Explained with ayahs 16–20
آسمان و زمین کوئی کھیل تماشہ نہیں
آسمان و زمین کو اللہ تعالیٰ نے عدل سے پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا دے۔ اس نے انہیں بیکار اور کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ اور آیت میں اس مضمون کے ساتھ ہی بیان ہے کہ یہ گمان تو کفار کا ہے جن کے لئے جہنم کی آگ تیار ہے۔ دوسری آیت کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ اگر ہم کھیل تماشہ ہی چاہتے تو اسے بنالیتے۔ ایک معنی یہ ہیں کہ اگر ہم عورت کرنا چاہتے۔ لہو کے معنی اہل یمن کے نزدیک بیوی کے بھی آتے ہیں۔ یعنی یہ دونوں معنے ہے اگر بیوی بنانا چاہتے تو حورعین میں سے جو ہمارے پاس ہے کسی کو بنا لیتے۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ اگر ہم اولاد چاہتے۔ لیکن یہ دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
سورة الْاَنْبِیَآء 18
یہاں سے توحید کے اثبات اور شرک کے ابطال پر گفتگو شروع ہوتی ہے جو نبی ﷺ اور مشرکین مکہ کے درمیان اصل بنائے نزاع تھی۔ اب مشرکین کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ کائنات کا یہ نظام جس میں تم جی رہے ہو (جس کے متعلق ابھی یہ بتایا جا چکا ہے کہ یہ کسی کھلندڑے کا کھلونا نہیں ہے، جس کے متعلق یہ بھی بتایا جا چکا ہے کہ یہ ایک سنجیدہ اور با مقصد اور مبنی بر حقیقت نظام ہے، اور جس کے متعلق یہ بھی بتایا جا چکا ہے کہ اس میں باطل ہمیشہ حقیقت سے ٹکرا کر پاش پاش ہوجاتا ہے) اس کی حقیقت یہ ہے کہ اس پورے نظام کا خالق، مالک، حاکم اور رب صرف ایک خدا ہے، اور اس حقیقت کے مقابلے میں باطل یہ ہے کہ اسے بہت…
Read the full tafseer →وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا يَسْـتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ لَا يَسْتَحْسِرُوْنَ ، یعنی ہمارے جو بندے ہمارے پاس ہیں مراد اس سے فرشتے ہیں وہ ہر وقت ہماری عبادت میں بغیر کسی وقفہ کے ہمیشہ مشغول رہتے ہیں اگر تم ہماری عبادت نہ کرو تو ہماری خدائی میں کوئی فرق نہیں آتا۔ انسان چونکہ دوسروں کو بھی اپنے حال پر قیاس کرنے کا عادی اور خوگر ہوتا ہے اس کو دائمی عبادت سے دو چیزیں مانع ہو سکتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ کسی کی عبادت کرنے کو اپنے درجہ اور مقام کے خلاف سمجھے اس لئے عبادت کے پاس ہی نہ جائے دوسرے یہ کہ عبادت تو کرنا چاہتا ہے مگر دائمی مسلسل اس لئے نہیں کرسکتا کہ بمقتضائے بشریت وہ تھوڑا کام کر کے تھک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
آیت 20-19
شرک کی واہمہ کی تردید
اوپر کی آیات میں جزا و سزا کے واجب ہونے پر صفات الٰہی سے استدلال تھا۔ اب یہ توحید کا بیان آ رہا ہے تاکہ یہ حقیقت واضح کردی جائے کہ اگر کسی نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ وہ اپنے شرکاء و شفعاء کی سفارش سے خدا کی پکڑ اور جزا و سزا سے بچ جائے گا تو یہ محض اس کا وہم ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ فرمایا کہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں سب خدا ہی کی مخلوق اور اسی کے مملوک ہیں کسی کو خدا کے ہاں کوئی اختیار و اقتدار حاصل نہیں ہے۔
فرشوں کا حال
ومن عندہ لایستکبرون عن عبادتہ ولا یستحسرون، من عندہ سے مراد خدا کے مقرب ملائکہ ہیں۔ فرمایا کہ وہ بھی اسی زمرے میں داخل ہیں۔ باہمہ قرب و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
19۔ 1 سب اسی کی ملک اور اسی کے غلام ہیں، پھر جب تم کسی غلام کو اپنا بیٹا اور کسی لونڈی کو بیوی بنانے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ تو اللہ تعالیٰ اپنے مملوکین اور غلاموں میں سے بعض کو بیٹا اور بعض کو بیوی کس طرح بنا سکتا ہے ؟
19۔ 2 اس سے مراد فرشتے ہیں، وہ بھی اس کے غلام اور بندے ہیں، ان الفاظ سے ان کا شرف و اکرام بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ اس کی بارگاہ کے مقربین ہیں۔ اس کی بیٹیاں نہیں ہیں جیسا کہ مشرکین کا عقیدہ تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
8: یعنی کھیل دل لگی ہمارا کام نہیں ہے۔ ہم تو جو کام کرتے ہیں، وہ حق ہی حق ہوتا ہے۔ اور اس کے مقابلے میں باطل آتا ہے تو حق ہی کے ذریعے اس کا توڑ کیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
ولہ من فی السموت والارض۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یفترون ”
آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ کے سوا اس کا پورا علم کسی کو نہیں ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جو ہر چیز کا احاطہ کرسکتا ہے ۔ علم و بشیر ہی صرف انسان کے بارے میں یقین سے جانتا ہے۔ اہل ایمان جن اور ملائکہ کے وجود پر بھی ایمان لاتے ہیں کیونکہ ان کا ذکر قرآن مجید میں ہے لیکن ان دو مخلوقوں کے بارے میں بھی ہم صرف اسی قدر جانتے ہیں جس قدر ہمیں خالق نے علم دیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اندونوں کے علاوہ کو اکب میں اور ذی عقل مخلوق بھی ہو اور اس کی شکل و صورت اس سیارے کے ماحول اور طبیعی حالات کے مطابق ہو ‘ لیکن یہ علم بھی اللہ ہی کے پاس ہے۔
ولہ من فی السموات والارض…
Read the full tafseer →2 پھر وہ تباہ کرنا چاہے تو کون بچا سکتا ہے اور کہاں پناہ مل سکتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
آیت 21 اَمِ اتَّخَذُوْٓا اٰلِہَۃً مِّنَ الْاَرْضِ ہُمْ یُنْشِرُوْنَ ”
کیا ان کا خیال ہے کہ وہ ان باطل معبودوں کی نظر کرم سے دنیا میں خوب پھلیں پھولیں گے اور ترقی کی اعلیٰ منازل طے کرلیں گے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
16 یعنی فرشتے اللہ کی ایسی مخلوق ہے۔ جو ہر آں اللہ کی تسبیح و تمحید میں مشغول رہتے ہیں اور وہ اللہ کی بندگی کو ناگوار سمجھ کر نہیں کرتے بلکہ نہایت خوشدلی سے بجا لاتے ہیں۔ قرآن نے یہاں یستحسرون کا لفظ استعمال فرمایا ہے اور استحسار ایسی تھکاوٹ یا اکتاہٹ کو کہتے ہیں جو کسی ناگوار کام کے کرنے سے لاحق ہوتی ہے۔ اور ان کی یہ تسبیح بالکل ایسے ہی بلاوقفہ ہوتی ہے جیسے انسان مسلسل سانس لیتا ہے اور اس میں کبھی وقفہ نہیں ہوتا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا انسان کی تخلیق سے مقصود محض اپنی عبادت ہی ہوتی تو فرشتے یہ کام بطریق احسن بجا لارہے تھے۔ لیکن اصل مقصد یہ تھا کہ یہاں حق و باطل کا معرکہ بپا ہو اور…
Read the full tafseer →24۔ مراد فرشتہ ہیں۔ ہم الملائکۃ باجماع الامۃ (کبیر) یعنی الملائکۃ المنزلین (بیضاوی) یہ خصوصیات انہیں کے بیان ہورہے ہیں کہ وہ عبادت الہی سے کسی قسم کا عار محسوس کرنا الگ رہا، اس میں ہر وقت لگے رہنے کے باوجود اس سے تھکتے تک نہیں، (آیت) ” من عندہ “۔ یہ نزدیکی شرف ومنزلت کے لحاظ سے ہے نہ بہ اعتبار مقام ومکان۔ لایراد بھا ظرف المکان لانہ تعالیٰ منزہ عن المکان بل المعنی شرف المکانۃ وعلوہ المنزلۃ (بحر) والمراد بالعندیۃ الشرف لاعندیۃ المکان (روح) ھذہ العندیۃ عندیۃ الشرف والرتبۃ لاعندیۃ المکان والجھۃ (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–23
آیت نمبر 11 تا 23
ترجمہ : اور کتنی ہی بستیوں کو یعنی بستی والوں کو جو ظالم یعنی کافر تھے تباہ یعنی ہلاک کردیا اور ان کے بعد دوسری قوم پیدا کردی تو ان ظالموں نے جب ہمارا عذاب آتا دیکھا یعنی بستی والوں نے جب ہلاکت کو محسوس کیا تو اس بستی سے تیزی سے بھاگنا شروع کردیا تو فرشتوں نے ان سے بطور استہزاء کے کہا بھاگو مت اور اپنے سامان کی طرف جس میں تم کو آسودگی دی گئی تھی اور اپنے مکانوں کی طرف واپس چلو تاکہ دنیا کے دستور کے مطابق تم سے کچھ پوچھ تاچھ کی جائے تو وہ لوگ کہنے لگے ہائے ہماری کمبختی (یا تنبیہ کے لئے ہے) یعنی ہماری ہلاکت بیشک ہم کفر کے ذریعہ ظلم کرنے والے تھے پھر تو انہی کلمات کی رٹ لگاتے…
Read the full tafseer →ولہ من فی السموت والارض ومن عندہ اور جتنے کچھ آسمانوں اور زمین میں ہیں سب اسی کے
ہیں (وہ بھی اور جو اس کے (یعنی اس کے مقرب) ہیں یعنی جو کوئی آسمان میں اور زمین میں ہے وہ اللہ ہی کی مخلوق اور مملوک ہے نہ کوئی اس کی مثل بننے کے لائق ہے نہ بیوی اور اولاد بننے کا سزاوار۔
وَمَنْ عِنْدَہُاور جو اس کے مقرب ہیں وہ بھی اسی کے پیدا کردہ ہیں اور اسی کی ملک ہیں ‘ یعنی ملائکہ انبیاء اور دوسرے اہل قربت بھی اسی کے ہیں۔ اللہ کا قرب (جسمانی نہیں) بےکیف ہے (اس کی کوئی کیفیت نہیں بیان کی جاسکتی۔ مَنْ عِنْدَہٗکو مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِسے الگ مستقل طور پر بصورت عطف اس لئے بیان کیا کہ بعض ملائکہ مثلاً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
(19۔ 20) تمام مخلوقات اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں جو اللہ کے نزدیک مقرب فرشتے ہیں ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت سے عار نہیں کرتے، دن رات اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس میں مصروف رہتے ہیں کسی وقت بھی عبادت خداوندی اور اس کی اطاعت وفرمانبرداری سے اکتاتے نہیں۔
Read the full tafseer →وَ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : ”مَنْ“ کا لفظ عموماً عقل والی مخلوقات کے لیے استعمال ہوتا ہے، اگرچہ یہاں زمین و آسمان کے عقلاء کو اللہ تعالیٰ کی ملکیت قرار دیا گیا ہے مگر اس میں آسمان و زمین، ان کے اندر پائے جانے والے تمام اجرام فلکی اور دوسری تمام مخلوقات بھی شامل ہیں اور وہ سب اللہ کی ملکیت ہیں۔ کیونکہ یہ زمین آسمانوں کے اندر ہے اور ہر آسمان اپنے سے اوپر والے آسمان کے اندر ہے اور سب سے اوپر والا آسمان عرش کے اندر ہے اور اللہ سبحانہ عرش عظیم کا مالک ہے، جیسا کہ آگے آیت (22) میں آ رہا ہے : (فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُوْنَ) تو اس سے عقلاً یہ بات ثابت ہوئی کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولہ من فی السموت والارض ہر چیز اس کی ملک اور تخلیق ہے پھر جو اس کا عبد اور خلق ہے اس کا خیر ہونا کیسے جائز ہے۔ ومن عندہ یعنی وہ ملائکہ جن کا تم ذکر کرتے ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ لا یستکبرون وہ سرکشی نہیں کرتے اس کی اطاعت سے۔ ولا یستحسرون۔ نہ تھکتے ہیں، یہ قتادہ کا قول ہے۔ یہ الحسیر سے ماخوذ ہے وہ اونٹ جو تھکنے کی وجہ سے جدا ہوجائے۔ کہا جاتا ہے : حسر البعیر یحسر حسوراً اونٹ تھک گیا۔ استحسر اور تحسر ہم مثل ہیں حسرتہ انہ حسراً کبھی متعدی ہوتا ہے اور کبھی متعدی نہیں ہوتا۔ أحسرتہ ایضا فھو حسیر ابن زید نے کہا : بعض نے فرمایا : وہ کمزور نہیں ہوتے، یہ ابن اعرابی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
1:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لواردنا ان نتخذ لھوا “ میں لہو سے مراد ہے بیٹا۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے (آیت) ” لواردنا ان نتخذ لھوا “ کے بارے میں فرمایا کہ اگر میں ارادہ کرتا کہ اپنے لئے بیٹا بناوں تو میں فرشتوں کو اپنا بیٹا بناتا۔
3:۔ عبد بن حمید اور ابن منذر نے حسن ؓ سے (آیت) ” لواردنا ان نتخذ لھوا “ کے بارے میں فرمایا کہ لھوا سے مراد ہے عورتیں۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ یمن کی زبان میں لھو سے مراد عورت ہے۔
5:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” لواردنا ان نتخذ لھوا “ کے بارے میں فرمایا کہ یمن والوں کی لغت…
Read the full tafseer →[ وَ لَهٗ : اور اس کا ہی ہے ] [ مَنْ : جو کوئی ] [ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : زمین اور آسمانوں میں ہے ] [ وَ مَنْ : اور جو کوئی ] [ عِنْدَهٗ : اس کے پاس ہیں ] [ لَا يَسْـتَكْبِرُوْنَ : وہ تکبر نہیں کرتے ] [ عَنْ عِبَادَتِهٖ : اس کی عبادت سے ] [ وَ لَا يَسْتَحْسِرُوْنَ : اور نہ ہی وہ کاہلی کرتے ہیں ]
ترکیب : (آیت۔ 20) ۔ یُسَبِّحُوْنَ کا مفعول لِلّٰہِ یہاں محذوف ہے۔ اَلَّیْلَ اور اَلنَّھَارَ کی نصب یُسَبِّحُوْنَ کا مفعول ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ ظرف ہونے کی وجہ سے ہے۔ (آیت۔ 22) ۔ فِیْھِمَا میں ھُمَا کی ضمیر اور لَفَسَدَتَا کی ضمیر فاعلی ھُمَا، یہ دونوں اَلسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ کے لئے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
اثبات توحید، ابطال شرک اور حق کی فتح یابی
ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ ہم نے جو آسمان و زمین پیدا کیے ہیں ان کا پیدا کرنا کوئی فعل عبث کے طور پر نہیں ہیں بلکہ اس میں بڑی حکمتیں ہیں جن میں ایک بہت بڑی حکمت یہ ہے کہ ان کے وجود اور ان کی بڑائی اور پھیلاؤ سے ان کے خالق کو پہچانیں۔ اگر آسمان و زمین کے بنانے سے کوئی حکومت مقصود نہ ہوتی محض ایک مشغلہ ہی کے طور پر بنانا مقصود ہوتا تو ہم اپنے پاس سے کسی چیز کو مشغلہ بنا لیتے لیکن ہمیں یہ کرنا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات عالی صفات اس سے برتر اور بالا ہے کہ وہ کسی چیز کو بطور لہو و لعب پیدا فرمائیں اور کسی چیز کو بطور لہو و لعب کے اختیار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–29
بیان توحید و ابطال شرک
قال اللہ تعالیٰ وما خلقنا السماء والارض وما بینھما لعبین .... الیٰ .... کذلک نجزی الظلمین۔
(ربط) ابتداء سورت سے لیکر یہاں تک کا مضمون تحقیق نبوت و رسالت سے متعلق تھا، اب آئندہ آیات میں توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال فرماتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ آسمان و زمین کی پیدائش میں غوروفکر کرو تاکہ تم کو اللہ کی معرفت حاصل ہو عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام چیزیں اللہ کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں۔
(یا یوں کہو) کہ گزشتہ آیات میں کفار کی غفلت اور اعراض اور ان کے لہو ولعب کو بیان کیا اب آگے یہ بیان کرتے ہیں کہ عالم کی پیدائش کھیل تماشہ نہیں بلکہ حق اور باطل میں فرق کرنے کے لیے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
15:۔ یہ دوسری عقلی دلیل ہے۔ زمین و آسمان اور ساری کائنات کا مالک بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ ہر چیز اسی کے قبضہ و تصرف میں ہے۔ ” وَ مِنْ عِنْدَهٗ “ سے فرشتے مراد ہیں۔ فرشتے جن کو مشرکین خدا کے یہاں اپنے شفیع سمجھتے ہیں۔ ان کی بندگی، بیچارگی اور عاجزی کا یہ عالم ہے کہ وہ ہر وقت اللہ کی عبادت و اطاعت میں لگے رہتے ہیں اور دن رات اللہ کی حمد و ثنا اور اس کی تسبیح و تقدیس میں مصروف ہیں۔ وہ نہ تھکتے ہیں نہ سستی کرتے ہیں۔ بھلا جو خود خدا کے سامنے اس قدر عاجز اور اس کے احکام کے پابند ہیں وہ کس طرح اس کی اجازت کے بغیر زبان شفاعت کھول سکتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے تصرف و اختیار میں کیونکر دخیل ہونے کی جرات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
ربط آیات :
گزشتہ درس تک کا زیادہ ترحصہ رسالت کے تذکرے پر مشتمل تھا۔ کافر اور مشرک اللہ کے نبیوں پر اعتراض کرتے تھے کہ یہ تو انسان ہیں ، بھلا ہم ان کا اتباع کیسے کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کا تردیدی جواب دیا۔ پھر پہلے لوگوں کا حال بیان کیا اور عذاب کی وعید سنائی۔ نافرمانوں کا انجام بھی بیان فرمایا۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کا رد کیا ہے۔ گزشتہ درس میں بیان ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ارض وسماکے کارخانے کو محض لہو ولعب کے لئے نہیں بنایا بلکہ یہ اس کی حکمت پر مبنی ہے۔ اس کائنات کا آغاز بھی ہے اور اس کا انجام بھی۔
اللہ تعالیٰ کی تسبیح :
ارشاد ہوتا ہے ولہ من فی السموت ولارض اسی کی ملکیت…
Read the full tafseer →وَلَہٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ وَمَنْ عِنْدَہٗ لَا يَسْـتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِہٖ وَلَا يَسْتَحْسِرُوْنَ 19ۚ
أرض
الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه .
( ا رض ) الارض
( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔
عند
عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
2 ؎ یعنی کھیلنے کے لیے عالمِِغیب کی چیزیں فرشتے اور بہشت کی مخلوق اور روحانیات کیا کم تھے عالم غیب کی چیزوں کو اپنے پاس کی چیزیں اس لیے کہا کہ عالم محسوس کی بہ نسبت عالم ملکوت تو اس سے قریب ہے۔ عرب کے بعض قبائل اولاد اور بیوی کو لھو کہا کرتے ہیں اس لیے کہ دراصل انسان کے کھیلنے دل خوش کرنے کی یہی چیزیں ہیں۔ اس تقدیر پر یہ مطلب کہ کھیلنا ہی ہوتا تو اپنے پاس کے لوگوں کو بیوی بیٹا بنا کر نہ کھیلتے اس میں ان لوگوں پر تعریض ہے جو مخلوق کو اس کی بیوی یا بیٹا کہتے ہیں۔ 12 حقانی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
وَلَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَمَنْ عِنْدَہٗ لاَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِہٖ وَلاَ یَسْتَحْسِرُوْنَ ۔ یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ لاَ یَفْتُرُوْنَ ۔ (الانبیاء : 19، 20)
(اور اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو اس کے پاس ہیں وہ اس کی بندگی سے نہ سرکشی کرتے ہیں اور نہ تھکتے ہیں۔ وہ شب و روز اس کی تسبیح کرتے ہیں اور وہ اکتاتے نہیں۔ )
گزشتہ آیات کریمہ میں مشرکینِ عرب کے مشرکانہ رویئے اور ان کے نظریہ حیات پر تنقید کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ اگر مشرکین کے نظریہ حیات کو صحیح تسلیم کرلیا جائے تو پھر پروردگار اور کائنات کے بارے میں ایک ایسا نقطہ نگاہ پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
فہم القرآن
ربط کلام : اے نافرمانوں تم اپنے رب کی عبادت کرو یا نہ کرو اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ کائنات کی ہر چیز اپنے رب کی تابعدار اور عبادت گزار ہے۔
چند آیات پہلے اس بات کا ذکر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سی ظالم بستیوں کو نیست و نابود کیا جس کا ایک سبب یہ تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو تفریح طبع اور کھیل تماشا کے طور پر پیدا کیا ہے۔ جس وجہ سے انھوں نے حق بات ماننے اور ” اللہ “ کی اطاعت کرنے میں لاپرواہی کی اور ” اللہ “ کی ذات اور صفات کے بارے میں ایسی باتیں کرتے رہے جو رب تعالیٰ کی شان کے خلاف ہیں۔ اس سے پہلی آیت میں ان کا جواب یہ دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ جب چاہے اور…
Read the full tafseer →اللہ مالک اور کائنات اس کی مملوک ہے :
19: وَلَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کے ہیں) وَمَنْ عِنْدَہٗ (اور جو بندے اللہ کے نزدیک ہیں) خلقت و ملک کے اعتبار سے پس پھر ان میں سے کونسی چیز اس کا بیٹا بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جبکہ مملوکیت و نبوت میں باہمی منافات ہے والد و ولد میں جنسیت ضروری ہے اور وہ جنسیت سے پاک ہے۔ والد وو لد میں مماثلت ہوتی ہے اور وہ مثلیت سے پاک پھر بیوی بیٹا کیسے بن گئے۔
الارض پر وقف ہے کیونکہ من عندہؔ جو اس کے ہاں ہیں مرتبہ و مقام کے اعتبار سے ہے نہ کہ منزل و مکان کے اعتبار سے۔ مراد اس سے ملائکہ ہیں۔
نحو : یہ مبتدا ہے اور لا…
Read the full tafseer →19۔ ولہ من فی السماوات والارض۔ جو میرے بندے اور جو بھی میری ملک ہیں۔ ومن عندہ ، اس سے مراد فرشتے ہیں ۔ لایستکبرون عن عبادتہ، وہ عبادت سے نہیں تھکتے اور نہ ہی اس میں تکبر کرتے ہیں۔ ولایستحسرون، اور نہ ہی اس سے ہارتے ہیں کہاجاتا ہے ، حسر واستحسر، جب وہ تھک جائے اور ہار جائے۔ سدی کا قول ہے کہ وہ عبادت میں مشغول رہتے ہیں کبھی بھی نہیں تھکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
19۔ 21:۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ آسمان پر کے فرشتے ‘ زمین پر کے جنات اور انسان سب اللہ کے غلام ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کا مالک ہے پھر کوئی باپ اپنی اولاد کو غلام بنا کر رکھتا ہے جو اللہ کی اولاد تھی اور اس نے اس کو غلام بنا کر رکھا جن فرشتوں کو یہ مشرک اللہ کی بیٹیاں کہتے ہیں ان فرشتوں کا یہ حال ہے کہ اللہ کی عظمت کے آگے وہ بالکل ناچیز اور ہر وقت اس کی عبادت میں لگے رہتے ہیں کیا باپ کے آگے اولاد کی یہ شان ہوتی ہے جو اللہ کی عظمت کے آگے فرشتوں کی ہے پھر فرمایا کہ اللہ کی تو وہ قدرت ہے کہ انسان ناپید تھا ‘ اللہ نے اپنی قدرت سے اس کو پیدا کردیا۔ مٹی کی بےجان چیزوں پتھر لکڑی وغیرہ کے بت جو ان مشرکوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
آیت 18-20
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے احقاق حق اور ابطلال باطل کی ذمہ داری لی ہے۔ باطل خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اللہ تعالیٰ حق، علم اور بیان نازل کرتا ہے، جس سے باطل پر ضرب لگتی ہے پس باطل مضمحل ہوجاتا ہے اور اس کا بطلان ہر ایک پر ظاہر ہوجاتا ہے ( فاذا ھوا زاھق) یعنی مضمحل ہو کر فنا کے گھاٹ اتر جاتا ہے اور تمام دینی مسائل میں یہی اصول عام ہے، جب بھی کوئی باطل پرست شخص باطل کو حق ثابت کرنے یا حق کو رد کرنے کے لئے کوئی عقلی یا نقلی شبہ وارد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے عقلی اور نفلی دلائل میں اتنا زور ہوتا ہے کہ وہ اس قول باطل کو زائل کر کے اس کا قلع قمع کردیتا ہے اور یوں اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
19 کائنات کی تخلیق بےمقصد نہیں ہوسکتی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر کہیں ہمیں کھیل تماشا ہی مقصود ہوتا تو ہم اس کیلئے اور کوئی چیز بنالیتے "۔ اور اس کے لئے ہمیں حکمتوں بھری اس عظیم الشان کائنات کو پیدا کرنے کی ضرورت نہ ہوتی۔ سو یہ سب کچھ کھیل تماشہ کے طور پر ہرگز نہیں ہوسکتا۔ (ابن کثیر، مراغی، محاسن التاویل وغیرہ) ۔ بلکہ اس کی تخلیق عظیم الشان حکمتوں پر مبنی ہے جن میں سب سے اہم اور بنیادی مقصود دو چیزیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس کائنات میں اور اس میں پائے جانے والے عجائب وغرائب میں غور و فکر سے کام لیکر انسان اپنے خالق ومالک کی معرفت حاصل کرے اور پھر اسی کی ہدایت وتعلیمات کے مطابق دل و جان سے اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
غافل لوگ، عقیدہ آخرت اور انبیاء کا رد کرنیوالوں کا انجام
تشریح : ان آیات میں ان عربی بدوئوں کے اعتقادات ‘ اعتراضات ‘ ہٹ دھرمی اور دین سے نفرت کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) کو نبوت دی گئی اور اس کے بعد تمام انبیاء نے لوگوں کو توحید کا سبق دیا اور سب سے آخر میں سیدنا محمد ﷺ تشریف لائے۔ انہوں نے بھی توحید کا ہی سبق دیا۔ جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا تھا کہ جب بھی کوئی نبی اور رسول کسی قوم کی طرف بھیجا جاتا تو لوگوں میں تین گروہ پیدا ہوجاتے یعنی مومن کافر اور منافق۔ منافقین دونوں طرف گھومتے رہتے کفار اعتراضات اور مخالفت رسول میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے جیسا کہ کفار مکہ نے آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–29
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
اور کتنی بستیاں تھیں جو ان سے پہلے ایسے ہی افعال پر اور ان جیسے کردار کے باعث تباہ کردی گئیں اور معمورہ عالم آباد بھی رہا ان کی جگہ اور پیدا کردیے ان ظالموں نے بھی عذاب کو واقع ہوتے دیکھا تب یقین آیا اور لگے بھاگ بھاگ کر جان بچانے مگر اللہ جل جلالہ کی گرفت سے کون بھاگ سکتا ہے بلکہ ارشاد ہوتا ہے مت بھاگو اپنے مکان اور عیش و عشرت کو کیوں چھوڑتے ہو آج اپنے ہمدرد تلاش کرو مگر وہ کہتے تھے کہ ہماری بدبختی کہ ہم نے ظلم کا راستہ اختیار کیا اور یونہی شور مچاتے رہے کہ عذاب الہی نے پیس کر رکھ دیا جیسے کٹے ہوئے کھیت ہوں یا بجھی ہوئی آگ ، بعض مفسرین کرام نے یمن کی بستیاں مراد لی…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی اس کی عبادت میں لگے رہنے کو اپنی شان سے فروتر نہیں سمجھتے۔ پھر بھلا انسان کی کیا بساط ہے کہ اپنے آپ کو اس کی عبادت سے بالاتر سمجھ سکے۔ (کبیر)
Read the full tafseer →(21:19) ومن عندہ۔ وہم الملئکۃ مطلقا علیہم السلام۔ لفظی ترجمہ :۔ اور جو اس کے نزدیک ہیں اور اس سے مراد فرشتے ہیں۔
لا یستکبرون عن عبادتہ۔ لا یستکبرون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ وہ تکبر نہیں کرتے۔ یعنی اس کی بندگی سے سرتابی نہیں کرتے۔ لا یستحسرون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب استحسار (استفعال) مصدر وہ نہیں تھکتے ہیں۔
الحسر۔ (باب ضرب ونصر) کے معنی کسی چیز کو ننگا کرنے اور اس سے پردہ اٹھانے کے ہیں۔ ناقۃ حسیر۔ تھکی ہوئی اور کمزور اونٹنی جس کا گوشت اور قوت زائل ہوگئی ہو۔ الحاسرو المحسور۔ تھکا ہوا۔ عاجز ۔ درماندہ۔ کیونکہ اس کے قوی ظاہر ہوجاتے ہیں ! الحسر اس تصور کے پیش نظر کہ اس نے خود اپنے قوی کو ننگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
لغات القرآن آیت نمبر 11 تا 20
قصمنا (قصم) ہم نے توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ ظالمۃ ظلم و زیادتی، بدکاری کرنے والی۔ انشانا ہم نے اٹھا کھڑا کیا۔ باس عذاب یرکضون وہ بھاگتے ہیں۔ اترفتم تمہیں راحتیں /آسائشیں دی گئیں۔ یویلنا اے ہماری بد نصیبی، بدبختی۔ ما زالت ہمیشہ۔ حصید کٹی ہوئی کھیتی۔ خامدین بجھنے والے، راکھ ہوجانے والے۔ لھو کھیل، کھلونا۔ نقذف ہم پھینک مارتے ہیں۔ ضرب لگاتے ہیں۔ یدمغ (دمغ) دماغ نکال دینا، سرپھوڑ دینا۔ زاھق (زھوق) مٹج انے والا۔ لایستحسرون وہ نہیں تھکتے۔
تشریح : آیت نمبر 11 تا 20
ابتدائے کائنات سے آج تک اللہ تعالیٰ کا یہی دستور رہا ہے کہ حق و باطل، سچ اور جھوٹ کے درمیان جنگ میں فتح و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
(ف 1) حاصل مطلب یہ ہے کہ آسمان پر فرشتے، زمین پر جنات، اور انسان سب اللہ کے غلام ہیں، اور اللہ تعالیٰ ان کا مالک ہے، پھر کوئی باپ اپنی اولاد کو غلام بناکررکھتا ہے جو اللہ کی اولاد تھی اور اس نے اس کو غلام بناکررکھا ، جن فرشتوں کو یہ مشرک اللہ کی بیٹیاں کہتے ہیں ان فرشتوں کا یہ حال ہے کہ اللہ کی عظمت کے آگے وہ بالکل ناچیز، اور ہر وقت اس کی عبادت میں لگے رہتے ہیں کیا باپ کے آگے اولاد کی یہ شان ہوتی ہے جو اللہ کی عظمت کے آگے فرشتوں کی ہے پھر فرمایا اللہ کی تو وہ قدرت ہے کہ انسان ناپید تھا اللہ نے اپنی قدرت سے اس کو پیدا کردیا، مٹی کی بےجان چیزوں پتھر، لکڑی وغیرہ کے بت جوان مشرکوں نے بنائے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
[11] یعنی یہ دنیا محض کھیل تماشا نہیں بلکہ میدان کار زار ہے جہاں حق و باطل کی جنگ ہوتی ہے اور حق حملہ آور ہو کر باطل کا سر کچل ڈالتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
کائنات کا ایک مقصد ہے :
(ف 1) اسلام نکتہ نگاہ سے یہ دنیا اور اس کی تمام آرائشیں بغیر کسی مقصد کے نہیں ہیں ، یہ آفتاب کا طلوع و غروب ، ستاروں کا چمکنا اور جھلملانا یہ آسمان کا سقف زرنگار ، اور یہ اتنی بڑی زمین کا پھیلاؤ پہاڑ ، درخت ندی ، نالے ، اور طیور وبہائم ، ان سب چیزوں کو آخر خدا نے کیوں پیدا کیا ہے ، کیا یہ محض دلچسپی کے لئے ہے اور اتنے بڑے نظام سے کوئی فائدہ مقصود نہیں ، ؟ قرآن حکیم اس کا یہ جواب دیتا ہے ، کہ اس کائنات کا ایک مقصد ہے یہ محض اتفاقیہ امور نہیں بلکہ قدرت کاملہ اور شعور بالغہ ہے ۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ کائنات میں تمہیں ایک نظام وترتیب نظر آتی ہے ، زینت و آرائش معلوم ہوتی…
Read the full tafseer →- 19 اور جو کوئی بھی آسمان و زمین میں ہے سب اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں اور جو اس کے پاس رہتے اور اس کے مقرب ہیں ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے نہ تو سرکشی کرتے ہیں اور نہ اس کی عبادت سے تھکتے ہیں۔ یعنی جب تمام مخلوق اس کی مملوک ہے تو اللہ تعالیٰ کی شریک کس طرح ہوسکتی ہے اور جو مخلوق اس کے نزدیک اور اس کی مقرب ہے یعنی فرشتے ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے سرتابی اور تکبر نہیں کرتے بلکہ ہر وقت اس کی عبادت اور اطاعت و فرماں برداری میں لگے رہتے ہیں اور اس کی عبادت کرتے کرتے تھکتے بھی نہیں جب مقربین اور ساکنان عالم بالا کی یہ حالت ہے تو خاکی مخلوق کو کس قدر عبادت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
ف 3۔ یعنی دلائل توحید جو ان مصنوعات سے حاصل ہوتے ہیں شرک کی بالکلیہ نفی کردیتے ہیں جس کی جانب مخالف کا احتمال ہی نہیں رہتا۔
Read the full tafseer →آسمان و زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ ہی کا ہے اور فرشتے بھی اسی کی مخلوق ہیں :
19۔ زیر نظر آیت سے توحید الہی کا سبق شروع ہو رہا ہے تاکہ قوم کو ہر قسم کی خوراک ‘ دوا اور پرہیز سے برابر آگاہ رکھا جاسکے اور یہ بھی باور کر ادیا جائے کہ جس طرح جسم کو ان ساری چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے روح کو بھی ہوتی ہے لیکن افسوس کہ جسم کی ان ضروریات کا خیال تو ہر ایک انسان رکھتا ہے چاہے امیر ہو یا غریب بلکہ امراء کچھ زیادہ ہی اس میں دلچسپی رکھتے ہیں لیکن روح کی اس ضرورت کا بہت کم خیال رکھا جاتا ہے جو لوگ انہی ضروریات کے وارث بنائے گئے تھے جو روح کے لئے ضروری ہیں ، انہوں نے وراثت کے الفاظ کو تو خوب یاد کیا روح کی اس…
Read the full tafseer →وَمَنْ عِندَهُ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَلَا يَسْتَحْسِرُونَ (And those who are near Him are not arrogant against His worship, nor are they sluggish. - 21:19) It means that Allah's servants who are with Him i.e. angels pray to Him all the time without ceasing. So, if the humans do not pray to Him, it will not make any difference to Him, but they themselves will be the losers. It is human nature to judge others by applying one's own situation to them. Hence there are two possibilities preventing a person from offering acts of worship ceaselessly. One, that he regards it below…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
18. From here begins the discourse on the confirmation of Tauhid and the refutation of shirk for these were the actual bases of the conflict between the Prophet (peace be upon him) and the disbelievers of Makkah. The line of argument is this: The whole system of the universe is a clear proof that there is One Allah Who is its Creator, Sovereign, Ruler, and Lord and it is a falsehood that there are many gods who are partners in His Kingdom and Sovereignty, or that there is a Supreme God Who has under Him some minor gods to conduct the affairs of His Kingdom. This proof is also based on the…
Read the full tafseer →