Al-Anbiyaa 21:103

Al-Anbiyaa · from ayah 103

21:103

لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَتَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ ؕ— هٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ ۟لَا يَحۡزُنُهُمُ الۡـفَزَعُ الۡاَكۡبَرُ وَتَتَلَقّٰٮهُمُ الۡمَلٰٓئِكَةُ ؕ هٰذَا يَوۡمُكُمُ الَّذِىۡ كُنۡـتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ

ان کو (اس دن کا) بڑا بھاری خوف غمگین نہیں کرے گا۔ اور فرشتے ان کو لینے آئیں گے (اور کہیں گے کہ) یہی وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

They will not be grieved by the greatest terror, and the angels will meet them, [saying], "This is your Day which you have been promised" -

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 7 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anbiyaa

All translations of 21:103

وہ انتہائی گھبراہٹ کا وقت اُن کو ذرا پریشان نہ کرے گا، اور ملائکہ بڑھ کر اُن کو ہاتھوں ہاتھ لیں گے کہ "یہ تمہارا وہی دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ان کو (اس دن کا) بڑا بھاری خوف غمگین نہیں کرے گا۔ اور فرشتے ان کو لینے آئیں گے (اور کہیں گے کہ) یہی وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه بڑی گھبراہٹ (بھی) انہیں غمگین نہ کر سکے گی اور فرشتے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیں گے، کہ یہی تمہارا وه دن ہے جس کا تم وعده دیئے جاتے رہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ان کو وہ (قیامت کی) سب سے بڑی پریشانی غمگین نہیں کرے گی، اور فرشتے ان کا (یہ کہہ کر) استقبال کریں گے (کہ) یہ تمہارا وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

انہیں غم میں نہ ڈالے گی وہ سب سے بڑی گھبراہٹ اور فرشتے ان کی پیشوائی کو آئیں گے کہ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(روزِ قیامت کی) سب سے بڑی ہولناکی (بھی) انہیں رنجیدہ نہیں کرے گی اور فرشتے ان کا استقبال کریں گے (اور کہیں گے:) یہ تمہارا (ہی) دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھیں سب سے بڑی گھبراہٹ غمگین نہ کرے گی اور انھیں (آگے سے) لینے کے لیے فرشتے آئیں گے۔ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تم وعدہ دیے جاتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ انتہائی گھبراہٹ کا وقت انھیں غمگین نہیں کرے گا اور فرشتے آگے بڑھ کر ان سے ملیں گے (اور کہیں گے) یہی وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا تھا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان کو اس دن کی بڑی گھبراہٹ کا غم لاحق نہ ہوگا اور فرشتے ان کا خیر مقدم کریں گے، کہیں گے یہ ہے آپ لوگوں کا وہ دن جس کا آپ لوگوں سے وعدہ کیا جا رہا تھا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان کو قیام کی اس بری گھبراہٹ سے بھی کوئی پریشانی لاحق نہ ہوگی فرشتے جنت کے دروازوں پر آگے بڑھ بڑھ کر ان کا استقبال کر رہے ہوں گے اور ان سے کہہ رہے ہوں گے کہ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا تھا

— مولانا اسحاق مدنی

انہیں (یہ) بڑی گھبراہٹ (ذرا بھی) غم میں نہ ڈالے گی اور ان کا تو استقبال فرشتے کریں گے یہ ہے آپ کا وہ دن جس کا آپ سے وعدہ کیا جاتا تھا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ بڑی گھبراہٹ انہیں پریشان نہیں کرے گی اور فرشتے ان سے ملاقاتیں کریں گے (یہ کہتے ہوئے کہ) یہ ہے آپ لوگوں کا وہ دن جس کا آپ سے وعدہ کیا گیا تھا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس بڑی گھبراہٹ میں ان کو غم نہ ہوگا اور فرشتے ان کو لینے آئیں گے اور کہیں گے کہ ”یہی وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The Hour of the Great Terror shall not grieve them, and the angels shall receive them saying: "This is your Day which you had been promised."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They shall not be grieved by the Biggest Panic, and the angels shall receive them (saying), :This is your day that you had been promised

— Muhammad Taqi Usmani

They shall not be grieved by the Biggest Panic, and the angels shall receive them (saying), :This is your day that you had been promised

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The greatest terror will not grieve them, and the angels will meet them, (with the greeting:) "This is your Day which you were promised."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The Supreme Horror will not grieve them, and the angels will welcome them, (saying): This is your Day which ye were promised;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They will not be grieved by the greatest terror, and the angels will meet them, [saying], "This is your Day which you have been promised" -

— Saheeh International

They will not be affected by the great terror. The angels will come to them with this glad news: "This is your day which was promised to you."

— Muhammad Sarwar

The great fearful event shall not grieve them, and the angels shall meet them: This is your day which you were promised.

— Muhammad Habib Shakir

The Great Terror shall grieve them not, and the angels will meet them: this is Your Day which ye were ever promised-

— Abdul Majid Daryabadi

The Great Terror will bring them no grief: but the angels will meet them (with mutual greetings): "This is your Day,- (the Day) that ye were promised."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 21:103

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 98–103

جہنم کی ہولناکیاں بت پرستوں سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اور تمہارے بت جہنم کی آگ کی لکڑیاں بنوگے جیسے فرمان ہے آیت (وقودہا الناس والحجارۃ) اس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر حبشی زبان میں حطب کو حصب کہتے ہیں یعنی لکڑیاں۔ بلکہ ایک قرأت میں بجائے حصب کے حطب ہے۔ تم سب عابد و معبود جہنمی ہو اور وہ بھی ہمیشہ کے لئے۔ اگر یہ سچے معبود ہوتے کیوں آگ میں جلتے ؟ یہاں تو پرستار اور پرستش کئے جانے والے سب ابدی طور پر دوزخی ہوگئے وہ الٹی سانس میں چیخیں گے جیسے فرمان ہے آیت (فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّشَهِيْقٌ01006ۙ) 11۔ ھود :106) ، وہ سیدھی الٹی سانسوں سے چیخیں گے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 103–105

سورة الْاَنْبِیَآء 98 یعنی روز محشر اور خدا کے حضور پیشی کا وقت، جو عام لوگوں کے لیے انتہائی گھبراہٹ اور پریشانی کا وقت ہوگا، اس وقت نیک لوگوں پر ایک اطمینان کی کیفیت طاری رہے گی۔ اس لیے کہ سب کچھ ان کی توقعات کے مطابق ہو رہا ہوگا۔ ایمان و عمل صالح کی جو پونجی لیے ہوئے وہ دنیا سے رخصت ہوئے تھے وہ اس وقت خدا کے فضل سے ان کی ڈھارس بندھائے گی اور خوف و حزن کے بجائے ان کے دلوں میں یہ امید پیدا کرے گی کہ عنقریب وہ اپنی سعی کے نتائج خیر سے ہم کنار ہونے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ ، حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ فزع اکبر سے مراد صور کا نفخہ ثانیہ ہے جس سے سب مردے زندہ ہو کر حساب کے لئے کھڑے ہوں گے بعض حضرات نے نفخہ اولے ٰ کو فزع اکبر قرار دیا ہے۔ ابن عربی کا قول یہ ہے کہ نفخات تین ہوں گے پہلا نفخہ فزع ہوگا جس سے ساری دنیا کے لوگ گھبرا اٹھیں گے اسی کو یہاں فزع اکبر کہا گیا ہے۔ دوسرا نفخہ نفخہ صعق ہوگا جس سے سب مر جائیں گے اور فنا ہوجائیں گے، تیسرا نفخہ نفخہ بعث ہوگا جس سے سب مردے زندہ ہوجائیں گے اس کی شہادت میں مسند ابو یعلی اور بیہقی، عبد بن حمید، ابو الشیخ، ابن جریر طبری وغیرہ سے حضرت ابوہریرہ کی ایک حدیث نقل کی گئی ہے (مظھری) واللہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ابدی بادشاہی کی بشارت فزع اکبر سے مراد وہ عظیم ہلچل اور گھبراہٹ ہے جو نفخ صدور کے بعد تمامک ائنات میں برپا ہوگی اور جس کی ہولناک تصویر قرآن نے جگہ جگہ کھینچی ہے۔ خصوصاً آخری گروپ کی سورتوں میں تو قرآن کے اعجاز بیان نے اس طرح اس کو مصور کردیا ہے کہ انسان دیدہ بنیا رکھتا ہو تو اس کو آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے۔ اوپر آیت 97 اسی کی طرف فاذا ھی شاخمۃ ابصار الذین کفروا کے الفاظ سے اشارہ کر رہی ہے۔ فرمایا کہ یہ عظیم ہلچل کا دن ہمارے باایمان بندوں کے لئے ذرا بھی اضطراب کا باعث نہیں بنے گا بلکہ اس دن ہمارے رفشیت اہلاً و سہلاً اور مرحبا کے نعروں سے ان کا استقبال کریں گے اور ان کو بشارت دیں گے کہ ابدی کا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

13۔ 1 بڑی گھبراہٹ سے موت یا صور اسرافیل مراد ہے یا وہ لمحہ جب دوزخ اور جنت کے درمیان موت کو ذبح کردیا جائے گا۔ دوسری بات یعنی صور اسرافیل اور قیام قیامت سیاق کے زیادہ قریب ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 98–104

46: پتھر کے جن بتوں کی یہ مشرکین عبادت کرتے تھے ان کو بھی سزا کے طور پر نہیں بلکہ اس لئے جہنم میں ڈالا جائے گا تاکہ اس بات کا عملی مظاہرہ کیا جائے کہ جن بتوں کو تم خدا سمجھتے تھے وہ آخر کار کتنے بےبس ثابت ہوئے۔ 46:

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

لایحزنھم الفزع الاکبر و تتلقھم الملئکۃ ھذا یومکم الذی کنتم توعدون (21 : 103) ” وہ انتہائی گھبراہٹ کا وقت ان کو پریشان نہ کرے گا اور ملائکہ بڑھ کر ان کو ہاتھوں میں لیں گے کہ یہ تمہارا وہی دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ “ ان منظر کو اس کائنات کے خاتمے کے منظر پر ختم کیا جاتا ہے ، یہ کائنات اس دن کی طرف لوٹتی ہے۔ اس دن کے خوفناک منظر میں جس طرح تمام لوگوں کے دل اس خوف کی گرفت میں ہیں اس طرح پوری کائنات بھی اس خوف و ہراس کی گرفت میں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی اس دن جب خلقت کو سخت گھبراہٹ ہوگی اللہ تعالیٰ ان کو رنج و غم سے محفوظ رکھے گا۔ 9 یعنی قبروں سے اٹھنے یا جنت میں داخل ہونے کے وقت فرشتے ان کا استقبال کریں گے اور کہیں گے کہ جس دائمی مسرت و راحت کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا آج اس کے پورا ہونے کا وقت آگیا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 103 لَا یَحْزُنُہُمُ الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ ” قیامت کی صورت حال بہت ہی بھیا نک ہوگی۔ اگلی سورت سورة الح ج کے آغاز میں قیامت کی ہولناک کیفیت کا ذکر یوں کیا گیا ہے : یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمْج اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ ”اے لوگو ! اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو۔ قیامت کا زلزلہ یقیناً بہت بڑی چیز ہے“۔ لیکن آیت زیر نظر میں یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ اللہ کے نیک بندوں کو اس سے کوئی تکلیف اور پریشانی نہیں ہوگی۔ ”فزع اکبر“ سے مراد یہاں صرف قیامت کے دن کی سختیاں ہی نہیں بلکہ زمانۂ قرب قیامت کی سختیاں بھی ہیں۔ اس صورت حال کا ذکر احادیث میں کافی تفصیل سے ملتا ہے۔ اِن…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

91 قیامت کے دن گھبراہٹوں سے وہ قطعاً پریشان حال نہ ہوں گے بلکہ انھیں مکمل اطمینان میسر ہوگا۔ اس لئے یہ سب کچھ ان کے عقائد اور ان کی توقعات کے مطابق ہو رہا ہوگا۔ فرشتے آکر انھیں سلام کریں گے اور جنت میں داخل کرنے کے لئے خود ان کے استقبال کو آئیں گے اور کہیں گے کہ جس دائمی راحت و مسرت کا دنیا میں تم سے وعدہ کیا جاتا رہا۔ آج اس کے پورا ہونے کا وقت آگیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

138۔ یہ وہی استقبال کرنے والے فرشتے مومنین سے کہیں گے۔ دہشت اور ہول کا وہ انتہائی وقت یقیناً ہوگا لیکن اہل ایمان کو دہشت کیوں ہونے لگی۔ انہیں تو خواب موت سے جاگتے ہی تسکین، تشفی، دلدہی کے لیے فرشتے مل جائیں گے، جو اعزاز واکرام سے انہیں ہاتھوں ہاتھوں لیں گے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہاں سے تائید ہوتی ہے اس مقولہ کی کہ اہل اللہ کو فرح دائم میسر رہتا ہے اور عظمت کبریا سے جو خوف ان کے دلوں پر طاری رہتا ہے وہ اس کے منافی نہیں بلکہ وہ تو عین مقتضاعبدیت کا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 94–112

آیت نمبر 94 تا 112 ترجمہ : تو جو شخص نیک عمل کرے اور وہ مومن بھی ہو تو اس کی کوشش کی ناقدری نہیں کی جائے گی یعنی انکار نہیں کیا جائے گا اور ہم اس کی سعی کو لکھ لیتے ہیں یعنی ہم فرشتوں کو اس کے لکھنے کا حکم دیتے ہیں سو ہم اس کو اس کی سعی کا بدلہ دیں گے اور حرام ہے اس بستی پر یعنی بستی والوں پر جن کو ہم نے ہلاک کردیا ہے یہ کہ وہ لوٹ آئیں یعنی ان کا دنیا کا طرف لوٹ کر آنا ممتنع ہے اور لا یرجعون میں لا زائدہ ہے، یہاں تک کہ یہ امتناع رجوع کی گایت ہے کھولدئیے جائیں یا جوج اور ماجوج فتحت تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے، یأجوج مأجوج ہمزہ کے ساتھ اور ترک ہمزہ کے ساتھ دو قبیلوں کے دو عجمی نام ہیں اور ان سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لا یحزنہم الفزع الاخبر ان کو بڑی گھبراہٹ غمگین نہ بنائے گی۔ بغوی نے حضرت ابن عباس ؓ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ فز اکبر سے مراد صور کا اخیر نفخہ (دوبارہ صور پھونکنا) ہے کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے وَنُفِخَ فِی الصُّوْر فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ ۔ میں کہتا ہوں کہ حضرت ابن عباس ؓ کی نفخۂ اخیرہ سے مراد وہ نفخہ ہے جو دنیا کے اختتام پر ہوگا یعنی نفخۂ اولیٰ (جس سے دنیا کا خاتمہ ہوجائے گا۔ مترجم) بعض نے کہا نفخۂ بےہوشی مراد ہے مگر میرے قول میں اور اس قول میں تضاد نہیں ہے کیونکہ پہلے صور ہی کی آواز سے سب گھبرا جائیں گے (بےہوش ہوجائیں گے۔ مترجم) مرجائیں گے۔ قرطبی نے اسی کو صحیح کہا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(103) اور جب دوزخ بھری جائے گی اور موت کو مینڈھے کی شکل میں جنت اور دوزخ کے درمیان ذبح کیا جائے گا یہ بھی ان کو غم میں نہ ڈالے گی اور جنت کے دروازے پر ان حضرات کا فرشتے بشارت و خوشخبری دینے کے ساتھ استقبال کریں گے اور کہیں گے یہ ہے وہ تمہارا دن جس کا دنیا میں تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ (آیت) ”۔ انکم وما تعبدون“۔ سے لے کر یہاں تک یہ آیت عبداللہ بن زبعری کے بارے میں نازل ہوئی اس نے جو رسول اکرم ﷺ سے بتوں کے بارے میں جھگڑا کیا تھا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ : یہ چوتھی نعمت ہے کہ پہلے کوئی گھبراہٹ ہو تو ہو، آگ سے نجات اور جنت میں داخلے کے بعد وہ ہر گھبراہٹ سے محفوظ رہیں گے، حتیٰ کہ سب سے بڑی گھبراہٹ بھی انھیں غمگین نہیں کرے گی، پھر چھوٹی موٹی گھبراہٹوں کی کیا مجال ہے کہ انھیں غم زدہ کرسکیں ؟ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ : ابن عطیہ ؓ نے فرمایا : ”یہ نعمت جنت میں داخلے کے بعد حاصل ہوگی۔“ کیونکہ صحیح احادیث میں رسول اللہ ﷺ کی شفاعت کے ساتھ بہت سے اہل ایمان کا جہنم سے نکلنا اور جنت میں جانا ثابت ہے، اس لیے ”الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ“ سے مراد وہ وقت معلوم ہوتا ہے جس کا ذکر ابوسعید خدری ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے کیا ہے کہ آپ ﷺ نے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لا یحزنھم الفزع الاکبر ابو جعفر اور ابن محیصن نے یحزنھم یاء کے ضمہ اور زاء کے کسرہ کے ساتھ پڑا ہے۔ باقی قراء نے یاء کے فتحہ اور زائے کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یزیدی نے کہا : حزنہ لغت قریش ہے اور احزنہ لغت تمیم ہے دونوں طرح پڑھا گیا ہے۔ الفزع الاکبر سے مراد قیامت کے دن کی ہولناکیاں ہیں۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ حسن نے کہا : یہ وہ وقت ہے جس میں بندوں کو آگ کی طرف جانے کا حکم دیا جائے گا۔ ابن جریج اور سعید بن جبیر اور ضحاک نے کہا : یہ وہ وقت ہے جب آگ کو ان کے اوپر بند کردیا جائے گا اور موت کو جنت اور دوزخ کے درمیان ذبح کردیا جائے گا۔ ذوالنون مصری نے کہا : یہ قطعیت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 98–104

1:۔ فریابی، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم، طبرانی، ابن مردویہ، ابوداود نے ناسخ میں حاکم نے (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) کئی طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ (آیت) ” انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم، انتم لھا وردون “۔ نازل ہوئی تو مشرکین نے کہا کہ فرشتے عیسیٰ (علیہ السلام) اور عزیر (علیہ السلام) کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے کیا یہ بھی دوزخ میں جائیں گے تو پھر یہ (آیت) ان الذین سبقت لھم منا الحسنی اولئک عنھا مبعدون “ نازل ہوئی کہ جس سے مراد ہیں عیسیٰ (علیہ السلام) ، عزیر اور فرشتے (کہ ان کو جہنم سے دور رکھا جائے گا ( 2:۔ ابن مردویہ اور ضیاء نے مختارہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ لَا يَحْزُنُهُمُ : غمگین نہیں کرے گی ان کو ] [ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ : وہ بڑی دہشت ] [ وَتَتَلَقّٰىهُمُ : اور استقبال کریں گے ان کا ] [ الْمَلٰۗىِٕكَةُ : فرشتے ] [ ھٰذَا : (اور کہیں گے) یہ ] [ يَوْمُكُمُ الَّذِي : تم لوگوں کا وہ دن ہے جس کا ] [ كُنْتم تُوْعَدُوْنَ : تم لوگوں کو وعدہ دیا گیا تھا ز ع [ فَزَعًا : (س) دہشت زدہ ہونا۔ گھبرانا۔ وَیَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ (اور جس دن پھونکا جائے گا صور میں تو دہشت زدہ ہوجائیں گے وہ جو آسمانوں میں ہیں اور وہ جو زمین میں ہیں۔ ) 27:87 فَزَعٌ اسم ذات بھی ہے۔ دہشت۔ گھبراہٹ۔ زیر مطالعہ آیت۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 101–103

جن کے بارے میں بھلائی کا فیصلہ ہوچکا وہ دوزخ سے دور رہیں گے جب آیت (اِنَّکُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ) (الایۃ) نازل ہوئی تو عبداللہ بن الزبعریٰ نے اعتراض کیا (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوا تھا) کہ پھر تو عیسیٰ اور عزیر اور فرشتے سب یہ دوزخ میں جائیں گے کیونکہ ان کی بھی عبادت کی جاتی رہی ہے۔ اس پر آئندہ آیت کریمہ (اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَھُمْ مِّنَّا الْحُسْنآی اولٰٓءِکَ عَنْھَامُبْعَدُوْنَ ) نازل ہوئی (بلاشبہ جن کے لیے پہلے ہی ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ ہوچکا ہے وہ جہنم سے دور رکھے جائیں گے (لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَھَا وَ ھُمْ فِیْ مَا اشْتَھَتْ اَنْفُسُھُمْ خٰلِدُوْنَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 95–104

بیان قرب قیامت و خروج یا جوج ماجوج وفناء عالم و بیان ذلت و خواری اہل غفلت وبیان عزت و کرامت اہل سعادت قال اللہ تعالیٰ وحرم علی قریۃ اہلکنھا انھم لا یرجعون .... الیٰ .... انا کنا فعلین۔ (ربط) گزشتہ آیات میں توحید اور رسالت کا بیان تھا اب آگے معاد اور قرب قیامت کو بیان کرتے ہیں کہ اس دنیا کا ایک وقت معین ہے اس کے بعد فنا کردی جائیگی اور اس فنا کی ابتدائی علامت خروج یاجوج و ماجوج ہے اس کے بعد وہ وعدہ بہت قریب آلگے گا۔ منجملہ علامات قیامت حضرت عیسیٰ علیہا لسلام کا آمان سے نازل ہونا اور دجال کو قتل کرنا ہے۔ دجال کے قتل ہوجانے کے بعد یاجوج ماجوج کا خروج ہوگا جن کی تعداد کی کوئی حد نہیں۔ فی الحال یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

77:۔ ” لَا یَحْزُنُھُمُ الْفَزَعُ الخ “ نار جہنم سے ان کی نجات کا اعلان کرنے کے بعد فرمایا۔ نفخہ ثانیہ سے لے کر دخول جنت تک وہ ہر قسم کے خوف وہراس اور بڑی سے بڑی گھبراہٹ سے بھی محفوظ رہیں گے۔ بیان لنجاتھم من الافزاع بالکلیۃ بعد نجاتھم من النار لانھم اذا لم یحزنھم اکبر الافزاع لم یحزنھم ماعداہ بالضرورۃ کذا قیل (روح ج 7 ص 99) ۔ ” اَلْفَزَعُ الْاَکْبَرُ “ سے نفخہ ثانیہ یا تمام اہوال قیامت مراد ہیں۔ 78:۔ ” تَتَلَقّٰھُمُ الْمَلٰئِکةُ الخ “ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں جب وہ قبروں سے اٹھیں گے اس وقت فرشتے ان کا استقبال کریں گے اور ان سے کہیں گے یہی وہ دن ہے جس کی آمد کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا یا جنت…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 94–104

ربط آیات : اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کیا ہے۔ ان کے مصائب و تکالیف ، ان کے طریقہ تبلیغ ، ان کی مناجات اور عبادت اور ان کے صبر پر روشنی ڈالی ہے۔ اور آئندہ آنے والوں کے لئے انہیں نمونہ بنایا ہے۔ آخر میں حضرت مریم ؓ اور مسیح (علیہ السلام) کا ذکر بھی کیا ہے اور پھر ایک اصولی بات یہ بیان فرمائی ہے کہ تمام انبیاء کی ملت اور دین ایک ہی رہا ہے۔ فرمایا میں تمہارا پروردگار ہوں ، لہٰذا میری ہی عبادت کرو۔ مگر بعد میں آنے والے لوگوں نے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے اور مختلف فرقوں میں بٹ گئے۔ بعض نے عقائد کو خراب کرلیا اور کفر وشرک میں مبتلا ہوگئے۔ فرمایا سب نے ہماری…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَا يَحْزُنُہُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَتَتَلَقّٰىہُمُ الْمَلٰۗىِٕكَۃُ۝ 0ۭ ھٰذَا يَوْمُكُمُ الَّذِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ۝ 103 حزن الحُزْن والحَزَن : خشونة في الأرض وخشونة في النفس لما يحصل فيه من الغمّ ، ويضادّه الفرح، ولاعتبار الخشونة بالغم قيل : خشّنت بصدره : إذا حزنته، يقال : حَزِنَ يَحْزَنُ ، وحَزَنْتُهُ وأَحْزَنْتُهُ قال عزّ وجلّ : لِكَيْلا تَحْزَنُوا عَلى ما فاتَكُمْ [ آل عمران/ 153] ( ح ز ن ) الحزن والحزن کے معنی زمین کی سختی کے ہیں ۔ نیز غم کی وجہ سے جو بیقراری سے طبیعت کے اندر پیدا ہوجاتی ہے اسے بھی حزن یا حزن کہا جاتا ہے اس کی ضد فوح ہے اور غم میں چونکہ خشونت کے معنی معتبر ہوتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 94–104

جس کے بعد بطور معیار کے فرماتا ہے فمن یعمل من الصلحت کہ جو کوئی ایمان لائے گا اور پھر نیک کام کرے گا خواہ کوئی ہو اس کی کوشش کا قطعاً بدلہ ہم دیں گے پھر فرماتا ہے و حرام علی قریہ حرام خبر ہے اس کا متبداء یا انہم لایرجعون ہے یا کچھ اور۔ اول صورت میں بعض علمائے نے لاکو زائد نہیں مانا ہے تب یہ معنی ہوں گے کہ ان کا عدم رجوع حرام یعنی ممتنع ہے تب رجوع کرنا ان پر واجب یعنی ضرور ہے اور آخرت کی طرف اھلکناھا ‘ اکثر مفسرین لاکو زائد کہتے ہیں تب یہ معنی کہ ان پر رجوع کرنا دنیا میں باردگر آنا حرام کردیا ہے یا یہ کہ ان کی تقدیر میں شرک و معاصی سے باز آنا حرام تھا اس لیے وہ غارت ہوئے۔ جمہور کا قول بہت ٹھیک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لَا یَحْزُنُھُمُ الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ وَ تَتَلَقّٰھُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ط ھٰذَا یَوْمُکُمُ الَّذِیْ کُنْـتُمْ تُوْعَدُوْنَ ۔ (الانبیاء : 103) (اس دن ان کو بڑی گھبراہٹ کا غم لاحق نہ ہوگا اور فرشتے ان کا خیرمقدم کریں گے (کہیں گے) یہ ہے آپ کا وہ دن جس کا آپ لوگوں سے وعدہ کیا گیا تھا۔ ) فزع اکبر سے کیا مراد ہے ؟ حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) نے فرمایا کہ فزع اکبر سے مراد صور کا نفخہ ثانیہ ہے جس سے سب مردے زندہ ہو کر انصاف کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے بعض حضرات نے نفحہ اولیٰ کو فزع اکبر قرار دیا ہے۔ ابن عربی کا قول یہ ہے کہ نفخہ تین ہوں گے۔ پہلا نفخہ، نفخہ فزع ہوگا جس سے ساری دنیا کے لوگ گھبرا اٹھیں گے،…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 101–103

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کے مقابلے میں نیک لوگوں کا صلہ اور انعام۔ جن لوگوں کی فطرت اور کوشش کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے ان کے نصیب میں خیر اور نیکی رکھ دی ہے۔ وہ لوگ جہنم سے کوسوں دور رکھے جائیں گے۔ اس قدر جہنم سے دور اور محفوظ ہوں گے کہ نہ وہ جہنم کی آہٹ سنیں گے اور نہ جہنم کی بدبو ان تک پہنچ پائے گی۔ انھیں جنت میں وہ سب کچھ دیا جائے گا جس کی دل میں چاہت کریں گے۔ انھیں قیامت کی ہولناکیوں اور گھبراہٹ کے بڑے بڑے مواقع پر کوئی غم اور پریشانی نہیں ہوگی۔ ہر موقعہ اور مقام پر ملائکہ انھیں سلام کریں گے اور کہیں گے یہ ہے وہ اجر و انعام کا دن جس کا رب کریم نے تمہارے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ قیامت کے دن…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

103: لَایَحْزُنُھُمُ الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ (ان کو بڑی گھبراہٹ غمگین نہ بنائے گی) مراد نفخہ اخیرہ ہے۔ وَتَتَلَقّٰھُمُ (اور ان کو ملیں گے) انکا استقبال کریں گے۔ الْمَلٰٓئِکَۃُ (فرشتے) جو جنت کے دروازوں پر ان کو مبارک بادیاں دیں گے اور کہیں گے۔ ھٰذَا یوْمُکُمُ الَّذِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ (یہ تمہارا وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ لیا گیا) یہ تمہارے اس ثواب کا وقت ہے جس کا تمہارے ساتھ تمہارے رب نے دنیا میں وعدہ فرمایا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

103۔ لایحزنھم الفزع الاکبر۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ فزع اکبر سے مراد صور کا آخری نفخہ ہے کیوں کہ اللہ نے فرمایا ونفخ فی الصور ففزع من فی السماوات ومن فی الارض۔ حسن کا قول ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بندے کو جہنم میں داخلے کا حکم دیا جائے گا، وہ وقت اس کے لیے فزع اکبر ہوگا۔ ابن جریج نے اس کا معنی بیان کیا کہ جب موت کو ایک مینڈھے کی شکل میں لایاجائے گا، اور جنتیوں کو آواز دی جائے گی کہ تم جنت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہو، تمہیں کبھی موت نہیں آئے گی اور اے دوزخ والو، تم اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہو تمہیں اس میں کبھی مرنا نہیں ہوگا۔ سعید بن جبیر اور ضحاک کا قول ہے کہ یہ وہ وقت ہوگاجب دوزخ کو اوپر سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 100–103

100۔ 103:۔ اوپر ذکر تھا کہ مشرکوں اور ان کے جھوٹے معبودوں کو ہمیشہ دوزخ میں رہنے کا حکم سنا دیا جائے گا اور قائل کرنے کے لیے ان مشرکوں سے یہ کہا جائے گا کہ دنیا میں جن تبوں کو تم اپنا معبود جانتے تھے اللہ تعالیٰ کے نزدیک اگر ان بتوں میں معبود ہونے کی صلاحیت ہوتی تو آج ان کو دوزخ کا ایندھن نہ بنایا جاتا ‘ ان آیتوں میں فرمایا ‘ دوزخ میں ہمیشہ رہنے کا حکم سن کر یہ لوگ روئیں گے چلاویں گے اور ان میں کا ہر ایک شخص اپنے اپنے عذاب کی تکلیف میں ایسا بدحواس ہوگا کہ ایک شخص دوسرے کے رونے اور چلانے کی آواز بھی نہ سنے گا 1 ؎‘ ترمذی میں ابودرداء ؓ سے اور مستدرک حاکم ‘ بیہقی کی بعث ونشور وغیرہ میں حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 98–103

آیت 98 یعنی اے وہ لوگو ! جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی عبادت کرتے ہو (حصب جھنم) تم سب جہنم کا ایندھن ہو (انتم لھا وردون) تمہیں اور تمہارے بتوں کو جہنم میں جھونکا جائے گا۔ بتوں کو جہنم میں جھونکنے میں حکمت یہ ہے۔۔۔. حالانکہ یہ پتھر ہیں، عقل و شعور نہیں رکھتے اور ان کا کوئی گناہ بھی نہیں۔۔۔. کہ ان کا کذب و افترا واضح ہوجائے جنہوں نے ان بتوں کو معبود بنا رکھا تھا اور تاکہ ان کے عذاب میں اضافہ ہو۔ اس لئے فرمایا : (لو کان ھولاء الآ ما وردوھا) ” اگر یہ واقعی معبود ہوتے تو جہنم میں کبھی داخل نہ ہوتے۔ “ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد مقدس کی مانند ہے۔ (لیبین لھم الذی یختلفون فیہ و…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 78–112

ایک کھیت کے بارے میں سلیمان کا فیصلہ قول باری ہے (وداود و سلیمان اذ یحکما ن فی الحرث اذ نفشت فیہ غنم القوم و کنا لحکمھم شاھدین ففھمنا ھا سلیمان وکلا اتینا حکماً و علماً اور اس نعمت سے ہم نے دائود و سلیمان کو سرفراز کیا۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ وہ دونوں ایک کھیت کے مقدمے میں فیصد کر رہے تھے جس میں رات کے وقت دوسرے لوگوں کی بکریاں پھیل گئی تھیں اور ہم ان کی عدالت کو دیکھ رہے تھے۔ اس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق مروزی نے روایت بیان کی، انہیں الحسن بن ابی ربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

138 اہل ایمان کے لیے فزع اکبر سے حفاظت کی بشارت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو اس فزع اکبر سے کوئی گھبراہٹ لاحق نہیں ہوگی جو وہاں سب پر چھائی ہوگی اور جو سب گھبراہٹوں سے بڑی گھبراہٹ ہوگی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَیَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ الاَّ مَنْ شَائَ اللّٰہُ } ۔ (النمل :87) ۔ سو نفخ صور کی اس ہولناک آواز سے آسمان و زمین کے سب لوگ خوف میں مبتلا ہوں گے لیکن اللہ تعالیٰ کے ایسے پاکیزہ بندے اس سے محفوظ ہوں گے۔ ( المعارف، المراغی وغیرہ ) ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ نفخ صور کے بعد جب لوگ اپنی اپنی قبروں سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 96–103

یاجوج ماجوج کا ظہور قیامت کی نشانی تشریح : قیامت کے قریب ہونے یا قیامت آنے کی دس نشانیاں رسول اکرم ﷺ نے بیان فرمائی ہیں ان میں سے ایک نشانی یا جوج و ماجوج کا دنیا میں پھیل جانا بھی ہے۔ یاجوج ماجوج کے بارے میں سورة کہف کی آیات 93 سے 98 تک میں بڑی تفصیل سے لکھا جا چکا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ ذوالقرنین ایک بڑا فاتح بادشاہ گزرا ہے جس نے دنیا کے شمالی پہاڑوں کے درمیان سیسہ پلائی دیوار اس غرض سے بنوائی تھی کہ ان کے پیچھے ایک شیطان فطرت قوم یاجوج ماجوج رہتی تھی اور وہ لوگوں کو بہت زیادہ ستاتے تھے۔ وہ اس دیوار کو ہر وقت توڑنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ قرآن میں آیا ہے کہ قیامت کے قریب وہ اس دیوار کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 94–112

(رکوع نمبر 7) اسرارومعارف اور آخرت میں تو وہ ایماندار لوگ ہی نام پائیں گے جنہوں نے نیک کام کئے ہوں گے کہ ان کا کوئی عمل رائیگاں نہ جائے گا کہ اللہ کریم کے لکھنے والے ہر ہر عمل کو لکھ لیتے ہیں یعنی آخرت کے اجر کی بنیاد عقیدہ ہے کہ درست ہو اور صرف عقیدہ ہی نہ رہے اس کے ساتھ عمل صالح یعنی نبی (علیہ السلام) کے ارشاد کے مطابق عمل بھی ہو تو ہر چھوٹا بڑا عمل انعام اور اجر پائے گا مگر جو لوگ ایمان ہی قبول نہیں کرتے وہ عمل تو کر ہی نہیں سکتے اور پھر عذاب الہی سے تباہ ہوجاتے ہیں تو آنکھ کھلتی ہے مگر ان کے لیے پھر سے عمل کے لیے دنیا میں واپس آنا ہرگز ممکن نہیں ، یہاں تک کہ دنیا کی بساط لپیٹ دی جائے گی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 102–103

ف 9 ۔ ” اس میں جانا تو کجا “ یعنی جنت میں داخل ہونے کے بعد۔ کذاقال ابن عباس ؓ ۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(21:103) لا یحزنہم۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب حزن سے (باب نصر) ان کو غمگین نہ کرے گا۔ الفزع۔ گھبراہٹ۔ خوف۔ الفزع انقباض اور وحشت کی اس حالت کو کہتے ہیں جو کسی خوفناک امر کی وجہ سے انسان پر طاری ہوجاتی ہے یہ جزع کی ایک قسم ہے۔ لا یحزنہم الفزع الاکبر۔ ان کو (اس دن کا) بڑا بھاری خوف غمگین نہیں کرے گا۔ فزع اکبر سے مراد دوزخ میں داخل ہونے کا خوف اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے وہم من فزع یومئذ امنون (27:87) اور ایسے لوگ اس روز گھبراہٹ سے بےخوف ہوں گے

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 94–103

لغات القرآن آیت نمبر 94 تا 103 لاکفران ناقدری نہ ہوگی۔ سعی کوشش، جدوجہد۔ کاتبون لکھنے والے۔ فتحت کھول دی گئی۔ حدب ٹیلہ، بلند مقام۔ ینسلون وہ گھستے چلے آئیں گے۔ شاخصۃ پھٹ جانے والی۔ حصب ایندھن، جلنے کی چیز۔ واردون پہنچنے والے، اترنے اولے۔ زفیر چیخ و پکار۔ سبقت فیصلہ ہوچکا، گذر چکا۔ مبعدون دور رہنے والے۔ حسیس آہٹ، سرسراہٹ۔ اشتھت من پسند۔ الفزع گھبراہٹ۔ توعدون وعدہ کیا جاتا ہے۔ تشریح : آیت نمبر 94 تا 103 فرمایا کہ وہ صاحب ایمان شخص جو کوئی بھی نیک یا بھلا کام کرے گا تو اس کی سعی، کوشش اور جدوجہد کو ضائع نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے اعمال کو لکھ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 100–103

(ف 2) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ منکر نکیر کے سوال و جواب کے بعد فرشتے اللہ کے حکم سے نیک لوگوں کو ان کا جنت کاٹھکانہ دکھا کر یہ وعدہ خوشخبری کے طور پر سنادیتے ہیں کہ اسی ٹھکانے میں ہمیشہ رہنے کے لیے تم کو قیامت کے دن دوبارہ زندہ کیا جائے گا توقبر سے اٹھتے ہی وہ خوش خبری کا وعدہ ان نیک لوگوں کو اللہ کے فرشتے پھر یاد دلائیں گے کہ تمہارا وہ دن ہے کہ جس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے وعدہ دیا تھا یعنی یہ تمہارے سیر وتماشا کا دن ہے اور عزت و عظمت کا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 98–104

[60] ظاہر ہے کہ اس حکم سے وہ تمام ہستیاں مستثنیٰ رہیں گی جو بجائے خود مقبول ہیں اور جن کی رضا کو ان کی معبودیت میں قطعی دخل نہیں، مثلاً ملائکہ، اولیاء کرام اور بزرگان دین۔ معبودوں کا اپنے پرستاروں کے ساتھ داخل جہنم ہونا پرستاروں کے لئے اور زیادہ تکلیف و حسرت کا باعث ہوگا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 101–103

اہل جنت کو دوزخ کو اذیتوں کا کھٹکا نہیں : (ف 1) جنت اور دوزخ اللہ تعالیٰ کی رضا اور ناراضگی کے دو مقام ہیں ، جو لوگ مشرک ہیں ، جنہوں نے حق پرستی کے قعر کو چھوڑ کر شرک پرستی کو نشیمن بنایا ہے ، وہ اللہ کی ناراضگی اور ناخوشی کے مہبط ہیں ، اس لئے ان کا مقام بھی وہ ہے جہاں سے غیض وغضب کے شعلے بھڑکتے ہیں ، اور جن کے مقدر میں نیکی ہے ، اور نصیب میں اللہ کی توحید ، وہ رضا الہی کا موجب ہیں ، اور ان کا مقام بھی وہ سرور آفرین ہے کہ وہاں جہنم کے ہولناک شعلوں کی آواز تک نہیں پہنچے گی ، اور چونکہ دنیا میں انہوں نے ایثار وقربانی سے کام لیا تھا ، اور محض اللہ کی رضا جوئی کے لئے ان تمام لذتوں اور آسائشوں کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(103) ان کو قیامت کی بڑی گھبراہٹ غمگین نہ کرے گی اور غم میں نہیں ڈالے گی اور رحمت کے فرشتے ان کو لائیں گے اور ان کا استقبال کریں گے اور کہیں گے یہی دن تو تمہارا وہ دن ہے جس دن کا تم کو وعدہ دیا جاتا تھا یعنی جن کے لئے ازل میں بھلائی مقدر ہوچکی ہے ان کی یہ حالت ہوگی کہ نضخہ ثانیہ کے بعد جب قبروں سے اٹھیں گے تو ان پر کوئی پریشانی نہ ہوگی اور نہ کسی غم اور فکر میں مبتلا ہو گے بلکہ ملائکہ مقربین ان کا استقبال کتے ہوں گے اور ان سے کہا جائے گا یہ تو وہ دن ہے جس کا تم سے دنیا میں وعدہ کیا جاتا رہا ہے کہ ایک دن آنے والا ہے جس دن تم کو تمہارے اعمال کا صلہ ملنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 103–104

ف 3۔ کہ قیامت آوے گی اور نیک لوگوں کو جزاء نیک ملے گی، پس یہ تعظیم اور بشارت ان کے لئے زیادہ مسرت کا موجب ہوجاوے گی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اہل جنت کے اعزاز واکرام کے لئے فرشتے پیش قدمی کریں گے : 103۔ انسان امن وسلامتی کا بھوکا ہے لیکن وہ اس امن وسلامتی کو اسباب راحت کے انبار میں تلاش کرتا ہے اور وہ نہیں پاتا ۔ وہ دنیا میں امن کا گوشہ ڈھونڈتا ہے اور وہ اس کو نہیں ملتا لیکن ایک جنت ہی وہ جگہ ہے کہ جہاں پہنچ کر اس کو نہ صرف امن کا گوشہ بلکہ امن وسلامتی کی ایک دنیا ملے گی یہی وجہ ہے کہ جنت کے ناموں میں سے ایک نام دارالسلام بھی ہے جس کے معنی امن وسلامتی کے گھر کے ہیں بلاشبہ لوگوں نے اپنے گھروں کا نام بیت السلام اور دارالسلام رکھا لیکن کیا یہاں فی الواقع کسی کو سلامتی ملی ؟ وہی دارالسلام ہے جہاں حقیقی سلامتی ملے گی اور یہی وجہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْأَكْبَرُ‌ (They will not be grieved by the Biggest Panic - 21:103). Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ has said that (the Biggest Panic) refers to the second call of the Horn ( صُور ), when all the dead will assemble to give an account of their actions in the world. Some others have said that الْفَزَعُ الْأَكْبَرُ‌ (the Biggest Panic) is the first call of the Horn. Ibn Al-` Arabi has said that the Horn will be blown thrice: The first call will be نَفخَہُ الفَزَع which will put everyone into utter confusion, and is referred to here as الْفَزَعُ الْأَكْبَرُ‌ (the Biggest…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 103–105

98. That is, the time of mustering and going before Allah will be very dreadful for the common people but the righteous people will have full peace of mind because everything will be happening according to their expectations. Their faith and the righteous deeds they did in the world, will help console them by the grace of Allah and, instead of grief and sorrow, they will be filled with the hope that they are going to get their promised rewards.

Read the full tafseer →