Al-Anbiyaa 21:105

Al-Anbiyaa · from ayah 105

21:105

وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ ۟وَلَـقَدۡ كَتَبۡنَا فِى الزَّبُوۡرِ مِنۡۢ بَعۡدِ الذِّكۡرِ اَنَّ الۡاَرۡضَ يَرِثُهَا عِبَادِىَ الصّٰلِحُوۡنَ

اور ہم نے نصیحت (کی کتاب یعنی تورات) کے بعد زبور میں لکھ دیا تھا کہ میرے نیکوکار بندے ملک کے وارث ہوں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We have already written in the book [of Psalms] after the [previous] mention that the land [of Paradise] is inherited by My righteous servants.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 7 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anbiyaa

All translations of 21:105

اور زَبور میں ہم نصیحت کے بعد یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے نصیحت (کی کتاب یعنی تورات) کے بعد زبور میں لکھ دیا تھا کہ میرے نیکوکار بندے ملک کے وارث ہوں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم زبور میں پند ونصیحت کے بعد یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے (ہی) ہوں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد یہ لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد لکھ دیا کہ اس زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بلا شبہ ہم نے زبور میں نصیحت کے (بیان کے) بعد یہ لکھ دیا تھا کہ (عالمِ آخرت کی) زمین کے وارث صرف میرے نیکو کار بندے ہوں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ یقینا ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد لکھ دیا کہ بیشک یہ زمین، اس کے وارث میرے صالح بندے ہوں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور زبور میں ہم نے نصیحت کے بعد یہ لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے زبور میں موعظت کے بعد لکھ دیا ہے کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہی ہوں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یقینا ہم نے لکھ دیا زبور میں ذکر کے بعد کہ بلاشبہ اس زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہوں گے

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے کتب آسمانی میں لکھ رکھا ہے۔ لوح محفوظ (میں لکھنے) کے بعد۔ کہ زمین (جنت) کے وارث میرے نیک بندے ہی ہوں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے لکھ دیا تھا زبور میں نصیحت کے بعد کہ اس زمین کے وارث ہوں گے ہمارے نیک بندے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے نصیحت کی کتاب (یعنی) زبور میں لکھ دیا تھا کہ میرے نیک بندے ملک کے وارث ہوں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely We wrote in the Psalms, after the exhortation, that the earth shall be inherited by My righteous servants.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And We have written in Zabur (Psalms) after the advice that the land will be inherited by My righteous slaves.

— Muhammad Taqi Usmani

And We have written in Zabur (Psalms) after the advice that the land will be inherited by My righteous slaves.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And indeed We have written in Az-Zabur after Adh-Dhikr that My righteous servants shall inherit the land.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And verily we have written in the Scripture, after the Reminder: My righteous slaves will inherit the earth:

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We have already written in the book [of Psalms] after the [previous] mention that the land [of Paradise] is inherited by My righteous servants.

— Saheeh International

We have written in the psalms which We had revealed after the Torah that the earth will be given to Our righteous servants as their inheritance.

— Muhammad Sarwar

And certainly We wrote in the Book after the reminder that (as for) the land, My righteous servants shall inherit it.

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly We have prescribed in the Scripture after the admonition, that: the land! there shall inherit it My bondmen righteous.

— Abdul Majid Daryabadi

Before this We wrote in the Psalms, after the Message (given to Moses): My servants the righteous, shall inherit the earth."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 21:105

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 105–107

سچافیصلہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جس طرح آخرت میں دے گا اسی طرح دنیا میں بھی انہیں ملک ومال دیتا ہے، یہ اللہ کا حتمی وعدہ اور سچا فیصلہ ہے۔ جیسے فرمان آیت (اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ ڐ يُوْرِثُهَا مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ ۭوَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ01208) 7۔ الاعراف :128) زمین اللہ کی ہے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے، انجام کار پرہیزگاروں کا حصہ ہے۔ اور فرمان ہے ہم اپنے رسولوں کی اور ایمانداروں کی دنیا میں اور آخرت میں مدد فرماتے ہیں اور فرمان ہے کہ تم میں سے ایمان داروں اور نیک لوگوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ انہیں زمین میں غالب بنائے گا جیسے کہ ان سے اگلوں کو بنایا اور ان کے لئے ان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 103–105

سورة الْاَنْبِیَآء 98 یعنی روز محشر اور خدا کے حضور پیشی کا وقت، جو عام لوگوں کے لیے انتہائی گھبراہٹ اور پریشانی کا وقت ہوگا، اس وقت نیک لوگوں پر ایک اطمینان کی کیفیت طاری رہے گی۔ اس لیے کہ سب کچھ ان کی توقعات کے مطابق ہو رہا ہوگا۔ ایمان و عمل صالح کی جو پونجی لیے ہوئے وہ دنیا سے رخصت ہوئے تھے وہ اس وقت خدا کے فضل سے ان کی ڈھارس بندھائے گی اور خوف و حزن کے بجائے ان کے دلوں میں یہ امید پیدا کرے گی کہ عنقریب وہ اپنی سعی کے نتائج خیر سے ہم کنار ہونے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصّٰلِحُوْنَ لفظ زبور، زبر کی جمع ہے جس کے معنی کتاب کے ہیں اور زبور اس خاص کتاب کا نام بھی ہے جو حضرت داؤد ؑ پر نازل ہوئی۔ اس جگہ زبور سے کیا مراد ہے اس میں اقوال مختلف ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس کی ایک روایت میں یہ ہے کہ ذکر سے مراد آیت میں تورات ہے اور زبور سے مراد وہ سب کتابیں ہیں جو تورات کے بعد نازل ہوئیں۔ انجیل، زبور داؤد۔ اور قرآن (اخرجہ ابن جریر) یہی تفسیر ضحاک سے بھی منقول ہے۔ اور ابن زید نے فرمایا کہ ذکر سے مراد لوح محفوظ ہے اور زبور سے مراد تمام کتابیں جو انبیاء (علیہم السلام) پر نازل…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

زمین کے وارث صالحین ہوا، گے اس آیت میں زبور کا حوالہ ہے۔ زبور میں یہ بات یوں تو جگہ جگہ بیان ہوئی ہے کہ زمین کے وارث خدا کے نیک بندے ہی ہوں گے لیکن باب 37 تو پورے کا پورا گویا صرف اسی ایک حقیقت کی وضاحت کے لئے مخصوص ہے اس وجہ سے ہم یہ پورا باب یہاں نقل کرتے ہیں تاکہ قرآن کے حوالہ کی صحت و صداقت بھی واضح ہوجائے، یہ بھی معلوم ہوجائے کہ زمین کی وراثت سے یہاں کس زمین کی وراثت مراد ہے، نیز من بعد الذکر کا صحیح مفہوم بھی متعین ہو سکے کہ ذکر سے یہاں کس چیز کی طرف اشارہ ہے۔ پہلے ہم زبور سے حضرت دائود کا مزمور نقل کرتے ہیں، اس کے بعد اس کی ان باتوں کی طرف اشارہ کریں گے جو آیت زیر بحث کی وضاحت کے لئے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

15۔ 1 زبور سے مراد یا تو زبور ہی ہے اور ذکر سے مراد پندونصیحت جیسا کہ ترجمہ میں درج ہے یا پھر زبور سے مراد گذشتہ آسمانی کتابیں اور ذکر سے مراد لوح محفوظ ہے۔ یعنی پہلے لوح محفوظ میں یہ بات درج ہے اور اس کے بعد آسمانی کتابوں میں بھی یہ بات لکھی جاتی رہی ہے کہ زمین کے وارث نیک بندے ہونگے۔ زمین سے مراد بعض مفسرین کے نزدیک جنت ہے اور بعض کے نزدیک ارض کفار۔ یعنی اللہ کے نیک بندے زمین میں اقتدار اور سرخرو رہے اور آئندہ بھی جب کبھی وہ اس صفت کے حامل ہوں گے، اس وعدہ الٰہی کے مطابق، زمین کا اقتدار انہی کے پاس ہوگا۔ اس لیے مسلمانوں کی محرومی اقتدار کی موجودہ صورت حال کسی اشکال کا باعث نہیں بننی چاہیے یہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 105–112

47: یعنی آخرت میں ساری زمین پر کسی کافر کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ؛ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں ہی کو ملے گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ولقد………الصلحون (105) زبور ایک الہامی کتاب تھی جو دائود (علیہ السلام) کو دی گئی تھی۔ اس سورة میں ذکر سے مراد تو رات ہوگی۔ جو زبور سے پہلے نازل ہوئی۔ یہ کتاب کی صفت ہے یعنی کتاب کا ایک ٹکڑا۔ اصل کتاب کا حصہ بمعنی لوح محفوظ ، جو ایک مکمل نظام ہے ، جو ایک مکمل مرجع ہے او اس کائنات کے ساتھ متعلق تمام قوانین اس کے اندر محفوظ ہیں۔ اس کا حصہ ہیں۔ بہرحال اصل زیر غور مسئلہ یہ ہے کہ اس سے مراد کیا ہے۔ ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر ان الارض یرثھا عبادی الصلحون (21 : 105) ” اور زبور میں نصیحت کے بعد ہم نے لکھ دیا کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔ “ وراثت کیا ہے ، اس سے مراد یہ ہے کہ اس زمین کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 کامل وفادار بندوں سے حق تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ان کو دنیا و آخرت کی کامیابی اور اس زمین اور جنت کی زمین کا وارث بنائے گا چناچہ فرمایا۔ ( اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ ڐ يُوْرِثُهَا مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ ۭوَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ ) 7 ۔ الاعراف :128) اور ( اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ ) 40 ۔ غافر :56) اور (وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۠ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 105 وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْم بَعْدِ الذِّکْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُہَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ ” الفاظ کے مفہوم کے مطابق اس وراثت کی دو امکانی صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ قیامت سے پہلے اللہ کا دین پوری دنیا پر غالب آجائے گا ‘ اللہ کے نیک بندوں کی حکومت تمام روئے زمین پر قائم ہوجائے گی اور یوں وہ پوری زمین کے مالک یا وارث بن جائیں گے۔ دوسری صورت یہ ہوگی کہ قیام قیامت کے بعد اسی زمین کو جنت میں تبدیل کردیا جائے گا اور اہل جنت کی ابتدائی مہمان نوازی نُزُل یہیں پر ہوگی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو تشریح سورة ابراہیم : 48۔ اور یوں اللہ کے نیک بندے جنت کے وارث بنا دیے جائیں گے۔ اس…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

93 اس آیت کے معنی بعض اہل مغرب کے شیدائیوں نے نہایت غلط تعبیر پیش کی ہے۔ وہ اس آیت میں صالحون سے مراد اللہ تعالیٰ کے فرمانروا اور نیک بخت بندے مراد لیتے بلکہ ان کے نزدیک صالحون سے مراد صلاحیت رکھنے والے لوگ ہیں۔ یعنی جو لوگ بھی اس وقت روئے زمین پر حکمرانی کر رہے ہیں یا حکمران کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہی اللہ کے نزدیک صالح ہیں۔ خواہ وہ بدکردارہوں، کافر ہوں حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کے بھی منکر ہوں اور یہ نظریہ کتاب و سنت کی مجموعی تعلیم کے سراسر منافی ہے۔ حالانکہ اس آیت اور اس سے پہلی آیات 3 میں اخروی زندگی اور جنت کا ذکر ہو رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جنت اور جنت کی زمین کے وارث صرفو وہی لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

140۔ زبور کہتے ہیں ہر لکھی ہوئی کتاب کو اور الزبور اسم جنس ہے ہر کتاب آسمانی کے لیے۔ لغت کے حوالوں کے لیے ملاحظہ ہوپ 6 حاشیہ نمبر 35 یہاں بھی محققین نے مراد (آیت) ” الزبور “ سے کل کتب آسمانی بہ طور اسم جنس لی ہیں۔ عنی بالزبور کتب انبیاء کلھا التی انزلھا علیھم (ابن جریر) مجاہد نے کہا ہے کہ (آیت) ” الزبور “ کتاب ہے۔ الزبور الکتاب (ابن جریر۔ عن مجاہد) ابن زید تابعی سے منقول ہے کہ (آیت) ” الزبور “ کتب آسمانی ہیں۔ الزبور الکتب التی انزلت علی الانبیاء (ابن جریر۔ عن ابن زید) 141۔ ذکر کے معنی حدیث صحیح میں لوح محفوظ کے آچکے ہیں۔ ایک حدیث کے درمیان آتا ہے کان اللہ ولم یکن شیء قبلہ وکان عرشہ علی الماء…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 94–112

آیت نمبر 94 تا 112 ترجمہ : تو جو شخص نیک عمل کرے اور وہ مومن بھی ہو تو اس کی کوشش کی ناقدری نہیں کی جائے گی یعنی انکار نہیں کیا جائے گا اور ہم اس کی سعی کو لکھ لیتے ہیں یعنی ہم فرشتوں کو اس کے لکھنے کا حکم دیتے ہیں سو ہم اس کو اس کی سعی کا بدلہ دیں گے اور حرام ہے اس بستی پر یعنی بستی والوں پر جن کو ہم نے ہلاک کردیا ہے یہ کہ وہ لوٹ آئیں یعنی ان کا دنیا کا طرف لوٹ کر آنا ممتنع ہے اور لا یرجعون میں لا زائدہ ہے، یہاں تک کہ یہ امتناع رجوع کی گایت ہے کھولدئیے جائیں یا جوج اور ماجوج فتحت تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے، یأجوج مأجوج ہمزہ کے ساتھ اور ترک ہمزہ کے ساتھ دو قبیلوں کے دو عجمی نام ہیں اور ان سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الزکر اور ہم نے لوح محفوظ میں لکھنے کے بعد سب آسمانی کتابوں میں لکھ دیا ہے۔ سعید بن جبیر اور مجاہد نے کہا زبور سے مراد تمام کتب الٰہیہ ہیں اور ذکر سے مراد ہے لوح محفوظ۔ یعنی لوح محفوظ میں لکھنے کے بعد ہم نے اپنی تمام نازل کردہ کتابوں میں لکھ دیا ہے۔ شعبی نے کہا زبور سے مراد زبور داؤد ہے جو حضرت داؤد پر اتاری گئی تھی اور ذکر سے مراد ہے توریت حضرت ابن عباس اور ضحاک کا قول ہے کہ زبور سے مراد توریت ہے اور ذکر سے مراد ہیں وہ تمام آسمانی کتابیں جو توریت کے بعد اتاری گئیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ زبور سے مراد ہے زبور داؤد ہے اور ذکر سے مراد ہے قرآن۔ مؤخر الذکر دونوں قولوں پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(105) اور ہم داؤد ؑ کی زبور میں توریت کے بعد لکھ چکے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ ہم تمام آسمانی کتابوں میں لوح محفوظ میں لکھنے کے بعد لکھ چکے ہیں کہ سرزمین جنت کے مالک میرے مؤحد بندے ہوں گے یا یہ کہ ارض مقدسہ کے وارث بنی اسرائیل کے نیکوکار یا اخیر زمانہ کے نیکوکار ہوں گے اور وہاں اتریں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُوْرِ۔۔ : زبور کا معنی کتاب ہے، یہاں زبور سے مراد داؤد ؑ کی کتاب ہے اور ذکر سے مراد نصیحت ہے، جیسا کہ ترجمہ کیا گیا ہے، کیونکہ موجودہ زبور میں یہ بات موجود ہے۔ یا پھر زبور سے مراد گزشتہ آسمانی کتابیں اور ذکر سے مراد لوح محفوظ ہے، یعنی پہلے لوح محفوظ میں یہ بات درج ہے اور اس کے بعد آسمانی کتابوں میں بھی یہ بات لکھی جاتی رہی ہے کہ زمین کے وارث نیک بندے ہوں گے۔ گویا یہ اللہ تعالیٰ کا کونی فیصلہ بھی ہے اور شرعی بھی۔ اس زمین سے کیا مراد ہے ؟ آیات کے سیاق وسباق کو دیکھنے سے بات صاف سمجھ میں آرہی ہے کہ اس سے مراد زمین و آسمان کی بساط لپیٹنے کے بعد وجود میں آنے والی زمین…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 105–106

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ولقد کتبنا فی الزبور، الزبور اور الکتاب ایک چیز ہے اسی وجہ سے تورات اور نجیل کو زبور کہنا جائز ہے۔ زبرت کا معنی ہے کتبت اس کی جمع زبر ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا : الزبور سے مراد تورات، انجیل اور قرآن ہے۔ من بعد الذکر جو آسمان میں ہے۔ ان الارض سے مراد جنت کی زمین ہے۔ یرثھا عبادی الصلحون یہ سفیان نے اعمش سے انہوں نے سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے۔ ثعلبی نے کہا : الزببور سے مراد حضرت دائود (علیہ السلام) کی زبور ہے۔ الذکر سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تورات ہے۔ مجاہد اور ابن زید نے کہا : الزبور سے مراد انبیاء کرام کی کتب ہیں۔ الذکر سے مراد ام الکتاب ہے جو اللہ تعالیٰ کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 105–108

1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر “ سے مراد ہے قرآن (اور) الارض سے مراد جنت کی زمین۔ 2:۔ ابن جریر نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر “ میں بالذکر سے مراد ہے کہ ہم نے قرآن میں لکھ دیا تورات کے بعد اور الارض سے مراد ہے جنت کی زمین۔ 3:۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر “ میں بالذکر سے مراد ہے تورات اور بالزبور سے مراد ہے تورات کے بعد کی کتابیں۔ 4:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد کتبنا فی الزبور “ سے مراد ہے کتابیں اور ” من بعد الذکر “…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَلَقَدْ كَتَبْنَا : اور بیشک ہم لکھ چکے ہیں ] [ فِي الزَّبُوْرِ : زبور میں ] [ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ : نصیحت کے بعد ] [ ان : کہ ] [ الْاَرْضَ : یہ زمین ] [ يَرِثُهَا : وارث ہوں گے اس کے ] [ عِبَادِيَ الصّٰلِحُوْنَ : میرے نیک بندے ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 105 میں جس زمین کا ذکر ہے اس سے مراد جنت کی زمین ہے کیونکہ آیت۔ 104 ۔ میں بتایا ہے کہ ایک دن اللہ تعالیٰ اس آسمان یعنی موجودہ نظام شمسی کی بساط لپیٹ دے گا۔ یہی بات سورة ابراہیم کی آیت۔ 48 ۔ میں اس طرح آئی ہے کہ جس دن یہ زمین دوسری زمین سے اور آسمان دوسرے آسمان سے بدل دیئے جائیں گے۔ اس لئے آیت زیر مطالعہ میں دوبارہ تخلیق کی جانے والی زمین کا ذکر ہے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

لفظ الزَّبُوْرُسے کیا مراد ہے ؟ اس کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ ہم نے حضرت ابن عباس اور حضرت مجاہد کا قول لیا ہے کہ الزبور سے آسمانی کتب اور الذکر سے لوح محفوظ مراد ہے۔ عن ابن عباس فی الایۃ قال الزبور و التوراۃ و الانجیل والقرآن، والذکر الاصل الذی نسخت منہ ھذہ الکتب الذی فی السماء، و قال مجاھد الزبور الکتب و الذکرام الکتاب عنداللہ، (الدرالمنثور، ص 341، ج 4) کون سی زمین کے بارے میں فرمایا ہے کہ صالحین اس کے وارث ہیں ؟ اس کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت مجاہد اور حضرت شعبی اور حضرت عکرمہ نے فرمایا ہے کہ اس سے جنت کی سر زمین مراد ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ صالحین جنت کے وارث ہوں گے۔ سورة زمر میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

بشارت وراثت زمین برائے عباد صالحین قال اللہ تعالیٰ ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر ان الارض یرثھا عبادی الصلحون۔ (ربط) گزشتہ آیت یعنی ان الذین سبقت لہم منا الحسنی۔ میں آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے والوں کو اخروی بشارت (خوشخبری) کا ذکر تھا اب اس آیت میں ایک عظیم دنیوی بشارت کا ذکر فرماتے ہیں یعنی بادشاہت اور وراثت زمین کی خوشخبری کا ذکر ہے کہ ہم عنقریب دنیا میں اپنے نیک بندوں کو یعنی صحابہ کرام کو زمین کا وارث بنائیں گے اور زمین کی حکومت اور سلطنت اور زمین پر غلبہ اور اقتدار اعلیٰ کو عطاء کریں گے جس سے اشارہ خلافت راشدہ کی طرف ہے اور وہ بھی اس عنوان سے کہ اس بشارت (خوشخبری) کو ہم اگلی کتابوں میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

82:۔ ” وَلَقَدْ کَتَبْنَا الخ “ یہ مومنین کے لیے بشارت اخروی ہے۔ زبور سے حضرت داوٗد (علیہ السلام) کی کتاب مراد ہے اور ذکر سے تورات یا صحف ابراہیم مراد ہیں۔ ” اَلْاَرْضُ “ جنت کی زمین۔ احسن ما قیل فیہ انہ یراد بھا ارض الجنۃ کما قال سعید بن جبیر لان الارض فی الدنیا قد ورثھا الصالحون وغیرھم وھو قول ابن عباس و مجاھد وغیرھما الخ (قرطبی ) ۔ یا ارض مقدس یا ارض شام مراد ہے اور یہ امت محمدیہ کے لیے بشارت دنیوی ہے۔ وقیل الارض المقدسۃ یرثھا امة محمد ﷺ (بحر ج 6 ص 344) ۔ وقیل المراد بھا الارض المقدسۃ وقیل الشام (روح ج 17 ص 104) ۔ 83:۔ ” عِبَادِيَ الصّٰلِحُوْنَ الخ “ اس سے امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 105–112

ربط آیات : یہ مکی سورة ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے توحید ، رسالت اور قیامت کے تین اہم بنیادی مسائل بیان فرمائے ہیں۔ رسالت کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء کے حالات ، ان کی پاک سیرت ، ان کا طریقہ تبلیغ اور بارگاہ رب العزت میں ان کی مناجات کا تذکرہ کیا ہے ان پر بہت سی مصیبتیں بھی آئیں جنہیں خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہوئے کمال صبر و تحمل کا نمونہ پیش کیا۔ اس میں حضور ﷺ اور آپ کے رفقا کے لئے تسلی کا مضمون بھی ہے کہ سابقہ انبیاء کی طرح وہ بھی مصائب کو برداشت کرتے ہوئے تبلیغ دین کا کام جاری رکھیں ، بالآخر اللہ تعالیٰ انہی کو کامیابی عطا فرمائے گا۔ آج کی آیات میں پہلے تسلی کا مضمون ہے اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 105–106

وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ يَرِثُہَا عِبَادِيَ الصّٰلِحُوْنَ۝ 105 زبر الزُّبْرَةُ : قطعة عظیمة من الحدید، جمعه زُبَرٌ ، قال : آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ [ الكهف/ 96] ، وقد يقال : الزُّبْرَةُ من الشّعر، جمعه زُبُرٌ ، واستعیر للمجزّإ، قال : فَتَقَطَّعُوا أَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ زُبُراً [ المؤمنون/ 53] ، أي : صاروا فيه أحزابا . وزَبَرْتُ الکتاب : کتبته کتابة غلیظة، وكلّ کتاب غلیظ الکتابة يقال له : زَبُورٌ ، وخصّ الزَّبُورُ بالکتاب المنزّل علی داود عليه السلام، قال : وَآتَيْنا داوُدَ زَبُوراً [ النساء/ 163] ، وَلَقَدْ كَتَبْنا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 105–112

ولقد کتبنافی الزبور سعید بن جبیر و مجاہد و کلبی و مقاتل و ابن زید کہتے ہیں زبور سے مراد وہ کتابیں جو دنیا میں انبیاء پر نازل ہوئیں اور ذکر سے مراد لوح محفوظ کہ جہاں سے نقل ہو کر یہ کتابیں آئیں یعنی دونوں جگہ ہم نے لکھ دیا کہ زمین کے نیک بندے وارث ہوں گے۔ زمین سے مراد جنت کی زمین کہ وہاں بجز ان کے اور کوئی آدم (علیہ السلام) کے ورثہ میں مالک نہ ہوگا۔ سو یہ بات کل آسمانی کتابوں میں ہے۔ اس تقدیر پر یہ آیت بیان سابق کا تتمہ یا تاکید ہوگی۔ قتادہ و شعبی کہتے ہیں زبور سے مراد قرآن و ذکر سے مراد تورات ہے۔ سو ان دونوں میں بھی یہ بات مذکور ہے زبور سے مراد دائود کی کتاب بھی ہوسکتی ہے۔ ارض میں مفسرین کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزُّبُوْرِ مِنْ م بَعْدِالذِّکْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُھَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ ۔ (الانبیاء : 105) ( علیہ السلام) ْ (ہم نے زبور میں ذکر کے بعد لکھ دیا ہے کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہی ہوں گے۔ ) اس آیت کریمہ میں پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے زبور میں اپنا یہ فیصلہ لکھ دیا اور اب پھر اس کا اعادہ کررہے ہیں کہ زمین کے وارث اللہ تعالیٰ نے نیک بندے ہوں گے۔ اس سے بعض لوگوں نے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ زمین سے مراد وہ زمین ہے جس پر ہم رہ رہے ہیں اور اس زمین پر جو لوگ بھی حکومت قائم کرلیتے ہیں یا یوں کہہ لیجیے کہ جو بالعموم برسراقتدار رہتے ہیں انھیں کو حق…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 104–106

فہم القرآن ربط کلام : جس دن بروں کو سزا اور نیک لوگوں کو جزا دی جائے گی اس کی ابتداء اس طرح ہوگی۔ جب پہلا صور پھونکا جائے گا تب قیامت برپا ہوجائے گی۔ ہر چیز فنا اور ہر نفس ختم ہوجائے گا۔ اس کے بعد زمین و آسمان کو بدل دیا جائے گا اور آسمان کو تحریر شدہ کاغذات کی طرح لپیٹ دیا جائے گا۔ مخلوق کو اللہ تعالیٰ اسی حالت میں کردیں گے جس حالت میں پہلے تھی یعنی دنیا کی ہر چیز ختم کردی جائے۔ اللہ تعالیٰ ایسا ضرور کرے گا کیونکہ اس کا ارشاد ہے کہ یہ وعدہ ہے جسے ہم ضرور پورا کریں گے زمین کے وارث نیک اور صالح لوگ ہوں گے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) پر نازل کی گئی، کتاب زبور میں اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

جنت ایمان والوں کو : 105: وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ (تحقیق ہم نے زبور میں لکھ دیا) ۔ زبور دائودعلیہ السلام کی کتاب کا نام ہے۔ مِنْ بَعْدِ الذِّکْرِ (ذکر کے بعد۔ ) ذکر سے یہاں تورات مراد ہے۔ اَنَّ الْاَرْضَ (کہ زمین) اس سے مراد سرزمین شام ہے۔ یَرِثُھَا عِبَادِیَ (اس کے وارث میرے بندے ہونگے۔ ) قراءت : یاء کے سکون سے حمزہ نے پڑھا۔ دیگر قراء نے یاء کے فتحہ سے پڑھا ہے۔ الصّٰلِحُوْنَ (نیک) مراد امت محمدیہ علی صاحبھا الصلوۃ والسلام۔ دوسرا قول الزبورؔ کا معنی مزبور یعنی مکتوب لکھا ہوا۔ انبیاء ( علیہ السلام) پر اتاری جانے والی تمام کتب مراد ہیں۔ الذکرؔ سے ام الکتاب یعنی لوح محفوظ مراد ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

105۔ ولقد کتبنا فی الزبور من بعدالذکر ، سعید بن جبیر اور مجاہد کا قول ہے کہ زبور سے مراد تمام کتب الٰہیہ ہیں اور ذکر سے مراد لوح محفوظ یعنی لوح محفوظ میں لکھنے کے بعد ہم نے اپنی تمام نازل کردہ کتابوں میں لکھ دیا۔ حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے ، زبور سے مراد توریت ہے اور ذکر سے مراد ہیں وہ تمام آسمانی کتابیں جو توریت کے بعد اتاری گئیں۔ شعبی کا قول ہے کہ زبور سے مراد زبور داؤد ہے۔ جو حضرت داؤد (علیہ السلام) پر اتاری گئی۔ اور ذکر سے مراد توریت۔ یہ بھی کہا گیا کہ زبور سے مراد زبور اور ذکر سے مراد قرآن ہے۔ اور بعد، بمعنی قبل کے ہے۔ کقولہ تعالی، وکان وراء ھم ملک، ان کے سامنے والارض بعض ذالک…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

105:۔ مجاہد اور سعید بن جبیر کے قول کے موافق حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ پہلے لوح محفوظ میں اور لوح محفوظ کے بعد انبیاء پر جو کتابیں نازل کی گئی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ نے یہی لکھا ہے کہ جنت کی زمین کے وہی لوگ وارث ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں نیک ٹھہر چکے ہیں ‘ صحیح بخاری میں عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے 1 ؎ کہ بعضے لوگ تمام عمر جنتیوں کے سے کام کرتے ہیں لیکن آخر عمر میں لوح محفوظ کے لکھے کے موافق دورخیوں کے سے کام کر کے مرتے ہیں اسی طرح بعضے لوگ تمام عمر دوزخیوں کے سے کام کرتے ہیں لیکن آخر عمر میں لوح محفوظ کے لکھے کے موافق جنتیوں کے سے کام کر کے مرتے ہیں ان حدیثوں کو آیتوں کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 104–106

آیت 104 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ قیامت کے روز آسمانوں کو، ان کی عظمت اور وسعت کے باوجود، لپیٹ دے گا، جس طرح کاتب ورق کو لپیٹتا ہے یہاں (السجل) سے مراد ورق ہے جس کے اندر کچھ تحریر کیا گیا ہو۔ پس آسمان کے تمہارے ستارے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ سورج اور چاند اپنی روشنی سے محروم ہو کر اپنی اپنی جگہ سے ہٹ جائیں گے۔ (کما بدانا اول خلق نعیدہ) ہم مخلوق کو دوبارہ اسی طرح پیدا کریں گے جس طرح ہم نے ان کو ابتدا میں پیدا کیا تھا۔ پس جس طرح ہم نے ان کو اس وقت پیدا کیا جب وہ کچھ بھی نہ تھے، اسی طرح ہم ان کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کریں گے۔ (وعدا علینا انا کنا فعلین) یعنی جو ہم نے وعدہ کیا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 78–112

ایک کھیت کے بارے میں سلیمان کا فیصلہ قول باری ہے (وداود و سلیمان اذ یحکما ن فی الحرث اذ نفشت فیہ غنم القوم و کنا لحکمھم شاھدین ففھمنا ھا سلیمان وکلا اتینا حکماً و علماً اور اس نعمت سے ہم نے دائود و سلیمان کو سرفراز کیا۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ وہ دونوں ایک کھیت کے مقدمے میں فیصد کر رہے تھے جس میں رات کے وقت دوسرے لوگوں کی بکریاں پھیل گئی تھیں اور ہم ان کی عدالت کو دیکھ رہے تھے۔ اس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق مروزی نے روایت بیان کی، انہیں الحسن بن ابی ربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 105–107

142 ذکر اور زبور سے مقصود و مراد : یہاں پر ذکر سے مراد لوح محفوظ اور الزبور سے مراد وہ تمام آسمانی کتابیں ہیں جو مختلف انبیائے کرام پر نازل فرمائی گئیں۔ (ابن کثیر، مراغی، محاسن اور صفوہ وغیرہ ) ۔ تو مطلب اس صورت میں یہ ہوا کہ ہم نے یہ مضمون اول لوح محفوظ میں لکھا اور پھر تمام آسمانی کتابوں میں بھی اس کو لکھ دیا۔ سو اس سے اس کی عظمت و اہمیت اور قطعیت واضح ہوجاتی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زبور سے مراد زبور داؤد ہے اور ذکر سے مراد تورات۔ لیکن پہلا قول و احتمال زیادہ اہم اور اوفق بالمراد ہے ۔ والعلم عند اللہ سبحانہ و تعالیٰ ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی میں یہ چیز لکھ دی اور طے کردی اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 104–112

قیامت کا منظر، نبی ﷺ کا پیغام تشریح : سب سے پہلے کائنات کے اختتام کا ذکر ہے کیونکہ یہ بالکل سچا اور پکا وعدہ ہے پھر اس کو دوبارہ پیدا کرنے کا وعدہ ہے۔ کائنات کے اختتام کا منظر کچھ یوں بیان کیا ہے۔ ڈاکٹر دلدار احمد اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں۔ ” اس وقت اوراق کے یہ طومار کھلے ہوئے ہیں اور اس کے تمام نقوش اور خطوط پڑھے جا رہے ہیں۔ اور ہر ایک اپنی جگہ پر قائم اور برقرار ہے۔ لیکن جب قیامت کا حکم ہوجائے گا تو یہ عظیم طومار اپنے تمام خطوط و نقوش کے ساتھ لپیٹ دیے جائیں گے، یعنی کائنات پھیل رہی ہے اور ایک خاص حد تک وسعت پا چکنے کے بعد یہ دوبارہ سکڑنا شروع ہوجائے گی (یعنی) طومار لپیٹ دیے جائیں گے۔ ( از…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 94–112

(رکوع نمبر 7) اسرارومعارف اور آخرت میں تو وہ ایماندار لوگ ہی نام پائیں گے جنہوں نے نیک کام کئے ہوں گے کہ ان کا کوئی عمل رائیگاں نہ جائے گا کہ اللہ کریم کے لکھنے والے ہر ہر عمل کو لکھ لیتے ہیں یعنی آخرت کے اجر کی بنیاد عقیدہ ہے کہ درست ہو اور صرف عقیدہ ہی نہ رہے اس کے ساتھ عمل صالح یعنی نبی (علیہ السلام) کے ارشاد کے مطابق عمل بھی ہو تو ہر چھوٹا بڑا عمل انعام اور اجر پائے گا مگر جو لوگ ایمان ہی قبول نہیں کرتے وہ عمل تو کر ہی نہیں سکتے اور پھر عذاب الہی سے تباہ ہوجاتے ہیں تو آنکھ کھلتی ہے مگر ان کے لیے پھر سے عمل کے لیے دنیا میں واپس آنا ہرگز ممکن نہیں ، یہاں تک کہ دنیا کی بساط لپیٹ دی جائے گی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 105–106

ف 12 ۔ ” اذکر “ سے مراد لوح محفوظ ہے اور بعض نے ” توارۃ “ مراد لی ہے اور بعض نے اسے اس کی لفظی یعنی ” نصیحت “ میں لیا ہے۔ (شوکانی) 13 ۔ یہاں ” الارض “ سے کونسی زمین مراد ہے اس میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ بعض علما نے بہشت کی زمین مراد لی ہے کیونکہ دوسری آیت میں جنت کے متعلق و اور ثنا الرض فرمایا ہے۔ یعنی جس نے ہمیں زمین یعنی جنت کا وارث بنایا۔ (زمر : 47) گویا یہ اہل ایمان کے حق میں ایک بشارت اخروی ہے جیسے فرمایا ہو العاقبۃ للمتقین۔ (اعراف) مگر اکثر علما نے اسے بشارت دنیوی پر محمول کیا ہے۔ پھر بعض نے کافر قوموں کی سرزمین مراد لی ہے اور بعض نے ” بیت المقدس “ کی فتح۔ چناچہ حضرت عمر ؓ کی خلافت میں یہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(21:105) الزبور۔ اس کا مادہ زبر ہے الزبرۃ لوہے کی بڑی سل کو کہتے ہیں۔ اس کی جمع زبر ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے اتونی زبر الحدید (18:96) لوہے کی سلیں ہمارے پاس لائو۔ کبھی زبر کا لفظ بالوں کے گچھے پر بولا جاتا ہے اس کی جمع زبر آتی ہے اور استعارہ کے طور پر پارہ پاری کی ہوئی چیز کو بھی زبر کہا جاتا ہے ۔ مثلاً فتقطعوا امرہم بینہم زبرا۔ (23:53) پھر لوگوں نے آپس میں (پھوٹ کر کے) اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ زبرت الکتاب۔ میں نے کتاب کو موٹے خط میں لکھا۔ ہر وہ کتاب جو جلی اور گاڑھے خط میں لکھی ہوئی ہو اسے زبور کہا جاتا ہے۔ لیکن عرف عام میں زبور کا لفظ اس آسمانی کتاب کا نام ہے جو حضرت دائود (علیہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 104–106

لغات القرآن آیت نمبر 104 تا 106 نطوی ہم لپیٹ دیں گے۔ طی لپیٹ دینا۔ ال سجل لکھے ہوئے کاغذ کا بنڈل۔ بدانا ہم نے ابتدا کی تھی۔ نعید ہم لوٹا دیں گے۔ یرت وارث ہوگا۔ ، مالک ہوگا۔ بلغ پہنچا دینا۔ تشریح : آیت نمبر 104 تا 106 گزشتہ آیات میں قیامت کے ہولناک دن کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ ان آیات میں بھی اسی مضمون کو بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہے کہ قیامت کے دن ہم اس آسمان کو جو دنیا والوں کو بہت بڑا نظر آتا ہے اس طرح لپیٹ کر رکھ دیں گے جس طرح لکھے ہوئے کاغذوں کو لپیٹ دیا جاتا ہے اور جس طرح اللہ نے پہلی مرتبہ انسان کو پیدا کیا تھا اسی طرح اس کو دوبارہ تخلیق فرما دیں گے یہ اللہ کی قدرت سے باہر نہیں ہے بلکہ اس کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 105–106

(ف 2) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ پہلے لوح محفوظ میں اور لوح محفوظ کے بعد انبیاء پر جو کتابیں نازل کی گئیں ان میں اللہ تعالیٰ نے یہی لکھا ہے کہ جنت کی زمین کے وہی لوگ وارث ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں نیک ٹھہرچکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 105–106

[61] آسمانی کتاب کا نام جو داؤد (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی۔ [62] مطلب یہ ہے کہ دوسری تخلیق میں، جس کا ذکر اس سے پہلے کی آیت میں ہوا ہے، زمین کے وارث صرف صالح لوگ ہوں گے اور اس ابدی زندگی کے نظام میں موجودہ عارضی زندگی کی سی کیفیت برقرار نہ رہے گی کہ زمین پر فاسقوں اور ظالموں کو بھی تسلط حاصل ہوجاتا ہے اور زمین کی وراثت مشیت الٰہی کے تحت مومن اور کافر، فرماں بردار اور نافرمان سب کو ملتی ہے مگر جزائے اعمال کے طور پر نہیں بلکہ امتحان کے طور پر۔ اس کے برعکس آخرت میں اللہ اپنے بندوں میں سے صرف مومنین صالحین کو زمین کا وارث بنائے گا امتحان کے طور پر نہیں بلکہ اس نیک رویے کی ابدی جزا کے طور پر…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 105–106

زمین کے وارث کون ہیں ؟ : (ف 1) غرض یہ ہے کہ صالحین کے لئے کامیابی و کامرانی قطعی ویقینی ہے پہلی آسمانی کتابوں اور صحیفوں میں مذکور ہے کہ صلحاء زمین کے وارث ہوں گے ، اور تمام مادی وروحانی سربلندیاں ان کو عطا کی جائیں گی ، مگر صلحاء سے کون لوگ مراد ہیں ؟ کیا وہ لوگ جو امور حکمرانی سے محض ناواقف ہیں ، اور صرف سجادوتسبیح کو ، ” صلاح وتقوی “ کا معیار گردانتے ہیں ، یا وہ لوگ جو ان شروط دین کے ساتھ اس کردار کے بھی حامل ہیں ، جو زندہ قوموں کا کردار ہے اور ان تمام اوصاف سے متصف ہیں جن کا ہونا حکمران قوم کے لئے ضروری ہے قرآن کہتا ہے کہ اسلام نے زندگی کے تمام شعبوں کے لئے الگ الگ قواعد بتا دیئے ہیں ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(105) اور ہم لوح ِ محفوظ میں درج کرنے کے بعد تمام کتب سماویہ میں یہ بات لکھ چکے ہیں کہ جنت کی زمین کے حقیقی مالک میرے نیک بندے ہی ہوں گے۔ اس آیت کے متعلق مفسرین کے مختلف اقوال ہیں بعض حضرات نے زبور سے عام کتب سماویہ مرادلی ہے اور ذکر سے لوح محفوظ مراد ہے۔ یعنی لوح محفوظ میں لکھنے کے بعد تمام کتب ِ سماویہ میں یہ بات کہی اور بتلائی گئی ہے کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔ بعض نے کہا زبور سے مراد حضرت دائود (علیہ السلام) کی کتاب ہے اور ذکر سے مراد اسی کے ایک حصہ کا نام ہے اس ذکر کے بعد فرمایا ہے کہ زمین کے مالک میرے نیک بندے ہوں گے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا ہے ذکر سے مراد تورات ہے۔…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 105–106

ف 1۔ یہاں تک سورت کے بڑے حصہ میں توحید و نبوت کی تحقیق اور منکرین کے لئے وعید مذکور ہوئی ہے آے ان مضامین مفیدہ پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ان مضامین کی صراحة مدح اور اشارة ان مضامین کے لانے والے کی بھی مدح اور بطور تلخیص سابق کے توحید اور اسلام کی طرف جس کے لوازم میں سے تصدیق نبوت بھی ہے دعوت مکررہ اور بطور تلخیص ہی کے انکار پر وعید مکرر اور وعید کے متعلق اور مناسب مضامین ارشاد ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

زبور میں بھی ہم نے لکھا اور قرآن میں بھی کہ زمین کے وارث صالحین ہوں گے : 105۔ وہ زمین جو صالحین کی وراثت قرار پائے گی کونسی زمین ہے ؟ وہ زمین جو اس زمین و آسمان کے فنا ہونے کے بعد نئے قانون ‘ نئی طرز اور نئی ساخت کی ہوگی جس کا گزشتہ آیت میں ذکر کیا گیا ہے اور جس کے متعلق قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ (آیت) ” یوم تبدل الارض غیر الارض والسموت “۔ (ابراہیم 14 : 48) ” اس دن کو نظر میں رکھو جس دن زمین دوسری زمین سے اور آسمان دوسرے آسمان سے بدل دیئے جائیں گے ۔ “ اس بدلے ہوئے آسمان و زمین میں بلاشبہ قانون یہی ہوگا کہ ان کی ابدی وراثت و بادشاہی صرف صالحین ہی کو حاصل ہوگی اور نافرمانوں کو اس میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 105–106

وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ‌ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ‌ أَنَّ الْأَرْ‌ضَ يَرِ‌ثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ (And We have written in Zabur (Psalms) after the Dhikr (the Torah) that the land will be inherited by My righteous slaves. - 21:105) The word لزَّبُورِ‌(zabur) is the plural of زُبُرّ (zuburr), which means book. It is also the name of the book which was revealed to Sayyidna Dawud (علیہ السلام) . Opinions differ as to the meaning of the word in the present context. According to a version attributed to Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ the word ذِکر in the verse refers to Torah, and زبور to all…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 103–105

98. That is, the time of mustering and going before Allah will be very dreadful for the common people but the righteous people will have full peace of mind because everything will be happening according to their expectations. Their faith and the righteous deeds they did in the world, will help console them by the grace of Allah and, instead of grief and sorrow, they will be filled with the hope that they are going to get their promised rewards.

Read the full tafseer →