Al-Anbiyaa 21:17

Al-Anbiyaa · from ayah 17

21:17

لَوْ اَرَدْنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّاۤ ۖۗ— اِنْ كُنَّا فٰعِلِیْنَ ۟لَوۡ اَرَدۡنَاۤ اَنۡ نَّـتَّخِذَ لَهۡوًا لَّا تَّخَذۡنٰهُ مِنۡ لَّدُنَّاۤ  ۖ اِنۡ كُنَّا فٰعِلِيۡنَ‏

اگر ہم چاہتے کہ کھیل (کی چیزیں یعنی زن وفرزند) بنائیں تو اگر ہم کو کرنا ہوتا تو ہم اپنے پاس سے بنالیتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Had We intended to take a diversion, We could have taken it from [what is] with Us - if [indeed] We were to do so.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anbiyaa

All translations of 21:17

اگر ہم کوئی کھلونا بنانا چاہتے اور بس یہی کچھ ہمیں کرنا ہوتا تو اپنے ہی پاس سے کر لیتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اگر ہم چاہتے کہ کھیل (کی چیزیں یعنی زن وفرزند) بنائیں تو اگر ہم کو کرنا ہوتا تو ہم اپنے پاس سے بنالیتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اگر ہم یوں ہی کھیل تماشے کا اراده کرتے تو اسے اپنے پاس سے ہی بنا لیتے، اگر ہم کرنے والے ہی ہوتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اگر ہمیں کوئی کھیل بنانا ہوتا تو ہم خود اپنے پاس سے بنا لیتے، اگر ہمیں ایسا کرنا ہی ہوتا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اگر ہم کوئی بہلاوا اختیار کرنا چاہتے تو اپنے پاس سے اختیار کرتے اگر ہمیں کرنا ہوتا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اگر ہم کوئی کھیل تماشا اختیار کرنا چاہتے تو اسے اپنی ہی طرف سے اختیار کر لیتے اگر ہم (ایسا) کرنے والے ہوتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اگر ہم چاہتے کہ کوئی کھیل بنائیں تو یقینا اسے اپنے پاس سے بنا لیتے، اگر ہم کرنے والے ہوتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اگر ہمارا مقصود کھیل ہی ہوتا تو اگر ہم چاہتے تو اپنے ہاں ہی ایسا کرسکتے تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اگر ہم کوئی کھیل ہی بنانا چاہتے تو خاص اپنے پاس ہی بنا لیتے اگر ہم یہ کرنے والے ہی ہوتے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اگر ہم کوئی کھیل تماشا بنانا چاہتے بھی تو اپنے یہاں کی کسی اور چیز سے بنا لیتے اگر ہمیں ایسا کرنا ہوتا

— مولانا اسحاق مدنی

اگر ہم کو یہی منظور ہوتا کہ ہم کھیل کے طور پر کریں تو ہم اپنے ہی پاس (کی چیز) کو (کھیل) بنالیتے اگر ہم کو (یہ) کرنا ہی تھا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اگر ہم چاہتے کہ کوئی کھیل بنائیں تو وہ ضرور ہم اپنے پاس سے بنا لیتے اگر ہم یہ کرنے والے ہی ہوتے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اگر ہم چاہتے کہ کھیل کی چیزیں (یعنی عورت اور فرزند) بنائیں اور اگر ہم کو کرنا ہی ہوتا تو ہم اپنے پاس سے بنا لیتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Had it been Our will to find a pastime, We would have found one near at hand; if at all We were inclined to do so.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Had We intended to have a pastime, We would have had it from Our own, if We were ever to do so.

— Muhammad Taqi Usmani

Had We intended to have a pastime, We would have had it from Our own, if We were ever to do so.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Had We intended to take a pastime, We could surely have taken it from Us, if We were going to do (that).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

If We had wished to find a pastime, We could have found it in Our presence - if We ever did.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Had We intended to take a diversion, We could have taken it from [what is] with Us - if [indeed] We were to do so.

— Saheeh International

Had We wanted to play games, We could have certainly done so with things at hand.

— Muhammad Sarwar

Had We wished to make a diversion, We would have made it from before Ourselves: by no means would We do (it).

— Muhammad Habib Shakir

Had We intended that We should choose a sport, surely We would choose it from before Us--if We were ever going to do that.

— Abdul Majid Daryabadi

If it had been Our wish to take (just) a pastime, We should surely have taken it from the things nearest to Us, if We would do (such a thing)!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 21:17

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 16–20

آسمان و زمین کوئی کھیل تماشہ نہیں آسمان و زمین کو اللہ تعالیٰ نے عدل سے پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا دے۔ اس نے انہیں بیکار اور کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ اور آیت میں اس مضمون کے ساتھ ہی بیان ہے کہ یہ گمان تو کفار کا ہے جن کے لئے جہنم کی آگ تیار ہے۔ دوسری آیت کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ اگر ہم کھیل تماشہ ہی چاہتے تو اسے بنالیتے۔ ایک معنی یہ ہیں کہ اگر ہم عورت کرنا چاہتے۔ لہو کے معنی اہل یمن کے نزدیک بیوی کے بھی آتے ہیں۔ یعنی یہ دونوں معنے ہے اگر بیوی بنانا چاہتے تو حورعین میں سے جو ہمارے پاس ہے کسی کو بنا لیتے۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ اگر ہم اولاد چاہتے۔ لیکن یہ دونوں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْبِیَآء 16 یعنی ہمیں کھیلنا ہی ہوتا تو کھلونے بنا کر ہم خود ہی کھیل لیتے۔ اس صورت میں یہ ظلم تو ہرگز نہ کیا جاتا کہ خواہ مخواہ ایک ذی حس، ذی شعور، ذمہ دار مخلوق کو پیدا کر ڈالا جاتا، اس کے درمیان حق و باطل کی یہ کشمکش اور کھینچا تانیاں کرائی جاتیں، اور محض اپنے لطف و تفریح کے لیے ہم دوسروں کو بلا وجہ تکلیفوں میں ڈالتے۔ تمہارے خدا نے یہ دنیا کچھ رومی اکھاڑے (Coliseu) کے طور پر نہیں بنائی ہے کہ بندوں کو درندوں سے لڑوا کر اور ان کی بوٹیاں نچوا کر خوشی کے ٹھٹھے لگائے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

لَـوْ اَرَدْنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّآ ڰ اِنْ كُنَّا فٰعِلِيْنَ ، یعنی اگر ہم کوئی مشغلہ بطور کھیل کے بنانا ہی چاہتے اور ہمیں یہ کام کرنا ہی ہوتا تو ہمیں اس کی کیا ضرورت تھی کہ زمین و آسمان وغیرہ پیدا کریں یہ کام اپنے پاس کی چیزوں سے بھی ہوسکتا تھا۔ عربی زبان میں حرف لو فرضی چیزوں کے لئے بولا جاتا ہے جس کا کوئی وجود نہ ہو اس جگہ بھی اس حرف سے یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ جو احمق ان تمام علویات اور سفلیات آسمانی اور زمینی مخلوقات اور مصنوعات عجیبہ کو لہو و لعب سمجھتے ہیں کیا وہ اتنی بھی عقل نہیں رکھتے کہ اتنے بڑے بڑے کام لہو و لعب کے لئے نہیں ہوا کرتے یہ کام جس کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

کھیل اور کار عبث خدا کی صفات کے منافی ہے لیکن بالفرض ہم ایسا کرنے والے ہی ہوتے تو اپنے پاس ہی سے اس کا سروسامان مہیا کرلیتے، اس میں اپنے بندوں اور بندیوں اور اپنی دوسری مخلوقات کو کیوں گھسیٹتے ! ہم اس کتاب میں روم کے قدیم سلاطین کے متعلق کہیں ذکر آئے ہیں کہ وہ اپنے تھیٹروں میں بھوکے شیروں اور اپنے مظلوم غلاموں کی چیر پھاڑ کا تماشا دیکھتے تھے۔ العیاذ باللہ یہی رائے اس کائنات کے خالق کے متعلق قائم کرنی پڑے گی اگر وہ اپنی تمام مخلوقات کو اس ابتلاء میں ڈال کر ان کا تماشا دیکھ رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس دنیا میں ظالم بھی ہیں اور مظلوم بھی، سرکش و باغی بھی ہیں اور وفادار و تابعدار بھی، ناشکرے اور نابکار…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

17۔ 1 یعنی اپنے پاس سے ہی کچھ چیزیں کھیل کے لئے بنا لیتے اور اپنا شوق پورا کرلیتے۔ اتنی لمبی چوڑی کائنات بنانے کی اور پھر میں ذی روح اور ذی شعور مخلوق بنانے کی کیا ضرورت تھی ؟ 17۔ 2 ' اگر ہم کرنے والے ہی ہوتے ' عربی اسلوب کے اعتبار سے یہ زیادہ ہے بہ نسبت اس ترجمہ کے کہ ' ہم کرنے والے ہی نہیں ' صحیح ہے (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

7: یعنی اول تو اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ تصور کرنا حماقت ہے کہ وہ کوئی کھیل کرنا چاہتا ہے، دوسرے اگر بفرض محال اسے کوئی دل لگی کرنی ہوتی تو اس کے لیے کائنات کا یہ سارا کارخانہ پیدا کرنے کی کیا ضرورت تھی، وہ اپنے پاس ہی سے کوئی مشغلہ بنا سکتا تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 16–17

وما خلقنا السمآ ئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مما تصفون (61 : 81) ” اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو ایک حکمت اور اسکیم کے مطابق پیدا کیا ہے ‘ اس کا ایک مقصد ہے ۔ یہ کائنات محض کھیل تماشے کے طور پر نہیں پیدا کی گئی۔ یہ ایک حکیمانہ فعل ہے ‘ محض اتفاقی عمل نہیں ہے۔ جس سنجیدگی ‘ سچائی اور مقصدیت کے ساتھ زمین و آسمان کو پیدا کیا گیا ہے ‘ اس کے ساتھ رسولوں کو بھی بھیجا گیا ہے۔ کتابیں نازل کی گئی ہیں ‘ فرائض منصبی مقرر ہوئے اور شریعت اور قانون بنائے گئے ہیں۔ لہٰذا مقصدیت اور سنجیدگی اس کائنات کی اساس ہے۔ اس کے چلانے کا بھی ایک مقصد ہے۔ اس میں انسانوں کو ایک نظریہ دینے میں بھی ایک مقصد ہے اور موت کے بعد حساب و کتاب میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 17–18

1 یعنی اگر ایسے لہو ولعب کے کام بالفرض ہماری شان کے لائق ہوتے اور ہم ارادہ بھی کرتے کہ یوں ہی کوئی مشغلہ اور کھیل تماشا بنا کر کھڑا کردیں تو یہ چیز ہم بذات خود اپنی قدرت سے کر گزرتے۔ تمہاری داروگیر اور پکڑودھکڑ سے اس کو کچھ سروکار نہ ہوتا۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ دنیا محض کھیل تماشا نہیں بلکہ میدان کارزار ہے۔ جہاں حق و باطل کی جنگ ہوتی ہے۔ حق حملہ آور ہو کر باطل کا سر کچل ڈالتا ہے۔ اسی سے تم اپنی مشرکانہ اور سفیہانہ باتوں کا انجام سمجھ لو کہ حق و صداقت کا گولا جب پوری قوت سے تم پر گرے گا اس وقت کیسی خرابی اور بربادی تمہارے لیے ہوگی۔ اور کون سی طاقت بچانے آئے گی (تنبیہ) لَوْاَرَدْنَآ اَن…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 17–18

آیت 18 بَلْ نَقْذِفُ بالْحَقِّ عَلَی الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُہٗ فَاِذَا ہُوَ زَاہِقٌ ط ” یہ تاریخ انسانی کا قرآنی فلسفہ ہے۔ دوسری طرف ایک نظریہ سپنگلر کا بھی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ قوموں کی زندگی ایک فرد کی زندگی سے مشابہ ہے۔ جس طرح ایک بچہ پیدا ہوتا ہے ‘ بچپن گزارتا ہے ‘ جوانی کو پہنچتا ہے ‘ بوڑھا ہوتا ہے اور پھر مرجاتا ہے ‘ ایسے ہی دنیا میں قومیں اور ان کی تہذیبیں پیدا ہوتی ہیں ‘ ترقی کرتی ہیں ‘ بام عروج پر پہنچتی ہیں ‘ اور پھر کمزوریوں اور خرابیوں کے باعث زوال پذیر ہو کر ختم ہوجاتی ہیں۔ اس ضمن میں کارل مارکس نے جو Dialectical Materialism کا نظریہ وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو الرعد : 17 کی تشریح پیش…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 16–17

14 دنیا دار اور اللہ کی یاد سے غافل انسان ہمیشہ یہی سمجھتے رہے ہیں کہ یہ دنیا بس ایک کھیل تماشا ہے۔ ہم یہاں عیش و عشرت کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔ اس لیے یہاں ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ جتنی عیش و عشرت اپنے لئے مہیا کرسکتا ہے اور جس طرح کرسکتا ہے، کرلے۔ گویا دنیا دار لوگوں کا منتہائے مقصود ہی یہ ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے بھی دنیا کو متعدد مقامات پر کھیل تماشا قرار دیا ہے مگر یہ بات صرف اس پہلو سے کہ یہ چند روزہ دنیا آخرت کے مقابلہ میں ایک کھیل تماشا کی حیثیت رکھتی ہے۔ کیونکہ یہ تھوڑی مدت بعد فنا ہوجانے والی ہے اور آخرت کی زندگی دائمی اور پائیدار ہے لہذا تمہیں اپنی تمام تر توجہ دنیا پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

22۔ یعنی بالفرض ہمیں تفریح وتماشہ ہی مقصود ہوتا تو ہم بلاواسطہ مخلوقات اپنے ہی یا براہ راست تعلق رکھنے والی کسی چیز کو اختیار کرلیتے مثلا اپنی صفات کمال کے مشاہدہ کو، ذی شعور مخلوق کو اس چکر میں کیوں ڈالتے۔ آیت سے معلوم ہوا کہ تخلیق کائنات خود مخلوق ہی کے نفع ومصلحت کے لئے ہے۔ عارف رومی (رح) ۔ ع : من نہ کردم امر تاسود کنم بلکہ تربربندگاں جو دے کنم :

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–23

آیت نمبر 11 تا 23 ترجمہ : اور کتنی ہی بستیوں کو یعنی بستی والوں کو جو ظالم یعنی کافر تھے تباہ یعنی ہلاک کردیا اور ان کے بعد دوسری قوم پیدا کردی تو ان ظالموں نے جب ہمارا عذاب آتا دیکھا یعنی بستی والوں نے جب ہلاکت کو محسوس کیا تو اس بستی سے تیزی سے بھاگنا شروع کردیا تو فرشتوں نے ان سے بطور استہزاء کے کہا بھاگو مت اور اپنے سامان کی طرف جس میں تم کو آسودگی دی گئی تھی اور اپنے مکانوں کی طرف واپس چلو تاکہ دنیا کے دستور کے مطابق تم سے کچھ پوچھ تاچھ کی جائے تو وہ لوگ کہنے لگے ہائے ہماری کمبختی (یا تنبیہ کے لئے ہے) یعنی ہماری ہلاکت بیشک ہم کفر کے ذریعہ ظلم کرنے والے تھے پھر تو انہی کلمات کی رٹ لگاتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لو اردنا ان نتخذ لہوا لا تخذنہ من لدنا ان کنا فعلین۔ اگر ہم کو مشغلہ ہی بنانا ہوتا تو ہم خالص اپنے ہی پاس کی چیز کو مشغلہ بناتے اگر ہم کو یہ کرنا ہوتا۔ عطاء کی روایت میں آیا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا لہو سے مراد عورت ہے۔ حسن اور قتادہ کا بھی یہی قول ہے جماع کو لغت میں لہو کہتے ہیں اور عورت محل جماع ہے ‘ کلبی کی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ : کا قول آیا ہے کہ لہو سے مراد اولاد ہے۔ سدی کا بھی یہی قول ہے ‘ آدمی اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ کھیلتا اور دل بہلاتا ہے۔ لاَ تَّخَذْنٰہُ مِنْ لَّدُنَّاکا یہ مطلب ہے کہ اگر ہم لہو کرنے والے ہی ہوتے تو اپنی شان کے مناسب ان چیزوں کو ذریعۂ لہو بناتے جو ہماری ذات…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(17) کفار جو اس بات کے قائل تھے کہ معاذ اللہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، اس کی اب اللہ تعالیٰ تردید فرماتے ہیں کہ اگر ہمیں لڑکیاں یا بیوی یا یہ کہ اولاد ہی بنانی ہوتی تو خاص اپنے پاس کی چیز یعنی حوروں میں سے بناتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَـوْ اَرَدْنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا۔۔ : یعنی بفرض محال اگر ہم اپنی دل لگی اور کھیل کے لیے کھیلنے کی کوئی چیز بناتے تو اپنے پاس بنا لیتے اور تمہیں اس کا پتا نہ چلنے دیتے، کیونکہ لہو و لعب تو نقص اور خامی کی بات ہے، اس لیے ہم اسے کسی کی نگاہ کے سامنے نہ آنے دیتے۔ تو یہ آسمان و زمین جو ہر وقت تمہارے سامنے ہیں، ہم کھیل اور دل لگی کے لیے کیسے بنا سکتے ہیں ؟ یہ ساری بات بطور فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ کس قدر رحیم و کریم ہے کہ اس نے انسان کی چھوٹی عقل کو سمجھانے اور ہر طرح سے مطمئن کرنے کے لیے اس کی ذہنی سطح کے مطابق بات کی ہے، ورنہ ممکن ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا ارادہ کرے، کیونکہ لفظ ”لَوْ“ ہوتا ہی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لو اردنا ان نتخذ لھوا جب ایک قوم نے یہ عقیدہ رکھا کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اردنا ان نتخذ لھواً ، اللھو سے مراد یمنی لغت میں عورت ہے، یہ قتادہ کا قول ہے۔ عقبہ بن ابی جسرہ نے کہا : طائوس، عطا اور مجاہد ان سے لو اردنا ان نتخذ لھوا کے متعلق پوچھنے کے لیے آئے تو انہوں نے فرمایا : اللھو سے مراد زوجہ ہے، یہ حسن کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اللھو سے مراد بچے ہیں، حسن کا یہ بھی قول ہے۔ جوہری نے کہا : اللھو جماع سے کنایہ ہے۔ میں کہتا ہوں امرء القیس کا قول ہے : الا زعمت بسباسۃ الیوم اننی کبرت والا یحسن اللھو امثالی جوہری نے کہا : اللہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 17–20

1:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لواردنا ان نتخذ لھوا “ میں لہو سے مراد ہے بیٹا۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے (آیت) ” لواردنا ان نتخذ لھوا “ کے بارے میں فرمایا کہ اگر میں ارادہ کرتا کہ اپنے لئے بیٹا بناوں تو میں فرشتوں کو اپنا بیٹا بناتا۔ 3:۔ عبد بن حمید اور ابن منذر نے حسن ؓ سے (آیت) ” لواردنا ان نتخذ لھوا “ کے بارے میں فرمایا کہ لھوا سے مراد ہے عورتیں۔ 4:۔ ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ یمن کی زبان میں لھو سے مراد عورت ہے۔ 5:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” لواردنا ان نتخذ لھوا “ کے بارے میں فرمایا کہ یمن والوں کی لغت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ لَوْ : اگر ] [ اَرَدْنَآ : ہم ارادہ کرتے ] [ ان : کہ ] [ نَّتَّخِذَ : ہم بنائیں ] [ لَهْوًا : کوئی کھلونا ] [ لَّاتَّخَذْنٰهُ : تو ہم ضرور بناتے اس کو ] [ مِنْ لَّدُنَآ : اپنے پاس سے ] [ ان : اگر ] [ كُنَا : ہم ہوتے ] [ فٰعِلِيْنَ : کرنے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 13–17

(لاَتَرْکُضُوْا) جو فرمایا اس سے پہلے قیل لھم حذف ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ جب وہ لوگ عذاب دیکھ کر بھاگنے لگے تو ان سے عذاب کے فرشتوں نے یا ان اہل ایمان نے جو وہاں موجود تھے بطور استہزا اور تمسخریوں کہا کہ ٹھہرو کہاں دوڑتے ہو۔ تمہیں تو اپنی نعمت اور دولت عیش و عشرت پر بڑا ناز تھا۔ اپنے گھروں کو مزین کر رکھا تھا اور اونچے اونچے مکان بنا کر فخر کرتے تھے۔ آؤ دیکھو تمہارے مکان کہاں ہیں ؟ تم سے کوئی سوال کرنے والا سوال کرے تو اس کا جواب دو ۔ اب تو ظلم اور عیش و عشرت کا نتیجہ دیکھ لیا۔ بتاؤ کیا انجام ہوا ؟ (حَصِیْدًا خَامِدِیْنَ ) اس میں ہلاک شدہ لوگوں کا انجام بتایا ہے۔ حصید کٹی ہوئی کھیتی کو کہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–29

بیان توحید و ابطال شرک قال اللہ تعالیٰ وما خلقنا السماء والارض وما بینھما لعبین .... الیٰ .... کذلک نجزی الظلمین۔ (ربط) ابتداء سورت سے لیکر یہاں تک کا مضمون تحقیق نبوت و رسالت سے متعلق تھا، اب آئندہ آیات میں توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال فرماتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ آسمان و زمین کی پیدائش میں غوروفکر کرو تاکہ تم کو اللہ کی معرفت حاصل ہو عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام چیزیں اللہ کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں۔ (یا یوں کہو) کہ گزشتہ آیات میں کفار کی غفلت اور اعراض اور ان کے لہو ولعب کو بیان کیا اب آگے یہ بیان کرتے ہیں کہ عالم کی پیدائش کھیل تماشہ نہیں بلکہ حق اور باطل میں فرق کرنے کے لیے یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 16–18

14:۔ توحید پر عقلی دلائل :۔ اس سورت میں توحید پر تین عقلی دلیلیں ذکر کی گئی ہیں۔ یہ پہلی عقلی دلیل ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ ہم نے زمین و آسمان اور ساری کائنات کو یونہی بےمقصد اور کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا اگر یہ سب کچھ محض کھیل ہوتا تو ہم اسے اپنے پاس رکھتے اور کسی کو اس کا علم تک نہ ہونے دیتے۔ اور نہ کسی کو دکھاتے۔ بلکہ ہم نے یہ ساری کائنات اظہار حق اور توحید پر استدلال کے لیے پیدا کی تاکہ بندے اس سے ہماری وحدانیت پر استدلال کرسکیں اور حق (توحید اور دین اسلام) باطل (کفر و شرک) پر غالب آسکے اس کائنات میں بندوں کے لیے عبرت و موعظت ہے کہ معبود برحق اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ جس نے ساری کائنات کو پیدا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–18

ربط آیات : سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے محاسبہ اعمال کا ذکر کیا کہ لوگوں کے حساب کتاب کی منزل قریب آچکی ہے۔ مگر یہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ قرب قیامت کا احساس اس وجہ سے ہے کہ اللہ کا آخری نبی اور اس کی آخری کتاب آچکی ہے اور اب قیامت کبریٰ کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں۔ جہاں تک انفرادی حساب کتاب کا تعلق ہے تو یہ انسان کی انفرادی موت کے ساتھ ہی شروع ہوجاتا ہے لہٰذا حساب کتاب کی منزل کا قریب ہونا اس لحاظ سے بھی درست ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں کی خفیہ میٹنگوں کا ذکر کیا کہ وہ اسلام کو ناکام بنانے کی ہر ممکن منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ ان کا ایک نظریہ یہ بھی تھا کہ ہم ایک انسان کو کیسے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَـوْ اَرَدْنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ لَہْوًا لَّاتَّخَذْنٰہُ مِنْ لَّدُنَّآ۝ 0ۤۖ اِنْ كُنَّا فٰعِلِيْنَ۝ 17 رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر خدا تمہاری برائی کا فیصلہ کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–20

2 ؎ یعنی کھیلنے کے لیے عالمِِغیب کی چیزیں فرشتے اور بہشت کی مخلوق اور روحانیات کیا کم تھے عالم غیب کی چیزوں کو اپنے پاس کی چیزیں اس لیے کہا کہ عالم محسوس کی بہ نسبت عالم ملکوت تو اس سے قریب ہے۔ عرب کے بعض قبائل اولاد اور بیوی کو لھو کہا کرتے ہیں اس لیے کہ دراصل انسان کے کھیلنے دل خوش کرنے کی یہی چیزیں ہیں۔ اس تقدیر پر یہ مطلب کہ کھیلنا ہی ہوتا تو اپنے پاس کے لوگوں کو بیوی بیٹا بنا کر نہ کھیلتے اس میں ان لوگوں پر تعریض ہے جو مخلوق کو اس کی بیوی یا بیٹا کہتے ہیں۔ 12 حقانی

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لَوْ اَرَدْنَـآ اَنْ نَّـتَّخِذَ لَھْوًا لاَّ تَّخَذْنٰـہُ مِنْ لَّدُنَّـآ صلے ق اِنْ کُنَّا فٰعِلِیْنَ ۔ (الانبیاء : 17) (اگر ہم کوئی کھیل ہی بنانا چاہتے تو اپنے ہی پاس سے کرلیتے، اگر ہم یہ کرنے والے ہی ہوتے۔ ) اللہ جیسی ذات سے کھیل اور کارعبث کا صدور ناممکن ہے عربی زبان میں حرف لَوْ کا استعمال فرضی چیزوں کے لیے ہوتا ہے جس کا کوئی وجود نہ ہو۔ اور کبھی ایسے موقع پر اس کا استعمال ہوتا ہے جو کہنے والے کی شان کے لائق نہ ہو۔ اس کائنات کے نظام کو کھیل سمجھنا ایک ایسی بات ہے کہ جس کا کوئی وجود نہیں کیونکہ کائنات کے نظام پر غور و فکر کرنے والا اس طرح کی بات کبھی نہیں کہہ سکتا۔ کائنات کی ایک ایک چیز…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–18

فہم القرآن ربط کلام : پہلی اقوام کی تباہی کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ ہلاک ہونے والے سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو کھیل تماشا کے طور پر بنایا ہے اور دنیا ہمیشہ اس طرح ہی رہے گی۔ حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا ہلاک ہونے والے لوگ فکری یا عملی طور پر سمجھتے تھے کہ اس دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی تفریح یا محض اپنی قدرت کے اظہار کے طور پر پیدا کیا ہے۔ دنیا کی تو کوئی انتہا نہیں اور نہ اس کا انجام۔ اسی اعتقاد کی وجہ سے وہ لوگ دنیا پر اس قدر راضی اور قانع ہوئے کہ انھوں نے اپنے اور زمین و آسمان کے خالق کو نا صرف یکسر طور پر فراموش کردیا بلکہ اس کی بغاوت کرنے میں انتہا کردی۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

17: پھر اپنی ذات کو حدث کی صفات سے پاک قرار دیا۔ لَوْ اَرَدْنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ لَہْوًا (اگر ہم کو مشغلہ ہی بنانا ہوتا) لھوًاسے یہاں بیٹا مراد ہے نمبر 2۔ عورت مراد ہے۔ گویا اس میں اہل کتاب کے اس عقیدہ کی تردید ہے کہ عیسیٰ اللہ تعالیٰ کا بیٹا اور مریم خدا کی بیوی ہے۔ لَّا تَّخَذْنَاہُ مِنْ لَّدُنَّآ (تو ہم اپنے ہی پاس کی چیز کو مشغلہ بناتے) ولد ان یا حوران بہشتی سے بناتے۔ اِنْ کُنَّا فٰعِلِیْنَ (اگر ہم کو یہ کرنا پڑتا) یعنی اگر ہم ان میں سے ہوتے جو یہ کرتے ہیں اور ہم ان میں سے نہیں ہیں کیونکہ یہ چیز ہمارے حق میں محال ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ نفی ہے جیسا کہ اس آیت میں : وان ادری [ الانبیاء :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

17۔ لواردنا ان نتخذ لھوا۔۔ لھو کے معنی میں اختلاف ہے۔ عطاء کی روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا، لھو سے مراد عورت ہے ۔ یہی قول حسن اور قتادہ کا ہے کہ اس سے مراد عورت ہے کیونکہ جماع کو لغت میں لھو کہتے ہیں ۔ اور عورت محل جماع ہے۔ لاتخذناہ من لدنا، جو حور عین سے ہو نہ کہ وہ عورتیں جو دنیا میں ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ہم لھو کرنے والے ہی ہوتے تو اپنی شان کے مطابق ان چیزوں کو ذریعہ لھو بناتے جو ہماری ذات کی مناسب تھیں۔ اس آیت میں نصاری کے عقیدہ کی تردید ہے جو مسیح کو اللہ کا بیٹا اور مسیح کی ماں کو اللہ کی بیوی قرار دیتے ہیں۔ اللہ نے ان کے قول کی تردید کی اور فرمایا، لاتخذناہ من…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–18

16۔ 18:۔ مشرکین مکہ نے جس طرح ملت ابراہیمی کی اور باتوں کو دل سے بھلا دیا تھا ‘ اسی طرح حشر اور قیامت کے مسئلہ کو بھی بھلا دیا تھا۔ اس لیے قرآن شریف میں حشر اور قیامت کی باتیں سن کر وہ طرح طرح کی عقبی بحث کرتے تھے ‘ چناچہ ایک شخص ابی بن خلف ایک روز ایک پرانی گلی ہوئی ہڈی آنحضرت ﷺ کے روبرو لایا اور اس ہڈی کو مل مل کر ہڈی کی راکھ ہوا میں اڑاتا جاتا تھا ‘ اور کہتا تھا ‘ کیا یہ راکھ محمد کا خدا پھر زندہ کرے گا ‘ اس قصہ کا ذکر مفصل سورة یس میں آوے گا اور اسی طرح کی بہت عقلی بحثیں ان لوگوں کی قرآن شریف میں کئی جگہ ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں اور بہت سی قرآن کی آیتوں میں ان کو قلی طور پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 16–17

آیت 16-17 اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے زمین اور آسمان کو کھیل تماشے کے طور پر عبث اور بےفائدہ پیدا نہیں کیا بلکہ ان کو حق کے ساتھ اور حق کے لئے پیدا کیا ہے تاکہ بندے اس کائنات سے استدلال کریں کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق، عظمت والا، کائنات کی تدبیر کرنے والا، حکمت والا اور رحمان و رحیم ہے، جو کمال کلی، ہر قسم کی تعریف اور تمام تر عزت کی مالک ہے۔ وہ اپنے قول میں سچا ہے اس کے رسول بھی اس کی طرف سے خبردینے میں سچے ہیں۔ وہ قادر ہستی جو زمین و آسمان کو ان کی وسعت اور عظمت کے ساتھ پیدا کرنے پر قادر ہے وہ جسموں کے مرنے کے بعد ان کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قدرت رکھتی ہے تاکہ نیک کو اس کی نیکی کی جزا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 17–19

19 کائنات کی تخلیق بےمقصد نہیں ہوسکتی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر کہیں ہمیں کھیل تماشا ہی مقصود ہوتا تو ہم اس کیلئے اور کوئی چیز بنالیتے "۔ اور اس کے لئے ہمیں حکمتوں بھری اس عظیم الشان کائنات کو پیدا کرنے کی ضرورت نہ ہوتی۔ سو یہ سب کچھ کھیل تماشہ کے طور پر ہرگز نہیں ہوسکتا۔ (ابن کثیر، مراغی، محاسن التاویل وغیرہ) ۔ بلکہ اس کی تخلیق عظیم الشان حکمتوں پر مبنی ہے جن میں سب سے اہم اور بنیادی مقصود دو چیزیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس کائنات میں اور اس میں پائے جانے والے عجائب وغرائب میں غور و فکر سے کام لیکر انسان اپنے خالق ومالک کی معرفت حاصل کرے اور پھر اسی کی ہدایت وتعلیمات کے مطابق دل و جان سے اس کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–29

غافل لوگ، عقیدہ آخرت اور انبیاء کا رد کرنیوالوں کا انجام تشریح : ان آیات میں ان عربی بدوئوں کے اعتقادات ‘ اعتراضات ‘ ہٹ دھرمی اور دین سے نفرت کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) کو نبوت دی گئی اور اس کے بعد تمام انبیاء نے لوگوں کو توحید کا سبق دیا اور سب سے آخر میں سیدنا محمد ﷺ تشریف لائے۔ انہوں نے بھی توحید کا ہی سبق دیا۔ جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا تھا کہ جب بھی کوئی نبی اور رسول کسی قوم کی طرف بھیجا جاتا تو لوگوں میں تین گروہ پیدا ہوجاتے یعنی مومن کافر اور منافق۔ منافقین دونوں طرف گھومتے رہتے کفار اعتراضات اور مخالفت رسول میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے جیسا کہ کفار مکہ نے آپ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–29

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف اور کتنی بستیاں تھیں جو ان سے پہلے ایسے ہی افعال پر اور ان جیسے کردار کے باعث تباہ کردی گئیں اور معمورہ عالم آباد بھی رہا ان کی جگہ اور پیدا کردیے ان ظالموں نے بھی عذاب کو واقع ہوتے دیکھا تب یقین آیا اور لگے بھاگ بھاگ کر جان بچانے مگر اللہ جل جلالہ کی گرفت سے کون بھاگ سکتا ہے بلکہ ارشاد ہوتا ہے مت بھاگو اپنے مکان اور عیش و عشرت کو کیوں چھوڑتے ہو آج اپنے ہمدرد تلاش کرو مگر وہ کہتے تھے کہ ہماری بدبختی کہ ہم نے ظلم کا راستہ اختیار کیا اور یونہی شور مچاتے رہے کہ عذاب الہی نے پیس کر رکھ دیا جیسے کٹے ہوئے کھیت ہوں یا بجھی ہوئی آگ ، بعض مفسرین کرام نے یمن کی بستیاں مراد لی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 اور یہ جنت و دوزخ حساب و کتاب کا سلسلہ نہ بناتے۔ (جامع البیان) عام مفسرین نے یہاں لھو سے بیوی یا اولاد مراد لی ہے اور لکھا ہے کہ اس میں نصاریٰ کا رد ہے جو یہ غلط عقیدہ، رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی کنواریوں میں حضرت مریم کو پسند کیا اور پھر ان کے بطن سے اپنے اکلوتے بیٹے حضرت مسیح کو پیدا کیا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو اولاد بنانا ہی منظور ہوتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتے مثلاً فرشتے وغیرہ کو منتخب کرلیتے مگر اللہ کی شان ان چیزوں سے بلند اور پاک ہے۔ (نیز دیکھیے سورة زمر :4)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(21:17) لو اردنا ان نتخذ لھوا۔ اگر ہمارا ارادہ ہوتا کہ ہم کوئی محض کھیل کا شغف اختیار کریں (تو یقینا ہم از خود اپنی طرف سے ہی کوئی ہی کھیل اختیار کرسکتے تھے۔ یہ مخلوق اس کی مختلف صورتیں اس کی مختلف آزمائشیں۔ اس کی دنیاوی زندگی کی صعوبتیں اور آخرت کی جزاء وسزا یہ سب دھندا کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تخلیق کائنات خود مخلوق ہی کے نفع و مصلحت کے لئے ہے جیسا کہ مولانا روم (رح) نے فرمایا ہے ؎ من نہ کر دم امر تاسو دے کسنم ۔ بلکہ تابر بندگاں جو دے کسنم ان کنا فعلین۔ میں ان شرطیہ بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں معنی ہوں گے اگر ہمیں ایسا کرنا ہی تھا تو۔ یا یہ نافیہ ہے اور معنی ہیں۔ ہم ایسا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–20

لغات القرآن آیت نمبر 11 تا 20 قصمنا (قصم) ہم نے توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ ظالمۃ ظلم و زیادتی، بدکاری کرنے والی۔ انشانا ہم نے اٹھا کھڑا کیا۔ باس عذاب یرکضون وہ بھاگتے ہیں۔ اترفتم تمہیں راحتیں /آسائشیں دی گئیں۔ یویلنا اے ہماری بد نصیبی، بدبختی۔ ما زالت ہمیشہ۔ حصید کٹی ہوئی کھیتی۔ خامدین بجھنے والے، راکھ ہوجانے والے۔ لھو کھیل، کھلونا۔ نقذف ہم پھینک مارتے ہیں۔ ضرب لگاتے ہیں۔ یدمغ (دمغ) دماغ نکال دینا، سرپھوڑ دینا۔ زاھق (زھوق) مٹج انے والا۔ لایستحسرون وہ نہیں تھکتے۔ تشریح : آیت نمبر 11 تا 20 ابتدائے کائنات سے آج تک اللہ تعالیٰ کا یہی دستور رہا ہے کہ حق و باطل، سچ اور جھوٹ کے درمیان جنگ میں فتح و…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 16–18

(ف 1) شان نزول : مشرکین مکہ اور بہت سے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ انسان وغیرہ سب چیزن آپ ہی پیدا ہوتی ہیں ، اور آپ ہی مرجاتی ہیں، خدا کو انسان کے نیک وبد سے کیا غرض اور رسولوں کے بھیجنے سے کیا مطلب ، پھر جو کوئی قوم یا شہر برباد ہوا، اس میں کسی کے گناہ یا ثواب کا کیا دخل۔ یہ سب باتیں اسباب ارضی وسماوی سے ہوتی ہیں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں، اور فرمایا کہ آسمان اور زمین اور ان کے اندر کی کائنات از خود تو پیدا ہو ہی نہیں گئی، مطلب یہ کہ ادنی سے عقل کا آدمی دنیا میں کوئی کام کرتا ہے تو کوئی مطلب اس کام کے کرنے سے اپنے دل میں ضرور ٹھان لیتا۔ مثلا کھیتی کرتا ہے تواناج حاصل…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[10] مطلب یہ ہے کہ ہم نے دنیا کو عبث نہیں بنایا ہے۔ اس کی تخلیق سے بیشمار حکمتیں اور مخلوق کی بےحساب مصلحتیں وابستہ ہیں۔ اگر ہمیں تفریح و تماشہ ہی مقصود ہوتا تو اپنے پاس کی کسی چیز کو مثلاً اپنی صفات کمال کے مشاہدے کو مشغلہ بناتے۔ ایک ذی شعور مخلوق کو بلاوجہ تکلیف میں کیوں ڈالتے ؟

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 11–17

(ف 1) ان آیات میں اللہ نے اپنی سنت جاریہ کا ذکر فرمایا ہے کہ جب قومیں گناہ ونافرمانی کے عمیق غاروں میں گر جاتی ہیں ہم انہیں مہلت نہیں دیتے اور فورا ہٹا دیتے ہیں ، پھر اس کے بعد وہ لوگ جو صالح ہوتے ہیں اور جن میں باقی رہنے کی صلاحیت ہوتی ہے انہیں ان کی قائم مقامی عطا کردیتے ہیں ، اور جب ہمارا عذاب آجائے اس وقت مجرمین کا بچنا محال ہوجاتا ہے ، ان کی تمام کوششیں رائیگاں ہوجاتی ہیں ، چناچہ ارشاد ہے کہ ہم نے اپنی سنت کے مطابق اپنے وعدہ کا ایفاء کیا ، صداقت شعار لوگوں کو نجات دی ، اور مسترفین کو عذاب میں مبتلا کردیا ، یہ کتاب تمہاری طرف بھیجی ہے ، اس میں عذاب کی تفصیلات اور نصیحت و عبرت کا کافی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 17 اور اگر ہم کو کوئی کھیل یا مشغلہ کرنا ہی ہوتا اور ہم کھیل کا ارادہ کرتے تو اپنے پاس ہی کی چیزوں کو مشغلہ کرتے بشرطیکہ ہم ایسا کرنیوالے ہوتے۔ یعنی ہماری شان کے لائق نہیں کہ عالم کو عبث بنائیں اور اگر مقصد کھیل ہوتا تو عالم روحانیت اور عالم مغیبات کی چیزوں سے کھیلتے یا یہ مطلب ہے کہ اگر بیٹا اور بیوی کا مشغلہ منظور ہوتا تو عالم روحانیت کی مخلوق کو بیٹا اور بیوی بنا کر ان سے اپنا دل بہلاتے آخری تفسیر حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے منقول ہے آیت کی تفسیر کئی طرح کی گیء ہے ہم نے تیسیر میں بعض اقوال کو اختیار کرلیا ہے۔ (واللہ اعلم بالصواب) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کھلونا یعنی بیٹا 12

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اگر ہم کو کھیل ہی کھیلنا ہوتا جیسا کہ ان لوگوں کا خیال ہے تو اس کی اور صورتیں بھی تھیں : 17۔ تمثیل کے لئے جس طرح ایک بات فرض کرلی جاتی ہے تاکہ بات آگے بڑھائی جاسکے اور جو انسان کہنا چاہتا ہے کہہ لے اسی طرح حرف ” لو “ عربی میں فرضی چیزوں کے لئے بولا جاتا ہے اور یہ بات صاحب علم لوگوں سے پوشیدہ نہیں ۔ اس جگہ بھی اس حرف ” لو “ سے یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ جو احمق اور بیوقوف ان تمام علویات اور سفلیات آسمانی اور زمینی مخلوقات اور مصنوعات عجیبہ کو لہو ولعب سمجھتے ہیں کیا وہ اتنی عقل بھی نہیں رکھتے کہ اتنے بڑے بڑے کام لہو ولعب کے لئے نہیں ہوا کرتے یہ کام جس کو کرنا ہو وہ یونہی نہیں کیا کرتا اور اس میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

لَوْ أَرَ‌دْنَا أَن نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنَاهُ مِن لَّدُنَّا إِن كُنَّا فَاعِلِينَ (Had We intended to have a pastime, We would have had it from Our own, if We were to do so. - 21:17) It means that if We were to create something for amusement, there was no need to create the earth and the sky, and We could have done so from the things around Us. In Arabic language the word لَو is used for imaginary and non-existent things. Here also it is used in the same sense i.e. those foolish people who regard all the wonderful things of the earth and the sky objects of fun and frolic do not…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

16. That is, this world has been created with a definite purpose and not as a plaything. For, if We had wanted to enjoy a sport, We would have done so without creating a sentient, rational and responsible creature like you. Far be it from Us to put man to trial and conflict for the sake of mere fun.

Read the full tafseer →