Explained with ayahs 24–25
حق سے غافل مشرک
ان لوگوں نے اللہ کے سوا جن جن کو معبود بنا رکھا ہے ان کی عبادت پر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں اور ہم جس اللہ کی عبادت کررہے ہیں اس میں سچے ہیں ہمارے ہاتھوں میں اعلیٰ تر دلیل کلام اللہ موجود ہے اور اس سے پہلے کی تمام الہامی کتابیں اسی کی دلیل میں باآواز بلند شہادت دیتی ہیں جو توحید کی موافقت میں اور کافروں کی خود پرستی کے خلاف میں ہیں۔ جو کتاب جس پیغمبر پر اتری اس میں یہ بیان موجود رہا کہ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں لیکن اکثر مشرک حق سے غافل ہیں اور اللہ کی باتوں سے منکر ہیں۔ تمام رسولوں کو توحید الٰہی کی ہی تلقین ہوتی رہی۔ فرمان ہے آیت (وَسْـَٔــلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
سورة الْاَنْبِیَآء 24
پہلے دو استدلال عقلی تھے۔ اور یہ استدلال نقلی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آج تک جتنی کتابیں بھی خدا کی طرف سے دنیا کے کسی ملک میں کسی قوم کے پیغمبر پر نازل ہوئی ہیں، ان میں سے کسی اور کو بھی بندگی و عبادت کا حق پہنچتا ہے۔ پھر یہ کیسا مذہب تم لوگوں نے بنا رکھا ہے جس کی تائید میں نہ عقل سے کوئی دلیل ہے اور نہ آسمانی کتابیں ہی جس کے لیے کوئی شہادت فراہم کرتی ہیں۔
سورة الْاَنْبِیَآء 25
یعنی نبی کی بات پر ان کا توجہ نہ کرنا علم پر نہیں بلکہ جہل پر مبنی ہے۔ حقیقت سے بیخبر ہیں اس لیے سمجھانے والے کی بات کو ناقابل التفات سمجھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
ھٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِيَ وَذِكْرُ مَنْ قَبْلِيْ ، اس کا ایک مفہوم تو وہ ہے جو خلاصہ تفسیر میں بیان ہوا ہے کہ ذِكْرُ مَنْ مَّعِيَ سے مراد قرآن اور ذِكْرُ مَنْ قَبْلِيْ سے مراد تورات و انجیل اور زبور وغیرہ کتب سابقہ ہیں اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ میرا اور میرے ساتھ والوں کا قرآن اور پچھلی امتوں کی کتابیں تورات و انجیل وغیرہ موجود ہیں کیا ان میں سے کسی کتاب میں اللہ کے سوا کسی کی عبادت کی تلقین موجود ہے۔ تورات و انجیل وغیرہ میں تحریف ہوجانے کے باوجود یہ تو اب تک بھی کہیں صاف نہیں کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کر کے دوسرا معبود بنا لو۔ بحر محیط میں اس کا یہ مفہوم بھی بیان کیا گیا ہے کہ یہ قرآن ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
آیت 25-24
توحید کے اثبات اور شرک کی تردید میں تاریخ کی شہادت
یہ توحید کے اثبات اور شرک کی تردید میں تاریخ کی شہادت کا حوالہ ہے اوپر کی مذکور دلیل توافق سے یہ ایک الگ اور مستقل دلیل ہے اس وجہ سے سوال ام اتخذوامن دونہ الھۃ کو پھر دوہرایا گیا ہے۔ فرمایا کہ اگر یہ خدا کے سوا دوسرے معبودوں کو بھی مانتے ہیں تو ان سے کہو کہ یہ ان کے حق میں کوئی دلیل لائیں۔ شرک کے حامیوں سے دلیل کا یہ مطالبہ اس بنیاد پر ہے کہ جہاں تک خدا کا تعلق ہے وہ تو مابہ النزاع اور اختلافی چیز نہیں ہے، اس کو تو یہ بھی مانتے ہیں اس وجہ سے وہ ایک مسلم حقیقت ہے۔ رہا یہ دعویٰ کہ اس کے سوا کچھ اور بھی معبود ہیں تو یہ محتاج دلیل ہے…
Read the full tafseer →24۔ 1 مطلب یہ ہے کہ قرآن میں اور اس سے قبل کی دیگر کتابوں میں سب میں صرف ایک ہی معبود کی الوہیت و ربوبیت کا ذکر ملتا ہے۔ لیکن مشرکین اس حق کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں اور بدستور اس توحید سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
11: اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے پر ایک عقلی دلیل تو پچھلی آیت میں بیان فرما دی گئی ہے جس کی تشریح اوپر کے حاشیے میں گذری۔ اب اس آیت میں نقلی دلیل بیان کی جا رہی ہے کہ تمام آسمانی کتابوں میں توحید کے عقیدے پر ہی زور دیا گیا ہے اس قرآن کریم کے علاوہ جتنی کتابیں پچھلی قوموں پر نازل کی گئیں، ان سب میں یہی عقیدہ بیان ہوا ہے۔
Read the full tafseer →ام اتخذوا من دونہ۔۔۔۔۔ قبلی (12 : 42) سابقہ رسولوں کی کتابیں بھی موجود ہیں ان میں بھی کمازکم اللہ کے شریکوں کے بارے میں کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ یہ سب ادیان عقیدہ توحید پر قائم ہیں۔ لہٰذا مشرک جو شرک کرتے ہیں ‘ اس کا ماخذ کیا ہے ‘ یہ تو اس کائنات کے بھی خلاف ہے اور عقل کے بھی خلاف ہے اور نقل کے بھی خلاف ہے ۔ حقیقت یہ ہے۔
بل اکثرھم۔۔۔۔۔۔۔۔۔ معرضون (12 : 42) ” مگر ان میں سے اکثر لوگ حقیقت سے بیخبر ہیں ‘ اس لیے منہ موڑے ہوئے ہیں “۔
Read the full tafseer →8 پہلے توحید پر دلیل عقلی قائم کی گئی تھی۔ اب مشرکین سے ان کے دعوے پر دلیل صحیح کا مطالبہ ہے یعنی خدا کے سوا جو معبود تم نے تجویز کیے ہیں ان کا اثبات کس دلیل عقلی یا نقلی سے ہوا۔ اگر موجود ہو تو پیش کرو۔ ظاہر ہے ان کے پاس بجز اوہام وظنون اور باپ دادوں کی کو رانہ تقلید کے کیا رکھا تھا۔ شرک کی تائید میں نہ کوئی دلیل عقلی مل سکتی ہے، نہ نقلی جسے پیش کرسکتے۔ کذا قال المفسرون۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ پہلے ان معبودوں کو فرمایا تھا کہ جن کو خدا کے برابر کوئی سمجھے کہ ایسے وہ حاکم ہوتے تو جہاں خراب ہوجاتا۔ اب ان کا ذکر فرماتے ہیں جو خدا تعالیٰ کے نیچے چھوٹے چھوٹے خدا بطور نائبین اور ماتحت حکام کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
آیت 26 وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَہٗط بَلْ عِبَادٌ مُّکْرَمُوْنَ ”
جس کسی کو بھی یہ لوگ اللہ کی اولاد قرار دیتے ہیں ‘ وہ فرشتے ہوں ‘ انبیاء ہوں یا اولیاء اللہ ‘ سب اس کے مقرب بندے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے بندوں کی حیثیت سے اپنے ہاں با عزت مقام عطا کیا ہے : اَنَّ لَہُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّہِمْط یونس : 2 ”یقیناً ان کے لیے ہے سچائی کا مرتبہ ان کے رب کے پاس۔“
Read the full tafseer →20 پہلے دو دلائل عقلی تھے جو اثبات توحید اور شرک کے ابکال پر پیش کئے گئے تھے۔ اب نقلی دلیل کا ذکر کیا کہ ان سے پوچھو کہ ان معبودوں کے جواز پر تمہارے پاس کوئی نقلی دلیل ہے ؟ اگر ہے تو لاؤ دکھاؤ۔ یہ قرآن بھی موجود ہے۔ جو میرے دور کے لوگوں اور میرے بعد آنے والوں کے لئے الہامی کتاب ہے اور تورات و انجیل بھی موجود ہے جو مجھ سے پہلے کے لوگوں کے لئے راہ ہدایت تھے۔ ان میں سے کسی میں بھی یہ بات لکھی ہوئی دکھلا دو کہ اللہ نے فلاں فلاں کو فلاں فلاں اختیارات تفویض کر رکھے ہیں۔ کیونکہ قاعدہ ہے کہ کوئی فرمانروا اگر اپنے لئے کوئی نائب یا مددگار یا امیر وزیر مقرر کرتا ہے تو ان کا ریکارڈ بھی اس کے پاس موجود…
Read the full tafseer →30۔ یعنی توحید پر تو بہت سی دلیلیں قائم ہیں عقلی بھی، نقلی بھی، تم شرک پر بھی کوئی دلیل پیش کرکے دکھاؤ ...... افسوس ہے کہ ہمارے ہاں کے متکلمین نے اس پہلو پر اب تک بہت کم توجہ کی ہے۔ عموما اب تک بجائے عقیدہ شرک پر مطالبہ دلیل کے دلائل توحید ہی پر قائم کئے جاتے رہے ہیں۔
31۔ یعنی چونکہ حق سے اعراض کئے ہوئے ہیں، اس کی طلب اور تڑپ اپنے دل میں رکھتے ہی نہیں، اس لئے ایمان ویقین کی دولت سے بھی محروم ہیں۔ المعنی فھم معرضون ولذلک لایعلمون (بحر) ھذا ...... قبلی۔ مطلق (آیت) ” ذکر سے یہاں مراد کتب الہی ہے۔ فالذکرھنا مراد بہ الکتب الالیھۃ (بحر) قیل المراد بالذکر الکتاب۔ (آیت) ’ ذکر من معی “۔ سے مراد قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–29
آیت نمبر 24 تا 29
ترجمہ : کیا ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور معبود بنا رکھے ہیں ؟ اس میں استفہام توبیخی ہے ان سے کہہ دو کہ لاؤ اس بات (یعنی اتخاذ اِلٰہ پر) اپنی دلیل پیش کرو ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے (نہ عقلی نہ نقلی) یہ میرے ساتھیوں کی کتاب موجود ہے یعنی میری امت کی اور وہ قرآن ہے اور مجھ سے پہلی امتوں کی (کتابیں) موجود ہیں اور وہ تورات و انجیل وغیرہما ہیں اللہ کی کتابوں میں سے، ان میں سے کسی میں بھی یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دیگر معبود ہیں جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں، اللہ تو اس سے وراء الوراء ہے بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ حق کو نہیں جانتے یعنی اللہ کی توحید کو اسی وجہ سے…
Read the full tafseer →ام اتخذوا من دونہ الہۃ کیا خدا کو چھوڑ کر انہوں نے اور معبود بنا رکھے ہیں اس جملہ کو دوسری مرتبہ
ذکر کرنے سے مقصود ہے کفر کی برائی کی عظمت کا بیان اور کافروں کی جہالت کا مزید اظہار۔ تکرار کی یہ وجہ بھی ہوسکتی ہے کہ پہلی مرتبہ ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ کافروں کے پاس باطل معبودوں کو الٰہ قرار دینے کی کوئی عقلی دلیل نہیں ‘ کیا وہ مردوں کو زندہ کردیں گے اور دوبارہ زندہ کر کے قبروں سے اٹھا دیں گے اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ان کو الوہیت کا عقلاً کوئی استحقاق نہیں۔ پھر دوبارہ اسی جملہ کو ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ گزشتہ آسمانی کتابوں میں بھی کسی کو اللہ کا شریک قرار دینے کی اجازت نہیں ‘ اس لئے…
Read the full tafseer →(24) کیا ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اور معبود بنا رکھے ہیں، آپ ان سے کہہ دیجیے کہ تم اپنی دلیل ان جھوٹے معبودوں کے دعوی پر پیش کرو، یہ میری اور مجھ جیسوں کی کتاب ہے یعنی قرآن کریم ہے اور مجھ سے پہلے جو مومنین، کافرین گزرے ہیں ان کی کتابیں موجود ہیں، ان کی کتابوں میں یہ قطعا موجود نہیں کہ معاذ اللہ، اللہ تعالیٰ کی اولاد ہے یا اس کا کوئی شریک ہے بلکہ ان لوگوں میں زیادہ وہی ہیں جو رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کی تصدیق نہیں کرتے، اس وجہ سے کہ وہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کی تصدیق نہیں کرتے، اس وجہ سے کہ وہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کو جھٹلا نے پر تلے ہیں۔
Read the full tafseer →اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اٰلِهَةً : یہ بات شرک کے نہایت قبیح اور باطل ہونے کے بیان کے لیے پھر دہرائی۔
قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ : اس سے پہلے شرک کے باطل ہونے کی دو عقلی دلیلیں بیان فرمائیں، ایک ”لَوْ كَانَ فِيْهِمَآ اٰلِهَةٌ“ اور دوسری ”لَا يُسْــَٔـلُ عَمَّا يَفْعَلُ“ ، اس آیت میں اس کی دو نقلی دلیلیں بیان فرمائیں اور کفار سے مطالبہ فرمایا کہ تم بھی اپنی کوئی عقلی یا نقلی دلیل پیش کرو۔ ظاہر ہے کفار کے پاس شرک کی کوئی عقلی دلیل ہے نہ نقلی، ان کا سرمایہ محض وہم و گمان اور نفس کی خواہشیں ہیں (سورۂ نجم : 23، 28۔ یونس : 66) یا آبا و اجداد کی تقلید (زخرف : 21 تا 24) اور دونوں میں سے کوئی…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ام اتخذوا من دونہ الھۃ اللہ تالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے معبود بنانے میں توبیخ میں مبالغہ کے لیے تعجب کا اعادہ کیا، یعنی ان کی صفت انشاء و احیاء میں ایسی ہے جیسا کہ گزر چکا ہے۔ پس ام بمعنی ھل ہوگا جیسا کہ گزر چکا ہے۔ تم اس پر دلیل لائو۔ لعض علماء نے فرمایا : پہلا احتجاج منقول کی حیثیت سے ہے کیونکہ فرمایا : ھم ینشرون وہ مردوں کو زندہ کرتے ہیں۔ یہ تو بہت دور ہے۔ اور دوسرا احتاج منقول کے ساتھ ہے یعنی اس جہت سے دلیل لائو کونسی کتاب میں یہ نازل ہوا ہے ؟ قرآن میں یا دوسری کتب میں جو دوسرے انبیاء پر اتریں ؟ ھذا ذکر من معی قرآن میں توحید کے اخلاص کا ذکر ہے۔ و ذکر من قبلی تورات اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ام اتخذوا من دونہ الھۃ، قل ھاتوا برھانکم “ یعنی اپنے گواہ لاؤ اس بات پر جو تم کہتے ہو (آیت) ” ھذا ذکر من معی “ یعنی یہ قرآن ہے جس میں حلال اور حرام کا ذکر ہے (آیت) ” وذکر من قبلی “ یعنی اس میں ذکر ہے پہلی امتوں کے اعمال کا اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ معاملہ فرمایا پھر جس کی طرف وہ لوٹ گئے (آیت) ” بل اکثرھم لا یعلمون، الحق فھم معرضون “ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر حق کو نہیں پہنچانتے اس لئے وہ کتاب اللہ سے منہ موڑے ہوئے ہیں (آیت) ” وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون “ یعنی اللہ…
Read the full tafseer →[ اَمِ اتَّخَذُوْا : کیا ان لوگوں نے بنائے ] [ مِنْ دُوْنِهٖٓ: اس کے علاوہ ] [ اٰلِهَةً : کچھ اِلٰہ ] [ قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [ هَاتُوْا : تم لوگ لائو ] [ بُرْهَانكُمْ : اپنی روشن دلیل ] [ ھٰذَا : یہ (قرآن میں)] [ ذِكْرُ مَنْ : ان کا ذکر ہے جو ] [ مَّعِيَ : میرے ساتھ ہیں ] [ وَذِكْرُ مَنْ : اور ان کا ذکر ہے جو ] [ قَبْلِيْ : مجھ سے پہلے تھے ] [ بَلْ : بلکہ ] [ اَكْثَرُهُمْ : ان کے اکثر ] [ لَا يَعْلَمُوْنَ : علم نہیں رکھتے ] [ الْحَقَّ : حق کا ] [ فَهُمْ : پس وہ ] [ مُّعْرِضُوْنَ : اعراض کرنے والے ہیں ]
نوٹ۔ 1: مشرکین یہ سمجھتے تھے کہ زمین اور آسمان کے اِلٰہ الگ الگ ہیں۔ وہ ایک رب العرش کو…
Read the full tafseer →(اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اٰلِھَۃً ) (کیا ان لوگوں نے اللہ کے سوا معبود تجویز کرلیے ہیں۔ (یہ استفہام انکاری بطور توبیخ کے ہے) ۔
(قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَکُمْ ) (آپ فرما دیجیے کہ شرک کے جواز پر اپنی دلیل لے آؤ) تم اس پر کوئی بھی دلیل نہیں لاسکتے۔ شرک کرنا بےدلیل ہے۔ عقلاً بھی قبیح ہے اور نقلاً بھی۔ حضرات انبیاء (علیہ السلام) جو پہلے گزرے ہیں انہوں نے بھی شرک سے منع کیا ہے اور کتب الٰہیہ میں شرک کا گمراہی ہونا مذکور ہے۔ اسی کو فرمایا (ھٰذَا ذِکْرُ مَنْ مَّعِیَ وَ ذِکْرُ مَنْ قَبْلِیْ ) (یہ میرے ساتھ والوں کی کتاب ہے یعنی قرآن مجید اور جو حضرات مجھ سے پہلے تھے ان کی کتابیں یعنی توراۃ و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–29
بیان توحید و ابطال شرک
قال اللہ تعالیٰ وما خلقنا السماء والارض وما بینھما لعبین .... الیٰ .... کذلک نجزی الظلمین۔
(ربط) ابتداء سورت سے لیکر یہاں تک کا مضمون تحقیق نبوت و رسالت سے متعلق تھا، اب آئندہ آیات میں توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال فرماتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ آسمان و زمین کی پیدائش میں غوروفکر کرو تاکہ تم کو اللہ کی معرفت حاصل ہو عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام چیزیں اللہ کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں۔
(یا یوں کہو) کہ گزشتہ آیات میں کفار کی غفلت اور اعراض اور ان کے لہو ولعب کو بیان کیا اب آگے یہ بیان کرتے ہیں کہ عالم کی پیدائش کھیل تماشہ نہیں بلکہ حق اور باطل میں فرق کرنے کے لیے یہ…
Read the full tafseer →18:۔ اعادہ بوجہ بعد عہد برائے مطالبہ دلائل از مشرکین۔
19:۔ بطور معارضہ مشرکین سے ان کے مدعی پر دلائل کا مطالبہ کیا گیا۔ مدعی پر تین قسم کی دلیلیں پیش کی جاتی ہیں عقلی، نقلی اور وحی اس لیے مطالبہ کیا گیا۔ اپنے دعوے پر ان دلائل میں سے کوئی ایک ہی دلیل لے آؤ۔ لیکن یاد رکھو۔ ان میں سے کوئی پیش نہیں کرسکوگے۔ کیونکہ عقل تو دعوائے توحید کی مؤید ہے۔ جیسا کہ ابھی دو عقلی دلیلوں سے ثابت ہوا کہ اللہ کے سوا کوئی مالک و لارساز، متصرف و مختار اور عالم الغیب نہیں۔ اچھا عقلی دلیل نہ سہی۔ انبیاء سابقین میں سے کوئی نقلی دلیل ہی لے آؤ۔ مگر یہ بھی ناممکن ہے۔ کیونکہ تمام انبیاء (علیہم السلام) تو توحید کے داعی و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
ربط آیات :
گزشتہ درس تک کا زیادہ ترحصہ رسالت کے تذکرے پر مشتمل تھا۔ کافر اور مشرک اللہ کے نبیوں پر اعتراض کرتے تھے کہ یہ تو انسان ہیں ، بھلا ہم ان کا اتباع کیسے کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کا تردیدی جواب دیا۔ پھر پہلے لوگوں کا حال بیان کیا اور عذاب کی وعید سنائی۔ نافرمانوں کا انجام بھی بیان فرمایا۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کا رد کیا ہے۔ گزشتہ درس میں بیان ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ارض وسماکے کارخانے کو محض لہو ولعب کے لئے نہیں بنایا بلکہ یہ اس کی حکمت پر مبنی ہے۔ اس کائنات کا آغاز بھی ہے اور اس کا انجام بھی۔
اللہ تعالیٰ کی تسبیح :
ارشاد ہوتا ہے ولہ من فی السموت ولارض اسی کی ملکیت…
Read the full tafseer →اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اٰلِہَۃً 0ۭ قُلْ ہَاتُوْا بُرْہَانَكُمْ 0ۚ ھٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِيَ وَذِكْرُ مَنْ قَبْلِيْ 0ۭ بَلْ اَكْثَرُہُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ 0ۙ الْحَقَّ فَہُمْ مُّعْرِضُوْنَ 24
أخذ ( افتعال، مفاعله)
والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
تفسیر : پھر تہدید و توبیخ کے لیے اسی جملہ کو نقل فرماتا ہے ام اتخذوا الخ کہ کیا انہوں نے خدا کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں ؟ پھر اس بات کو دو طرح سے باطل کرتا ہے : (1) ھذا قل ھاتوا برھانکم کہ اس پر کوئی سند یا دلیل پیش کرو اور جب سند نہیں تو محض وہم اور فاسد خیال ہے۔ (2) ھذا ذکر من معی وذکر من قبلی کہ اچھا اگر تمہارے پاس کوئی عقلی دلیل اس بات پر نہیں تو نقلی پیش کرو۔ نقلی دلیل کتاب الٰہی سے ہو تو مسلم ہے ورنہ نہیں اور کتاب الٰہی جو میرے ساتھ والوں کا یعنی میری امت کا ذکر یعنی فہمائش کرنے والی ہے وہ قرآن مجید ہے اور مجھ سے پہلے لوگوں کا ذکر تورات و انجیل و زبور و صحف انبیا بھی دنیا میں آچکے…
Read the full tafseer →اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِـہٖٓ اٰلِھَۃً ط قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَکُمْ ج ھٰذَا ذِکْرُ مَنْ مَّعِیَ وَذِکْرُ مَنْ قَبْلِیْ ط بَلْ اَکْثَرُھُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ لا الْحَقَّ فَھُمْ مُّعْرِضُوْنَ ۔ (الانبیاء : 24)
(کیا انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں، اے پیغمبر ان سے کہئے کہ اپنی دلیل پیش کرو، یہ قرآن جو نصیحت ہے ان لوگوں کے لیے جو میرے ساتھ ہیں اور ان لوگوں کی بھی جو مجھ سے پہلے ہوئے بلکہ ان میں سے اکثر حق سے بیخبر ہیں، اس لیے وہ اس سے منہ پھیرے ہوئے ہیں۔ )
شرک کی تردید میں ایک نقلی دلیل
شرک کی تردید میں عقلی دلائل دینے کے بعد ایک نقلی دلیل پیش کی جارہی ہے۔ اور اس کا انداز یہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کو کوئی پوچھنے والا نہیں وہ مختار کل اور قادر مطلق ہے مگر اس کے باوجود لوگوں نے اِلٰہ حقیقی کو چھوڑ کر دوسروں کو مشکل کشا بنا رکھا ہے اگر وہ مشکل کشا ہیں تو ان کے سچا ہونے کی کوئی عقلی و نقلی دلیل پیش کریں۔
جنھوں نے اِلٰہِ حق کو چھوڑ کر دوسرے اِلٰہ بنا رکھے ہیں۔ ان کے لیے کھلا چیلنج ہے کہ اگر ان کے پاس اپنے معبودوں کے برحق ہونے کی کوئی عقلی و نقلی دلیل ہے تو وہ سامنے لائیں۔ مجھ پر اور مجھ سے پہلے جتنے انبیائے کرام (علیہ السلام) پر کتابیں نازل ہوئی ہیں ان میں عقلی و نقلی دلائل موجود ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں ہے۔ لیکن لوگوں کی اکثریت کا حال یہ…
Read the full tafseer →ام کو مزید افادہ کے لئے لائے :
24: اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖ اٰلِھَۃً (کیا انہوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اور معبود بنا رکھے ہیں) دوبارہ لائے تاکہ مزید افادہ حاصل ہو۔ پہلی مرتبہ ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ کافروں کے پاس اپنے ان باطل معبودوں کو الٰہ قرار دینے کی کوئی صحیح عقلی دلیل موجود نہیں ہے۔ کیا وہ مردوں کو زندہ کرنے کی قدرت رکھتے ہیں اگر نہیں تو ان کے معبود ہونے کیلئے کوئی عقلی استحقاق نہیں یہاں دوبارہ لائے کہ گزشتہ آسمانی کتابیں بھی اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دینے کی اجازت نہیں دیتیں۔ پس شرک کی کوئی نقلی دلیل بھی نہیں۔ پھر حضرت محمد ﷺ کو فرمایا کہ قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَا نَکُمْ (…
Read the full tafseer →تفسیر۔
24۔ ام تخذا من دونہ الھۃ۔ استفہام انکاری توبیخ کے لیے ہے۔ قل ھاتوا برھانکم، اس پر حجت اور دلیل لے آؤ۔ پھر جملہ کو دوبارہ ذکر کیا۔ ھذا، اس سے مراد قرآن ہے۔ ذکر من معی، اس میں خبر وہ موجود ہے جو میرے پاس ہے اور یہ میری امت کے لیے بھی نصیحت نامہ ہے کہ جنہوں نے اس پر عمل کیا اور اس کی اطاعت کی۔ انکوثواب کامل حاصل ہوا۔ وذکر، خبر ہے۔ من قبلی، ماقبل امتوں میں بھی ایسا نہیں ہوا اور نہ ہی آخرت میں اس کا کوئی شریک ہوگا۔
عطاء کی روایت میں ابن عباس ؓ عنہماکاقول آیا ہے کہ ذکر من معی، سے مراد قرآن ہے اور ذکر من قبلی سے مراد تورات اور انجیل ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ بتاؤ کہ کس جگہ میں بھی یہ بتایا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
22۔ 24:۔ جن لوگوں نے عقلی بحث کے علم مثلا علم منطق اور علم مناظرہ بنائے ہیں انہوں نے یہ بات طیر دی ہے کہ کسی چیز میں بحث اس وقت تک ہوتی ہے جب تک وہ چیز معلوم نہ ہوجائے جب کوئی چیز معلوم ہوئی اور آنکھوں کے سامنے آگئی تو پھر اس میں بحث کی گنجائش کچھ باقی نہیں رہتی ‘ مثلا دو آدمیوں نے دور سے کہیں گرد اڑتی ہوئی دیکھی اور ایک نے کہا اس گرد میں ایک گھوڑے سوار آرہا ہے دوسرے نے کہا گھوڑے کا سوار نہیں بلکہ سانڈنی سوار ہے۔ جب تھوڑی دیر میں گھوڑے کا سوار آنکھوں کے سامنے آگیا تو بحث ختم ہوگئی ‘ اب آنکھوں کے سامنے کی چیز کو جھٹلا کر اگر کوئی شخص گھوڑے کے سوار کو سانڈنی سوار کہہ دے تو لوگ اس کو بیوقوف بتلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
آیت 21-25
اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل اقتدار اور اپنی عظمت کا ذکر کرنے اور اس حقیقت کو بیان کرنے کے بعد کہ ہر چیز اس کے سامنے سرنگوں ہے، مشرکین پر نکیر کی جنہوں نے اللہ کے سوا زمین سے معبود بنا لئے ہیں جو انتہائی عاجز اور قدرت سے محروم ہیں ( ھم ینشرون) ” وہ ان کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرسکیں گے ؟ “ یہ استفہام نفی کے معنی میں ہے، یعنی وہ ان کے حشر و نشر پر قادر نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس آیت کریمہ کی تفسیر کرتا ہے۔
(الفرقان 52، 3)
(یٰسین : 63، 47، 57)
پس مشرک مخلوق کی عبادت کرتا ہے جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں اور اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص کو ترک کردیتا ہے جو تمام کمالات کا…
Read the full tafseer →31 شرک کے حامیوں سے دلیل کا مطالبہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ خدا کے سوا دوسرے معبودوں کو بھی مانتے اور ان کو اس کی خدائی میں شریک جانتے ہیں تو ان سے کہو کہ لاؤ تم لوگ اپنی دلیل۔ نقل صحیح یا عقل سلیم سے۔ ایسی دلیل و برھان جو تمہارے دعوے کی تصدیق و تائید کرتی ہو۔ مگر باطل کے لئے ایسی کوئی دلیل کہاں اور کیسے ؟ کہ جب اللہ پاک کا کوئی شریک ہے ہی نہیں۔ ممکن ہی نہیں۔ تو پھر اس کیلئے کوئی دلیل وبرہان ہو ہی کیسے سکتی ہے ؟ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَمَنْ یَدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا آخَرَ لاَ بُرْہَانَ لَہ بِہ فَاِنَّمَا حِسَابُہ عِنْدَ رِبِّہ اِنَّہُ لاَ یُفْلِحُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
غافل لوگ، عقیدہ آخرت اور انبیاء کا رد کرنیوالوں کا انجام
تشریح : ان آیات میں ان عربی بدوئوں کے اعتقادات ‘ اعتراضات ‘ ہٹ دھرمی اور دین سے نفرت کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) کو نبوت دی گئی اور اس کے بعد تمام انبیاء نے لوگوں کو توحید کا سبق دیا اور سب سے آخر میں سیدنا محمد ﷺ تشریف لائے۔ انہوں نے بھی توحید کا ہی سبق دیا۔ جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا تھا کہ جب بھی کوئی نبی اور رسول کسی قوم کی طرف بھیجا جاتا تو لوگوں میں تین گروہ پیدا ہوجاتے یعنی مومن کافر اور منافق۔ منافقین دونوں طرف گھومتے رہتے کفار اعتراضات اور مخالفت رسول میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے جیسا کہ کفار مکہ نے آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–29
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
اور کتنی بستیاں تھیں جو ان سے پہلے ایسے ہی افعال پر اور ان جیسے کردار کے باعث تباہ کردی گئیں اور معمورہ عالم آباد بھی رہا ان کی جگہ اور پیدا کردیے ان ظالموں نے بھی عذاب کو واقع ہوتے دیکھا تب یقین آیا اور لگے بھاگ بھاگ کر جان بچانے مگر اللہ جل جلالہ کی گرفت سے کون بھاگ سکتا ہے بلکہ ارشاد ہوتا ہے مت بھاگو اپنے مکان اور عیش و عشرت کو کیوں چھوڑتے ہو آج اپنے ہمدرد تلاش کرو مگر وہ کہتے تھے کہ ہماری بدبختی کہ ہم نے ظلم کا راستہ اختیار کیا اور یونہی شور مچاتے رہے کہ عذاب الہی نے پیس کر رکھ دیا جیسے کٹے ہوئے کھیت ہوں یا بجھی ہوئی آگ ، بعض مفسرین کرام نے یمن کی بستیاں مراد لی…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی اپنے اس دعویٰ کی دلیل پیش کرو کہ تمہارے یہ معبود خدا کے شریک ہیں۔2 مراد ہیں توراۃ و انجیل اور صحیفے جو پہلے انبیاء پر نازل کئے گئے۔
Read the full tafseer →(21:24) ھاتوا۔ اصل میں اتو تھا۔ ایتاء (افعال) مصدر سے۔ ات تولا۔ واحد مذکر حاضر۔ اتی (واحدمؤنث حاضر) اتیا (تثنیہ مذکر ومؤنث حاضر) اتین (جمع مؤنث حاضر) ہمزہ کو ھاء سے بدل کر ھات۔ ھاتی۔ ھاتیا۔ ھاتوا۔ ھاتین کرلیا گیا۔ ھاتوا جمع مذکر حاضر فعل امر۔ تم لائو۔
ھذا ذکر من معی۔ یہ رہی کتاب (میری اور ) میرے ساتھیوں کی۔ وذکر من قبلی۔ اور (یہ رہی) کتاب مجھ سے قبل والوں کی۔ (ان دونوں میں سے کسی میں یہ نکال کر دکھائو کہ ایک اللہ کے سوا کوئی دوسرا بھی خدائی کا شائبہ رکھتا ہے اور اسے یہ حق پہنچتا ہے کہ اس کی بندگی کی جائے۔ آیات (21:23) میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے عقلی دلائل تھے اور آیت 24 میں استد لال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
لغات القرآن آیت نمبر 12 تا 29
ینشرون وہ زندہ کردیتے ہیں۔ یصفون وہ بناتے ہیں گھڑتے ہیں۔ یسئلون وہ پوچھے جائیں گے۔ عباد (عبد) بندے۔ مکرمون عزت والے۔ لایسبقون وہ آگے نہیں بڑھتے۔ لایشفعون وہ سفارش نہیں کرتے۔ خشیۃ خوف۔ مشفقون ڈرنے والے۔ الظالمین بےانصافی کرنے والے۔
تشریح : آیت نمبر 12 تا 29
اس نظام کائنات کو اللہ نے اپنے قدرت کاملہ سے پیدا کیا اور وہ ایک ایسے ہمہ گیر قانون کے تحت اس کو چلا رہا ہے جس میں مکمل تو ازن اور ہم آہنگی ہے۔ اگر اس نظام میں ذرا بھی تو ازن نہ رے تو اس کا ئنات کا شیرازہ بکھر کر رہ جائے گا۔ اس کائنات میں ساری قوتیں اور طاقتیں صرف ایک اللہ کو حاصل ہیں۔ وہ جو عرش عظیم کا مالک ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
(ف 2) توحید کی بہترین دلیل۔
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اگر آسمان اور زمین میں دو خدا ہوتے تو آپس میں جھگڑے سے نہ آسمان رہتا اور نہ زمین رہتی، بس پروردگار عالم جو کہ عرش کا مالک ہے ان کی بےہودہ بکواس سے پاک ہے وہ ایسا مالک اور مختار ہے کہ اس کے فعل کا کوئی مزاحم نہیں ہوسکتا اور نہ کوئی اس سے پرسش کرسکتا ہے ، اور کافروں سے پرسش ضرور ہوگی، یعنی یہ بات نہیں ہے کہ یہ لوگ جو چاہیں سوکریں، ان کو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا، بلکہ خدا وند کریم نے جو کہ زمین اور آسمان کا بادشاہ ہے ، اور اپنی سلطنت کا مختار کل ہے اس نے اپنی پیشی کا ایک دن مقرر کررکھا ہے اس روز وہ دربار عام کرے گا، اور ہر مجرم کو اپنے سامنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
[14] یعنی قرآن۔
[15] یعنی سابقہ امتوں کی کتب آسمانی (تورات، انجیل وغیرہ) ۔
[16] یعنی توحید پر بہت سی دلیلیں قائم ہیں، عقلی بھی اور نقلی بھی۔ تم شرک پر بھی تو کوئی دلیل پیش کرکے دکھاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
توحید پر ایک فلسفیانہ دلیل :
(ف 3) متعدد خداؤں کا وجود عقل ووجدان اور ذوق سلیم کے قطعا منافی ہے قرآن حکیم نے اس عقیدے کی بار بار تردید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ بالکل غیر عقلی عقیدہ ہے ، یہاں ایک نہایت باریک دلیل بیان فرمائی ہے جو توحید کے مسئلہ کو پوری طرح واضح کردیتی ہے ارشاد ہے کہ اگر کائنات میں متعدد ارادے اور مختلف شعور کار فرما ہوتے تو کیا زمین وآسمان اسی طرح قائم رہتے ؟ ناممکن ہے کہ متعدد خداؤں کو مان کر عقل کی تسکین ہو سکے ، اگر خدا دو ہوں بغرض محال تو اوس کے کھلے ہوئے معنے یہ ہوں گے کہ دونوں قادر مطلق ہوں گے ، دونوں ارادے کے لحاظ سے آزاد ہوں گے ، اور دونوں جو چاہیں گے ، کرسکیں گے اور…
Read the full tafseer →-24 کیا ان مشرکوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں آپ ان سے کہئے کہ اچھا تم اپنے دعوے پر دلیل لائو اور ان معبود ان باطلہ کی عبادت پر کوئی سند پیش کرو یہ میرے ساتھ والوں کا قرآن کریم اور مجھ سے پہلے لوگوں کی کتابیں موجود ہیں یعنی ان کو دیکھ لو ان میں کہیں شرک کی کوئی دلیل نہیں بلکہ اصل واقعہ یہ ہے کہ ان میں کے اکثر لوگ حق بات کا یقین نہیں رکھتے اور اس حق بات سے روگردانی اور اعراض کرتے ہیں۔ یعنی دلیل کی دو ہی صورتیں ہیں یا تو کوئی عقلی دلیل ہو تو ان کے پاس کوئی عقلی دلیل تو ہے نہیں اور جو دلائل اوپر اثبات توحید کے سلسًلے میں برہان تمانع وغیرہ پیش ہوئے ان کے بعد ان کی ہمت ہی کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–28
ف 5۔ کیونکہ علوة دونوں کے ارادوں اور افعال میں تزاحم ہوتا اور اس کے لئے فساد لازم۔ لیکن فساد واقع نہیں ہے، اس لئے تعدد الہ بھی منفی ہے۔
Read the full tafseer →اللہ کے سوا دوسرے معبود جن لوگوں نے بنا رکھے ہیں ان کی دلیل کیا ہے ؟ :
24۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ یا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسروں کو معبود بنانے والوں کی نہ پہلی امتوں میں کوئی کمی تھی اور نہ آج ہی کوئی کمی ہے ۔ زیر نظر آیت میں ان سارے لوگوں سے پوچھا جا رہا ہے جو اس نظریہ سے تعلق رکھتے ہیں کہ تم نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ یا اس کے بھی سوا جب دوسروں کو اپنے حاجت روا ‘ مشکل کشا اور بگڑی بنانے والے بنا رکھا ہے تمہارے پاس اس جسارت پر دلیل کیا ہے ؟ کیونکہ معبود ہونے کے لائق اور قابل تو وہ ہے جو خود کسی طرح کی حاجت نہ رکھتا ہو جو خود مشکلات میں گھرا ہوا ہو خود مشکلات میں گھرا ہوا ہو وہ دوسروں کی مشکلوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
هَـٰذَا ذِكْرُ مَن مَّعِيَ وَذِكْرُ مَن قَبْلِي (Here is the Message for those with me and the Message for those before me. - 21: 24) One explanation of this verse on which the translation is based is that ذِکر means Message and "Message for those with me" refers to Qur'an, while "the Message for those before me" refers to Torah, Injil (Evangel) and Zabur (Psalms), the earlier divine books. According to this interpretation, the meaning of the verse is that neither the Qur'an (which is the Book for the Holy Prophet ﷺ and his followers) nor the older books contain anything to suggest worship…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
24. The first two were rational arguments and this is a historical one. This means that the study of all the former Scriptures shows that the Creator of the universe is One Allah and He alone is worthy of service and worship, while your religion is neither supported by rational arguments nor by historical evidence.
25. It is their lack of the knowledge of the reality which has created this indifference towards the message of the Prophet, and the same has made them heedless of the message.
Read the full tafseer →