Explained with ayahs 24–25
حق سے غافل مشرک
ان لوگوں نے اللہ کے سوا جن جن کو معبود بنا رکھا ہے ان کی عبادت پر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں اور ہم جس اللہ کی عبادت کررہے ہیں اس میں سچے ہیں ہمارے ہاتھوں میں اعلیٰ تر دلیل کلام اللہ موجود ہے اور اس سے پہلے کی تمام الہامی کتابیں اسی کی دلیل میں باآواز بلند شہادت دیتی ہیں جو توحید کی موافقت میں اور کافروں کی خود پرستی کے خلاف میں ہیں۔ جو کتاب جس پیغمبر پر اتری اس میں یہ بیان موجود رہا کہ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں لیکن اکثر مشرک حق سے غافل ہیں اور اللہ کی باتوں سے منکر ہیں۔ تمام رسولوں کو توحید الٰہی کی ہی تلقین ہوتی رہی۔ فرمان ہے آیت (وَسْـَٔــلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
سورة الْاَنْبِیَآء 24
پہلے دو استدلال عقلی تھے۔ اور یہ استدلال نقلی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آج تک جتنی کتابیں بھی خدا کی طرف سے دنیا کے کسی ملک میں کسی قوم کے پیغمبر پر نازل ہوئی ہیں، ان میں سے کسی اور کو بھی بندگی و عبادت کا حق پہنچتا ہے۔ پھر یہ کیسا مذہب تم لوگوں نے بنا رکھا ہے جس کی تائید میں نہ عقل سے کوئی دلیل ہے اور نہ آسمانی کتابیں ہی جس کے لیے کوئی شہادت فراہم کرتی ہیں۔
سورة الْاَنْبِیَآء 25
یعنی نبی کی بات پر ان کا توجہ نہ کرنا علم پر نہیں بلکہ جہل پر مبنی ہے۔ حقیقت سے بیخبر ہیں اس لیے سمجھانے والے کی بات کو ناقابل التفات سمجھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
ھٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِيَ وَذِكْرُ مَنْ قَبْلِيْ ، اس کا ایک مفہوم تو وہ ہے جو خلاصہ تفسیر میں بیان ہوا ہے کہ ذِكْرُ مَنْ مَّعِيَ سے مراد قرآن اور ذِكْرُ مَنْ قَبْلِيْ سے مراد تورات و انجیل اور زبور وغیرہ کتب سابقہ ہیں اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ میرا اور میرے ساتھ والوں کا قرآن اور پچھلی امتوں کی کتابیں تورات و انجیل وغیرہ موجود ہیں کیا ان میں سے کسی کتاب میں اللہ کے سوا کسی کی عبادت کی تلقین موجود ہے۔ تورات و انجیل وغیرہ میں تحریف ہوجانے کے باوجود یہ تو اب تک بھی کہیں صاف نہیں کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کر کے دوسرا معبود بنا لو۔ بحر محیط میں اس کا یہ مفہوم بھی بیان کیا گیا ہے کہ یہ قرآن ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
آیت 25-24
توحید کے اثبات اور شرک کی تردید میں تاریخ کی شہادت
یہ توحید کے اثبات اور شرک کی تردید میں تاریخ کی شہادت کا حوالہ ہے اوپر کی مذکور دلیل توافق سے یہ ایک الگ اور مستقل دلیل ہے اس وجہ سے سوال ام اتخذوامن دونہ الھۃ کو پھر دوہرایا گیا ہے۔ فرمایا کہ اگر یہ خدا کے سوا دوسرے معبودوں کو بھی مانتے ہیں تو ان سے کہو کہ یہ ان کے حق میں کوئی دلیل لائیں۔ شرک کے حامیوں سے دلیل کا یہ مطالبہ اس بنیاد پر ہے کہ جہاں تک خدا کا تعلق ہے وہ تو مابہ النزاع اور اختلافی چیز نہیں ہے، اس کو تو یہ بھی مانتے ہیں اس وجہ سے وہ ایک مسلم حقیقت ہے۔ رہا یہ دعویٰ کہ اس کے سوا کچھ اور بھی معبود ہیں تو یہ محتاج دلیل ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
25۔ 1 یعنی تمام پیغمبر بھی یہی توحید کا پیغام لے کر آئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
11: اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے پر ایک عقلی دلیل تو پچھلی آیت میں بیان فرما دی گئی ہے جس کی تشریح اوپر کے حاشیے میں گذری۔ اب اس آیت میں نقلی دلیل بیان کی جا رہی ہے کہ تمام آسمانی کتابوں میں توحید کے عقیدے پر ہی زور دیا گیا ہے اس قرآن کریم کے علاوہ جتنی کتابیں پچھلی قوموں پر نازل کی گئیں، ان سب میں یہی عقیدہ بیان ہوا ہے۔
Read the full tafseer →ومآ ارسلنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فاعبدون (12 : 52) ” ہم نے تم سے پہلے جو رسول بھی بھیجا ہے اس کو یہی وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے ‘ پس تم لوگ میری ہی بندگی کرو “۔ اللہ نے جب سے لوگوں کی ہدایات کے لیے رسول بھیجے ہیں ان کی دعوت اور تعلیمات کا قاعدہ اساسی عقیدہ توحید رہا ہے۔ آج تک اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ یعنی الہٰ اور معبود ایک ہی ہے۔ وہی رب ہے ‘ الوہیت اور ربوبیت کے درمیان جدائی ممکن نہیں ہے جو الہٰ ہے وہی رب ہے۔ لہٰذا ان تعلیمات میں الوہیت حاکمیت اور بندگی میں کوئی شرک نہیں اور یہ عقیدہ اسی طرح مستحکم ہے جس طرح اس کائنات کا نظام مستحکم ہے۔ یاد رہے کہ رسولوں کی تعلیمات بھی دراصل اس…
Read the full tafseer →10 یعنی تمام انبیاء ومرسلین کا اجماع عقیدہ توحید پر رہا ہے کسی پیغمبر نے کبھی ایک حرف اس کے خلاف نہیں کہا۔ ہمیشہ یہ ہی تلقین کرتے آئے کہ ایک خدا کے سوا کسی کی بندگی نہیں تو جس طرح عقلی اور فطری دلائل سے توحید کا ثبوت ملتا ہے اور شرک کا رد ہوتا ہے۔ ایسے ہی نقلی حیثیت سے انبیاء (علیہم السلام) کا اجماع دعوائے توحید کی حقیقت پر قطعی دلیل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
آیت 26 وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَہٗط بَلْ عِبَادٌ مُّکْرَمُوْنَ ”
جس کسی کو بھی یہ لوگ اللہ کی اولاد قرار دیتے ہیں ‘ وہ فرشتے ہوں ‘ انبیاء ہوں یا اولیاء اللہ ‘ سب اس کے مقرب بندے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے بندوں کی حیثیت سے اپنے ہاں با عزت مقام عطا کیا ہے : اَنَّ لَہُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّہِمْط یونس : 2 ”یقیناً ان کے لیے ہے سچائی کا مرتبہ ان کے رب کے پاس۔“
Read the full tafseer →21 مشرکوں سے ایسی دلیل کے مطالبہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے خود ہی یہ وضاحت فرما دی کہ میں نے تو جو بھی رسول بھیجا اس کی طرف یہی وحی کرتا رہا کہ میرے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ پھر ان منزل من اللہ کتابوں میں کوئی ایسی بات نکل بھی کیسے سکتی ہے جس میں شرک کے لئے جواز کی سند موجود ہو ؟ اور اتفاق کی بات ہے کہ سابقہ الہامی کتب میں اگرچہ بہت سی تحریف ہوچکی ہے پھر بھی وہ توحید ہی کے دلائل مہیا کرتی ہیں ان میں ایسی کوئی بات نہیں ملتی جس سے شرک کی تائید ہوسکے۔
Read the full tafseer →32۔ (اور اس میں کسی کو شریک نہ کرو) (آیت) ” انہ لاالہ الا انا “۔ یہ عقیدہ ہوا توحید کا (آیت) ” فاعبدون “۔ یہ عمل ہوا توحید کا۔ یہ دین توحید جس کا دوسرا نام دین اسلام ہے، دنیا کا قدیم ترین دین ہے۔ اور انبیاء کے ذریعہ سے ہمیشہ تبلیغ اسی دین کی ہوتی رہی ہے۔ دین شرک تمامتر ذہن انسانی کی اختراع ہے، اور بہت بعد کی پیداوار ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–29
آیت نمبر 24 تا 29
ترجمہ : کیا ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور معبود بنا رکھے ہیں ؟ اس میں استفہام توبیخی ہے ان سے کہہ دو کہ لاؤ اس بات (یعنی اتخاذ اِلٰہ پر) اپنی دلیل پیش کرو ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے (نہ عقلی نہ نقلی) یہ میرے ساتھیوں کی کتاب موجود ہے یعنی میری امت کی اور وہ قرآن ہے اور مجھ سے پہلی امتوں کی (کتابیں) موجود ہیں اور وہ تورات و انجیل وغیرہما ہیں اللہ کی کتابوں میں سے، ان میں سے کسی میں بھی یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دیگر معبود ہیں جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں، اللہ تو اس سے وراء الوراء ہے بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ حق کو نہیں جانتے یعنی اللہ کی توحید کو اسی وجہ سے…
Read the full tafseer →وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون۔ اور ہم
نے آپ سے پہلے کوئی ایسا پیغمبر نہیں بھیجا جس کے پاس ہم نے یہ وحی نہ بھیجی ہو کہ میرے سوا کوئی معبود (ہونے کے قابل) نہیں۔ پس میری ہی عبادت کرو۔ اس کلام میں تخصیص کے بعد تعمیم ہے یعنی توحید کا حکم صرف اس قرآن توریت اور انجیل میں ہی نہیں ہے بلکہ جو پیغمبر بھی ہم نے بھیجا اس کو یہی پیغام دیا کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ‘ پس تم سب میری ہی خالص عبادت کرو۔
Read the full tafseer →(25) ہم نے آپ سے پہلے کوئی ایسا پیغمبر نہیں بھیجا جس کے پاس یہ وحی نہ بھیجی ہو کہ اپنی قوم کو تبلیغ کرو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، تاکہ وہ اس کے قائل ہوجائیں اور میری ہی عبادت کیا کرو۔
Read the full tafseer →وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ۔۔ : پچھلی آیت میں ”ھٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِيَ وَذِكْرُ مَنْ قَبْلِيْ“ کہہ کر جو بات اختصار کے ساتھ کہی گئی تھی اب وہ واضح الفاظ میں تاکید کے ساتھ دہرائی گئی ہے اور جس بات کا حوالہ صرف چند کتابوں کے ساتھ خاص تھا اب تمام رسولوں کے ذکر کے ساتھ اسے عام کرکے بیان کیا گیا ہے۔ چناچہ فرمایا کہ آپ سے پہلے جو بھی رسول ہم نے بھیجا، خواہ اسے کتاب دی یا نہ دی، اسے یہی وحی کرتے رہے کہ میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، سو میری عبادت کرو۔ مزید دیکھیے سورة نحل (36) معلوم ہوا تمام رسول توحید الوہیت کی دعوت دینے کے لیے مبعوث کیے گئے تھے کہ عبادت صرف اللہ کی کرو اور اسی سے دعا اور…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ حفص، حمزہ اور کسائی نے نوحی الیہ نون کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ پہلے ارسلنا آیا ہے۔ انہ لا الہ الا انا فا عبدون۔ ہم نے سب کو کہا : لآ الہ الہ اللہ عقلی دلائل شاہد ہیں کہ اس کا کوئی شریک نہیں اور تمام انبیاء نے نقل بھی موجود ہے۔ دلیل کی دو ہی صورتیں ہیں عقلی یا نقلی۔ قتادہ نے کہا : ہر نبی توحید کے پیغام کے ساتھ بھیجا گیا جبکہ تورات، انجیل اور قرآن میں شرائع مختلف تھے یہ تمام اخلاص اور توحید پر مشتمل ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ام اتخذوا من دونہ الھۃ، قل ھاتوا برھانکم “ یعنی اپنے گواہ لاؤ اس بات پر جو تم کہتے ہو (آیت) ” ھذا ذکر من معی “ یعنی یہ قرآن ہے جس میں حلال اور حرام کا ذکر ہے (آیت) ” وذکر من قبلی “ یعنی اس میں ذکر ہے پہلی امتوں کے اعمال کا اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ معاملہ فرمایا پھر جس کی طرف وہ لوٹ گئے (آیت) ” بل اکثرھم لا یعلمون، الحق فھم معرضون “ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر حق کو نہیں پہنچانتے اس لئے وہ کتاب اللہ سے منہ موڑے ہوئے ہیں (آیت) ” وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون “ یعنی اللہ…
Read the full tafseer →[ وَمَآ اَرْسَلْنَا : اور ہم نے نہیں بھیجا ] [ مِنْ قَبْلِكَ : آپ ﷺ سے پہلے ] [ مِنْ رَّسُوْلٍ : کوئی بھی رسول ] [ اِلَّا : مگر یہ کہ ] [ نُوْحِيْٓ: ہم وحی کرتے تھے ] [ اِلَيْهِ : اس کی طرف (کہ)] [ انهٗ : حقیقت بس اتنی ہے کہ ] [ لَآ اِلٰهَ : کوئی بھی اِلٰہ نہیں ہے ] [ اِلَّآ : سوائے ] [ انا : میرے ] [ فَاعْبُدُوْنِ : پس تم لوگ بندگی کرو میری ]
Read the full tafseer →(وَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْٓ اِلَیْہِ اَنَّہٗ لَآاِلٰہَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ ) (اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی بھی رسول نہیں بھیجا جس کے پاس ہم نے یہ وحی نہ بھیجی ہو، کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو تم میری عبادت کرو) اس میں مشرکین اہل کتاب کی تردید ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی معبود بتاتے تھے۔ ارشاد فرمایا کہ ہم نے جو بھی کوئی رسول بھیجا ہے اس نے ہماری طرف سے یہی بات پہنچائی ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں پھر تم اس کی خلاف ورزی کیوں کرتے ہو۔ اور اپنے دین شرک کو نبیوں کی طرف منسوب کرنے کی گمراہی میں کیوں مبتلا ہو ؟ اس کے بعد ان لوگوں کی تردید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–29
بیان توحید و ابطال شرک
قال اللہ تعالیٰ وما خلقنا السماء والارض وما بینھما لعبین .... الیٰ .... کذلک نجزی الظلمین۔
(ربط) ابتداء سورت سے لیکر یہاں تک کا مضمون تحقیق نبوت و رسالت سے متعلق تھا، اب آئندہ آیات میں توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال فرماتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ آسمان و زمین کی پیدائش میں غوروفکر کرو تاکہ تم کو اللہ کی معرفت حاصل ہو عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام چیزیں اللہ کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں۔
(یا یوں کہو) کہ گزشتہ آیات میں کفار کی غفلت اور اعراض اور ان کے لہو ولعب کو بیان کیا اب آگے یہ بیان کرتے ہیں کہ عالم کی پیدائش کھیل تماشہ نہیں بلکہ حق اور باطل میں فرق کرنے کے لیے یہ…
Read the full tafseer →20:۔ یہ توحید پر تمام انبیاء (علیہم السلام) سے دلیل نقلی اجمالی ہے کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) اسی مسئلہ توحید کے مبلغ تھے۔ ان کے بعد ناخلف اور گمراہ لوگوں نے شرک پھیلایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کا رد فرمایا جنہوں نے زمین کو مختلف چیزوں کو معبود تسلیم کرلیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ارض وسما میں اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا معبود ہوتا تو سارانظام کائنات بگڑ جاتا چونکہ کائنات کا نظام بالکل ٹھیک چل رہا ہے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ پورے نظام کو کنٹرول کرنے والا صرف ایک ہی خدا ہے اور اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ کی ذات ان تمام لغویات سے پاک ہے جن کو وہ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قادر مطلق اور مختار مطلق ہے ، لہٰذا اس سے کسی بات میں باز پرس نہیں ہوسکتی بلکہ وہ ساری مخلوق کے محاسبے کا حق رکھتا ہے۔ پھر فرمایا کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے ورے…
Read the full tafseer →وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْہِ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ 25
رسل
وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ،
( ر س ل ) الرسل
اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
تفسیر : پھر تہدید و توبیخ کے لیے اسی جملہ کو نقل فرماتا ہے ام اتخذوا الخ کہ کیا انہوں نے خدا کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں ؟ پھر اس بات کو دو طرح سے باطل کرتا ہے : (1) ھذا قل ھاتوا برھانکم کہ اس پر کوئی سند یا دلیل پیش کرو اور جب سند نہیں تو محض وہم اور فاسد خیال ہے۔ (2) ھذا ذکر من معی وذکر من قبلی کہ اچھا اگر تمہارے پاس کوئی عقلی دلیل اس بات پر نہیں تو نقلی پیش کرو۔ نقلی دلیل کتاب الٰہی سے ہو تو مسلم ہے ورنہ نہیں اور کتاب الٰہی جو میرے ساتھ والوں کا یعنی میری امت کا ذکر یعنی فہمائش کرنے والی ہے وہ قرآن مجید ہے اور مجھ سے پہلے لوگوں کا ذکر تورات و انجیل و زبور و صحف انبیا بھی دنیا میں آچکے…
Read the full tafseer →وَمَـآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلاَّ نُوْحِیْٓ اِلَیْہِ اَنَّـہٗ لَآ اِلٰـہَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ ۔
(الانبیاء : 25)
(اور ہم نے آپ سے پہلے جتنے رسول بھیجے ہیں ان کی طرف یہی وحی کرتے رہے ہیں کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، تو میری ہی عبادت کرو۔ )
تاریخ نبوت سے استشہاد
دلیل پیش کرنے سے عاجزی پر ان کی بےبسی کو محسوس کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تم دلیل کہاں سے لائو گے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جب بھی ہم نے کسی رسول کو مبعوث کیا اور اس پر کوئی کتاب اتاری تو ہمیشہ اس پر عقیدہ توحید وحی کیا گیا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج تم کوئی بھی سابقہ آسمانی کتاب اٹھا کے دیکھ لو اگرچہ اس میں ہمہ نوع…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کی بعثت کا مقصد لوگوں کو ” اللہ “ کی الوہیت سے آگاہ کرنا ہے اور یہی پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) کی دعوت اور عقیدہ تھا۔
اللہ تعالیٰ نے جتنے انبیائے کرام (علیہ السلام) دنیا میں مبعوث فرمائے ان سب کو یہ حکم تھا کہ وہ لوگوں کو بتلائیں اور سمجھائیں کہ لوگو ! تمہارے رب کا فرمان ہے کہ میرے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے۔ اس ارشاد میں رسول اکرم ﷺ کو بھی یہی حکم ہے کہ آپ ﷺ لوگوں کو بتلائیں اور سمجھائیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور نہ ہی اس کے سوا کوئی حاجت روا اور مشکل کشا ہے۔ جب اس کے سوا کوئی حاجت روا، مشکل کشا اور عبادت کے لائق نہیں تو صرف اس…
Read the full tafseer →25: وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّانُوْحِیْ اِلَیْہِ (اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی ایسا پیغمبر نہیں بھیجا جس کے پاس یہ وحی ہم نے نہ بھیجی ہو) نوحی الیہ ابوبکر و حماد کے علاوہ باقی کوفی قراء نے اسی طرح پڑھا ہے۔
اَنَّہٗ لَا اِلٰـہَ اِلَّا اَنَا فَاعْبُدُوْنِ (کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں پس میری ہی عبادت کرو) فاعبدونؔ سے مراد مجھے وحدہٗ لاشریک مانو۔ اس آیت کو بار بارلائے۔ کیونکہ اس سے پہلے آیات توحید آئی ہیں۔ (پس دعو ٰی کا تکرار بغرض تاکید کردیا گیا )
Read the full tafseer →25۔ وماارسلناک من قبلک من رسول الانوحی الیہ۔ حمزہ، کسائی ، حفص نے عاصم کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ نوحی، الیہ، نون کے ساتھ اور حاء کے کسرہ کے ساتھ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ، وماارسلناک ، اور دوسرے قراء نے یاء اور حاء کے فتحہ کے ساتھ فعل مجہول پڑھا ہے ۔ انہ لاالہ الاانا فاعبدون۔ اس سے مراد توحید ہے۔
Read the full tafseer →25:۔ اوپر مشرکین مکہ کو یوں قائل کیا گیا تھا کہ ملت ابراہیمی میں شرک کی کوئی سند ہو تو پیش کی جائے اس آیت میں فرمایا ملت ابراہیمی تو درکنار پچھلے کسی رسول کی شریعت میں سے بھی یہ لوگ شرک کی کوئی سند پیش نہیں کرسکتے کیونکہ مصلحت وقت کے موافق ہر ایک شریعت کے نماز ‘ روزے ‘ حلال و حرام کے احکام جدا ہیں ‘ لیکن اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور شرک کی برائی سے پچھلی کوئی شریعت خالی نہیں ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے 1 ؎ حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے ‘ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا مسئلہ پچھلی ہر ایک شریعت میں موجود ہے ‘ اس حساب سے ایک باپ کی اولاد کی طرح سب انبیاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
آیت 21-25
اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل اقتدار اور اپنی عظمت کا ذکر کرنے اور اس حقیقت کو بیان کرنے کے بعد کہ ہر چیز اس کے سامنے سرنگوں ہے، مشرکین پر نکیر کی جنہوں نے اللہ کے سوا زمین سے معبود بنا لئے ہیں جو انتہائی عاجز اور قدرت سے محروم ہیں ( ھم ینشرون) ” وہ ان کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرسکیں گے ؟ “ یہ استفہام نفی کے معنی میں ہے، یعنی وہ ان کے حشر و نشر پر قادر نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس آیت کریمہ کی تفسیر کرتا ہے۔
(الفرقان 52، 3)
(یٰسین : 63، 47، 57)
پس مشرک مخلوق کی عبادت کرتا ہے جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں اور اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص کو ترک کردیتا ہے جو تمام کمالات کا…
Read the full tafseer →33 توحید کی ایک اہم نقلی دلیل : سو اس سے توحید کی ایک اہم نقلی دلیل بیان فرمائی گئی کہ ہر پیغمبر نے اس کی دعوت دی۔ یہ توحید کی نقلی دلیل ہے جو کہ عقل صحیح اور فطرت سلیمہ کے عین مطابق ہے۔ اور جس کی عظمت و اہمیت کا یہ عالم ہے کہ ہر پیغمبر کو اس کی وحی کی گئی ہے اور ہر پیغمبر نے سب سے پہلے عقیدہ توحید ہی کی دعوت لوگوں کو دی اور دنیا کو اسی راہ حق و صواب کی طرف بلایا کہ معبود برحق ایک اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ اور ہر قسم کی عبادت کا حق دار وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور سابقہ کتب کا جو ریکارڈ موجود ہے وہ بھی توحید کی دعوت دیتا ہے۔ چناچہ تورات میں حضرت ابراہیم کی جو تعلیم آج بھی موجود ہے وہ سراسر توحید ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
غافل لوگ، عقیدہ آخرت اور انبیاء کا رد کرنیوالوں کا انجام
تشریح : ان آیات میں ان عربی بدوئوں کے اعتقادات ‘ اعتراضات ‘ ہٹ دھرمی اور دین سے نفرت کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) کو نبوت دی گئی اور اس کے بعد تمام انبیاء نے لوگوں کو توحید کا سبق دیا اور سب سے آخر میں سیدنا محمد ﷺ تشریف لائے۔ انہوں نے بھی توحید کا ہی سبق دیا۔ جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا تھا کہ جب بھی کوئی نبی اور رسول کسی قوم کی طرف بھیجا جاتا تو لوگوں میں تین گروہ پیدا ہوجاتے یعنی مومن کافر اور منافق۔ منافقین دونوں طرف گھومتے رہتے کفار اعتراضات اور مخالفت رسول میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے جیسا کہ کفار مکہ نے آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–29
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
اور کتنی بستیاں تھیں جو ان سے پہلے ایسے ہی افعال پر اور ان جیسے کردار کے باعث تباہ کردی گئیں اور معمورہ عالم آباد بھی رہا ان کی جگہ اور پیدا کردیے ان ظالموں نے بھی عذاب کو واقع ہوتے دیکھا تب یقین آیا اور لگے بھاگ بھاگ کر جان بچانے مگر اللہ جل جلالہ کی گرفت سے کون بھاگ سکتا ہے بلکہ ارشاد ہوتا ہے مت بھاگو اپنے مکان اور عیش و عشرت کو کیوں چھوڑتے ہو آج اپنے ہمدرد تلاش کرو مگر وہ کہتے تھے کہ ہماری بدبختی کہ ہم نے ظلم کا راستہ اختیار کیا اور یونہی شور مچاتے رہے کہ عذاب الہی نے پیس کر رکھ دیا جیسے کٹے ہوئے کھیت ہوں یا بجھی ہوئی آگ ، بعض مفسرین کرام نے یمن کی بستیاں مراد لی…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی توحید ہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف گزشتہ تمام انبیاء دعوت دیتے رہے ہیں۔ پس توحید کا ثبوت اور شرک کا رد جس طرح عقلی دلائل سے ہوتا ہے اسی طرح نقلی طور پر بھی ہوتا ہے۔ تمام ادیان میں یہ حقیقت مسلمہ ہے اور تمام انبیاء کا یہ اجماعی عقیدہ ہے۔
Read the full tafseer →(21:25) نوحی۔ مضارع بمعنی ماضی جمع متکلم۔ ہم وحی بھیجتے تھے ہم نے (اس کی طرف) وحی بھیجی ۔ فاعبدون۔ ای فاعبدونی۔ سو میری ہی عبادت کیا کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
لغات القرآن آیت نمبر 12 تا 29
ینشرون وہ زندہ کردیتے ہیں۔ یصفون وہ بناتے ہیں گھڑتے ہیں۔ یسئلون وہ پوچھے جائیں گے۔ عباد (عبد) بندے۔ مکرمون عزت والے۔ لایسبقون وہ آگے نہیں بڑھتے۔ لایشفعون وہ سفارش نہیں کرتے۔ خشیۃ خوف۔ مشفقون ڈرنے والے۔ الظالمین بےانصافی کرنے والے۔
تشریح : آیت نمبر 12 تا 29
اس نظام کائنات کو اللہ نے اپنے قدرت کاملہ سے پیدا کیا اور وہ ایک ایسے ہمہ گیر قانون کے تحت اس کو چلا رہا ہے جس میں مکمل تو ازن اور ہم آہنگی ہے۔ اگر اس نظام میں ذرا بھی تو ازن نہ رے تو اس کا ئنات کا شیرازہ بکھر کر رہ جائے گا۔ اس کائنات میں ساری قوتیں اور طاقتیں صرف ایک اللہ کو حاصل ہیں۔ وہ جو عرش عظیم کا مالک ہے…
Read the full tafseer →(ف 1) اوپر مشرکین مکہ کو یوں قائل کیا گیا تھا کہ ملت ابراہیمی میں شرک کی کوئی سند ہو تو پیش کی جائے، اس آیت میں فرمایا ملت ابراہیمی تو درکنار پچھلے کسی رسول کی شریعت میں سے بھی یہ لوگ شرک کی کوئی سند پیش نہیں کرسکتے کیونکہ مصلحت وقت کے موافق ہر ایک شریعت کے نماز، روزہ ، حلال و حرام کے احکام، جدا جدا ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کی واحدانیت اور شرک کی برائی سے پچھلی کوئی شریعت خالی نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
[14] یعنی قرآن۔
[15] یعنی سابقہ امتوں کی کتب آسمانی (تورات، انجیل وغیرہ) ۔
[16] یعنی توحید پر بہت سی دلیلیں قائم ہیں، عقلی بھی اور نقلی بھی۔ تم شرک پر بھی تو کوئی دلیل پیش کرکے دکھاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
(ف 1) اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ فطرت کی آواز کیا ہے ؟ وہ کون سا پیغام ہے جس کو تمام انبیاء نے مشترکہ طور پر پیش کیا ، وہ کون سی دعوت ہے جس کو سب پیغمبروں نے متحدہ شکل میں ظاہر کیا ، وہ ایک خدا کی پرستش اور عبادت ہے ، آدم (علیہ السلام) سے جناب محمد ﷺ تک سب لوگوں نے اس روشن حقیقت کو نمایاں کیا ، کہ خدا ایک ہے مالک وآقا ایک ہے محبوب ودوست ایک ہے اور وہ ذات ذی الجلال ایک ہے ، جس کے سامنے جھکنا چاہئے ۔
غور فرمائیے کس قدر صحیح ، روشن اور عملی تعلیم ہے ، ایک خدا کی پرستش کے معنی یہ ہیں ، کہ تمام کائنات کو اپنے قدموں پر جھکا لیا جائے ، اور بجز خدا کی کبریائی اور جلال کے اور کسی کی عظمت کا اعتراف نہ…
Read the full tafseer →-25 اور اے پیغمبر ہم نے آپ سے پہلے کوئی ایسا رسول نہیں بھیجا جس پر یہ وحی نہ بھیجی ہو کہ میرے سوا کوئی قابل پرستش معبود نہیں ہے پس میری ہی بعبادت کیا کر۔ یعنی آپ سے پہلے جتنے رسول بھی ہم نے بھیجے ان کو ہم نے یہی حکم بھیجا کہ میں ہی حقیقی معبود ہوں میرے سوا کوئی اور معبود برحق نہیں ہے پس میں ہی عبادت کے لائق ہوں اور میری ہی عبادت کیا کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–28
ف 5۔ کیونکہ علوة دونوں کے ارادوں اور افعال میں تزاحم ہوتا اور اس کے لئے فساد لازم۔ لیکن فساد واقع نہیں ہے، اس لئے تعدد الہ بھی منفی ہے۔
Read the full tafseer →جو دلیل طلب کی جا رہی تھی اس کی وضاحت فرما دی کہ کچھ بھی پیش نہیں کرسکتے :
25۔ نبی رحمت ﷺ سے اعلان تو پہلے کرا دیا گیا اور ان سے کہلوایا گیا کہ اس بات پر کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ یا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور معبود ہے تو اس کی کوئی دلیل پیش کرو اس کتاب سے نہیں جو میرے ساتھیوں کے ہاتھ میں ہے تو ان آسمانی کتابوں ہی سے سہی جن کو تم اس سے قبل آسمانی کتابوں کے طور پر مانتے اور تسلیم کرتے ہو ۔ اس طرح گویا جھوٹے کو اس کے گھر تک پہنچانے کے بعد نبی اعظم وآخر ﷺ سے فرمایا جارہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ہم نے تجھ سے پہلے کوئی پیغمبر ایسا نہیں بھیجا جس پر ہم نے اس بات کی وحی نہ بھیجی ہو کہ کوئی معبود نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
هَـٰذَا ذِكْرُ مَن مَّعِيَ وَذِكْرُ مَن قَبْلِي (Here is the Message for those with me and the Message for those before me. - 21: 24) One explanation of this verse on which the translation is based is that ذِکر means Message and "Message for those with me" refers to Qur'an, while "the Message for those before me" refers to Torah, Injil (Evangel) and Zabur (Psalms), the earlier divine books. According to this interpretation, the meaning of the verse is that neither the Qur'an (which is the Book for the Holy Prophet ﷺ and his followers) nor the older books contain anything to suggest worship…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
24. The first two were rational arguments and this is a historical one. This means that the study of all the former Scriptures shows that the Creator of the universe is One Allah and He alone is worthy of service and worship, while your religion is neither supported by rational arguments nor by historical evidence.
25. It is their lack of the knowledge of the reality which has created this indifference towards the message of the Prophet, and the same has made them heedless of the message.
Read the full tafseer →