اللہ تعالیٰ کی مٹھی میں تمام کائنات
یہ قیامت کے دن ہوگا جب ہم آسمان کو لپیٹ لیں گے جیسے فرمایا آیت (وما قدروا اللہ حق قدرہ الخ) ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی تھی، جانا ہی نہیں۔ تمام زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ پاک اور برتر ہے ہر چیز سے جسے لوگ اس کا شریک ٹھیرا رہے ہیں۔ بخاری شریف میں ہے آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن زمینوں کو مٹھی میں لے لے گا اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ساتوں آسمانوں کو اور وہاں کی کل مخلوق کو، ساتوں زمینوں کو اور اس کی کل کائنات کو اللہ تعالیٰ اپنے داہنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–105
سورة الْاَنْبِیَآء 98
یعنی روز محشر اور خدا کے حضور پیشی کا وقت، جو عام لوگوں کے لیے انتہائی گھبراہٹ اور پریشانی کا وقت ہوگا، اس وقت نیک لوگوں پر ایک اطمینان کی کیفیت طاری رہے گی۔ اس لیے کہ سب کچھ ان کی توقعات کے مطابق ہو رہا ہوگا۔ ایمان و عمل صالح کی جو پونجی لیے ہوئے وہ دنیا سے رخصت ہوئے تھے وہ اس وقت خدا کے فضل سے ان کی ڈھارس بندھائے گی اور خوف و حزن کے بجائے ان کے دلوں میں یہ امید پیدا کرے گی کہ عنقریب وہ اپنی سعی کے نتائج خیر سے ہم کنار ہونے والے ہیں۔
Read the full tafseer →يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاۗءَ كَـطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ لفظ سجل کے معنے حضرت ابن عباس سے صحیفہ کے منقول ہیں علی بن طلحہ، عوفی، مجاہد، قتادہ وغیرہ نے بھی یہی معنے بیان کئے ہیں۔ ابن جریر ابن کثیر وغیرہ نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔ اور کتب اس جگہ بمعنے المکتوب ہے معنی یہ ہیں کہ آسمان کو اس طرح لپیٹ دیا جائے گا جس طرح کوئی صحیفہ اپنے اندر لکھی ہوئی تحریر کے ساتھ لپیٹ دیا جاتا ہے (کذا قالہ ابن کثیر و ذکرہ فی الروح) سجل کے متعلق دوسری روایات کہ وہ کسی شخص یا فرشتہ کا نام ہے محدثین کے نزدیک ثابت نہیں (فصلہ ابن کثیر) آیت کے مفہوم کے متعلق صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ…
Read the full tafseer →سجل اور کتب کا مفہوم
سجل اس دفتر یا طومار یا فائل کو کہتے ہیں جس میں لکھے ہوئے اوراق کر لئے جاتے ہیں۔ کتب یہاں اوراق نوشتہ کے معنی میں ہے۔ اول خلق ظرف کے محل میں ہے۔ اسی مضمون کو ادا کرنے کے لئے قرآن میں بعض جگہ اول مرۃ کا لفظ بھی آیا ہے۔
نئے آسمان اور نئی زمین
مطلب یہ ہے کہ یہ سب کچھ اس دن ہوگا جس دن ہم اس پھیلے ہوئے آسمان کی بساط اس طرح لپیٹ کر رکھ دیں گے جس طرح طومار میں کاغذات لپیٹ کر رکھ دیئے جاتے ہیں اور جس طرح ہم نے پہلی بار آسمان و زمین پیدا کئے اسی طرح ان کی جگہ نئے نوامیس و قوانین کے ساتھ نئے آسمان و زمین پیدا کریں گے۔ وعد اعلینا میں مصدر تاکید کے لئے ہے۔ یعنی یہ ہمارے ذمہ ایک حتمی…
Read the full tafseer →14۔ 1 یعنی جس طرح کاتب لکھنے کے بعد اوراق یا رجسٹر لپیٹ کر رکھ دیتا ہے۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ بِيَمِيْنِهٖ) 39۔ الزمر :87) آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہونگے ' ' سِجِل کے معنی صحیفے یا رجسٹر کے ہیں لِلْکُتُبِ کے معنی ہیں عَلَی الْکِتَابِ بِمَعْنَی الْمَکْتُوْبِ (تفسیر ابن کثیر) مطلب یہ ہے کہ کاتب کے لئے لکھے ہوئے کاغذات کو لپیٹ لینا جس طرح آسان ہے، اسی طرح اللہ کے لئے آسمان کی وسعتوں کو اپنے ہاتھ میں سمیٹ لینا کوئی مشکل امر نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–104
46: پتھر کے جن بتوں کی یہ مشرکین عبادت کرتے تھے ان کو بھی سزا کے طور پر نہیں بلکہ اس لئے جہنم میں ڈالا جائے گا تاکہ اس بات کا عملی مظاہرہ کیا جائے کہ جن بتوں کو تم خدا سمجھتے تھے وہ آخر کار کتنے بےبس ثابت ہوئے۔ 46:
Read the full tafseer →یوم نطوی السماء کطی السجل للکتب (21 : 103) ” وہ دن جب آسمان کو ہم یوں لپیٹ کر رکھ دیں گے جیسے طومار میں اوراق لپیٹ دیئے جاتے ہیں۔ آسمان اس طرح لپیٹ دیا جائے گا جس طرح ریکارڈ کی پر ریکارڈ کو لپیٹ کر رکھ دیتا ہے۔ اب یہ منظر ختم ہوتا ہے اور یہ کائنات اس طرح لپیٹ دی جاتی ہے جس طرح ہمارے کاغذات اب کیا ہے ایک نئی دنیا اور ایک نئی کائنات اور نیا جہاں۔
کما بدانا اول خلق نعیدہ وعدا علینا انا کنا فعلین (21 : 103) ” جس طر ہم نے پہلے تخلیق کی ابتداء کی اسی طرح ہم پھر اس کا اعادہ کریں گے۔ یہ ایک وعدہ ہے ہمارے ذمے اور یہ کام ہمیں بہرحال کرنا ہے۔ “
کائنات کے خاتمہ کے اس خوبصورت منظر کو پیش کرنے کے بعد اور…
Read the full tafseer →10 یعنی جب قیامت آئے گی تو آسمانوں کی صفیں لپیٹ دی جائیں گی جس طرح دستاویز کا لکھا ہوا کاغذ لپیٹ کر رکھ دیا جاتا ہے (وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ بِيَمِيْنِهٖ ) 39 ۔ الزمر :68) بعض روایات میں جو نبی کریم ﷺ کے ایک کاتب کا نام " سجل " بتلایا گیا ہے، اس کو حفاظ حدیث کی ایک جماعت نے ضعیف بلکہ موضوع قرار دیا ہے کہ کماصرح ابن کثیر فلا یعتبر بتخریج ابی داؤد والنسائی فی سننہما۔ "
11 یعنی جیسی سہولت سے دنیا کو پہلی بار پیدا کیا تھا اسی طرح دوبارہ پیدا کردی جائے گی۔ یہ حتمی وعدہ ہے جو یقینا پورا ہو کر رہے گا۔
Read the full tafseer →آیت 104 یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ کَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْکُتُبِ ط ”
یہاں پر ”السَّمَوٰت“ جمع کے بجائے صرف السَّمَآء واحد استعمال ہوا ہے ‘ جس سے اس رائے کی گنجائش پیدا ہوتی ہے کہ یہ صرف آسمان دنیا کے لپیٹے جانے کی خبر ہے اور یہ کہ قیامت کے زلزلے کا عظیم واقعہ : اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ الح ج صرف ہمارے نظام شمسی کے اندر ہی وقوع پذیر ہوگا۔ اسی نظام کے اندر موجودُ کرّے آپس میں ٹکرائیں گے : وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ القیامہ اور یوں یہ پورا نظام تہہ وبالا ہوجائے گا۔ فرمایا کہ اس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ دیں گے جیسے کتابوں کے طومار scrolls لپیٹے جاتے ہیں۔
کَمَا بَدَاْنَآ…
Read the full tafseer →92 یعنی آسمانوں کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔ اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام پر یوں ارشاد فرمایا : (وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ بِيَمِيْنِهٖ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ 67) 39 ۔ الزمر :67) یعنی تمام آسمانوں کو لپیٹ کر اللہ تعالیٰ اپنے دائیں ہاتھ میں لے گا اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے کائنات کی تخلیق کا آغاز کیا تھا۔ اسی طرح موجودہ زمین و آسمان کی ایک ایک جز کو ختم کرکے نئی زمین، نئے آسمان اور نئی کائنات کو وجود میں لایا جائے گا۔
Read the full tafseer →139۔ قرآن مجید وقوع قیامت اور اس روز کی ہولناکیوں اور بشارتوں دونوں کا ذکر اسی کثرت اور اسی قطعیت کے ساتھ اسی لیے کرتا ہے کہ مخاطبین کے دل میں عقیدہ آخرت راسخ ہوجائے۔ ساری نیکیوں کی جڑ اور بنیاد یہی ہے کہ عقیدہ آخرت محض ایک نظریہ یا وہم و گمان کی طرح نہ رہے بلکہ جزم کا مل ووثوق کے ساتھ دل کی گہرائیوں میں اتر جائے اور قال حال بن جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–112
آیت نمبر 94 تا 112
ترجمہ : تو جو شخص نیک عمل کرے اور وہ مومن بھی ہو تو اس کی کوشش کی ناقدری نہیں کی جائے گی یعنی انکار نہیں کیا جائے گا اور ہم اس کی سعی کو لکھ لیتے ہیں یعنی ہم فرشتوں کو اس کے لکھنے کا حکم دیتے ہیں سو ہم اس کو اس کی سعی کا بدلہ دیں گے اور حرام ہے اس بستی پر یعنی بستی والوں پر جن کو ہم نے ہلاک کردیا ہے یہ کہ وہ لوٹ آئیں یعنی ان کا دنیا کا طرف لوٹ کر آنا ممتنع ہے اور لا یرجعون میں لا زائدہ ہے، یہاں تک کہ یہ امتناع رجوع کی گایت ہے کھولدئیے جائیں یا جوج اور ماجوج فتحت تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے، یأجوج مأجوج ہمزہ کے ساتھ اور ترک ہمزہ کے ساتھ دو قبیلوں کے دو عجمی نام ہیں اور ان سے…
Read the full tafseer →یوم نطوی السمآء کطی السجل للکتب وہ بھی یاد کرنے کے قابل ہے جس روز (نفحہ اولیٰ کے
وقت) ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ دیں گے جس طرح لکھے ہوئے مضمون کا کاغذ لپیٹ لیا جاتا ہے۔ طے نشر کی ضد ہے یعنی لپیٹنا تہ کرنا۔ سجل کاغذ۔ مساجلۃ (باب مفاعلت) مکاتبت باہم مل کر لکھنا۔ یعنی ہم آسمانوں کو اس طرح لپیٹ دیں گے جس طرح کاغذ کو لکھنے کے لئے تہ کیا جاتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ جس طرح لکھے جانے والے مضمون کے لئے کاغذ کو تہ کیا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ مجاہد اور اکثر اہل علم نے یہ مطلب بیان کیا جس طرح لکھے ہوئے کثیر مضامین کی وجہ سے کا غز کو لپیٹ دیا جاتا ہے۔
سدی نے کہا سجل اس فرشتہ کا نام ہے جو بندوں کے اعمال لکھا…
Read the full tafseer →(104) اور قیامت کا دن بھی یاد کرنے کے قابل ہے کہ جس دن ہم آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ پر اس طرح لپیٹ لیں گے جس طرح لکھے ہوئے مضمون کا کاغذ لپیٹ لیا جاتا ہے اور جس طرح پہلی بار ان کو ہم نے نطفہ سے پیدا کیا تھا، اسی طرح پھر دوبارہ قبروں سے پیدا کردیں گے یہ ہمارے ذمہ وعدہ ہے ہم ضرور مرنے کے بعد پھر دوبارہ زندہ کریں گے۔
Read the full tafseer →نَطْوِي السَّمَاۗءَ كَـطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ : ”طَوٰی یَطْوِيْ طَیًّا“ لپیٹنا۔ ”السِّجِلِّ“ کا معنی ہے صحیفہ، کتاب بھی ہے اور کاتب بھی۔ (قاموس) یہاں کاتب معنی زیادہ موزوں ہے، کیونکہ کاتب کاغذات لکھنے کے بعد آخر میں لپیٹ کر اکٹھے کرلیتا ہے۔ (ابن عاشور) بعض لوگوں نے ایک فرشتے کا نام ”سجل“ بتایا ہے اور بعض نے نبی ﷺ کے ایک کاتب کا نام ”سجل“ بتایا ہے، مگر یہ دونوں درست نہیں، نہ کسی فرشتے کا نام ”سجل“ ثابت ہے اور نہ کسی صحابی کا۔
”یَوْمَ“ یعنی جن چیزوں کا ذکر اوپر گزرا یہ سب اس دن ہوں گی جس دن۔۔ (أَيْ تَکُوْنُ ھٰذِہِ الْأَشْیَاءَ یَوْمَ)۔ (بقاعی)
نَطْوِي السَّمَاۗءَ كَـطَيِّ السِّجِلِّ…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یوم نطوی السمآء ابو جعفر بن قعقاع، شیبہ بن نصاح، اعرج اور زہری نے تطوی تا مضمومہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ السماء کو نائب الفاعل کی حیثیت سے مرفوع پڑھا ہے۔ مجاہد نے یطوی پڑھا ہے۔ اس معنی پر کہ یطوی اللہ السماء۔ اللہ آسمان کو لپیٹ دے گا باقی قراء نے نطوری نون کے ساتھ پڑھا ہے پر یہ عظمت کی دلیل ہے اور یوم پر نصب ہ ضمیر محذوف سے بدل ہونے کے اعتبار سے ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہوگی۔ الذی کنتم توعدون۔ یوم نطوی السماء یا نعید کی وجہ سے منصوب ہوگا تو کما بدانآ اول خلق نعیدہ یا لا یحزنھم کی وجہ سے منصوب ہوگا یعنی لا یحزنھم الفرع الاکبر فی الیوم الذی نطوی فیہ السماء یا اذکر کے اضمار کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–104
1:۔ فریابی، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم، طبرانی، ابن مردویہ، ابوداود نے ناسخ میں حاکم نے (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) کئی طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ (آیت) ” انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم، انتم لھا وردون “۔ نازل ہوئی تو مشرکین نے کہا کہ فرشتے عیسیٰ (علیہ السلام) اور عزیر (علیہ السلام) کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے کیا یہ بھی دوزخ میں جائیں گے تو پھر یہ (آیت) ان الذین سبقت لھم منا الحسنی اولئک عنھا مبعدون “ نازل ہوئی کہ جس سے مراد ہیں عیسیٰ (علیہ السلام) ، عزیر اور فرشتے (کہ ان کو جہنم سے دور رکھا جائے گا (
2:۔ ابن مردویہ اور ضیاء نے مختارہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا…
Read the full tafseer →[ يَوْمَ : جس دن ] [ نَطْوِي : ہم لپیٹیں گے ] [ السَّمَاۗءَ : آسمان کو ] [ كَـطَيِّ السِّجِلِ : جیسے عدالتی کاروائی کا لپیٹنا ] [ لِلْكُتُبِ : لکھی ہوئی ہونے کے لئے ] [ كَمَا : جیسے کہ ] [ بَدَانآ : ہم نے ابتدا کی ] [ اَوَّلَ خَلْقٍ : پہلی تخلیق کی ] [ نُّعِيْدُهٗ : (ویسے ہی) ہم واپس لائیں گے اس کو ] [ وَعْدًا عَلَيْنَا : وعدہ ہوتے ہوئے ہم پر ] [ انا : بیشک ] [ كُنَا : ہم ہیں ] [ فٰعِلِيْنَ : (وعدہ پورا) کرنے والے ]
Read the full tafseer →قیامت کے دن آسمان کا لپیٹا جانا، جس طرح ابتدائے آفرینش ہوئی اسی طرح دوبارہ پیدا کیے جائیں گے
گزشتہ آیات میں مشرکین اور ان کے باطل معبودوں کے دوزخ میں داخل ہونے اور اس میں ہمیشہ رہنے کا اور ان حضرات کے اہل جنت ہونے کا ذکر تھا جن کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے ہی سے بھلائی مقدر ہوچکی ہے۔ ان حضرات کے بارے میں فرمایا کہ اپنی جی چاہی چیزوں میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ کہ انہیں بڑی گھبراہٹ غم میں نہ ڈالے گی اور فرشتے ان کا استقبال کریں گے اور یوں کہیں گے کہ یہ تمہارا وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ چونکہ ان چیزوں کا تعلق وقوع قیامت سے ہے اس لیے اس کے بعد اس کا تذکرہ فرمایا کہ قیامت کا واقع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–104
بیان قرب قیامت و خروج یا جوج ماجوج وفناء عالم و بیان
ذلت و خواری اہل غفلت وبیان عزت و کرامت اہل سعادت
قال اللہ تعالیٰ وحرم علی قریۃ اہلکنھا انھم لا یرجعون .... الیٰ .... انا کنا فعلین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں توحید اور رسالت کا بیان تھا اب آگے معاد اور قرب قیامت کو بیان کرتے ہیں کہ اس دنیا کا ایک وقت معین ہے اس کے بعد فنا کردی جائیگی اور اس فنا کی ابتدائی علامت خروج یاجوج و ماجوج ہے اس کے بعد وہ وعدہ بہت قریب آلگے گا۔ منجملہ علامات قیامت حضرت عیسیٰ علیہا لسلام کا آمان سے نازل ہونا اور دجال کو قتل کرنا ہے۔ دجال کے قتل ہوجانے کے بعد یاجوج ماجوج کا خروج ہوگا جن کی تعداد کی کوئی حد نہیں۔ فی الحال یہ…
Read the full tafseer →79:۔ ” یَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ الخ “” یوم “ کا عامل ” اذکر “ محذوف مانا گیا ہے مگر اس کی ضرورت نہیں۔ حضرت شیخ قدس سرہ کے اصول کے مطابق اس کا عامل لا یحزنھم یا تتلقھم ہے۔ منصوب باذکر وقیل ظرف للا یحزنم وقیل ظر لتتلقاھم (روح) ۔ اعلم ان التقدیر لا یحزنھم الفزع الاکبر یوم نطوی السماء او وتتلقھم الملئکۃ یوم نطوی السماء (کبیر ج 6 ص 200) ۔
80:۔ ” کَطَیِّ السِّجِل الخ “ جس طرح بہت سے کاغذوں کے طومار کو لپیٹ دیا جاتا ہے اس طرح قیامت کے دن آسمانوں کی صفوں کو لپیٹ دیا جائے گا۔ یہ نظام عالم کے درہم برہم کرنے سے کنایہ ہے۔ آسمانی تعلیم از آدم تا خاتم النبیین علیہم الصلوۃ والسلام اس پر ناطق ہے کہ یہ عالم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–104
ربط آیات :
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کیا ہے۔ ان کے مصائب و تکالیف ، ان کے طریقہ تبلیغ ، ان کی مناجات اور عبادت اور ان کے صبر پر روشنی ڈالی ہے۔ اور آئندہ آنے والوں کے لئے انہیں نمونہ بنایا ہے۔ آخر میں حضرت مریم ؓ اور مسیح (علیہ السلام) کا ذکر بھی کیا ہے اور پھر ایک اصولی بات یہ بیان فرمائی ہے کہ تمام انبیاء کی ملت اور دین ایک ہی رہا ہے۔ فرمایا میں تمہارا پروردگار ہوں ، لہٰذا میری ہی عبادت کرو۔ مگر بعد میں آنے والے لوگوں نے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے اور مختلف فرقوں میں بٹ گئے۔ بعض نے عقائد کو خراب کرلیا اور کفر وشرک میں مبتلا ہوگئے۔ فرمایا سب نے ہماری…
Read the full tafseer →يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاۗءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ 0ۭ كَـمَا بَدَاْنَآ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيْدُہٗ 0ۭ وَعْدًا عَلَيْنَا 0ۭ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِيْنَ 104
طوی
طَوَيْتُ الشیءَ طَيّاً ، وذلک كَطَيِّ الدَّرَجِ وعلی ذلک قوله : يَوْمَ نَطْوِي السَّماءَ كَطَيِّ السِّجِلِ
[ الأنبیاء/ 104] ، ومنه : طَوَيْتُ الفلاةَ ، ويعبّر بِالطَّيِّ عن مُضِيِّ العمر . يقال : طَوَى اللهُ عُمرَهُ ، قال الشاعر :
طَوَتْكَ خطوبُ دهرک بعد نشر«1» وقوله تعالی: وَالسَّماواتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ [ الزمر/ 67] ، يصحّ أن يكون من الأوّل، وأن يكون من الثاني، والمعنی: مهلكات . وقوله :إِنَّكَ بِالْوادِ الْمُقَدَّسِ طُوىً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–104
جس کے بعد بطور معیار کے فرماتا ہے فمن یعمل من الصلحت کہ جو کوئی ایمان لائے گا اور پھر نیک کام کرے گا خواہ کوئی ہو اس کی کوشش کا قطعاً بدلہ ہم دیں گے پھر فرماتا ہے و حرام علی قریہ حرام خبر ہے اس کا متبداء یا انہم لایرجعون ہے یا کچھ اور۔ اول صورت میں بعض علمائے نے لاکو زائد نہیں مانا ہے تب یہ معنی ہوں گے کہ ان کا عدم رجوع حرام یعنی ممتنع ہے تب رجوع کرنا ان پر واجب یعنی ضرور ہے اور آخرت کی طرف
اھلکناھا ‘ اکثر مفسرین لاکو زائد کہتے ہیں تب یہ معنی کہ ان پر رجوع کرنا دنیا میں باردگر آنا حرام کردیا ہے یا یہ کہ ان کی تقدیر میں شرک و معاصی سے باز آنا حرام تھا اس لیے وہ غارت ہوئے۔ جمہور کا قول بہت ٹھیک…
Read the full tafseer →یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآئَ کَطَیِّ السِّجْلِّ لِلْکُتُبِط کَمَا بَدَاْنَـآ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہٗ ط وَعْدًا عَلَیْنَا ط اِنَّا کُنَّا فٰعِلِیْنَ ۔ (الانبیاء : 104)
(اس دن کا خیال کرو جس دن ہم آسمان کو لپیٹ لیں گے جس طرح طومار میں اوراق کو لپیٹتے ہیں، جس طرح ہم نے پہلی دفعہ خلقت کا آغاز کیا اسی طرح ہم اس کا اعادہ کریں گے، یہ ہمارے ذمہ ایک حتمی وعدہ ہے۔ بیشک ہم یہ کرکے رہیں گے۔ )
مشکل الفاظ کی تشریح
سِجِْلّ … اس دفتر یا طومار یا فائل کو کہتے ہیں جس میں لکھے ہوئے اوراق محفوظ کرلیے جاتے ہیں۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) سے اس کا ترجمہ صحیفہ منقول ہے۔ کُتُبْ… یہاں اوراقِ نوشتہ کے معنی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–106
فہم القرآن
ربط کلام : جس دن بروں کو سزا اور نیک لوگوں کو جزا دی جائے گی اس کی ابتداء اس طرح ہوگی۔
جب پہلا صور پھونکا جائے گا تب قیامت برپا ہوجائے گی۔ ہر چیز فنا اور ہر نفس ختم ہوجائے گا۔ اس کے بعد زمین و آسمان کو بدل دیا جائے گا اور آسمان کو تحریر شدہ کاغذات کی طرح لپیٹ دیا جائے گا۔ مخلوق کو اللہ تعالیٰ اسی حالت میں کردیں گے جس حالت میں پہلے تھی یعنی دنیا کی ہر چیز ختم کردی جائے۔ اللہ تعالیٰ ایسا ضرور کرے گا کیونکہ اس کا ارشاد ہے کہ یہ وعدہ ہے جسے ہم ضرور پورا کریں گے زمین کے وارث نیک اور صالح لوگ ہوں گے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) پر نازل کی گئی، کتاب زبور میں اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا…
Read the full tafseer →آسمان کا لپٹنا :
104: یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآ ئَ (وہ دن بھی یاد کرنے کے قابل ہے جس دن ہم آسمان کو لپیٹ لیں گے)
نحو : اس میں عامل لا یحزنہمؔ ہے۔ نمبر 2۔ اس میں عامل وتتلقاھم ہے۔
قراءت : تُطْوَی السَّمَآء یزید نے پڑھا ہے۔ طیّ السمائؔ سے مراد اس کے ستاروں کا مٹنا اور بےنورہونا۔ نمبر 2۔ یہ نشر کی ضد ہے جس کا معنی پھیلانا ہے یعنی اس کے ستاروں کو جمع کردیں گے اور لپیٹ لیں گے۔ یہ ساری بساط لپیٹ لی جائے گی۔ کَطَیِّ السِّجِلِّ (جیسے صحفیہ کو لپیٹتے ہیں) لِلْکُتُبِ (لکھنے کیلئے) حمزہ، علی، حفص نے اسی طرح پڑھا ہے۔ ای للمکتوبات (یعنی اس میں معانی کثیرہ وغیرہ لکھے جائیں) ۔ یعنی معنی یہ ہے مکتوبات کیلئے…
Read the full tafseer →104۔ یوم نطوی السمائ۔ ابوجعفر نے تاء (تطوی) کے ساتھ پڑھا ہے۔ دونوں کے ضمہ کے ساتھ اور واؤ کے فتحہ کے ساتھ ۔ عام قراء نے نون کے ساتھ اور دونوں کے فتحہ کے ساتھ واؤ کے کسرہ کے ساتھ، اور السمائ، منصوب ہے۔ کطی السجل للکتب۔ حمزہ کسائی اور حفص نے عاصم کے حوالے سے ، للکتب ، جمع کے صیغہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے للکتاب واحد کے صیغہ کے ساتھ پڑھا ہے۔
سجل سے کیا مراد ہے۔
سجل سے کیا مراد ہے۔ اس کے متعلق مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ سدی کا قول ہے کہ سجل اس فرشتے کا نام ہے جو بندوں کے اعمال لکھا کرتا ہے ۔ اور للکتب ، میں لام زائدہ ہے۔ کطی السجل للکتب۔ ہے یہ ، ردف لکم ، کی طرح ہے اس میں لام زائدہ…
Read the full tafseer →104:۔ تفسیر ابن حریر وغیرہ میں علی بن طلحہ کی سند سے سجل کے لفظ کے معنی خط اور دفتر کے جو بیان کیے گئے ہیں وہی معنی صحیح ہیں اس صورت میں معنی آیت کے یہ ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آسمان کو لپیٹ لے گا ‘ جس طرح کوئی کاغذ کو لپیٹ لیتا ہے۔ ابوداؤد اور نسائی میں یہ روایت ہے کہ سجل آنحضرت ﷺ کے ایک کاتب کا نام ہے اس روایت کی سند میں اکثر علمائے محدثین کو کلام ہے ‘ بعضے مفسرین نے یہ جو لکھا ہے کہ دوسرے آسمان پر ایک فرشتہ ہے جس کے پاس کراما کاتبین پیر اور جمعرات کے روز بنی آدم کے اعمال پیش کرتے ہیں 1 ؎‘ اس اس فرشتہ کا نام سجل ہے ‘ اس روایت کا پتہ صحیح تفسیروں سے اس قدر لگتا ہے کہ پہلے انسان کے منہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–106
آیت 104
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ قیامت کے روز آسمانوں کو، ان کی عظمت اور وسعت کے باوجود، لپیٹ دے گا، جس طرح کاتب ورق کو لپیٹتا ہے یہاں (السجل) سے مراد ورق ہے جس کے اندر کچھ تحریر کیا گیا ہو۔ پس آسمان کے تمہارے ستارے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ سورج اور چاند اپنی روشنی سے محروم ہو کر اپنی اپنی جگہ سے ہٹ جائیں گے۔ (کما بدانا اول خلق نعیدہ) ہم مخلوق کو دوبارہ اسی طرح پیدا کریں گے جس طرح ہم نے ان کو ابتدا میں پیدا کیا تھا۔ پس جس طرح ہم نے ان کو اس وقت پیدا کیا جب وہ کچھ بھی نہ تھے، اسی طرح ہم ان کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کریں گے۔
(وعدا علینا انا کنا فعلین) یعنی جو ہم نے وعدہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–112
ایک کھیت کے بارے میں سلیمان کا فیصلہ
قول باری ہے (وداود و سلیمان اذ یحکما ن فی الحرث اذ نفشت فیہ غنم القوم و کنا لحکمھم شاھدین ففھمنا ھا سلیمان وکلا اتینا حکماً و علماً اور اس نعمت سے ہم نے دائود و سلیمان کو سرفراز کیا۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ وہ دونوں ایک کھیت کے مقدمے میں فیصد کر رہے تھے جس میں رات کے وقت دوسرے لوگوں کی بکریاں پھیل گئی تھیں اور ہم ان کی عدالت کو دیکھ رہے تھے۔ اس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق مروزی نے روایت بیان کی، انہیں الحسن بن ابی ربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں…
Read the full tafseer →140 جس دن آسمان کی بساط کو لپیٹ دیا جائے گا : سو قیا مت کی ہولناکی کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ جس دن کہ آسمان کو لکھے ہوئے کاغذ کی طرح لپیٹ دیا جائے گا۔ سو اس سے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی عظمت شان کا کسی قدر اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور اسی مضمون سے متعلق دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہ وَالْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِیَّاتٌ بِیَمِیْنِہ سُبْحَانَہ وَتَعَالٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ } ۔ (الزمر :67) سو کتنے ظالم اور کس قدر بےانصاف ہیں وہ لوگ جو اس ذات اقدس و اعلیٰ ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–112
قیامت کا منظر، نبی ﷺ کا پیغام
تشریح : سب سے پہلے کائنات کے اختتام کا ذکر ہے کیونکہ یہ بالکل سچا اور پکا وعدہ ہے پھر اس کو دوبارہ پیدا کرنے کا وعدہ ہے۔ کائنات کے اختتام کا منظر کچھ یوں بیان کیا ہے۔ ڈاکٹر دلدار احمد اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں۔ ” اس وقت اوراق کے یہ طومار کھلے ہوئے ہیں اور اس کے تمام نقوش اور خطوط پڑھے جا رہے ہیں۔ اور ہر ایک اپنی جگہ پر قائم اور برقرار ہے۔ لیکن جب قیامت کا حکم ہوجائے گا تو یہ عظیم طومار اپنے تمام خطوط و نقوش کے ساتھ لپیٹ دیے جائیں گے، یعنی کائنات پھیل رہی ہے اور ایک خاص حد تک وسعت پا چکنے کے بعد یہ دوبارہ سکڑنا شروع ہوجائے گی (یعنی) طومار لپیٹ دیے جائیں گے۔ ( از…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–112
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
اور آخرت میں تو وہ ایماندار لوگ ہی نام پائیں گے جنہوں نے نیک کام کئے ہوں گے کہ ان کا کوئی عمل رائیگاں نہ جائے گا کہ اللہ کریم کے لکھنے والے ہر ہر عمل کو لکھ لیتے ہیں یعنی آخرت کے اجر کی بنیاد عقیدہ ہے کہ درست ہو اور صرف عقیدہ ہی نہ رہے اس کے ساتھ عمل صالح یعنی نبی (علیہ السلام) کے ارشاد کے مطابق عمل بھی ہو تو ہر چھوٹا بڑا عمل انعام اور اجر پائے گا مگر جو لوگ ایمان ہی قبول نہیں کرتے وہ عمل تو کر ہی نہیں سکتے اور پھر عذاب الہی سے تباہ ہوجاتے ہیں تو آنکھ کھلتی ہے مگر ان کے لیے پھر سے عمل کے لیے دنیا میں واپس آنا ہرگز ممکن نہیں ، یہاں تک کہ دنیا کی بساط لپیٹ دی جائے گی…
Read the full tafseer →ف 10 ۔ جیسے دوسری آیت (زکر :76) میں فرمایا : والسموات مطویات بمینہ : کہ آسمان اس کی دائیں مٹھی میں لپٹے ہوں گے۔ ایک حدیث میں بھی یہ صریحاً ثابت ہے بعض کا قول ہے کہ یہاں ” سجل “ آنحضرت ﷺ کے ایک کاتب کا نام ہے مگر یہ روایت ناقابل اعتبار ہے۔ (ابن کثیر)
11 ۔ حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ” تم لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور ﷺ ننگے پائوں، ننگے بدن اور غیر محتون جمع کئے جائو گے “ (قرطبی بحوالہ مسلم)
Read the full tafseer →(21:104) نطوی۔ مضارع جمع متکلم طی مصدر (باب ضرب) ہم لپیٹ دیں گے۔ طوی مادہ طویت الشیء طیا۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو لپیٹ دینا اس طرح جیسا کہ کپڑے کو اس کی درز پر لپیٹ دیا جاتا ہے (درز کپڑے کی سیون) یعنی یاد کرو وہ دن جب ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ لیں گے جس طرح لکھے ہوئے کاغذوں کا طومار لپیٹ دیا جاتا ہے۔ (طومار جمع طوامیر کاغذ وغیرہ کا سکرول ۔ مٹھا) اور جگہ قرآن مجید میں ہے والسموت مطویات بیمینہ (39:67) اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوں گے۔
کطی۔ ک تشبیہ کے لئے ہے ۔ طی۔ طوی یطوی (ضرب) لپیٹنا۔ کا مصدر ہے۔ السجل۔ کاغذ کا طومار (سکرول مٹھا) صحیفہ۔ محضر۔ کطی السجل کاغذ کے طومار کی طرح لپیٹنا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–106
لغات القرآن آیت نمبر 104 تا 106
نطوی ہم لپیٹ دیں گے۔ طی لپیٹ دینا۔ ال سجل لکھے ہوئے کاغذ کا بنڈل۔ بدانا ہم نے ابتدا کی تھی۔ نعید ہم لوٹا دیں گے۔ یرت وارث ہوگا۔ ، مالک ہوگا۔ بلغ پہنچا دینا۔
تشریح : آیت نمبر 104 تا 106
گزشتہ آیات میں قیامت کے ہولناک دن کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ ان آیات میں بھی اسی مضمون کو بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہے کہ قیامت کے دن ہم اس آسمان کو جو دنیا والوں کو بہت بڑا نظر آتا ہے اس طرح لپیٹ کر رکھ دیں گے جس طرح لکھے ہوئے کاغذوں کو لپیٹ دیا جاتا ہے اور جس طرح اللہ نے پہلی مرتبہ انسان کو پیدا کیا تھا اسی طرح اس کو دوبارہ تخلیق فرما دیں گے یہ اللہ کی قدرت سے باہر نہیں ہے بلکہ اس کی…
Read the full tafseer →نامہ اعمال لکھنے والے فرشتہ کا نام۔
(ف 1) ان آیتوں میں ارشاد ہوتا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آسمان کو لپیٹ لیوے گا جس طرح سجل فرشتہ یعنی کاتب مکتوبوں (نامہ اعمال ) کو لپیٹ دیتا ہے سجل ایک فرشتہ کا نام ہے انسان کے منہ سے جو کچھ نکلتا ہے اس کو کراما کاتبین لکھ لیتے ہیں۔ پھر جمعرات کے روز اس میں سے آسمان پر صرف وہ باتیں چھانٹ لی جاتی ہیں جو ثواب یا عذاب کے قابل ہیں، غرض اس کام کا دفتر جو آسمان پر ہے اس کے اہل دفتر میں سجل کا نام کافرشتہ ہے جو کہ دوسرے آسمان پر ہے آگے آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اب بچہ ننگے پاؤں، بدن بغیر ختنہ کیا ہواماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے قیامت کے دن سب لوگ قبروں سے اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–104
[60] ظاہر ہے کہ اس حکم سے وہ تمام ہستیاں مستثنیٰ رہیں گی جو بجائے خود مقبول ہیں اور جن کی رضا کو ان کی معبودیت میں قطعی دخل نہیں، مثلاً ملائکہ، اولیاء کرام اور بزرگان دین۔ معبودوں کا اپنے پرستاروں کے ساتھ داخل جہنم ہونا پرستاروں کے لئے اور زیادہ تکلیف و حسرت کا باعث ہوگا۔
Read the full tafseer →(ف 2) یعنی یہ تمام واقعات قیامت آنے کے بعد رونما ہوں گے ، اس وقت آسمان کی وسعتوں کو یوں سمیٹ لیا جائے گا ، جس طرح کاغذوں کے طو مار کو لپیٹ لیا جاتا ہے ۔
مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے اتنے بڑے آسمان کو چشم زدن میں سمیٹ لینا اتنا ہی سہل ہے ، جتنا کہ خطوط کے کاغذات کو لپیٹ لینا لکھنے والے کے لئے سہل ہوتا ہے یعنی اللہ کے لئے یہ چیز جسے تم مشکل اور محال قرار دے رہے ہو بالکل آسان ہے ۔
حل لغات :
زفیر : سانس کو پہلے الٹا کھینچ کر پھر بلند کرنا ، اسی لئے گدھے کی پہلی آواز کو زفیر اور دوسری کو شہیق کہتے ہیں اور سختی ومصبیت کو بھی زفر کہتے ہیں ،
حسیسھا : نرم آواز ۔
السجل : ایک فرشتے کا نام ہے یا کاغذ…
Read the full tafseer →(104) اور وہ دن قابل ذکر ہے جس دن ہم آسمانوں کو اس طرح لپیٹ لیں گے جس طرح لکھے ہوئے مضمون کا کاغذ لپیٹ لیا جاتا ہے جس طرح ہم نے اول مرتبہ مخلوقات کو پیدا کرنے کی ابتداء کی تھی اسی طرح ہم اس کا دوبارہ اعادہ کریں گے یہ ہمارے ذمہ وعدہ ہے ہم اس کور ضرور کرنے والے ہیں۔
یعنی جس طرح کسی لمبے اور طویل کاغذ کی بتی بنالیتے ہیں جیسا کہ قبالہ نویس کیا کرتے تھے اسی طرح حضرت حق جل مجدہ آسمانوں کو لپیٹ لیں گے اور یہ نضخہ اولیٰ کے وقت ہوگا آگے مخلوق کے دوبارہ پیدا کرنے کا ذکر ہے کہ نفخہ ثانیہ کے وقت سب کو دوبارہ زندہ کرلیا جائے گا جس طرح پہلی مرتبہ آفرینش کی ابتداء ہوئی تھی اسی طرح پھر اعادہ کیا جائے گا۔
آگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
ف 3۔ کہ قیامت آوے گی اور نیک لوگوں کو جزاء نیک ملے گی، پس یہ تعظیم اور بشارت ان کے لئے زیادہ مسرت کا موجب ہوجاوے گی۔
Read the full tafseer →دنیوی نظام کے ختم کردینے کے بعد ایک نیا نظام لایا جائے گا جو آخرت کا نظام ہوگا :
104۔ زمین و آسمان پر اللہ تعالیٰ کا کامل اقتدار اور تصرف کی تصویر کھینچنے کے لئے یہ استعارہ استعمال کیا گیا ہے کہ اللہ جب چاہے گا تو ان کو اس طرح لپیٹ دے گا جیسے بہی کھاتوں کے طومار کام بند کرتے وقت لپیٹ لئے جاتے ہیں اور اس استعارہ کو دوسری جگہ اس طرح استعمال کیا گیا کہ :
ّ (آیت) ” والارض جمیعا قبضتہ یوم القیمۃ والسموت مطویت بیمینہ “۔
” قیامت کے روز پوری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے دست راست میں لپٹے ہوں گے ۔ “ (الزمر 39 : 67)
اس طرح اس جگہ ہاتھ میں لپٹے ہونے کا استعارہ استعمال کیا گیا ہے جس طرح ایک…
Read the full tafseer →يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ (The Day when We roll up the sky like a scroll rolls up the writings. - 21:104.) According to Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ the word سِّجِلِّ means a sheet of a book. ` Ali Ibn Abi Talhah, 'Aufi’, Mujahid, Qatadah, Ibn Jarir and Ibn Kathir have all adopted the same meaning of the word. The word کُتُب in the verse is used for المَکتُوب that is something written. So the meaning of the verse is that the sky will be rolled up like a scroll with its writings. (Ibn Kathir)
Sahih al-Bukhari contains a story on the authority of Sayyidna ` Abdullah Ibn…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–105
98. That is, the time of mustering and going before Allah will be very dreadful for the common people but the righteous people will have full peace of mind because everything will be happening according to their expectations. Their faith and the righteous deeds they did in the world, will help console them by the grace of Allah and, instead of grief and sorrow, they will be filled with the hope that they are going to get their promised rewards.
Read the full tafseer →