Al-Anbiyaa 21:22

Al-Anbiyaa · from ayah 22

21:22

لَوْ كَانَ فِیْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا ۚ— فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ۟لَوۡ كَانَ فِيۡهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَـفَسَدَتَا‌ۚ فَسُبۡحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الۡعَرۡشِ عَمَّا يَصِفُوۡنَ

اگر آسمان اور زمین میں خدا کے سوا اور معبود ہوتے تو زمین وآسمان درہم برہم ہوجاتے۔ جو باتیں یہ لوگ بتاتے ہیں خدائے مالک عرش ان سے پاک ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Had there been within the heavens and earth gods besides Allah, they both would have been ruined. So exalted is Allah, Lord of the Throne, above what they describe.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anbiyaa

All translations of 21:22

اگر آسمان و زمین میں ایک اللہ کے سوا دُوسرے خدا بھی ہوتے تو (زمین اور آسمان) دونوں کا نظام بگڑ جاتا پس پاک ہے اللہ ربّ العرش اُن باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اگر آسمان اور زمین میں خدا کے سوا اور معبود ہوتے تو زمین وآسمان درہم برہم ہوجاتے۔ جو باتیں یہ لوگ بتاتے ہیں خدائے مالک عرش ان سے پاک ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اگر آسمان وزمین میں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور بھی معبود ہوتے تو یہ دونوں درہم برہم ہوجاتے پس اللہ تعالیٰ عرش کا رب ہر اس وصف سے پاک ہے جو یہ مشرک بیان کرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اگر آسمان اور زمین میں اللہ کے سوا دوسرے خدا ہوتے تو دونوں درہم برہم ہوجاتے۔ لہذا عرش کا مالک اللہ ان باتوں سے بالکل پاک ہے جو یہ لوگ بنایا کرتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اگر آسمان و زمین میں اللہ کے سوا اور خدا ہوتے تو ضرور وہ تباہ ہوجاتے تو پاکی ہے اللہ عرش کے مالک کو ان باتوں سے جو یہ بناتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اگر ان دونوں (زمین و آسمان) میں اﷲ کے سوا اور (بھی) معبود ہوتے تو یہ دونوں تباہ ہو جاتے، پس اﷲ جو عرش کا مالک ہے ان (باتوں) سے پاک ہے جو یہ (مشرک) بیان کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اگر ان دونوں میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہوتے تو وہ دونوں ضرور بگڑ جاتے۔ سو پاک ہے اللہ جو عرش کا رب ہے، ان چیزوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اگر زمین و آسمان میں اللہ کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہوتے تو زمین و آسمان کا نظام درہم برہم ہوجاتا، لہذا جو کچھ یہ لوگ بیان کرتے ہیں ان سے اللہ پاک ہے جو عرش کا مالک ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اگر ان دونوں کے اندر اللہ کے سوا الگ الگ الہ ہوتے تو یہ دونوں درہم برہم ہو کے رہ جاتے تو اللہ، عرش کا مالک، ان چیزوں سے پاک ہے جو یہ بیان کرتے ہیں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو سنو ! کہ اگر آسماں و زمین میں اللہ جل جلالہ کے سوا کچھ اور خدا بھی ہوتے جس طرح کہ ان مشرکوں کا کہنا ہے تو ان دونوں یعنی زمین و آسمان کا نظام کبھی کا درہم برہم ہوگیا ہوتا پس اللہ جو کہ مالک ہے عرش کا وہ پاک ہے ان تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اگر ان دونوں (جگہوں) میں علاوہ اللہ کے کوئی معبود ہوتا تو یہ دونوں درہم برہم ہوگئے ہوتے۔ اللہ مالک عرش پاک ہے ان امور سے جو یہ لوگ بیان کررہے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اگر ان دونوں (زمین و آسمان) کے اندر اللہ کے سوا کوئی اور معبود بھی ہوتے تو لازماً یہ دونوں فساد سے بھر جاتے تو اللہ جو عرش کا مالک ہے وہ ان باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ بناتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اگر آسمان اور زمین میں اللہ کے سوا اور معبود ہوتے تو زمین و آسمان درہم برہم ہوجاتے پس اللہ تعالیٰ عرش کا رب اس سے پاک ہے جو وہ بیان کرتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Had there been any gods in the heavens and the earth apart from Allah, the order of both the heavens and the earth would have gone to ruins. Glory be to Allah, the Lord of the Throne, Who is far above their false descriptions of Him.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Had there been gods beside Allah, in the heavens and the earth, both of them would have fallen in disorder. So pure is Allah, the Lord of the Throne, from what they describe.

— Muhammad Taqi Usmani

Had there been gods beside Allah, in the heavens and the earth, both of them would have fallen in disorder. So pure is Allah, the Lord of the Throne, from what they describe.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Had there been therein (in the heavens and the earth) gods besides Allah, then verily, both would have been ruined. Glorified be Allah, the Lord of the Throne, (High is He) above all that (evil) they associate with Him!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

If there were therein gods beside Allah, then verily both (the heavens and the earth) had been disordered. Glorified be Allah, the Lord of the Throne, from all that they ascribe (unto Him).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Had there been within the heavens and earth gods besides Allah, they both would have been ruined. So exalted is Allah, Lord of the Throne, above what they describe.

— Saheeh International

Had there been other deities in the heavens and the earth besides God, both the heavens and the earth would have been destroyed. God, the Lord of the Throne, is too Glorious to be as they think He is.

— Muhammad Sarwar

If there had been in them any gods except Allah, they would both have certainly been in a state of disorder; therefore glory be to Allah, the Lord of the dominion, above what they attribute (to Him).

— Muhammad Habib Shakir

Had there been in between the twain gods except Allah surely the twain would have gone to ruin. Hallowed be Allah, the Lord of the Throne, from that which they utter!

— Abdul Majid Daryabadi

If there were, in the heavens and the earth, other gods besides Allah, there would have been confusion in both! but glory to Allah, the Lord of the Throne: (High is He) above what they attribute to Him!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 21:22

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 21–23

سب تہمتوں سے بلند اللہ جل شانہ شرک کی تردید ہو رہی ہے کہ جن جن کو تم اللہ کے سوا پوج رہے ہو ان میں ایک بھی ایسا نہیں جو مردوں کو جلا سکے۔ کسی میں یا سب میں مل کر بھی یہ قدرت نہیں پھر انہیں اس قدرت والے کے برابر ماننا یا ان کی بھی عبادت کرنا کس قدر ناانصافی ہے ؟ پھر فرماتا ہے سنو اگر مان لیا جائے کہ فی الواقع بہت سے الہٰ ہیں تولازم آئے گا کہ زمین و آسمان تباہ و برباد ہوجائیں جیسے فرمان ہے آیت (مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ 91؀ۙ) 23۔ المؤمنون :91) اللہ کی اولاد نہیں، نہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود ہے اگر ایسا ہوتا ہے تو ہر معبود اپنی اپنی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 22–23

سورة الْاَنْبِیَآء 22 یہ استدلال سادہ بھی ہے اور بہت گہرا بھی۔ سادہ سی بات، جس کو ایک بدوی، ایک دیہاتی، ایک موٹی سی سمجھ کا آدمی بھی بآسانی سمجھ سکتا ہے، یہ ہے کہ ایک معمولی گھر کا نظام بھی چار دن بخیریت نہیں چل سکتا اگر اس کے دو صاحب خانہ ہوں۔ اور گہری بات یہ ہے کہ کائنات کا پورا نظام، زمین کی تہوں سے لے کر بعید ترین سیاروں تک، ایک ہمہ گیر قانون پر چل رہا ہے۔ یہ ایک لمحہ کے لیے بھی قائم نہیں رہ سکتا اگر اس کی بیشمار مختلف قوتوں اور بےحد و حساب چیزوں کے درمیان تناسب اور توازن اور ہم آہنگی اور تعاون نہ ہو۔ اور یہ سب کچھ اس کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ کوئی اٹل اور غالب و قاہر ضابطہ ان بیشمار اشیاء…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

لَوْ كَانَ فِيْهِمَآ اٰلِهَةٌ یہ توحید کی دلیل عادی ہے جو عام عادات کے اعتبار پر مبنی ہے اور دلیل عقلی کی طرف بھی اشارہ ہے جس کی مختلف تقریریں علم کلام کی کتابوں میں مذکور ہیں اور دلیل عادی اس بنا پر ہے کہ اگر زمین و آسمان کے دو خدا اور دونوں مالک و مختار ہوں تو ظاہر یہ ہے کہ دونوں کے احکام پورے پورے زمین و آسمان میں نافذ ہونے چاہئیں اور عادة یہ ممکن نہیں کہ جو حکم ایک دے وہی دوسرا بھی دے یا جس چیز کو ایک پسند کرے دوسرا بھی اس کو پسند کرے اس لئے کبھی کبھی اختلاف رائے اور اختلاف احکام ہونا ناگزیر ہے اور جب دو خداؤں کے احکام زمین و آسمان میں مختلف ہوئے تو نتیجہ ان دونوں کے فساد کے سوا کیا ہے۔…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 21–22

آیت 22-21 انشر اللہ الارض کے معنی یہ ہوں گے خدا نے زمین کو اس کے خشک و بےآب وگیاہ ہوجانے کے بعد از سر نو زندہ و شاداب کردیا۔ مثلاً فرمایا ہے۔ والذی نزل من السمآء مآء بقدر فانشرنا بہ بلدۃ میتا (زخرف 11) (اور جس نے اتارا آسمان سے پانی ایک خاص اندازہ کے ساتھ پس ہم نے اس سے شاداب کردیا خشک زمین کو) زمین و آسمان کا رب ایک ہے یہ مشرکین کے ایک دوسرے مشرکانہ واہمہ کی تردید ہے۔ بہت سے مشرکین یہ سمجھتے تھے کہ زمین اور آسمان کے الہ الگ الگ ہیں۔ وہ ایک رب العرش کو مانتے تھے لیکن ان کا خیال یہ تھا کہ رب العرش اپنے عرش آسمان پر براجمان ہے، زمین میں دور سے خدائوں کی خدائی چل رہی ہے۔ اسی وہم کے تحت وہ آسمان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 22–23

22۔ 1 یعنی اگر واقع آسمان و زمین میں دو معبود ہوتے تو کائنات میں تصرف کرنے والی دو ہستیاں ہوتیں، دو کا ارادہ و شعور اور مرضی کار فرما ہوتی اور جب دو ہستیوں کا ارادہ اور فیصلہ کائنات میں چلتا تو یہ نظم کائنات اس طرح قائم رہ ہی نہیں سکتا تھا جو ابتدائے آفرینش سے، بغیر کسی ادنیٰ توقف کے قائم چلا آرہا ہے۔ کیونکہ دونوں کا ارادہ ایک دوسرے سے ٹکراتا۔ دونوں کی مرضی کا آپس میں تصادم ہوتا، دونوں کے اختیارات ایک دوسرے کے مخالف سمت میں استعمال ہوتے۔ جس کا نتیجہ ابتری اور فساد کی صورت میں رونما ہوتا اور اب تک ایسا نہیں ہوا تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ کائنات میں صرف ایک ہی ہستی ہے جس کا ارادہ ومشیت کار…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 22–23

10: یہ توحید کی ایک عام فہم دلیل ہے۔ اور وہ یہ کہ اگر اس کائنات میں ایک سے زیادہ خدا ہوتے تو ہر خدا مستقل خدائی کا حامل ہوتا، اور کوئی کسی کا تابع نہ ہوتا۔ اس صورت میں ان کے فیصلوں کے درمیان اختلاف بھی ہوسکتا تھا۔ اب اگر ایک خدا نے ایک فیصلہ کیا، اور دوسرے خدا نے دوسرا فیصلہ تو یا تو ان میں سے ایک دوسرے کے آگے ہار مان لیتا، تو پھر وہ خدا ہی کیا ہوا جو کسی سے ہار مان لے، یا دونوں اپنے اپنے فیصلے کو نافذ کرنے کے لیے زور لگاتے تو متضاد فیصلوں کی تنفیذ سے آسمان اور زمین کا نظام درہم برہم ہوجاتا۔ اسی دلیل کی ایک دوسری تشریح یہ بھی کی جاسکتی ہے کہ جو لوگ آسمان اور زمین کے لیے الگ الگ خدا مانتے ہیں،…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 21–22

ام اتخذوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الآ انا فاعبدون (12 : 52) ” کیا اسے چھوڑ کر انہوں نے دوسرے خدا بنا لیے ہیں ؟ اے نبی ﷺ ‘ ان سے کہو کہ ” لا ئو اپنی دلیل ‘ یہ کتاب بھی موجود ہے جس میں میرے دوسرے لوگوں کے لیے نصیحت ہے اور وہ کتابیں بھی موجود ہیں جن میں مجھ سے پہلے لوگوں کے لیے نصیحت تھی “۔ مگر ان میں سے اکثر لوگ حقیقت سے بیخبر ہیں ‘ اس لیے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ہم نے تم سے پہلے جو رسول بھی بھیاج ہے اس کو یہی وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی خاد نہیں ہے ‘ پس تم لوگ میری ہی بندگی کرو “۔ ان لوگوں کے بارے میں پوچھنا کہ انہوں نے اللہ کے سوا الہٰ پکڑ رکھے ہیں ‘ استفہام انکاری ہے اور پھر ان الہوں کی یہ صفت بیان کرنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 تعدد آلہہ کے ابطال پر یہ نہایت پختہ اور واضح دلیل ہے جو قرآن کریم نے اپنے مخصوص انداز میں پیش کی۔ اس کو یوں سمجھو کہ عبادت نام ہے کامل تذلل کا۔ اور کامل تذلل صرف اسی ذات کے سامنے اختیار کیا جاسکتا ہے جو اپنی ذات وصفات میں ہر طرح کامل ہو، اسی کو ہم " اللہ " یا " خدا " کہتے ہیں۔ ضروری ہے کہ خدا کی ذات ہر قسم کے عیوب و نقائص سے پاک ہو، نہ وہ کسی حیثیت سے ناقص ہو نہ بیکار، نہ عاجز ہو نہ مغلوب، نہ کسی دوسرے سے دبے نہ کوئی اس کے کام میں روک ٹوک کرسکے۔ اب اگر فرض کیجئے آسمان و زمین میں دو خدا ہوں تو دونوں اسی شان کے ہوں گے، اس وقت دیکھنا یہ ہے کہ عالم کی تخلیق اور علویات و سفلیات کی تدبیر دونوں کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 22 لَوْ کَانَ فِیْہِمَآ اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا ج ” اس کائنات کا نظم و ضبط زبان حال سے گواہی دے رہا ہے کہ یہ ایک وحدت Unitary System ہے۔ اس کا مدبر ومنتظم ایک ہی ہے اور اس کے انتظام میں ایک سے زیادہ آراء کی تعمیل و تنفیذ کا کوئی امکان نہیں ہے۔ جیسا کہ سورة بنی اسرائیل میں فرمایا گیا : قُلْ لَّوْ کَانَ مَعَہٗٓ اٰلِہَۃٌ کَمَا یَقُوْلُوْنَ اِذًا لاَّبْتَغَوْا اِلٰی ذِی الْعَرْشِ سَبِیْلاً ”آپ ﷺ ان سے کہیے کہ اگر اللہ کے ساتھ دوسرے معبود ہوتے جیسا کہ یہ کہتے ہیں تب تو وہ ضرورتلاش کرتے صاحب عرش کی طرف کوئی راستہ“۔ اس سے یہ دلیل بھی نکلتی ہے کہ کوئی بھی ادارہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا اس…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

18 بڑی موٹی سی بات ہے کہ ایک میان میں دو تلواریں نہیں سما سکتیں۔ ایک اقلیم کے دو فرمانروا نہیں ہوسکتے۔ حتیٰ کہ کوئی بھی ادارہ اس وقت تک چل ہی نہیں سکتا جب تک کہ اس کا کرتا دھرتا صرف ایک شخص نہ ہو۔ جبکہ ایک گھر تک کا بھی انتظام اس وقت تک چل نہیں سکتا جب تک کہ سربراہ ایک نہ ہو۔ اور اگر میاں بیوی میں بھی اقتدار کی جنگ ہو تو اس کا نظام بھی تباہ و برباد ہوجائے گا۔ پھر اس عظیم کارخانہ کائنات کے لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کے سربراہ ایک سے زیادہ ہوں ؟ چونکہ یہ ایسی عام مثال ہے جس سے ہر شخص کو سابقہ پڑتا ہے۔ لہذا اس کے مختلف پہلوؤں پر ہر شخص خود بھی غور کرسکتا ہے یہاں تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

27۔ یعنی نظام عالم میں ابتری پڑجاتی، خدا کے تصور وتعریف ہی میں یہ امر داخل ہے کہ وہ مطلق لارادہ ومطلق الاختیار اور مالک کل ہو، اگر اس کے اختیارات یا اس کی ملک محدود ومقید ہوئی تو وہ خدا ہی کیوں کہلائے گا، اس تعریف کو پیش نظر رکھنے کے بعد غور کیجئے کہ دو (یا زائد) خداؤں کے وجود کے معنی ہی کیا ہوسکتے ؟ ایک خدا کی ملک سے کوئی بھی جزو موجودات اگر باہر رہا، یا اسے اپنا ارادہ کسی مصلحت سے مغلوب کرنا پڑا، یا اپنے موجودات پر کسی ضرورت سے پابندی عائد کرنی پڑی تو اسکے خدا باقی رہنے کا امکان ہی کیا رہ گیا ؟ تصادم وتراجم کی تکذیب کررہا ہے سو اس نظام کائنات کا وجود جس کے آگے بشری صناعوں کی بڑی بڑی صناعیاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–23

آیت نمبر 11 تا 23 ترجمہ : اور کتنی ہی بستیوں کو یعنی بستی والوں کو جو ظالم یعنی کافر تھے تباہ یعنی ہلاک کردیا اور ان کے بعد دوسری قوم پیدا کردی تو ان ظالموں نے جب ہمارا عذاب آتا دیکھا یعنی بستی والوں نے جب ہلاکت کو محسوس کیا تو اس بستی سے تیزی سے بھاگنا شروع کردیا تو فرشتوں نے ان سے بطور استہزاء کے کہا بھاگو مت اور اپنے سامان کی طرف جس میں تم کو آسودگی دی گئی تھی اور اپنے مکانوں کی طرف واپس چلو تاکہ دنیا کے دستور کے مطابق تم سے کچھ پوچھ تاچھ کی جائے تو وہ لوگ کہنے لگے ہائے ہماری کمبختی (یا تنبیہ کے لئے ہے) یعنی ہماری ہلاکت بیشک ہم کفر کے ذریعہ ظلم کرنے والے تھے پھر تو انہی کلمات کی رٹ لگاتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لو کان فیہما الہۃ الا اللہ لفسدتا اگر ان دونوں (زمین و آسمان) میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہوتے تو دونوں درہم برہم ہوجاتے۔ جس طرح لفظ غیر استثنائیہ بھی آجاتا ہے اسی طرح الا کبھی بصورت صفت ‘ بمعنی غیر کے بھی مستعمل ہے۔ آیت مذکورہ میں استثنائی معنی درست نہیں استثناء کے لئے ضروری ہے کہ الا کا مابعد (مستثنیٰ ) الا کے ماقبل (مستثنیٰ منہ میں) استثناء سے قبل داخل ہو اور پھر کلمۂ استثناء کے ذریعہ سے الگ کرلیا جائے اور یہاں اللہ (مستثنیٰ ) آلہۃ (مستثنیٰ منہ) میں داخل ہی نہ تھا ‘ پھر استثناء متصل و منفصل کس طرح صحیح ہوسکتا ہے۔ لَفَسَدَتا سے مراد یہ ہے کہ شروع ہی سے بگاڑ ہوجاتا اور دونوں پیدا ہی نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(22) اور زمین میں یا آسمان میں اگر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور خالق ہوتا تو دونوں کی مخلوقات بھی کبھی کی درہم برہم ہوجاتیں، سو ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ جو کہ مالک ہے عرش کا وہ ان کی باتوں سے جو اس کے لیے اولاد اور شریک ثابت کر رہے ہیں پاک ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَوْ كَانَ فِيْهِمَآ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ۔۔ : یعنی ان لوگوں نے تو زمین سے لے کر کئی معبود بنا رکھے ہیں، جب کہ زمین اور آسمان دونوں میں ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، فرمایا : (وَهُوَ الَّذِيْ فِي السَّمَاۗءِ اِلٰهٌ وَّفِي الْاَرْضِ اِلٰهٌ ۭ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْعَلِيْمُ) [ الزخرف : 84 ] ”اور وہی ہے جو آسمانوں میں معبود ہے اور زمین میں بھی معبود ہے اور وہی کمال حکمت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔“ کیونکہ معبود برحق تو وہ ہے جو پوری قدرت اور مکمل اختیار رکھنے والا ہو اور کسی معاملے میں عاجز نہ ہو۔ اب اگر زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کے سوا اور بھی قادر و مختار ہوتے تو کائنات کا یہ سلسلہ کبھی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لو کان فیھمآ الھۃ الا اللہ لفسدتا اللہ اللہ تعالیٰ کے سوا آسمانوں اور زمین میں اور معبود ہوتے تو یہ دونوں برباد ہوجاتے۔ کسائی اور سیبویہ نے کہا : الا بمعنی غیر ہوتا ہے تو اس کے بعد والے اسم کو غیر کے اعراب کے ساتھ اعراب دیا جاتا ہے، جیسا کہ شاعر کا قول ہے : وکل اخ مفارقہ أخوہ لعمر أبیک الا الفرقد ان سیبویہ نے حکایت کیا ہے : لو کان معنا رجل الا زید لھلکنا۔ فراء نے کہا : یہاں الا بمعنی سویٰ ہے مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ کے سوا خدا ہوتے تو ان کے رہنے والے تباہ ہوجاتے۔ دوسرے علماء نے کہا : اگر ان میں دو خدا ہوتے تو تدبیر خراب ہوجاتی کیونکہ اگر ایک ایک چیز کا ارادہ کرتا تو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 21–23

1:۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن ابی حاتم اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” ام اتخذوا الھۃ من الارض ھم ینشرون “ کے بارے میں فرمایا (آیت) ” ینشرون “ سے مراد ہے ” یحبون “ (یعنی زندہ کرتے ہیں ) 2:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے (آیت) ” ام اتخذوا الھۃ من الارض ھم ینشرون “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ زمین سے مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ وہ ان کو ان کی قبروں سے زندہ کرتے ہیں۔ 3:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ام اتخذوا الھۃ من الارض “ کیا انہوں نے زمین کی چیزوں پتھر اور لکڑی سے (معبود) بنالئے ہیں (آیت) ” لوکان فیھما الہۃ الا اللہ “ یعنی ان دونوں (زمین و…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ لَوْ كَان : اگر ہوتے ] [ فِيْهِمَآ : ان دونوں (زمین و آسمان) میں ] [ اٰلِهَةٌ: کچھ اِلٰہ ] [ اِلَّا : سوائے ] [ اللّٰهُ : اللہ کے ] [ لَفَسَدَتَا : تو ضرور دونوں کا توازن بگڑ جاتا ] [ فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ : پس پاکیزگی اللہ کی ہے ] [ رَبِ الْعَرْشِ : جو عرش کا مالک ہے ] [ عَمَا : اس سے جو ] [ يَصِفُوْنَ : یہ لوگ بتاتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 21–22

توحید کے دلائل اور فرشتوں کی شان عبدیت کا تذکرہ ان آیات میں توحید کا اثبات اور شرک کی تردید فرمائی ہے اور اللہ تعالیٰ شانہ کی صفات جلیلہ بیان کی ہیں۔ (مشرکین کی تردید کرتے ہوئے فرمایا (اَمِ اتَّخَذُوْٓا اٰلِھَۃً مِّنَ الْاَرْضِ ھُمْ یُنْشِرُوْنَ ) (کیا ان لوگوں نے زمین میں سے کاٹ چھانٹ کر ایسے معبود بنا لیے ہیں جو مردوں کو زندہ کرتے ہیں) یعنی انہوں نے اجزائے زمین سے معبود تو بنا لیے جنہیں پتھروں سے تراشا اور لکڑی وغیرہ سے بنایا ہے لیکن یہ باطل معبود ہیں۔ اگر حقیقی معبود ہوتے تو مردوں کو زندہ کردیتے۔ جب یہ بات نہیں ہے تو ان کو معبود بنانا سراسر حماقت ہے۔ وہ کیا زندہ کرتے وہ تو خود ہی بےجان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–29

بیان توحید و ابطال شرک قال اللہ تعالیٰ وما خلقنا السماء والارض وما بینھما لعبین .... الیٰ .... کذلک نجزی الظلمین۔ (ربط) ابتداء سورت سے لیکر یہاں تک کا مضمون تحقیق نبوت و رسالت سے متعلق تھا، اب آئندہ آیات میں توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال فرماتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ آسمان و زمین کی پیدائش میں غوروفکر کرو تاکہ تم کو اللہ کی معرفت حاصل ہو عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام چیزیں اللہ کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں۔ (یا یوں کہو) کہ گزشتہ آیات میں کفار کی غفلت اور اعراض اور ان کے لہو ولعب کو بیان کیا اب آگے یہ بیان کرتے ہیں کہ عالم کی پیدائش کھیل تماشہ نہیں بلکہ حق اور باطل میں فرق کرنے کے لیے یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 22–23

17:۔ مذکورہ بالا عقلی دلیلوں سے ثابت ہوگیا کہ اللہ کے سوا نہ آسمان میں کوئی الہ (معبود) ہے نہ زمین میں۔ اگر بالفرض زمین و آسمان میں اللہ کے سوا کچھ اور بھی معبود ہوتے۔ جیسے مشرکین مانتے ہیں یعنی وہ بھی فی الواقع مالک و مختار اور متصرف و کارساز ہوتے تو یہ سارا نظام عالم ایک آن کے لیے بھی سلامت نہ رہ سکتا۔ اور فورًا درہم برہم ہوجاتا۔ ” لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ ھُمْ یُسْئَلُوْنَ “ وہ بلا شرکت غیرے ساری کائنات کا واحد مالک، قادر مطلق اور متصرف و مختار ہے۔ اس پر کسی کو سوال اور اعتراض کا حق نہیں۔ لیکن وہ اپنی مخلوق سے جواب طلبی کا حق رکھتا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 19–24

ربط آیات : گزشتہ درس تک کا زیادہ ترحصہ رسالت کے تذکرے پر مشتمل تھا۔ کافر اور مشرک اللہ کے نبیوں پر اعتراض کرتے تھے کہ یہ تو انسان ہیں ، بھلا ہم ان کا اتباع کیسے کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کا تردیدی جواب دیا۔ پھر پہلے لوگوں کا حال بیان کیا اور عذاب کی وعید سنائی۔ نافرمانوں کا انجام بھی بیان فرمایا۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کا رد کیا ہے۔ گزشتہ درس میں بیان ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ارض وسماکے کارخانے کو محض لہو ولعب کے لئے نہیں بنایا بلکہ یہ اس کی حکمت پر مبنی ہے۔ اس کائنات کا آغاز بھی ہے اور اس کا انجام بھی۔ اللہ تعالیٰ کی تسبیح : ارشاد ہوتا ہے ولہ من فی السموت ولارض اسی کی ملکیت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَوْ كَانَ فِيْہِمَآ اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللہُ لَفَسَدَتَا۝ 0ۚ فَسُبْحٰنَ اللہِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُوْنَ۝ 22 كان كَانَ «3» : عبارة عمّا مضی من الزمان، وفي كثير من وصف اللہ تعالیٰ تنبئ عن معنی الأزليّة، قال : وَكانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيماً [ الأحزاب/ 40] ، وَكانَ اللَّهُ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيراً [ الأحزاب/ 27] وما استعمل منه في جنس الشیء متعلّقا بوصف له هو موجود فيه فتنبيه علی أن ذلک الوصف لازم له، قلیل الانفکاک منه . نحو قوله في الإنسان : وَكانَ الْإِنْسانُ كَفُوراً [ الإسراء/ 67] وَكانَ الْإِنْسانُ قَتُوراً [ الإسراء/ 100] ، وَكانَ الْإِنْسانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا [ الكهف/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 21–25

تفسیر : پھر تہدید و توبیخ کے لیے اسی جملہ کو نقل فرماتا ہے ام اتخذوا الخ کہ کیا انہوں نے خدا کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں ؟ پھر اس بات کو دو طرح سے باطل کرتا ہے : (1) ھذا قل ھاتوا برھانکم کہ اس پر کوئی سند یا دلیل پیش کرو اور جب سند نہیں تو محض وہم اور فاسد خیال ہے۔ (2) ھذا ذکر من معی وذکر من قبلی کہ اچھا اگر تمہارے پاس کوئی عقلی دلیل اس بات پر نہیں تو نقلی پیش کرو۔ نقلی دلیل کتاب الٰہی سے ہو تو مسلم ہے ورنہ نہیں اور کتاب الٰہی جو میرے ساتھ والوں کا یعنی میری امت کا ذکر یعنی فہمائش کرنے والی ہے وہ قرآن مجید ہے اور مجھ سے پہلے لوگوں کا ذکر تورات و انجیل و زبور و صحف انبیا بھی دنیا میں آچکے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لَوْکَانَ فِیْھِمَـآ اٰلِھَۃٌ اِلاَّ اللّٰہُ لَفَسَدَتَا ج فَسُبْحٰنَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ۔ (الانبیاء : 22) (اگر ان دونوں کے اندر اللہ کے سوا اور خدا ہوتے تو یہ دونوں درہم برہم ہو کے رہ جاتے، تو اللہ، عرش کا مالک، ان چیزوں سے پاک ہے جو یہ بیان کرتے ہیں۔ ) مشرکین کی ایک دلیل کا جواب اور توحید کا اثبات سابقہ آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ مشرکینِ عرب کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ آسمان کا اِلٰہ اور ہے اور زمین کا اِلٰہ اور۔ زمین چونکہ کائنات کا ایک دوردراز گوشہ ہے۔ آسمانوں کا اِلٰہ اتنے دوردراز گوشے پر نظر نہیں رکھ سکتا تو اس کا انتظام کیونکہ کرے گا۔ اس لیے اس نے زمین دوسروں کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 21–23

فہم القرآن ربط کلام : رب کے نافرمان نہ صرف اس کی عبادت نہیں کرتے بلکہ وہ اس کے ساتھ دوسروں کو بھی شریک بناتے ہیں۔ ہر دور میں ایسے لوگ ہوئے ہیں اور رہیں گے کہ جن کا عقیدہ ہے کہ ملائکہ اللہ تعالیٰ کے معاون اور اس کی خدائی میں حصہ دار ہیں۔ ان میں بعض لوگوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ ملائکہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اور وہ اس کی خدائی میں شریک ہیں جس بناء پر وہ ان کی عبادت کرتے ہیں۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا ملائکہ اور دوسروں کو معبود بناتے ہیں ان کے عقیدہ کی یہاں تین دلائل کے ساتھ نفی کی گئی ہے۔ 1۔ جنھوں نے ملائکہ اور زمین میں سے کسی کو معبود بنا لیا ہے۔ کیا وہ مشرکوں کے مرنے کے بعد انہیں اٹھانے کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

دلیل تمالغ : 22: لَوْکَانَ فِیْھِمَآ اٰلِھَۃٌ اِلَّا اللّٰہُ (اگر ان دونوں میں اللہ تعالیٰ کے سوا اور معبود ہوتے) اِلَّا یہاں غیر کے معنی میں ہے۔ نحو : الہۃ کی صفت اِلَّا کے ساتھ لائی گئی جیسا کہ بغیر لوؔ کہا جاتا ہے الہۃ غیر اللّٰہ۔ بدل کی وجہ سے اس کا رفع جائز نہیں کیونکہ لوؔ بمنزلہ اِنَّ کے ہے۔ اس کے ساتھ کلام موجب ہوتی ہے۔ اور بدل تو کلام غیر موجب میں آتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ولا یلتفت منکم احد الا امراتک ] ھود : 81[ نمبر 2۔ استثناء کی وجہ سے نصب بھی درست نہیں کیونکہ جمع جب نکرہ آئے تو اس سے استثناء جائز نہیں۔ محققین کا یہ قول ہے کیونکہ اس میں عموم نہیں۔ اس طرح کہ اگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

22۔ لوکان فیھما، زمین و آسمان میں، الھۃ الا اللہ، اللہ کے سوا کوئی معبود ہوتا۔ لفسدتا، ، تو زمین میں بگاڑ پیدا ہوتا اور دونوں پیدا ہی نہ ہوتے اور دونوں کی طرف سے حکم صادر ہوتا اور ٹکڑاؤ پیدا ہوتا۔ اس طرح نظام میں اکثر بگاڑ پیدا ہوتا اللہ رب العزت نے اس کی تردید فرمائی۔ ” فسبحان اللہ رب العرش عمایصفون۔ یعنی مشرکین جوان کے لیے اللہ کی بیوی، بچے اور شرکاء ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 22–24

22۔ 24:۔ جن لوگوں نے عقلی بحث کے علم مثلا علم منطق اور علم مناظرہ بنائے ہیں انہوں نے یہ بات طیر دی ہے کہ کسی چیز میں بحث اس وقت تک ہوتی ہے جب تک وہ چیز معلوم نہ ہوجائے جب کوئی چیز معلوم ہوئی اور آنکھوں کے سامنے آگئی تو پھر اس میں بحث کی گنجائش کچھ باقی نہیں رہتی ‘ مثلا دو آدمیوں نے دور سے کہیں گرد اڑتی ہوئی دیکھی اور ایک نے کہا اس گرد میں ایک گھوڑے سوار آرہا ہے دوسرے نے کہا گھوڑے کا سوار نہیں بلکہ سانڈنی سوار ہے۔ جب تھوڑی دیر میں گھوڑے کا سوار آنکھوں کے سامنے آگیا تو بحث ختم ہوگئی ‘ اب آنکھوں کے سامنے کی چیز کو جھٹلا کر اگر کوئی شخص گھوڑے کے سوار کو سانڈنی سوار کہہ دے تو لوگ اس کو بیوقوف بتلا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 21–25

آیت 21-25 اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل اقتدار اور اپنی عظمت کا ذکر کرنے اور اس حقیقت کو بیان کرنے کے بعد کہ ہر چیز اس کے سامنے سرنگوں ہے، مشرکین پر نکیر کی جنہوں نے اللہ کے سوا زمین سے معبود بنا لئے ہیں جو انتہائی عاجز اور قدرت سے محروم ہیں ( ھم ینشرون) ” وہ ان کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرسکیں گے ؟ “ یہ استفہام نفی کے معنی میں ہے، یعنی وہ ان کے حشر و نشر پر قادر نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس آیت کریمہ کی تفسیر کرتا ہے۔ (الفرقان 52، 3) (یٰسین : 63، 47، 57) پس مشرک مخلوق کی عبادت کرتا ہے جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں اور اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص کو ترک کردیتا ہے جو تمام کمالات کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

26 زندہ کرنا خداوند قدوس ہی کی صفت وشان ہے : اس کے سوا کسی کے بس میں نہیں کہ وہ مردوں کو زندہ کرے۔ سو اسی لیے ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے زمین سے کچھ ایسے خدا بنا رکھے ہیں جو مردوں کو زندہ کرتے ہوں۔ جس طرح کہ معبود حقیقی حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ زندگی بخشتا اور زندہ کرکے اٹھاتا ہے اور پھر جب کوئی ایسا نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر ان کو معبود قرار دینا اور حاجت روائی و مشکل کشائی کے لئے ان کو غائبانہ پکارنا کس طرح درست ہوسکتا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کے سوا اور معبود تجویز کرنا سراسر ظلم اور حماقت ہے۔ اور مشرکوں نے جو از خود طرح طرح کے معبود زمین سے گھڑ رکھے ہیں اور طرح…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–29

غافل لوگ، عقیدہ آخرت اور انبیاء کا رد کرنیوالوں کا انجام تشریح : ان آیات میں ان عربی بدوئوں کے اعتقادات ‘ اعتراضات ‘ ہٹ دھرمی اور دین سے نفرت کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) کو نبوت دی گئی اور اس کے بعد تمام انبیاء نے لوگوں کو توحید کا سبق دیا اور سب سے آخر میں سیدنا محمد ﷺ تشریف لائے۔ انہوں نے بھی توحید کا ہی سبق دیا۔ جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا تھا کہ جب بھی کوئی نبی اور رسول کسی قوم کی طرف بھیجا جاتا تو لوگوں میں تین گروہ پیدا ہوجاتے یعنی مومن کافر اور منافق۔ منافقین دونوں طرف گھومتے رہتے کفار اعتراضات اور مخالفت رسول میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے جیسا کہ کفار مکہ نے آپ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–29

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف اور کتنی بستیاں تھیں جو ان سے پہلے ایسے ہی افعال پر اور ان جیسے کردار کے باعث تباہ کردی گئیں اور معمورہ عالم آباد بھی رہا ان کی جگہ اور پیدا کردیے ان ظالموں نے بھی عذاب کو واقع ہوتے دیکھا تب یقین آیا اور لگے بھاگ بھاگ کر جان بچانے مگر اللہ جل جلالہ کی گرفت سے کون بھاگ سکتا ہے بلکہ ارشاد ہوتا ہے مت بھاگو اپنے مکان اور عیش و عشرت کو کیوں چھوڑتے ہو آج اپنے ہمدرد تلاش کرو مگر وہ کہتے تھے کہ ہماری بدبختی کہ ہم نے ظلم کا راستہ اختیار کیا اور یونہی شور مچاتے رہے کہ عذاب الہی نے پیس کر رکھ دیا جیسے کٹے ہوئے کھیت ہوں یا بجھی ہوئی آگ ، بعض مفسرین کرام نے یمن کی بستیاں مراد لی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 22–23

ف 13 کیونکہ ہر خدا اپنی جگہ قادر خودم ختار ہوتا تو ان میں ہمیشہ کشمکش کا بازار گرم رہتا ہے جیسے فرمایا : ولعلابعضم علی بعض (مومنون :91) اور کوئی چیز اپنی مترب شکل میں بن سکتی نہ چل سکتی۔ توحید پر یہ دلیل سادہ بھی ہے اور ناقابل تردید بھی متکلمین نے اس کا نام برہان تمانع رکھا ہے مگر اس کی سادہ تشریح بھی ہوسکتی ہے۔ (کبیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 21–22

(21:21) الھۃ من الارض۔ ای الھۃ من اجزاء الارض کالحجارۃ وغیرہ ایسے معبود جس میں ارضی عنصر موجود ہو مثلاً پتھر۔ جانور (ہندوئوں کی گئو ماتا۔ ہنومان (مندر) درخت، تلسی پیپل وغیرہ جن کو ہندو پوجتے ہیں) دریا (جیسے ہندئووں کے نزدیک گنگا۔ جمنا ) وغیرہ۔ ہم ینشرون۔ (ایسے ہیں) جو مردوں کو زندہ کرسکتے ہوں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 21–29

لغات القرآن آیت نمبر 12 تا 29 ینشرون وہ زندہ کردیتے ہیں۔ یصفون وہ بناتے ہیں گھڑتے ہیں۔ یسئلون وہ پوچھے جائیں گے۔ عباد (عبد) بندے۔ مکرمون عزت والے۔ لایسبقون وہ آگے نہیں بڑھتے۔ لایشفعون وہ سفارش نہیں کرتے۔ خشیۃ خوف۔ مشفقون ڈرنے والے۔ الظالمین بےانصافی کرنے والے۔ تشریح : آیت نمبر 12 تا 29 اس نظام کائنات کو اللہ نے اپنے قدرت کاملہ سے پیدا کیا اور وہ ایک ایسے ہمہ گیر قانون کے تحت اس کو چلا رہا ہے جس میں مکمل تو ازن اور ہم آہنگی ہے۔ اگر اس نظام میں ذرا بھی تو ازن نہ رے تو اس کا ئنات کا شیرازہ بکھر کر رہ جائے گا۔ اس کائنات میں ساری قوتیں اور طاقتیں صرف ایک اللہ کو حاصل ہیں۔ وہ جو عرش عظیم کا مالک ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 22–24

(ف 2) توحید کی بہترین دلیل۔ ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اگر آسمان اور زمین میں دو خدا ہوتے تو آپس میں جھگڑے سے نہ آسمان رہتا اور نہ زمین رہتی، بس پروردگار عالم جو کہ عرش کا مالک ہے ان کی بےہودہ بکواس سے پاک ہے وہ ایسا مالک اور مختار ہے کہ اس کے فعل کا کوئی مزاحم نہیں ہوسکتا اور نہ کوئی اس سے پرسش کرسکتا ہے ، اور کافروں سے پرسش ضرور ہوگی، یعنی یہ بات نہیں ہے کہ یہ لوگ جو چاہیں سوکریں، ان کو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا، بلکہ خدا وند کریم نے جو کہ زمین اور آسمان کا بادشاہ ہے ، اور اپنی سلطنت کا مختار کل ہے اس نے اپنی پیشی کا ایک دن مقرر کررکھا ہے اس روز وہ دربار عام کرے گا، اور ہر مجرم کو اپنے سامنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 22–23

[13] یعنی نظام عالم میں ابتری پڑجاتی۔ اللہ کے تصور و تعریف میں یہ امر داخل ہے کہ وہ مطلق الارادہ و مطلق الاختیار اور مالک کُل ہو۔ اب اگر فرض کرو کہ آسمان و زمین میں دو اللہ ہوں تو دونوں اسی شان کے ہوں گے۔ اس وقت دیکھنا یہ ہے کہ عالم کی تخلیق اور اس کا انتظام دونوں کے کلی اتفاق سے ہوتا ہے یا نہیں یا گاہ بگاہ دونوں میں اختلاف بھی ہوجاتا ہے۔ اتفاق کی صورت میں دو احتمال ہیں، یا تو اکیلے سے کام نہیں چل سکتا تھا اس لئے دونوں نے مل کر انتظام کیا۔ تو معلوم ہوا کہ دونوں میں سے ایک بھی کامل قدرت والا نہیں۔ اور اگر تنہا ایک اللہ سارے عالم کا کام انجام دے سکتا تھا تو دوسرا بیکار ٹھہرا۔ اور اگر اختلاف کی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 22–24

توحید پر ایک فلسفیانہ دلیل : (ف 3) متعدد خداؤں کا وجود عقل ووجدان اور ذوق سلیم کے قطعا منافی ہے قرآن حکیم نے اس عقیدے کی بار بار تردید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ بالکل غیر عقلی عقیدہ ہے ، یہاں ایک نہایت باریک دلیل بیان فرمائی ہے جو توحید کے مسئلہ کو پوری طرح واضح کردیتی ہے ارشاد ہے کہ اگر کائنات میں متعدد ارادے اور مختلف شعور کار فرما ہوتے تو کیا زمین وآسمان اسی طرح قائم رہتے ؟ ناممکن ہے کہ متعدد خداؤں کو مان کر عقل کی تسکین ہو سکے ، اگر خدا دو ہوں بغرض محال تو اوس کے کھلے ہوئے معنے یہ ہوں گے کہ دونوں قادر مطلق ہوں گے ، دونوں ارادے کے لحاظ سے آزاد ہوں گے ، اور دونوں جو چاہیں گے ، کرسکیں گے اور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-22 اگر زمین و آسمان میں سوائے اللہ تعالیٰ کے دوسرے معبود تھے اور دوسرے معبودوں کی فرماں روائی ہوتی تو یقینا دونوں زمین و آسمان کبھی کے درہم برہم ہوچکے ہوتے پس اللہ تعالیٰ جو عرش بریں کا مالک ہے وہ ان تمام باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں۔ یعنی اگر فرض کرو کہ زمین و آسمان کی تخلیق اور تدبیر و امور میں چند معبود شریک ہوتے تو ان میں باہمی مخالفت کی حالت میں زمین و آسمان کا قائم رہنا ناممکن تھا اور اگر اتفاق بھی رہتا تب بھی ایک دوسرے کا محتاج ہوتا اور اگر ایک ہی تدابیر امور کا مالک ہوتا تو دوسرا بیکار رہتا اور یہ سب باتیں حضرت حق تعالیٰ کی شان کے منافی ہیں اور جب زمین و آسمان میں کوئی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 22–28

ف 5۔ کیونکہ علوة دونوں کے ارادوں اور افعال میں تزاحم ہوتا اور اس کے لئے فساد لازم۔ لیکن فساد واقع نہیں ہے، اس لئے تعدد الہ بھی منفی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اگر آسمان و زمین میں کوئی اور معبود بھی ہوتا تو یہ نظام کبھی کا تباہ وبرباد ہوگیا ہوتا : 22۔ سلسلہ بیان توحید باری کا جاری ہے اور انسانوں جو درس دیا جا رہا ہے کہ تم نے جن جن کو بھی معبود بنا رکھا ہے نہ وہ معبود ہیں اور نہ ہی تم ان کو معبود بنا سکتے ہو ؟ تم جو کچھ بیان کرتے ہو سب کا سب بےسند اور بےدلیل ہے جس کی کوئی سند اور دلیل ہو بھی نہیں سکتی کیوں ؟ اس لئے کہ اگر اس کائنات میں اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سوا کوئی اور معبود بھی ہوتا اس کے ذمہ کسی کا زندہ کرنا یا کسی کا مارنا لگایا جاتا تو آج سے پہلے کب کا یہ نظام درہم برہم ہوگیا ہوتا کیونکہ دو خدا ہوتے تو دونوں کی رائے کا اختلاف بھی لازم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Only a Being which has these powers is worthy of being worship لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّـهُ لَفَسَدَتَا (Had there been gods in them [ the heavens and the earth ] other than Allah, both would have fallen in disorder. - 21:22). This is an argument of common nature in favour of the Oneness of Allah which is based on common practice. It is also a logical proof of the oneness of God and a great deal of literature is available to explain it in the books on theology (عِلمُ الکلَام). The argument of common nature is that if there were two Gods, each independent and sovereign, then the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 22–23

22. This concise sentence contains two arguments: (1) The obviously simple argument is that no institution, no household, not to speak of the vast universe containing multitudes of countless distant stars, can function smoothly and properly, if it has two masters. (2) The deeper argument is that the system of the whole universe, including that of the earth, is functioning according to a universal law. It could not work so even for a moment, if there had been no proper proportion, balance, harmony and coordination between the different powers and countless things. This is a clear proof that…

Read the full tafseer →