Explained with ayahs 21–23
سب تہمتوں سے بلند اللہ جل شانہ
شرک کی تردید ہو رہی ہے کہ جن جن کو تم اللہ کے سوا پوج رہے ہو ان میں ایک بھی ایسا نہیں جو مردوں کو جلا سکے۔ کسی میں یا سب میں مل کر بھی یہ قدرت نہیں پھر انہیں اس قدرت والے کے برابر ماننا یا ان کی بھی عبادت کرنا کس قدر ناانصافی ہے ؟ پھر فرماتا ہے سنو اگر مان لیا جائے کہ فی الواقع بہت سے الہٰ ہیں تولازم آئے گا کہ زمین و آسمان تباہ و برباد ہوجائیں جیسے فرمان ہے آیت (مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ 91ۙ) 23۔ المؤمنون :91) اللہ کی اولاد نہیں، نہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود ہے اگر ایسا ہوتا ہے تو ہر معبود اپنی اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
سورة الْاَنْبِیَآء 22
یہ استدلال سادہ بھی ہے اور بہت گہرا بھی۔ سادہ سی بات، جس کو ایک بدوی، ایک دیہاتی، ایک موٹی سی سمجھ کا آدمی بھی بآسانی سمجھ سکتا ہے، یہ ہے کہ ایک معمولی گھر کا نظام بھی چار دن بخیریت نہیں چل سکتا اگر اس کے دو صاحب خانہ ہوں۔ اور گہری بات یہ ہے کہ کائنات کا پورا نظام، زمین کی تہوں سے لے کر بعید ترین سیاروں تک، ایک ہمہ گیر قانون پر چل رہا ہے۔ یہ ایک لمحہ کے لیے بھی قائم نہیں رہ سکتا اگر اس کی بیشمار مختلف قوتوں اور بےحد و حساب چیزوں کے درمیان تناسب اور توازن اور ہم آہنگی اور تعاون نہ ہو۔ اور یہ سب کچھ اس کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ کوئی اٹل اور غالب و قاہر ضابطہ ان بیشمار اشیاء…
Read the full tafseer →لَا يُسْــَٔـلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْــَٔــلُوْنَ میں بھی اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ جو شخص کسی قانون کا پابند ہو جس کے افعال و اعمال پر کسی کو مواخذہ کرنے کا حق ہو وہ خدا نہیں ہو سکتا۔ خدا وہ ہی ہے جو کسی کا پابند نہ ہو، جس سے کسی کو سوال کرنے کا حق نہ ہو۔ اگر دو خدا ہوں اور دونوں مشورہ کے پابند ہوں تو ہر ایک کو دوسرے سے سوال کرنے اور ترک مشورہ پر مواخذہ کرنے کا حق لازمی ہے جو خود منصب خدائی کے منافی ہے۔
Read the full tafseer →سب خدا کے آگے مسئول ہیں
یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی شان واضح فرمائی کہ وہ کسی کے آگے مسئول اور جواب دہ نہیں، باقی سب خواہ فرشتے ہوں یا جن وانس، اس کے آگے جواب دہ ہیں۔ کسی کی مجال نہیں کہ اس کے حکم سے سرتابی کرسکے اور اگر کسی نے اس کی جرأت کی تو اس کو اللہ کے حضور میں جاب دہی کرنی پڑے گی اور وہ اس جسارت کی سزا بھگتے گا۔ یہ مشرکین کے اس واہمہ کی تردید ہے کہ وہ اس کائنات کے نظم ونسق میں اپنے معبودں کو دخیل سمجھ کر ان سے یہ توقع رکھتے تھے کہ وہ خدا کے جس ارادے کو چاہیں بدلوا سکتے اور جو چاہیں اپنی مرضی سے کرسکتے ہیں، وہ خدا کی باز پرس سے بالاتر ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
22۔ 1 یعنی اگر واقع آسمان و زمین میں دو معبود ہوتے تو کائنات میں تصرف کرنے والی دو ہستیاں ہوتیں، دو کا ارادہ و شعور اور مرضی کار فرما ہوتی اور جب دو ہستیوں کا ارادہ اور فیصلہ کائنات میں چلتا تو یہ نظم کائنات اس طرح قائم رہ ہی نہیں سکتا تھا جو ابتدائے آفرینش سے، بغیر کسی ادنیٰ توقف کے قائم چلا آرہا ہے۔ کیونکہ دونوں کا ارادہ ایک دوسرے سے ٹکراتا۔ دونوں کی مرضی کا آپس میں تصادم ہوتا، دونوں کے اختیارات ایک دوسرے کے مخالف سمت میں استعمال ہوتے۔ جس کا نتیجہ ابتری اور فساد کی صورت میں رونما ہوتا اور اب تک ایسا نہیں ہوا تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ کائنات میں صرف ایک ہی ہستی ہے جس کا ارادہ ومشیت کار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
10: یہ توحید کی ایک عام فہم دلیل ہے۔ اور وہ یہ کہ اگر اس کائنات میں ایک سے زیادہ خدا ہوتے تو ہر خدا مستقل خدائی کا حامل ہوتا، اور کوئی کسی کا تابع نہ ہوتا۔ اس صورت میں ان کے فیصلوں کے درمیان اختلاف بھی ہوسکتا تھا۔ اب اگر ایک خدا نے ایک فیصلہ کیا، اور دوسرے خدا نے دوسرا فیصلہ تو یا تو ان میں سے ایک دوسرے کے آگے ہار مان لیتا، تو پھر وہ خدا ہی کیا ہوا جو کسی سے ہار مان لے، یا دونوں اپنے اپنے فیصلے کو نافذ کرنے کے لیے زور لگاتے تو متضاد فیصلوں کی تنفیذ سے آسمان اور زمین کا نظام درہم برہم ہوجاتا۔ اسی دلیل کی ایک دوسری تشریح یہ بھی کی جاسکتی ہے کہ جو لوگ آسمان اور زمین کے لیے الگ الگ خدا مانتے ہیں،…
Read the full tafseer →لایسئل عما یفعل و ھم یسئلون (12 : 32) ” وہ اپنے کاموں کے لیے جواب دہ نہیں ہے اور دوسرے سب جواب دہ ہیں “۔ وہ تو خود اپنے بندوں پر پوری طرح حاوی ہے۔ اس کا ارادہ آزاد ہے۔ اس کے اوپر کوئی قید و بند نہیں ہے اور نہ کوئی دوسرا ارادہ آڑے آسکتا ہے۔ اس کے ارادے کے سامنے وہ قانون قدر بھی رکاوٹ نہیں بن سکتا جو اس نے خود جاری کیا ہے۔ سوال اور محاسبہ تو کسی معیار اور کسی پیمانے اور حدود کے مطاق ہوتا ہے جو وضع کیے گئے ہوں اور اللہ تو خود واضع حدود ہے اور معیار اور پیمانے مقرر کرنے والا ہے۔ وہ خود اپنیمقرر کردہ حدود اور معیار و مقیاس کا پا بند نہیں ہے۔ لوگوں کے لیے چونکہ اللہ کے مقرر کردہ حدود کی پابندی…
Read the full tafseer →7 یعنی " خدا " تو اس ہستی کا نام ہے جو قادر مطلق ہے۔ جو قادر مطلق اور مختار کل ہو اس کی قدرت و مشیت کو روکنا تو کجا کوئی پوچھ پاچھ بھی نہیں کرسکتا کہ آپ نے فلاں کام اس طرح کیوں کیا۔ ہاں اس کو حق ہے کہ وہ ہر شخص سے مواخذہ اور باز پرس کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
آیت 26 وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَہٗط بَلْ عِبَادٌ مُّکْرَمُوْنَ ”
جس کسی کو بھی یہ لوگ اللہ کی اولاد قرار دیتے ہیں ‘ وہ فرشتے ہوں ‘ انبیاء ہوں یا اولیاء اللہ ‘ سب اس کے مقرب بندے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے بندوں کی حیثیت سے اپنے ہاں با عزت مقام عطا کیا ہے : اَنَّ لَہُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّہِمْط یونس : 2 ”یقیناً ان کے لیے ہے سچائی کا مرتبہ ان کے رب کے پاس۔“
Read the full tafseer →19 یعنی اللہ تعالیٰ اس کائنات کا ایسا مطلق العنان اور مختار کل فرمانروا ہے کہ اس کائنات میں جو کچھ بھی کرے کسی کے سامنے جواب دہ نہیں۔ جبکہ اس کے سوا جتنی بھی مخلوق ہے سب اس کے سامنے جوابدہ ہیں۔ اور الٰہ وہی ذات ہوسکتی ہے۔ جس میں یہ صفت بدرجہ اتم پائی جاتی ہو۔ یعنی وہ کسی کے سامنے جواب دہ نہ ہو۔ اور جس سے باز پرس ہوسکتی ہے وہ الٰہ نہیں ہوسکتا۔
Read the full tafseer →29۔ اس میں ان مشرک قوموں کا رد آگیا جو خدا کو بھی محدود الاختیار، محدود القوی مانتے ہیں، یونان کے مشرک فلاسفہ کا یہی مذہب ہوا ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریز ی۔ ہندوستان میں عقیدہ ” کرم “ کے ماننے والوں کا بھی یہی خیال ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–23
آیت نمبر 11 تا 23
ترجمہ : اور کتنی ہی بستیوں کو یعنی بستی والوں کو جو ظالم یعنی کافر تھے تباہ یعنی ہلاک کردیا اور ان کے بعد دوسری قوم پیدا کردی تو ان ظالموں نے جب ہمارا عذاب آتا دیکھا یعنی بستی والوں نے جب ہلاکت کو محسوس کیا تو اس بستی سے تیزی سے بھاگنا شروع کردیا تو فرشتوں نے ان سے بطور استہزاء کے کہا بھاگو مت اور اپنے سامان کی طرف جس میں تم کو آسودگی دی گئی تھی اور اپنے مکانوں کی طرف واپس چلو تاکہ دنیا کے دستور کے مطابق تم سے کچھ پوچھ تاچھ کی جائے تو وہ لوگ کہنے لگے ہائے ہماری کمبختی (یا تنبیہ کے لئے ہے) یعنی ہماری ہلاکت بیشک ہم کفر کے ذریعہ ظلم کرنے والے تھے پھر تو انہی کلمات کی رٹ لگاتے…
Read the full tafseer →لایسئل عما یفعل وہم یسئلون۔ اس سے اس کے فعل کی بازپرس نہیں کی جائے گی اور ان سے
(یعنی آسمان و زمین والوں سے ان کے اعمال کی) باز پرس کی جائے گی ‘ یعنی اللہ کی عظمت ‘ اقتدار کی قوت ‘ الوہیت میں یکتائی اور ذاتی حکومت کی وجہ سے اس سے باز پرس کرنے والا کوئی نہیں ہوگا ‘ باز پرس کرنے نہ کی جا سکنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس کا ہر فعل اپنی ملکیت میں تصرف ہے وہ ہر چیز کا مالک ہے اور مالک اپنی ملکیت میں جیسا چاہے تصرف کرسکتا ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا اور مخلوق کا تصرف اپنی ملک میں تصرف نہیں مخلوق کسی چیز کی حقیقی مالک ہی نہیں ہے بلکہ اللہ کی ملک میں تصرف ہے اور اللہ کی ملک میں تصرف اس کی…
Read the full tafseer →(23) اللہ تعالیٰ جو کچھ کہتا کرتا اور حکم دیتا ہے اس سے کوئی باز پرس نہیں کرسکتا اور بندوں کے اعمال واقوال پر باز پرس کی جاسکتی ہے۔
Read the full tafseer →لَا يُسْــَٔـلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْــَٔــلُوْنَ۔۔ : اللہ تعالیٰ کی اس صفت کے دو مطلب ہیں، ایک یہ کہ ہر چیز کا مالک اور سلطان وہ خود ہے، کسی کی کیا جرأت کہ اس کے کسی کام کے متعلق پوچھے کہ ایسا کیوں کیا ؟ کیونکہ اپنی ملکیت میں وہ جو چاہے کرے۔ اگر وہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق کو عذاب دے تو بھی عین عدل ہوگا، کیونکہ وہ مالک ہے اور اپنی چیز سے جو چاہے کرے۔ جس طرح انسان اپنی خریدی ہوئی ایک اینٹ کو مکان کی پیشانی پر لگا دیتا ہے، دوسری کو چولھے یا بھٹی میں لگا دیتا ہے اور کوئی اسے ظالم نہیں کہتا، حالانکہ وہ اینٹ کا خالق بھی نہیں، صرف عارضی مالک ہے اور اگر اللہ تعالیٰ مخلوق پر رحم فرمائے تو اس…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لا یسئل عما یفعل وھم یسئلون۔ یہ قدریہ وغیرہ کا رد ہے۔ ابن جریج نے کہا : اس کا معنی یہ ہے کہ مخلوق اس سے اس کے فیصلہ کے متعلق نہیں پوچھ سکتی جو وہ اپنی مخلوق کے بارے میں فرماتا لیکن وہ مخلوق سے ان کے اعمال کے بارے پوچھے گا کیونکہ وہ اس کے بندے ہیں۔ اس سے واضح ہوا کہ کل جن سے ان کے اعمال کے متعلق مواخذہ ہوگا جیسے مسیح اور ملائکہ تو وہ خدا ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کے افعال کا مواخذہ نہ ہوگا جبکہ لوگوں کا مواخذہ ہوگا۔ حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے آپ سے کہا : اے امیر المومنین ! کیا ہمارا رب پسند کرتا ہے کہ اس کف نافرمانی کی جائے ؟ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
1:۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن ابی حاتم اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” ام اتخذوا الھۃ من الارض ھم ینشرون “ کے بارے میں فرمایا (آیت) ” ینشرون “ سے مراد ہے ” یحبون “ (یعنی زندہ کرتے ہیں )
2:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے (آیت) ” ام اتخذوا الھۃ من الارض ھم ینشرون “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ زمین سے مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ وہ ان کو ان کی قبروں سے زندہ کرتے ہیں۔
3:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ام اتخذوا الھۃ من الارض “ کیا انہوں نے زمین کی چیزوں پتھر اور لکڑی سے (معبود) بنالئے ہیں (آیت) ” لوکان فیھما الہۃ الا اللہ “ یعنی ان دونوں (زمین و…
Read the full tafseer →[ لَا يُسْــَٔـلُ : اس سے نہیں پوچھا جائے گا ] [ عَمَا : اس کے بارے میں جو ] [ يَفْعَلُ : وہ (یعنی اللہ) کرتا ہے ] [ وَ : درآنحالیکہ ] [ هُمْ : ان سب (زمینی الاہوں) سے ] [ يُسْــَٔــلُوْنَ : پوچھا جائے گا ]
Read the full tafseer →(لَا یُسْءَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ ھُمْ یُسْءَلُوْنَ ) وہ قادر مطلق ہے مختار کامل ہے۔ احکم الحاکمین ہے۔ کسی کی کوئی مجال نہیں کہ اس سے کوئی باز پرس کرے اور یوں پوچھے کہ یہ کیوں کیا اور یہ کیوں نہیں کیا۔ (وَ ھُمْ یُسْءَلُوْنَ ) اور اس کی مخلوق سے باز پرس کی جاتی ہے اور کی جائے گی یعنی دنیا میں بھی ان سے مواخذہ ہے اور آخرت میں بھی۔ جس کسی نے غلط عقائد اختیار کیے اور برے اعمال کیے اس سے باز پرس ہوگی اور مستحق سزا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–29
بیان توحید و ابطال شرک
قال اللہ تعالیٰ وما خلقنا السماء والارض وما بینھما لعبین .... الیٰ .... کذلک نجزی الظلمین۔
(ربط) ابتداء سورت سے لیکر یہاں تک کا مضمون تحقیق نبوت و رسالت سے متعلق تھا، اب آئندہ آیات میں توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال فرماتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ آسمان و زمین کی پیدائش میں غوروفکر کرو تاکہ تم کو اللہ کی معرفت حاصل ہو عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام چیزیں اللہ کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں۔
(یا یوں کہو) کہ گزشتہ آیات میں کفار کی غفلت اور اعراض اور ان کے لہو ولعب کو بیان کیا اب آگے یہ بیان کرتے ہیں کہ عالم کی پیدائش کھیل تماشہ نہیں بلکہ حق اور باطل میں فرق کرنے کے لیے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
17:۔ مذکورہ بالا عقلی دلیلوں سے ثابت ہوگیا کہ اللہ کے سوا نہ آسمان میں کوئی الہ (معبود) ہے نہ زمین میں۔ اگر بالفرض زمین و آسمان میں اللہ کے سوا کچھ اور بھی معبود ہوتے۔ جیسے مشرکین مانتے ہیں یعنی وہ بھی فی الواقع مالک و مختار اور متصرف و کارساز ہوتے تو یہ سارا نظام عالم ایک آن کے لیے بھی سلامت نہ رہ سکتا۔ اور فورًا درہم برہم ہوجاتا۔ ” لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ ھُمْ یُسْئَلُوْنَ “ وہ بلا شرکت غیرے ساری کائنات کا واحد مالک، قادر مطلق اور متصرف و مختار ہے۔ اس پر کسی کو سوال اور اعتراض کا حق نہیں۔ لیکن وہ اپنی مخلوق سے جواب طلبی کا حق رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
ربط آیات :
گزشتہ درس تک کا زیادہ ترحصہ رسالت کے تذکرے پر مشتمل تھا۔ کافر اور مشرک اللہ کے نبیوں پر اعتراض کرتے تھے کہ یہ تو انسان ہیں ، بھلا ہم ان کا اتباع کیسے کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کا تردیدی جواب دیا۔ پھر پہلے لوگوں کا حال بیان کیا اور عذاب کی وعید سنائی۔ نافرمانوں کا انجام بھی بیان فرمایا۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کا رد کیا ہے۔ گزشتہ درس میں بیان ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ارض وسماکے کارخانے کو محض لہو ولعب کے لئے نہیں بنایا بلکہ یہ اس کی حکمت پر مبنی ہے۔ اس کائنات کا آغاز بھی ہے اور اس کا انجام بھی۔
اللہ تعالیٰ کی تسبیح :
ارشاد ہوتا ہے ولہ من فی السموت ولارض اسی کی ملکیت…
Read the full tafseer →لَا يُسْــَٔـلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَہُمْ يُسْــَٔــلُوْنَ 23
سأل
السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ.
( س ء ل ) السؤال
( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل مٰن تو زبان سے دیا جاتا ہے لیکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
تفسیر : پھر تہدید و توبیخ کے لیے اسی جملہ کو نقل فرماتا ہے ام اتخذوا الخ کہ کیا انہوں نے خدا کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں ؟ پھر اس بات کو دو طرح سے باطل کرتا ہے : (1) ھذا قل ھاتوا برھانکم کہ اس پر کوئی سند یا دلیل پیش کرو اور جب سند نہیں تو محض وہم اور فاسد خیال ہے۔ (2) ھذا ذکر من معی وذکر من قبلی کہ اچھا اگر تمہارے پاس کوئی عقلی دلیل اس بات پر نہیں تو نقلی پیش کرو۔ نقلی دلیل کتاب الٰہی سے ہو تو مسلم ہے ورنہ نہیں اور کتاب الٰہی جو میرے ساتھ والوں کا یعنی میری امت کا ذکر یعنی فہمائش کرنے والی ہے وہ قرآن مجید ہے اور مجھ سے پہلے لوگوں کا ذکر تورات و انجیل و زبور و صحف انبیا بھی دنیا میں آچکے…
Read the full tafseer →لاَ یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلَ وَھُمْ یَسْئَلُوْنَ ۔ (الانبیاء : 23)
(وہ جو کچھ کرتا ہے اس کے بارے میں اس سے پرشس نہیں کی جاسکتی اور ان تمام سے بازپرس کی جائے گی۔ )
اللہ تعالیٰ کی عظمت
اللہ تعالیٰ کی شان تو یہ ہے کہ وہ جو فیصلے فرماتا اور جو وہ حکم دیتا ہے کسی کی مجال نہیں کہ اس کے بارے میں سوال کرسکے۔ وہ جسے چاہتا ہے موت دیتا ہے، جس کا کاروبار چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے، جس کا چاہتا ہے تخت چھین لیتا ہے، جہاں چاہتا ہے زلزلہ بپا کردیتا ہے، جب چاہتا ہے دریائوں کے بند کھول دیتا ہے، جب چاہتا ہے بادل بےروک ہوجاتے ہیں، وہ جہاں چاہتا ہے زمین انسانوں کا بوجھ اٹھانے سے انکار کردیتی ہے۔ اس کا جب اشارہ ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
فہم القرآن
ربط کلام : رب کے نافرمان نہ صرف اس کی عبادت نہیں کرتے بلکہ وہ اس کے ساتھ دوسروں کو بھی شریک بناتے ہیں۔
ہر دور میں ایسے لوگ ہوئے ہیں اور رہیں گے کہ جن کا عقیدہ ہے کہ ملائکہ اللہ تعالیٰ کے معاون اور اس کی خدائی میں حصہ دار ہیں۔ ان میں بعض لوگوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ ملائکہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اور وہ اس کی خدائی میں شریک ہیں جس بناء پر وہ ان کی عبادت کرتے ہیں۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا ملائکہ اور دوسروں کو معبود بناتے ہیں ان کے عقیدہ کی یہاں تین دلائل کے ساتھ نفی کی گئی ہے۔
1۔ جنھوں نے ملائکہ اور زمین میں سے کسی کو معبود بنا لیا ہے۔ کیا وہ مشرکوں کے مرنے کے بعد انہیں اٹھانے کی…
Read the full tafseer →23: لَایُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ (اس سے اس کے فعل کی باز پرس نہیں کی جائے گی) کیونکہ وہ مالک حقیقی خود ہے۔ اگر بادشاہ پر اس کا کوئی غلام اعتراض کرے تو بات انتہائی قبیح شمار ہوتی ہے۔ اور اس کو حماقت گنا جاتا ہے۔ حالانکہ دونوں ہم جنس بھی ہیں۔ اور بادشاہ کا خطاء پر ہونا بالکل ممکن ہے اور بادشاہ اس کا حقیقی مالک بھی نہیں۔ تو پھر تم خود اندازہ کرلو کہ شہنشاہ مطلق اور رب الا رباب پر کس کو اعتراض کا حق و جواز ہے۔ اس کے تمام افعال درست و صواب اور عین حکمت ہیں اور احتمال خطاء محال ہے۔
وَھُمْ یُسْئَلُوْنَ (اور ان سے باز پرس ہوگی۔ ) کیونکہ وہ سب مملوک اور خطا کار ہیں۔ ان کو ہر فعل میں یہ کہنے کا حق ہے کہ…
Read the full tafseer →23۔ لایسئل عمایفعل، وہ اپنی مخلوق پر حاکم ہے کیونکہ وہ رب ہے دونوں جہانوں کا پالنے والا ہے۔ اس لیے اس سے نہیں پوچھاجائے گا، وھم یسئلون ، اور مخلوقات سے پوچھاجائے گا، ان کے اعمال و افعال کے بارے میں کیوں کہ وہ اس کے بندے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
22۔ 24:۔ جن لوگوں نے عقلی بحث کے علم مثلا علم منطق اور علم مناظرہ بنائے ہیں انہوں نے یہ بات طیر دی ہے کہ کسی چیز میں بحث اس وقت تک ہوتی ہے جب تک وہ چیز معلوم نہ ہوجائے جب کوئی چیز معلوم ہوئی اور آنکھوں کے سامنے آگئی تو پھر اس میں بحث کی گنجائش کچھ باقی نہیں رہتی ‘ مثلا دو آدمیوں نے دور سے کہیں گرد اڑتی ہوئی دیکھی اور ایک نے کہا اس گرد میں ایک گھوڑے سوار آرہا ہے دوسرے نے کہا گھوڑے کا سوار نہیں بلکہ سانڈنی سوار ہے۔ جب تھوڑی دیر میں گھوڑے کا سوار آنکھوں کے سامنے آگیا تو بحث ختم ہوگئی ‘ اب آنکھوں کے سامنے کی چیز کو جھٹلا کر اگر کوئی شخص گھوڑے کے سوار کو سانڈنی سوار کہہ دے تو لوگ اس کو بیوقوف بتلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
آیت 21-25
اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل اقتدار اور اپنی عظمت کا ذکر کرنے اور اس حقیقت کو بیان کرنے کے بعد کہ ہر چیز اس کے سامنے سرنگوں ہے، مشرکین پر نکیر کی جنہوں نے اللہ کے سوا زمین سے معبود بنا لئے ہیں جو انتہائی عاجز اور قدرت سے محروم ہیں ( ھم ینشرون) ” وہ ان کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرسکیں گے ؟ “ یہ استفہام نفی کے معنی میں ہے، یعنی وہ ان کے حشر و نشر پر قادر نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس آیت کریمہ کی تفسیر کرتا ہے۔
(الفرقان 52، 3)
(یٰسین : 63، 47، 57)
پس مشرک مخلوق کی عبادت کرتا ہے جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں اور اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص کو ترک کردیتا ہے جو تمام کمالات کا…
Read the full tafseer →29 اس سے کوئی کچھ پوچھ نہیں سکتا : کہ وہ خالق ومالک بھی ہے اور حاکم و حکیم بھی۔ اور اپنی پوری کائنات میں بلاشرکت غیرے متصرف و فرماں روا بھی۔ وہ جو کچھ کرے وہ حق و صدق ہے۔ لہذا نہ اس سے پوچھنے کا کسی کو کوئی حق ہے اور نہ ہی کسی کی جان ہے کہ وہ اس سے پوچھ سکے۔ وہ اس طرح کے تمام تصورات سے پاک اور اعلیٰ وبالا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ وہ خالق کل اور مالک مطلق ہے اور باقی سب اس کی مخلوق اور اس کے مملوک ہیں۔ اور کسی مخلوق اور مملوک کو یہ حق نہیں پہنچ سکتا کہ وہ اپنے خالق اور مالک حقیقی سے کوئی سوال کرے۔ سو اس ارشاد ربانی سے اللہ تعالیٰ نے اپنی شان کو واضح فرما دیا کہ وہ کسی کے آگے مسؤل اور جواب دہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
غافل لوگ، عقیدہ آخرت اور انبیاء کا رد کرنیوالوں کا انجام
تشریح : ان آیات میں ان عربی بدوئوں کے اعتقادات ‘ اعتراضات ‘ ہٹ دھرمی اور دین سے نفرت کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) کو نبوت دی گئی اور اس کے بعد تمام انبیاء نے لوگوں کو توحید کا سبق دیا اور سب سے آخر میں سیدنا محمد ﷺ تشریف لائے۔ انہوں نے بھی توحید کا ہی سبق دیا۔ جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا تھا کہ جب بھی کوئی نبی اور رسول کسی قوم کی طرف بھیجا جاتا تو لوگوں میں تین گروہ پیدا ہوجاتے یعنی مومن کافر اور منافق۔ منافقین دونوں طرف گھومتے رہتے کفار اعتراضات اور مخالفت رسول میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے جیسا کہ کفار مکہ نے آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–29
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
اور کتنی بستیاں تھیں جو ان سے پہلے ایسے ہی افعال پر اور ان جیسے کردار کے باعث تباہ کردی گئیں اور معمورہ عالم آباد بھی رہا ان کی جگہ اور پیدا کردیے ان ظالموں نے بھی عذاب کو واقع ہوتے دیکھا تب یقین آیا اور لگے بھاگ بھاگ کر جان بچانے مگر اللہ جل جلالہ کی گرفت سے کون بھاگ سکتا ہے بلکہ ارشاد ہوتا ہے مت بھاگو اپنے مکان اور عیش و عشرت کو کیوں چھوڑتے ہو آج اپنے ہمدرد تلاش کرو مگر وہ کہتے تھے کہ ہماری بدبختی کہ ہم نے ظلم کا راستہ اختیار کیا اور یونہی شور مچاتے رہے کہ عذاب الہی نے پیس کر رکھ دیا جیسے کٹے ہوئے کھیت ہوں یا بجھی ہوئی آگ ، بعض مفسرین کرام نے یمن کی بستیاں مراد لی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
ف 13 کیونکہ ہر خدا اپنی جگہ قادر خودم ختار ہوتا تو ان میں ہمیشہ کشمکش کا بازار گرم رہتا ہے جیسے فرمایا : ولعلابعضم علی بعض (مومنون :91) اور کوئی چیز اپنی مترب شکل میں بن سکتی نہ چل سکتی۔ توحید پر یہ دلیل سادہ بھی ہے اور ناقابل تردید بھی متکلمین نے اس کا نام برہان تمانع رکھا ہے مگر اس کی سادہ تشریح بھی ہوسکتی ہے۔ (کبیر)
Read the full tafseer →(21:23) لا یسئل عما یفعل۔ یعنی اللہ تعالیٰ جو کچھ کرتے ہیں اس سے باز پرس نہیں کی جاسکتی۔ وہم یسئلون۔ ای الناس۔ لوگون سے باز پرس کی جاسکتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
لغات القرآن آیت نمبر 12 تا 29
ینشرون وہ زندہ کردیتے ہیں۔ یصفون وہ بناتے ہیں گھڑتے ہیں۔ یسئلون وہ پوچھے جائیں گے۔ عباد (عبد) بندے۔ مکرمون عزت والے۔ لایسبقون وہ آگے نہیں بڑھتے۔ لایشفعون وہ سفارش نہیں کرتے۔ خشیۃ خوف۔ مشفقون ڈرنے والے۔ الظالمین بےانصافی کرنے والے۔
تشریح : آیت نمبر 12 تا 29
اس نظام کائنات کو اللہ نے اپنے قدرت کاملہ سے پیدا کیا اور وہ ایک ایسے ہمہ گیر قانون کے تحت اس کو چلا رہا ہے جس میں مکمل تو ازن اور ہم آہنگی ہے۔ اگر اس نظام میں ذرا بھی تو ازن نہ رے تو اس کا ئنات کا شیرازہ بکھر کر رہ جائے گا۔ اس کائنات میں ساری قوتیں اور طاقتیں صرف ایک اللہ کو حاصل ہیں۔ وہ جو عرش عظیم کا مالک ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
(ف 2) توحید کی بہترین دلیل۔
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اگر آسمان اور زمین میں دو خدا ہوتے تو آپس میں جھگڑے سے نہ آسمان رہتا اور نہ زمین رہتی، بس پروردگار عالم جو کہ عرش کا مالک ہے ان کی بےہودہ بکواس سے پاک ہے وہ ایسا مالک اور مختار ہے کہ اس کے فعل کا کوئی مزاحم نہیں ہوسکتا اور نہ کوئی اس سے پرسش کرسکتا ہے ، اور کافروں سے پرسش ضرور ہوگی، یعنی یہ بات نہیں ہے کہ یہ لوگ جو چاہیں سوکریں، ان کو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا، بلکہ خدا وند کریم نے جو کہ زمین اور آسمان کا بادشاہ ہے ، اور اپنی سلطنت کا مختار کل ہے اس نے اپنی پیشی کا ایک دن مقرر کررکھا ہے اس روز وہ دربار عام کرے گا، اور ہر مجرم کو اپنے سامنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
[13] یعنی نظام عالم میں ابتری پڑجاتی۔ اللہ کے تصور و تعریف میں یہ امر داخل ہے کہ وہ مطلق الارادہ و مطلق الاختیار اور مالک کُل ہو۔ اب اگر فرض کرو کہ آسمان و زمین میں دو اللہ ہوں تو دونوں اسی شان کے ہوں گے۔ اس وقت دیکھنا یہ ہے کہ عالم کی تخلیق اور اس کا انتظام دونوں کے کلی اتفاق سے ہوتا ہے یا نہیں یا گاہ بگاہ دونوں میں اختلاف بھی ہوجاتا ہے۔ اتفاق کی صورت میں دو احتمال ہیں، یا تو اکیلے سے کام نہیں چل سکتا تھا اس لئے دونوں نے مل کر انتظام کیا۔ تو معلوم ہوا کہ دونوں میں سے ایک بھی کامل قدرت والا نہیں۔ اور اگر تنہا ایک اللہ سارے عالم کا کام انجام دے سکتا تھا تو دوسرا بیکار ٹھہرا۔ اور اگر اختلاف کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
توحید پر ایک فلسفیانہ دلیل :
(ف 3) متعدد خداؤں کا وجود عقل ووجدان اور ذوق سلیم کے قطعا منافی ہے قرآن حکیم نے اس عقیدے کی بار بار تردید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ بالکل غیر عقلی عقیدہ ہے ، یہاں ایک نہایت باریک دلیل بیان فرمائی ہے جو توحید کے مسئلہ کو پوری طرح واضح کردیتی ہے ارشاد ہے کہ اگر کائنات میں متعدد ارادے اور مختلف شعور کار فرما ہوتے تو کیا زمین وآسمان اسی طرح قائم رہتے ؟ ناممکن ہے کہ متعدد خداؤں کو مان کر عقل کی تسکین ہو سکے ، اگر خدا دو ہوں بغرض محال تو اوس کے کھلے ہوئے معنے یہ ہوں گے کہ دونوں قادر مطلق ہوں گے ، دونوں ارادے کے لحاظ سے آزاد ہوں گے ، اور دونوں جو چاہیں گے ، کرسکیں گے اور…
Read the full tafseer →-23 اس کی عظمت و شان ایسیے کہ وہ جو کچھ کرتا ہے اس سے اس کے کئے کی کوئی باز پرس نہیں کرسکتا اور ان سے باز پرس کی جاسکتی ہے۔ یعنی وہ ایسا مالک و مختار اور قادر مطلق ہے کہ وہ جو کچھ کرے اس پر اس سے کوئی باز پرس کرنے والا نہیں اور باقی تمام مخلوقات سے یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ تم نے ایسا کیوں کیا اور ایسا کیوں نہیں کیا۔
خلاصہ ! یہ کہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوق سے باز پرس کرسکتا ہے اور اس سے کوئی دوسرا باز پرس نہیں کرسکتا جس کی یہ عظمت و شان ہے کہ اس کی معبودیت میں کوئی دوسرا کس طرح شریک ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–28
ف 5۔ کیونکہ علوة دونوں کے ارادوں اور افعال میں تزاحم ہوتا اور اس کے لئے فساد لازم۔ لیکن فساد واقع نہیں ہے، اس لئے تعدد الہ بھی منفی ہے۔
Read the full tafseer →وہ جو کرے اس سے پوچھنے والا کوئی نہیں اور وہ سب سے باز پرس کرسکتا ہے :
23۔ بلا شبہ شان کبریائی اس کے لائق ہے کہ اس سے کوئی باز پرس نہ کرسکے اس لئے کہ باز پرس کرنے والا قانونا بڑا ہوتا ہے اور اس کو بڑا ہی ہونا چاہئے کہ وہ صحیح معنوں میں باز پرس کرسکے لیکن اللہ تعالیٰ سے کوئی بڑا نہ تھا ‘ نہ ہے اور نہ ہی کبھی کوئی ہوگا اس لئے یہی کلام صحیح و درست ہے لیکن اس کا یہ مطلب سمجھ لینا کہ اس کا کوئی قانون ہی نہیں جس کی وہ پابندی کرے ؟ کیوں نہیں اس کے سارے قوانین واضح اور کھول کر بیان کئے گئے ہیں ان میں ایسے بھی ہیں جن کا اعلان اس نے کردیا ہے اور وہ ان قوانین کا مالک ومقنن بھی ہے جن کو ہم سمجھ ہی نہیں…
Read the full tafseer →The next verse viz: لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ (He is not questioned of what He does, and they are questioned) probably reinforces the argument that anyone who is answerable for his actions to someone else cannot be God.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
22. This concise sentence contains two arguments:
(1) The obviously simple argument is that no institution, no household, not to speak of the vast universe containing multitudes of countless distant stars, can function smoothly and properly, if it has two masters.
(2) The deeper argument is that the system of the whole universe, including that of the earth, is functioning according to a universal law. It could not work so even for a moment, if there had been no proper proportion, balance, harmony and coordination between the different powers and countless things. This is a clear proof that…
Read the full tafseer →