Al-Anbiyaa 21:20

Al-Anbiyaa · from ayah 20

21:20

یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَالنَّهَارَ لَا یَفْتُرُوْنَ ۟يُسَبِّحُوۡنَ الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ لَا يَفۡتُرُوۡنَ

رات دن (اُس کی) تسبیح کرتے رہتے ہیں (نہ تھکتے ہیں) نہ اکتاتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

They exalt [Him] night and day [and] do not slacken.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anbiyaa

All translations of 21:20

شب و روز اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں، دَم نہیں لیتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

رات دن (اُس کی) تسبیح کرتے رہتے ہیں (نہ تھکتے ہیں) نہ اکتاتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه دن رات تسبیح بیان کرتے ہیں اور ذرا سی بھی سستی نہیں کرتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ رات دن اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں، اور سست نہیں پڑتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

رات دن اس کی پاکی بولتے ہیں اور سستی نہیں کرتے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ رات دن (اس کی) تسبیح کرتے رہتے ہیں اور معمولی سا وقفہ بھی نہیں کرتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ رات اور دن تسبیح کرتے ہیں، وقفہ نہیں کرتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ دن رات اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور کبھی دم نہیں لیتے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ شب و روز اس کی تسبیح کرتے ہیں اور دم نہیں لیتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلکہ وہ شب وروز اس طرح تسبیح کرتے رہتے ہیں کہ دم بھی نہیں لیتے

— مولانا اسحاق مدنی

رات اور دن تسبیح کرتے رہتے ہیں موقوف نہیں کرتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ رات دِن (اس طرح اس کی) تسبیح میں لگے ہوئے ہیں کہ تھکتے نہیں ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

رات دن اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں نہ تھکتے ہیں نہ تھمتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They glorify Him night and day, without flagging.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They proclaim His purity night and day, never slackening.

— Muhammad Taqi Usmani

They proclaim His purity night and day, never slackening.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They glorify His praises night and day, they never slacken.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They glorify (Him) night and day; they flag not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They exalt [Him] night and day [and] do not slacken.

— Saheeh International

They glorify Him day and night without fail.

— Muhammad Sarwar

They glorify (Him) by night and day; they are never languid.

— Muhammad Habib Shakir

And they hallow Him night and day, and they flag not.

— Abdul Majid Daryabadi

They celebrate His praises night and day, nor do they ever flag or intermit.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 21:20

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 16–20

آسمان و زمین کوئی کھیل تماشہ نہیں آسمان و زمین کو اللہ تعالیٰ نے عدل سے پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا دے۔ اس نے انہیں بیکار اور کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ اور آیت میں اس مضمون کے ساتھ ہی بیان ہے کہ یہ گمان تو کفار کا ہے جن کے لئے جہنم کی آگ تیار ہے۔ دوسری آیت کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ اگر ہم کھیل تماشہ ہی چاہتے تو اسے بنالیتے۔ ایک معنی یہ ہیں کہ اگر ہم عورت کرنا چاہتے۔ لہو کے معنی اہل یمن کے نزدیک بیوی کے بھی آتے ہیں۔ یعنی یہ دونوں معنے ہے اگر بیوی بنانا چاہتے تو حورعین میں سے جو ہمارے پاس ہے کسی کو بنا لیتے۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ اگر ہم اولاد چاہتے۔ لیکن یہ دونوں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 19–20

سورة الْاَنْبِیَآء 18 یہاں سے توحید کے اثبات اور شرک کے ابطال پر گفتگو شروع ہوتی ہے جو نبی ﷺ اور مشرکین مکہ کے درمیان اصل بنائے نزاع تھی۔ اب مشرکین کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ کائنات کا یہ نظام جس میں تم جی رہے ہو (جس کے متعلق ابھی یہ بتایا جا چکا ہے کہ یہ کسی کھلندڑے کا کھلونا نہیں ہے، جس کے متعلق یہ بھی بتایا جا چکا ہے کہ یہ ایک سنجیدہ اور با مقصد اور مبنی بر حقیقت نظام ہے، اور جس کے متعلق یہ بھی بتایا جا چکا ہے کہ اس میں باطل ہمیشہ حقیقت سے ٹکرا کر پاش پاش ہوجاتا ہے) اس کی حقیقت یہ ہے کہ اس پورے نظام کا خالق، مالک، حاکم اور رب صرف ایک خدا ہے، اور اس حقیقت کے مقابلے میں باطل یہ ہے کہ اسے بہت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

يُسَبِّحُوْنَ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَايَفْتُرُوْنَ ، یعنی فرشتے رات دن تسبیح کرتے رہتے ہیں کسی وقت سست بھی نہیں ہوتے۔ عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے کعب احبار سے پوچھا کہ کیا فرشتوں کو تسبیح کرنے کے سوا اور کوئی کام نہیں، اگر ہے تو پھر دوسرے کاموں کے ساتھ ہر وقت کی تسبیح کیسے جاری رہتی ہے۔ کعب نے فرمایا اے میرے بھتیجے کیا تمہارا کوئی کام اور مغشلہ تمہیں سانس لینے سے روکتا ہے اور کام کرنے میں مخل و مانع ہوتا ہے حقیقت یہی ہے کہ تسبیح فرشتوں کے لئے ایسی ہے جیسے ہمارا سانس یا آنکھ جھپکنا کہ یہ دونوں چیزیں ہر وقت ہر حال میں جاری رہتی ہیں اور کسی کام میں مانع اور مخل نہیں ہوتیں (قرطبی و بحر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 19–20

آیت 20-19 شرک کی واہمہ کی تردید اوپر کی آیات میں جزا و سزا کے واجب ہونے پر صفات الٰہی سے استدلال تھا۔ اب یہ توحید کا بیان آ رہا ہے تاکہ یہ حقیقت واضح کردی جائے کہ اگر کسی نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ وہ اپنے شرکاء و شفعاء کی سفارش سے خدا کی پکڑ اور جزا و سزا سے بچ جائے گا تو یہ محض اس کا وہم ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ فرمایا کہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں سب خدا ہی کی مخلوق اور اسی کے مملوک ہیں کسی کو خدا کے ہاں کوئی اختیار و اقتدار حاصل نہیں ہے۔ فرشوں کا حال ومن عندہ لایستکبرون عن عبادتہ ولا یستحسرون، من عندہ سے مراد خدا کے مقرب ملائکہ ہیں۔ فرمایا کہ وہ بھی اسی زمرے میں داخل ہیں۔ باہمہ قرب و…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 19–20

19۔ 1 سب اسی کی ملک اور اسی کے غلام ہیں، پھر جب تم کسی غلام کو اپنا بیٹا اور کسی لونڈی کو بیوی بنانے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ تو اللہ تعالیٰ اپنے مملوکین اور غلاموں میں سے بعض کو بیٹا اور بعض کو بیوی کس طرح بنا سکتا ہے ؟ 19۔ 2 اس سے مراد فرشتے ہیں، وہ بھی اس کے غلام اور بندے ہیں، ان الفاظ سے ان کا شرف و اکرام بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ اس کی بارگاہ کے مقربین ہیں۔ اس کی بیٹیاں نہیں ہیں جیسا کہ مشرکین کا عقیدہ تھا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 18–20

8: یعنی کھیل دل لگی ہمارا کام نہیں ہے۔ ہم تو جو کام کرتے ہیں، وہ حق ہی حق ہوتا ہے۔ اور اس کے مقابلے میں باطل آتا ہے تو حق ہی کے ذریعے اس کا توڑ کیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 19–20

ولہ من فی السموت والارض۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یفترون ” آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ کے سوا اس کا پورا علم کسی کو نہیں ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جو ہر چیز کا احاطہ کرسکتا ہے ۔ علم و بشیر ہی صرف انسان کے بارے میں یقین سے جانتا ہے۔ اہل ایمان جن اور ملائکہ کے وجود پر بھی ایمان لاتے ہیں کیونکہ ان کا ذکر قرآن مجید میں ہے لیکن ان دو مخلوقوں کے بارے میں بھی ہم صرف اسی قدر جانتے ہیں جس قدر ہمیں خالق نے علم دیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اندونوں کے علاوہ کو اکب میں اور ذی عقل مخلوق بھی ہو اور اس کی شکل و صورت اس سیارے کے ماحول اور طبیعی حالات کے مطابق ہو ‘ لیکن یہ علم بھی اللہ ہی کے پاس ہے۔ ولہ من فی السموات والارض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی فرشتے باوجود مقربین بارگاہ ہونے کے ذرا شیخی نہیں کرتے۔ اپنے پروردگار کی بندگی اور غلامی کو فخر سمجھتے ہیں، وظائف عبودیت کے ادا کرنے میں کبھی سستی یا کاہلی کو راہ نہیں دیتے۔ شب و روز اس کی تسبیح اور یاد میں لگے رہتے ہیں۔ نہ جھکتے ہیں نہ اکتاتے ہیں۔ بلکہ تسبیح و ذکر ہی ان کی غذا ہے۔ جس طرح ہم ہر وقت سانس لیتے ہیں اور دوسرے کام بھی کرتے رہتے ہیں، یہی کیفیت ان کی تسبیح و ذکر کی سمجھو۔ وہ کسی کام پر مامور ہوں، کسی خدمت کو بجا لا رہے ہوں ایک منٹ ادھر سے غافل نہیں ہوتے جب معصوم و مقرب فرشتوں کا یہ حال ہے تو خطاکار انسان کو کہیں زیادہ اپنے رب کی طرف جھکنے کی ضرورت ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 19–21

آیت 21 اَمِ اتَّخَذُوْٓا اٰلِہَۃً مِّنَ الْاَرْضِ ہُمْ یُنْشِرُوْنَ ” کیا ان کا خیال ہے کہ وہ ان باطل معبودوں کی نظر کرم سے دنیا میں خوب پھلیں پھولیں گے اور ترقی کی اعلیٰ منازل طے کرلیں گے ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 19–20

16 یعنی فرشتے اللہ کی ایسی مخلوق ہے۔ جو ہر آں اللہ کی تسبیح و تمحید میں مشغول رہتے ہیں اور وہ اللہ کی بندگی کو ناگوار سمجھ کر نہیں کرتے بلکہ نہایت خوشدلی سے بجا لاتے ہیں۔ قرآن نے یہاں یستحسرون کا لفظ استعمال فرمایا ہے اور استحسار ایسی تھکاوٹ یا اکتاہٹ کو کہتے ہیں جو کسی ناگوار کام کے کرنے سے لاحق ہوتی ہے۔ اور ان کی یہ تسبیح بالکل ایسے ہی بلاوقفہ ہوتی ہے جیسے انسان مسلسل سانس لیتا ہے اور اس میں کبھی وقفہ نہیں ہوتا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا انسان کی تخلیق سے مقصود محض اپنی عبادت ہی ہوتی تو فرشتے یہ کام بطریق احسن بجا لارہے تھے۔ لیکن اصل مقصد یہ تھا کہ یہاں حق و باطل کا معرکہ بپا ہو اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

25۔ ذکر فرشتوں کا چل رہا ہے۔ جاہلی مذہب والے انہیں کو اپنے جہل سے دیوی دیوتا قرار دے لیتے ہیں، آگے ذکر زمینی معبودوں کا آرہا ہے۔ سیاق خود چاہتا ہے کہ یہاں ذکر آسمانی دیوتاؤں کا ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–23

آیت نمبر 11 تا 23 ترجمہ : اور کتنی ہی بستیوں کو یعنی بستی والوں کو جو ظالم یعنی کافر تھے تباہ یعنی ہلاک کردیا اور ان کے بعد دوسری قوم پیدا کردی تو ان ظالموں نے جب ہمارا عذاب آتا دیکھا یعنی بستی والوں نے جب ہلاکت کو محسوس کیا تو اس بستی سے تیزی سے بھاگنا شروع کردیا تو فرشتوں نے ان سے بطور استہزاء کے کہا بھاگو مت اور اپنے سامان کی طرف جس میں تم کو آسودگی دی گئی تھی اور اپنے مکانوں کی طرف واپس چلو تاکہ دنیا کے دستور کے مطابق تم سے کچھ پوچھ تاچھ کی جائے تو وہ لوگ کہنے لگے ہائے ہماری کمبختی (یا تنبیہ کے لئے ہے) یعنی ہماری ہلاکت بیشک ہم کفر کے ذریعہ ظلم کرنے والے تھے پھر تو انہی کلمات کی رٹ لگاتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یسبحون الیل والنہار لا یفترون۔ رات دن اللہ کی پاکی بیان کرتے (اور تعظیم الٰہی کا اظہار کرتے) ہیں سست نہیں پڑتے۔ کعب احبار نے کہا ملائکہ کے لئے تسبیح خداوندی ایسی ہے جیسے آدمیوں کے لئے سانس (سانس لینا باعث حیات ہے اور سانس لینے سے آدمی کسی وقت نہیں تھکتا فرشتوں کے لئے تسبیح باعث حیات ہے وہ پاکی بیان کرنے سے نہیں تھکتے) ۔ لاَ یَفْتُرُوْنَکمزور نہیں پڑتے ‘ نہیں اکتاتے۔ وہ عبادت جس میں اہل قربت ہر وقت غرق رہتے ہیں اس سے مراد ذکر خفی اور ہر وقت اللہ کی طرف توجہ ہے جس طرح بری حیوان کے لئے ہوا میں سانس لینا اور بحری جانور کے لئے پانی میں سانس لینا ہر وقت ضروری ہے اور یہی بقاء حیات کا سبب ہے اسی طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 19–20

(19۔ 20) تمام مخلوقات اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں جو اللہ کے نزدیک مقرب فرشتے ہیں ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت سے عار نہیں کرتے، دن رات اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس میں مصروف رہتے ہیں کسی وقت بھی عبادت خداوندی اور اس کی اطاعت وفرمانبرداری سے اکتاتے نہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ۚيُسَبِّحُوْنَ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَايَفْتُرُوْنَ :”اَلْفُتُوْرُ“ کا معنی کسی کام سے رک جانا ہے، جیسا کہ فرمایا : (قَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلٰي فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ) [ المائدۃ : 19 ] ”بیشک تمہارے پاس ہمارا رسول آیا ہے، جو تمہارے لیے کھول کر بیان کرتا ہے، رسولوں کے ایک وقفے کے بعد۔“ یعنی فرشتے رات دن اللہ کی تسبیح کرتے ہیں، کبھی نہیں رکتے، وقفہ نہیں کرتے۔ یہاں ایک سوال ہے جو عبداللہ بن حارث بن نوفل نے کعب احبار سے کیا کہ آپ بتائیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے متعلق فرمایا : (ۚيُسَبِّحُوْنَ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَايَفْتُرُوْنَ) تو کیا انھیں آپس کی بات چیت، پیغمبروں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 19–20

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولہ من فی السموت والارض ہر چیز اس کی ملک اور تخلیق ہے پھر جو اس کا عبد اور خلق ہے اس کا خیر ہونا کیسے جائز ہے۔ ومن عندہ یعنی وہ ملائکہ جن کا تم ذکر کرتے ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ لا یستکبرون وہ سرکشی نہیں کرتے اس کی اطاعت سے۔ ولا یستحسرون۔ نہ تھکتے ہیں، یہ قتادہ کا قول ہے۔ یہ الحسیر سے ماخوذ ہے وہ اونٹ جو تھکنے کی وجہ سے جدا ہوجائے۔ کہا جاتا ہے : حسر البعیر یحسر حسوراً اونٹ تھک گیا۔ استحسر اور تحسر ہم مثل ہیں حسرتہ انہ حسراً کبھی متعدی ہوتا ہے اور کبھی متعدی نہیں ہوتا۔ أحسرتہ ایضا فھو حسیر ابن زید نے کہا : بعض نے فرمایا : وہ کمزور نہیں ہوتے، یہ ابن اعرابی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 17–20

1:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لواردنا ان نتخذ لھوا “ میں لہو سے مراد ہے بیٹا۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے (آیت) ” لواردنا ان نتخذ لھوا “ کے بارے میں فرمایا کہ اگر میں ارادہ کرتا کہ اپنے لئے بیٹا بناوں تو میں فرشتوں کو اپنا بیٹا بناتا۔ 3:۔ عبد بن حمید اور ابن منذر نے حسن ؓ سے (آیت) ” لواردنا ان نتخذ لھوا “ کے بارے میں فرمایا کہ لھوا سے مراد ہے عورتیں۔ 4:۔ ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ یمن کی زبان میں لھو سے مراد عورت ہے۔ 5:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” لواردنا ان نتخذ لھوا “ کے بارے میں فرمایا کہ یمن والوں کی لغت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ يُسَبِحُوْنَ : وہ لوگ تسبیح کرتے ہیں (اللہ کی)] [ الَّيْلَ : رات بھر ] [ وَالنَّهَارَ : اور دن بھر ] [ لَايَفْتُرُوْنَ : (اور کبھی) وہ سست نہیں پڑتے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 18–20

اثبات توحید، ابطال شرک اور حق کی فتح یابی ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ ہم نے جو آسمان و زمین پیدا کیے ہیں ان کا پیدا کرنا کوئی فعل عبث کے طور پر نہیں ہیں بلکہ اس میں بڑی حکمتیں ہیں جن میں ایک بہت بڑی حکمت یہ ہے کہ ان کے وجود اور ان کی بڑائی اور پھیلاؤ سے ان کے خالق کو پہچانیں۔ اگر آسمان و زمین کے بنانے سے کوئی حکومت مقصود نہ ہوتی محض ایک مشغلہ ہی کے طور پر بنانا مقصود ہوتا تو ہم اپنے پاس سے کسی چیز کو مشغلہ بنا لیتے لیکن ہمیں یہ کرنا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات عالی صفات اس سے برتر اور بالا ہے کہ وہ کسی چیز کو بطور لہو و لعب پیدا فرمائیں اور کسی چیز کو بطور لہو و لعب کے اختیار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–29

بیان توحید و ابطال شرک قال اللہ تعالیٰ وما خلقنا السماء والارض وما بینھما لعبین .... الیٰ .... کذلک نجزی الظلمین۔ (ربط) ابتداء سورت سے لیکر یہاں تک کا مضمون تحقیق نبوت و رسالت سے متعلق تھا، اب آئندہ آیات میں توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال فرماتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ آسمان و زمین کی پیدائش میں غوروفکر کرو تاکہ تم کو اللہ کی معرفت حاصل ہو عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام چیزیں اللہ کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں۔ (یا یوں کہو) کہ گزشتہ آیات میں کفار کی غفلت اور اعراض اور ان کے لہو ولعب کو بیان کیا اب آگے یہ بیان کرتے ہیں کہ عالم کی پیدائش کھیل تماشہ نہیں بلکہ حق اور باطل میں فرق کرنے کے لیے یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 19–20

15:۔ یہ دوسری عقلی دلیل ہے۔ زمین و آسمان اور ساری کائنات کا مالک بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ ہر چیز اسی کے قبضہ و تصرف میں ہے۔ ” وَ مِنْ عِنْدَهٗ “ سے فرشتے مراد ہیں۔ فرشتے جن کو مشرکین خدا کے یہاں اپنے شفیع سمجھتے ہیں۔ ان کی بندگی، بیچارگی اور عاجزی کا یہ عالم ہے کہ وہ ہر وقت اللہ کی عبادت و اطاعت میں لگے رہتے ہیں اور دن رات اللہ کی حمد و ثنا اور اس کی تسبیح و تقدیس میں مصروف ہیں۔ وہ نہ تھکتے ہیں نہ سستی کرتے ہیں۔ بھلا جو خود خدا کے سامنے اس قدر عاجز اور اس کے احکام کے پابند ہیں وہ کس طرح اس کی اجازت کے بغیر زبان شفاعت کھول سکتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے تصرف و اختیار میں کیونکر دخیل ہونے کی جرات…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 19–24

ربط آیات : گزشتہ درس تک کا زیادہ ترحصہ رسالت کے تذکرے پر مشتمل تھا۔ کافر اور مشرک اللہ کے نبیوں پر اعتراض کرتے تھے کہ یہ تو انسان ہیں ، بھلا ہم ان کا اتباع کیسے کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کا تردیدی جواب دیا۔ پھر پہلے لوگوں کا حال بیان کیا اور عذاب کی وعید سنائی۔ نافرمانوں کا انجام بھی بیان فرمایا۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کا رد کیا ہے۔ گزشتہ درس میں بیان ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ارض وسماکے کارخانے کو محض لہو ولعب کے لئے نہیں بنایا بلکہ یہ اس کی حکمت پر مبنی ہے۔ اس کائنات کا آغاز بھی ہے اور اس کا انجام بھی۔ اللہ تعالیٰ کی تسبیح : ارشاد ہوتا ہے ولہ من فی السموت ولارض اسی کی ملکیت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يُسَبِّحُوْنَ الَّيْلَ وَالنَّہَارَ لَا يَفْتُرُوْنَ۝ 20 سبح السَّبْحُ : المرّ السّريع في الماء، وفي الهواء، يقال : سَبَحَ سَبْحاً وسِبَاحَةً ، واستعیر لمرّ النجوم في الفلک نحو : وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [ الأنبیاء/ 33] ، ولجري الفرس نحو : وَالسَّابِحاتِ سَبْحاً [ النازعات/ 3] ، ولسرعة الذّهاب في العمل نحو : إِنَّ لَكَ فِي النَّهارِ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] ، والتَّسْبِيحُ : تنزيه اللہ تعالی. وأصله : المرّ السّريع في عبادة اللہ تعالی، وجعل ذلک في فعل الخیر کما جعل الإبعاد في الشّرّ ، فقیل : أبعده الله، وجعل التَّسْبِيحُ عامّا في العبادات قولا کان، أو فعلا، أو نيّة، قال : فَلَوْلا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–20

2 ؎ یعنی کھیلنے کے لیے عالمِِغیب کی چیزیں فرشتے اور بہشت کی مخلوق اور روحانیات کیا کم تھے عالم غیب کی چیزوں کو اپنے پاس کی چیزیں اس لیے کہا کہ عالم محسوس کی بہ نسبت عالم ملکوت تو اس سے قریب ہے۔ عرب کے بعض قبائل اولاد اور بیوی کو لھو کہا کرتے ہیں اس لیے کہ دراصل انسان کے کھیلنے دل خوش کرنے کی یہی چیزیں ہیں۔ اس تقدیر پر یہ مطلب کہ کھیلنا ہی ہوتا تو اپنے پاس کے لوگوں کو بیوی بیٹا بنا کر نہ کھیلتے اس میں ان لوگوں پر تعریض ہے جو مخلوق کو اس کی بیوی یا بیٹا کہتے ہیں۔ 12 حقانی

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 19–20

وَلَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَمَنْ عِنْدَہٗ لاَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِہٖ وَلاَ یَسْتَحْسِرُوْنَ ۔ یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ لاَ یَفْتُرُوْنَ ۔ (الانبیاء : 19، 20) (اور اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو اس کے پاس ہیں وہ اس کی بندگی سے نہ سرکشی کرتے ہیں اور نہ تھکتے ہیں۔ وہ شب و روز اس کی تسبیح کرتے ہیں اور وہ اکتاتے نہیں۔ ) گزشتہ آیات کریمہ میں مشرکینِ عرب کے مشرکانہ رویئے اور ان کے نظریہ حیات پر تنقید کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ اگر مشرکین کے نظریہ حیات کو صحیح تسلیم کرلیا جائے تو پھر پروردگار اور کائنات کے بارے میں ایک ایسا نقطہ نگاہ پیدا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 19–20

فہم القرآن ربط کلام : اے نافرمانوں تم اپنے رب کی عبادت کرو یا نہ کرو اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ کائنات کی ہر چیز اپنے رب کی تابعدار اور عبادت گزار ہے۔ چند آیات پہلے اس بات کا ذکر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سی ظالم بستیوں کو نیست و نابود کیا جس کا ایک سبب یہ تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو تفریح طبع اور کھیل تماشا کے طور پر پیدا کیا ہے۔ جس وجہ سے انھوں نے حق بات ماننے اور ” اللہ “ کی اطاعت کرنے میں لاپرواہی کی اور ” اللہ “ کی ذات اور صفات کے بارے میں ایسی باتیں کرتے رہے جو رب تعالیٰ کی شان کے خلاف ہیں۔ اس سے پہلی آیت میں ان کا جواب یہ دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ جب چاہے اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

20: یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَالنَّھَارَلَا یَفْتُرُوْنَ (دن رات اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کرتے اور (اظہارِ تعظیم میں) سست نہیں پڑتے) لا یفترونؔ یہ یسبحون کے فاعل سے حال ہے۔ یعنی ان کی تسبیح مسلسل و دائم ہے۔ تمام اوقات میں جاری وساری ہے۔ فراغت کے ذریعہ تھکاوٹ ان کے تسلسل میں مخل نہیں ہوتی۔ نمبر 2۔ کسی دوسرے کام کی مصروفیت ان کی تسبیح کے تسلسل کو منقطع نہیں کرتی بلکہ ہمارے سانس کی طرح ان کی تسبیح جاری رہتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

20۔ یسبحون اللیل والنھار لایفترون، کمزور نہیں پڑتے۔ کعب احبا کا بیان ہے ملائکہ کے لیے تسبیح خداوندی ایسی ہے جیسے آدمیوں کے لیے سانسیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 19–21

19۔ 21:۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ آسمان پر کے فرشتے ‘ زمین پر کے جنات اور انسان سب اللہ کے غلام ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کا مالک ہے پھر کوئی باپ اپنی اولاد کو غلام بنا کر رکھتا ہے جو اللہ کی اولاد تھی اور اس نے اس کو غلام بنا کر رکھا جن فرشتوں کو یہ مشرک اللہ کی بیٹیاں کہتے ہیں ان فرشتوں کا یہ حال ہے کہ اللہ کی عظمت کے آگے وہ بالکل ناچیز اور ہر وقت اس کی عبادت میں لگے رہتے ہیں کیا باپ کے آگے اولاد کی یہ شان ہوتی ہے جو اللہ کی عظمت کے آگے فرشتوں کی ہے پھر فرمایا کہ اللہ کی تو وہ قدرت ہے کہ انسان ناپید تھا ‘ اللہ نے اپنی قدرت سے اس کو پیدا کردیا۔ مٹی کی بےجان چیزوں پتھر لکڑی وغیرہ کے بت جو ان مشرکوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 18–20

آیت 18-20 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے احقاق حق اور ابطلال باطل کی ذمہ داری لی ہے۔ باطل خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اللہ تعالیٰ حق، علم اور بیان نازل کرتا ہے، جس سے باطل پر ضرب لگتی ہے پس باطل مضمحل ہوجاتا ہے اور اس کا بطلان ہر ایک پر ظاہر ہوجاتا ہے ( فاذا ھوا زاھق) یعنی مضمحل ہو کر فنا کے گھاٹ اتر جاتا ہے اور تمام دینی مسائل میں یہی اصول عام ہے، جب بھی کوئی باطل پرست شخص باطل کو حق ثابت کرنے یا حق کو رد کرنے کے لئے کوئی عقلی یا نقلی شبہ وارد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے عقلی اور نفلی دلائل میں اتنا زور ہوتا ہے کہ وہ اس قول باطل کو زائل کر کے اس کا قلع قمع کردیتا ہے اور یوں اس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

24 فرشتوں کا کام شب و روز تسبیح : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ شب و روز اس کی تسبیح میں لگے رہتے ہیں "۔ کہ تسبیح ان کے لئے اس طرح ہے جس طرح کہ ہمارے لئے سانس۔ جیسا کہ عبد اللہ بن حارث ؓ کی حدیث میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ (ابن کثیر وغیرہ) ۔ سو کس قدر احمق اور کتنے بہکے بھٹکے ہوتے ہیں وہ لوگ جو فرشتوں کی اس معصوم پاکیزہ اور فرمانبردار مخلوق کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دے کر اپنے لیے دوزخ کی آگ کا سامان کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور جب ملائکہ مقربین کی شان عبدیت کا یہ عالم ہے کہ وہ شب و روز خداوند قدوس کی تسبیح وتحمید میں مشغول و سرگرم رہتے ہیں۔ ایک لمحہ کے لیے بھی اس میں توقف نہیں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–29

غافل لوگ، عقیدہ آخرت اور انبیاء کا رد کرنیوالوں کا انجام تشریح : ان آیات میں ان عربی بدوئوں کے اعتقادات ‘ اعتراضات ‘ ہٹ دھرمی اور دین سے نفرت کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) کو نبوت دی گئی اور اس کے بعد تمام انبیاء نے لوگوں کو توحید کا سبق دیا اور سب سے آخر میں سیدنا محمد ﷺ تشریف لائے۔ انہوں نے بھی توحید کا ہی سبق دیا۔ جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا تھا کہ جب بھی کوئی نبی اور رسول کسی قوم کی طرف بھیجا جاتا تو لوگوں میں تین گروہ پیدا ہوجاتے یعنی مومن کافر اور منافق۔ منافقین دونوں طرف گھومتے رہتے کفار اعتراضات اور مخالفت رسول میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے جیسا کہ کفار مکہ نے آپ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–29

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف اور کتنی بستیاں تھیں جو ان سے پہلے ایسے ہی افعال پر اور ان جیسے کردار کے باعث تباہ کردی گئیں اور معمورہ عالم آباد بھی رہا ان کی جگہ اور پیدا کردیے ان ظالموں نے بھی عذاب کو واقع ہوتے دیکھا تب یقین آیا اور لگے بھاگ بھاگ کر جان بچانے مگر اللہ جل جلالہ کی گرفت سے کون بھاگ سکتا ہے بلکہ ارشاد ہوتا ہے مت بھاگو اپنے مکان اور عیش و عشرت کو کیوں چھوڑتے ہو آج اپنے ہمدرد تلاش کرو مگر وہ کہتے تھے کہ ہماری بدبختی کہ ہم نے ظلم کا راستہ اختیار کیا اور یونہی شور مچاتے رہے کہ عذاب الہی نے پیس کر رکھ دیا جیسے کٹے ہوئے کھیت ہوں یا بجھی ہوئی آگ ، بعض مفسرین کرام نے یمن کی بستیاں مراد لی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 کعب احبار ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں کہ فرشتوں کے لئے تسبیح ایسی ہی ہے جیسے ہمارے لئے سانس یعنی جس طرح ہرحال میں انسان سانس لیتا ہے اسی طرح فرشتے بھی ہرحال میں اللہ کی تسبیح و تہلیل کرتے ہی۔ یہی قول زجاج سے منقول ہے۔ (شوکانی، کبیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(21:20) لا یفترون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب فتر مصدر (باب نصر) وہ سستی نہیں کرتے وہ نہیں اکتاتے۔ فتر مادہ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–20

لغات القرآن آیت نمبر 11 تا 20 قصمنا (قصم) ہم نے توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ ظالمۃ ظلم و زیادتی، بدکاری کرنے والی۔ انشانا ہم نے اٹھا کھڑا کیا۔ باس عذاب یرکضون وہ بھاگتے ہیں۔ اترفتم تمہیں راحتیں /آسائشیں دی گئیں۔ یویلنا اے ہماری بد نصیبی، بدبختی۔ ما زالت ہمیشہ۔ حصید کٹی ہوئی کھیتی۔ خامدین بجھنے والے، راکھ ہوجانے والے۔ لھو کھیل، کھلونا۔ نقذف ہم پھینک مارتے ہیں۔ ضرب لگاتے ہیں۔ یدمغ (دمغ) دماغ نکال دینا، سرپھوڑ دینا۔ زاھق (زھوق) مٹج انے والا۔ لایستحسرون وہ نہیں تھکتے۔ تشریح : آیت نمبر 11 تا 20 ابتدائے کائنات سے آج تک اللہ تعالیٰ کا یہی دستور رہا ہے کہ حق و باطل، سچ اور جھوٹ کے درمیان جنگ میں فتح و…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 19–21

(ف 1) حاصل مطلب یہ ہے کہ آسمان پر فرشتے، زمین پر جنات، اور انسان سب اللہ کے غلام ہیں، اور اللہ تعالیٰ ان کا مالک ہے، پھر کوئی باپ اپنی اولاد کو غلام بناکررکھتا ہے جو اللہ کی اولاد تھی اور اس نے اس کو غلام بناکررکھا ، جن فرشتوں کو یہ مشرک اللہ کی بیٹیاں کہتے ہیں ان فرشتوں کا یہ حال ہے کہ اللہ کی عظمت کے آگے وہ بالکل ناچیز، اور ہر وقت اس کی عبادت میں لگے رہتے ہیں کیا باپ کے آگے اولاد کی یہ شان ہوتی ہے جو اللہ کی عظمت کے آگے فرشتوں کی ہے پھر فرمایا اللہ کی تو وہ قدرت ہے کہ انسان ناپید تھا اللہ نے اپنی قدرت سے اس کو پیدا کردیا، مٹی کی بےجان چیزوں پتھر، لکڑی وغیرہ کے بت جوان مشرکوں نے بنائے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 18–20

[11] یعنی یہ دنیا محض کھیل تماشا نہیں بلکہ میدان کار زار ہے جہاں حق و باطل کی جنگ ہوتی ہے اور حق حملہ آور ہو کر باطل کا سر کچل ڈالتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 20–21

(ف 2) ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور قدرت کو بیان فرمایا ہے کہ کائنات کی ہر چیز اس کے قبضہ میں ہے اور وہ ساری دنی اور مافیہا کا مالک ہے اور فرشتے اس کا حکم بجا لاتے ہیں ، اور اپنے فرائض منصبی کو بڑی تندہی سے ادا کرتے ہیں ، شب وروز اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں ، اور کبھی ملال ومکدر کا اظہار نہیں کرتے ، مگر ان مشرکوں کو دیکھئے کہ بتوں کی پرستش میں لگے ہوئے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ بت ان کو قیامت کے بعد جلا دیں گے ، افسوس یہ کہ یہ لوگ اپنے فرائض بشری کو محسوس نہیں کرتے ، ورنہ فرشتوں کی طرح کسی وقت بھی اس کی اطاعت سے بےنیاز نہ ہو سکتے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-20 وہ فرشتے رات اور دن اس کی تسبیح اور تقدیس کرتے رہتے ہیں اور اس کی پاکی بیان کرتے رہتے ہیں اور وہ تسبیح و تقدیس اور اللہ تعالیٰ کی عبادت سے ٹھہرتے اور رکتے نہیں اور تسبیح کو موقوف نہیں کرتے۔ یعنی جس طرح انسان سانس لیتے ہیں اور سانس لینے میں کوئی کشقت نہیں ہوتی اور ہر وقت سانس لیتے رہتے ہیں اسی طرح فرشتے کسی وقت عبادت میں کاہلی نہیں اور ٹھہرتے نہیں یہی حالت جنت میں اہل جنت کی ہوگی کہ ذکر الٰہی ان کے سانس میں الہام کردیا جائے گا اور جنت میں بےتکلف اور بلامشقت ذکر کرتے رہیں گے آگے معبود ان باطلہ کا دور سے دلائل سے رد فرماتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 20–21

ف 4۔ جب ان کی یہ حالت ہے تو عام مخلوق تو کس شمار میں ہے، پس لائق عبادت وہی ہے اور جب کوئی دوسرا ایسا نہیں ہے تو پھر اس کا شریک سمجھنا کتنی بےعقلی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فرشتوں کی صفات کا مزید بیان بڑھایا جا رہا ہے تاکہ وہ ان کی اصلیت سمجھ جائیں : 20۔ اس سے قبل انسانوں کو ان کی زندگی کا اصل مقصد بھی سمجھایا گیا تھا کہ تمہاری پیدائش کا حاصل اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے لیکن تم نے اس کو یکسر بھلادیا پھر عبادت کا طریقہ اور عبادت کے اوقات کا بیان بھی ذکر کیا گیا جیسا کہ پیچھے آپ پڑھ آئے ہیں جو سورة طہ کی آخری آیات میں بیان ہوا تھا ، اب ان لوگوں کو بتایا جا رہا ہے کہ تمہاری عبادت کے عوض تم کو انعام دینے کا اعلان بھی ہم نے کیا اور تمہاری آخرت کو سنوار دینا بھی لازم ٹھہرایا لیکن تم نے اس کی ذرا پروانہ کی اور جو قدم اٹھایا اللہ تعالیٰ کے لائے ہوئے پروگرام کے خلاف ہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

This point has been brought to a conclusion in the next verse by saying يُسَبِّحُونَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ‌ لَا يَفْتُرُ‌ونَ , (They proclaim His purity night and day, never slackening - 21:20). Sayyidna ` Abdullah Ibn Harith ؓ عنہ said that he asked Ka` b al-Abbar ؓ how it was that angels kept reciting tasbih (proclaiming Allah's purity) all the time. Did they not have anything else to do? And if they did how could they do both things simultaneously, that is reciting tasbih and do other things. To this Ka'b replied "0 my nephew! Does performance of any of your jobs prevent you from…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–20

18. From here begins the discourse on the confirmation of Tauhid and the refutation of shirk for these were the actual bases of the conflict between the Prophet (peace be upon him) and the disbelievers of Makkah. The line of argument is this: The whole system of the universe is a clear proof that there is One Allah Who is its Creator, Sovereign, Ruler, and Lord and it is a falsehood that there are many gods who are partners in His Kingdom and Sovereignty, or that there is a Supreme God Who has under Him some minor gods to conduct the affairs of His Kingdom. This proof is also based on the…

Read the full tafseer →