Al-Anbiyaa 21:106

Al-Anbiyaa · from ayah 106

21:106

اِنَّ فِیْ هٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوْمٍ عٰبِدِیْنَ ۟ؕاِنَّ فِىۡ هٰذَا لَبَلٰغًا لّـِقَوۡمٍ عٰبِدِيۡنَؕ

عبادت کرنے والے لوگوں کے لئے اس میں (خدا کے حکموں کی) تبلیغ ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, in this [Qur'an] is notification for a worshipping people.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 7 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anbiyaa

All translations of 21:106

اِس میں ایک بڑی خبر ہے عبادت گزار لوگوں کے لیے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

عبادت کرنے والے لوگوں کے لئے اس میں (خدا کے حکموں کی) تبلیغ ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

عبادت گزار بندوں کے لئے تو اس میں ایک بڑا پیغام ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

بیشک اس (قرآن) میں عبادت گزار لوگوں کے لیے کافی پیغام ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک یہ قرآن کافی ہے عبادت والوں کو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک اس (قرآن) میں عبادت گزاروں کے لئے (حصولِ مقصد کی) کفایت و ضمانت ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا ایک پیغام ہے جو عبادت کرنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بلاشبہ اس (ارشاد الٰہی) میں عبادت گزاروں کے لئے ایک بڑی خبر ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک اس کے اندر ہمارے عبادت گزار بندوں کے لئے بڑی آگاہی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ اس میں ایک بڑا پیغام ہے عبادت گزاروں کے لئے

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک اس (قرآن) میں (بڑی) تبلیغ ہے بندگی کرنے والے لوگوں کیلئے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقیناً اس میں ایک بڑی خبر ہے (اللہ کی) بندگی کرنے والوں کے لیے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

عبادت کرنے والے لوگوں کے لیے اس میں اللہ کے حکموں کی وضاحت ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Herein, surely, is a message for those devoted to worship.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely, in this (Qur‘an) there is a message conveyed to a people who worship (Allah).

— Muhammad Taqi Usmani

Surely, in this (Qur‘an) there is a message conveyed to a people who worship (Allah).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, in this there is a plain Message for people who worship Allah.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! there is a plain statement for folk who are devout.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, in this [Qur'an] is notification for a worshipping people.

— Saheeh International

This is a lesson for those who worship (God).

— Muhammad Sarwar

Most surely in this is a message to a people who serve

— Muhammad Habib Shakir

Verily in this in a preaching for a people who are worshippers.

— Abdul Majid Daryabadi

Verily in this (Qur'an) is a Message for people who would (truly) worship Allah.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 21:106

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 105–107

سچافیصلہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جس طرح آخرت میں دے گا اسی طرح دنیا میں بھی انہیں ملک ومال دیتا ہے، یہ اللہ کا حتمی وعدہ اور سچا فیصلہ ہے۔ جیسے فرمان آیت (اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ ڐ يُوْرِثُهَا مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ ۭوَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ01208) 7۔ الاعراف :128) زمین اللہ کی ہے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے، انجام کار پرہیزگاروں کا حصہ ہے۔ اور فرمان ہے ہم اپنے رسولوں کی اور ایمانداروں کی دنیا میں اور آخرت میں مدد فرماتے ہیں اور فرمان ہے کہ تم میں سے ایمان داروں اور نیک لوگوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ انہیں زمین میں غالب بنائے گا جیسے کہ ان سے اگلوں کو بنایا اور ان کے لئے ان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْبِیَآء 99 اس آیت کا مطلب سمجھنے میں بعض لوگوں نے سخت ٹھوکر کھائی ہے اور اس سے ایک ایسا مطلب نکال لیا ہے جو پورے قرآن کی تردید اور پورے نظام دین کی بیخ کنی کردیتا ہے۔ وہ آیت کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ دنیا کی موجودہ زندگی میں زمین کی وراثت (یعنی حکومت و فرمانروائی اور زمین کے وسائل پر تصرف) صرف صالحین کو ملا کرتی ہے اور ان ہی کو اللہ تعالیٰ اس نعمت سے نوازتا ہے۔ پھر اس قاعدہ کلیہ سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ صالح اور غیر صالح کے فرق و امتیاز کا معیار یہی وراثت زمین ہے، جس کو یہ وراثت ملے وہ صالح ہے اور جس کو نہ ملے وہ غیر صالح۔ اس کے بعد وہ آگے بڑھ کر ان قوموں پر نگاہ ڈالتے ہیں جو دنیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر بلاشبہ اس (قرآن یا اس کے جز، یعنی سورت مذکورہ) میں کافی مضمون ہے ان لوگوں کے لئے جو عبادت کرنے والے ہیں (اور جو عبادت اور اطاعت سے سرکشی کرنے والے ہیں یہ ہدایت تو ان کے لئے بھی ہے مگر ان میں ہدایت کی طلب نہیں، اس لئے اس کے فائدے سے محروم ہیں) اور ہم نے آپ کو کسی اور بات کے واسطے (رسول بنا کر) نہیں بھیجا مگر دنیا جہان کے لوگوں پر (اپنی) مہربانی کرنے کے لئے (وہ مہربانی یہی ہے کہ لوگ رسول سے ان مضامین کو قبول کریں اور ہدایت کے ثمرات حاصل کریں اور جو قبول نہ کرے وہ اس کا قصور ہے اس سے اس مضمون کی صحت میں کوئی فرق نہیں پڑتا) آپ ان لوگوں سے (بطور خلاصہ کلام کے مکرر) فرما دیجئے کہ میرے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

لفظ بلاغ یہاں منادی عام اور بشارت عام دونوں کے مضمون کا حامل ہے اور لفظ کی تنکیر تضخیم شان کے لئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا کا یہ فصلہ کہ زمین کے وارث صرف خدا کے نیکو کاربندے ہی ہوں گے اس کے عبادت گزار بندوں کے لئے ایک عظیم اعلان بشارت ہے تو جس کو بازی کھیلنی ہو اس کے لئے بازی کھیلے، اس حیات چند روزہ کے پیچھے اپنی ابدی بادشاہی کو کیوں ضائع کرے !

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

16۔ 1 فی ‌ھذا سے مراد وہ وعظ و تنبیہ ہے جو اس سورت میں مختلف انداز سے بیان کی گئی ہے بلاغ سے مراد کفایت ومنفعت ہے یعنی وہ کافی اور مفید ہے یا اس سے مراد قرآن مجید ہے جس میں مسلمانوں کے لئے بڑا فائدہ اور کفالت ہے عابدین سے، خشوع خضوع سے اللہ کی عبادت کرنے والے، اور شیطان اور خواہشات نفس پر اللہ کی اطاعت کو ترجیح دینے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 105–112

47: یعنی آخرت میں ساری زمین پر کسی کافر کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ؛ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں ہی کو ملے گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 106–107

ان فی ھذا لبلغا لقوم عبدین (21 : 106) ” اس میں ایک بڑی خبر ہے عبادت گزار لوگوں کے لئے۔ “ یعنی قرآن کی تعلیمات میں اس پوری کائنات اور انسانی زندگی کے لئے جو اصول وضع کئے گئے ہیں اور پھر لوگوں کے لئے دنیا (آیت 105) اور آخرت میں جو فطری انجام بتائے گئے ہیں ، جو اصول عمل اور مکافات عمل رکھے گئے ہیں ان سب میں ان لوگوں کے لئے بڑی خوشخبری ہے۔ صرف ان لوگوں کے لئے جو اللہ کی ہدایات کے مطابق کام کرنے کے لئے تیار ہوں۔ ایسے لوگوں کے لئے اللہ نے لفظ ” عابدین “ استعمال کیا ہے کیونکہ عبادت کرنے والا ، بندگی کرنے والا شخص ہر بھلائی کو قبول کرنے کیلئے ہر وقت تیار ہوتا ہے اور تدبر کر کے اس سے نفع اٹھا سکتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی اس قسم کی بشارات سن کر خدائے واحد کی بندگی کرنے والے اپنے مطلب کو پہنچتے ہیں، یا اس قرآن کریم میں جو ایسی عظیم بشارات و ہدایت پر مشتمل ہے بندگی کرنے والوں کے لیے کافی منفعت اور کامیابی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 106–107

آیت 107 وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ ” یعنی آپ ﷺ کی بعثت صرف جزیرہ نمائے عرب تک محدود نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو جزیرۂ نمائے عرب میں اسلام کے عملی طور پر غلبے کے بعد آپ ﷺ کی بعثت کا مقصد پورا ہوچکا ہوتا ‘ مگر آپ ﷺ تو تمام اہل عالم کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ چناچہ آپ ﷺ کی بعثت کا مقصد قرآن میں تین مقامات التوبہ : 33 ‘ الفتح : 28 اور الصف : 9 پر ان الفاظ میں بیان فرمایا گیا ہے : ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ ”وہی ذات ہے جس نے اپنے رسول ﷺ کو بھیجا الہدیٰ اور دین حق کے ساتھ تاکہ اسے غالب کر دے تمام ادیان پر“۔…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

94 یعنی عبادت گزاروں کے لئے ان آیات میں ایک بڑی خوشخبری ہے کہ اگر وہ ان آیات پر عمل پیرا ہوں گے تو یقیناً وہی منزل مقصود کو پالیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 106–107

143۔ اور وہ رحمت ومہربانی یہی ہے کہ قرآن کے مخاطبین رسول کے پیام ہدایت کو قبول کریں اور اپنی زندگی کو انہی کے لائے ہوئے نظام کے سانچہ میں ڈھالیں۔ فلاح کو نین وسعادت دارین صرف رسول ﷺ کے اتباع میں ہے۔ یہاں تک کہ رسول کا غزواقتال بھی دنیا کے حق میں سرتاسر رحمت ہی ہوتا ہے۔ اقبال نے کتنا سچ کہا ہے۔ ع :۔ لفط وقہر او سراپا رحمتے آں بہ یاراں ایں بہ اعدارحمتے : مرشد تھانوی (رح) نے آیت سے ایک نکتہ یہ بھی استنباط کیا ہے کہ مقبولین کی برکات ان کے قصد کے بغیر بھی عالم کو پہنچتی رہتی ہیں۔ جیسے آفتاب کی شعاعیں کہ بلا اس کے قصد وعلم کے سب کو پہنچتی رہتیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 94–112

آیت نمبر 94 تا 112 ترجمہ : تو جو شخص نیک عمل کرے اور وہ مومن بھی ہو تو اس کی کوشش کی ناقدری نہیں کی جائے گی یعنی انکار نہیں کیا جائے گا اور ہم اس کی سعی کو لکھ لیتے ہیں یعنی ہم فرشتوں کو اس کے لکھنے کا حکم دیتے ہیں سو ہم اس کو اس کی سعی کا بدلہ دیں گے اور حرام ہے اس بستی پر یعنی بستی والوں پر جن کو ہم نے ہلاک کردیا ہے یہ کہ وہ لوٹ آئیں یعنی ان کا دنیا کا طرف لوٹ کر آنا ممتنع ہے اور لا یرجعون میں لا زائدہ ہے، یہاں تک کہ یہ امتناع رجوع کی گایت ہے کھولدئیے جائیں یا جوج اور ماجوج فتحت تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے، یأجوج مأجوج ہمزہ کے ساتھ اور ترک ہمزہ کے ساتھ دو قبیلوں کے دو عجمی نام ہیں اور ان سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان فی ہذا لبلغا بیشک اس میں (جنت تک) پہنچانے کا پورا سامان ہے۔ فی ہذا یعنی قرآن میں جو خبریں ‘ نصیحتیں اور وعدہ وعید مذکور ہیں سب میں۔ لَبلاغاً یعنی جنت میں داخل ہونے کا پورا سامان ہے پورا قرآن جنت کا توشہ ہے جیسے مسافر کے لئے زاد راہ منزل تک پہنچنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ یا بلاغاً سے مراد ہے ذریعۂ کامیابی۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص اس سے نصیحت اندوز ہوگا وہ اپنی آرزو کو پہنچ جائے گا۔ لقوم عبدین۔ عبادت کرنے والے لوگوں کے لئے۔ یعنی ان مؤمنوں کے لئے جو صرف اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا ‘ عابدین سے مراد ہیں علما (یا کل اہل عالم) کعب احبار نے کہا امت اسلام مراد ہے جو پنج وقتہ نمازیں پڑھتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(106) بیشک اس قرآن حکیم میں مؤحدین کے لیے کافی مضمون ہے یا یہ کہ اوامرو نواہی کے ذریعے سے نصیحت ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

؁ اِنَّ فِيْ ھٰذَا لَبَلٰغًا۔۔ : یعنی اس قرآن میں یا اس سورت میں توحید، آخرت، انبیاء کے واقعات اور جو دوسرے مضامین بیان ہوئے ہیں ان میں ان لوگوں کے لیے بہت بڑا پیغام ہے جو اللہ تعالیٰ کی بندگی اختیار کرنے والے ہیں۔ جو لوگ اللہ کی عبادت پر آمادہ ہی نہیں، بلکہ شیطان اور نفس کی پیروی پر ڈٹے ہوئے ہیں انھیں اس قرآن سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ آنکھوں میں روشنی ہو تو سورج یا چراغ کی روشنی کا فائدہ ہوتا ہے، اندھے کو چراغ سے کچھ دکھائی نہ دے تو اس میں چراغ کا کوئی قصور نہیں۔ دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (2) میں ”ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ“ کی تفسیر۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 105–106

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ولقد کتبنا فی الزبور، الزبور اور الکتاب ایک چیز ہے اسی وجہ سے تورات اور نجیل کو زبور کہنا جائز ہے۔ زبرت کا معنی ہے کتبت اس کی جمع زبر ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا : الزبور سے مراد تورات، انجیل اور قرآن ہے۔ من بعد الذکر جو آسمان میں ہے۔ ان الارض سے مراد جنت کی زمین ہے۔ یرثھا عبادی الصلحون یہ سفیان نے اعمش سے انہوں نے سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے۔ ثعلبی نے کہا : الزببور سے مراد حضرت دائود (علیہ السلام) کی زبور ہے۔ الذکر سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تورات ہے۔ مجاہد اور ابن زید نے کہا : الزبور سے مراد انبیاء کرام کی کتب ہیں۔ الذکر سے مراد ام الکتاب ہے جو اللہ تعالیٰ کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 105–108

1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر “ سے مراد ہے قرآن (اور) الارض سے مراد جنت کی زمین۔ 2:۔ ابن جریر نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر “ میں بالذکر سے مراد ہے کہ ہم نے قرآن میں لکھ دیا تورات کے بعد اور الارض سے مراد ہے جنت کی زمین۔ 3:۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر “ میں بالذکر سے مراد ہے تورات اور بالزبور سے مراد ہے تورات کے بعد کی کتابیں۔ 4:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد کتبنا فی الزبور “ سے مراد ہے کتابیں اور ” من بعد الذکر “…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ ان : بیشک ] [ فِيْ ھٰذَا : اس میں ] [ لَبَلٰغًا : ایک پیغام ہے ] [ لِقَوْمٍ عٰبِدِيْنَ : بندگی کرنے والے لوگوں کے لئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

آخر میں یہ فرمایا (اِنَّ فِیْ ھٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوْمٍ عٰبِدِیْنَ ) (بلاشبہ اس میں عابدین کے لیے کافی مضمون ہے) جسے سمجھ کر اور جان کر اعمال صالحہ کی طرف متوجہ اور آخرت کے لیے متفکر ہوسکتے ہیں۔ کعب الاحبار کا قول ہے کہ قوم عابدین سے امت محمدیہ علی صاحبھا الصلاۃ و التحیۃ مراد ہے اور حضرت حسن سے منقول ہے کہ عابدین سے وہ لوگ مراد ہیں جو پانچوں وقت پابندی سے نماز ادا کرتے ہیں۔ حضرت قتادہ نے فرمایا کہ عابدین سے عاملین مراد ہیں (لہٰذا یہ لفظ تمام اعمال صالحہ والوں کو شامل ہے) ۔ (الدر المنثور، ج 4، ص 341)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 106–112

خاتمہ سورت بر اتمام حجت بہ تنزیل کتاب ہدایت و بعثت رسول رحمت ﷺ قال اللہ تعالیٰ ان فی ھذا لبلاغا لقوم عابدین .... الیٰ .... وربنا الرحمن المستعان علی ما تصفون۔ (ربط) یہ سورت کا خاتمہ ہے جس میں یہ بتلاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری ہدایت کے لیے یہ قرآن نازل کیا اور ایسے نبی کو تمہارے لئے مبعوث کیا جو تمام جہانوں کے لیے رحمت ہے جس کے اتباع کی برکت سے تم کو دینی اور دنیوی نعمت اور سعادت اور زمین کی وراثت اور بادشاہت میسر آئی۔ اللہ نے تم پر حجت پوری کردی۔ نبی کے ذمہ صرف تبلیغ ہے سو وہ آپ کرچکے اب رہ گیا کہ قیامت اور حساب و کتاب کا وقت کب آئے گا جس کے متعلق یہ اہل غفلت اور معترضین آپ ﷺ سے سوال…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

84:۔ ” اِنَّ فِیْ ھٰذَا الخ “ ھذا کا اشارہ اس سورت میں مذکور تمام امور کی طرف ہے بعض مفسرین نے اس سے تمام قرآن مراد لیا۔ والاول اوفق ای فیما جری ذکرہ فی ھذہ السورۃ من الوعظ والتنبیہ وقیل ان فی القرآن (قرطبی) ای القرآن او فی المذکور فی ھذہ السورۃ من الاخبار والوعد والوعید والمواعظ (مدارک ج 3 ص 70) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 105–112

ربط آیات : یہ مکی سورة ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے توحید ، رسالت اور قیامت کے تین اہم بنیادی مسائل بیان فرمائے ہیں۔ رسالت کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء کے حالات ، ان کی پاک سیرت ، ان کا طریقہ تبلیغ اور بارگاہ رب العزت میں ان کی مناجات کا تذکرہ کیا ہے ان پر بہت سی مصیبتیں بھی آئیں جنہیں خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہوئے کمال صبر و تحمل کا نمونہ پیش کیا۔ اس میں حضور ﷺ اور آپ کے رفقا کے لئے تسلی کا مضمون بھی ہے کہ سابقہ انبیاء کی طرح وہ بھی مصائب کو برداشت کرتے ہوئے تبلیغ دین کا کام جاری رکھیں ، بالآخر اللہ تعالیٰ انہی کو کامیابی عطا فرمائے گا۔ آج کی آیات میں پہلے تسلی کا مضمون ہے اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 105–106

وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ يَرِثُہَا عِبَادِيَ الصّٰلِحُوْنَ۝ 105 زبر الزُّبْرَةُ : قطعة عظیمة من الحدید، جمعه زُبَرٌ ، قال : آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ [ الكهف/ 96] ، وقد يقال : الزُّبْرَةُ من الشّعر، جمعه زُبُرٌ ، واستعیر للمجزّإ، قال : فَتَقَطَّعُوا أَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ زُبُراً [ المؤمنون/ 53] ، أي : صاروا فيه أحزابا . وزَبَرْتُ الکتاب : کتبته کتابة غلیظة، وكلّ کتاب غلیظ الکتابة يقال له : زَبُورٌ ، وخصّ الزَّبُورُ بالکتاب المنزّل علی داود عليه السلام، قال : وَآتَيْنا داوُدَ زَبُوراً [ النساء/ 163] ، وَلَقَدْ كَتَبْنا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 105–112

ولقد کتبنافی الزبور سعید بن جبیر و مجاہد و کلبی و مقاتل و ابن زید کہتے ہیں زبور سے مراد وہ کتابیں جو دنیا میں انبیاء پر نازل ہوئیں اور ذکر سے مراد لوح محفوظ کہ جہاں سے نقل ہو کر یہ کتابیں آئیں یعنی دونوں جگہ ہم نے لکھ دیا کہ زمین کے نیک بندے وارث ہوں گے۔ زمین سے مراد جنت کی زمین کہ وہاں بجز ان کے اور کوئی آدم (علیہ السلام) کے ورثہ میں مالک نہ ہوگا۔ سو یہ بات کل آسمانی کتابوں میں ہے۔ اس تقدیر پر یہ آیت بیان سابق کا تتمہ یا تاکید ہوگی۔ قتادہ و شعبی کہتے ہیں زبور سے مراد قرآن و ذکر سے مراد تورات ہے۔ سو ان دونوں میں بھی یہ بات مذکور ہے زبور سے مراد دائود کی کتاب بھی ہوسکتی ہے۔ ارض میں مفسرین کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ فِیْ ھٰذَا لَبَلٰـغًا لِّقَوْمٍ عٰبِدِیْنَ ۔ (الانبیاء : 106) (بیشک اس قرآن میں ہمارے عبادت گزار بندوں کے لیے بڑی آگاہی ہے۔ ) لَبَلٰـغًا …اس لفظ کی تنکیر تفخیمِ شان کے لیے ہے۔ ” بلاغ “ کفایت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور منادیِ عام اور بشارتِ عام پر بھی بولا جاتا ہے۔ بلاغ کا مفہوم اس آیت کریمہ کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی بندگی کرنے اور بندہ بن کر رہنے کا فیصلہ کرچکے ہیں انھیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ یہ قرآن کریم جو اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے یہ بندگی کے تمام اصول و ضوابط اور تمام آداب کا احاطہ کرنے کے لیے کافی ہے۔ زندگی کی کوئی ضرورت ایسی نہیں جس کا جواب قرآن…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 104–106

فہم القرآن ربط کلام : جس دن بروں کو سزا اور نیک لوگوں کو جزا دی جائے گی اس کی ابتداء اس طرح ہوگی۔ جب پہلا صور پھونکا جائے گا تب قیامت برپا ہوجائے گی۔ ہر چیز فنا اور ہر نفس ختم ہوجائے گا۔ اس کے بعد زمین و آسمان کو بدل دیا جائے گا اور آسمان کو تحریر شدہ کاغذات کی طرح لپیٹ دیا جائے گا۔ مخلوق کو اللہ تعالیٰ اسی حالت میں کردیں گے جس حالت میں پہلے تھی یعنی دنیا کی ہر چیز ختم کردی جائے۔ اللہ تعالیٰ ایسا ضرور کرے گا کیونکہ اس کا ارشاد ہے کہ یہ وعدہ ہے جسے ہم ضرور پورا کریں گے زمین کے وارث نیک اور صالح لوگ ہوں گے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) پر نازل کی گئی، کتاب زبور میں اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

106: اِنَّ فِیْ ھٰذَا (بیشک اس میں) قرآن میں نمبر 2۔ اس سورت میں جو اخبار، وعدے اور وعیدیں اور مواعظ مذکور ہوئیں ان تمام میں۔ لَبَلٰغًا (البتہ پوری بات ہے) کفایت ہے اور اس کی اصل یہ ہے کہ بلاغ وہ ہے جس سے حاجت و ضرورت پوری ہوجائے۔ لِّقَومٍ عٰبِدِیْنَ (عبادت گزار قوم کیلئے) توحید پرست اور وہ امت محمد یہ علی صاحبھا الصلوٰۃ والسلام ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

106۔ ان فی ھذا، اس قرآن میں ۔ لبلاغا، جن لوگوں نے قرآن کی پیروی کی اور اس پر عمل کیا تو اس کو وہ ثواب حاصل ہوجائے گا، اور بعض نے کہا منزل مقصود تک پہنچنا، جیسا کہ کہاجاتا ہے فلاں چیز اس کو پہنچ گئی۔ مطلب اس کو کافی ہوگئی اور قران جنت کے لیے زادراہ ہے۔ جیسا کہ مسافر کے لیے کھانا اور سواری زاد راہ ہے۔ لقوم عابدین۔ ان مومنوں کے لیے جو اللہ کی عبادت کرتے ہیں ۔ ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد علماء ہیں۔ کعب احبار کا قول ہے کہ اس سے امت اسلام مراد ہے جو پانچ وقت نمازیں پڑھتے ہیں اور رمضان کے روزے رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 106–107

106۔ 107:۔ اوپر ذکر تھا کہ پہلے لوح محفوظ میں اور اس کے بعد انبیاء پر جو کتابیں نازل کی گئی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ نے یہی لکھا ہے کہ جنت کی زمین کے وہی لوگ مالک اور وارث ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں نیک ٹھہر چکے ہیں ‘ ان آیتوں میں فرمایا ایسے لوگ آسمان و زمین سے اور آسمان و زمین میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ہزاروں نشانیوں سے اللہ تعالیٰ کو تو پہچان سکتے ہیں ‘ لیکن اللہ تعالیٰ کی مرضی اور نامرضی کے کاموں کی تفصیل ان کو بغیر آسمانی کتاب کے نہیں معلوم ہوسکتی تھی اس واسطے خالص دل سے اللہ کی عبادت کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس قرآن شریف میں اپنی مرضی اور نامرضی کی سب باتیں کافی طور پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 104–106

آیت 104 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ قیامت کے روز آسمانوں کو، ان کی عظمت اور وسعت کے باوجود، لپیٹ دے گا، جس طرح کاتب ورق کو لپیٹتا ہے یہاں (السجل) سے مراد ورق ہے جس کے اندر کچھ تحریر کیا گیا ہو۔ پس آسمان کے تمہارے ستارے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ سورج اور چاند اپنی روشنی سے محروم ہو کر اپنی اپنی جگہ سے ہٹ جائیں گے۔ (کما بدانا اول خلق نعیدہ) ہم مخلوق کو دوبارہ اسی طرح پیدا کریں گے جس طرح ہم نے ان کو ابتدا میں پیدا کیا تھا۔ پس جس طرح ہم نے ان کو اس وقت پیدا کیا جب وہ کچھ بھی نہ تھے، اسی طرح ہم ان کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کریں گے۔ (وعدا علینا انا کنا فعلین) یعنی جو ہم نے وعدہ کیا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 78–112

ایک کھیت کے بارے میں سلیمان کا فیصلہ قول باری ہے (وداود و سلیمان اذ یحکما ن فی الحرث اذ نفشت فیہ غنم القوم و کنا لحکمھم شاھدین ففھمنا ھا سلیمان وکلا اتینا حکماً و علماً اور اس نعمت سے ہم نے دائود و سلیمان کو سرفراز کیا۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ وہ دونوں ایک کھیت کے مقدمے میں فیصد کر رہے تھے جس میں رات کے وقت دوسرے لوگوں کی بکریاں پھیل گئی تھیں اور ہم ان کی عدالت کو دیکھ رہے تھے۔ اس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق مروزی نے روایت بیان کی، انہیں الحسن بن ابی ربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 105–107

142 ذکر اور زبور سے مقصود و مراد : یہاں پر ذکر سے مراد لوح محفوظ اور الزبور سے مراد وہ تمام آسمانی کتابیں ہیں جو مختلف انبیائے کرام پر نازل فرمائی گئیں۔ (ابن کثیر، مراغی، محاسن اور صفوہ وغیرہ ) ۔ تو مطلب اس صورت میں یہ ہوا کہ ہم نے یہ مضمون اول لوح محفوظ میں لکھا اور پھر تمام آسمانی کتابوں میں بھی اس کو لکھ دیا۔ سو اس سے اس کی عظمت و اہمیت اور قطعیت واضح ہوجاتی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زبور سے مراد زبور داؤد ہے اور ذکر سے مراد تورات۔ لیکن پہلا قول و احتمال زیادہ اہم اور اوفق بالمراد ہے ۔ والعلم عند اللہ سبحانہ و تعالیٰ ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی میں یہ چیز لکھ دی اور طے کردی اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 104–112

قیامت کا منظر، نبی ﷺ کا پیغام تشریح : سب سے پہلے کائنات کے اختتام کا ذکر ہے کیونکہ یہ بالکل سچا اور پکا وعدہ ہے پھر اس کو دوبارہ پیدا کرنے کا وعدہ ہے۔ کائنات کے اختتام کا منظر کچھ یوں بیان کیا ہے۔ ڈاکٹر دلدار احمد اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں۔ ” اس وقت اوراق کے یہ طومار کھلے ہوئے ہیں اور اس کے تمام نقوش اور خطوط پڑھے جا رہے ہیں۔ اور ہر ایک اپنی جگہ پر قائم اور برقرار ہے۔ لیکن جب قیامت کا حکم ہوجائے گا تو یہ عظیم طومار اپنے تمام خطوط و نقوش کے ساتھ لپیٹ دیے جائیں گے، یعنی کائنات پھیل رہی ہے اور ایک خاص حد تک وسعت پا چکنے کے بعد یہ دوبارہ سکڑنا شروع ہوجائے گی (یعنی) طومار لپیٹ دیے جائیں گے۔ ( از…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 94–112

(رکوع نمبر 7) اسرارومعارف اور آخرت میں تو وہ ایماندار لوگ ہی نام پائیں گے جنہوں نے نیک کام کئے ہوں گے کہ ان کا کوئی عمل رائیگاں نہ جائے گا کہ اللہ کریم کے لکھنے والے ہر ہر عمل کو لکھ لیتے ہیں یعنی آخرت کے اجر کی بنیاد عقیدہ ہے کہ درست ہو اور صرف عقیدہ ہی نہ رہے اس کے ساتھ عمل صالح یعنی نبی (علیہ السلام) کے ارشاد کے مطابق عمل بھی ہو تو ہر چھوٹا بڑا عمل انعام اور اجر پائے گا مگر جو لوگ ایمان ہی قبول نہیں کرتے وہ عمل تو کر ہی نہیں سکتے اور پھر عذاب الہی سے تباہ ہوجاتے ہیں تو آنکھ کھلتی ہے مگر ان کے لیے پھر سے عمل کے لیے دنیا میں واپس آنا ہرگز ممکن نہیں ، یہاں تک کہ دنیا کی بساط لپیٹ دی جائے گی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 105–106

ف 12 ۔ ” اذکر “ سے مراد لوح محفوظ ہے اور بعض نے ” توارۃ “ مراد لی ہے اور بعض نے اسے اس کی لفظی یعنی ” نصیحت “ میں لیا ہے۔ (شوکانی) 13 ۔ یہاں ” الارض “ سے کونسی زمین مراد ہے اس میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ بعض علما نے بہشت کی زمین مراد لی ہے کیونکہ دوسری آیت میں جنت کے متعلق و اور ثنا الرض فرمایا ہے۔ یعنی جس نے ہمیں زمین یعنی جنت کا وارث بنایا۔ (زمر : 47) گویا یہ اہل ایمان کے حق میں ایک بشارت اخروی ہے جیسے فرمایا ہو العاقبۃ للمتقین۔ (اعراف) مگر اکثر علما نے اسے بشارت دنیوی پر محمول کیا ہے۔ پھر بعض نے کافر قوموں کی سرزمین مراد لی ہے اور بعض نے ” بیت المقدس “ کی فتح۔ چناچہ حضرت عمر ؓ کی خلافت میں یہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(21:106) ھذا۔ سے مراد سورة ہذا میں جو توحید الٰہی اور صحت نبوت۔ وعدہ وعید اور پندو نصائح کے متعلق براہین قاطعہ مندرج ہیں وہ مراد ہیں۔ یا اس سے مراد القرآن ہے۔ لیلاغا۔ لام تاکید کے لئے ہے بلاغا مصدر ہے بمعنی پہنچا دینا۔ کافی ہونا۔ یہاں اس آیت میں کافی ہونا کے معنی میں ہے۔ منصوب بوجہ عمل ان ہے۔ البلاغ والبلوغ (باب نصر) مصدر اور منتہیٰ تک پہنچنا ۔ یا کافی ہونا۔ یعنی اس قرآن مجید میں جو احکام و ارشادات پندونصائح اور حقائق مندرج ہیں ان پر عمل کرنا حصول مقصد کے لئے کافی ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 104–106

لغات القرآن آیت نمبر 104 تا 106 نطوی ہم لپیٹ دیں گے۔ طی لپیٹ دینا۔ ال سجل لکھے ہوئے کاغذ کا بنڈل۔ بدانا ہم نے ابتدا کی تھی۔ نعید ہم لوٹا دیں گے۔ یرت وارث ہوگا۔ ، مالک ہوگا۔ بلغ پہنچا دینا۔ تشریح : آیت نمبر 104 تا 106 گزشتہ آیات میں قیامت کے ہولناک دن کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ ان آیات میں بھی اسی مضمون کو بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہے کہ قیامت کے دن ہم اس آسمان کو جو دنیا والوں کو بہت بڑا نظر آتا ہے اس طرح لپیٹ کر رکھ دیں گے جس طرح لکھے ہوئے کاغذوں کو لپیٹ دیا جاتا ہے اور جس طرح اللہ نے پہلی مرتبہ انسان کو پیدا کیا تھا اسی طرح اس کو دوبارہ تخلیق فرما دیں گے یہ اللہ کی قدرت سے باہر نہیں ہے بلکہ اس کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 105–106

(ف 2) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ پہلے لوح محفوظ میں اور لوح محفوظ کے بعد انبیاء پر جو کتابیں نازل کی گئیں ان میں اللہ تعالیٰ نے یہی لکھا ہے کہ جنت کی زمین کے وہی لوگ وارث ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں نیک ٹھہرچکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 105–106

[61] آسمانی کتاب کا نام جو داؤد (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی۔ [62] مطلب یہ ہے کہ دوسری تخلیق میں، جس کا ذکر اس سے پہلے کی آیت میں ہوا ہے، زمین کے وارث صرف صالح لوگ ہوں گے اور اس ابدی زندگی کے نظام میں موجودہ عارضی زندگی کی سی کیفیت برقرار نہ رہے گی کہ زمین پر فاسقوں اور ظالموں کو بھی تسلط حاصل ہوجاتا ہے اور زمین کی وراثت مشیت الٰہی کے تحت مومن اور کافر، فرماں بردار اور نافرمان سب کو ملتی ہے مگر جزائے اعمال کے طور پر نہیں بلکہ امتحان کے طور پر۔ اس کے برعکس آخرت میں اللہ اپنے بندوں میں سے صرف مومنین صالحین کو زمین کا وارث بنائے گا امتحان کے طور پر نہیں بلکہ اس نیک رویے کی ابدی جزا کے طور پر…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 105–106

زمین کے وارث کون ہیں ؟ : (ف 1) غرض یہ ہے کہ صالحین کے لئے کامیابی و کامرانی قطعی ویقینی ہے پہلی آسمانی کتابوں اور صحیفوں میں مذکور ہے کہ صلحاء زمین کے وارث ہوں گے ، اور تمام مادی وروحانی سربلندیاں ان کو عطا کی جائیں گی ، مگر صلحاء سے کون لوگ مراد ہیں ؟ کیا وہ لوگ جو امور حکمرانی سے محض ناواقف ہیں ، اور صرف سجادوتسبیح کو ، ” صلاح وتقوی “ کا معیار گردانتے ہیں ، یا وہ لوگ جو ان شروط دین کے ساتھ اس کردار کے بھی حامل ہیں ، جو زندہ قوموں کا کردار ہے اور ان تمام اوصاف سے متصف ہیں جن کا ہونا حکمران قوم کے لئے ضروری ہے قرآن کہتا ہے کہ اسلام نے زندگی کے تمام شعبوں کے لئے الگ الگ قواعد بتا دیئے ہیں ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(106) بلاشبہ اس قرآن کریم میں حصول مقصد اور مطلب کو پہنچنے کے لئے ان لوگوں کے واسطے کافی مضامین ہیں جو عبادت گزار ہیں۔ ھذا سے مراد یا تو قرآن کریم ہے اور یا سورة انبیاء ہے۔ اگرچہ مضامین عابدین اور غیر عابدین سب کے لئے ہیں لیکن عابدین یعنی موحدین اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اس لئے ان کا خاص طور پر ذکر فرمایا۔ مراد مومنین ہیں یا امت محمدیہ ﷺ مراد ہے۔ عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا عابدین سے باعمل علماء مراد ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 105–106

ف 1۔ یہاں تک سورت کے بڑے حصہ میں توحید و نبوت کی تحقیق اور منکرین کے لئے وعید مذکور ہوئی ہے آے ان مضامین مفیدہ پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ان مضامین کی صراحة مدح اور اشارة ان مضامین کے لانے والے کی بھی مدح اور بطور تلخیص سابق کے توحید اور اسلام کی طرف جس کے لوازم میں سے تصدیق نبوت بھی ہے دعوت مکررہ اور بطور تلخیص ہی کے انکار پر وعید مکرر اور وعید کے متعلق اور مناسب مضامین ارشاد ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

عبادت گزار بندوں کے لئے اس میں ایک بڑا ہی پیام موجود ہے : 106۔ گزشتہ آیت کے مضمون میں عبادت گزار بندوں کے لئے خصوصا بہت بڑی بشارت رکھی گئی ہے کہ وہ دنیوی زندگی میں بااصول رہے اور کبھی بےاصولی کے قریب نہیں گئے اس لئے آخروی زندگی کی ساری وراثت اللہ نے ان ہی کی عطا کردینے کا وعدہ کیا ہے اور یہ ایسا وعدہ ہے جس کی خوشخبری کا اعلان اس دنیوی زندگی میں ان کو سنا دیا گیا ہے کہ یہ رزلٹ ہوگا ان کی ثابت قدمی کا کہ انہوں نے دنیوی وراثت کے حاصل کرنے کے لئے ناجائز اور حرام ذرائع کبھی اختیار نہیں کئے جیسا کہ آج کل ہمارے علمائے کرام کی اکثریت کو اس دنیوی اقتدار کی ہوس نے تباہ وبرباد کر رکھا ہے کہ اسلام کا نام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 105–106

وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ‌ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ‌ أَنَّ الْأَرْ‌ضَ يَرِ‌ثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ (And We have written in Zabur (Psalms) after the Dhikr (the Torah) that the land will be inherited by My righteous slaves. - 21:105) The word لزَّبُورِ‌(zabur) is the plural of زُبُرّ (zuburr), which means book. It is also the name of the book which was revealed to Sayyidna Dawud (علیہ السلام) . Opinions differ as to the meaning of the word in the present context. According to a version attributed to Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ the word ذِکر in the verse refers to Torah, and زبور to all…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

99. The interpretation of this verse has given rise to a great misunderstanding. Some people have tried to interpret it in a way, which is entirely opposed to the ideology of the Quran. They interpret it to mean: The inheritance of the kingdom and the resources of the earth are given to the righteous people alone in this worldly life, and upon them alone Allah showers His favors and blessings. Then they apply this formula conversely and conclude that the gift of this inheritance of the earth is the sole criterion between the righteous and the unrighteous men. The righteous is the one who…

Read the full tafseer →