Explained with ayahs 98–103
جہنم کی ہولناکیاں
بت پرستوں سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اور تمہارے بت جہنم کی آگ کی لکڑیاں بنوگے جیسے فرمان ہے آیت (وقودہا الناس والحجارۃ) اس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر حبشی زبان میں حطب کو حصب کہتے ہیں یعنی لکڑیاں۔ بلکہ ایک قرأت میں بجائے حصب کے حطب ہے۔ تم سب عابد و معبود جہنمی ہو اور وہ بھی ہمیشہ کے لئے۔ اگر یہ سچے معبود ہوتے کیوں آگ میں جلتے ؟ یہاں تو پرستار اور پرستش کئے جانے والے سب ابدی طور پر دوزخی ہوگئے وہ الٹی سانس میں چیخیں گے جیسے فرمان ہے آیت (فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّشَهِيْقٌ01006ۙ) 11۔ ھود :106) ، وہ سیدھی الٹی سانسوں سے چیخیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
سورة الْاَنْبِیَآء 97
اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا میں نیکی اور سعادت کی راہ اختیار کی۔ ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ پہلے ہی یہ وعدہ فرما چکا ہے کہ وہ اس کے عذاب سے محفوظ رہیں گے اور ان کو نجات دی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓى ۙ اُولٰۗىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ ، یعنی جن لوگوں کے لئے ہماری طرف سے بھلائی اور اچھا نتیجہ مقدر ہوچکا ہے وہ اس جہنم سے بہت دور رہیں گے۔
اور اسی ابن الزبعری کے متعلق قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ ، یعنی جب ابن زبعری نے حضرت ابن مریم کی مثال پیش کی تو آپ کی قوم کے لوگ قریش خوشی سے شور مچانے لگے۔
Read the full tafseer →اچھے انجام والوں کے لئے بشارت
حسنیٰ کا موصوف یہاں محذوف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن کے لئے اچھے انجام کا وعدہ وہماری طرف سے پہلے سے ہوچکا ہے وہ لوگ البتہ اس جہنم سے دور رکھے جائیں گے۔ اس اچھے انجام کا وعدہ آیت 94 میں گزر چکا ہے۔ وہاں فرمایا ہے کہ جو لوگ ایمان پر قائم رہتے ہوئے عمل صالح کریں گے اللہ تعالیٰ ان کی مساعی کی ناقدری نہیں کرے گا بلکہ انکے ایک ایک عمل کو وہ نوٹ کئے ہوئے ہے اور ان کے ہر عمل کا ان کو بھرپور صلہ ملنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
11۔ 1 بعض لوگوں کے ذہن میں یہ اشکال پیدا ہوسکتا تھا یا مشرکین کی طرف سے پیدا کیا جاسکتا تھا، جیسا کہ فی الواقع کیا جاتا ہے کہ عبادت تو حضرت عیسیٰ و عزیز علیہالسلام، فرشتوں اور بہت سے صالحین کی بھی کی جاتی ہے تو کیا یہ بھی اپنے عابدین کے ساتھ جہنم میں ڈالے جائیں گے ؟ اس آیت میں اس کا ازالہ کردیا گیا ہے کہ یہ لوگ تو اللہ کے نیک بندے تھے جن کی نیکیوں کی وجہ سے اللہ کی طرف سے ان کے لئے نیکی یعنی سعادت ابدی یا بشارت جنت ٹھہرائی جا چکی ہے۔ یہ جہنم سے دور ہی رہیں گے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–104
46: پتھر کے جن بتوں کی یہ مشرکین عبادت کرتے تھے ان کو بھی سزا کے طور پر نہیں بلکہ اس لئے جہنم میں ڈالا جائے گا تاکہ اس بات کا عملی مظاہرہ کیا جائے کہ جن بتوں کو تم خدا سمجھتے تھے وہ آخر کار کتنے بےبس ثابت ہوئے۔ 46:
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
ان الذین سبقت ……خلدون (21 : 102) ” رہے وہ لوگ جن کے بارے میں ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا ہے تو وہ یقینا اس سے دور رکھے جائیں گے۔ اس کی سرسراہٹ تک نہ نہ سنیں گے اور وہ ہمیشہ ہمیشہ من بھاتی چیزوں میں رہیں گے۔ ‘ لفظ حسبھا ان الفاظ میں سے ہے جو اپنے صوتی ترنم سے اپنے مفہوم کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ لفظ آگ کی اس آواز کو ظاہر کرتا ہے جو جلتی ہے اور جلاتی ہے اور سر سر کی آواز سنائی دیتی ہے۔ یہ ایسی آواز ہے کہ اس کے تصور سے انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور اس پر اس کے بارے میں سوچتے ہی کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل ایمان جن کے بارے میں اچھا فیصلہ صادر ہوچکا ہے اس آواز کو بھی نہ…
Read the full tafseer →6 یعنی ایک بار پل صراط پر سے گزر کر پھر ہمیشہ دور رہیں گے اور اس پر سے گزرتے ہوئے کبھی دوزخ کی تکلیف والم سے قطعاً دوری ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
آیت 102 لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَہَا ج ”
سورۂ مریم کی آیت 71 وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُہَا ج کے مطابق ایک دفعہ جہنم کا مشاہدہ تو سب کو کرایا جائے گا ‘ لیکن پھر اس کے بعد اس کو اہل جنت سے بہت دور کردیا جائے گا۔
وَہُمْ فِیْ مَا اشْتَہَتْ اَنْفُسُہُمْ خٰلِدُوْنَ ”
تمام مرغوبات نفس اہل جنت کو فراہم کردی جائیں گی اور وہ اس کیفیت میں ہمیشہ رہیں گے۔
Read the full tafseer →89 جب یہ آیت نازل ہوئی کہ مشرکین سب اپنے معبودوں سمیت جہنم کا ایندھن بنیں گے تو ہم مشرک کہنے لگے کہ ہم تو ان بتوں کے علاوہ فرشتوں کو بھی پوجتے ہیں۔ اسی طرح عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور یہود نے عزیر (علیہ السلام) کو معبود بنا رکھا ہے تو کیا یہ فرشتے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عزیر (علیہ السلام) سب جہنم میں جائیں گے ؟ اس سوال کا جواب رسول اللہ ﷺ نے یہ دیا کہ جو شخص بھی خود یہ چاہتا ہو کہ اس کی عبادت کی جائے وہ یقیناً جہنم میں جائے گا۔ اور اسی حوالہ کا جواب اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں نازل فرمایا اور ہر دو جواب کی رو سے فرشتے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت عزیر (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
136۔ (اس لئے کہ وہ جنت میں ہوں گے اور جنت دوزخ سے بالکل الگ اور فاصلہ پر ہوگی) (آیت) ” ان الذین سبقت لھم منا لحسنی “۔ سے معنی بعض صوفیہ نے یہ لئے ہیں کہ سبقت محبتنا ایاہ فی الازل یعنی ہماری محبت ان کے ساتھ ازل میں سابق ہوئی، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہی وہ استعداد سابق ہے جس کی بابت کہا جاتا ہے کہ محبت کی ابتداء محبوت کی جانب سے ہوتی ہے۔
137۔ جنت کی ایک خاص اور امتیازی خصوصیت یہاں بہ کمال بلاغت ایک مختصر فقرہ میں بیان کردی گئی۔ یعنی وہ جگہ ایسی ہوگی جہاں سب کچھ انسان کی اپنی مرضی کے مطابق ہوگا۔ جو ہوا بھی چلے گی اس کی مرضی کے موافق، جو موسم بھی وہ چاہے گا وہی پیدا ہوجائے گا، جو غذا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–112
آیت نمبر 94 تا 112
ترجمہ : تو جو شخص نیک عمل کرے اور وہ مومن بھی ہو تو اس کی کوشش کی ناقدری نہیں کی جائے گی یعنی انکار نہیں کیا جائے گا اور ہم اس کی سعی کو لکھ لیتے ہیں یعنی ہم فرشتوں کو اس کے لکھنے کا حکم دیتے ہیں سو ہم اس کو اس کی سعی کا بدلہ دیں گے اور حرام ہے اس بستی پر یعنی بستی والوں پر جن کو ہم نے ہلاک کردیا ہے یہ کہ وہ لوٹ آئیں یعنی ان کا دنیا کا طرف لوٹ کر آنا ممتنع ہے اور لا یرجعون میں لا زائدہ ہے، یہاں تک کہ یہ امتناع رجوع کی گایت ہے کھولدئیے جائیں یا جوج اور ماجوج فتحت تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے، یأجوج مأجوج ہمزہ کے ساتھ اور ترک ہمزہ کے ساتھ دو قبیلوں کے دو عجمی نام ہیں اور ان سے…
Read the full tafseer →ان الذین سبقت لہم منا الحسنی اولئک عنہا مبعدون۔ جن کے لئے ہماری طرف
سے بھلائی مقدر ہوچکی ہے وہ اس (دوزخ) سے دور رکھے جائیں گے۔
اَلْحُسْنٰی یعنی اچھا مرتبہ ‘ درجۂ قرب یا اچھی خصلت یعنی سعادت یا اللہ کی طرف سے طاعت کی توفیق یا جنت کی بشارت 1 ۔ حضرت جنید نے آیت مذکورہ کی تشریح میں فرمایا جن کو ابتداء میں ہماری عنایت حاصل ہوگئی انتہا میں ان کو ولایت نصیب ہوگئی۔
ابن مردویہ نے اور المختار میں ضباع نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا کہ عبداللہ بن الزبعری نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا محمد ﷺ : تم دعویٰ کرتے ہو کہ اللہ نے تم پر اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنَ اللّٰہِ حَصَبُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
(101۔ 102) اور جن حضرات کے لیے ہماری طرف سے جنت مقدور ہوچکی ہے جیسا کہ حضرت عیسیٰ و عزیر ؑ وہ دوزخ سے نجات میں رہیں گے اور اس سے اس قدر دور رکھے جائیں گے کہ اس کی آہٹ بھی نہ سنیں گے اور وہ لوگ اپنی پسند کی چیزوں سمیت جنت میں ہمیشہ رہیں گے ،
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓى۔۔ :”الْحُسْنٰٓى“ ”اَلْأَحْسَنُ“ کی مؤنث ہے، معنی ہے سب سے اچھی چیز۔ مراد وہ سعادت اور خوش قسمتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی ان کی تقدیر میں لکھ دی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شرک کی وجہ سے جہنم میں جانے والوں کے ذکر کے بعد اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنے والوں کا ذکر فرمایا۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سعادت اور نیک اعمال کی توفیق یا معافی مقدر کردی ہے اور وہ جہنم سے دور رکھے جائیں گے۔ بعض مفسرین نے اس آیت سے مراد وہ صالحین، انبیاء اور فرشتے لیے ہیں جن کی مشرکین عبادت کرتے تھے۔ ان کے مطابق یہ آیت مشرکین کے جواب میں اتری ہے…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان الذین سبقت لھم منا الحسنی الحسنی سے مراد جنت ہے۔ اولئک عنھا، ھاضمیر سے مراد آگ ہے۔ مبعدون۔ کلام کا معنی استشناء ہے اسی وجہ سے بعض اہل علم نے کہا : ان یہاں بمعنی الا ہے اور قرآن میں اس کے علاوہ ایسا کہیں نہیں۔ محمد بن حاطب نے کہا میں نے حضرت علی ؓ کو یہ آیت منبر پر پڑھتے سنا : ان الذین سبقت لھم منا الحسنی انہوں نے فرمایا میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ حضرت عثمان ( رض) ان میں سے ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–104
1:۔ فریابی، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم، طبرانی، ابن مردویہ، ابوداود نے ناسخ میں حاکم نے (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) کئی طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ (آیت) ” انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم، انتم لھا وردون “۔ نازل ہوئی تو مشرکین نے کہا کہ فرشتے عیسیٰ (علیہ السلام) اور عزیر (علیہ السلام) کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے کیا یہ بھی دوزخ میں جائیں گے تو پھر یہ (آیت) ان الذین سبقت لھم منا الحسنی اولئک عنھا مبعدون “ نازل ہوئی کہ جس سے مراد ہیں عیسیٰ (علیہ السلام) ، عزیر اور فرشتے (کہ ان کو جہنم سے دور رکھا جائے گا (
2:۔ ابن مردویہ اور ضیاء نے مختارہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا…
Read the full tafseer →[ ان : بیشک ] [ الَّذِينَ : وہ لوگ ] [ سَبَقَتْ : آگے بڑھی ] [ لَهُمْ : جن کے لئے ] [ مِّنَا : ہمارے پاس سے ] [ الْحُسْنٰٓى: بھلائی ] [ اُولٰۗىِٕكَ : وہ لوگ ] [ عَنْهَا : اس (جہنم) سے ] [ مُبْعَدُوْنَ : دور رکھے جانے والے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–103
جن کے بارے میں بھلائی کا فیصلہ ہوچکا وہ دوزخ سے دور رہیں گے
جب آیت (اِنَّکُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ) (الایۃ) نازل ہوئی تو عبداللہ بن الزبعریٰ نے اعتراض کیا (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوا تھا) کہ پھر تو عیسیٰ اور عزیر اور فرشتے سب یہ دوزخ میں جائیں گے کیونکہ ان کی بھی عبادت کی جاتی رہی ہے۔ اس پر آئندہ آیت کریمہ (اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَھُمْ مِّنَّا الْحُسْنآی اولٰٓءِکَ عَنْھَامُبْعَدُوْنَ ) نازل ہوئی (بلاشبہ جن کے لیے پہلے ہی ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ ہوچکا ہے وہ جہنم سے دور رکھے جائیں گے (لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَھَا وَ ھُمْ فِیْ مَا اشْتَھَتْ اَنْفُسُھُمْ خٰلِدُوْنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–104
بیان قرب قیامت و خروج یا جوج ماجوج وفناء عالم و بیان
ذلت و خواری اہل غفلت وبیان عزت و کرامت اہل سعادت
قال اللہ تعالیٰ وحرم علی قریۃ اہلکنھا انھم لا یرجعون .... الیٰ .... انا کنا فعلین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں توحید اور رسالت کا بیان تھا اب آگے معاد اور قرب قیامت کو بیان کرتے ہیں کہ اس دنیا کا ایک وقت معین ہے اس کے بعد فنا کردی جائیگی اور اس فنا کی ابتدائی علامت خروج یاجوج و ماجوج ہے اس کے بعد وہ وعدہ بہت قریب آلگے گا۔ منجملہ علامات قیامت حضرت عیسیٰ علیہا لسلام کا آمان سے نازل ہونا اور دجال کو قتل کرنا ہے۔ دجال کے قتل ہوجانے کے بعد یاجوج ماجوج کا خروج ہوگا جن کی تعداد کی کوئی حد نہیں۔ فی الحال یہ…
Read the full tafseer →73:۔ ” اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتق لَھُمْ مِّنَّا الْحُسْنیٰ الخ “ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جب ” اِنَّکُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ الخ “ نازل ہوئی تو کفار قریش اپنے ایک سر کردہ ابن الزبعری کے پاس آئے اور اسے اس آیت کی اطلاع دی تو اس نے کہا اگر میں إحمد کے پاس ہوتا تو اس کو اسکا معقول جواب دیتا۔ قریش نے اس سے پوچھا تو کیا جواب دیتا تو اس نے کہا۔ میں کہتا کہ یہ مسیح بن مریم ہے جس کی نصاریٰ پرستش کرتے ہیں اور یہ عزیر ہے جس کی یہود پرستش کرتے ہیں تو کیا یہ بھی جہنم کا ایندھن ہوں گے کفار قریش یہ سن کر بہت خوش ہوئے۔ اور انہوں نے سمجھا کہ ابن الزبعری کی بات لاجواب ہے اور محمد کے پاس اس کا کوئی جواب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–104
ربط آیات :
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کیا ہے۔ ان کے مصائب و تکالیف ، ان کے طریقہ تبلیغ ، ان کی مناجات اور عبادت اور ان کے صبر پر روشنی ڈالی ہے۔ اور آئندہ آنے والوں کے لئے انہیں نمونہ بنایا ہے۔ آخر میں حضرت مریم ؓ اور مسیح (علیہ السلام) کا ذکر بھی کیا ہے اور پھر ایک اصولی بات یہ بیان فرمائی ہے کہ تمام انبیاء کی ملت اور دین ایک ہی رہا ہے۔ فرمایا میں تمہارا پروردگار ہوں ، لہٰذا میری ہی عبادت کرو۔ مگر بعد میں آنے والے لوگوں نے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے اور مختلف فرقوں میں بٹ گئے۔ بعض نے عقائد کو خراب کرلیا اور کفر وشرک میں مبتلا ہوگئے۔ فرمایا سب نے ہماری…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَہُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓى 0ۙ اُولٰۗىِٕكَ عَنْہَا مُبْعَدُوْنَ 101ۙ
سبق
أصل السَّبْقِ : التّقدّم في السّير، نحو : فَالسَّابِقاتِ سَبْقاً [ النازعات/ 4] ، والِاسْتِبَاقُ : التَّسَابُقُ. قال : إِنَّا ذَهَبْنا نَسْتَبِقُ [يوسف/ 17] ، وَاسْتَبَقَا الْبابَ [يوسف/ 25] ، ثم يتجوّز به في غيره من التّقدّم، قال : ما سَبَقُونا إِلَيْهِ [ الأحقاف/ 11] ،
( س ب ق) السبق
اس کے اصل معنی چلنے میں آگے بڑھ جانا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : فَالسَّابِقاتِ سَبْقاً [ النازعات/ 4] پھر وہ ( حکم الہی کو سننے کے لئے لپکتے ہیں ۔ الاستباق کے معنی تسابق یعنی ایک دوسرے سے سبقت کرنا کے ہیں ۔ قرآن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–104
جس کے بعد بطور معیار کے فرماتا ہے فمن یعمل من الصلحت کہ جو کوئی ایمان لائے گا اور پھر نیک کام کرے گا خواہ کوئی ہو اس کی کوشش کا قطعاً بدلہ ہم دیں گے پھر فرماتا ہے و حرام علی قریہ حرام خبر ہے اس کا متبداء یا انہم لایرجعون ہے یا کچھ اور۔ اول صورت میں بعض علمائے نے لاکو زائد نہیں مانا ہے تب یہ معنی ہوں گے کہ ان کا عدم رجوع حرام یعنی ممتنع ہے تب رجوع کرنا ان پر واجب یعنی ضرور ہے اور آخرت کی طرف
اھلکناھا ‘ اکثر مفسرین لاکو زائد کہتے ہیں تب یہ معنی کہ ان پر رجوع کرنا دنیا میں باردگر آنا حرام کردیا ہے یا یہ کہ ان کی تقدیر میں شرک و معاصی سے باز آنا حرام تھا اس لیے وہ غارت ہوئے۔ جمہور کا قول بہت ٹھیک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَھُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓیلا اُوْلٰٓئِکَ عَنْھَا مُبْعَدُوْنَ ۔ لاَ یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَھَا ج وَھُمْ فِیْ مَااشْتَھَتْ اَنْفُسُھُمْ خٰلِدُوْنَ ۔ (الانبیاء : 101، 102)
(بیشک جن کے لیے اچھے انجام کا ہماری جانب سے وعدہ ہوچکا ہے وہ اس سے دور رکھے جائیں گے۔ وہ اس کی آہٹ بھی نہیں سنیں گے وہ ان (نعمتوں) میں جن کی خواہش انھوں نے کی تھی ہمیشہ رہیں گے۔ )
ایک اعتراض کا جواب
حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) کا خیال ہے کہ جب سابقہ آیت کریمہ نازل ہوئی (تو جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں) ابن الزیغری نے کہا کہ اگر شرک کی وجہ سے معبود جہنم میں جائیں گے تو جہاں ہمارے معبود یعنی پتھر کے بت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–103
فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں کے مقابلے میں نیک لوگوں کا صلہ اور انعام۔
جن لوگوں کی فطرت اور کوشش کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے ان کے نصیب میں خیر اور نیکی رکھ دی ہے۔ وہ لوگ جہنم سے کوسوں دور رکھے جائیں گے۔ اس قدر جہنم سے دور اور محفوظ ہوں گے کہ نہ وہ جہنم کی آہٹ سنیں گے اور نہ جہنم کی بدبو ان تک پہنچ پائے گی۔ انھیں جنت میں وہ سب کچھ دیا جائے گا جس کی دل میں چاہت کریں گے۔ انھیں قیامت کی ہولناکیوں اور گھبراہٹ کے بڑے بڑے مواقع پر کوئی غم اور پریشانی نہیں ہوگی۔ ہر موقعہ اور مقام پر ملائکہ انھیں سلام کریں گے اور کہیں گے یہ ہے وہ اجر و انعام کا دن جس کا رب کریم نے تمہارے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ قیامت کے دن…
Read the full tafseer →اطاعت والے جہنم سے محفوظ :
101: اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَھُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓی (جن کے لئے ہماری طرف سے بھلائی مقدر ہوچکی ہوگی) الحسنیؔ جن میں مرتبہ والی خصلت و عادت۔ یہ احسن کی مؤنث ہے اور نمبر 1۔ سعادت کو کہتے ہیں نمبر 2۔ ثواب کی بشارت نمبر 3۔ اطاعت کی توفیق۔
شان نزول : یہ آیت ابن الزبعری کے اس قول کے جواب میں اتری جو اس نے آنحضرت ﷺ کی تلاوت جو صنادیدِ قریش کے سامنے کی گئی اس کو سن کر کہا : انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جہنم الی قولہ خالدون۔ تو وہ کہنے لگا کیا یہود نے عزیر اور نصاریٰ نے مسیح اور نبو ملیح نے ملائکہ کی عبادت نہیں کی۔ اور ماتعبدونؔ میں ماؔ غیر ذوی العقول کیلئے آتا ہے۔…
Read the full tafseer →تفسیر۔
101۔ ان الذین سبقت لھم منا الحسنی، ، بعض حضرات نے کہا کہ یہاں، ان ، بمعنی ، الا، کے ہے۔ معنی یہ ہوگا کہ مگر وہ جن کے لیے ہماری طرف سے بھلائی مقدر ہوچکی ہے۔ اس سے مراد نیک بختی اور جنت میں رہنے کی خوشگوار زندگی یا اللہ کی طرف سے طاعت کی توفیق یا جنت کی بشارت ہے۔ اولئک عنھامبعدون، بعض حضرات نے کہا کہ یہ آیت اپنے عموم پر ہے۔ یعنی ہر وہ شخص جس کو اللہ کی طرف سے بھلائی حاصل ہو وہ نیک بخت اور اچھا درجہ پاتا ہے۔ اکثر مفسرین کا قول ہے کہ اس سے مراد ہر وہ شخص جو اپنے معبود کی عبادت کرتا ہے اور پھر وہ اللہ سے امید بھی لگائے رکھتا ہے۔ تو اس کی عبادت کو اللہ تعالیٰ اکارت کردیتے تھے۔ یہ اس وجہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–103
100۔ 103:۔ اوپر ذکر تھا کہ مشرکوں اور ان کے جھوٹے معبودوں کو ہمیشہ دوزخ میں رہنے کا حکم سنا دیا جائے گا اور قائل کرنے کے لیے ان مشرکوں سے یہ کہا جائے گا کہ دنیا میں جن تبوں کو تم اپنا معبود جانتے تھے اللہ تعالیٰ کے نزدیک اگر ان بتوں میں معبود ہونے کی صلاحیت ہوتی تو آج ان کو دوزخ کا ایندھن نہ بنایا جاتا ‘ ان آیتوں میں فرمایا ‘ دوزخ میں ہمیشہ رہنے کا حکم سن کر یہ لوگ روئیں گے چلاویں گے اور ان میں کا ہر ایک شخص اپنے اپنے عذاب کی تکلیف میں ایسا بدحواس ہوگا کہ ایک شخص دوسرے کے رونے اور چلانے کی آواز بھی نہ سنے گا 1 ؎‘ ترمذی میں ابودرداء ؓ سے اور مستدرک حاکم ‘ بیہقی کی بعث ونشور وغیرہ میں حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–103
آیت 98
یعنی اے وہ لوگو ! جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی عبادت کرتے ہو (حصب جھنم) تم سب جہنم کا ایندھن ہو (انتم لھا وردون) تمہیں اور تمہارے بتوں کو جہنم میں جھونکا جائے گا۔
بتوں کو جہنم میں جھونکنے میں حکمت یہ ہے۔۔۔. حالانکہ یہ پتھر ہیں، عقل و شعور نہیں رکھتے اور ان کا کوئی گناہ بھی نہیں۔۔۔. کہ ان کا کذب و افترا واضح ہوجائے جنہوں نے ان بتوں کو معبود بنا رکھا تھا اور تاکہ ان کے عذاب میں اضافہ ہو۔
اس لئے فرمایا : (لو کان ھولاء الآ ما وردوھا) ” اگر یہ واقعی معبود ہوتے تو جہنم میں کبھی داخل نہ ہوتے۔ “ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد مقدس کی مانند ہے۔ (لیبین لھم الذی یختلفون فیہ و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–112
ایک کھیت کے بارے میں سلیمان کا فیصلہ
قول باری ہے (وداود و سلیمان اذ یحکما ن فی الحرث اذ نفشت فیہ غنم القوم و کنا لحکمھم شاھدین ففھمنا ھا سلیمان وکلا اتینا حکماً و علماً اور اس نعمت سے ہم نے دائود و سلیمان کو سرفراز کیا۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ وہ دونوں ایک کھیت کے مقدمے میں فیصد کر رہے تھے جس میں رات کے وقت دوسرے لوگوں کی بکریاں پھیل گئی تھیں اور ہم ان کی عدالت کو دیکھ رہے تھے۔ اس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق مروزی نے روایت بیان کی، انہیں الحسن بن ابی ربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
137 اچھے انجام والوں کے لیے عظیم الشان بشارت و خوش خبری : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں کے لیے ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا ہوگا ان کو اس ۔ دوزخ۔ سے بہت دور رکھا گیا ہوگا۔ یعنی اس عظیم الشان حسنیٰ اور بھلائی کا کہ ان کے لیے ابدی سعادت اور دائمی کامیابی ہے ان کے صدق و اخلاص کی بنا پر جس کے نتیجے میں انجام کار یہ لوگ جنت کی اس بڑی حسنیٰ اور عظیم الشان بھلائی سے سرفراز ہوں گے جو تمام بھلائیوں اور سعادتوں کی جامع ہوگی ۔ اللہم اجعلنا من اہلہا ۔ سو ان کا معاملہ الگ ہوگا اور ان کو دوزخ کی اس آگ سے دور بہت دور رکھا جائے گا اور وہ اپنے رب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–103
یاجوج ماجوج کا ظہور قیامت کی نشانی
تشریح : قیامت کے قریب ہونے یا قیامت آنے کی دس نشانیاں رسول اکرم ﷺ نے بیان فرمائی ہیں ان میں سے ایک نشانی یا جوج و ماجوج کا دنیا میں پھیل جانا بھی ہے۔ یاجوج ماجوج کے بارے میں سورة کہف کی آیات 93 سے 98 تک میں بڑی تفصیل سے لکھا جا چکا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ ذوالقرنین ایک بڑا فاتح بادشاہ گزرا ہے جس نے دنیا کے شمالی پہاڑوں کے درمیان سیسہ پلائی دیوار اس غرض سے بنوائی تھی کہ ان کے پیچھے ایک شیطان فطرت قوم یاجوج ماجوج رہتی تھی اور وہ لوگوں کو بہت زیادہ ستاتے تھے۔ وہ اس دیوار کو ہر وقت توڑنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ قرآن میں آیا ہے کہ قیامت کے قریب وہ اس دیوار کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–112
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
اور آخرت میں تو وہ ایماندار لوگ ہی نام پائیں گے جنہوں نے نیک کام کئے ہوں گے کہ ان کا کوئی عمل رائیگاں نہ جائے گا کہ اللہ کریم کے لکھنے والے ہر ہر عمل کو لکھ لیتے ہیں یعنی آخرت کے اجر کی بنیاد عقیدہ ہے کہ درست ہو اور صرف عقیدہ ہی نہ رہے اس کے ساتھ عمل صالح یعنی نبی (علیہ السلام) کے ارشاد کے مطابق عمل بھی ہو تو ہر چھوٹا بڑا عمل انعام اور اجر پائے گا مگر جو لوگ ایمان ہی قبول نہیں کرتے وہ عمل تو کر ہی نہیں سکتے اور پھر عذاب الہی سے تباہ ہوجاتے ہیں تو آنکھ کھلتی ہے مگر ان کے لیے پھر سے عمل کے لیے دنیا میں واپس آنا ہرگز ممکن نہیں ، یہاں تک کہ دنیا کی بساط لپیٹ دی جائے گی…
Read the full tafseer →ف 8 ۔ اوپر گزرچکا ہے کہ یہ آیت مشرکین کا اعتراض سفع کرنے کے لئے نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →(21:101) سبقت ماضی واحد مؤنث غائب۔ پہلے سے ہوچکی۔ پہلے سے ٹھہر چکی۔ سبق مصدر (باب ضرب)
الحسنی۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے واحد مؤنث۔ الاحسن واحد مذکر۔ بمعنی سعادت بھلائی۔ یا مراد اس سے الجنۃ ہے۔ یعنی وہ لوگ جن کے لئے ہماری طرف سے سعادت مقدر ہوچکی ہے ۔ مبعدون۔ اسم مفعول جمع مذکر ابعاد (افعال) مصدر۔ دور رکھے گئے۔ دور کئے ہوئے یعنی دوزخ سے ان کو دور رکھا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–103
لغات القرآن آیت نمبر 94 تا 103
لاکفران ناقدری نہ ہوگی۔ سعی کوشش، جدوجہد۔ کاتبون لکھنے والے۔ فتحت کھول دی گئی۔ حدب ٹیلہ، بلند مقام۔ ینسلون وہ گھستے چلے آئیں گے۔ شاخصۃ پھٹ جانے والی۔ حصب ایندھن، جلنے کی چیز۔ واردون پہنچنے والے، اترنے اولے۔ زفیر چیخ و پکار۔ سبقت فیصلہ ہوچکا، گذر چکا۔ مبعدون دور رہنے والے۔ حسیس آہٹ، سرسراہٹ۔ اشتھت من پسند۔ الفزع گھبراہٹ۔ توعدون وعدہ کیا جاتا ہے۔
تشریح : آیت نمبر 94 تا 103
فرمایا کہ وہ صاحب ایمان شخص جو کوئی بھی نیک یا بھلا کام کرے گا تو اس کی سعی، کوشش اور جدوجہد کو ضائع نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے اعمال کو لکھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–103
(ف 2) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ منکر نکیر کے سوال و جواب کے بعد فرشتے اللہ کے حکم سے نیک لوگوں کو ان کا جنت کاٹھکانہ دکھا کر یہ وعدہ خوشخبری کے طور پر سنادیتے ہیں کہ اسی ٹھکانے میں ہمیشہ رہنے کے لیے تم کو قیامت کے دن دوبارہ زندہ کیا جائے گا توقبر سے اٹھتے ہی وہ خوش خبری کا وعدہ ان نیک لوگوں کو اللہ کے فرشتے پھر یاد دلائیں گے کہ تمہارا وہ دن ہے کہ جس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے وعدہ دیا تھا یعنی یہ تمہارے سیر وتماشا کا دن ہے اور عزت و عظمت کا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–104
[60] ظاہر ہے کہ اس حکم سے وہ تمام ہستیاں مستثنیٰ رہیں گی جو بجائے خود مقبول ہیں اور جن کی رضا کو ان کی معبودیت میں قطعی دخل نہیں، مثلاً ملائکہ، اولیاء کرام اور بزرگان دین۔ معبودوں کا اپنے پرستاروں کے ساتھ داخل جہنم ہونا پرستاروں کے لئے اور زیادہ تکلیف و حسرت کا باعث ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–103
اہل جنت کو دوزخ کو اذیتوں کا کھٹکا نہیں :
(ف 1) جنت اور دوزخ اللہ تعالیٰ کی رضا اور ناراضگی کے دو مقام ہیں ، جو لوگ مشرک ہیں ، جنہوں نے حق پرستی کے قعر کو چھوڑ کر شرک پرستی کو نشیمن بنایا ہے ، وہ اللہ کی ناراضگی اور ناخوشی کے مہبط ہیں ، اس لئے ان کا مقام بھی وہ ہے جہاں سے غیض وغضب کے شعلے بھڑکتے ہیں ، اور جن کے مقدر میں نیکی ہے ، اور نصیب میں اللہ کی توحید ، وہ رضا الہی کا موجب ہیں ، اور ان کا مقام بھی وہ سرور آفرین ہے کہ وہاں جہنم کے ہولناک شعلوں کی آواز تک نہیں پہنچے گی ، اور چونکہ دنیا میں انہوں نے ایثار وقربانی سے کام لیا تھا ، اور محض اللہ کی رضا جوئی کے لئے ان تمام لذتوں اور آسائشوں کو…
Read the full tafseer →(101) بلاشبہ ! جن لوگوں کے لئے ہماری جانب سے پہلے ہی بھلائی مقرر ہوچکی ہے وہ لوگ اس جہنم سے دور رہیں گے۔ یعنی حضرت حق تعالیٰ کی جانب سے جن لوگوں کے لئے بھلائی اور جنت مقدر ہوچکی ہے وہ دوزخ سے دور رکھے جائیں گے۔
مطلب یہ کہ دوزخ سے گزرنے کے بعد دوزخ سے اتنی دور کردیئے جائیں گے کہ ان کو اس کی آہٹ بھی نہیں پہنچے گی۔ کیونکہ وہ جنت میں ہوں گے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ایک بار گزر کر پھر ہمیشہ دور رہیں گے۔ 12۔ آگے دور رہنے کی مقدار کی طرف اشارہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–101
ف 1۔ حاصل یہ ہوا کہ اس وقت منکرین رجوع بھی رجوع کے قائل ہوجاویں گے۔
Read the full tafseer →معبود بنائے گئے لوگوں سے جن کا اپنا حصہ اس میں کچھ نہیں دوزخ سے دور ہی رہیں گے :
101۔ آیت 98 سے جو مضمون چلا تھا اس کی تکمیل کرتے وقت صاحب مضمون یعنی اللہ تعالیٰ نے خود وضاحت فرما دی کہ ہم نے جو بیان کیا ہے ” تم اور جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو دوزخ کا ایندھن ہو تم اس میں ضرور داخل ہو گے تو ہم خود اس کی وضاحت کرتے ہیں کہ جن کے لئے ہماری طرف سے پہلے سے بھلائی آچکی ہے وہ یقینا اس سے دور ہی رکھے جائیں گے ۔ کیونکہ انہوں نے اپنی عبادت کئے جانے کا تم کو حکم نہیں دیا تھا بلکہ تم نے خود اور تمہارے آباء و اجداد نے وہم پرستی کی بنا پر ان کو معبود بنا لیا اور ان کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنے لگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
At that point Allah Ta` ala revealed the verse : إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ أُولَـٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ (Surely, those for whom the good (news) from Us has come earlier shall be kept far away from it. - 21:101) that is those for whom Our grace and good result is ensured will be kept away from Hell. And for the same Ibn al-Ziba` ra، Allah Ta` ala has revealed this Qur’ anic verse a. وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ (43:57) that is when Ibn al-Ziba` ra put forward the example of Sayyidah Maryam (علیہا السلام) ، the people of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
97. These will be the people who practiced virtue and righteousness in this world. Allah has already promised that they will be kept safe from the torture and will be granted salvation.
Read the full tafseer →