Explained with ayahs 105–107
سچافیصلہ
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جس طرح آخرت میں دے گا اسی طرح دنیا میں بھی انہیں ملک ومال دیتا ہے، یہ اللہ کا حتمی وعدہ اور سچا فیصلہ ہے۔ جیسے فرمان آیت (اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ ڐ يُوْرِثُهَا مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ ۭوَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ01208) 7۔ الاعراف :128) زمین اللہ کی ہے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے، انجام کار پرہیزگاروں کا حصہ ہے۔ اور فرمان ہے ہم اپنے رسولوں کی اور ایمانداروں کی دنیا میں اور آخرت میں مدد فرماتے ہیں اور فرمان ہے کہ تم میں سے ایمان داروں اور نیک لوگوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ انہیں زمین میں غالب بنائے گا جیسے کہ ان سے اگلوں کو بنایا اور ان کے لئے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–108
سورة الْاَنْبِیَآء 100
دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " ہم نے تم کو دنیا والوں کے لیے رحمت ہی بنا کر بھیجا ہے " دونوں صورتوں میں مطلب یہ ہے کہ نبی ﷺ کی بعثت دراصل نوع انسانی کے لیے خدا کی رحمت اور مہربانی ہے، کیونکہ آپ نے آ کر غفلت میں پڑی ہوئی دنیا کو چونکایا ہے، اور اسے وہ علم دیا ہے جو حق اور باطل کا فرق واضح کرتا ہے، اور اس کو بالکل غیر مشتبہ طریقہ سے بتادیا ہے کہ اس کے لیے تباہی کی راہ کونسی ہے اور سلامتی کی راہ کونسی۔ کفار مکہ حضور ﷺ کی بعثت کو اپنے لیے زحمت اور مصیبت سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ اس شخص نے ہماری قوم میں پھوٹ ڈال دی ہے، ناخن سے گوشت جدا کر کے رکھ دیا ہے۔ اس پر فرمایا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–112
معارف و مسائل
وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ ، عالمین عالم کی جمع ہے جس میں ساری مخلوقات انسان، جن، حیوانات، نباتات، جمادات سبھی داخل ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا ان سب چیزوں کے لئے رحمت ہونا اس طرح ہے کہ تمام کائنات کی حقیقی روح اللہ کا ذکر اور اس کی عبادت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس وقت زمین سے یہ روح نکل جائے گی اور زمین پر کوئی اللہ اللہ کہنے والا نہ رہے گا تو ان سب چیزوں کی موت یعنی قیامت آجائے گی اور جب ذکر اللہ و عبادت کا ان سب چیزوں کی روح ہونا معلوم ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ کا ان سب چیزوں کے لئے رحمت ہونا خود بخود ظاہر ہوگیا کیونکہ اس دنیا میں قیامت تک ذکر اللہ اور عبادت آپ ہی کے دم…
Read the full tafseer →یعنی اسی انذار و بشارت کے لئے ہم نے تمہیں لوگوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے کہ ان کو اس حقیقت سے آگاہ کر دو۔ تمہارے اوپر ذمہ داری صرف بلاغ اور منادی کی ہے، تم یہ فرض ادا کر دو۔ اگر مغرور سرکش لوگ تمہارے انذار کا مذاق اڑاتے اور اس وقت موعود کے دکھا دینے کا مطالبہ رتے ہیں تو تم ان سے کہہ دو کہ مجھے خدا نے رحمت بنا کر بھیجا ہے، عذاب بنا کر نہیں بھیجا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ عذاب کب آئے گا۔ اس کے وقت کا علم صرف میرے رب ہی کو ہے۔
Read the full tafseer →اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی رسالت پر ایمان لے آئے گا اس نے گویا اس رحمت کو قبول کرلیا اور اللہ کی اس نعمت کا شکر ادا کیا۔ نتیجتًا دنیا و آخرت کی سعادتوں سے ہمکنار ہوگا اور اور چونکہ آپ ﷺ کی رسالت پورے جہان کے لیے ہے اس لیے آپ ﷺ پورے جہان کے لیے رحمت بن کر یعنی اپنی تعلیمات کے ذریعے سے دین و دنیا کی سعادتوں سے ہمکنار کرنے کے لیے آئے ہیں بعض لوگوں نے اس اعتبار سے بھی نبی ﷺ کو جہان والوں کے لیے رحمت قرار دیا ہے کہ آپ ﷺ کی وجہ سے یہ امت بالکلیہ تباہی و بربادی سے محفوظ کردی گئی جیسے پچھلی قومیں اور امتیں حرف غلط کی طرح مٹا دی جاتی رہیں امت محمدیہ (جو امت اجابت اور امت دعوت کے اعتبار سے پوری نوع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–112
47: یعنی آخرت میں ساری زمین پر کسی کافر کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ؛ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں ہی کو ملے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
ان فی ھذا لبلغا لقوم عبدین (21 : 106) ” اس میں ایک بڑی خبر ہے عبادت گزار لوگوں کے لئے۔ “ یعنی قرآن کی تعلیمات میں اس پوری کائنات اور انسانی زندگی کے لئے جو اصول وضع کئے گئے ہیں اور پھر لوگوں کے لئے دنیا (آیت 105) اور آخرت میں جو فطری انجام بتائے گئے ہیں ، جو اصول عمل اور مکافات عمل رکھے گئے ہیں ان سب میں ان لوگوں کے لئے بڑی خوشخبری ہے۔ صرف ان لوگوں کے لئے جو اللہ کی ہدایات کے مطابق کام کرنے کے لئے تیار ہوں۔ ایسے لوگوں کے لئے اللہ نے لفظ ” عابدین “ استعمال کیا ہے کیونکہ عبادت کرنے والا ، بندگی کرنے والا شخص ہر بھلائی کو قبول کرنے کیلئے ہر وقت تیار ہوتا ہے اور تدبر کر کے اس سے نفع اٹھا سکتا…
Read the full tafseer →3 یعنی آپ تو سارے جہان کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ اگر کوئی بدبخت اس رحمت عامہ سے خود ہی منتفع نہ ہو تو یہ اس کا قصور ہے۔ آفتاب عالمتاب سے روشنی اور گرمی کا فیض ہر طرف پہنچتا ہے لیکن کوئی شخص اگر اپنے اوپر تمام دروازے اور سوراخ بند کرلے تو یہ اس کی دیوانگی ہوگی۔ آفتاب کے عموم فیض میں کوئی کلام نہیں ہوسکتا اور یہاں تو رحمۃً للعالمین کا حلقہ فیض اس قدر وسیع ہے کہ جو محروم القسمت مستفید ہونا نہ چاہے اس کو بھی کسی نہ کسی درجہ میں بےاختیار رحمت کا حصہ پہنچ جاتا ہے۔ چناچہ دنیا میں علوم نبوت اور تہذیب و انسانیت کے اصول کی عام اشاعت سے ہر مسلم و کافر اپنے اپنے مذاق کے موافق فائدہ اٹھاتا ہے۔ نیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
آیت 107 وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ ”
یعنی آپ ﷺ کی بعثت صرف جزیرہ نمائے عرب تک محدود نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو جزیرۂ نمائے عرب میں اسلام کے عملی طور پر غلبے کے بعد آپ ﷺ کی بعثت کا مقصد پورا ہوچکا ہوتا ‘ مگر آپ ﷺ تو تمام اہل عالم کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ چناچہ آپ ﷺ کی بعثت کا مقصد قرآن میں تین مقامات التوبہ : 33 ‘ الفتح : 28 اور الصف : 9 پر ان الفاظ میں بیان فرمایا گیا ہے : ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ ”وہی ذات ہے جس نے اپنے رسول ﷺ کو بھیجا الہدیٰ اور دین حق کے ساتھ تاکہ اسے غالب کر دے تمام ادیان پر“۔…
Read the full tafseer →95 اس آیت کا دوسرا معنی یہ ہے کہ یہ جہان والوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو مبعوث فرمایا۔ مطلب دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے کہ آپ کی ذات بابرکات اور آپ کی بعثت دراصل پوری نوع انسانی کے لئے رحمت ہے۔ آپ ہی کے ذریعہ غفلت میں پڑی ہوئی اور راہ بھٹی ہوئی انسانیت کو ایسا علم نصیب ہوا جو حق و باطل کی راہوں کو ممیز کرکے سیدھی راہ دکھلاتا اور اس پر چلاتا ہے۔ جس سے انسان نے دنیا کی زندگی اچھے طور پر گزارنے کے اصول اور ڈھنگ سیکھے۔ پھر اس راہ پر چلنے سے انسان کی اخروی زندگی بھی سنور جاتی ہے۔ آپ کی یہ مہربانی تو ان لوگوں پر تھی جو آپ پر ایمان لائے اور بدکرداروں اور کافروں کے لئے آپ کی ذات باعث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
143۔ اور وہ رحمت ومہربانی یہی ہے کہ قرآن کے مخاطبین رسول کے پیام ہدایت کو قبول کریں اور اپنی زندگی کو انہی کے لائے ہوئے نظام کے سانچہ میں ڈھالیں۔ فلاح کو نین وسعادت دارین صرف رسول ﷺ کے اتباع میں ہے۔ یہاں تک کہ رسول کا غزواقتال بھی دنیا کے حق میں سرتاسر رحمت ہی ہوتا ہے۔ اقبال نے کتنا سچ کہا ہے۔
ع :۔ لفط وقہر او سراپا رحمتے آں بہ یاراں ایں بہ اعدارحمتے :
مرشد تھانوی (رح) نے آیت سے ایک نکتہ یہ بھی استنباط کیا ہے کہ مقبولین کی برکات ان کے قصد کے بغیر بھی عالم کو پہنچتی رہتی ہیں۔ جیسے آفتاب کی شعاعیں کہ بلا اس کے قصد وعلم کے سب کو پہنچتی رہتیں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–112
آیت نمبر 94 تا 112
ترجمہ : تو جو شخص نیک عمل کرے اور وہ مومن بھی ہو تو اس کی کوشش کی ناقدری نہیں کی جائے گی یعنی انکار نہیں کیا جائے گا اور ہم اس کی سعی کو لکھ لیتے ہیں یعنی ہم فرشتوں کو اس کے لکھنے کا حکم دیتے ہیں سو ہم اس کو اس کی سعی کا بدلہ دیں گے اور حرام ہے اس بستی پر یعنی بستی والوں پر جن کو ہم نے ہلاک کردیا ہے یہ کہ وہ لوٹ آئیں یعنی ان کا دنیا کا طرف لوٹ کر آنا ممتنع ہے اور لا یرجعون میں لا زائدہ ہے، یہاں تک کہ یہ امتناع رجوع کی گایت ہے کھولدئیے جائیں یا جوج اور ماجوج فتحت تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے، یأجوج مأجوج ہمزہ کے ساتھ اور ترک ہمزہ کے ساتھ دو قبیلوں کے دو عجمی نام ہیں اور ان سے…
Read the full tafseer →وما ارسلنا الا رحمۃ للعلمین۔ (اے محمد ﷺ ہم نے تم کو نہیں بھیجا مگر رحمت کی وجہ سے جہان والوں پر یا رحمت
بنا کر جہان والوں کے لئے یعنی انس و جن کے لئے۔ پہلے ترجمہ پرر حمۃً مفعول لہ ہوگا یعنی تم کو رسول بنا کر ہم نے اس وجہ سے بھیجا کہ ہم انس و جن پر رحم کرنا چاہتے تھے پس تم کو ہم نے ہادی بنا کر بھیجا تاکہ لوگ تمہارے بتائے ہوئے راستے پر چلیں دوسرے ترجمہ پر رحمۃً سے حال ہوگا یعنی ہم نے تم کو نہیں بھیجا مگر اس حالت میں کہ تم سب کے لئے سبب رحمت ہو۔ حاکم نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے اور ابن سعد و حکیم نے ابو صالح کی روایت سے مرسل حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ میں (اللہ کی طرف سے)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–108
(107۔ 108) اور اے محمد ﷺ ہم نے آپ کو اور کسی بات کے لیے رسول بنا کر نہیں بھیجا مگر جن وانس میں سے جو آپ پر ایمان لائے، اس پر عذاب سے رحمت ونعمت کے لیے بھیجا ہے۔
بس آپ فرما دیجیے کہ میرے پاس تو اس قرآن حکیم کے ذریعے سے یہ وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود حقیقی ایک ہی معبود وحدہ لاشریک ہے، اب بھی مکہ والو تم تم سچے دل سے توحید اور عبادت کا اقرار کرتے ہو یا نہیں۔
Read the full tafseer →وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ : اعراب القرآن (قرآن کی ترکیب نحوی) کے موضوع پر لکھی ہوئی تقریباً تمام کتابوں میں ”رَحْمَةً“ کو ”اَرْسَلْنٰكَ“ کا مفعول لہ بیان کیا گیا ہے۔ بعض کتابوں میں دوسری تراکیب بھی بیان ہوئی ہیں جن کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ نحو کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ مفعول لہ جس فعل کی علت بیان کر رہا ہو اس فعل کا اور مفعول لہ کا فاعل ایک ہوتا ہے، مثلاً ”ضَرَبْتُ زَیْدًا تَأْدِیْبًا“ (میں نے زید کو ادب سکھانے کے لیے مارا) اس میں مارنے والا اور ادب سکھانے والا ایک ہی ہے، اس طرح یہاں بھیجنے والا بھی اللہ تعالیٰ ہے اور رحم کرنے والا بھی۔ چناچہ معنی یہ ہوگا کہ ہم نے تجھے نہیں…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین۔ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا کہ حضرت محمد ﷺ تمام انسانوں کے لیے رحمت ہیں پس جو آپ ﷺ پر ایمان لایا اور آپ ﷺ کی تصدیق کی وہ سعادت مند ہوا اور جو آپ ﷺ پر ایمان نہیں لایا اسے وہ عذاب لاحق نہیں ہوا جو پہلی امتوں کو (نافرمانی کی وجہ سے) خسف اور غرق لاحق ہوا۔ ابن زید نے کہا : العالمین سے خاص مومنین مراد ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر “ سے مراد ہے قرآن (اور) الارض سے مراد جنت کی زمین۔
2:۔ ابن جریر نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر “ میں بالذکر سے مراد ہے کہ ہم نے قرآن میں لکھ دیا تورات کے بعد اور الارض سے مراد ہے جنت کی زمین۔
3:۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر “ میں بالذکر سے مراد ہے تورات اور بالزبور سے مراد ہے تورات کے بعد کی کتابیں۔
4:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد کتبنا فی الزبور “ سے مراد ہے کتابیں اور ” من بعد الذکر “…
Read the full tafseer →[ وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ : اور ہم نے نہیں بھیجا آپ ﷺ کو ] [ اِلَّا : مگر ] [ رَحْمَةً : رحمت ہوتے ہوئے ] [ لِلْعٰلَمِيْنَ : تمام جہانوں کے لئے ]
Read the full tafseer →رسول اللہ ﷺ رحمۃ للعالمین ہی ہیں
آیت بالا میں رسول اللہ ﷺ کو رحمۃ للعالمین کا مبارک اور معظم لقب عطا فرمایا اور سورة توبہ میں آپ کو رؤف رحیم کے لقب سے سر فراز فرمایا ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا انما انا رحمت مھداۃ (یعنی میں اللہ کی طرف سے مخلوق کی طرف بطور ہدیہ بھیجا گیا ہوں اور سراپا رحمت ہوں۔ ) ایک حدیث میں ارشاد ہے آپ نے فرمایا ان اللہ تعالیٰ بعثنی رحمۃ للعالمین وھدی للعالمین و امرنی ربی بمحق المعازف و المزامیر والاوثان و الصلیب وامر الجاھلیۃ (بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے سارے جہانوں کے لیے ہدایت اور رحمت بنا کر بھیجا اور میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ گانے بجانے کی چیزوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–112
خاتمہ سورت بر اتمام حجت
بہ تنزیل کتاب ہدایت و بعثت رسول رحمت ﷺ
قال اللہ تعالیٰ ان فی ھذا لبلاغا لقوم عابدین .... الیٰ .... وربنا الرحمن المستعان علی ما تصفون۔
(ربط) یہ سورت کا خاتمہ ہے جس میں یہ بتلاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری ہدایت کے لیے یہ قرآن نازل کیا اور ایسے نبی کو تمہارے لئے مبعوث کیا جو تمام جہانوں کے لیے رحمت ہے جس کے اتباع کی برکت سے تم کو دینی اور دنیوی نعمت اور سعادت اور زمین کی وراثت اور بادشاہت میسر آئی۔ اللہ نے تم پر حجت پوری کردی۔ نبی کے ذمہ صرف تبلیغ ہے سو وہ آپ کرچکے اب رہ گیا کہ قیامت اور حساب و کتاب کا وقت کب آئے گا جس کے متعلق یہ اہل غفلت اور معترضین آپ ﷺ سے سوال…
Read the full tafseer →ف 85” وَ مَا اَرْسَلْنٰکَ الخ “ آپ تمام جہانوں کے لیے باعث رحمت اس طرح ہیں کہ آپ نے اللہ کے حکم سے سب کے لیے توحید کا اعلان کیا اور صراط مستقیم جو جنت کی سیدھی راہ ہے وہ سب کے لیے واضح کردی اور اللہ کی طرف جو پیغام آپ لے کر آئے وہ تمام بنی آدم کے لیے سعادت دارین کا باعث ہے البتہ کافروں نے سوء استعداد اور ضد وعناد کی وجہ سے فائدہ نہ اٹھایا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا۔ آپ مومن و کافر دونوں کے لیے باعث رحمت ہیں۔ مومن آپ پر ایمان لانے سے خوش نصیب ہوگیا اور کافر غرق و خسف اور دیگر دنیوی عذابوں سے بچ گئے جن سے اقوام سابقہ کو ہلاک کیا گیا۔ عن ابن عباس کان محمد ﷺ رحمۃ لجمیع الناس فمن اٰمن بہ و صدق بہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–112
ربط آیات :
یہ مکی سورة ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے توحید ، رسالت اور قیامت کے تین اہم بنیادی مسائل بیان فرمائے ہیں۔ رسالت کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء کے حالات ، ان کی پاک سیرت ، ان کا طریقہ تبلیغ اور بارگاہ رب العزت میں ان کی مناجات کا تذکرہ کیا ہے ان پر بہت سی مصیبتیں بھی آئیں جنہیں خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہوئے کمال صبر و تحمل کا نمونہ پیش کیا۔ اس میں حضور ﷺ اور آپ کے رفقا کے لئے تسلی کا مضمون بھی ہے کہ سابقہ انبیاء کی طرح وہ بھی مصائب کو برداشت کرتے ہوئے تبلیغ دین کا کام جاری رکھیں ، بالآخر اللہ تعالیٰ انہی کو کامیابی عطا فرمائے گا۔ آج کی آیات میں پہلے تسلی کا مضمون ہے اور…
Read the full tafseer →وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِيْنَ 107
رسل
وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ،
( ر س ل ) الرسل
اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–112
ولقد کتبنافی الزبور سعید بن جبیر و مجاہد و کلبی و مقاتل و ابن زید کہتے ہیں زبور سے مراد وہ کتابیں جو دنیا میں انبیاء پر نازل ہوئیں اور ذکر سے مراد لوح محفوظ کہ جہاں سے نقل ہو کر یہ کتابیں آئیں یعنی دونوں جگہ ہم نے لکھ دیا کہ زمین کے نیک بندے وارث ہوں گے۔ زمین سے مراد جنت کی زمین کہ وہاں بجز ان کے اور کوئی آدم (علیہ السلام) کے ورثہ میں مالک نہ ہوگا۔ سو یہ بات کل آسمانی کتابوں میں ہے۔ اس تقدیر پر یہ آیت بیان سابق کا تتمہ یا تاکید ہوگی۔ قتادہ و شعبی کہتے ہیں زبور سے مراد قرآن و ذکر سے مراد تورات ہے۔ سو ان دونوں میں بھی یہ بات مذکور ہے زبور سے مراد دائود کی کتاب بھی ہوسکتی ہے۔ ارض میں مفسرین کے…
Read the full tafseer →وَمَـآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلاَّ رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ ۔ (الانبیاء : 107)
(اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے سراپا رحمت بنا کے بھیجا۔ )
رحمت کی وضاحت
انسان کے لیے سب سے بڑی رحمت وہ ضابطہ حیات ہے جس پر عمل کرنے کے نتیجے میں یہ دنیا بھی جنت بن جائے اور آخرت میں ہمیشہ کی زندگی میں سرخروئی کا باعث بنے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی ایک تو اس وجہ سے اہل دنیا کے لیے رحمت ہے کہ دنیا والوں کو آپ کے واسطے سے وہ پیغامِ سرمدی ملا ہے جو یہاں بھی اور وہاں بھی کامیابی و کامرانی اور اللہ تعالیٰ کے تقرب کی ضمانت ہے اور مزید یہ کہ یہ پیغام نوع انسانی تک پہنچانے کے لیے اللہ تعالیٰ کے رسول نے جس شفقت، رأفت، رحمت…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : نیک بندوں کو اقتدار دینے کی خوشخبری سنانے کے بعد ایک عظیم ترین خوشخبری سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ جس کا حقیقی احترام کرنے اور اس کے تقاضے پورے کرنے کے صلہ میں مسلمان پوری دنیا میں بر سراقتدار ہوئے اور ہونگے اور آخرت میں اپنے رب کی رحمتوں کے حقدار ٹھہریں گے۔
عقیدہ توحید کے دلائل کے جواب میں رسول معظم ﷺ کی بےمثال اور پرخلوص جدوجہد سے گھبرا کر کفار پروپیگنڈا کرتے تھے کہ اس شخص نے گھر گھر اختلاف پیدا کرکے ہمیں مصیبت میں ڈال دیا ہے۔ اس کی وجہ سے دن کا سکون غارت ہوا اور ہمارے لیے راتوں کی نیند حرام ہوگئی ہے۔ اس شخص کی وجہ سے ہماری پریشانیوں میں اضافہ ہوا اور پورے کا پورا نظام درہم…
Read the full tafseer →رسولِ رحمت :
107: وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً (اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر رحمت بنا کر) قول (علیہ السلام) انما انا رحمۃ مھداۃ (ابن سعد۔ کنز العمال) میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرستادہ رحمت ہوں۔ لِّلْعٰلَمِیْنَ (جہان والوں کیلئے) کیونکہ آپ اس چیز کو لیکر آئے ہیں اگر وہ اسکی اتباع کرلیں تو وہ سعادت مند ہوجائیں اور جس نے نہ مانا اس نے گویا اپنے آپ کو ضائع کردیا اور اپنا رحمت والا حصہ رکھ دیا۔ دوسرا قول یہ ہے آپ ایمان والوں کیلئے دونوں جہان میں رحمت ہیں۔ اور کافروں کیلئے دنیا میں رحمت ہیں۔ کیونکہ آپ کی وجہ سے عذاب استیصال مؤخر ہے۔ اسی طرح مسخ اور خسف سے بچے ہوئے ہیں۔ ورحمۃ یہ مفعول لہ ہے…
Read the full tafseer →107۔ وماارسلناک الارحمۃ للعالمین۔ ابن زید کا قول ہے کہ اس سے مراد مومنین ک لیے رحمت چونکہ وہ مومنین کے لیے خاص طور پر رحمت بناکربھیجا گیا ہے ۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ آپ سب کے لیے رحمت بناکر بھیجے گئے۔ ان لوگوں کے حق میں بھی جو ایمان لائے اور ان لوگوں کے حق میں بھی جو ایمان نہیں لائے۔ جو ایمان لائے ان کے لیے رحمت بایں طور پر کہ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی شفاعت کریں گے اور کافروں کے لیے بایں طور پر رحمت ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دنیا میں عذاب نہیں بھیجا، صورت کا مسخ ہونا، زمین میں دھنسائے جانا اور بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکنے کے عذاب سے مامون ہوگئے نبی کریم نے فرمایا کہ بیشک مجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
106۔ 107:۔ اوپر ذکر تھا کہ پہلے لوح محفوظ میں اور اس کے بعد انبیاء پر جو کتابیں نازل کی گئی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ نے یہی لکھا ہے کہ جنت کی زمین کے وہی لوگ مالک اور وارث ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں نیک ٹھہر چکے ہیں ‘ ان آیتوں میں فرمایا ایسے لوگ آسمان و زمین سے اور آسمان و زمین میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ہزاروں نشانیوں سے اللہ تعالیٰ کو تو پہچان سکتے ہیں ‘ لیکن اللہ تعالیٰ کی مرضی اور نامرضی کے کاموں کی تفصیل ان کو بغیر آسمانی کتاب کے نہیں معلوم ہوسکتی تھی اس واسطے خالص دل سے اللہ کی عبادت کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس قرآن شریف میں اپنی مرضی اور نامرضی کی سب باتیں کافی طور پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–112
آیت 107
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب عزیز قرآن کریم کی ستائش کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ قرآن کریم میں ہر چیز سے مکمل کفایت ہے اور اس سے مستغنی نہیں رہا جاسکتا، چناچہ فرمایا (ان فی ھذا لبلغا لقوم عبدین) ” بیشک اس میں البتہ کفایت ہے عبادت گزار لوگوں کے لئے۔ “ یعنی وہ اپنے رب اور اس کے عزت و تکریم کے گھر تک پہنچنے کے لئے قرآن عزیز پر اکتفاء کرتے ہیں۔ پس یہ گراں قدر کتاب ان کو جلیل ترین مقاصد اور افضل ترین مرغوبات تک پہنچاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں کے لئے، جو سب سے زیادہ فضل و شرف کے حامل ہیں، اس سے آگے اور کوئی منزل نہیں کیونکہ قرآن ان کے رب کی، اس کے اسماء وصفات اور افعال کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–112
ایک کھیت کے بارے میں سلیمان کا فیصلہ
قول باری ہے (وداود و سلیمان اذ یحکما ن فی الحرث اذ نفشت فیہ غنم القوم و کنا لحکمھم شاھدین ففھمنا ھا سلیمان وکلا اتینا حکماً و علماً اور اس نعمت سے ہم نے دائود و سلیمان کو سرفراز کیا۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ وہ دونوں ایک کھیت کے مقدمے میں فیصد کر رہے تھے جس میں رات کے وقت دوسرے لوگوں کی بکریاں پھیل گئی تھیں اور ہم ان کی عدالت کو دیکھ رہے تھے۔ اس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق مروزی نے روایت بیان کی، انہیں الحسن بن ابی ربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–107
142 ذکر اور زبور سے مقصود و مراد : یہاں پر ذکر سے مراد لوح محفوظ اور الزبور سے مراد وہ تمام آسمانی کتابیں ہیں جو مختلف انبیائے کرام پر نازل فرمائی گئیں۔ (ابن کثیر، مراغی، محاسن اور صفوہ وغیرہ ) ۔ تو مطلب اس صورت میں یہ ہوا کہ ہم نے یہ مضمون اول لوح محفوظ میں لکھا اور پھر تمام آسمانی کتابوں میں بھی اس کو لکھ دیا۔ سو اس سے اس کی عظمت و اہمیت اور قطعیت واضح ہوجاتی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زبور سے مراد زبور داؤد ہے اور ذکر سے مراد تورات۔ لیکن پہلا قول و احتمال زیادہ اہم اور اوفق بالمراد ہے ۔ والعلم عند اللہ سبحانہ و تعالیٰ ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی میں یہ چیز لکھ دی اور طے کردی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–112
قیامت کا منظر، نبی ﷺ کا پیغام
تشریح : سب سے پہلے کائنات کے اختتام کا ذکر ہے کیونکہ یہ بالکل سچا اور پکا وعدہ ہے پھر اس کو دوبارہ پیدا کرنے کا وعدہ ہے۔ کائنات کے اختتام کا منظر کچھ یوں بیان کیا ہے۔ ڈاکٹر دلدار احمد اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں۔ ” اس وقت اوراق کے یہ طومار کھلے ہوئے ہیں اور اس کے تمام نقوش اور خطوط پڑھے جا رہے ہیں۔ اور ہر ایک اپنی جگہ پر قائم اور برقرار ہے۔ لیکن جب قیامت کا حکم ہوجائے گا تو یہ عظیم طومار اپنے تمام خطوط و نقوش کے ساتھ لپیٹ دیے جائیں گے، یعنی کائنات پھیل رہی ہے اور ایک خاص حد تک وسعت پا چکنے کے بعد یہ دوبارہ سکڑنا شروع ہوجائے گی (یعنی) طومار لپیٹ دیے جائیں گے۔ ( از…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–112
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
اور آخرت میں تو وہ ایماندار لوگ ہی نام پائیں گے جنہوں نے نیک کام کئے ہوں گے کہ ان کا کوئی عمل رائیگاں نہ جائے گا کہ اللہ کریم کے لکھنے والے ہر ہر عمل کو لکھ لیتے ہیں یعنی آخرت کے اجر کی بنیاد عقیدہ ہے کہ درست ہو اور صرف عقیدہ ہی نہ رہے اس کے ساتھ عمل صالح یعنی نبی (علیہ السلام) کے ارشاد کے مطابق عمل بھی ہو تو ہر چھوٹا بڑا عمل انعام اور اجر پائے گا مگر جو لوگ ایمان ہی قبول نہیں کرتے وہ عمل تو کر ہی نہیں سکتے اور پھر عذاب الہی سے تباہ ہوجاتے ہیں تو آنکھ کھلتی ہے مگر ان کے لیے پھر سے عمل کے لیے دنیا میں واپس آنا ہرگز ممکن نہیں ، یہاں تک کہ دنیا کی بساط لپیٹ دی جائے گی…
Read the full tafseer →ف 14 ۔ صرف مسلمانوں کیلئے نہیں بلکہ مسلمان کافر سب کیلئے اور دنیوی و اخروی ہر اعتبار سے آپ ﷺ رحمت بنا کر بھیجے گئے تھے۔ اسلامی اصول و شریعت کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ جو اخلاقی قدریں اور دائمی اصول آنحضرت ﷺ کی وساطت سے اللہ تعالیٰ نے متعین فرمائے ہیں وہ آج تک دنیا تلاش نہیں کرسکی۔ اس سے بڑی رحمت اور کیا ہوسکتی ہے۔ ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ ﷺ کی اتباع سے ہر قسم کی سعادت حاصل ہوئی۔ مگر کفار کے لئے آپ ﷺ کیسے رحمت ہیں ؟ اس کے جواب میں حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے طفیل ہمیشہ کیلئے اللہ تعالیٰ نے پہلی قوموں پر جو ہلاکت خیز عذاب آتے رہے، وہ آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد روک دء یے اور ایک دفعہ آنحضرت…
Read the full tafseer →(21:107) رحمۃ۔ منصوب بوجہ مفعول لہ ہونے کے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–112
لغات القرآن آیت نمبر 107 تا 112
ارسلنا ہم نے بھیجا۔ ھل کیا۔ مسلمون فرمانبرداری کرنے والے۔ اذنت میں نے خبر دے دی۔ سواء برابر، پوری پوری۔ ان ادری میں نہیں جانتا۔ الجھر پکارنا، زور سے کہنا۔ متاع سامان راحت، فائدہ۔ حین زمانہ، وقت۔ المستعان مدد طلب کی جاتی ہے۔
تشریح : آیت نمبر 107 تا 112
نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ! ہم نے آپ کو تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجا ہے آپ اہل ایمان کے لئے تو اس لئے رحمت ہیں کہ آپ کے ذریعہ ان کو اللہ کا وہ پیغام ہدایت نصیب ہوا جو قیامت تک آنے والے اہل ایمان کے لئے رحمت ہی رحمت ہے اور کفار اور مشرکین کے لئے بھی رحمت ہے کیونکہ آپ کی وجہ سے وہ قومیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–111
آنحضرت ﷺ کا جہاں بھر کے لیے باعث رحمت ہونا۔
(ف 1) ان آیتوں میں اردشاد ہوتا ہے کہ ایسے لوگ آسمان و زمین میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ہزار نشانیوں سے اللہ تعالیٰ کو تو پہچان سکتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی مرضی اور نامرضی کے کاموں کی تفصیل ان کو بغیر آسمانی کتاب کے نہیں معلوم ہوسکتی تھی اس واسطے خالص دل سے اللہ کی عبادت کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس قرآن شریف میں اپنی مرضی اور نامرضی کی باتیں کافی طور پر بتلا دی اور اے رسول اللہ کے تم کو جو اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر بھیجا ہے تو یہ جہان بھر کے لوگوں کے حق میں الہ کی رحمت ہے کیونکہ جو لوگ تمہاری فرمانبرداری اور قرآن کی نصیحت کے پابند رہیں گے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–110
[63] یعنی نبی ﷺ کی بعثت دراصل نوع انسانی کے لئے اللہ کی رحمت اور مہربانی ہے کیونکہ آپ نے انھیں وہ علم دیا ہے جو حق اور باطل کا فرق واضح کرتا ہے اور اس کو واضح طور پر بتادیا ہے کہ اس کے لئے تباہی کی راہ کون سی ہے اور سلامتی کی راہ کون سی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–108
(ف 2) حضور ﷺ کا فیض عام ہے ، آپ کسی خاص قوم اور خاص زمانہ کے لئے نہیں ہیں بلکہ آپ کی نبوت تمام کائنات انسان کیلئے ہے ، آپ کی رحمتیں وسیع ، اور آپ کا پروگرام ہمہ گیر ہے ، اور آپ کی تعلیم یہ ہے کہ دنیا کے ہر گوشت میں ، ہر وقت اور ہر حالت میں صرف اللہ کے تعلقات عبودیت کو استوار کیا جائے ۔
Read the full tafseer →(107) اور اے پیغمبر ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر جملہ اقوام عالم کے لئے رحمت بناکر بھیجا ہے۔
یعنی نبی کریم ﷺ تمام اقوام عالم کے لئے موجب رحمت بن کر تشریف لائے ہیں کیونکہ آپ جو شریعت اور تہذیب لے کر آئے ہیں اس نے تمام دنیا کو ایک صحیح راستہ دکھادیا ہے جو آپ پر ایمان لے آئے وہ تو اس رحمت ِ خداوندی سے مستفید ہو ہی گئے لیکن جو ایمان نہیں لائے ان کو بھی کچھ نہ کچھ نفع ضرور پہنچا وہ بھی اس دنیا میں خسف اور مسخ اور عذاب استیصال سے محفوظ ہوگئے اور بہت سے لوگوں نے قانون شریعت سے اپنی اصلاح کرلی اگرچہ شریعت محمدیہ علی صاحبہا التحی پر ایمان نہیں لائے۔ محض تعصب و ہٹ دھرمی کی وجہ سے انکار کرتے رہے لیکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–111
ف 2۔ وہ مہربانی یہی ہے کہ لوگ رسول سے ان مضامین کو قبول کریں اور ہدایت کے ثمرات حاصل کریں۔ اور جو قبول نہ کرے یہ اس کا قصور ہے، اس مضمون کی صحت میں کوئی خلل نہیں پڑتا۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے ۔
107۔ زیر نظر آیت مبارکہ کے آتے ہی ذہن اس طرح منتقل ہوا کہ قرآن کریم میں دیکھنا چاہئے (للعلمین) کن کن جگہوں پر آیا ہے اور کس کس چیز کے لئے بیان کیا گیا ہے یوں سرسر نظر مندرجہ ذیل دس جگہوں پر پڑی جو علاوہ (آیت) ” وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین “۔ (الانبیاء 21 : 107) کے ہے جس کی تفصیل یہ ہے :
1۔ (آیت) ” ان ھو الا ذکری للعلمین “۔ (الانعام 6 : 90)
2۔ (آیت) ” ان ھو الا ذکری للعلمین “۔ (یوسف 12 : 104)
3۔ (آیت) ” وما ھو الا ذکری للعلمین “۔ (القلم 68 : 52)
4۔ (آیت) ” اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبارکا وھدی للعلمین) (3 : 96)
5۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–112
Commentary
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ (And We have not. sent you but as mercy for all the worlds. - 21:107) عَالَمِينَ is plural of عَالَم which means 'world' and includes all creatures including humans, animals, plants, Jinns etc. In order to properly understand the meaning of the verse one should also understand that the true essence of the entire universe is the invocation of Allah Ta` ala and His worship. When this essence departs from this world and no one is left to worship Allah, everything in it will perish. In other words that is the day when Qiyamah would…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–108
100. This verse can also be translated as: We have sent you only as a blessing for the people of the world. In both cases it will mean that the appointment of the Prophet (peace be upon him) is indeed a blessing and mercy of Allah to the whole world. This is because he aroused the neglectful world from its heedlessness and gave it the knowledge of the criterion between truth and falsehood, and warned it very clearly of both the ways of salvation and ruin. This fact has been stated here to tell the disbelievers of Makkah that they were quite wrong in their estimate of the Prophet (peace be…
Read the full tafseer →