Explained with ayahs 98–103
جہنم کی ہولناکیاں
بت پرستوں سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اور تمہارے بت جہنم کی آگ کی لکڑیاں بنوگے جیسے فرمان ہے آیت (وقودہا الناس والحجارۃ) اس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر حبشی زبان میں حطب کو حصب کہتے ہیں یعنی لکڑیاں۔ بلکہ ایک قرأت میں بجائے حصب کے حطب ہے۔ تم سب عابد و معبود جہنمی ہو اور وہ بھی ہمیشہ کے لئے۔ اگر یہ سچے معبود ہوتے کیوں آگ میں جلتے ؟ یہاں تو پرستار اور پرستش کئے جانے والے سب ابدی طور پر دوزخی ہوگئے وہ الٹی سانس میں چیخیں گے جیسے فرمان ہے آیت (فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّشَهِيْقٌ01006ۙ) 11۔ ھود :106) ، وہ سیدھی الٹی سانسوں سے چیخیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
سورة الْاَنْبِیَآء 95
روایات میں آیا ہے کہ اس آیت پر عبداللہ بن الذَّبَعْریٰ نے اعتراض کیا کہ اس طرح تو صرف ہمارے ہی معبود نہیں، مسیح اور عزیر اور ملائکہ بھی جہنم میں جائیں گے، کیونکہ دنیا میں ان کی بھی عبادت کی جاتی ہے۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا نعم، کل من احب ان یعبد من دون اللہ فھو مع من عبدہ، " ہاں، ہر وہ شخص جس نے پسند کیا کہ اللہ کے بجائے اس کی بندگی کی جائے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جنہوں نے اس کی بندگی کی "۔ اس سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں نے خلق خدا کو خدا پرستی کی تعلیم دی تھی اور لوگ ان ہی کو معبود بنا بیٹھے، یا جو غریب اس بات سے بالکل بیخبر ہیں کہ دنیا میں ان کی بندگی کی جا رہی ہے اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–100
اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ، یعنی تم اور تمہارے معبود بجز اللہ کے سب کے سب جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ اس آیت میں تمام معبودات باطلہ جن کی ناجائز پرستش کفار کے مختلف گروہوں نے دنیا میں کی سب کا جہنم میں داخل ہونا بیان فرمایا گیا ہے اس پر یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ ناجائز عبادت تو حضرت مسیح اور عزیر اور فرشتوں کی بھی کی گئی ہے تو سب کے جہنم میں جانے کا کیا مطلب ہوگا ؟ اس کا جواب حضرت ابن عباس نے دیا ہے ان کی روایت تفسیر قرطبی میں اس طرح ہے کہ ابن عباس نے فرمایا کہ قرآن کی ایک آیت ایسی ہے جس میں لوگ شبہات کرتے ہیں مگر عجیب اتفاق ہے کہ اس کے متعلق لوگ مجھ سے سوال نہیں…
Read the full tafseer →اصنام کو جہنم میں ڈالنے کا مقصد
یہ وہ اصل مقصد ہے جس کے لئے یہ اصنام و احجار جہنم میں جھونکے جائیں گے۔ ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے کہ ان کو جہنم میں ڈالنے سے اصل مقصود ان کے پوجنے والوں کو یہ دکھانا ہے کہ اگر یہ معبود ہوتے تو ان کی یہ درگت نہ بنتی ! یہ ان کی تذلیل کی آخری حد ہوگی کہ جو ان کی تمام امیدوں کا آخری مرجع تھے ان کو وہ اپنی ہی طرح بےبس و مجبور اور گرفتار عذاب پائیں گے۔ وکل فیھا خلدون یعنی یہ عابد و معبود سب ہمیشہ ہمیش کے لئے اسی جہنم میں اکٹھے رہیں گے۔ قرینہ دلیل ہے کہ اس بات کا پہلا ٹکڑا تو ان کو مخاطب کر کے کہا جائے گا اور دوسرا ٹکڑا ان کے اس انجام ابدی کا اعلان ہے۔
Read the full tafseer →99۔ 1 یعنی اگر یہ واقع معبود ہوتے تو با اختیار ہوتے اور تمہیں جہنم جانے سے روک لیتے۔ لیکن وہ تو خود جہنم میں بطور عبرت کے جا رہے ہیں۔ تمہیں جانے سے کس طرح روک سکتے ہیں۔ لہذا عابد و معبود دونوں ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–104
46: پتھر کے جن بتوں کی یہ مشرکین عبادت کرتے تھے ان کو بھی سزا کے طور پر نہیں بلکہ اس لئے جہنم میں ڈالا جائے گا تاکہ اس بات کا عملی مظاہرہ کیا جائے کہ جن بتوں کو تم خدا سمجھتے تھے وہ آخر کار کتنے بےبس ثابت ہوئے۔ 46:
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–100
انکم و ماتعبدون من دون اللہ حصب جھنم انتم لھا وردون (21 : 98)
ترجمہ :۔
” بیشک تم اور تمہارے وہ معبود جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو ، جہنم کا ایندھن ہو ، وہیں تم کو جانا ہے۔ “ اچانک یہ لوگ اب میدان حشر میں پہنچا دیئے جاتے ہیں۔ یہ جہنم کے دھانے پر کھڑے ہیں۔ بڑی بےدردی کے ساتھ فرشتے ان کو اور ان کے معبودوں کو پکڑتے ہیں اور جہنم میں پھینکتے ہیں۔ وہاں پھینکے جاتے ہیں اور ایندھن کے ساتھ ایندھن ہو کر جلتے جاتے ہیں۔ صرف اس منظر سے ان کے خلاف استدلال ، وجدانی استدلال کیا جاتا ہے کہ اگر یہ الہ ہوتے تو وہ جہنم کا ایندھن نہ بنتے۔ یہ ہے واقعی وجدانی دلیل۔
لوکان ھولآء الھۃ ماوردوھا (21 : 99) ” اگر…
Read the full tafseer →4 یعنی سب عابد و معبود ہمیشہ دوزخ میں پڑے رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–100
آیت 100 لَہُمْ فِیْہَا زَفِیْرٌ وَّہُمْ فِیْہَا لَا یَسْمَعُوْنَ ”
ان کے معبود جو ان کے ساتھ ہی جل رہے ہوں گے ‘ وہ ان کی اس چیخ و پکار کو سن نہیں پائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–100
88 یعنی مشرکوں کو ان کے معبودوں یعنی بتوں سمیت جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور یہ بت عموماً پتھر کے ہوتے تھے۔ اسی مضمون کو اللہ نے سورة بقرہ میں فرمایا (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ) 66 ۔ التحریم :6) جہنم کا ایندھن آدمی بھی ہوں گے اور پتھر بھی اور ان معبودوں کو جہنم میں دیکھ کر ان کے پوجنے والوں کی تکلیف اور حسرت میں کئی گنا اضافہ ہوجائے گا۔ ایک اس لئے کہ جن معبودوں سے وہ کئی طرح توقعات وابستہ کئے ہوئے تھے وہ ایسے بےبس ثابت ہوئے کہ انہی کی طرح جہنم میں جل رہے ہیں اور دوسرے اس لئے وہ جہنم کا ایندھن بن کر ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
135۔ (اپنے شوروغل، چیخ پکار میں) دوزخیوں کی خود ہی چیخ پکار اتنی ہوگی کہ کسی دوسرے کی کان پڑی آواز نہ سنائی دے گی، اہل دوزخ کو دوزخ میں رہنا ہی نہیں ہمیشگی کے لئے رہنا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–112
آیت نمبر 94 تا 112
ترجمہ : تو جو شخص نیک عمل کرے اور وہ مومن بھی ہو تو اس کی کوشش کی ناقدری نہیں کی جائے گی یعنی انکار نہیں کیا جائے گا اور ہم اس کی سعی کو لکھ لیتے ہیں یعنی ہم فرشتوں کو اس کے لکھنے کا حکم دیتے ہیں سو ہم اس کو اس کی سعی کا بدلہ دیں گے اور حرام ہے اس بستی پر یعنی بستی والوں پر جن کو ہم نے ہلاک کردیا ہے یہ کہ وہ لوٹ آئیں یعنی ان کا دنیا کا طرف لوٹ کر آنا ممتنع ہے اور لا یرجعون میں لا زائدہ ہے، یہاں تک کہ یہ امتناع رجوع کی گایت ہے کھولدئیے جائیں یا جوج اور ماجوج فتحت تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے، یأجوج مأجوج ہمزہ کے ساتھ اور ترک ہمزہ کے ساتھ دو قبیلوں کے دو عجمی نام ہیں اور ان سے…
Read the full tafseer →لوکانا ہولاء الہہ ما وردہا اگر تمہارے یہ معبود حقیقت میں معبود ہوتے تو جہنم میں نہ اترتے۔ یعنی جہنم
میں داخل کرنے کے بعد کفار سے بطور توبیخ کہا جائے گا کہ اگر یہ معبود حقیقت میں ہوتے تو جہنم میں نہ اترتے۔
وکل فیہا خلدون۔ اور (عابد و معبود) سب جہنم کے اندر ہمیشہ رہیں گے۔
Read the full tafseer →(99) اگر یہ بت واقعی تمہارے معبود ہوتے تو اس جہنم میں کیوں داخل ہوتے یہ سب عابد و معبود اس دوزخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے داخل ہوں گے۔
Read the full tafseer →لَوْ كَانَ هٰٓؤُلَاۗءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوْهَا۔۔ : ”وَرَدُوْا“ کی ضمیر پوجنے والوں اور ان کے بنائے ہوئے معبودوں سب کی طرف جاتی ہے، اس لیے اس آیت سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں، ایک یہ کہ اگر لات، منات، عزیٰ یا شیاطین وغیرہ معبود ہوتے تو ان کو پوجنے والے جہنم میں داخل نہ ہوتے، بلکہ ان کے معبود ان کو بچا لیتے۔ دوسری یہ کہ اگر یہ معبود ہوتے تو کم از کم خود ہی جہنم میں داخل نہ ہوتے، مگر جب ”كُلٌّ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ“ یعنی پوجنے والے اور جنھیں پوجا گیا سب جہنم کا ایندھن ہیں تو ان کے بنائے ہوئے خدا معبود کیسے ہوگئے ؟ اس آیت پر مشرکین کے اعتراض کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة زخرف (57 تا 59)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لو کان ھوء لأء الھۃ ما ورودھا یعنی اگر یہ بت خدا ہوتے تو ان کے عبادت گزار آگ میں نہ جاتے۔ بعض علماء نے کہا عبادت گزار اور معبود جہنم میں داخل نہ ہوتے اسی لیے فرمایا : کل فیھا خلدون۔ کفارو شیاطین میں سے جو آگ میں داخل ہوں گے ان کے لیے چیخ و پکار ہوگی۔ رہے بت تو ان میں اختلاف ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ انہیں زندہ کرے گا اور انہیں عذاب دے گا تاکہ ان کے لیے چیخ و پکار ہو یا انہیں زندہ نہیں کرے گا ؟ اس کے متعلق دو قول ہیں۔ الزفیر مغموم نفس کی وہ آواز جو دل سے نکلتی ہے۔ یہ سورة ہود میں گزر چکا ہے۔ وھم فیھا لا یسمعون۔ بعض علماء نے فرمایا : کلام میں حذف ہے اس کا معنی ہے اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–104
1:۔ فریابی، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم، طبرانی، ابن مردویہ، ابوداود نے ناسخ میں حاکم نے (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) کئی طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ (آیت) ” انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم، انتم لھا وردون “۔ نازل ہوئی تو مشرکین نے کہا کہ فرشتے عیسیٰ (علیہ السلام) اور عزیر (علیہ السلام) کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے کیا یہ بھی دوزخ میں جائیں گے تو پھر یہ (آیت) ان الذین سبقت لھم منا الحسنی اولئک عنھا مبعدون “ نازل ہوئی کہ جس سے مراد ہیں عیسیٰ (علیہ السلام) ، عزیر اور فرشتے (کہ ان کو جہنم سے دور رکھا جائے گا (
2:۔ ابن مردویہ اور ضیاء نے مختارہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا…
Read the full tafseer →[ لَوْ : اگر ] [ كَان : ہوتے ] [ هٰٓؤُلَاۗءِ : یہ سب ] [ اٰلِهَةً : کوئی الٰہ ] [ مَا وَرَدُوْهَا : تو وہ نہ پہنچتے اس تک ] [ وَكُلٌّ: اور سب ] [ فِيْهَا : اس میں ] [ خٰلِدُوْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–100
پھر فرمایا (اِنَّکُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ حَصَبُ جَھَنَّمَ ) (بلاشبہ تم اور وہ چیزیں جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو جہنم کا ایندھن ہو) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہ اہل مکہ کو خطاب ہے۔ اس میں یہ بتایا ہے کہ مشرکین خود اور اللہ کے سوا جن چیزوں کی عبادت کرتے ہیں وہ سب دوزخ کا ایندھن بنیں گے۔ یعنی دوزخ میں جائیں گے۔ (اَنْتُمْ لَھَا وَارِدُوْنَ ) (تم سب دوزخ میں داخل ہو گے) اس میں سابق مضمون کی تاکید ہے۔
مشرکین جب اپنے معبودوں کو دوزخ میں دیکھیں گے تو اس وقت وہ پوری طرح سے سمجھ لیں گے کہ اگر یہ عبادت کے لائق ہوتے تو دوزخ میں کیوں داخل ہوتے۔ دوزخ میں جانے کے بعد مشرک اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–104
بیان قرب قیامت و خروج یا جوج ماجوج وفناء عالم و بیان
ذلت و خواری اہل غفلت وبیان عزت و کرامت اہل سعادت
قال اللہ تعالیٰ وحرم علی قریۃ اہلکنھا انھم لا یرجعون .... الیٰ .... انا کنا فعلین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں توحید اور رسالت کا بیان تھا اب آگے معاد اور قرب قیامت کو بیان کرتے ہیں کہ اس دنیا کا ایک وقت معین ہے اس کے بعد فنا کردی جائیگی اور اس فنا کی ابتدائی علامت خروج یاجوج و ماجوج ہے اس کے بعد وہ وعدہ بہت قریب آلگے گا۔ منجملہ علامات قیامت حضرت عیسیٰ علیہا لسلام کا آمان سے نازل ہونا اور دجال کو قتل کرنا ہے۔ دجال کے قتل ہوجانے کے بعد یاجوج ماجوج کا خروج ہوگا جن کی تعداد کی کوئی حد نہیں۔ فی الحال یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–100
72:۔ ” لَوْ کَانَ ھٰؤُلَاءِ الخ “ اگر یہ معبود اور کارساز ہوتے جیسا کہ مشرکین کا خیال ہے تو آگ میں ہرگز داخل نہ ہوتے حالانکہ وہ جہنم میں داخل کیے جائیں گے اور پھر اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ” زَفِیْر “ رونے چلانے کی آواز جس میں سینے کی خرخراہٹ بھی شامل ہوگی۔ انین وبکاء عویل (مدارک ج 3 ص 69) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–104
ربط آیات :
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کیا ہے۔ ان کے مصائب و تکالیف ، ان کے طریقہ تبلیغ ، ان کی مناجات اور عبادت اور ان کے صبر پر روشنی ڈالی ہے۔ اور آئندہ آنے والوں کے لئے انہیں نمونہ بنایا ہے۔ آخر میں حضرت مریم ؓ اور مسیح (علیہ السلام) کا ذکر بھی کیا ہے اور پھر ایک اصولی بات یہ بیان فرمائی ہے کہ تمام انبیاء کی ملت اور دین ایک ہی رہا ہے۔ فرمایا میں تمہارا پروردگار ہوں ، لہٰذا میری ہی عبادت کرو۔ مگر بعد میں آنے والے لوگوں نے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے اور مختلف فرقوں میں بٹ گئے۔ بعض نے عقائد کو خراب کرلیا اور کفر وشرک میں مبتلا ہوگئے۔ فرمایا سب نے ہماری…
Read the full tafseer →لَوْ كَانَ ہٰٓؤُلَاۗءِ اٰلِہَۃً مَّا وَرَدُوْہَا 0ۭ وَكُلٌّ فِيْہَا خٰلِدُوْنَ 99
كان
كَانَ «3» : عبارة عمّا مضی من الزمان، وفي كثير من وصف اللہ تعالیٰ تنبئ عن معنی الأزليّة، قال : وَكانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيماً [ الأحزاب/ 40] ، وَكانَ اللَّهُ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيراً
[ الأحزاب/ 27] وما استعمل منه في جنس الشیء متعلّقا بوصف له هو موجود فيه فتنبيه علی أن ذلک الوصف لازم له، قلیل الانفکاک منه . نحو قوله في الإنسان : وَكانَ الْإِنْسانُ كَفُوراً [ الإسراء/ 67] وَكانَ الْإِنْسانُ قَتُوراً [ الإسراء/ 100] ، وَكانَ الْإِنْسانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا [ الكهف/ 54] فذلک تنبيه علی أن ذلک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–104
جس کے بعد بطور معیار کے فرماتا ہے فمن یعمل من الصلحت کہ جو کوئی ایمان لائے گا اور پھر نیک کام کرے گا خواہ کوئی ہو اس کی کوشش کا قطعاً بدلہ ہم دیں گے پھر فرماتا ہے و حرام علی قریہ حرام خبر ہے اس کا متبداء یا انہم لایرجعون ہے یا کچھ اور۔ اول صورت میں بعض علمائے نے لاکو زائد نہیں مانا ہے تب یہ معنی ہوں گے کہ ان کا عدم رجوع حرام یعنی ممتنع ہے تب رجوع کرنا ان پر واجب یعنی ضرور ہے اور آخرت کی طرف
اھلکناھا ‘ اکثر مفسرین لاکو زائد کہتے ہیں تب یہ معنی کہ ان پر رجوع کرنا دنیا میں باردگر آنا حرام کردیا ہے یا یہ کہ ان کی تقدیر میں شرک و معاصی سے باز آنا حرام تھا اس لیے وہ غارت ہوئے۔ جمہور کا قول بہت ٹھیک…
Read the full tafseer →لَوْکَانَ ھٰٓؤْ لَآئِ اٰ لِھَۃً مَّا وَرَدُوْھَا ط وَکُلٌّ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ (الانبیاء : 99)
(اگر یہ لوگ معبود ہوتے تو وہ جہنم میں داخل نہ ہوتے اور (جھوٹے خدا اور ان کے پجاری) سب اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ )
ایک واضح اور بےساختہ دلیل
گزشتہ آیت کریمہ میں جو کچھ فرمایا گیا، یہ اس سے منتزع ہونے والی وہ فطری دلیل ہے جسے مشرکین کے سامنے پیش کرنا اصل مقصد ہے کہ جن بتوں کو تم نے خدا بنا رکھا ہے اور ان کی پوجا پاٹ کرتے، ان کے سامنے چڑھاوے پیش کرتے ہو۔ اگر یہ واقعی خدا ہوتے اور ان کی پوجا کرنا جائز ہوتا تو کیا وہ جہنم کا ایندھن بنتے اور انھیں واقعی پروردگار جہنم میں پھینک دیتا۔ کیا سچے معبودوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
فہم القرآن
ربط کلام : آیت 94 میں صالح اعمال لوگوں کا اجر بیان ہوا۔ اس کے بعد برے لوگوں کا بیان ہوا۔ برے لوگوں کی برائیوں میں سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی عبادت کرنے کی بجائے دوسروں کی عبادت اور تابعداری کرتے تھے قیامت کے دن ایسے عابد اور معبود جہنم میں پھینکیں جائیں گے۔
سب سے بڑی برائی ” اللہ “ کے ساتھ دوسروں کو شریک بنانا اور قیامت کے دن کا انکار کرنا ہے۔ اس لیے سب سے پہلے کفار اور مشرکن کا معاملہ چکا یا جائے گا۔ رب ذوالجلال مشرکین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمائے گا کہ آج تم اور تمہارے معبود جنہیں تم مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہوئے پکارا کرتے تھے سب کو جہنم میں جھونکا جا رہا ہے۔ اگر وہ…
Read the full tafseer →99: لَوْکَانَ ھٰٓؤُلَآئِ اٰلِھَۃً (اگر یہ معبود ہوتے) جیسا کہ تمہارا خیال ہے۔ مَّا وَرَدُوْھَا (تو وہ جہنم میں نہ اترتے) داخل نہ ہوتے۔ وَ کُلٌّ (اور تمام) یعنی عابد و معبود۔ فِیْھَا (اس آگ میں) خٰلِدُوْنَ (ہمیشہ رہنے والے ہیں) ۔
Read the full tafseer →99۔ لوکان ھوء لائ، یہ بات ، الھہ، حقیقی معبود ہوتے ہیں۔ ماوردوھا، تو ان کو دوزخ میں داخل نہ کیا جاتا۔ وکل فیھاخالدون، عابد اور معبودین سب کو اس میں داخل کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
98۔ 99:۔ مستدرک حاکم اور تفسیر ابن مردویہ 1 ؎ میں جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے ‘ اس کا حاصل یہ ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کے قائل کرنے کے لیے اوپر کی آیتیں نازل فرمائی تھیں جن کا حاصل یہ ہے کہ یہ مشرک لوگ اور جن بتوں کو یہ پوجتے ہیں قیامت کو یہ سب دوزخ کا ایندھن بنائے جاویں گے اور ہمیشہ دوزخ ان کا ٹھکانا ہوگا ‘ ان سے پوچھا جائے گا کہ اگر یہ بت معبود ہونے کی صلاحیت رکھتے تو خدا کے نزدیک ان کی بھی قدر ومنزلت ہوتی نہ کہ خدا ان کو دوزخ کا ایندھن ٹھہراتا جب آنحضرت ﷺ نے یہ آیتیں مشرکوں کو پڑھ کر سنائیں تو ایک شخص ابن الزبعری شاعر نے آنحضرت ﷺ سے بڑا جھگڑا کیا اور کہا کہ سوائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–103
آیت 98
یعنی اے وہ لوگو ! جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی عبادت کرتے ہو (حصب جھنم) تم سب جہنم کا ایندھن ہو (انتم لھا وردون) تمہیں اور تمہارے بتوں کو جہنم میں جھونکا جائے گا۔
بتوں کو جہنم میں جھونکنے میں حکمت یہ ہے۔۔۔. حالانکہ یہ پتھر ہیں، عقل و شعور نہیں رکھتے اور ان کا کوئی گناہ بھی نہیں۔۔۔. کہ ان کا کذب و افترا واضح ہوجائے جنہوں نے ان بتوں کو معبود بنا رکھا تھا اور تاکہ ان کے عذاب میں اضافہ ہو۔
اس لئے فرمایا : (لو کان ھولاء الآ ما وردوھا) ” اگر یہ واقعی معبود ہوتے تو جہنم میں کبھی داخل نہ ہوتے۔ “ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد مقدس کی مانند ہے۔ (لیبین لھم الذی یختلفون فیہ و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–112
ایک کھیت کے بارے میں سلیمان کا فیصلہ
قول باری ہے (وداود و سلیمان اذ یحکما ن فی الحرث اذ نفشت فیہ غنم القوم و کنا لحکمھم شاھدین ففھمنا ھا سلیمان وکلا اتینا حکماً و علماً اور اس نعمت سے ہم نے دائود و سلیمان کو سرفراز کیا۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ وہ دونوں ایک کھیت کے مقدمے میں فیصد کر رہے تھے جس میں رات کے وقت دوسرے لوگوں کی بکریاں پھیل گئی تھیں اور ہم ان کی عدالت کو دیکھ رہے تھے۔ اس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا) ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق مروزی نے روایت بیان کی، انہیں الحسن بن ابی ربیع جرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں…
Read the full tafseer →135 کفار و مشرکین کو دوزخ میں ہمیشہ ہمیش رہنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم سب کو اس میں ہمیشہ رہنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ تمام کافروں اور مشرکوں کو بھی اور معبودان باطلہ اور ان کے عابدوں کو بھی۔ تاکہ ان کو اپنے ساتھ آگ میں پڑا دیکھ کر ان کے غم اور عذاب میں اور اضافہ ہوتا جائے کہ وہ جن کی شفاعت کی آس لگائے بیٹھے تھے اور یہ گھمنڈ رکھتے تھے کہ مشکل وقت میں ہمارے یہ خود ساختہ معبود ہمارے کام آئیں گے وہ آج ان کے ساتھ دوزخ کی اس دہکتی بھڑکتی آگ میں جل رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ وہ ان کے کیا کام آتے وہ الٹا خود ان کے ساتھ دوزخ کی آگ کا ایندھن بن کر اس آگ کو اور بھڑکا رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–103
یاجوج ماجوج کا ظہور قیامت کی نشانی
تشریح : قیامت کے قریب ہونے یا قیامت آنے کی دس نشانیاں رسول اکرم ﷺ نے بیان فرمائی ہیں ان میں سے ایک نشانی یا جوج و ماجوج کا دنیا میں پھیل جانا بھی ہے۔ یاجوج ماجوج کے بارے میں سورة کہف کی آیات 93 سے 98 تک میں بڑی تفصیل سے لکھا جا چکا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ ذوالقرنین ایک بڑا فاتح بادشاہ گزرا ہے جس نے دنیا کے شمالی پہاڑوں کے درمیان سیسہ پلائی دیوار اس غرض سے بنوائی تھی کہ ان کے پیچھے ایک شیطان فطرت قوم یاجوج ماجوج رہتی تھی اور وہ لوگوں کو بہت زیادہ ستاتے تھے۔ وہ اس دیوار کو ہر وقت توڑنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ قرآن میں آیا ہے کہ قیامت کے قریب وہ اس دیوار کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–112
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
اور آخرت میں تو وہ ایماندار لوگ ہی نام پائیں گے جنہوں نے نیک کام کئے ہوں گے کہ ان کا کوئی عمل رائیگاں نہ جائے گا کہ اللہ کریم کے لکھنے والے ہر ہر عمل کو لکھ لیتے ہیں یعنی آخرت کے اجر کی بنیاد عقیدہ ہے کہ درست ہو اور صرف عقیدہ ہی نہ رہے اس کے ساتھ عمل صالح یعنی نبی (علیہ السلام) کے ارشاد کے مطابق عمل بھی ہو تو ہر چھوٹا بڑا عمل انعام اور اجر پائے گا مگر جو لوگ ایمان ہی قبول نہیں کرتے وہ عمل تو کر ہی نہیں سکتے اور پھر عذاب الہی سے تباہ ہوجاتے ہیں تو آنکھ کھلتی ہے مگر ان کے لیے پھر سے عمل کے لیے دنیا میں واپس آنا ہرگز ممکن نہیں ، یہاں تک کہ دنیا کی بساط لپیٹ دی جائے گی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
ف 5 ۔ مراد میں بت، شیاطین اور وہ تمام چیزیں جن کی مشرکین پوجا کرتے تھے۔
6 ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو مشرکین کہنے لگے کہ پوجاتو فرشتوں کی بھی ہوتی ہے اور عیسیٰ ( علیہ السلام) اور عزیر ( علیہ السلام) کی بھی تو کیا یہ بھی دوزخ میں جائیں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت ” ان الذین سبقت الخ “ نازل فرمائی۔ ابن اسحٰق کی روایت میں ہے کہ ایک شخص عبداللہ بن زبغریٰ نے آنحضرت ﷺ پر یہی اعتراض کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : جو شخص یہ چاہے کہ اللہ کی بجائے اس کی عبادت کی جائے وہ ان عبادت کرنے والوں کے ساتھ (جہنم میں) ہوگا۔ (ابن کثیر) معلوم ہوا کہ دوزخ میں وہی معبود (لوگ) جائیں گے…
Read the full tafseer →(21:99) ھؤلائ۔ ای ما تعبدون من دون اللہ۔ یعنی وہ معبودان باطلہ جن کی اللہ کے سوا تم پوجا کرتے ہو۔ ماوردوھا۔ (تو) وہ اس میں (جہنم میں) داخل نہ ہوتے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جہنم کی طرف راجع ہے ! کل۔ یعنی عابدین ومعبودین سب کے سب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–103
لغات القرآن آیت نمبر 94 تا 103
لاکفران ناقدری نہ ہوگی۔ سعی کوشش، جدوجہد۔ کاتبون لکھنے والے۔ فتحت کھول دی گئی۔ حدب ٹیلہ، بلند مقام۔ ینسلون وہ گھستے چلے آئیں گے۔ شاخصۃ پھٹ جانے والی۔ حصب ایندھن، جلنے کی چیز۔ واردون پہنچنے والے، اترنے اولے۔ زفیر چیخ و پکار۔ سبقت فیصلہ ہوچکا، گذر چکا۔ مبعدون دور رہنے والے۔ حسیس آہٹ، سرسراہٹ۔ اشتھت من پسند۔ الفزع گھبراہٹ۔ توعدون وعدہ کیا جاتا ہے۔
تشریح : آیت نمبر 94 تا 103
فرمایا کہ وہ صاحب ایمان شخص جو کوئی بھی نیک یا بھلا کام کرے گا تو اس کی سعی، کوشش اور جدوجہد کو ضائع نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے اعمال کو لکھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
(ف 1) شان نزول۔
مطلب یہ ہے کہ مشرک لوگ اور جن بتوں کو یہ پوجتے ہیں قیامت کو یہ سب دوزخ کا ایندھن بنائے جائیں گے اور ہمیشہ دوزخ میں انکاٹھکانہ ہوگا ان سے پوچھاجائیگا کہ اگر ان کے بت معبود ہونے کی صلاحیت رکھتے تو خدا کے نزدیک انکی بھی قدرومنزلت ہوتی کہ خدا ان کو دوزخ کا ایندھن نہ ٹھہراتا، جب نبی نے یہ آیتیں مشرکوں کو پڑھ کر سنائیں وایک شخص ابن الزبعری شاعر نے نبی سے بڑا جھگڑا کیا اور کہا کہ سو اللہ تعالیٰ کے حضرت عیسیٰ اور حضرت عزیر اور ملائکہ کا کیا حال ہوگا کیونکہ یہود تو حضرت عزیر کو پوجتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آگے کی آیتیں نازل فرمائیں اور اس بارے میں فرمایا کہ جن اللہ تعالیٰ نجات کا وعدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–104
[60] ظاہر ہے کہ اس حکم سے وہ تمام ہستیاں مستثنیٰ رہیں گی جو بجائے خود مقبول ہیں اور جن کی رضا کو ان کی معبودیت میں قطعی دخل نہیں، مثلاً ملائکہ، اولیاء کرام اور بزرگان دین۔ معبودوں کا اپنے پرستاروں کے ساتھ داخل جہنم ہونا پرستاروں کے لئے اور زیادہ تکلیف و حسرت کا باعث ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–100
یاجوج وماجوج :
(ف 3) یاجوج وماجوج کی تفصیلات گذشتہ صفحات میں گزر چکی ہیں ، مختصر یوں سمجھ لیجئے کہ قوموں کی بدعقیدگی اور مظالم کا ایک طوفان اٹھے گا ، جو نظام عالم کو تہ وبالا کر دے گا اور یہ اس وقت ہوگا جب کہ مذہب کی وقت دلوں سے اٹھ جائے گی ، دینداری کے خلاف جنگ کی جائے ، اور نظام کائنات کی بنیادیں محض ہوس وجوع پر رکھی جائیں گی ، جب انسانوں میں شریر اور بدباطن لوگ رہ جائیں گے ، اور صرف مادیت کی حکومت ہوگی ۔
ان حالات میں بطور انتقام اللہ تعالیٰ ایک قوم کو تباہی و غارت گری کے لئے انسانوں پر مسلط کردیں گے ، تاکہ یہ بات ثابت ہو کہ انتہا مادیت کے معنے آخری تباہی کے ہیں ۔
حل لغات :
کفران : ضیاع ،…
Read the full tafseer →(99) اگر یہ معبود واقعی اور حقیقی معبود ہوتے تو جہنم میں نہ جاتے حالانکہ یہ سب عابد و معبود اس جہنم میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ یعنی یہ معبود ان باطلہ اگر واقعی معبود ہوتے تو جہنم میں کیوں جاتے حالانکہ یہ خود بھی دوزخ میں ہمیشہ پڑے رہیں گے اور ان کی پوجا کرنے والے بھی دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے اور جب یہ معبود دوزخ سے نہ بچ سکے تو معلوم ہوا معبود نہ تھے بلکہ جھوٹے تھے کہ نہ خود کو عذاب سے بچا سکے نہ اپنے پرستش کرنے والوں کو بچاسکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–101
ف 1۔ حاصل یہ ہوا کہ اس وقت منکرین رجوع بھی رجوع کے قائل ہوجاویں گے۔
Read the full tafseer →اگر یہ لوگ معبود ہوتے تو دوزخ میں کیوں جاتے ؟ :
99۔ اللہ کے نیک بندوں کی شبیہیں اور بت جو لوگوں نے بنا رکھے ہیں اور وہ لوگ جو شرک کی دعوت دیتے ہیں خود مشرک ہیں اور دوسروں کے شرک کا باعث بن رہے ہیں ان سب کو یقینا دوزخ میں ڈالا جانا ہے اس لئے زیر نظر آیت میں ان سے اور ان کے پوجنے والوں سے پوچھا جا رہا ہے کہ اگر یہ لوگ معبود ہوتے تو انکو دوزخ میں کیوں گرایا جاتا اور وہ اپنے آپ کو دوزخ سے کیوں نہ بچا لیتے ؟ بتوں اور شبیہوں کو دوزخ میں ڈال کر دراصل ان کے ماننے والوں اور ان کو معبود بنانے والوں کو دکھانا مقصود ہے کہ یہی وہ بت اور شبیہیں تھیں جن سے تم محبت کرتے تھے اور ان کو جن کی یہ شبیہیں بنا رکھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–100
إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ (Surely, you and whatever you worship other than Allah are the fuel of Jahannam - 21:98) Here a question may arise as to the application of this verse to the case of Sayyidna Masih (علیہ السلام) ، Sayyidna ` Uzair (علیہ السلام) and angels who were also worshipped by some people. According to account given by Qurtubi in his Tafsir, this issue was adequately resolved by Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ who wondered that there is a verse in the Qur'an about which people have reservations, yet they do not question him about it. He went on to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
95. We learn from traditions that Abdullah bin Azzaara raised an objection in this connection, saying: According to this not only our deities but Prophets Jesus and Uzair (peace be upon them) and the Angels also will become fuel for Hell because they are also worshiped. The Prophet (peace be upon him) replied: Yes, everyone who would approve of his own worship instead of Allah’s will go to Hell along with those who worshiped him. He meant to say: There is no reason why Prophets Jesus and Uzair (peace be upon them) and the Angels should go to Hell because they never approved that they should…
Read the full tafseer →