہ علوة دونوں کے ارادوں اور افعال میں تزاحم ہوتا اور اس کے لئے فساد لازم۔ لیکن فساد واقع نہیں ہے، اس لئے تعدد الہ بھی منفی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ حکم الہی کے پابند ہیں اور انسان کی طرح اختیار و ارادہ نہیں رکھتے : 27۔ ان کی حیثیت سفارش کرنے اور اللہ تعالیٰ سے بات منوانے کی نہیں وہ تو اس کے حکم پر سرتا سر کار بند رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور نہیں کرتے یہ انکی صنفی کیفیت ہے کیونکہ ان کی صنف میں اختیار و ارادہ نہیں جو کسی طاقت وقوت میں بھی نہیں ہوتا ان کی مثال اس طرح سمجھی جاسکتی ہے کہ گویا کیل سے دیوار مطالبہ کرتی ہے کہ میں نے تیرا کیا قصور کیا ہے جو تو مجھے اس طرح تنگ کر رہا ہے تو اس نے جواب دیا کہ اس سے پوچھو جو میرے سر پر پے درپے وار کئے چلا جارہا ہے میں اس کا جواب کیا دے سکتا ہوں ۔ یہی بات ان کی ہے اللہ رب کریم نے جس کام پر ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 27–29

لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُم بِأَمْرِ‌هِ يَعْمَلُونَ (They do not precede Him in speech and only under His command they act. 21:27) This verse refutes the claim of pagans of Makkah that angels were daughters of Allah. How can angels be Allah's children when they stand in such awe in His presence that they neither initiate any talk nor act against His commands. They simply await His words and act accordingly. This also points towards an important etiquette of behaving in the company of elders. That is, when a matter is brought forth in front of a group of people, the people before…

Read the full tafseer →