Al-Anbiyaa 21:102

Al-Anbiyaa · from ayah 102

21:102

لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَا ۚ— وَهُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَ ۟ۚلَا يَسۡمَعُوۡنَ حَسِيۡسَهَا‌ ۚ وَهُمۡ فِىۡ مَا اشۡتَهَتۡ اَنۡفُسُهُمۡ خٰلِدُوۡنَ‌

(یہاں تک کہ) اس کی آواز بھی تو نہیں سنیں گے۔ اور جو کچھ ان کا جی چاہے گا اس میں (یعنی) ہر طرح کے عیش اور لطف میں ہمیشہ رہیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

They will not hear its sound, while they are, in that which their souls desire, abiding eternally.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 7 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anbiyaa

All translations of 21:102

اس کی سرسراہٹ تک نہ سُنیں گے اور وہ ہمیشہ ہمیشہ اپنی من بھاتی چیزوں کے درمیان رہیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یہاں تک کہ) اس کی آواز بھی تو نہیں سنیں گے۔ اور جو کچھ ان کا جی چاہے گا اس میں (یعنی) ہر طرح کے عیش اور لطف میں ہمیشہ رہیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه تو دوزخ کی آہٹ تک نہ سنیں گے اور اپنی من بھاتی چیزوں میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ اس کی سرسراہٹ بھی نہیں سنیں گے، اور وہ ہمیشہ ہمیشہ اپنی من پسند چیزوں کے درمیان رہیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ اس کی بھنک (ہلکی سی آواز بھی) نہ سنیں گے اور وہ اپنی من مانتی خواہشوں میں ہمیشہ رہیں گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ اس کی آہٹ بھی نہ سنیں گے اور وہ ان (نعمتوں) میں ہمیشہ رہیں گے جن کی ان کے دل خواہش کریں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ اس کی آہٹ نہیں سنیں گے اور وہ اس میں جسے ان کے دل چاہیں گے، ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ اس کی آہٹ تک نہ سنیں گے اور وہ اپنی دل پسند نعمتوں میں ہمیشہ رہیں گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ اس کی آہٹ بھی نہیں سنیں گے۔ اور وہ اپنے من بھاتے عیش میں ہمیشہ رہیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اتنے دور کہ وہ اس کی سرسراہٹ تک کو بھی نہ سنیں گے اور وہ لوگ ہمیشہ اپنی من بھائی نعمتوں میں سدا خوش وخرم رہیں گے

— مولانا اسحاق مدنی

اس کی آہٹ بھی نہ سنیں گے۔ اور وہ لوگ اپنی جی چاہی چیزوں میں ہمیشہ رہیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ اس کی آہٹ تک نہیں سنیں گے اور وہ اپنی دل پسند خواہشوں میں ہمیشہ رہیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہاں تک کہ وہ اس کی آواز تک بھی نہ سنیں گے اور جو کچھ ان کا جی چاہے گا اس میں ہر طرح کے عیش و آرام میں ہمیشہ کے لیے رہیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They shall not hear even a whisper of it, and they shall live for ever in the delights which they had desired.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They will not hear the slightest of its sound, and they will remain forever in what their souls desire.

— Muhammad Taqi Usmani

They will not hear the slightest of its sound, and they will remain forever in what their souls desire.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They shall not hear the slightest sound of it (Hell), while they abide in that which their own selves desire.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They will not hear the slightest sound thereof, while they abide in that which their souls desire.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They will not hear its sound, while they are, in that which their souls desire, abiding eternally.

— Saheeh International

They will not even hear the slightest sound from it while enjoying the best that they can wish for in their everlasting life.

— Muhammad Sarwar

They will not hear its faintest sound, and they shall abide in that which their souls long for.

— Muhammad Habib Shakir

They shall not hear the least sound thereof, and in that felicity which their souls desire they shall be abiders.

— Abdul Majid Daryabadi

Not the slightest sound will they hear of Hell: what their souls desired, in that will they dwell.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 21:102

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 98–103

جہنم کی ہولناکیاں بت پرستوں سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اور تمہارے بت جہنم کی آگ کی لکڑیاں بنوگے جیسے فرمان ہے آیت (وقودہا الناس والحجارۃ) اس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر حبشی زبان میں حطب کو حصب کہتے ہیں یعنی لکڑیاں۔ بلکہ ایک قرأت میں بجائے حصب کے حطب ہے۔ تم سب عابد و معبود جہنمی ہو اور وہ بھی ہمیشہ کے لئے۔ اگر یہ سچے معبود ہوتے کیوں آگ میں جلتے ؟ یہاں تو پرستار اور پرستش کئے جانے والے سب ابدی طور پر دوزخی ہوگئے وہ الٹی سانس میں چیخیں گے جیسے فرمان ہے آیت (فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّشَهِيْقٌ01006ۙ) 11۔ ھود :106) ، وہ سیدھی الٹی سانسوں سے چیخیں گے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 101–102

سورة الْاَنْبِیَآء 97 اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا میں نیکی اور سعادت کی راہ اختیار کی۔ ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ پہلے ہی یہ وعدہ فرما چکا ہے کہ وہ اس کے عذاب سے محفوظ رہیں گے اور ان کو نجات دی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 101–102

اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓى ۙ اُولٰۗىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ ، یعنی جن لوگوں کے لئے ہماری طرف سے بھلائی اور اچھا نتیجہ مقدر ہوچکا ہے وہ اس جہنم سے بہت دور رہیں گے۔ اور اسی ابن الزبعری کے متعلق قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ ، یعنی جب ابن زبعری نے حضرت ابن مریم کی مثال پیش کی تو آپ کی قوم کے لوگ قریش خوشی سے شور مچانے لگے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ایک غلط خیال کی تردید یعنی وہ اس جہنم سے اتنے دور رکھے جائیں گے کہ ان کو اس کی آہٹ بھی سنائی نہیں دے گی۔ اس آیت سے ان لوگوں کے خیال کی نہایت واضح الفاظ میں تردید ہو رہی ہے جو سورة مریم کی آیت 61 و ان منکو الا واردھا کے خطاب کو صحیح طور پر معین نہ کرنے کے سبب سے اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے کہ اعلیاذ باللہ ایک مرتبہ تمام اہل ایمان کو بھی جہنم سے گزرنا پڑے گا۔ ہم نے سورة مریم کی آیت مذکورہ کے خطاب کو متعین کردیا ہے اور آیت زیر بحث کی روشنی میں مفسرین کے اس عام خیال کی تردید کر کے دونوں آیتوں کی باہمی موافقفت واضح کردی ہے۔ اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ جنت کے اندر تنوع کی آزادی وھم فی ما اشتھت انفسھم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 101–102

11۔ 1 بعض لوگوں کے ذہن میں یہ اشکال پیدا ہوسکتا تھا یا مشرکین کی طرف سے پیدا کیا جاسکتا تھا، جیسا کہ فی الواقع کیا جاتا ہے کہ عبادت تو حضرت عیسیٰ و عزیز علیہالسلام، فرشتوں اور بہت سے صالحین کی بھی کی جاتی ہے تو کیا یہ بھی اپنے عابدین کے ساتھ جہنم میں ڈالے جائیں گے ؟ اس آیت میں اس کا ازالہ کردیا گیا ہے کہ یہ لوگ تو اللہ کے نیک بندے تھے جن کی نیکیوں کی وجہ سے اللہ کی طرف سے ان کے لئے نیکی یعنی سعادت ابدی یا بشارت جنت ٹھہرائی جا چکی ہے۔ یہ جہنم سے دور ہی رہیں گے

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 98–104

46: پتھر کے جن بتوں کی یہ مشرکین عبادت کرتے تھے ان کو بھی سزا کے طور پر نہیں بلکہ اس لئے جہنم میں ڈالا جائے گا تاکہ اس بات کا عملی مظاہرہ کیا جائے کہ جن بتوں کو تم خدا سمجھتے تھے وہ آخر کار کتنے بےبس ثابت ہوئے۔ 46:

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 101–102

ان الذین سبقت ……خلدون (21 : 102) ” رہے وہ لوگ جن کے بارے میں ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا ہے تو وہ یقینا اس سے دور رکھے جائیں گے۔ اس کی سرسراہٹ تک نہ نہ سنیں گے اور وہ ہمیشہ ہمیشہ من بھاتی چیزوں میں رہیں گے۔ ‘ لفظ حسبھا ان الفاظ میں سے ہے جو اپنے صوتی ترنم سے اپنے مفہوم کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ لفظ آگ کی اس آواز کو ظاہر کرتا ہے جو جلتی ہے اور جلاتی ہے اور سر سر کی آواز سنائی دیتی ہے۔ یہ ایسی آواز ہے کہ اس کے تصور سے انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور اس پر اس کے بارے میں سوچتے ہی کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل ایمان جن کے بارے میں اچھا فیصلہ صادر ہوچکا ہے اس آواز کو بھی نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 جنتیوں کو دوزخ سے اس قدر بعد ہوگا کہ اس کی آہٹ تک محسوس نہ کریں گے اور نہایت عیش و آرام کے ساتھ ہمیشہ جنت کے مزے لوٹیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 101–102

آیت 102 لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَہَا ج ” سورۂ مریم کی آیت 71 وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُہَا ج کے مطابق ایک دفعہ جہنم کا مشاہدہ تو سب کو کرایا جائے گا ‘ لیکن پھر اس کے بعد اس کو اہل جنت سے بہت دور کردیا جائے گا۔ وَہُمْ فِیْ مَا اشْتَہَتْ اَنْفُسُہُمْ خٰلِدُوْنَ ” تمام مرغوبات نفس اہل جنت کو فراہم کردی جائیں گی اور وہ اس کیفیت میں ہمیشہ رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

90 ان آیات میں مشرکوں اور ان کے معبودوں کے انجام کے مقابلہ میں نیک لوگوں کے احوال کا ذکر کیا گیا ہے۔ خواہ انھیں کسی نے معبود بنا رکھا تھا یا نہیں۔ ایسے لوگ جہنم سے اتنے دور رکھے جائیں گے کہ وہ اہل دوزخ کی کسی قسم کی چیخ و پکار یا آہٹ تک نہ سننے پائیں گے اور ان سے بہت دور رہ کر اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں میں سے اپنی سب پسند نعمتوں کے مزے اڑائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 101–102

136۔ (اس لئے کہ وہ جنت میں ہوں گے اور جنت دوزخ سے بالکل الگ اور فاصلہ پر ہوگی) (آیت) ” ان الذین سبقت لھم منا لحسنی “۔ سے معنی بعض صوفیہ نے یہ لئے ہیں کہ سبقت محبتنا ایاہ فی الازل یعنی ہماری محبت ان کے ساتھ ازل میں سابق ہوئی، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہی وہ استعداد سابق ہے جس کی بابت کہا جاتا ہے کہ محبت کی ابتداء محبوت کی جانب سے ہوتی ہے۔ 137۔ جنت کی ایک خاص اور امتیازی خصوصیت یہاں بہ کمال بلاغت ایک مختصر فقرہ میں بیان کردی گئی۔ یعنی وہ جگہ ایسی ہوگی جہاں سب کچھ انسان کی اپنی مرضی کے مطابق ہوگا۔ جو ہوا بھی چلے گی اس کی مرضی کے موافق، جو موسم بھی وہ چاہے گا وہی پیدا ہوجائے گا، جو غذا وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 94–112

آیت نمبر 94 تا 112 ترجمہ : تو جو شخص نیک عمل کرے اور وہ مومن بھی ہو تو اس کی کوشش کی ناقدری نہیں کی جائے گی یعنی انکار نہیں کیا جائے گا اور ہم اس کی سعی کو لکھ لیتے ہیں یعنی ہم فرشتوں کو اس کے لکھنے کا حکم دیتے ہیں سو ہم اس کو اس کی سعی کا بدلہ دیں گے اور حرام ہے اس بستی پر یعنی بستی والوں پر جن کو ہم نے ہلاک کردیا ہے یہ کہ وہ لوٹ آئیں یعنی ان کا دنیا کا طرف لوٹ کر آنا ممتنع ہے اور لا یرجعون میں لا زائدہ ہے، یہاں تک کہ یہ امتناع رجوع کی گایت ہے کھولدئیے جائیں یا جوج اور ماجوج فتحت تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے، یأجوج مأجوج ہمزہ کے ساتھ اور ترک ہمزہ کے ساتھ دو قبیلوں کے دو عجمی نام ہیں اور ان سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لا یسمعون حسیسہا وہ اس کی آہٹ بھی نہیں سنیں گے یعنی جہنم سے اتنی دور رکھے جائیں گے کہ اس کی آہٹ بھی ان کو سنائی نہیں دے گی۔ وہم فیہا اشتہت انفسہم خلدون۔ اور وہ اپنی جی چاہی (مرغوب طبع) چیزوں میں ہمیشہ رہیں گے۔ فِیْہَا کو خٰلِدُوْنَ سے مقدم ذکر کرنا اختصاص اور اہمیت کو ظاہر کر رہا ہے۔ صوفیہ صافیہ کی ذات خداوندی کے سوا کوئی اور خواہش ہی نہیں ہوتی اس لئے ہر وقت وہ وصل کی حالت میں اور دیدار خداوندی کے استغراق میں رہیں گے لیکن یہ وصل اور استغراق ناقابل بیان کیفیت کا حامل ہوگا زمان و مکان اور ہیئت و شکل کی قیود سے خالی اور جہت و امتداد و مسافت سے پاک اسی لئے اس کو بلا کیف کہا جاتا ہے (مترجم) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 101–102

(101۔ 102) اور جن حضرات کے لیے ہماری طرف سے جنت مقدور ہوچکی ہے جیسا کہ حضرت عیسیٰ و عزیر ؑ وہ دوزخ سے نجات میں رہیں گے اور اس سے اس قدر دور رکھے جائیں گے کہ اس کی آہٹ بھی نہ سنیں گے اور وہ لوگ اپنی پسند کی چیزوں سمیت جنت میں ہمیشہ رہیں گے ،

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ۙلَا يَسْمَعُوْنَ حَسِيْسَهَا : یہ دوسری نعمت ہے کہ جہنم کی ہلکی سے ہلکی محسوس ہونے والی آواز بھی ان کے کانوں میں نہیں آئے گی کہ انھیں کسی طرح بھی تکلیف پہنچ سکے۔ مراد جنت میں جانے کے بعد ہے۔ (قرطبی) وَهُمْ فِيْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْن : یہ تیسری نعمت ہے، یعنی اہل جنت کے دل کی ہر خواہش نہ صرف یہ کہ پوری ہوگی (حم السجدہ : 30 تا 32) بلکہ ان کی من پسند ہر نعمت دائمی اور ابدی بھی ہوگی، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لا یسمعون حسیسھا حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : کیا تو مجنون ہے پھر یہ ارشاد کہاں ہے : و ان منکم الا واردھا (مریم :71) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الی جھنم وردا۔ (مریم) اور یہ گزشتہ لوگوں کی دعا تھی : اے اللہ ! مجھے آگ سے سلامتی کے ساتھ نکال اور مجھے جنت میں کامیاب فرما۔ ابو عثمان نہدی نے کہا : قل صراط پر سانپ ہوں گے اور جو دوزخیوں کو کاٹیں گے اور وہ کہیں گے : حس حس۔ بعض نے فرمایا : جب جنتی لوگ جنت میں داخل ہوں گے تو وہ دوزخیوں کی آہٹ نہیں سنیں گے اور اس سے پہلے سنیں گے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ وھم فی ما اشتھت انفسھم خلدون وہ ہمیشہ رہیں گے جبکہ وہ ان نعمتوں میں ہوں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 98–104

1:۔ فریابی، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم، طبرانی، ابن مردویہ، ابوداود نے ناسخ میں حاکم نے (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) کئی طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ (آیت) ” انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم، انتم لھا وردون “۔ نازل ہوئی تو مشرکین نے کہا کہ فرشتے عیسیٰ (علیہ السلام) اور عزیر (علیہ السلام) کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے کیا یہ بھی دوزخ میں جائیں گے تو پھر یہ (آیت) ان الذین سبقت لھم منا الحسنی اولئک عنھا مبعدون “ نازل ہوئی کہ جس سے مراد ہیں عیسیٰ (علیہ السلام) ، عزیر اور فرشتے (کہ ان کو جہنم سے دور رکھا جائے گا ( 2:۔ ابن مردویہ اور ضیاء نے مختارہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ لَا يَسْمَعُوْنَ : وہ لوگ نہیں سنیں گے ] [ حَسِيْسَهَا : اس کی سرسراہٹ ] [ وَهُمْ : اور وہ ] [ فِيْ مَا : اس میں ہوں گے جو ] [ اشْتَهَتْ : چاہیں گے ] [ انفُسُهُمْ : ان کے جی ] [ خٰلِدُوْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 101–103

جن کے بارے میں بھلائی کا فیصلہ ہوچکا وہ دوزخ سے دور رہیں گے جب آیت (اِنَّکُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ) (الایۃ) نازل ہوئی تو عبداللہ بن الزبعریٰ نے اعتراض کیا (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوا تھا) کہ پھر تو عیسیٰ اور عزیر اور فرشتے سب یہ دوزخ میں جائیں گے کیونکہ ان کی بھی عبادت کی جاتی رہی ہے۔ اس پر آئندہ آیت کریمہ (اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَھُمْ مِّنَّا الْحُسْنآی اولٰٓءِکَ عَنْھَامُبْعَدُوْنَ ) نازل ہوئی (بلاشبہ جن کے لیے پہلے ہی ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ ہوچکا ہے وہ جہنم سے دور رکھے جائیں گے (لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَھَا وَ ھُمْ فِیْ مَا اشْتَھَتْ اَنْفُسُھُمْ خٰلِدُوْنَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 95–104

بیان قرب قیامت و خروج یا جوج ماجوج وفناء عالم و بیان ذلت و خواری اہل غفلت وبیان عزت و کرامت اہل سعادت قال اللہ تعالیٰ وحرم علی قریۃ اہلکنھا انھم لا یرجعون .... الیٰ .... انا کنا فعلین۔ (ربط) گزشتہ آیات میں توحید اور رسالت کا بیان تھا اب آگے معاد اور قرب قیامت کو بیان کرتے ہیں کہ اس دنیا کا ایک وقت معین ہے اس کے بعد فنا کردی جائیگی اور اس فنا کی ابتدائی علامت خروج یاجوج و ماجوج ہے اس کے بعد وہ وعدہ بہت قریب آلگے گا۔ منجملہ علامات قیامت حضرت عیسیٰ علیہا لسلام کا آمان سے نازل ہونا اور دجال کو قتل کرنا ہے۔ دجال کے قتل ہوجانے کے بعد یاجوج ماجوج کا خروج ہوگا جن کی تعداد کی کوئی حد نہیں۔ فی الحال یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

76:۔ ” لَایَسْمَعُوْنَ الخ “ جملہ مبعدون سے بدل ہے اس میں دوزخ سے ان کے بعد کی قدرے تفصیل دی گئی ہے یعنی ان کو دوزخ سے اتنا دور کیا جائے گا کہ وہ آتش دوزخ کی خفیف سی آواز بھی نہیں سن پائیں گے حالانکہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ دوزخ کی بھڑکتی آگ کا شور ہزاروں میلوں کے فاصلہ تک سنائی دے گا۔ یہ اس وقت ہوگا جب وہ جنت میں داخل ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 94–104

ربط آیات : اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کیا ہے۔ ان کے مصائب و تکالیف ، ان کے طریقہ تبلیغ ، ان کی مناجات اور عبادت اور ان کے صبر پر روشنی ڈالی ہے۔ اور آئندہ آنے والوں کے لئے انہیں نمونہ بنایا ہے۔ آخر میں حضرت مریم ؓ اور مسیح (علیہ السلام) کا ذکر بھی کیا ہے اور پھر ایک اصولی بات یہ بیان فرمائی ہے کہ تمام انبیاء کی ملت اور دین ایک ہی رہا ہے۔ فرمایا میں تمہارا پروردگار ہوں ، لہٰذا میری ہی عبادت کرو۔ مگر بعد میں آنے والے لوگوں نے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے اور مختلف فرقوں میں بٹ گئے۔ بعض نے عقائد کو خراب کرلیا اور کفر وشرک میں مبتلا ہوگئے۔ فرمایا سب نے ہماری…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَا يَسْمَعُوْنَ حَسِيْسَہَا۝ 0ۚ وَہُمْ فِيْ مَا اشْتَہَتْ اَنْفُسُہُمْ خٰلِدُوْنَ۝ 102ۚ حسس فحقیقته : أدركته بحاستي، وأحست مثله، لکن حذفت إحدی السینین تخفیفا نحو : ظلت، وقوله تعالی: فَلَمَّا أَحَسَّ عِيسى مِنْهُمُ الْكُفْرَ [ آل عمران/ 52] ( ح س س ) احسستہ کے اصل معنی بھی کسی چیز کو محسوس کرنے کے ہیں اور احسنت بھی احسست ہی ہے مگر اس میں ایک سین کو تحقیقا حذف کردیا گیا ہے جیسا کہ ظلت ( میں ایک لام مخذوف ہے اور آیت کریمہ : ۔ فَلَمَّا أَحَسَّ عِيسى مِنْهُمُ الْكُفْرَ [ آل عمران/ 52] جب عیسٰی ( (علیہ السلام) ) نے ان کی طرف سے نافرمانی ( اور نیت قتل ) دیکھی ۔ شها أصل الشَّهْوَةِ : نزوع النّفس إلى…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 94–104

جس کے بعد بطور معیار کے فرماتا ہے فمن یعمل من الصلحت کہ جو کوئی ایمان لائے گا اور پھر نیک کام کرے گا خواہ کوئی ہو اس کی کوشش کا قطعاً بدلہ ہم دیں گے پھر فرماتا ہے و حرام علی قریہ حرام خبر ہے اس کا متبداء یا انہم لایرجعون ہے یا کچھ اور۔ اول صورت میں بعض علمائے نے لاکو زائد نہیں مانا ہے تب یہ معنی ہوں گے کہ ان کا عدم رجوع حرام یعنی ممتنع ہے تب رجوع کرنا ان پر واجب یعنی ضرور ہے اور آخرت کی طرف اھلکناھا ‘ اکثر مفسرین لاکو زائد کہتے ہیں تب یہ معنی کہ ان پر رجوع کرنا دنیا میں باردگر آنا حرام کردیا ہے یا یہ کہ ان کی تقدیر میں شرک و معاصی سے باز آنا حرام تھا اس لیے وہ غارت ہوئے۔ جمہور کا قول بہت ٹھیک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 101–102

اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَھُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓیلا اُوْلٰٓئِکَ عَنْھَا مُبْعَدُوْنَ ۔ لاَ یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَھَا ج وَھُمْ فِیْ مَااشْتَھَتْ اَنْفُسُھُمْ خٰلِدُوْنَ ۔ (الانبیاء : 101، 102) (بیشک جن کے لیے اچھے انجام کا ہماری جانب سے وعدہ ہوچکا ہے وہ اس سے دور رکھے جائیں گے۔ وہ اس کی آہٹ بھی نہیں سنیں گے وہ ان (نعمتوں) میں جن کی خواہش انھوں نے کی تھی ہمیشہ رہیں گے۔ ) ایک اعتراض کا جواب حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) کا خیال ہے کہ جب سابقہ آیت کریمہ نازل ہوئی (تو جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں) ابن الزیغری نے کہا کہ اگر شرک کی وجہ سے معبود جہنم میں جائیں گے تو جہاں ہمارے معبود یعنی پتھر کے بت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 101–103

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کے مقابلے میں نیک لوگوں کا صلہ اور انعام۔ جن لوگوں کی فطرت اور کوشش کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے ان کے نصیب میں خیر اور نیکی رکھ دی ہے۔ وہ لوگ جہنم سے کوسوں دور رکھے جائیں گے۔ اس قدر جہنم سے دور اور محفوظ ہوں گے کہ نہ وہ جہنم کی آہٹ سنیں گے اور نہ جہنم کی بدبو ان تک پہنچ پائے گی۔ انھیں جنت میں وہ سب کچھ دیا جائے گا جس کی دل میں چاہت کریں گے۔ انھیں قیامت کی ہولناکیوں اور گھبراہٹ کے بڑے بڑے مواقع پر کوئی غم اور پریشانی نہیں ہوگی۔ ہر موقعہ اور مقام پر ملائکہ انھیں سلام کریں گے اور کہیں گے یہ ہے وہ اجر و انعام کا دن جس کا رب کریم نے تمہارے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ قیامت کے دن…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

102: لَایَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَھَا (وہ اس کی آہٹ بھی نہ سنیں گے) حسیسؔ سے وہ آوازمراد ہے جو حس سے معلوم ہو اور جہنم کی بھڑک کی حرکت۔ یہ درحقیقت جہنم سے ان کو دور ہونے میں مبالغہ ظاہر کرنے کیلئے فرمایا یعنی وہ اس کے قریب بھی نہ ہونگے اس کی آواز ان کو سنائی دے اور اس کی لپٹوں کی آواز سنائی دے۔ وَھُمْ فِیْ مَا اشْتَھَتْ اَنْفُسُھُمْ (اور وہ اپنی اپنی من پسند نعمتوں میں) خٰلِدُوْنَ (ہمیشہ رہیں گے) ہمیشہ ان کی اقامت ان نعمتوں میں ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

102۔ لایسمعون حسیسھا، ، اس کی آواز اور اس کی حرکت بھی نہ سن پائیں گے۔ یعنی ان کو جہنم سے اتنا دور رکھاجائے گا، کہ وہ اس کی آہٹ بھی نہیں سن سکیں گے۔ حسن اور حسیس صوت خفی کو کہاجاتا ہے۔ وھم فیھا اشتھت انفسھم خالدون، اس میں وہ مقیم ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ، وفیھا ماتشتھی الانفس وتلذ الاعین،۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 100–103

100۔ 103:۔ اوپر ذکر تھا کہ مشرکوں اور ان کے جھوٹے معبودوں کو ہمیشہ دوزخ میں رہنے کا حکم سنا دیا جائے گا اور قائل کرنے کے لیے ان مشرکوں سے یہ کہا جائے گا کہ دنیا میں جن تبوں کو تم اپنا معبود جانتے تھے اللہ تعالیٰ کے نزدیک اگر ان بتوں میں معبود ہونے کی صلاحیت ہوتی تو آج ان کو دوزخ کا ایندھن نہ بنایا جاتا ‘ ان آیتوں میں فرمایا ‘ دوزخ میں ہمیشہ رہنے کا حکم سن کر یہ لوگ روئیں گے چلاویں گے اور ان میں کا ہر ایک شخص اپنے اپنے عذاب کی تکلیف میں ایسا بدحواس ہوگا کہ ایک شخص دوسرے کے رونے اور چلانے کی آواز بھی نہ سنے گا 1 ؎‘ ترمذی میں ابودرداء ؓ سے اور مستدرک حاکم ‘ بیہقی کی بعث ونشور وغیرہ میں حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 98–103

آیت 98 یعنی اے وہ لوگو ! جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی عبادت کرتے ہو (حصب جھنم) تم سب جہنم کا ایندھن ہو (انتم لھا وردون) تمہیں اور تمہارے بتوں کو جہنم میں جھونکا جائے گا۔ بتوں کو جہنم میں جھونکنے میں حکمت یہ ہے۔۔۔. حالانکہ یہ پتھر ہیں، عقل و شعور نہیں رکھتے اور ان کا کوئی گناہ بھی نہیں۔۔۔. کہ ان کا کذب و افترا واضح ہوجائے جنہوں نے ان بتوں کو معبود بنا رکھا تھا اور تاکہ ان کے عذاب میں اضافہ ہو۔ اس لئے فرمایا : (لو کان ھولاء الآ ما وردوھا) ” اگر یہ واقعی معبود ہوتے تو جہنم میں کبھی داخل نہ ہوتے۔ “ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد مقدس کی مانند ہے۔ (لیبین لھم الذی یختلفون فیہ و…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 78–112

ایک کھیت کے بارے میں سلیمان کا فیصلہ قول باری ہے (وداود و سلیمان اذ یحکما ن فی الحرث اذ نفشت فیہ غنم القوم و کنا لحکمھم شاھدین ففھمنا ھا سلیمان وکلا اتینا حکماً و علماً اور اس نعمت سے ہم نے دائود و سلیمان کو سرفراز کیا۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ وہ دونوں ایک کھیت کے مقدمے میں فیصد کر رہے تھے جس میں رات کے وقت دوسرے لوگوں کی بکریاں پھیل گئی تھیں اور ہم ان کی عدالت کو دیکھ رہے تھے۔ اس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق مروزی نے روایت بیان کی، انہیں الحسن بن ابی ربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 101–102

137 اچھے انجام والوں کے لیے عظیم الشان بشارت و خوش خبری : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں کے لیے ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا ہوگا ان کو اس ۔ دوزخ۔ سے بہت دور رکھا گیا ہوگا۔ یعنی اس عظیم الشان حسنیٰ اور بھلائی کا کہ ان کے لیے ابدی سعادت اور دائمی کامیابی ہے ان کے صدق و اخلاص کی بنا پر جس کے نتیجے میں انجام کار یہ لوگ جنت کی اس بڑی حسنیٰ اور عظیم الشان بھلائی سے سرفراز ہوں گے جو تمام بھلائیوں اور سعادتوں کی جامع ہوگی ۔ اللہم اجعلنا من اہلہا ۔ سو ان کا معاملہ الگ ہوگا اور ان کو دوزخ کی اس آگ سے دور بہت دور رکھا جائے گا اور وہ اپنے رب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 96–103

یاجوج ماجوج کا ظہور قیامت کی نشانی تشریح : قیامت کے قریب ہونے یا قیامت آنے کی دس نشانیاں رسول اکرم ﷺ نے بیان فرمائی ہیں ان میں سے ایک نشانی یا جوج و ماجوج کا دنیا میں پھیل جانا بھی ہے۔ یاجوج ماجوج کے بارے میں سورة کہف کی آیات 93 سے 98 تک میں بڑی تفصیل سے لکھا جا چکا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ ذوالقرنین ایک بڑا فاتح بادشاہ گزرا ہے جس نے دنیا کے شمالی پہاڑوں کے درمیان سیسہ پلائی دیوار اس غرض سے بنوائی تھی کہ ان کے پیچھے ایک شیطان فطرت قوم یاجوج ماجوج رہتی تھی اور وہ لوگوں کو بہت زیادہ ستاتے تھے۔ وہ اس دیوار کو ہر وقت توڑنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ قرآن میں آیا ہے کہ قیامت کے قریب وہ اس دیوار کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 94–112

(رکوع نمبر 7) اسرارومعارف اور آخرت میں تو وہ ایماندار لوگ ہی نام پائیں گے جنہوں نے نیک کام کئے ہوں گے کہ ان کا کوئی عمل رائیگاں نہ جائے گا کہ اللہ کریم کے لکھنے والے ہر ہر عمل کو لکھ لیتے ہیں یعنی آخرت کے اجر کی بنیاد عقیدہ ہے کہ درست ہو اور صرف عقیدہ ہی نہ رہے اس کے ساتھ عمل صالح یعنی نبی (علیہ السلام) کے ارشاد کے مطابق عمل بھی ہو تو ہر چھوٹا بڑا عمل انعام اور اجر پائے گا مگر جو لوگ ایمان ہی قبول نہیں کرتے وہ عمل تو کر ہی نہیں سکتے اور پھر عذاب الہی سے تباہ ہوجاتے ہیں تو آنکھ کھلتی ہے مگر ان کے لیے پھر سے عمل کے لیے دنیا میں واپس آنا ہرگز ممکن نہیں ، یہاں تک کہ دنیا کی بساط لپیٹ دی جائے گی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 102–103

ف 9 ۔ ” اس میں جانا تو کجا “ یعنی جنت میں داخل ہونے کے بعد۔ کذاقال ابن عباس ؓ ۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(21:102) لا یسمعون میں ضمیر فاعل مبعدون کی طرف راجع ہے۔ حسیسھا۔ اس کی آواز۔ اس کی آہٹ۔ ھا کا مرجع جہنم ہے۔ حس مادہ۔ الحاسۃ اس قوت کو کہتے ہیں جس سے عوارض حسیہ کا ادراک ہوتا ہے اس کی جمع حواس ہے جس کا اطلاق سمع (سننا) بصر (دیکھنا) شم (سونگھنا) ذوق (چکھنا) لمس (چھونا) پر ہوتا ہے ان کو حواس خمسہ کہتے ہیں۔ حس یحس (نصر) کے معنی قتل کرنے کے بھی آتے ہیں مثلاً اذ تحسونہم باذنہ (3:152) جبکہ تم کافروں کو قتل کر رہے تھے اس کے حکم سے۔ باب افعال سے احس یحس بمعنی محسوس کرنا ہے۔ مثلاً ھل تحس منہم من احد (20:98) کیا تم کسی کو بھی ان میں سے محسوس کرتے ہو۔ آیت ہذا میں الحسیس والحس بمعنی حرکت و آہٹ ہے۔ اشتھت۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 94–103

لغات القرآن آیت نمبر 94 تا 103 لاکفران ناقدری نہ ہوگی۔ سعی کوشش، جدوجہد۔ کاتبون لکھنے والے۔ فتحت کھول دی گئی۔ حدب ٹیلہ، بلند مقام۔ ینسلون وہ گھستے چلے آئیں گے۔ شاخصۃ پھٹ جانے والی۔ حصب ایندھن، جلنے کی چیز۔ واردون پہنچنے والے، اترنے اولے۔ زفیر چیخ و پکار۔ سبقت فیصلہ ہوچکا، گذر چکا۔ مبعدون دور رہنے والے۔ حسیس آہٹ، سرسراہٹ۔ اشتھت من پسند۔ الفزع گھبراہٹ۔ توعدون وعدہ کیا جاتا ہے۔ تشریح : آیت نمبر 94 تا 103 فرمایا کہ وہ صاحب ایمان شخص جو کوئی بھی نیک یا بھلا کام کرے گا تو اس کی سعی، کوشش اور جدوجہد کو ضائع نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے اعمال کو لکھ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 100–103

(ف 2) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ منکر نکیر کے سوال و جواب کے بعد فرشتے اللہ کے حکم سے نیک لوگوں کو ان کا جنت کاٹھکانہ دکھا کر یہ وعدہ خوشخبری کے طور پر سنادیتے ہیں کہ اسی ٹھکانے میں ہمیشہ رہنے کے لیے تم کو قیامت کے دن دوبارہ زندہ کیا جائے گا توقبر سے اٹھتے ہی وہ خوش خبری کا وعدہ ان نیک لوگوں کو اللہ کے فرشتے پھر یاد دلائیں گے کہ تمہارا وہ دن ہے کہ جس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے وعدہ دیا تھا یعنی یہ تمہارے سیر وتماشا کا دن ہے اور عزت و عظمت کا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 98–104

[60] ظاہر ہے کہ اس حکم سے وہ تمام ہستیاں مستثنیٰ رہیں گی جو بجائے خود مقبول ہیں اور جن کی رضا کو ان کی معبودیت میں قطعی دخل نہیں، مثلاً ملائکہ، اولیاء کرام اور بزرگان دین۔ معبودوں کا اپنے پرستاروں کے ساتھ داخل جہنم ہونا پرستاروں کے لئے اور زیادہ تکلیف و حسرت کا باعث ہوگا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 101–103

اہل جنت کو دوزخ کو اذیتوں کا کھٹکا نہیں : (ف 1) جنت اور دوزخ اللہ تعالیٰ کی رضا اور ناراضگی کے دو مقام ہیں ، جو لوگ مشرک ہیں ، جنہوں نے حق پرستی کے قعر کو چھوڑ کر شرک پرستی کو نشیمن بنایا ہے ، وہ اللہ کی ناراضگی اور ناخوشی کے مہبط ہیں ، اس لئے ان کا مقام بھی وہ ہے جہاں سے غیض وغضب کے شعلے بھڑکتے ہیں ، اور جن کے مقدر میں نیکی ہے ، اور نصیب میں اللہ کی توحید ، وہ رضا الہی کا موجب ہیں ، اور ان کا مقام بھی وہ سرور آفرین ہے کہ وہاں جہنم کے ہولناک شعلوں کی آواز تک نہیں پہنچے گی ، اور چونکہ دنیا میں انہوں نے ایثار وقربانی سے کام لیا تھا ، اور محض اللہ کی رضا جوئی کے لئے ان تمام لذتوں اور آسائشوں کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(102) اس دوری کی وجہ سے ان کا یہ حال ہوگا کہ وہ اس دوزخ کی ہلکی سی آواز اور آہٹ بھی نہیں سنیں گے اور وہ اپنی من مانی اور جی چاہی لذتوں میں ہمیشہ رہیں گے یعنی وہ جنت میں ہوں گے اور جنت و جہنم میں بہت فاصلہ ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ عذاب الہی کی آہٹ بھی نہ پائیں گے اور جو وہ چاہیں گے حاضر کردیا جائے گا : 102۔ (حسیس) حس سے ہے اور مراد اس سے حرکت وآہٹ ہے کہ وہ اللہ کے نیک بندے جن کا ذکر اوپر گزر چکا عذاب تو عذاب ہے عذاب کی آہٹ تک بھی محسوس نہیں کریں گے اور ان کو اکتاہٹ تک نہیں ہوگی پھر یہ بھی کہ اس دنیا میں بھی بلاشبہ لذتیں اور مسرتیں ہیں مگر جو چیز یہاں نہیں ہے وہ بقائے دوام ہے یہاں کی ہر لذت عارضی اور ہر مسرت آنی ہے یہاں خوشی کا کوئی ایسا ترانہ نہیں جس کے بعد غم وماتم کا نالہ نہ ہو ۔ یہاں ہر پھول کے ساتھ کانٹے ‘ ہر روشنی کے ساتھ تاریکی ‘ ہر وجود کے ساتھ فنا ‘ ہر سیری کے بعد بھوک ‘ ہر سیرابی کے بعد پیاس اور ہر غنا کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 101–102

At that point Allah Ta` ala revealed the verse : إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ أُولَـٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ (Surely, those for whom the good (news) from Us has come earlier shall be kept far away from it. - 21:101) that is those for whom Our grace and good result is ensured will be kept away from Hell. And for the same Ibn al-Ziba` ra، Allah Ta` ala has revealed this Qur’ anic verse a. وَلَمَّا ضُرِ‌بَ ابْنُ مَرْ‌يَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ (43:57) that is when Ibn al-Ziba` ra put forward the example of Sayyidah Maryam (علیہا السلام) ، the people of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 101–102

97. These will be the people who practiced virtue and righteousness in this world. Allah has already promised that they will be kept safe from the torture and will be granted salvation.

Read the full tafseer →