Al-Anbiyaa 21:100

Al-Anbiyaa · from ayah 100

21:100

لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّهُمْ فِیْهَا لَا یَسْمَعُوْنَ ۟لَهُمۡ فِيۡهَا زَفِيۡرٌ وَّهُمۡ فِيۡهَا لَا يَسۡمَعُوۡنَ

وہاں ان کو چلاّنا ہوگا اور اس میں (کچھ) نہ سن سکیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

For them therein is heavy sighing, and they therein will not hear.

— Saheeh International

Juz 17 · Ruku 7 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anbiyaa

All translations of 21:100

وہاں وہ پھنکارے ماریں گے اور حال یہ ہو گا کہ اس میں کان پڑی آواز نہ سنائی دے گی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہاں ان کو چلاّنا ہوگا اور اس میں (کچھ) نہ سن سکیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه وہاں چلا رہے ہوں گے اور وہاں کچھ بھی نہ سن سکیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہاں ان کی چیخیں نکلیں گی، اور وہاں وہ کچھ سن نہیں سکیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ اس میں رینکیں گے اور وہ اس میں کچھ نہ سنیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہاں ان کی (آہوں کا شور اور) چیخ و پکار ہوگی اور اس میں کچھ (اور) نہ سن سکیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ان کے لیے اس میں گدھے جیسی آواز ہوگی اور وہ اس میں نہیں سنیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ وہاں اس طرح پھنکاریں گے کہ اس میں اور کوئی آواز نہ سن سکیں گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس اس میں ان پوجنے والوں کے چلانا ہوگا اور ان کے معبودوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ کچھ نہیں سنیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان کی وہاں چیخیں ہی چیخیں ہوں گی اور وہاں یہ لوگ کچھ سننے بھی نہ پائیں گے

— مولانا اسحاق مدنی

اس میں ان کا شور ہوگا اور وہ اس میں (کوئی اور بات) سنیں گے (بھی) نہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہیں اس میں چیخنا چلاناّ ہوگا اور وہ اس میں کچھ سن نہیں سکیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان کے لیے وہاں چلانا ہے اور وہ اس میں کچھ نہ سنیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

There they shall groan with anguish and the din and noise in Hell will not let them hear anything.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

For them, there will be screams in it and they will not hear.

— Muhammad Taqi Usmani

For them, there will be screams in it and they will not hear.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Therein they will be breathing out with deep sighs and roaring and therein they will hear not.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Therein wailing is their portion, and therein they hear not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

For them therein is heavy sighing, and they therein will not hear.

— Saheeh International

They will groan in pain therein, but no one will listen to them.

— Muhammad Sarwar

For them therein shall be groaning and therein they shall not hear.

— Muhammad Habib Shakir

Theirs therein shall be roaring, and therein they shall hear not.

— Abdul Majid Daryabadi

There, sobbing will be their lot, nor will they there hear (aught else).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 21:100

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 98–103

جہنم کی ہولناکیاں بت پرستوں سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اور تمہارے بت جہنم کی آگ کی لکڑیاں بنوگے جیسے فرمان ہے آیت (وقودہا الناس والحجارۃ) اس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر حبشی زبان میں حطب کو حصب کہتے ہیں یعنی لکڑیاں۔ بلکہ ایک قرأت میں بجائے حصب کے حطب ہے۔ تم سب عابد و معبود جہنمی ہو اور وہ بھی ہمیشہ کے لئے۔ اگر یہ سچے معبود ہوتے کیوں آگ میں جلتے ؟ یہاں تو پرستار اور پرستش کئے جانے والے سب ابدی طور پر دوزخی ہوگئے وہ الٹی سانس میں چیخیں گے جیسے فرمان ہے آیت (فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّشَهِيْقٌ01006ۙ) 11۔ ھود :106) ، وہ سیدھی الٹی سانسوں سے چیخیں گے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْبِیَآء 96 اصل میں لفظ زَفِیْر استعمال ہوا ہے، سخت گرمی، محنت اور تکان کی حالت میں جب آدمی لمبا سانس لے کر اس کو ایک پھنکار کی شکل میں نکالتا ہے تو اسے عربی میں زفیر کہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 98–100

اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ، یعنی تم اور تمہارے معبود بجز اللہ کے سب کے سب جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ اس آیت میں تمام معبودات باطلہ جن کی ناجائز پرستش کفار کے مختلف گروہوں نے دنیا میں کی سب کا جہنم میں داخل ہونا بیان فرمایا گیا ہے اس پر یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ ناجائز عبادت تو حضرت مسیح اور عزیر اور فرشتوں کی بھی کی گئی ہے تو سب کے جہنم میں جانے کا کیا مطلب ہوگا ؟ اس کا جواب حضرت ابن عباس نے دیا ہے ان کی روایت تفسیر قرطبی میں اس طرح ہے کہ ابن عباس نے فرمایا کہ قرآن کی ایک آیت ایسی ہے جس میں لوگ شبہات کرتے ہیں مگر عجیب اتفاق ہے کہ اس کے متعلق لوگ مجھ سے سوال نہیں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اگر التباس نہ ہو تو انتشار ضمیر عیب نہی، بلکہ ایجاز ہے زفیر کے معنی آہ فریاد اور چیخنے چلانے کے ہیں اور ضمیر ھم پہلے جملے میں میرے نزدیک پجاریوں کے لئے ہے اور دوسرے جملے میں ان کے اصنام و احجار کے لئے۔ اگرچہ اس صورت میں بظاہر انتشار ضمیر ہے لیکن انتشار ضمیر، جیسا کہ ہم جگہ جگہ مثالوں کی روشنی میں واضح کرچکے ہیں، عیب صرف اس صورت میں ہے جب مرجع میں التباس کا اندیشہ ہو۔ اگر یہ اندیشہ نہ ہو، مرجع کے تعین کے لئے واضح قرینہ موجود ہے، تو یہ عیب نہیں بلکہ ایجاز کے پہلو سے یہ کلام کا حسن ہے۔ یہاں التباس کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ پجاری تو جہنم میں چیختے چلاتے اور آہ و فریاد کرتے ہوں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

10۔ 1 یعنی سارے کے سارے شدت غم و الم سے چیخ اور چلا رہے ہونگے، جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کی آواز بھی نہیں سن سکیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 98–104

46: پتھر کے جن بتوں کی یہ مشرکین عبادت کرتے تھے ان کو بھی سزا کے طور پر نہیں بلکہ اس لئے جہنم میں ڈالا جائے گا تاکہ اس بات کا عملی مظاہرہ کیا جائے کہ جن بتوں کو تم خدا سمجھتے تھے وہ آخر کار کتنے بےبس ثابت ہوئے۔ 46:

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 98–100

انکم و ماتعبدون من دون اللہ حصب جھنم انتم لھا وردون (21 : 98) ترجمہ :۔ ” بیشک تم اور تمہارے وہ معبود جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو ، جہنم کا ایندھن ہو ، وہیں تم کو جانا ہے۔ “ اچانک یہ لوگ اب میدان حشر میں پہنچا دیئے جاتے ہیں۔ یہ جہنم کے دھانے پر کھڑے ہیں۔ بڑی بےدردی کے ساتھ فرشتے ان کو اور ان کے معبودوں کو پکڑتے ہیں اور جہنم میں پھینکتے ہیں۔ وہاں پھینکے جاتے ہیں اور ایندھن کے ساتھ ایندھن ہو کر جلتے جاتے ہیں۔ صرف اس منظر سے ان کے خلاف استدلال ، وجدانی استدلال کیا جاتا ہے کہ اگر یہ الہ ہوتے تو وہ جہنم کا ایندھن نہ بنتے۔ یہ ہے واقعی وجدانی دلیل۔ لوکان ھولآء الھۃ ماوردوھا (21 : 99) ” اگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی شدت ہول اور عذاب کی سخت تکلیف اور اپنے چلانے کے شور سے کچھ سنائی نہ دے گا۔ ابن مسعود ؓ سے منقول ہے کہ ایک وقت آئے گا جب ہر دوزخی کو ایک لوہے کے صندوق میں بند کر کے اوپر میخیں ٹھونک دی جائیں گی۔ اور جہنم کی تہ میں چھوڑ دیئے جائیں گے۔ شاید کچھ نہ سن سکنا اس وقت کا حال ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 98–100

آیت 100 لَہُمْ فِیْہَا زَفِیْرٌ وَّہُمْ فِیْہَا لَا یَسْمَعُوْنَ ” ان کے معبود جو ان کے ساتھ ہی جل رہے ہوں گے ‘ وہ ان کی اس چیخ و پکار کو سن نہیں پائیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 98–100

88 یعنی مشرکوں کو ان کے معبودوں یعنی بتوں سمیت جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور یہ بت عموماً پتھر کے ہوتے تھے۔ اسی مضمون کو اللہ نے سورة بقرہ میں فرمایا (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ۝) 66 ۔ التحریم :6) جہنم کا ایندھن آدمی بھی ہوں گے اور پتھر بھی اور ان معبودوں کو جہنم میں دیکھ کر ان کے پوجنے والوں کی تکلیف اور حسرت میں کئی گنا اضافہ ہوجائے گا۔ ایک اس لئے کہ جن معبودوں سے وہ کئی طرح توقعات وابستہ کئے ہوئے تھے وہ ایسے بےبس ثابت ہوئے کہ انہی کی طرح جہنم میں جل رہے ہیں اور دوسرے اس لئے وہ جہنم کا ایندھن بن کر ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 99–100

135۔ (اپنے شوروغل، چیخ پکار میں) دوزخیوں کی خود ہی چیخ پکار اتنی ہوگی کہ کسی دوسرے کی کان پڑی آواز نہ سنائی دے گی، اہل دوزخ کو دوزخ میں رہنا ہی نہیں ہمیشگی کے لئے رہنا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 94–112

آیت نمبر 94 تا 112 ترجمہ : تو جو شخص نیک عمل کرے اور وہ مومن بھی ہو تو اس کی کوشش کی ناقدری نہیں کی جائے گی یعنی انکار نہیں کیا جائے گا اور ہم اس کی سعی کو لکھ لیتے ہیں یعنی ہم فرشتوں کو اس کے لکھنے کا حکم دیتے ہیں سو ہم اس کو اس کی سعی کا بدلہ دیں گے اور حرام ہے اس بستی پر یعنی بستی والوں پر جن کو ہم نے ہلاک کردیا ہے یہ کہ وہ لوٹ آئیں یعنی ان کا دنیا کا طرف لوٹ کر آنا ممتنع ہے اور لا یرجعون میں لا زائدہ ہے، یہاں تک کہ یہ امتناع رجوع کی گایت ہے کھولدئیے جائیں یا جوج اور ماجوج فتحت تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے، یأجوج مأجوج ہمزہ کے ساتھ اور ترک ہمزہ کے ساتھ دو قبیلوں کے دو عجمی نام ہیں اور ان سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لہم فیہا زفیر ان کے لئے جہنم کے اندر کر اہٹ ہوگی۔ زفیر کر اہٹ تنفس کی شدت۔ وہم فیہا لا یسمعون۔ اور وہاں (وہ اپنے غل شور میں کسی کی کوئی بات) نہیں سنیں گے ‘ ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے حضرت ابن مسعود کی روایت نقل کی ہے کہ جب دوزخ کے اندر حبس دوام کے جہنمی رہ جائیں گے تو ان کو لوہے کے صندوقوں میں بند کر کے لوہے کی کیلیں ٹھونک دی جائیں گی پھر ان صندوقوں کو دوسرے آہنی صندوقوں میں بند کردیا جائے گا اور لوہے کی میخیں ٹھونک دی جائیں گی پھر ان صندوقوں کو جہنم کے نچلے حصہ میں پھینک دیا جائے گا اور ہر ایک یہی خیال کرے گا کہ میرے سوا کسی کو عذاب نہیں دیا جا رہا ہے (یعنی کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(100) اور ان کا دوزخ میں شور و غل اور گدھے جیسی آوازیں ہوں گی (معاذ اللہ) اور وہ دوزخی رحمت وشفاعت دوزخ سے نکلنے اور نرمی کی کوئی بات بھی نہ سنیں گے اور نہ وہاں دیکھیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ : ”زَفِيْرٌ“ کے معنی کے لیے دیکھیے سورة ہود (106)۔ وَّهُمْ فِيْهَا لَا يَسْمَعُوْن : اس کی ایک تفسیر یہ ہے کہ وہ اتنی اونچی آواز سے گدھے کی طرح رینگیں گے کہ اپنے چیخ پکار کے شور میں کوئی بات نہیں سنیں گے۔ دوسری تفسیر عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمائی کہ جب وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جنھیں ہمیشہ آگ میں رکھا جائے گا، تو انھیں آگ کے تابوتوں میں ڈال دیا جائے گا، جن میں آگ کی میخیں ہوں گی، تو ان میں سے کسی کو نظر نہیں آئے گا کہ اس کے سوا کسی کو عذاب ہو رہا ہے۔ پھر عبد اللہ ؓ نے یہ آیت پڑھی : (لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّهُمْ فِيْهَا لَا يَسْمَعُوْنَ) ابن کثیر بحوالہ ابن ابی حاتم،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 99–100

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لو کان ھوء لأء الھۃ ما ورودھا یعنی اگر یہ بت خدا ہوتے تو ان کے عبادت گزار آگ میں نہ جاتے۔ بعض علماء نے کہا عبادت گزار اور معبود جہنم میں داخل نہ ہوتے اسی لیے فرمایا : کل فیھا خلدون۔ کفارو شیاطین میں سے جو آگ میں داخل ہوں گے ان کے لیے چیخ و پکار ہوگی۔ رہے بت تو ان میں اختلاف ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ انہیں زندہ کرے گا اور انہیں عذاب دے گا تاکہ ان کے لیے چیخ و پکار ہو یا انہیں زندہ نہیں کرے گا ؟ اس کے متعلق دو قول ہیں۔ الزفیر مغموم نفس کی وہ آواز جو دل سے نکلتی ہے۔ یہ سورة ہود میں گزر چکا ہے۔ وھم فیھا لا یسمعون۔ بعض علماء نے فرمایا : کلام میں حذف ہے اس کا معنی ہے اس میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 98–104

1:۔ فریابی، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم، طبرانی، ابن مردویہ، ابوداود نے ناسخ میں حاکم نے (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) کئی طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ (آیت) ” انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم، انتم لھا وردون “۔ نازل ہوئی تو مشرکین نے کہا کہ فرشتے عیسیٰ (علیہ السلام) اور عزیر (علیہ السلام) کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے کیا یہ بھی دوزخ میں جائیں گے تو پھر یہ (آیت) ان الذین سبقت لھم منا الحسنی اولئک عنھا مبعدون “ نازل ہوئی کہ جس سے مراد ہیں عیسیٰ (علیہ السلام) ، عزیر اور فرشتے (کہ ان کو جہنم سے دور رکھا جائے گا ( 2:۔ ابن مردویہ اور ضیاء نے مختارہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ لَهُمْ : ان کے لئے ہوگی ] [ فِيْهَا : اس میں ] [ زَفِيْرٌ: چیخ و پکار ] [ وَّهُمْ : اور وہ لوگ ] [ فِيْهَا : اس میں ] [ لَا يَسْمَعُوْنَ : (کچھ) نہیں سنیں گے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 98–100

پھر فرمایا (اِنَّکُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ حَصَبُ جَھَنَّمَ ) (بلاشبہ تم اور وہ چیزیں جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو جہنم کا ایندھن ہو) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہ اہل مکہ کو خطاب ہے۔ اس میں یہ بتایا ہے کہ مشرکین خود اور اللہ کے سوا جن چیزوں کی عبادت کرتے ہیں وہ سب دوزخ کا ایندھن بنیں گے۔ یعنی دوزخ میں جائیں گے۔ (اَنْتُمْ لَھَا وَارِدُوْنَ ) (تم سب دوزخ میں داخل ہو گے) اس میں سابق مضمون کی تاکید ہے۔ مشرکین جب اپنے معبودوں کو دوزخ میں دیکھیں گے تو اس وقت وہ پوری طرح سے سمجھ لیں گے کہ اگر یہ عبادت کے لائق ہوتے تو دوزخ میں کیوں داخل ہوتے۔ دوزخ میں جانے کے بعد مشرک اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 95–104

بیان قرب قیامت و خروج یا جوج ماجوج وفناء عالم و بیان ذلت و خواری اہل غفلت وبیان عزت و کرامت اہل سعادت قال اللہ تعالیٰ وحرم علی قریۃ اہلکنھا انھم لا یرجعون .... الیٰ .... انا کنا فعلین۔ (ربط) گزشتہ آیات میں توحید اور رسالت کا بیان تھا اب آگے معاد اور قرب قیامت کو بیان کرتے ہیں کہ اس دنیا کا ایک وقت معین ہے اس کے بعد فنا کردی جائیگی اور اس فنا کی ابتدائی علامت خروج یاجوج و ماجوج ہے اس کے بعد وہ وعدہ بہت قریب آلگے گا۔ منجملہ علامات قیامت حضرت عیسیٰ علیہا لسلام کا آمان سے نازل ہونا اور دجال کو قتل کرنا ہے۔ دجال کے قتل ہوجانے کے بعد یاجوج ماجوج کا خروج ہوگا جن کی تعداد کی کوئی حد نہیں۔ فی الحال یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 99–100

72:۔ ” لَوْ کَانَ ھٰؤُلَاءِ الخ “ اگر یہ معبود اور کارساز ہوتے جیسا کہ مشرکین کا خیال ہے تو آگ میں ہرگز داخل نہ ہوتے حالانکہ وہ جہنم میں داخل کیے جائیں گے اور پھر اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ” زَفِیْر “ رونے چلانے کی آواز جس میں سینے کی خرخراہٹ بھی شامل ہوگی۔ انین وبکاء عویل (مدارک ج 3 ص 69) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 94–104

ربط آیات : اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کیا ہے۔ ان کے مصائب و تکالیف ، ان کے طریقہ تبلیغ ، ان کی مناجات اور عبادت اور ان کے صبر پر روشنی ڈالی ہے۔ اور آئندہ آنے والوں کے لئے انہیں نمونہ بنایا ہے۔ آخر میں حضرت مریم ؓ اور مسیح (علیہ السلام) کا ذکر بھی کیا ہے اور پھر ایک اصولی بات یہ بیان فرمائی ہے کہ تمام انبیاء کی ملت اور دین ایک ہی رہا ہے۔ فرمایا میں تمہارا پروردگار ہوں ، لہٰذا میری ہی عبادت کرو۔ مگر بعد میں آنے والے لوگوں نے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے اور مختلف فرقوں میں بٹ گئے۔ بعض نے عقائد کو خراب کرلیا اور کفر وشرک میں مبتلا ہوگئے۔ فرمایا سب نے ہماری…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَہُمْ فِيْہَا زَفِيْرٌ وَّہُمْ فِيْہَا لَا يَسْمَعُوْنَ۝ 100 زفر قال : لَهُمْ فِيها زَفِيرٌ [ الأنبیاء/ 100] ، فَالزَّفِيرُ : تردّد النّفس حتی تنتفخ الضّلوع منه، وازْدَفَرَ فلان کذا : إذا تحمّله بمشقّة، فتردّد فيه نفسه، وقیل للإماء الحاملات للماء : زَوَافِرُ. ( زر ) الزفیر اس کے اصل معنی سانس کی اس قدر تیزی سے آمد وشد کے ہیں کہ اس سے سینہ پھول جائے ۔ قرآن میں ہے : ۔ لَهُمْ فِيها زَفِيرٌ [ الأنبیاء/ 100] ان کے لئے اس میں چیخنا ہے ۔ ازد فر ( افتعال ) فلان کذا کسی چیز کو مشقت سے اٹھانا جس سے سانس پھول جائے ۔ اس لئے پانی لانے والی لونڈ یوں کو زوافر کہا جاتا ہے ۔ سمع السَّمْعُ : قوّة في الأذن به…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 94–104

جس کے بعد بطور معیار کے فرماتا ہے فمن یعمل من الصلحت کہ جو کوئی ایمان لائے گا اور پھر نیک کام کرے گا خواہ کوئی ہو اس کی کوشش کا قطعاً بدلہ ہم دیں گے پھر فرماتا ہے و حرام علی قریہ حرام خبر ہے اس کا متبداء یا انہم لایرجعون ہے یا کچھ اور۔ اول صورت میں بعض علمائے نے لاکو زائد نہیں مانا ہے تب یہ معنی ہوں گے کہ ان کا عدم رجوع حرام یعنی ممتنع ہے تب رجوع کرنا ان پر واجب یعنی ضرور ہے اور آخرت کی طرف اھلکناھا ‘ اکثر مفسرین لاکو زائد کہتے ہیں تب یہ معنی کہ ان پر رجوع کرنا دنیا میں باردگر آنا حرام کردیا ہے یا یہ کہ ان کی تقدیر میں شرک و معاصی سے باز آنا حرام تھا اس لیے وہ غارت ہوئے۔ جمہور کا قول بہت ٹھیک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لَھُمْ فِیْھَا زَفِیْرٌ وَّ ھُمْ فِیْھَا لاَ یَسْمَعُوْنَ ۔ (الانبیاء : 100) (ان کے لیے اس میں (شدت عذاب سے) چلانا ہوگا اور وہ اس میں اور کچھ نہ سن سکیں گے۔ ) زَفِیْرٌکا معنی شدت عذاب سے چیخنا اور چلانا ہے اور یا زَفِیْرٌاس پھنکار کو کہتے ہیں جو سخت گرمی اور محنت اور تکان کے باعث آدمی کے منہ سے لمبے سانس کی صورت میں نکلتا ہے۔ کفار کی چیخ و پکار جو لوگ اپنے شرک کے باعث جہنم میں پھینکے جائیں گے، جہنم کے عذاب کی شدت کے باعث ان کے منہ سے چیخیں نکلیں گی، وہ انتہائی تکلیف میں چلائیں گے اور مدد کے لیے پکاریں گے اور ان پر تکلیف کی شدت کا اس حد تک غلبہ ہوگا کہ ایک دوسرے کی چیخ و پکار بھی انھیں سنائی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 97–100

فہم القرآن ربط کلام : آیت 94 میں صالح اعمال لوگوں کا اجر بیان ہوا۔ اس کے بعد برے لوگوں کا بیان ہوا۔ برے لوگوں کی برائیوں میں سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی عبادت کرنے کی بجائے دوسروں کی عبادت اور تابعداری کرتے تھے قیامت کے دن ایسے عابد اور معبود جہنم میں پھینکیں جائیں گے۔ سب سے بڑی برائی ” اللہ “ کے ساتھ دوسروں کو شریک بنانا اور قیامت کے دن کا انکار کرنا ہے۔ اس لیے سب سے پہلے کفار اور مشرکن کا معاملہ چکا یا جائے گا۔ رب ذوالجلال مشرکین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمائے گا کہ آج تم اور تمہارے معبود جنہیں تم مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہوئے پکارا کرتے تھے سب کو جہنم میں جھونکا جا رہا ہے۔ اگر وہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

100: لَھُمْ (ان کے لئے) یعنی کفار کیلئے۔ فِیْھَا زَفِیْرٌ (اس میں کر اہٹ ہوگی) رونا۔ شور مچانا۔ چیخنا۔ وَّھُمْ فِیْھَا لَایَسْمَعُوْنَ (اور اس میں کوئی بات نہ سنیں گے) کوئی بات کیونکہ وہ بہرے ہوجائیں گے اور بات سننے میں انسیت کی ایک قسم ہے جو ان کو میسر نہ کی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

100۔ لھم فیھا زفیروھم فیھالایسمعون، ابن مسعود کی روایت نقل کی ہے کہ جب دوزخ کے اندر حبس دوام کے جہنمی رہ جائیں گے تو ان کو لوہے کے صندوقوں میں بند کرکے لوہے کی کیلیں ٹھونک دی جائیں گی۔ پھر ان صندوقوں کو آہنی صندوقوں میں بند کردیاجائے گا، اور لوہے کی میخیں ٹھونک دی جائیں گی پھر ان صندوقونوں کو جہنم کے نچلے حصے میں پھینک دیاجائے گا، اور ہر ایک یہی خیال کرے گا کہ میرے سوا کسی کو عذاب نہیں دیاجارہا ہے۔ یہ بیان کرنے کے بعد حضرت ابن مسعود نے آیت مذکورہ تلاوت فرمائی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 100–103

100۔ 103:۔ اوپر ذکر تھا کہ مشرکوں اور ان کے جھوٹے معبودوں کو ہمیشہ دوزخ میں رہنے کا حکم سنا دیا جائے گا اور قائل کرنے کے لیے ان مشرکوں سے یہ کہا جائے گا کہ دنیا میں جن تبوں کو تم اپنا معبود جانتے تھے اللہ تعالیٰ کے نزدیک اگر ان بتوں میں معبود ہونے کی صلاحیت ہوتی تو آج ان کو دوزخ کا ایندھن نہ بنایا جاتا ‘ ان آیتوں میں فرمایا ‘ دوزخ میں ہمیشہ رہنے کا حکم سن کر یہ لوگ روئیں گے چلاویں گے اور ان میں کا ہر ایک شخص اپنے اپنے عذاب کی تکلیف میں ایسا بدحواس ہوگا کہ ایک شخص دوسرے کے رونے اور چلانے کی آواز بھی نہ سنے گا 1 ؎‘ ترمذی میں ابودرداء ؓ سے اور مستدرک حاکم ‘ بیہقی کی بعث ونشور وغیرہ میں حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 98–103

آیت 98 یعنی اے وہ لوگو ! جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی عبادت کرتے ہو (حصب جھنم) تم سب جہنم کا ایندھن ہو (انتم لھا وردون) تمہیں اور تمہارے بتوں کو جہنم میں جھونکا جائے گا۔ بتوں کو جہنم میں جھونکنے میں حکمت یہ ہے۔۔۔. حالانکہ یہ پتھر ہیں، عقل و شعور نہیں رکھتے اور ان کا کوئی گناہ بھی نہیں۔۔۔. کہ ان کا کذب و افترا واضح ہوجائے جنہوں نے ان بتوں کو معبود بنا رکھا تھا اور تاکہ ان کے عذاب میں اضافہ ہو۔ اس لئے فرمایا : (لو کان ھولاء الآ ما وردوھا) ” اگر یہ واقعی معبود ہوتے تو جہنم میں کبھی داخل نہ ہوتے۔ “ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد مقدس کی مانند ہے۔ (لیبین لھم الذی یختلفون فیہ و…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 78–112

ایک کھیت کے بارے میں سلیمان کا فیصلہ قول باری ہے (وداود و سلیمان اذ یحکما ن فی الحرث اذ نفشت فیہ غنم القوم و کنا لحکمھم شاھدین ففھمنا ھا سلیمان وکلا اتینا حکماً و علماً اور اس نعمت سے ہم نے دائود و سلیمان کو سرفراز کیا۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ وہ دونوں ایک کھیت کے مقدمے میں فیصد کر رہے تھے جس میں رات کے وقت دوسرے لوگوں کی بکریاں پھیل گئی تھیں اور ہم ان کی عدالت کو دیکھ رہے تھے۔ اس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق مروزی نے روایت بیان کی، انہیں الحسن بن ابی ربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

136 دوزخیوں کے حال بد کی منظر کشی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کی وہاں پر چیخیں ہی چیخیں ہوں گی وہاں کے ہولناک منظر کی سختی اور شدت ہول و خوف کی وجہ سے۔ ( محاسن، مراغی وغیرہ ) ۔ نیز اس لیے کہ کبھی سننے سے بھی آدمی کو کسی قدر تخفیف اور راحت مل جاتی ہے۔ اس لیے ان کو اس سے بھی محروم کردیا جائے گا۔ (قرطبی وغیرہ) اور ان کو اندھے، گونگے اور بہرے کر کے اٹھایا جائے گا۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { وَنَحْشُرُہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ عُمْیًا وَّبُکْمًا وَّ صُمًّا } ۔ ( بنی اسرائیل :97) ۔ سو اس طرح یہ لوگ دوزخ کی اس دہکتی بھڑکتی آگ میں جلتے اور چیختے چلاتے رہیں گے ۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 96–103

یاجوج ماجوج کا ظہور قیامت کی نشانی تشریح : قیامت کے قریب ہونے یا قیامت آنے کی دس نشانیاں رسول اکرم ﷺ نے بیان فرمائی ہیں ان میں سے ایک نشانی یا جوج و ماجوج کا دنیا میں پھیل جانا بھی ہے۔ یاجوج ماجوج کے بارے میں سورة کہف کی آیات 93 سے 98 تک میں بڑی تفصیل سے لکھا جا چکا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ ذوالقرنین ایک بڑا فاتح بادشاہ گزرا ہے جس نے دنیا کے شمالی پہاڑوں کے درمیان سیسہ پلائی دیوار اس غرض سے بنوائی تھی کہ ان کے پیچھے ایک شیطان فطرت قوم یاجوج ماجوج رہتی تھی اور وہ لوگوں کو بہت زیادہ ستاتے تھے۔ وہ اس دیوار کو ہر وقت توڑنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ قرآن میں آیا ہے کہ قیامت کے قریب وہ اس دیوار کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 94–112

(رکوع نمبر 7) اسرارومعارف اور آخرت میں تو وہ ایماندار لوگ ہی نام پائیں گے جنہوں نے نیک کام کئے ہوں گے کہ ان کا کوئی عمل رائیگاں نہ جائے گا کہ اللہ کریم کے لکھنے والے ہر ہر عمل کو لکھ لیتے ہیں یعنی آخرت کے اجر کی بنیاد عقیدہ ہے کہ درست ہو اور صرف عقیدہ ہی نہ رہے اس کے ساتھ عمل صالح یعنی نبی (علیہ السلام) کے ارشاد کے مطابق عمل بھی ہو تو ہر چھوٹا بڑا عمل انعام اور اجر پائے گا مگر جو لوگ ایمان ہی قبول نہیں کرتے وہ عمل تو کر ہی نہیں سکتے اور پھر عذاب الہی سے تباہ ہوجاتے ہیں تو آنکھ کھلتی ہے مگر ان کے لیے پھر سے عمل کے لیے دنیا میں واپس آنا ہرگز ممکن نہیں ، یہاں تک کہ دنیا کی بساط لپیٹ دی جائے گی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(21:100) زفیر۔ الزفیر کے اصل معنی سانس کے اس قدر تیزی سے آمد وشد کے ہیں کہ اس سے سینہ پھول جائے۔ یہ زفر یزفر (حسب یحسب) کا مصدر ہے۔ زفیر سانس کھینچ کر اس کو سینہ سے نکالنا ہے اور شھیق سینہ کی طرف سانس کا لوٹانا ہے۔ ضحاک اور مقاتل کا بیان ہے کہ زفیر گدھے کی پہلی آواز ہے اور شھیق اس کی آخری جب کہ وہ اس کو سینہ کی طرف لوٹاتا ہے۔ دونوں کا ترجمہ چیخنا چلانا ہے۔ لہم فیھا زفیر وہ جہنم میں اشدت عذاب سے) چیخیں گے اور چلائیں گے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 94–103

لغات القرآن آیت نمبر 94 تا 103 لاکفران ناقدری نہ ہوگی۔ سعی کوشش، جدوجہد۔ کاتبون لکھنے والے۔ فتحت کھول دی گئی۔ حدب ٹیلہ، بلند مقام۔ ینسلون وہ گھستے چلے آئیں گے۔ شاخصۃ پھٹ جانے والی۔ حصب ایندھن، جلنے کی چیز۔ واردون پہنچنے والے، اترنے اولے۔ زفیر چیخ و پکار۔ سبقت فیصلہ ہوچکا، گذر چکا۔ مبعدون دور رہنے والے۔ حسیس آہٹ، سرسراہٹ۔ اشتھت من پسند۔ الفزع گھبراہٹ۔ توعدون وعدہ کیا جاتا ہے۔ تشریح : آیت نمبر 94 تا 103 فرمایا کہ وہ صاحب ایمان شخص جو کوئی بھی نیک یا بھلا کام کرے گا تو اس کی سعی، کوشش اور جدوجہد کو ضائع نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے اعمال کو لکھ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 100–103

(ف 2) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ منکر نکیر کے سوال و جواب کے بعد فرشتے اللہ کے حکم سے نیک لوگوں کو ان کا جنت کاٹھکانہ دکھا کر یہ وعدہ خوشخبری کے طور پر سنادیتے ہیں کہ اسی ٹھکانے میں ہمیشہ رہنے کے لیے تم کو قیامت کے دن دوبارہ زندہ کیا جائے گا توقبر سے اٹھتے ہی وہ خوش خبری کا وعدہ ان نیک لوگوں کو اللہ کے فرشتے پھر یاد دلائیں گے کہ تمہارا وہ دن ہے کہ جس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے وعدہ دیا تھا یعنی یہ تمہارے سیر وتماشا کا دن ہے اور عزت و عظمت کا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 98–104

[60] ظاہر ہے کہ اس حکم سے وہ تمام ہستیاں مستثنیٰ رہیں گی جو بجائے خود مقبول ہیں اور جن کی رضا کو ان کی معبودیت میں قطعی دخل نہیں، مثلاً ملائکہ، اولیاء کرام اور بزرگان دین۔ معبودوں کا اپنے پرستاروں کے ساتھ داخل جہنم ہونا پرستاروں کے لئے اور زیادہ تکلیف و حسرت کا باعث ہوگا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 96–100

یاجوج وماجوج : (ف 3) یاجوج وماجوج کی تفصیلات گذشتہ صفحات میں گزر چکی ہیں ، مختصر یوں سمجھ لیجئے کہ قوموں کی بدعقیدگی اور مظالم کا ایک طوفان اٹھے گا ، جو نظام عالم کو تہ وبالا کر دے گا اور یہ اس وقت ہوگا جب کہ مذہب کی وقت دلوں سے اٹھ جائے گی ، دینداری کے خلاف جنگ کی جائے ، اور نظام کائنات کی بنیادیں محض ہوس وجوع پر رکھی جائیں گی ، جب انسانوں میں شریر اور بدباطن لوگ رہ جائیں گے ، اور صرف مادیت کی حکومت ہوگی ۔ ان حالات میں بطور انتقام اللہ تعالیٰ ایک قوم کو تباہی و غارت گری کے لئے انسانوں پر مسلط کردیں گے ، تاکہ یہ بات ثابت ہو کہ انتہا مادیت کے معنے آخری تباہی کے ہیں ۔ حل لغات : کفران : ضیاع ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(100) دوزخ میں ان سب کو رونے او چیخنے سے کام ہوگا اور وہاں اس چیخ و پکار میں کسی کی کوئی بات نہ سن سکیں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اپنے چلانے کے شور سے۔ 12 خلاصہ ! یہ کہ وہاں اس قدر غل و شور ہوگا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دے گی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 97–101

ف 1۔ حاصل یہ ہوا کہ اس وقت منکرین رجوع بھی رجوع کے قائل ہوجاویں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ اس میں چیخیں اور چلائیں گے لیکن ان کی کوئی نہیں سنے گا : 100۔ اس آیت نے ان لوگوں کی غلطی ثابت کردی جو معبودان باطل سے مراد صرف بت اور شبیہیں ہی لیتے ہیں اور انسان مراد لینے سے گریز کرتے ہیں تاکہ ان کے شرک کی ترویج جاری وساری رہے اور شرک بھی کرتے کراتے رہیں اور شرک کی زد میں بھی نہ آئیں ۔ وہ دوزخ میں چیخیں اور چلائیں گے ؟ غور کرو کہ کی کبھی بت اور شبیہیں بھی چیختی اور چلاتی ہیں ؟ ظاہر ہے کہ اس سے وہی لوگ مراد ہیں جنہوں نے خود شرک کیا اور دوسروں کو شرک کرنے کی ترغیب دی ۔ رہے وہ بت اور پتھر ‘ شبیہیں اور قبریں تو وہ نشانات ہیں ان کو دوزخ میں ڈالنے کا مطلب سوائے اس کے کچھ نہیں کہ وہ نشانات ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 98–100

إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ (Surely, you and whatever you worship other than Allah are the fuel of Jahannam - 21:98) Here a question may arise as to the application of this verse to the case of Sayyidna Masih (علیہ السلام) ، Sayyidna ` Uzair (علیہ السلام) and angels who were also worshipped by some people. According to account given by Qurtubi in his Tafsir, this issue was adequately resolved by Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ who wondered that there is a verse in the Qur'an about which people have reservations, yet they do not question him about it. He went on to…

Read the full tafseer →