Al-Anbiyaa 21:16

Al-Anbiyaa · from ayah 16

21:16

وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ ۟وَمَا خَلَقۡنَا السَّمَآءَ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا لٰعِبِيۡنَ

اور ہم نے آسمان اور زمین کو جو اور (مخلوقات) ان دونوں کے درمیان ہے اس کو لہوولعب کے لئے پیدا نہیں کیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We did not create the heaven and earth and that between them in play.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anbiyaa

All translations of 21:16

ہم نے اِس آسمان اور زمین کو اور جو کچھ بھی ان میں ہے کچھ کھیل کے طور پر نہیں بنایا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے آسمان اور زمین کو جو اور (مخلوقات) ان دونوں کے درمیان ہے اس کو لہوولعب کے لئے پیدا نہیں کیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے آسمان وزمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کھیلتے ہوئے نہیں بنایا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے آسمان، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، اس کو اس لیے پیدا نہیں کیا کہ ہم کوئی کھیل کرنا چاہتے ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے عبث نہ بنائے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیل تماشے کے طور پر (بے کار) نہیں بنایا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، کھیلتے ہوئے نہیں بنایا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہم نے آسمان، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے انھیں محض کھیل کے طور پر نہیں پیدا کیا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے آسمان و زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیل تماشا کے طور پر نہیں بنایا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہم نے اس بلند وبالا (عبرتوں بھرے) آسمان کو اور اس خزانوں اور درسوں بھری زمین کو اور ان دونوں کے درمیان کی اس پوری کائنات کو کچھ کھیل تماشا کے طور پر تو نہیں بنایا

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کو (اس طرح) نہیں بنایا کہ ہم کھیل کررہے ہوں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے کھیل کے لیے نہیں بنایا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو مخلوقات ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کھیل تماشہ کے لیے پیدا نہیں کیا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We did not create in sport the heavens and the earth and all that lies between the two.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We did not create the heavens and the earth and what lies between them for play.

— Muhammad Taqi Usmani

We did not create the heavens and the earth and what lies between them for play.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

We created not the heavens and the earth and all that is between them for play.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

We created not the heaven and the earth and all that is between them in play.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We did not create the heaven and earth and that between them in play.

— Saheeh International

We did not create the heavens and the earth just for fun.

— Muhammad Sarwar

And We did not create the heaven and the earth and what is between them for sport.

— Muhammad Habib Shakir

And We created not the heaven and the earth and that which is in between in play.

— Abdul Majid Daryabadi

Not for (idle) sport did We create the heavens and the earth and all that is between!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 21:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 16–20

آسمان و زمین کوئی کھیل تماشہ نہیں آسمان و زمین کو اللہ تعالیٰ نے عدل سے پیدا کیا ہے تاکہ بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا دے۔ اس نے انہیں بیکار اور کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ اور آیت میں اس مضمون کے ساتھ ہی بیان ہے کہ یہ گمان تو کفار کا ہے جن کے لئے جہنم کی آگ تیار ہے۔ دوسری آیت کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ اگر ہم کھیل تماشہ ہی چاہتے تو اسے بنالیتے۔ ایک معنی یہ ہیں کہ اگر ہم عورت کرنا چاہتے۔ لہو کے معنی اہل یمن کے نزدیک بیوی کے بھی آتے ہیں۔ یعنی یہ دونوں معنے ہے اگر بیوی بنانا چاہتے تو حورعین میں سے جو ہمارے پاس ہے کسی کو بنا لیتے۔ ایک معنی یہ بھی ہیں کہ اگر ہم اولاد چاہتے۔ لیکن یہ دونوں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْبِیَآء 15 یہ تبصرہ ہے ان کے اس پورے نظریۂ حیات پر جس کی وجہ سے وہ نبی ﷺ کی دعوت پر توجہ نہ کرتے تھے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ انسان دنیا میں بس یونہی آزاد چھوڑ دیا گیا ہے۔ جو کچھ چاہے کرے اور جس طرح چاہے جیے، کوئی باز پرس اس سے نہیں ہونی ہے۔ کسی کو اسے حساب نہیں دینا ہے۔ چند روز کی بھلی بری زندگی گزار کر سب کو بس یونہی فنا ہوجانا ہے۔ کوئی دوسری زندگی نہیں ہے جس میں بھلائی کی جزا اور برائی کی سزا ہو۔ یہ خیال درحقیقت اس بات کا ہم معنی تھا کہ کائنات کا یہ سارا نظام محض کسی کھلنڈڑے کا کھیل ہے جس کا کوئی سنجیدہ مقصد نہیں ہے۔ اور یہ خیال دعوت پیغمبر سے ان کی بےاعتنائی کا اصل سبب تھا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور (ہمارے یکتا ہونے پر ہماری مصنوعات دلالت کر رہی ہیں کیونکہ) ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے اس کو اس طور پر نہیں بنایا کہ ہم فعل عبث کرنے والے ہوں (بلکہ ان میں بہت سی حکمتیں ہیں جن میں بڑی حکمت توحید حق پر دلات ہے اور) اگر ہم کو (آسمان اور زمین کے بنانے سے کوئی حکمت مقصود نہ ہوتی بلکہ ان کو محض) مشغلہ ہی بنانا منظور ہوتا (جس میں کوئی معتدبہ فائدہ مقصود نہیں ہوتا محض دل بہلانا منظور ہوتا ہے) تو ہم خاص اپنے پاس کی چیز کو مشغلہ بناتے (مثلاً اپنی صفات کمال کے مشاہدہ کو) اگر ہم کو یہ کرنا ہوتا (کیونکہ مشغلہ کو مشاغل کی شان سے مناسبت چاہئے تو کہاں ذات خالق…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آگے کا مضمون ………آیات 29-16 آگے اسی بات کی دلیل بیان ہوئی ہے جو اوپر مذکور ہوئی کہ اس دنیا میں قوموں کا جو محاسبہ ہوتا ہے اور آگے قیامت میں جو ہوگا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کو خدا نے محض اپنا جی بہلانے کے لئے اس طرح کا کوئی تھیٹر نہیں بنایا ہے جس طرح کے تھیٹر دنیا کے بادشاہ اپنے جی بہلانے کے لئے بناتے ہیں بلکہ یہ اس نے اپنے فضل و رحمت اور حق و عدل کے ظہور کے لئے بنائی ہے۔ اس فضل و رحمت اور حق و عدل کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اس میں اس کے بندے شتر بےمہار کی زندگی نہ گزاریں بلکہ خدا کے نظام حق و عدل کے پابند ہو کر زندگی گزاریں اور یہ یوں ہی چلتی نہ رہے بلکہ اس کے بعد ایک ایسا یوم الحساب بھی آئے جس میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

16۔ 1 بلکہ اس کے کئی مقاصد اور حکمتیں ہیں، مثلاً بندے میرا ذکر و شکر کریں، نیکوں کو نیکیوں کی جزا اور بدوں کو بدیوں کی سزا دی جائے۔ وغیرہ۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

6: جو لوگ دنیا کے بعد آخرت کی زندگی کا انکار کرتے ہیں، در حقیقت ان کے دعوے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات یونہی کسی مقصد کے بغیر ایک کھیل بنا کر پیدا کردی ہے، اور جو کچھ اس دنیا میں ہو رہا ہے، اس کا کوئی نتیجہ بعد میں ظاہر ہونے والا نہیں ہے، نہ کسی شخص کو اس کی نیکی کا کوئی صلہ ملے گا، اور نہ کسی ظالم اور بدکار کو اس کے گناہ کی سزا ملے گی۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی بات کی نسبت بہت بڑی گستاخی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 16–17

وما خلقنا السمآ ئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مما تصفون (61 : 81) ” اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو ایک حکمت اور اسکیم کے مطابق پیدا کیا ہے ‘ اس کا ایک مقصد ہے ۔ یہ کائنات محض کھیل تماشے کے طور پر نہیں پیدا کی گئی۔ یہ ایک حکیمانہ فعل ہے ‘ محض اتفاقی عمل نہیں ہے۔ جس سنجیدگی ‘ سچائی اور مقصدیت کے ساتھ زمین و آسمان کو پیدا کیا گیا ہے ‘ اس کے ساتھ رسولوں کو بھی بھیجا گیا ہے۔ کتابیں نازل کی گئی ہیں ‘ فرائض منصبی مقرر ہوئے اور شریعت اور قانون بنائے گئے ہیں۔ لہٰذا مقصدیت اور سنجیدگی اس کائنات کی اساس ہے۔ اس کے چلانے کا بھی ایک مقصد ہے۔ اس میں انسانوں کو ایک نظریہ دینے میں بھی ایک مقصد ہے اور موت کے بعد حساب و کتاب میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی جس میں کوئی معتدبہ حکمت اور غرض صحیح نہ ہو۔ اس لیے عقلمند کو چاہیے کہ آفرینش عالم کی غرض کو سمجھے اور دنیا کو محض کھیل تماشا سمجھ کر انجام سے غافل نہ ہو، بلکہ خوب سمجھ لے کہ دنیا آخرت کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ ہر نیک و بد کی جزا ملنا اور ذرہ ذرہ کا حساب ہونا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 16 وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَا لٰعِبِیْنَ ” یعنی ہم نے یہ دنیا کھیل تماشے اور شغل کے لیے نہیں بنائی ہے۔ ہماری ہر تخلیق بامقصد اور اٹل قوانین پر مبنی ہے۔ اسی طرح دنیا میں قوموں کے عروج وزوال کے بارے میں بھیُ ”سنتّ اللہ“ اور قواعد و ضوابط بالکل غیرمبدلّ اور ناقابل تغیر ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 16–17

14 دنیا دار اور اللہ کی یاد سے غافل انسان ہمیشہ یہی سمجھتے رہے ہیں کہ یہ دنیا بس ایک کھیل تماشا ہے۔ ہم یہاں عیش و عشرت کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔ اس لیے یہاں ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ جتنی عیش و عشرت اپنے لئے مہیا کرسکتا ہے اور جس طرح کرسکتا ہے، کرلے۔ گویا دنیا دار لوگوں کا منتہائے مقصود ہی یہ ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے بھی دنیا کو متعدد مقامات پر کھیل تماشا قرار دیا ہے مگر یہ بات صرف اس پہلو سے کہ یہ چند روزہ دنیا آخرت کے مقابلہ میں ایک کھیل تماشا کی حیثیت رکھتی ہے۔ کیونکہ یہ تھوڑی مدت بعد فنا ہوجانے والی ہے اور آخرت کی زندگی دائمی اور پائیدار ہے لہذا تمہیں اپنی تمام تر توجہ دنیا پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

21۔ (بلکہ ان کی تخلیق سے بیشمار حکمتیں اور مخلوق کی بےحساب مصلحتیں وابستہ ہیں) اس میں رد ہے ان مشرک قوموں کا جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ کائنات محض ” ایشور کی لیلا “ یا خدا کی تماشا گاہ ہے اور حق تعالیٰ کا مقصود اس سے کچھ نہیں، بجز تماشہ دیکھنے اور دکھانے کے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–23

آیت نمبر 11 تا 23 ترجمہ : اور کتنی ہی بستیوں کو یعنی بستی والوں کو جو ظالم یعنی کافر تھے تباہ یعنی ہلاک کردیا اور ان کے بعد دوسری قوم پیدا کردی تو ان ظالموں نے جب ہمارا عذاب آتا دیکھا یعنی بستی والوں نے جب ہلاکت کو محسوس کیا تو اس بستی سے تیزی سے بھاگنا شروع کردیا تو فرشتوں نے ان سے بطور استہزاء کے کہا بھاگو مت اور اپنے سامان کی طرف جس میں تم کو آسودگی دی گئی تھی اور اپنے مکانوں کی طرف واپس چلو تاکہ دنیا کے دستور کے مطابق تم سے کچھ پوچھ تاچھ کی جائے تو وہ لوگ کہنے لگے ہائے ہماری کمبختی (یا تنبیہ کے لئے ہے) یعنی ہماری ہلاکت بیشک ہم کفر کے ذریعہ ظلم کرنے والے تھے پھر تو انہی کلمات کی رٹ لگاتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما خلقنا السمآء والارض وما بینہما لعبین۔ اور ہم نے آسمان و زمین کو اور جو کچھ کہ ان کے درمیان ہے اس کو اس طور پر نہیں پیدا کیا کہ ہم فعل عبث کرنے والے ہوں۔ لِعٰبِیْنَبیکار کام کرنے والے ‘ یعنی آسمان و زمین اور ان کی درمیانی کائنات کی تخلیق ہم نے بیکار نہیں کی۔ بلکہ ان کے اندر اپنی حکمت کے عجائب کا اظہار کیا ہے۔ عبرت اندوز نظر رکھنے والوں کے لئے ان کے اندر ذخیرۂ عبرت پوشیدہ ہے اور معاش و معاد کو درست کرنے کا سامان موجود ہے ‘ ضروری ہے کہ ان موجودات کی ظاہری نظر فریبیوں کا شکار نہ ہوجائیں اصل حکمت پر غور کریں اور اس ساری کائنات کو تحصیل کمال کا ذریعہ بنائیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(16) اور ہم نے زمین و آسمان اور تمام مخلوقات کو اس طرح نہیں بنایا کہ ہم فضول کام کرنے والے ہوں کہ اوامرو نواہی کی کوئی ضرورت نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاۗءَ وَالْاَرْضَ۔۔ : پچھلی آیات میں ظالم بستیوں کو برباد کرنے کا ذکر فرمایا تھا، اب اس کی حکمت بیان فرمائی کہ ایسا نہیں ہے کہ ہم نے اس زمین و آسمان کو کھیلتے ہوئے پیدا کردیا ہے کہ لوگ جیسے چاہیں ظلم و ستم کرتے پھریں اور ان سے کوئی باز پرس نہ ہو۔ بلکہ ان کے پیدا کرنے میں ہماری بیشمار حکمتیں اور مصلحتیں ہیں اور کائنات میں ہر عمل کی جزا یا سزا کا عمل جاری ہے۔ لہٰذا اگر ان ظالموں کو ہلاک کیا گیا تو یہ عدل و انصاف اور جزا و سزا کے قانون کے عین مطابق تھا۔ تمہیں چاہیے کہ آنے والی دوسری زندگی میں جو ابدہی کے لیے تیاری کرو۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما خلقنا السماء والارض وما بینھما لعبین۔ یعنی ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے اندر ہے اسے عبث اور باطل نہیں بنایا بلکہ اس بات پر تنبیہ کرنے کے لیے ان کا خالق اور قادر ہے جس کے امر کی پیروی لازم ہے وہ مجرم اور نیک کام کرنے والے کو بدلہ دے گا یعنی ہم نے آسمان اور زمین کو پیدا اس لیے نہیں کیا کہ لوگ ایک دوسرے پر ظلم کریں اور انکار کریں اور جو انہیں حکم دیا گیا ہے اس کی مخالفت کریں پھر مر جائیں اور انہیں جزانہ دی جائے اور وہ دنیا میں نیکی کا حکم نہ دیں اور بری چیز سے منع نہ کریں۔ یہ لعب ہے جس سے حکیم کی نفی کی گئی ہے اور اس کی ضد حکمت ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما خلقنا السمآء ولارض وما بینھما لعبین “ یعنی ہم نے ان دونوں (آسمان و زمین) کو کھیل تماشا کے لئے نہیں پیدا کیا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَمَا خَلَقْنَا : اور ہم نے نہیں پیدا کیا ] [ السَّمَاۗءَ : آسمان کو ] [ وَالْاَرْضَ : اور زمین کو ] [ وَمَا بَيْنَهُمَا : اور اس کو جو ان کے درمیان ہے ] [ لٰعِبِيْنَ : کھیلنے والے ہوتے ہوئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 13–17

(لاَتَرْکُضُوْا) جو فرمایا اس سے پہلے قیل لھم حذف ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ جب وہ لوگ عذاب دیکھ کر بھاگنے لگے تو ان سے عذاب کے فرشتوں نے یا ان اہل ایمان نے جو وہاں موجود تھے بطور استہزا اور تمسخریوں کہا کہ ٹھہرو کہاں دوڑتے ہو۔ تمہیں تو اپنی نعمت اور دولت عیش و عشرت پر بڑا ناز تھا۔ اپنے گھروں کو مزین کر رکھا تھا اور اونچے اونچے مکان بنا کر فخر کرتے تھے۔ آؤ دیکھو تمہارے مکان کہاں ہیں ؟ تم سے کوئی سوال کرنے والا سوال کرے تو اس کا جواب دو ۔ اب تو ظلم اور عیش و عشرت کا نتیجہ دیکھ لیا۔ بتاؤ کیا انجام ہوا ؟ (حَصِیْدًا خَامِدِیْنَ ) اس میں ہلاک شدہ لوگوں کا انجام بتایا ہے۔ حصید کٹی ہوئی کھیتی کو کہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–29

بیان توحید و ابطال شرک قال اللہ تعالیٰ وما خلقنا السماء والارض وما بینھما لعبین .... الیٰ .... کذلک نجزی الظلمین۔ (ربط) ابتداء سورت سے لیکر یہاں تک کا مضمون تحقیق نبوت و رسالت سے متعلق تھا، اب آئندہ آیات میں توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال فرماتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ آسمان و زمین کی پیدائش میں غوروفکر کرو تاکہ تم کو اللہ کی معرفت حاصل ہو عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام چیزیں اللہ کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں۔ (یا یوں کہو) کہ گزشتہ آیات میں کفار کی غفلت اور اعراض اور ان کے لہو ولعب کو بیان کیا اب آگے یہ بیان کرتے ہیں کہ عالم کی پیدائش کھیل تماشہ نہیں بلکہ حق اور باطل میں فرق کرنے کے لیے یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 16–18

14:۔ توحید پر عقلی دلائل :۔ اس سورت میں توحید پر تین عقلی دلیلیں ذکر کی گئی ہیں۔ یہ پہلی عقلی دلیل ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ ہم نے زمین و آسمان اور ساری کائنات کو یونہی بےمقصد اور کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا اگر یہ سب کچھ محض کھیل ہوتا تو ہم اسے اپنے پاس رکھتے اور کسی کو اس کا علم تک نہ ہونے دیتے۔ اور نہ کسی کو دکھاتے۔ بلکہ ہم نے یہ ساری کائنات اظہار حق اور توحید پر استدلال کے لیے پیدا کی تاکہ بندے اس سے ہماری وحدانیت پر استدلال کرسکیں اور حق (توحید اور دین اسلام) باطل (کفر و شرک) پر غالب آسکے اس کائنات میں بندوں کے لیے عبرت و موعظت ہے کہ معبود برحق اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ جس نے ساری کائنات کو پیدا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–18

ربط آیات : سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے محاسبہ اعمال کا ذکر کیا کہ لوگوں کے حساب کتاب کی منزل قریب آچکی ہے۔ مگر یہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ قرب قیامت کا احساس اس وجہ سے ہے کہ اللہ کا آخری نبی اور اس کی آخری کتاب آچکی ہے اور اب قیامت کبریٰ کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں۔ جہاں تک انفرادی حساب کتاب کا تعلق ہے تو یہ انسان کی انفرادی موت کے ساتھ ہی شروع ہوجاتا ہے لہٰذا حساب کتاب کی منزل کا قریب ہونا اس لحاظ سے بھی درست ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں کی خفیہ میٹنگوں کا ذکر کیا کہ وہ اسلام کو ناکام بنانے کی ہر ممکن منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ ان کا ایک نظریہ یہ بھی تھا کہ ہم ایک انسان کو کیسے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاۗءَ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَہُمَا لٰعِبِيْنَ۝ 16 خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے لعب أصل الکلمة اللُّعَابُ ، وهو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

وما خلقنا السماء والارض الخ مشرکین بلکہ اور بہت سے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ انسان اور دیگر چیزیں آپ ہی پیدا ہوتی ہیں اور آپ ہی مٹ جاتی ہیں۔ خدا کو انسان کے نیک و بد سے کیا غرض اور رسولوں کے بھیجنے سے کیا مطلب ؟ پھر جو کوئی قوم یا شہر برباد ہوا ہوتا ہے اس میں ان کے گناہ وثواب کو کیا دخل۔ یہ سب اسباب ارضی و سماوی سے ہے۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ آسمان اور زمین اور اندر کی کائنات ازخود تو پیدا ہو ہی نہیں گئی بہرطور کوئی اس کی علت و سبب نکالو گے پھر اس میں کلام ہوگا انجام کار خدا کا قائل ہونا پڑے گا پھر جب ان کے ہم خالق ہیں تو باوجود اس علم و حکمت کے ہم نے ان چیزوں کو عبث اور بیکار تو پیدا کیا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَا خَلَقْنَا السَّمَـآئَ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَا لٰعِبِیْنَ ۔ (الانبیاء : 16) (ہم نے آسمان و زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیل تماشا کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ ) ایک توجیہ، ایک تبصرہ اللہ تعالیٰ متمرد قوموں پر جو عذاب بھیجتے ہیں یہ اس کی توجیہ بھی ہے اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی دعوت پر توجہ نہیں دیتے اور جس کی تصویر اب قریش تھے ان کے نظریہ حیات پر تبصرہ بھی ہے۔ توجیہ کی صورت یہ ہے کہ اگر اس زمین پر بسنے والے انسانوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کبھی گرفت نہ آئے اور ان کی زندگی بھر کے حساب کے لیے آخرت کا تصور نہ ہو تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا کسی حکیم و عادل کی تخلیق…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–18

فہم القرآن ربط کلام : پہلی اقوام کی تباہی کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ ہلاک ہونے والے سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو کھیل تماشا کے طور پر بنایا ہے اور دنیا ہمیشہ اس طرح ہی رہے گی۔ حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا ہلاک ہونے والے لوگ فکری یا عملی طور پر سمجھتے تھے کہ اس دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی تفریح یا محض اپنی قدرت کے اظہار کے طور پر پیدا کیا ہے۔ دنیا کی تو کوئی انتہا نہیں اور نہ اس کا انجام۔ اسی اعتقاد کی وجہ سے وہ لوگ دنیا پر اس قدر راضی اور قانع ہوئے کہ انھوں نے اپنے اور زمین و آسمان کے خالق کو نا صرف یکسر طور پر فراموش کردیا بلکہ اس کی بغاوت کرنے میں انتہا کردی۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

16: وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآ ئَ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَا لٰعِبِیْنَ (اور ہم نے آسمان و زمین کو اور جو کچھ ان کے مابین ہے اس کو اس طور پر پیدا نہیں کیا کہ ہم فعل عبث کرنے والے ہوں) اللعبؔ ایسافعل جس کا اول حصہ مناسب ہو مگر وہ فعل قائم رہنے والا نہ ہو۔ نحو : لا عبینؔ یہ خلقناؔ کے فاعل سے حال ہے مطلب یہ ہے کہ ہم نے یہ بلند وبالا چھت اور نرم وسیع بستر ایسے ہی نہیں بنا دیئے کہ انکا کوئی مقصد نہ ہو انکا مقصد ان کے مدبر و خالق کی قدرت پر استدلال کرنا ہے۔ تاکہ نیک کو اس کی نیکی اور برے کو اس کی برائی کی سزا اپنی حکمت کے مطابق عنایت کریں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–18

16۔ 18:۔ مشرکین مکہ نے جس طرح ملت ابراہیمی کی اور باتوں کو دل سے بھلا دیا تھا ‘ اسی طرح حشر اور قیامت کے مسئلہ کو بھی بھلا دیا تھا۔ اس لیے قرآن شریف میں حشر اور قیامت کی باتیں سن کر وہ طرح طرح کی عقبی بحث کرتے تھے ‘ چناچہ ایک شخص ابی بن خلف ایک روز ایک پرانی گلی ہوئی ہڈی آنحضرت ﷺ کے روبرو لایا اور اس ہڈی کو مل مل کر ہڈی کی راکھ ہوا میں اڑاتا جاتا تھا ‘ اور کہتا تھا ‘ کیا یہ راکھ محمد کا خدا پھر زندہ کرے گا ‘ اس قصہ کا ذکر مفصل سورة یس میں آوے گا اور اسی طرح کی بہت عقلی بحثیں ان لوگوں کی قرآن شریف میں کئی جگہ ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں اور بہت سی قرآن کی آیتوں میں ان کو قلی طور پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 16–17

آیت 16-17 اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے زمین اور آسمان کو کھیل تماشے کے طور پر عبث اور بےفائدہ پیدا نہیں کیا بلکہ ان کو حق کے ساتھ اور حق کے لئے پیدا کیا ہے تاکہ بندے اس کائنات سے استدلال کریں کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق، عظمت والا، کائنات کی تدبیر کرنے والا، حکمت والا اور رحمان و رحیم ہے، جو کمال کلی، ہر قسم کی تعریف اور تمام تر عزت کی مالک ہے۔ وہ اپنے قول میں سچا ہے اس کے رسول بھی اس کی طرف سے خبردینے میں سچے ہیں۔ وہ قادر ہستی جو زمین و آسمان کو ان کی وسعت اور عظمت کے ساتھ پیدا کرنے پر قادر ہے وہ جسموں کے مرنے کے بعد ان کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قدرت رکھتی ہے تاکہ نیک کو اس کی نیکی کی جزا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

18 کائنات کی تخلیق کوئی کھیل تماشا نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے آسمان اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی اس [ حکمتوں بھری ] کائنات کو کوئی کھیل تماشے کے طور پر نہیں پیدا کیا۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ حکمتوں بھری اس کائنات کی تخلیق کوئی کھیل تماشا نہیں۔ کہ ایسا کرنا نہ ہماری شان کے لائق ہے اور نہ ہی حکمتوں بھری اس عظیم الشان کائنات کے ساتھ اس کا کوئی جوڑ ہوسکتا ہے ۔ فَتَعٰالَی اللّٰہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ ۔ سو آسمان و زمین کی اس عظیم الشان کائنات کی تخلیق بیکار اور بےمقصد نہیں ہوسکتی۔ ایسا کہنا اور ماننا کافروں ہی کا کام ہوسکتا ہے اور اس کا نتیجہ و انجام بڑی ہلاکت اور ہولناک…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–29

غافل لوگ، عقیدہ آخرت اور انبیاء کا رد کرنیوالوں کا انجام تشریح : ان آیات میں ان عربی بدوئوں کے اعتقادات ‘ اعتراضات ‘ ہٹ دھرمی اور دین سے نفرت کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ سیدنا آدم (علیہ السلام) کو نبوت دی گئی اور اس کے بعد تمام انبیاء نے لوگوں کو توحید کا سبق دیا اور سب سے آخر میں سیدنا محمد ﷺ تشریف لائے۔ انہوں نے بھی توحید کا ہی سبق دیا۔ جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا تھا کہ جب بھی کوئی نبی اور رسول کسی قوم کی طرف بھیجا جاتا تو لوگوں میں تین گروہ پیدا ہوجاتے یعنی مومن کافر اور منافق۔ منافقین دونوں طرف گھومتے رہتے کفار اعتراضات اور مخالفت رسول میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے جیسا کہ کفار مکہ نے آپ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–29

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف اور کتنی بستیاں تھیں جو ان سے پہلے ایسے ہی افعال پر اور ان جیسے کردار کے باعث تباہ کردی گئیں اور معمورہ عالم آباد بھی رہا ان کی جگہ اور پیدا کردیے ان ظالموں نے بھی عذاب کو واقع ہوتے دیکھا تب یقین آیا اور لگے بھاگ بھاگ کر جان بچانے مگر اللہ جل جلالہ کی گرفت سے کون بھاگ سکتا ہے بلکہ ارشاد ہوتا ہے مت بھاگو اپنے مکان اور عیش و عشرت کو کیوں چھوڑتے ہو آج اپنے ہمدرد تلاش کرو مگر وہ کہتے تھے کہ ہماری بدبختی کہ ہم نے ظلم کا راستہ اختیار کیا اور یونہی شور مچاتے رہے کہ عذاب الہی نے پیس کر رکھ دیا جیسے کٹے ہوئے کھیت ہوں یا بجھی ہوئی آگ ، بعض مفسرین کرام نے یمن کی بستیاں مراد لی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 کہ لوگ جیسے چاہیں ظلم و ستم کرتے پھریں اور ان سے باز پرس نہ ہو بلکہ ان کے پیدا کرنے سے اللہ تعالیٰ کی گونا گوں مصلحتیں اور حکمتیں وابستہ ہیں اور دنیا میں قانون مکافات جاری ہے۔ لہٰذا ان ظالموں کو اگر ہلاک کیا گیا تو عین عدل و مجازات کے مطابق تھا۔ تمہیں چاہیے کہ دوسری آنے والی زندگی میں جوابدہی کے لئے تیاری کرو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(21:16) لعبین۔ اسم فاعل جمع مذکر لاعب واحد۔ لعب لعب وتلعاب مصدر۔ کھیلنے والے۔ بیکار کام کرنے والے۔ لعب حاصل مصدر بھی ہے بمعنی کھیل۔ لعبۃ گڑیا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–20

لغات القرآن آیت نمبر 11 تا 20 قصمنا (قصم) ہم نے توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ ظالمۃ ظلم و زیادتی، بدکاری کرنے والی۔ انشانا ہم نے اٹھا کھڑا کیا۔ باس عذاب یرکضون وہ بھاگتے ہیں۔ اترفتم تمہیں راحتیں /آسائشیں دی گئیں۔ یویلنا اے ہماری بد نصیبی، بدبختی۔ ما زالت ہمیشہ۔ حصید کٹی ہوئی کھیتی۔ خامدین بجھنے والے، راکھ ہوجانے والے۔ لھو کھیل، کھلونا۔ نقذف ہم پھینک مارتے ہیں۔ ضرب لگاتے ہیں۔ یدمغ (دمغ) دماغ نکال دینا، سرپھوڑ دینا۔ زاھق (زھوق) مٹج انے والا۔ لایستحسرون وہ نہیں تھکتے۔ تشریح : آیت نمبر 11 تا 20 ابتدائے کائنات سے آج تک اللہ تعالیٰ کا یہی دستور رہا ہے کہ حق و باطل، سچ اور جھوٹ کے درمیان جنگ میں فتح و…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 16–18

(ف 1) شان نزول : مشرکین مکہ اور بہت سے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ انسان وغیرہ سب چیزن آپ ہی پیدا ہوتی ہیں ، اور آپ ہی مرجاتی ہیں، خدا کو انسان کے نیک وبد سے کیا غرض اور رسولوں کے بھیجنے سے کیا مطلب ، پھر جو کوئی قوم یا شہر برباد ہوا، اس میں کسی کے گناہ یا ثواب کا کیا دخل۔ یہ سب باتیں اسباب ارضی وسماوی سے ہوتی ہیں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں، اور فرمایا کہ آسمان اور زمین اور ان کے اندر کی کائنات از خود تو پیدا ہو ہی نہیں گئی، مطلب یہ کہ ادنی سے عقل کا آدمی دنیا میں کوئی کام کرتا ہے تو کوئی مطلب اس کام کے کرنے سے اپنے دل میں ضرور ٹھان لیتا۔ مثلا کھیتی کرتا ہے تواناج حاصل…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 13–16

[9] یہ بطور استہزاء فرمایا گیا کہ بھاگتے کہاں ہو، ٹھہرو اور ادھر ہی واپس جاؤ جہاں عیش کئے تھے تاکہ لوگ تمہارے عاقلانہ مشوروں اور مدبرانہ آراء سے استفادہ کرنے کے لئے تمہارے پاس آئیں، یا نزول عذاب کے وقت تمہاری خوشحالی کی وجہ سے لوگ ہمدردی کے طور پر تمہاری احوال پرسی کریں، یا تمہارے خدام باادب ہاتھ باندھ کر تم سے پوچھیں کہ حضور کیا حکم ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 11–17

(ف 1) ان آیات میں اللہ نے اپنی سنت جاریہ کا ذکر فرمایا ہے کہ جب قومیں گناہ ونافرمانی کے عمیق غاروں میں گر جاتی ہیں ہم انہیں مہلت نہیں دیتے اور فورا ہٹا دیتے ہیں ، پھر اس کے بعد وہ لوگ جو صالح ہوتے ہیں اور جن میں باقی رہنے کی صلاحیت ہوتی ہے انہیں ان کی قائم مقامی عطا کردیتے ہیں ، اور جب ہمارا عذاب آجائے اس وقت مجرمین کا بچنا محال ہوجاتا ہے ، ان کی تمام کوششیں رائیگاں ہوجاتی ہیں ، چناچہ ارشاد ہے کہ ہم نے اپنی سنت کے مطابق اپنے وعدہ کا ایفاء کیا ، صداقت شعار لوگوں کو نجات دی ، اور مسترفین کو عذاب میں مبتلا کردیا ، یہ کتاب تمہاری طرف بھیجی ہے ، اس میں عذاب کی تفصیلات اور نصیحت و عبرت کا کافی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 16 اور ہم نے آسمان و زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان کو اس طور پر نہیں بنایا کہ ہم کوئی بےکار اور عبث فعل کرنیوالے تھے۔ یعنی اوپر کی آیتوں میں رسالت کا اثبات تھا اب توحید کے دلائل کا ذکر ہے مطلب یہ ہے کہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے مابین ہم نے بنایا اور پیدا کیا ہے وہ کوئی بیکاری کا مشغلہ یا فعل عبث نہیں ہے بلکہ یہ تمام مصنوعات ہماری توحید اور وحدانیت پر دلالت کرنے والی ہیں یہ ہم نے کوئی کھیل کے طور پر نہیں بنائی ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم نے زمین و آسمان کو کھیل وتماشا کے طور پر نہیں بنایا : 16۔ عربی زبان میں ” لعب ولھو “۔ دو اکٹھے لفظ استعمال ہوئے ہیں اور اردو میں کھیل اور تماشا بھی اکٹھا ہی بولا جاتا ہے اس لئے عام طور پر لعب ولھو کا ترجمہ کھیل اور تماشا ہی کے الفاظ سے کیا جاتا ہے ۔ لیکن دراصل اس سے مراد فضول ’ لغو ‘ بےمقصد اور بیکار وعبث کام ہیں۔ زیر نظر آیت میں لفظ (لعبین) آیا ہے جو اسم فاعل مذکر جمع منصوب ومجرور جس کا واحد لاعب ہے اور لعب لعب تلعاب مصدر (باب سمع) جس کے معنی ہیں کھیلنے والے ۔ بیکار کام کرنے والے لعب حاصل مصدر بھی ہے کھیل ۔ لعبۃ گڑیا وہ چیز جس سے کھیلا جاتا ہے مثلا شطرنج ‘ چونسر ‘ پانسہ وغیرہ بیوقوف آدمی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْ‌ضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَاعِبِينَ (And We did not create the heavens and the earth ... 21:16.) It means that we have not created the sky and the earth, and everything that lies in between them for mere amusement. In the preceding verses a reference has been made to the annihilation of certain settlements. In this verse there is a suggestion that just as the creation of the earth and the sky and all other created things was according to a set design, the destruction of the settlements was also the result of a definite purpose. Having witnessed the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

15. This was to refute their entire conception of life which was based on the assumption that man was free to do whatever he liked, and there was none to call him to account or take him to task: that there was no life in the Hereafter where one’s good deeds would be rewarded and evil deeds punished. In other words, this meant that the whole universe had been created without any serious purpose and therefore there was no need to pay any heed to the message of the Prophet.

Read the full tafseer →