Al-Anbiyaa 21:18

Al-Anbiyaa · from ayah 18

21:18

بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَی الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ ؕ— وَلَكُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ ۟بَلۡ نَـقۡذِفُ بِالۡحَـقِّ عَلَى الۡبَاطِلِ فَيَدۡمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ‌ ؕ وَلَـكُمُ الۡوَيۡلُ مِمَّا تَصِفُوۡنَ

بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر کھینچ مارتے ہیں تو وہ اس کا سر توڑ دیتا ہے اور جھوٹ اسی وقت نابود ہوجاتا ہے۔ اور جو باتیں تم بناتے ہو ان سے تمہاری ہی خرابی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Rather, We dash the truth upon falsehood, and it destroys it, and thereupon it departs. And for you is destruction from that which you describe.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anbiyaa

All translations of 21:18

مگر ہم تو باطل پر حق کی چوٹ لگاتے ہیں جو اس کا سر توڑ دیتی ہے اور وہ دیکھتے دیکھتے مِٹ جاتا ہے اور تمہارے لیے تباہی ہے اُن باتوں کی وجہ سے جو تم بناتے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر کھینچ مارتے ہیں تو وہ اس کا سر توڑ دیتا ہے اور جھوٹ اسی وقت نابود ہوجاتا ہے۔ اور جو باتیں تم بناتے ہو ان سے تمہاری ہی خرابی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر پھینک مارتے ہیں پس سچ جھوٹ کا سر توڑ دیتا ہے اور وه اسی وقت نابود ہو جاتا ہے، تم جو باتیں بناتے ہو وه تمہاری لئے باعﺚ خرابی ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

بلکہ ہم تو حق بات کو باطل پر کھینچ مارتے ہیں، جو اس کا سر توڑ ڈالتا ہے، اور وہ ایک دم مل یا میٹ ہوجاتا ہے۔ اور جو باتیں تم بنا رہے ہو، ان کی وجہ سے خرابی تمہاری ہی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینک مارتے ہیں تو وہ اس کا بھیجہ نکال دیتا ہے تو جبھی وہ مٹ کر رہ جاتا ہے اور تمہاری خرابی ہے ان باتوں سے جو بناتے ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بلکہ ہم حق سے باطل پر پوری قوت کے ساتھ چوٹ لگاتے ہیں سو حق اسے کچل دیتا ہے پس وہ (باطل) ہلاک ہو جاتا ہے، اور تمہارے لئے ان باتوں کے باعث تباہی ہے جو تم بیان کرتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینک مارتے ہیں تو وہ اس کا دماغ کچل دیتا ہے، پس اچانک وہ مٹنے والا ہوتا ہے اور تمہارے لیے اس کی وجہ سے بربادی ہے جو تم بیان کرتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بلکہ (۔۔) ہم باطل پر حق کی ضرب لگاتے ہیں تو حق باطل کا بھیجا نکال دیتا ہے اور باطل شکست کھا کر بھاگ اٹھتا ہے اور تمہارے لئے ہلاکت ہے ان باتوں کی وجہ سے جو تم بیان کرتے ہو۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بلکہ ہم حق کو باطل پر دے ماریں گے تو وہ اس کا بھیجا نکال دے گا تو دیکھو گے کہ وہ نابود ہو کے رہے گا اور تمہارے لئے اس چیز کے سبب سے، جو تم بیان کرتے ہو، بڑی خرابی ہے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلکہ ہم تو حق کی ضرب سے باطل پر ایسی چوٹ لگاتے ہیں کہ وہ اس کا سر کچل کر رکھ دیتی ہے جس سے وہ دفعتاً نابود ہوجاتا ہے اور تمہارے لئے بڑی خرابی ہے ان باتوں کی وجہ سے جو تم لوگ حق اور اہل حق کے خلاف از خود بناتے ہوف

— مولانا اسحاق مدنی

ہم تو حق کو باطل کے اوپر پھینک مارتے ہیں سو وہ اس کا بھیجا نکال دیتا ہے تو وہ دفعۃ مٹ جاتا ہے اور تمہاری (بڑی) کم بختی آئے گی اس سے کہ جو تم گڑھتے رہتے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بلکہ ہم حق کو دے مارتے ہیں باطل پر تو وہ اس کا بھیجا نکال دیتا ہے تو جبھی وہ نابود ہوجاتا ہے اور تمہارے لیے تباہی ہے اس کی وجہ سے جو تم لوگ بیان کر رہے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

نہیں ‘ بلکہ ہم حق کو باطل پر کھینچ مارتے ہیں تو وہ اس کا سر توڑ دیتا ہے اور جھوٹ اسی وقت مٹ جاتا ہے اور جو باتیں تم بناتے ہو ان سے تمہاری ہی خرابی ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Nay, We hurl the Truth at falsehood so that the Truth crushes falsehood, and lo! it vanishes. Woe to you for what you utter!

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Instead, We launch the truth against falsehood, which gets it smashed, and in no time it is gone. Alas to you for what you describe!

— Muhammad Taqi Usmani

Instead, We launch the truth against falsehood, which gets it smashed, and in no time it is gone. Alas to you for what you describe!

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Nay, We fling the truth against the falsehood, so it destroys it, and behold, it disappears. And woe to you for that which you ascribe.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Nay, but We hurl the true against the false, and it doth break its head and lo! it vanisheth. And yours will be woe for that which ye ascribe (unto Him).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Rather, We dash the truth upon falsehood, and it destroys it, and thereupon it departs. And for you is destruction from that which you describe.

— Saheeh International

We bring forward the Truth to crush and destroy falsehood; it is doomed to be banished. Woe to you for your way of thinking about God!

— Muhammad Sarwar

Nay! We cast the truth against the falsehood, so that it breaks its head, and lo! it vanishes; and woe to you for what you describe;

— Muhammad Habib Shakir

Aye! We hurl truth against false hood, so that it braineth it, and lo! it vanisheth; and to you be the woe for that which ye utter!

— Abdul Majid Daryabadi

Nay, We hurl the Truth against falsehood, and it knocks out its brain, and behold, falsehood doth perish! Ah! woe be to you for the (false) things ye ascribe (to Us).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 21:18

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 16–20

آسمان و زمین کوئی کھیل تماشہ نہیں آسمان و زمین کو اللہ تعالیٰ نے عدل سے پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا دے۔ اس نے انہیں بیکار اور کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ اور آیت میں اس مضمون کے ساتھ ہی بیان ہے کہ یہ گمان تو کفار کا ہے جن کے لئے جہنم کی آگ تیار ہے۔ دوسری آیت کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ اگر ہم کھیل تماشہ ہی چاہتے تو اسے بنالیتے۔ ایک معنی یہ ہیں کہ اگر ہم عورت کرنا چاہتے۔ لہو کے معنی اہل یمن کے نزدیک بیوی کے بھی آتے ہیں۔ یعنی یہ دونوں معنے ہے اگر بیوی بنانا چاہتے تو حورعین میں سے جو ہمارے پاس ہے کسی کو بنا لیتے۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ اگر ہم اولاد چاہتے۔ لیکن یہ دونوں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْبِیَآء 17 یعنی ہم بازی گر نہیں ہیں، نہ ہمارا کام کھیل تماشا کرنا ہے۔ ہماری یہ دنیا ایک سنجیدہ نظام ہے جس میں کوئی باطل چیز نہیں جم سکتی۔ باطل یہاں جب بھی سر اٹھاتا ہے، حقیقت سے اس کا تصادم ہو کر رہتا ہے اور آخر کار وہ مٹ کر ہی رہتا ہے، اس دنیا کو اگر تم تماشا گاہ سمجھ کر جیو گے، یا حقیقت کے خلاف باطل نظریات پر کام کرو گے تو نتیجہ تمہاری اپنی ہی تباہی ہوگا۔ نوع انسانی کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لو کہ دنیا کو محض ایک تماشا گاہ، محض ایک خوان نعیم، محض ایک عیش کدہ سمجھ کر جینے والی، اور انبیاء کی بتائی ہوئی حقیقت سے منہ موڑ کر باطل نظریات پر کام کرنے والی قومیں پے در پے کس انجام سے دو چار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

بَلْ نَقْذِفُ بالْحَقِّ عَلَي الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ، قذف کے لغوی معنی پھینکنے اور پھینک مارنے کے، یدمغ کے معنے دماغ پر ضرب لگانے کے ہیں اور زاہق کے معنے جانے والا اور بےنام و نشان ہوجانے والا۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ زمین و آسمان کی عجیب و غریب کائنات ہم نے کھیل کے لئے نہیں بلکہ بڑی حکمتوں پر مبنی کر کے بنائی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان کے ذریعہ حق و باطل کا امتیاز ہوتا ہے، مصنوعات قدرت کا مشاہدہ انسان کو حق کی طرف ایسی رہبری کرتا ہے کہ باطل اس کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا۔ اسی مضمون کی تعبیر اس طرح کی گئی ہے کہ حق کو باطل کے اوپر پھینک مارا جاتا ہے جس سے باطل کا دماغ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اصل حقیقت کا بیان دمغ کے معنی کسی کو اس طرح مارنے اور زخمی کرنے کے ہیں کہ وہ اس کا بھیجا نکال دے۔ فرمایا کہ تم جو اس دنیا کو ایک کھیل تماشا سمجھے بیٹھے ہو، یہ خیال بالکل باطل ہے۔ اس میں ہم نے حق کے ساتھ باطل کو جو مہلت دے رکھی ہے تو اس وجہ سے نہیں کہ ہمارے نزدیک حق و باطل دونوں یکساں ہیں بلکہ یہ محض تمہایر امتحان کے لئے ہے کہ دیکھیں کون حق کی راہ اختیار کرتا ہے اور کون باطل کا پرستار بنتا ہے۔ بالآخر ایک دن آئے گا جب تم دیکھو گے کہ ہم حق کا ہتھوڑا باطل کے سر پر اس طرح ماریں گے کہ وہ باطل کا بھیجا نکال کر رکھ دے گا اور جس طرح تم دیکھتے ہو کہ دماغ پر ضرب کاری آدمی کو آنا فاناً ختم کردیتی ہے اسی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

18۔ 1 یعنی تخلیق کائنات کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد یہ ہے کہ یہاں حق و باطل کی جو معرکہ آرائی اور خیرو شر کے درمیان جو تصادم ہے، اس میں ہم حق اور خیر کو غالب اور باطل اور شر کو مغلوب کریں چناچہ ہم حق کو باطل پر یا سچ کو جھوٹ پر یا خیر کو شر پر مارتے ہیں، جس سے باطل، جھوٹ اور شر کا بھیجہ نکل جاتا ہے اور چشم زدن میں وہ نابود ہوجاتا ہے۔ 18۔ 2 یعنی رب کی طرف سے تم جو بےسرو پا باتیں منسوب کرتے یا اس کی بابت باور کراتے ہو، (مثلاً یہ کائنات ایک کھیل ہے، ایک کھلنڈرے کا شوق فضول ہے وغیرہ) یہ تمہاری ہلاکت کا باعث ہے۔ کیونکہ اسے کھیل تماشہ سمجھنے کی وجہ سے تم حق سے گریز اور باطل کو اختیار کرنے میں کوئی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 18–20

8: یعنی کھیل دل لگی ہمارا کام نہیں ہے۔ ہم تو جو کام کرتے ہیں، وہ حق ہی حق ہوتا ہے۔ اور اس کے مقابلے میں باطل آتا ہے تو حق ہی کے ذریعے اس کا توڑ کیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

بل نقذف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زاھق (12 : 81) ” مگر ہم باطل پر حق کی چوٹ لگاتے ہیں جو اس کا سر توڑ دیتی ہے اور وہ دیکھتے دیکھتے مٹ جاتا ہے “۔ نحو میں لفظ بل اضراب کے لیے آتا ہے یعنی ایک بات کو چھوڑ کر متکلم دوسری بات لیتا ہے۔ یعنی لہو کی بات چھوڑ کر بتایا جاتا ہے کہ اصل حقیقت یہ ہے کہ یہاں حق و باطل کی کشمکش ہے اور سنت الہیہ یہ ہے کہ اس کشمکش میں حق کو غلبہ نصیب ہو۔ اس منظر کا انداز تعبیر نہایت ہی حسی محسوس ہونے والا ‘ زندگی سے بھرپور اور حرکت سے بھر پور ہے۔ نقشہ کچھ یوں ہے کہ سچائی ایک گولہ ہے جو دست قدرت میں ہے ‘ قدرت اسے پھینکتی ہے ‘ یہ باطل کے سر پر لگتا ہے اور اس کے دماغ کو پھوڑ کر رکھ دیتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 17–18

1 یعنی اگر ایسے لہو ولعب کے کام بالفرض ہماری شان کے لائق ہوتے اور ہم ارادہ بھی کرتے کہ یوں ہی کوئی مشغلہ اور کھیل تماشا بنا کر کھڑا کردیں تو یہ چیز ہم بذات خود اپنی قدرت سے کر گزرتے۔ تمہاری داروگیر اور پکڑودھکڑ سے اس کو کچھ سروکار نہ ہوتا۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ دنیا محض کھیل تماشا نہیں بلکہ میدان کارزار ہے۔ جہاں حق و باطل کی جنگ ہوتی ہے۔ حق حملہ آور ہو کر باطل کا سر کچل ڈالتا ہے۔ اسی سے تم اپنی مشرکانہ اور سفیہانہ باتوں کا انجام سمجھ لو کہ حق و صداقت کا گولا جب پوری قوت سے تم پر گرے گا اس وقت کیسی خرابی اور بربادی تمہارے لیے ہوگی۔ اور کون سی طاقت بچانے آئے گی (تنبیہ) لَوْاَرَدْنَآ اَن…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 17–18

آیت 18 بَلْ نَقْذِفُ بالْحَقِّ عَلَی الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُہٗ فَاِذَا ہُوَ زَاہِقٌ ط ” یہ تاریخ انسانی کا قرآنی فلسفہ ہے۔ دوسری طرف ایک نظریہ سپنگلر کا بھی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ قوموں کی زندگی ایک فرد کی زندگی سے مشابہ ہے۔ جس طرح ایک بچہ پیدا ہوتا ہے ‘ بچپن گزارتا ہے ‘ جوانی کو پہنچتا ہے ‘ بوڑھا ہوتا ہے اور پھر مرجاتا ہے ‘ ایسے ہی دنیا میں قومیں اور ان کی تہذیبیں پیدا ہوتی ہیں ‘ ترقی کرتی ہیں ‘ بام عروج پر پہنچتی ہیں ‘ اور پھر کمزوریوں اور خرابیوں کے باعث زوال پذیر ہو کر ختم ہوجاتی ہیں۔ اس ضمن میں کارل مارکس نے جو Dialectical Materialism کا نظریہ وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو الرعد : 17 کی تشریح پیش…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

15 بلکہ تخلیق کائنات کا اصل مقصد یہ ہے کہ یہاں میدان کار زار گرم ہو۔ حق و باطل کا معرکہ جاری رہے۔ حق باطل پر حملہ آور ہو اور اس کا کچھومر نکال کر بھاگنے پر مجبور کردے۔ پھر جن لوگوں نے حق کا ساتھ دیا ہو۔ اللہ انھیں اپنے انعامات سے نوازے اور اہل باطل کو تباہ و برباد کردے۔ یہاں ایک اشتباہ پیدا ہوتا ہے کہ اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ باطل قوتیں ہی غالب نظر آتی ہیں اور حق دبا رہتا ہے۔ انبیاء یا بعض دوسرے مصلحین آتے ہیں حق و باطل کا معرکہ ہوتا ہے اور حق غالب آجاتا ہے لیکن تھوڑی دیر بعد پھر باطل سر نکال لیتا ہے اور حق دب جاتا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ حق کی راہ صرف ایک ہے اور وہ ہے اللہ کی وحدانیت اور اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

23۔ (یعنی تمہارے شرک سے) یہ کائنات تماشاگاہ، تفریح گاہ نہیں، حق و باطل، صدق وکذب، نور وظلمت کی جنگ گاہ، معرکہ گاہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–23

آیت نمبر 11 تا 23 ترجمہ : اور کتنی ہی بستیوں کو یعنی بستی والوں کو جو ظالم یعنی کافر تھے تباہ یعنی ہلاک کردیا اور ان کے بعد دوسری قوم پیدا کردی تو ان ظالموں نے جب ہمارا عذاب آتا دیکھا یعنی بستی والوں نے جب ہلاکت کو محسوس کیا تو اس بستی سے تیزی سے بھاگنا شروع کردیا تو فرشتوں نے ان سے بطور استہزاء کے کہا بھاگو مت اور اپنے سامان کی طرف جس میں تم کو آسودگی دی گئی تھی اور اپنے مکانوں کی طرف واپس چلو تاکہ دنیا کے دستور کے مطابق تم سے کچھ پوچھ تاچھ کی جائے تو وہ لوگ کہنے لگے ہائے ہماری کمبختی (یا تنبیہ کے لئے ہے) یعنی ہماری ہلاکت بیشک ہم کفر کے ذریعہ ظلم کرنے والے تھے پھر تو انہی کلمات کی رٹ لگاتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

بل نقذف بالحق علی الباطل فیدمغہ فاذا ہو زاہق بلکہ ہم حق بات کو باطل پر پھینک مارتے ہیں سو وہ (حق) اس (باطل) کا بھیجا نکال دیتا ہے سو وہ مغلوب ہو کر دفعتاً جاتا رہتا ہے۔ اس کا عطف سابق کلام پر ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ ہم کھیل کرنے والے نہیں۔ بلکہ باطل کو حق پردے مارتے ہیں۔ حق سے مراد ہے وہ آیات جو اللہ کی تنزیہ اور پاکی کو ثابت کر رہی ہیں اور اللہ کا بیوی بچوں سے پاک ہونا جن سے ظاہر ہو رہا ہے۔ قذف کا معنی ہے دے پٹکنا ‘ پھینک مارنا۔ الباطل سے مراد ہے کفر اور جھوٹ اور یہ قول کہ اللہ کے بیوی بچے ہیں۔ یَدْمَغُیعنی اس کو فنا کردیتا ہے۔ وَمْغٌ سر توڑ دینا ‘ بھیجا کچل دینا جس سے ہلاکت واقع ہوجائے۔ مجازراً…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(18) بلکہ ہم اس حق بات کو باطل بات پر پھینک مارتے ہیں سو وہ حق اس باطل کا خاتمہ کردیتا ہے یا یہ کہ ہم نے اثبات حق اور ایطال باطل کے لیے پیدا کیا ہے اور تمہارے لیے اس بات پر بڑا عذاب ہوگا جو تم کہتے ہو کہ عیاذ باللہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

بَلْ نَقْذِفُ بالْحَقِّ۔۔ : ”قَذَفَ یَقْذِفُ“ (ض) کا معنی کسی چیز کو سختی کے ساتھ پھینک مارنا۔ ”فَيَدْمَغُهٗ“ ”دَمَغَ یَدْمَغُ“ (ف) کسی چیز کا دماغ کو توڑنا، یہاں تک کہ اس کی وہ جھلی پھٹ جائے جس کے پھٹنے سے روح نکل جاتی ہے۔ ”زَاهِقٌ“ ”زُھُوْقٌ“ کا معنی کسی چیز کا مکمل طور پر ختم ہوجانا ہے۔ یعنی ہم نے اس کائنات کو بےمقصد نہیں بنایا، بلکہ اس میں حق و باطل کا معرکہ جاری ہے اور اس کا نظام ہم نے اس طرح بنایا ہے کہ باطل نے جب بھی سر اٹھایا حق نے ضرب کاری لگا کر اسے نیست و نابود کردیا۔ اسی طرح اب بھی بالآخر باطل فنا ہوجائے گا اور حق قائم و دائم رہے گا۔ ”فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ“ میں ”إِذَا“ فجائیہ یعنی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بل نقذف بالحق علی الباطل، القذف کا معنی ہے پھینکنا، یعنی ہم حق کو باطل پر مارتے ہیں۔ فیدمغہ تو وہ اسے ہلاک کردیتا ہے۔ الدمغ سر کے زخم کو کہتے ہیں۔ یہاں الحق سے مراد قرآن ہے اور باطل سے مراد شیطان ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : باطل وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی صافت کے علاوہ صفات کرتے تھے۔ (مثلاً یہ کہ) اس کا بیٹا تو ان کی اللہ تعالیٰ نے تکذیب کی۔ بعض نے فرمایا : الحق سے مراد حجت ہے۔ باطل سے مراد ان کی شبہات ہیں۔ بعض نے فرمایا : الحق سے مراد مواعظ ہیں۔ باطل سے مراد معاصی ہیں۔ یہ معانی قریب قریب ہیں۔ قرآن حجت اور مواعظ کو متضمن ہے۔ فاذا ھوا ذاھق یعنی باطل ہلاک ہونے والا ہے اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 17–20

1:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لواردنا ان نتخذ لھوا “ میں لہو سے مراد ہے بیٹا۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے (آیت) ” لواردنا ان نتخذ لھوا “ کے بارے میں فرمایا کہ اگر میں ارادہ کرتا کہ اپنے لئے بیٹا بناوں تو میں فرشتوں کو اپنا بیٹا بناتا۔ 3:۔ عبد بن حمید اور ابن منذر نے حسن ؓ سے (آیت) ” لواردنا ان نتخذ لھوا “ کے بارے میں فرمایا کہ لھوا سے مراد ہے عورتیں۔ 4:۔ ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ یمن کی زبان میں لھو سے مراد عورت ہے۔ 5:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” لواردنا ان نتخذ لھوا “ کے بارے میں فرمایا کہ یمن والوں کی لغت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ بَلْ : بلکہ ] [ نَقْذِفُ : ہم پھینک مارتے ہیں ] [ بِالْحَقِّ : حق کو ] [ عَلَي الْبَاطِلِ : باطل پر ] [ فَيَدْمَغُهٗ : تو وہ بھیجہ پلپلا کردیتا ہے اس کا ] [ فَاِذَا : پھر تب ] [ هُوَ : وہ ] [ زَاهِقٌ: مٹنے والا ہوتا ہے ] [ وَلَكُمُ : اور تم لوگوں کے لئے ] [ الْوَيْلُ : تباہی ہے ] [ مِمَا : اس سے جو ] [ تَصِفُوْنَ : تم لوگ بتاتے ہو ] [ د م غ ] (ف) دَمْغًا دماغ تک زخمی کرنا۔ بھیجہ پلپلا کردینا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 18 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 18–20

اثبات توحید، ابطال شرک اور حق کی فتح یابی ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ ہم نے جو آسمان و زمین پیدا کیے ہیں ان کا پیدا کرنا کوئی فعل عبث کے طور پر نہیں ہیں بلکہ اس میں بڑی حکمتیں ہیں جن میں ایک بہت بڑی حکمت یہ ہے کہ ان کے وجود اور ان کی بڑائی اور پھیلاؤ سے ان کے خالق کو پہچانیں۔ اگر آسمان و زمین کے بنانے سے کوئی حکومت مقصود نہ ہوتی محض ایک مشغلہ ہی کے طور پر بنانا مقصود ہوتا تو ہم اپنے پاس سے کسی چیز کو مشغلہ بنا لیتے لیکن ہمیں یہ کرنا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات عالی صفات اس سے برتر اور بالا ہے کہ وہ کسی چیز کو بطور لہو و لعب پیدا فرمائیں اور کسی چیز کو بطور لہو و لعب کے اختیار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–29

بیان توحید و ابطال شرک قال اللہ تعالیٰ وما خلقنا السماء والارض وما بینھما لعبین .... الیٰ .... کذلک نجزی الظلمین۔ (ربط) ابتداء سورت سے لیکر یہاں تک کا مضمون تحقیق نبوت و رسالت سے متعلق تھا، اب آئندہ آیات میں توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال فرماتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ آسمان و زمین کی پیدائش میں غوروفکر کرو تاکہ تم کو اللہ کی معرفت حاصل ہو عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام چیزیں اللہ کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں۔ (یا یوں کہو) کہ گزشتہ آیات میں کفار کی غفلت اور اعراض اور ان کے لہو ولعب کو بیان کیا اب آگے یہ بیان کرتے ہیں کہ عالم کی پیدائش کھیل تماشہ نہیں بلکہ حق اور باطل میں فرق کرنے کے لیے یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 16–18

14:۔ توحید پر عقلی دلائل :۔ اس سورت میں توحید پر تین عقلی دلیلیں ذکر کی گئی ہیں۔ یہ پہلی عقلی دلیل ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ ہم نے زمین و آسمان اور ساری کائنات کو یونہی بےمقصد اور کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا اگر یہ سب کچھ محض کھیل ہوتا تو ہم اسے اپنے پاس رکھتے اور کسی کو اس کا علم تک نہ ہونے دیتے۔ اور نہ کسی کو دکھاتے۔ بلکہ ہم نے یہ ساری کائنات اظہار حق اور توحید پر استدلال کے لیے پیدا کی تاکہ بندے اس سے ہماری وحدانیت پر استدلال کرسکیں اور حق (توحید اور دین اسلام) باطل (کفر و شرک) پر غالب آسکے اس کائنات میں بندوں کے لیے عبرت و موعظت ہے کہ معبود برحق اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ جس نے ساری کائنات کو پیدا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–18

ربط آیات : سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے محاسبہ اعمال کا ذکر کیا کہ لوگوں کے حساب کتاب کی منزل قریب آچکی ہے۔ مگر یہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ قرب قیامت کا احساس اس وجہ سے ہے کہ اللہ کا آخری نبی اور اس کی آخری کتاب آچکی ہے اور اب قیامت کبریٰ کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں۔ جہاں تک انفرادی حساب کتاب کا تعلق ہے تو یہ انسان کی انفرادی موت کے ساتھ ہی شروع ہوجاتا ہے لہٰذا حساب کتاب کی منزل کا قریب ہونا اس لحاظ سے بھی درست ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں کی خفیہ میٹنگوں کا ذکر کیا کہ وہ اسلام کو ناکام بنانے کی ہر ممکن منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ ان کا ایک نظریہ یہ بھی تھا کہ ہم ایک انسان کو کیسے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَي الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُہٗ فَاِذَا ہُوَزَاہِقٌ۝ 0ۭ وَلَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ۝ 18 قذف الْقَذْفُ : الرّمي البعید، ولاعتبار البعد فيه قيل : منزل قَذَفٌ وقَذِيفٌ ، وبلدة قَذُوفٌ: بعیدة، وقوله : فَاقْذِفِيهِ فِي الْيَمِ [ طه/ 39] ، أي : اطرحيه فيه، وقال : وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ [ الأحزاب/ 26] ، بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْباطِلِ [ الأنبیاء/ 18] ، يَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَّامُ الْغُيُوبِ [ سبأ/ 48] ، وَيُقْذَفُونَ مِنْ كُلِّ جانِبٍ دُحُوراً [ الصافات/ 8- 9] ، واستعیر القَذْفُ للشّتم والعیب کما استعیر الرّمي . ( ق ذ) القذف ( ض ) کے معنی دور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–20

2 ؎ یعنی کھیلنے کے لیے عالمِِغیب کی چیزیں فرشتے اور بہشت کی مخلوق اور روحانیات کیا کم تھے عالم غیب کی چیزوں کو اپنے پاس کی چیزیں اس لیے کہا کہ عالم محسوس کی بہ نسبت عالم ملکوت تو اس سے قریب ہے۔ عرب کے بعض قبائل اولاد اور بیوی کو لھو کہا کرتے ہیں اس لیے کہ دراصل انسان کے کھیلنے دل خوش کرنے کی یہی چیزیں ہیں۔ اس تقدیر پر یہ مطلب کہ کھیلنا ہی ہوتا تو اپنے پاس کے لوگوں کو بیوی بیٹا بنا کر نہ کھیلتے اس میں ان لوگوں پر تعریض ہے جو مخلوق کو اس کی بیوی یا بیٹا کہتے ہیں۔ 12 حقانی

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَی الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُہٗ فَاِذَا ھُوَزَاھِقٌ ط وَلَـکُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ ۔ (الانبیاء : 18) (بلکہ ہم حق سے باطل پر چوٹ لگاتے ہیں، پس وہ اسے کچل دیتا ہے، پھر وہ دیکھتے دیکھتے نابود ہوجاتا ہے اور تمہارے لیے تباہی ہے ان باتوں کی وجہ سے جو تم بیان کرتے ہو۔ ) آیت کے دو مفہوم اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا ایک سنجیدہ نظام سے چل رہی ہے۔ انسان کی سرشت میں نیکی کا پہلو غالب رکھا گیا ہے۔ بدی کی طرف اس کا میلان اس وقت بڑھتا ہے جب نیکی کے لیے کام کرنے والے نیکی کے فروغ میں کوتاہی کرتے ہیں۔ اس کائنات کی سرشت کے مطابق کوئی باطل چیز یہاں جم نہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–18

فہم القرآن ربط کلام : پہلی اقوام کی تباہی کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ ہلاک ہونے والے سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو کھیل تماشا کے طور پر بنایا ہے اور دنیا ہمیشہ اس طرح ہی رہے گی۔ حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا ہلاک ہونے والے لوگ فکری یا عملی طور پر سمجھتے تھے کہ اس دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی تفریح یا محض اپنی قدرت کے اظہار کے طور پر پیدا کیا ہے۔ دنیا کی تو کوئی انتہا نہیں اور نہ اس کا انجام۔ اسی اعتقاد کی وجہ سے وہ لوگ دنیا پر اس قدر راضی اور قانع ہوئے کہ انھوں نے اپنے اور زمین و آسمان کے خالق کو نا صرف یکسر طور پر فراموش کردیا بلکہ اس کی بغاوت کرنے میں انتہا کردی۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

18: بَلْ (بلکہ) اتخاذ لہو سے اعراض اور اس کی ذات کے اس سے منزہ ہونے کو بیان کیا گویا اس طرح فرمایا سبحاننا ان نتخذ اللھو (کھیل بنانے سے تو ہم پاک ہیں۔ ) بلکہ ہمارا طریقہ یہ چلا آرہا ہے کہ نَقْذِفُ (ہم پھینکتے ہیں) اور مسلط کرتے ہیں۔ بِالْحَقِّ (حق کو) قرآن کو عَلَی الْبَاطِلِ (باطل پر) شیطان پر نمبر 2۔ اسلام کو شرک پر نمبر 3۔ حقیقت کو کھیل پر فَیَدْ مَغُہٗ (پس وہ اس کا بھیجا نکال دیتا ہے) وہ اس کو توڑ دیتا۔ حق باطل کو کچل دیتا ہے۔ استعارہ لطیفہ : الدمغ اور القذف کا استعمال اصل میں اجسام کیلئے ہوتا ہے پھر استعارۃً قذفؔ کو حق کے باطل پر وار کرنے کے لئے لائے۔ اور الدمغ کو باطل کے دور اور ختم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 18۔ بل، ، ان باتوں کو چھوڑ دیجئے جو انہوں نے کہا، کیونکہ یہ جھوٹ اور باطل ہے نقذف ہم پھینکتے ہیں یا مسلط کردیتے ہیں ۔ بالحق ، حق سے مراد ایمان ہے۔ علی الباطل، اس سے مراد کفر ہے۔ بعض نے کہا کہ حق سے مراد اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کیونکہ اس کی کوئی اولاد نہیں ۔ باطل سے مراد کفر اور جھوٹ ہے۔ فیدمغہ، اس کو فنا کردیتا ہے۔ دمغ، اصل میں کہاجاتا ہے سرتوڑ دینا، بھیجاکچل دیناجس سے ہلاکت واقع ہوجائے۔ فاذا ھوزاھق، ہلاک ہونے والاجس کانشان بھی باقی نہ رہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کا کذ ب باطل ہوگیا حق کے ظاہر ہونے کے ساتھ۔ یہاں تک کہ وہ تباہ اور ہلاک ہوگیا۔ ولکم الویل، اے کفار کے گروہ، مماتصفون، جو نامناسب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–18

16۔ 18:۔ مشرکین مکہ نے جس طرح ملت ابراہیمی کی اور باتوں کو دل سے بھلا دیا تھا ‘ اسی طرح حشر اور قیامت کے مسئلہ کو بھی بھلا دیا تھا۔ اس لیے قرآن شریف میں حشر اور قیامت کی باتیں سن کر وہ طرح طرح کی عقبی بحث کرتے تھے ‘ چناچہ ایک شخص ابی بن خلف ایک روز ایک پرانی گلی ہوئی ہڈی آنحضرت ﷺ کے روبرو لایا اور اس ہڈی کو مل مل کر ہڈی کی راکھ ہوا میں اڑاتا جاتا تھا ‘ اور کہتا تھا ‘ کیا یہ راکھ محمد کا خدا پھر زندہ کرے گا ‘ اس قصہ کا ذکر مفصل سورة یس میں آوے گا اور اسی طرح کی بہت عقلی بحثیں ان لوگوں کی قرآن شریف میں کئی جگہ ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں اور بہت سی قرآن کی آیتوں میں ان کو قلی طور پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 18–20

آیت 18-20 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے احقاق حق اور ابطلال باطل کی ذمہ داری لی ہے۔ باطل خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اللہ تعالیٰ حق، علم اور بیان نازل کرتا ہے، جس سے باطل پر ضرب لگتی ہے پس باطل مضمحل ہوجاتا ہے اور اس کا بطلان ہر ایک پر ظاہر ہوجاتا ہے ( فاذا ھوا زاھق) یعنی مضمحل ہو کر فنا کے گھاٹ اتر جاتا ہے اور تمام دینی مسائل میں یہی اصول عام ہے، جب بھی کوئی باطل پرست شخص باطل کو حق ثابت کرنے یا حق کو رد کرنے کے لئے کوئی عقلی یا نقلی شبہ وارد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے عقلی اور نفلی دلائل میں اتنا زور ہوتا ہے کہ وہ اس قول باطل کو زائل کر کے اس کا قلع قمع کردیتا ہے اور یوں اس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 17–19

19 کائنات کی تخلیق بےمقصد نہیں ہوسکتی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر کہیں ہمیں کھیل تماشا ہی مقصود ہوتا تو ہم اس کیلئے اور کوئی چیز بنالیتے "۔ اور اس کے لئے ہمیں حکمتوں بھری اس عظیم الشان کائنات کو پیدا کرنے کی ضرورت نہ ہوتی۔ سو یہ سب کچھ کھیل تماشہ کے طور پر ہرگز نہیں ہوسکتا۔ (ابن کثیر، مراغی، محاسن التاویل وغیرہ) ۔ بلکہ اس کی تخلیق عظیم الشان حکمتوں پر مبنی ہے جن میں سب سے اہم اور بنیادی مقصود دو چیزیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس کائنات میں اور اس میں پائے جانے والے عجائب وغرائب میں غور و فکر سے کام لیکر انسان اپنے خالق ومالک کی معرفت حاصل کرے اور پھر اسی کی ہدایت وتعلیمات کے مطابق دل و جان سے اس کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–29

غافل لوگ، عقیدہ آخرت اور انبیاء کا رد کرنیوالوں کا انجام تشریح : ان آیات میں ان عربی بدوئوں کے اعتقادات ‘ اعتراضات ‘ ہٹ دھرمی اور دین سے نفرت کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) کو نبوت دی گئی اور اس کے بعد تمام انبیاء نے لوگوں کو توحید کا سبق دیا اور سب سے آخر میں سیدنا محمد ﷺ تشریف لائے۔ انہوں نے بھی توحید کا ہی سبق دیا۔ جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا تھا کہ جب بھی کوئی نبی اور رسول کسی قوم کی طرف بھیجا جاتا تو لوگوں میں تین گروہ پیدا ہوجاتے یعنی مومن کافر اور منافق۔ منافقین دونوں طرف گھومتے رہتے کفار اعتراضات اور مخالفت رسول میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے جیسا کہ کفار مکہ نے آپ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–29

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف اور کتنی بستیاں تھیں جو ان سے پہلے ایسے ہی افعال پر اور ان جیسے کردار کے باعث تباہ کردی گئیں اور معمورہ عالم آباد بھی رہا ان کی جگہ اور پیدا کردیے ان ظالموں نے بھی عذاب کو واقع ہوتے دیکھا تب یقین آیا اور لگے بھاگ بھاگ کر جان بچانے مگر اللہ جل جلالہ کی گرفت سے کون بھاگ سکتا ہے بلکہ ارشاد ہوتا ہے مت بھاگو اپنے مکان اور عیش و عشرت کو کیوں چھوڑتے ہو آج اپنے ہمدرد تلاش کرو مگر وہ کہتے تھے کہ ہماری بدبختی کہ ہم نے ظلم کا راستہ اختیار کیا اور یونہی شور مچاتے رہے کہ عذاب الہی نے پیس کر رکھ دیا جیسے کٹے ہوئے کھیت ہوں یا بجھی ہوئی آگ ، بعض مفسرین کرام نے یمن کی بستیاں مراد لی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 یعنی تکوین عالم بےمقصد نہیں ہے بلکہ اس میں حق باطل کا معرکہ جاری ہے اور اس کا نظام ہم نے اس طور پر بنایا ہے کہ باطل نے جب بھی سر اٹھایا حق نے ضرب کاری لگا کر اسے نیت و نابود کردیا۔ اسی طرح اب بالاخر باطل فنا ہوجائے گا اور حق کو دوام و ثبات نصیب ہوگا۔9 ینی اگر تم حق کو چھوڑ کر باطل کا ساتھ دو گے اور ہماری کسی مخلوق کو ہمارا شریک یا بیوی یا بیٹا قرار دو گے تو نتیجہ تمہاری تباہی کی صورت میں ظاہر ہوگا، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(21:18) نقذف۔ مضارع جمع متکلم قذف مصدر (باب ضرب) ہم پھینک مارتے ہیں قذف کے اصل معنی تیر کو دور پھینکنے کے ہیں۔ پھر تیر کی شرط کو ساقط کر کے مطلق پھینکنے، ڈالنے اور اتارنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ مجازا اس کے معنی گالی دینا۔ تہمت زنا لگانا۔ اور کسی کو عیب کی طرف منسوب کرنا بھی مراد لئے جاتے ہیں۔ مثلاً قرآن مجید میں ہے فاقذ فیہ فی الیم (20:39) پھر اس صندوق کو دریا میں ڈال دو ۔ اور یقذف بالحق (34:48) وہ (اوپر سے) حق اتارتا ہے اور ویقذفون من کل جانب دحورا (37:8) اور ہر طرف سے (ان پر انگارے) پھینکے جاتے ہیں۔ بل نقذف بالحق علی الباطل۔ بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر کھینچ مارتے ہیں۔ فیدمغہ۔ مضارع واحد…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–20

لغات القرآن آیت نمبر 11 تا 20 قصمنا (قصم) ہم نے توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ ظالمۃ ظلم و زیادتی، بدکاری کرنے والی۔ انشانا ہم نے اٹھا کھڑا کیا۔ باس عذاب یرکضون وہ بھاگتے ہیں۔ اترفتم تمہیں راحتیں /آسائشیں دی گئیں۔ یویلنا اے ہماری بد نصیبی، بدبختی۔ ما زالت ہمیشہ۔ حصید کٹی ہوئی کھیتی۔ خامدین بجھنے والے، راکھ ہوجانے والے۔ لھو کھیل، کھلونا۔ نقذف ہم پھینک مارتے ہیں۔ ضرب لگاتے ہیں۔ یدمغ (دمغ) دماغ نکال دینا، سرپھوڑ دینا۔ زاھق (زھوق) مٹج انے والا۔ لایستحسرون وہ نہیں تھکتے۔ تشریح : آیت نمبر 11 تا 20 ابتدائے کائنات سے آج تک اللہ تعالیٰ کا یہی دستور رہا ہے کہ حق و باطل، سچ اور جھوٹ کے درمیان جنگ میں فتح و…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 16–18

(ف 1) شان نزول : مشرکین مکہ اور بہت سے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ انسان وغیرہ سب چیزن آپ ہی پیدا ہوتی ہیں ، اور آپ ہی مرجاتی ہیں، خدا کو انسان کے نیک وبد سے کیا غرض اور رسولوں کے بھیجنے سے کیا مطلب ، پھر جو کوئی قوم یا شہر برباد ہوا، اس میں کسی کے گناہ یا ثواب کا کیا دخل۔ یہ سب باتیں اسباب ارضی وسماوی سے ہوتی ہیں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں، اور فرمایا کہ آسمان اور زمین اور ان کے اندر کی کائنات از خود تو پیدا ہو ہی نہیں گئی، مطلب یہ کہ ادنی سے عقل کا آدمی دنیا میں کوئی کام کرتا ہے تو کوئی مطلب اس کام کے کرنے سے اپنے دل میں ضرور ٹھان لیتا۔ مثلا کھیتی کرتا ہے تواناج حاصل…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 18–20

[11] یعنی یہ دنیا محض کھیل تماشا نہیں بلکہ میدان کار زار ہے جہاں حق و باطل کی جنگ ہوتی ہے اور حق حملہ آور ہو کر باطل کا سر کچل ڈالتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 18–19

کائنات کا ایک مقصد ہے : (ف 1) اسلام نکتہ نگاہ سے یہ دنیا اور اس کی تمام آرائشیں بغیر کسی مقصد کے نہیں ہیں ، یہ آفتاب کا طلوع و غروب ، ستاروں کا چمکنا اور جھلملانا یہ آسمان کا سقف زرنگار ، اور یہ اتنی بڑی زمین کا پھیلاؤ پہاڑ ، درخت ندی ، نالے ، اور طیور وبہائم ، ان سب چیزوں کو آخر خدا نے کیوں پیدا کیا ہے ، کیا یہ محض دلچسپی کے لئے ہے اور اتنے بڑے نظام سے کوئی فائدہ مقصود نہیں ، ؟ قرآن حکیم اس کا یہ جواب دیتا ہے ، کہ اس کائنات کا ایک مقصد ہے یہ محض اتفاقیہ امور نہیں بلکہ قدرت کاملہ اور شعور بالغہ ہے ۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ کائنات میں تمہیں ایک نظام وترتیب نظر آتی ہے ، زینت و آرائش معلوم ہوتی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 18 زمین و آسمان اور ان کی درمیانی چیزوں کو عبث اور کھیل نہیں بنایا بلکہ حق کو باطل کی آویزش میں حق کو ثابت کرنا مقصود ہے لہٰذا اثبات حق کے لئے ہم حق کو باطل پر کھینچ مارتے ہیں اور وہ حق اس باطل کا سر کچل دیتا ہے اور اس کا بھیجا نکال دیتا ہے اور وہ باطل اچانک نابود ہوجاتا ہے اور جو بےبنیاد باتیں تم گھڑتے ہو ان کی وجہ سے تمہارے لئے بڑی خرابی ہوگی۔ یعنی یہ مصنوعات اثبات توحید اور اثبات حق کے لئے بڑی طاقت ہیں جو شرک اور باطل کو کچل کر رکھ دیتی ہیں اور باطل بھاگتا نظر آتا ہے یعنی یہ چیزیں غلبہ حق کے لئے بنائی گئی ہیں تاکہ حق غالب اور باطل مغلوب ہو اور باطل کی بالکلیہ نفی ہوجائے اور جو باتیں تم…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 18–19

ف 3۔ یعنی دلائل توحید جو ان مصنوعات سے حاصل ہوتے ہیں شرک کی بالکلیہ نفی کردیتے ہیں جس کی جانب مخالف کا احتمال ہی نہیں رہتا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم حق کو باطل پر پھینک کر اس کا بھیجنا نکال دیتے ہیں افسوس انہوں نے کیسی بات کہہ دی : 18۔ یہ ایک پیش گوئی ہے جس کو قرآن کریم میں بار بار دہرایا گیا ہے اس سے قبل اس کو عین اس وقت بیان کیا گیا تھا جب کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد مکہ چھوڑ کر حبش میں پناہ گزیں تھی اور باقی مسلمان سخت بےکسی ومظلومی کی حالت میں مکہ اور اطراف مکہ میں زندگی بسر کر رہے تھے اور خود نبی اعظم وآخر ﷺ کی جان ہر وقت خطرے میں تھی ، اس وقت بظاہر باطل ہی کا غلبہ تھا اور غلبہ حق کے آثار کہیں دور دور نظر نہ آتے تھے مگر اس حالت میں نبی کریم ﷺ کو حکم دے دیا گیا کہ تم صاف صاف ان باطل پرستوں کو سنا دو کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا ۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ (Instead, We launch the truth against the falsehood, which smashes it, and in no time it is nothing. - 21:18) The literal meaning of قَذَف is to throw horizontally which has been translated above as launching) یدمَغُ means to hit on the head (to smash it) and زَاھِق means something which is gone or vanishes without leaving a trace. This verse explains that Allah has not created this marvelous universe with earth and the sky for amusement. This creation is the result of a carefully thought out plan which aims at…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

17. That is, the object for which this world has been created is to stage a conflict between the truth and falsehood. And you yourselves know that in this conflict falsehood has always been defeated and destroyed. You should, therefore, consider this reality seriously. For, if you build the system of your life on the false presumption that it is mere fun, you will meet with the same consequences as the former people did, who presumed that the world was a mere show and pastime. Therefore you should reconsider your whole attitude towards the message which has come to you. Instead of making fun…

Read the full tafseer →