Al-Baqara 2:33

Al-Baqara · from ayah 33

2:33

قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآىِٕهِمْ ۚ— فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآىِٕهِمْ ۙ— قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۙ— وَاَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ ۟قَالَ يٰٓـاٰدَمُ اَنۡۢبِئۡهُمۡ بِاَسۡمَآئِهِمۡ‌ۚ فَلَمَّآ اَنۡۢبَاَهُمۡ بِاَسۡمَآئِهِمۡۙ قَالَ اَلَمۡ اَقُل لَّـكُمۡ اِنِّىۡٓ اَعۡلَمُ غَيۡبَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِۙ وَاَعۡلَمُ مَا تُبۡدُوۡنَ وَمَا كُنۡتُمۡ تَكۡتُمُوۡنَ

(تب) خدا نے (آدم کو) حکم دیا کہ آدم! تم ان کو ان (چیزوں) کے نام بتاؤ۔ جب انہوں نے ان کو ان کے نام بتائے تو (فرشتوں سے) فرمایا کیوں میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی (سب) پوشیدہ باتیں جاتنا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو (سب) مجھ کو معلوم ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

He said, "O Adam, inform them of their names." And when he had informed them of their names, He said, "Did I not tell you that I know the unseen [aspects] of the heavens and the earth? And I know what you reveal and what you have concealed."

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 4 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:33

پھر اللہ نے آدمؑ سے کہا: "تم اِنہیں اِن چیزوں کے نام بتاؤ" جب اس نے ان کو اُن سب کے نام بتا دیے، تو اللہ نے فرمایا: "میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی وہ ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں، جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو، وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو، اسے بھی میں جانتا ہوں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(تب) خدا نے (آدم کو) حکم دیا کہ آدم! تم ان کو ان (چیزوں) کے نام بتاؤ۔ جب انہوں نے ان کو ان کے نام بتائے تو (فرشتوں سے) فرمایا کیوں میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی (سب) پوشیدہ باتیں جاتنا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو (سب) مجھ کو معلوم ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ تعالیٰ نے (حضرت) آدم (علیہ السلام) سے فرمایا تم ان کے نام بتا دو۔ جب انہوں نے بتا دیئے تو فرمایا کہ کیا میں نے تمہیں (پہلے ہی) نہ کہا تھا کہ زمین اور آسمانوں کا غیب میں ہی جانتا ہوں اور میرے علم میں ہے جو تم ﻇاہر کر رہے ہو اور جو تم چھپاتے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ نے کہا آدم تم ان کو ان چیزوں کے نام بتادو چنانچہ جب اس نے ان کے نام ان کو بتادیئے تو اللہ نے (فرشتوں سے) کہا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کے بھید جانتا ہوں ؟ اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ چھپاتے ہو مجھے اس سب کا علم ہے

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

فرمایا اے آدم بتادے انہیں سب (اشیاء کے) نام جب اس نے (یعنی آدم نے) انہیں سب کے نام بتادیئے فرمایا میں نہ کہتا تھا کہ میں جانتا ہوں آسمانوں اور زمین کی سب چھپی چیزیں اور میں جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کرتے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو -

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اللہ نے فرمایا: اے آدم! (اب تم) انہیں ان اشیاء کے ناموں سے آگاہ کرو، پس جب آدم ؑ نے انہیں ان اشیاء کے ناموں سے آگاہ کیا تو (اللہ نے) فرمایا: کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی (سب) مخفی حقیقتوں کو جانتا ہوں، اور وہ بھی جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

فرمایا اے آدم ! انھیں ان کے نام بتا، تو جب اس نے انھیں ان کے نام بتا دیے، فرمایا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ بیشک میں آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزیں جانتا ہوں اور جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ تعالیٰ نے آدم سے فرمایا اے آدم ! ان (فرشتوں) کو ان اشیاء کے نام بتادو۔ تو جب آدم نے فرشتوں کو ان چیزوں کے نام بتا دیئے تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا : کیا میں نے تمہیں یہ نہ کہا تھا کہ میں ہی آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتیں جانتا ہوں اور ان باتوں کو بھی جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور ان کو بھی جو تم چھپاتے ہو ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہا اے آدم ! ان کو بتآ ان لوگوں کے نام تو جب اس نے بتائے ان کو ان لوگوں کے نام تو اس نے کہا کیا میں نے تم سے نہیں کہا کہ آسمانوں اور زمین کے بھید کو میں ہی جانتا ہوں اور میں جانتا ہوں اس چیز کو جس کو تم ظاہر کرتے ہو اور جس کو تم چھپاتے تھے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تب اللہ نے فرمایا (آدم سے) کہ اے آدم بتاؤ ان کو نام ان چیزوں کے سو جب بتا دئیے آدم نے ان کو نام ان سب چیزوں کے تو فرمایا (تمہارے رب نے فرشتوں سے کہ) کیا میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ بیشک میں جانتا ہوں سب چھپی باتیں آسمانوں کی اور زمین کی اور میں جانتا ہوں وہ سب کچھ جو کہ تم ظاہر کرتے ہو اور وہ سب کچھ بھی جسے تم چھپاتے ہو

— مولانا اسحاق مدنی

(اللہ نے) فرمایا اے آدم بتلا دو انہیں ان کے نام۔۔ پھر جب انہوں نے انہیں ان کے نام بتلادیئے۔۔ تو فرمایا۔ میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزیں جانتا ہوں اور جو کہ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو وہ سب جانتا ہوں۔۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ نے فرمایا کہ اے آدم ان کو بتاؤ ان چیزوں کے نام ! تو جب اس نے بتا دیے ان کو ان سب کے نام تو (اللہ نے) فرمایا : کیا میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ میں جانتا ہوں آسمانوں اور زمین کی تمام چھپی ہوئی چیزوں کو اور میں جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کر رہے تھے اور جو کچھ تم چھپا رہے تھے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر اللہ نے آدم سے کہا ! تم انہیں ان چیزوں کے نام بتاؤ ؟ جب آدم نے ان کو ان سب کے نام بتا دیئے تو اللہ نے فرمایا ! میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی وہ ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں، جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو، وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اسے بھی میں جانتا ہوں

— محترمہ رفعت اعجاز

Then Allah said to Adam, "Tell them the names of these things." When Adam told them the names of all those things, Allah declared, "Did I not tell you that I know those truths about the Earth and the Heavens which are hidden from you? I know what you disclose and what you hide."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :O ‘Adam, tell them the names of all these. When he told them their names, Allah said, :Did I not tell you that I know the secrets of the skies and of the earth, and that I know what you disclose and what you conceal.

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :O ‘Adam, tell them the names of all these. When he told them their names, Allah said, :Did I not tell you that I know the secrets of the skies and of the earth, and that I know what you disclose and what you conceal.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "O Adam! Inform them of their names," and when he had informed them of their names, He said: "Did I not tell you that I know the Ghayb (unseen) in the heavens and the earth, and I know what you reveal and what you have been concealing"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: O Adam! Inform them of their names, and when he had informed them of their names, He said: Did I not tell you that I know the secret of the heavens and the earth? And I know that which ye disclose and which ye hide.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He said, "O Adam, inform them of their names." And when he had informed them of their names, He said, "Did I not tell you that I know the unseen [aspects] of the heavens and the earth? And I know what you reveal and what you have concealed."

— Saheeh International

The Lord said to Adam, "Tell the names of the beings to the angels." When Adam said their names, the Lord said, "Did I not tell you (angels) that I know the secrets of the heavens and the earth and all that you reveal or hide?"

— Muhammad Sarwar

He said: O Adam! inform them of their names. Then when he had informed them of their names, He said: Did I not say to you that I surely know what is ghaib in the heavens and the earth and (that) I know what you manifest and what you hide?

— Muhammad Habib Shakir

Allah said: O Adam! declare thou unto them the names of those objects. Then when he had declared unto them the names of those, He said: said I not unto you, verily I know the hidden in the heavens and the earth, and know that which ye disclose and that which ye are wont to conceal!

— Abdul Majid Daryabadi

He said: "O Adam! Tell them their names." When he had told them, Allah said: "Did I not tell you that I know the secrets of heaven and earth, and I know what ye reveal and what ye conceal?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:33

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 31–33

آدم ؑ کی وجہ فضیلت یہاں سے اس بات کا بیان ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک خاص علم میں حضرت آدم ؑ کو فرشتوں پر بھی فضیلت دی۔ یہ واقعہ فرشتوں کے سجدہ کرنے کے بعد کا ہے لیکن اللہ کی جو حکمت آپ کے پیدا کرنے میں تھی اور جس کا علم فرشتوں کو نہ تھا اور اس کا اجمالی بیان اوپر کی آیت میں گزرا ہے اس کی مناسبت کی وجہ سے اس واقعہ کو پہلے بیان کیا اور فرشتوں کا سجدہ کرنا جو اس سے پہلے واقعہ ہوا تھا بعد میں بیان کردیا تاکہ خلیفہ کے پیدا کرنے کی مصلحت اور حکمت ظاہر ہوجائے اور یہ معلوم ہوجائے کہ یہ شرافت اور فضیلت حضرت آدم کو اس لئے ملی کہ انہیں وہ علم حاصل ہے جس سے فرشتے خالی ہیں، فرمایا کہ حضرت آدم ؑ کو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَقَرَة 44 یہ مظاہرہ فرشتوں کے پہلے شبہہ کا جواب تھا۔ گویا اس طریقے سے اللہ تعالیٰ نے انہیں بتایا کہ میں آدم کو صرف اختیارات ہی نہیں دے رہا ہوں، بلکہ علم بھی دے رہا ہوں۔ اس کے تقرر سے فساد کا جو اندیشہ تمہیں ہوا وہ اس معاملے کا صرف ایک پہلو ہے۔ دوسرا پہلو صلاح کا بھی ہے اور وہ فساد کے پہلو سے زیادہ وزنی اور زیادہ بیش قیمت ہے۔ حکیم کا یہ کام نہیں ہے کہ چھوٹی خرابی کی وجہ سے بڑی بہتری کو نظر انداز کردے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 32–33

خلاصہ تفسیر اور جس وقت حکم دیا ہم نے سب فرشتوں کو (اور جنوں کو بھی جیسا کہ بعض روایات میں حضرت ابن عباس سے منقول ہے غرض ان سب کو یہ حکم دیا گیا کہ) سجدہ میں گرجاؤ آدم کے سامنے سو سب سجدہ میں گر پڑے بجز ابلیس کے کہ اس نے کہنا نہ مانا اور غرور میں آگیا اور ہوگیا کافروں میں سے،

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اَلَمْ اَقُلْ لَكُمْ اِنِّي اَعْلَمُ غَيْبَ السَّمٰوٰتِ: یہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قول کا حوالہ دیا ہے جو اوپر آیہ ۳۰ میں گزر چکا ہے یعنی اِنِّي اَعْلَمُ مَا لا تَعْلَمُوۡنَ (میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے) پہلے یہ بات اجمال کے ساتھ کہی گئی تھی لیکن جب فرشتوں کو اچھی طرح قائل کر دیا گیا اور وہ قائل ہو بھی گئے تو پھر اسی بات کو مزید وضاحت کے ساتھ فرمایا تاکہ یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوجائے کہ اس کارخانہ کائنات میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی ساری حکمتیں اور مصلحتیں صرف اسی کو معلوم ہیں جس نے اس کارخانے کو بنایا ہے اور جو اس کو چلا رہا ہے۔ان حکمتوں اور مصلحتوں کو فرشتے بھی، جو خدا سے اس قدر قرب رکھتے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

33۔ 1 اسماء سے مراد مسمیات (اشخاص و اشیاء) کے نام اور ان کے خواص و فوائد کا علم ہے جو اللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعے حضرت آدم علیہ کو سکھلا دیا۔ پھر جب ان سے کہا گیا کہ آدم ؑ ان کے نام بتلاؤ تو انہوں نے فورا سب کچھ بیان کردیا جو فرشتے بیان نہ کرسکے۔ اسطرح اللہ تعالیٰ نے ایک تو فرشتوں پر حکمت تخلیق آدم واضح کردی۔ دوسرے دنیا کا نظام چلانے کے لئے علم کی اہمیت و فضیلت بیان فرما دی جب یہ حکمت و اہمیت فرشتوں پر واضح ہوئی تو انہوں نے اپنے قصور علم و فہم کا اعتراف کرلیا۔ فرشتوں کے اس اعتراف سے یہ بھی واضح ہوا کہ عالم الغیب صرف اللہ کی ذات ہے اللہ کے برگزیدہ بندوں کو بھی اتنا ہی علم ہوتا ہے جتنا اللہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 32–33

30 : بظاہر ان الفاظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ نام صرف حضرت آدم ؑ کو سکھائے گئے تھے اور فرشتے اس تعلیم میں شریک نہیں تھے، اس صورت میں اس سے ناموں کے بارے میں پوچھنا یہ بتانے کے لئے تھا کہ تم میں وہ صلاحیت نہیں رکھی گئی جو آدم ؑ کی تخلیق سے مقصود ہے، دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ آدم ؑ کو سکھاتے وقت فرشتے موجود تھے ؛ لیکن چونکہ ان میں ان باتوں کو سمجھنے یا یاد رکھنے کی صلاحیت نہیں تھی اس لئے وہ امتحان کے وقت جواب نے دے سکے، اس صورت میں ان کے جواب کا حاصل یہ ہوگا کہ ہمیں وہی علم حاصل ہوسکتا ہے جو آپ ہمیں دینا چاہیں اور اس کی صلاحیت ہمارے اندر پیدا کردیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 31–33

دیکھئے ! اب ہم چشم بصیرت سے نہایت بلند روشنیوں میں عالم بالا کے کسی مقام پر فرشتوں کی ایک جمعیت کا مشاہدہ کررہے ہیں اس تقریب میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ انسانیت کا منصب خلافت سپرد کیا جارہا ہے اور یوں ہیں اس عظیم راز سے آگاہ کردیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی اس انسانی مخلوق کی ذات میں ودیعت فرمایا ہے۔ وہ راز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مفاہیم کے اظہار کے لئے ان کے نام رکھنے کی صلاحیت دی اور اس طرح انسان ان ناموں کے ذریعہ اظہار مافی الضمیر کرتے ہیں ۔ ناموں کی حقیقت کیا ہے ؟ صرف یہ کہ وہ مختلف قسم کی آوازیں ہیں جو اپنے منہ سے نکالتا ہے اور جو ان محسوسات اور اشخاص پر دلالت کرتی ہیں جنہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 اس کے بعد حضرت آدم سے جو تمام اشیائے عالم کی نسبت سوال ہوا تو فرفر سب امور ملائکہ کو بتا دیئے کہ وہ بھی سب دنگ رہ گئے، اور حضرت آدم کے احاطہ علمی پر عش عش کر گئے تو اللہ تعالیٰ نے ملائکہ سے فرمایا کہ کہو ہم نہ کہتے تھے کہ ہم جملہ مخفی امور آسمان و زمین کے جاننے والے ہیں اور تمہارے دل میں جو باتیں مکنون ہیں وہ بھی سب ہم کو معلوم ہیں۔ فائدہ۔ اس سے علم کی فضیلت عبادت پر ثابت ہوئی دیکھئے عبادت میں ملائکہ اس قدر بڑھے ہوئے ہیں کہ معصوم، مگر علم میں چونکہ انسان سے کم ہیں اس لئے مرتبہ خلافت انسان ہی کو عطا ہوا اور ملائکہ نے بھی اس کو تسلیم کرلیا اور ہونا بھی یوں ہی چاہیے کیونکہ عبادت تو خاصہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 33 قَالَ یٰٓاٰدَمُ اَنْبِءْھُمْ بِاَسْمَآءِھِمْ ج فَلَمَّآ اَنْبَاَھُمْ بِاَسْمَآءِھِمْ لا قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّکُمْ اِنِّیْ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِلا جو تمہاری نگاہوں سے اوجھل اور مخفی ہیں۔ وَاَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا کُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ ان الفاظ سے محسوس ہوتا ہے کہ فرشتوں کی خواہش یہ تھی کہ خلافت ہمیں ملے ‘ ہم خدام ادب ہیں ‘ ہر وقت تسبیح وتحمید اور تقدیس میں مصروف ہیں ‘ جو حکم ملتا ہے بجا لاتے ہیں ‘ تو یہ خلافت کسی اور مخلوق کو کیوں دی جا رہی ہے۔ اب آگے چونکہ تیسری مخلوق کا ذکر بھی آئے گا لہٰذا یہاں نوٹ کر لیجیے کہ اللہ تعالیٰ کی تین مخلوقات ایسی ہیں جو صاحب تشخص…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

45 جب فرشتوں کو آدم کے ہمہ علمی احاطہ کا علم ہوگیا اور انہوں نے اپنے عجز علمی کا اعتراف کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو وہ بات بتادی جو وہ نہیں جانتے تھے اور وہ یہ تھی کہ انسان میں اگر فتنہ و شر کا پہلو ہے تو صلاح و خیر کا پہلو بھی موجود ہے اور صلاح و خیر کا پہلو غالب ہے۔ اسی لیے اسے خلیفہ بنایا جا رہا ہے اور وہ اپنے علمی کمال کی وجہ سے اس کی اہلیت بھی رکھتا ہے۔ اس قصہ سے ضمناً یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ علم عبادت سے افضل ہے۔ عبادت کا تعلق صرف مخلوق سے ہے۔ جب کہ علم کا تعلق خالق و مخلوق دونوں سے اور سب سے بڑا عالم اور علیم تو خود اللہ تعالیٰ ہے۔ بلاشبہ انسان فرشتوں جیسی اور جتنی عبادت نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

120 (یعنی فرشتوں کو اشیاء کائنات کے آثار و خواص) اسماء پر حاشیہ اوپر گزر چکا۔ جب فرشتے اظہار عجز کرچکے، تو اب آدم (علیہ السلام) سے ارشاد ہوا کہ تم اپنے معلومات کا اظہار کرو۔ آدم (علیہ السلام) کی فضیلت اس علم تکوینی ہی کی بنا پر تو تھی۔ 121 ۔ یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) جب امتحان میں پورے اتر چکے، اپنے معلومات تکوینی کا اظہار سارے خلائق پر کردیا، اور اس طرح ان کا شرف عیانا ساری کائنات پر ثابت ہوگیا۔ 122 ۔ خطاب کا یہاں براہ راست ملائکہ سے ہونا تو ظاہر ہی ہے۔ لیکن عجب نہیں کہ بالواسطہ ساری مخلوق سے ہو۔ 123 ۔ گویا آیت نمبر 30 میں (آیت) ” انی اعلم ما لاتعلمون “ کی جو اجمالی حقیقت بیان ہوئی تھی، اب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 31–33

وَعَلََّمَ آدَمَالْاَسْمَآئَ کُلَّھَا، اَسْمَاء سے مراد اشخاص ومسمیات کے نام اور ان کے خواص و فوائد کا علم ہے جو اللہ تعالیٰ نے القاء والہام کے ذریعہ حضرت آدم علیہ الصلاة السلام کو سکھلایا تھا، اسم کے ساتھ اگر مسمّٰی کا علم نہ ہو تو اسم محض ایک آواز رہے گی، ذہن میں اس کا کوئی مفہوم ظاہر نہ ہوگا، علامہ راغت نے اسی مفہوم کو اس طرح بیان فرمایا ہیں : '' اَنَّ معرفة الاسماء لا تحصل اِلَّا بمعرفة المسمّٰی و حصول صورتہ فی الضمیر '' کہ اسم کی معرفت بغیر مسمّٰی کی معرفت کے اور ذہن میں اس تصویر کے ہو نہیں سکتی، پھر جب آدم علیہ الصلاة والسلام سے کہا گیا کہ ان کے نام بتائو تو انہوں نے فوراً سب کچھ بیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قَالَ یَآ اٰدَمُ اَنْبِءْھُمْ بِاَسْمَاءِھِمْ ( فرمایا اے آدم تم فرشتوں کو ان ( چیزوں) کے نام بتادو) مفسرین کے قول کے مطابق بِاَسْمَاءِھِمْم میں ضمیر ھم ان اشیاء کی طرف راجع ہے کہ جن کے نام حضرت آدم ( علیہ السلام) کو سکھلائے گئے تھے اور جو ہم نے تفسیر لکھی ہے اس کے موافق ملائکہ کی طرف راجع ہوگی اور یہ معنی ہونگے کہ اے آدم فرشتوں کو ان ناموں کی خبر دو جو وہ سیکھ سکتے ہیں یا یہ معنی کہ وہ نام بتاؤ جس کا سیکھنا ہم نے ان کے لیے مقدر کیا ہے اور بجائے بِاَسْمَآءِھِمْ کے بِاَسْمَاءِکُمْ ( اے آدم جو تمہیں نام تعلیم کئے گئے ہیں وہ انہیں بتادو) اس لیے نہیں فرمایا کہ اجمالاً تمام اسماء الٰہیہ کا سیکھنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(33) اب حضرت آدم ؑ کو ان اسماء کے بتلانے کا حکم ہوا جو انہوں نے بتادیے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہوا کہ تمام آسمانوں اور زمینوں کی پوشیدہ باتوں کو اور ان چیزوں کو جو تم فرشتے حضرت آدم ؑ کے بارے میں اپنے پروردگار کی اطاعت کا اظہار کرتے ہو اور جو پوشیدہ رکھتے ہو اور جو چیز شیطان ملعون نے ان کے سامنے ظاہر کی اور جو پوشیدہ رکھی سب کو تمہارا رب بخوبی جانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 31–33

کسی ورکشاپ کی ذمہ داری سپرد کرتے وقت یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کے اوزاروں کا علم کون رکھتا ہے، ظاہر ہے کہ انھیں وہی استعمال کرسکتا ہے جو کم از کم ان کا نام جانتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کی اشیاء کے نام آدم ؑ کو سکھائے اور فرشتوں پر واضح کیا کہ زمین کی خلافت کے لیے صرف تسبیح و تقدیس کافی نہیں بلکہ علم اسماء بھی ضروری ہے جو آدم کو عطا کیا گیا ہے، فرشتوں کو نہیں۔ رہی یہ بات کہ فرشتوں کو یہ علم کیوں نہیں دیا گیا اور انھیں زمین کی خلافت کیوں نہیں سونپی گئی تو اس کی حکمت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے : (اِنِّىْٓ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ) . بیشک میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ 3 اس سے معلوم ہوا کہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 33 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال یادم انبئھم باسمائھم اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 : انبئھم باسمائھم اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی فضیلت اور بلند مرتبہ پر آگاہ کرنے کے لئے انہیں حکم دیا کہ فرشتوں کو ان چیزوں کے نام بتاؤ، اس کے بعد کہ پہلے ان پر ان چیزوں کو پیش کیا گیا تھا تاکہ فرشتے جان لیں کہ وہ زیادہ جاننے والا ہے اس کے متعلق جو ان سے پوچھی تھی۔ حضرت آدم (علیہ السلام) فرشتوں سے افضل تھے کہ اسے ان پر مقدم کیا اس کے لئے انہیں سجدہ کرنے کا حکم دیا اور انہیں آدم کا شاگرد بنایا اور انہیں حکم دیا کہ ان سے علم حاصل کرو۔ پس حضرت آدم (علیہ السلام) کو عظمت و جلال کا رتبہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 31–33

(1) امام الفریابی، ابن سعد، ابن جریر، ابن ابی حاتم، حاکم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آدم اس لئے نام رکھا گیا کیونکہ وہ سطح زمین سے پیدا کئے گئے جس میں سرخ سفید اور سیاہ اجزاء تھے۔ اسی وجہ سے لوگوں کے رنگ بھی مختلف ہیں ان میں سرخ، سفید، سیاہ، اچھے اور برے (سب) ہیں۔ (2) عبد بن حمید نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو سطح زمین سے پیدا فرمایا۔ سرخ، سفید اور کالی مٹی سے۔ آدم کی وجہ تسمیہ (3) ابن سعد، عبد بن حمید اور ابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ تم جانتے ہو آدم کیوں نام رکھا گیا اس لئے کہ سطح زمین سے پیدا کئے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ قَالَ : اس نے کہا ] [ يٰٓاٰدَمُ : اے آدم ] [ اَنْۢبِئْـھُمْ : آپ بتائیں ان کو ] [ بِاَسْمَاۗىِٕهِمْ ۚ : ان کے نام ] [ فَلَمَّآ : تو جب ] [ اَنْۢبَاَھُمْ : انہوں نے بتایا ان کو ] [ بِاَسْمَاۗىِٕهِمْ ۙ : ان کے نام ] [ قَالَ : اس نے کہا ] [ اَلَمْ اَقُلْ : کیا میں نے نہیں کہا تھا ] [ لَّكُمْ : تم لوگوں سے ] [ اِنِّىْٓ اَعْلَمُ : کہ میں جانتا ہوں ] [ غَيْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : زمین اور آسمانوں کے غیب کو ] [ وَاَعْلَمُ : اور میں جانتا ہوں ] [ مَا : وہ جو ] [ تُبْدُوْنَ : تم لوگ ظاہر کرتے ہو ] [ وَمَا : اور وہ جو ] [ كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ : تم لوگ چھپاتے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

حضرت آدم (علیہ السلام) کا علم و فضل ظاہر ہونا جب فرشتوں نے ان چیزوں کے نام بتانے سے اپنے عاجز ہونے کا اظہار کردیا، جو ان پر پیش کی گئی تھیں تو اللہ تعالیٰ شانہٗ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو حکم فرمایا کہ تم ان کے نام بتادو، چناچہ انہوں نے ان چیزوں کے نام بتا دیئے۔ فرشتوں کی عاجزی کا اور حضرت آدم (علیہ السلام) کے علم کا خوب اچھی طرح مظاہرہ ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا، کیا میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ میں آسمان اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کو جانتا ہوں اور وہ سب کچھ جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو۔ مفسر بیضاوی لکھتے ہیں کہ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب تم سے کہا کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 30–33

ذکر تخلیق سامان حیات روحانی واعطاء خلافت ربانی قال تعالیٰ واذ قال ربک للملئکۃ انی جاعل فی الارض۔۔۔ الی۔۔۔ انہ ھو التواب الرحیم گزشتہ آیات میں زمین و آسمان اور دیگر مخلوقات کی پیدائش کو بیان فرمایا کہ ہم نے ان تمام مخلوقات کو تمہارے نفع کے لیے پیدا کیا ہے۔ آئندہ آیات میں ان مخلوقات سے منتفع ہونے والی مخلوق یعنی انسان کا ذکر فرماتے ہیں۔ انسان سے پہلے دو قسم کی مخلوق موجود تھی۔ ایک فرشتے دوسرے جن اور یہ دونوں قسمیں علوی اور سفلی۔ ارضی اور سماوی اشیاء سے متمتع اور منتفع نہیں ہوسکتیں۔ فرشتوں کا نہ منتفع ہونا تو بالکل ظاہر ہے۔ فرشتوں کو نہ زن اور فرزند کی ضرورت اور نہ طعام و شراب اور نہ طعام و شراب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ف 83 ۔ جب فرشتوں نے اپنے عجز اور قصور علم کا اعتراف کرلیا تو حضرت آدم (علیہ السلام) کی فضیلت ظاہر کرنے کے لیے وہی سوال ان پر پیش کیا گیا۔ 84 ۔ میں تہاشری حقیقت کو اور تمہارے ظاہری اور باطنی حالات کو اچھی طرح جانتا ہوں مجھے معلوم ہے کہ تمہاری حقیقت اور ہے۔ اور انسان کی حقیقت اور ہے۔ یہ ان تک فرشتوں کا عجز، قصور علم اور کمالات میں حضرت آدم (علیہ السلام) سے فروتر ہونا روز روشن کی طرح واضح ہوگیا۔ خود فرشتوں کے اپنے اقرار سے بھی اور اللہ تعالیٰ کے اعلان سے بھی جب اس نوری مخلوق کے عجز اور قصور علم کا یہ حال ہے اور وہ آدم سے بعض کمالات میں کم بھی ہیں تو پھر وہ خدا کے شریک کس طرح بن سکتے ہیں۔ لہذا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 31–33

گزشتہ سے پیوستہ : اللہ تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان کو وحدانیت اختیار کرنے اور اپنے خالق کی عبادت کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور اس کی پہچان کے سلسلے میں اس کی صفات و کمالات کا ذکر ہوا۔ اللہ نے ان انعامات کا ذکر فرمایا جو اس نے نسل انسانی پر کیے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کا ذکر کیا “ واذ قال ربک للمئکۃ انی جاعل فی الارض خلیفۃ ” اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے سامنے تذکرہ کیا۔ کہ میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں تو فرشتوں نے جواب میں کہا “ اتجعل فیھا من یفسد فیھا ” کیا تو زمین میں ایسی ہستی کو بنائے گا جو فساد کریگی اور خون بہائے گی۔ حالانکہ ہم تیری تسبیح بیان کرتے ہیں ۔ تیری حمد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ يٰٓاٰدَمُ اَنْۢبِئْـھُمْ بِاَسْمَاۗىِٕہِمْ۝ 0 ۚ فَلَمَّآ اَنْۢبَاَھُمْ بِاَسْمَاۗىِٕہِمْ۝ 0 ۙ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّىْٓ اَعْلَمُ غَيْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝ 0 ۙ وَاَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ۝ 33 قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ آدم آدم أبو البشر، قيل : سمّي بذلک لکون جسده من أديم الأرض، وقیل : لسمرةٍ في لونه . يقال : رجل آدم نحو أسمر،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : قالوا فعل ضمیر راجع ملائکہ کی طرف اس کا فاعل سبحانک لاعلم لنا الخ تمام جملہ مفعول بہ سبحان اسم ہے مصدر کی جگہ میں واقع ہوا ہے اور کبھی اس سے سبحت مشتق کیا جاتا ہے اور یہ اکثر مضاف ہو کر مستعمل ہوتا ہے اور منسوب ہوتا ہے اور منصوب ہوتا ہے سبحت اللہ تسبیحاً جیسے کہ معاذ اللہ اور جب یہ اضافت سے مجرد ہوتا ہے تو علم تسبیح ہو کر عثمان کی طرح تعریف اور الف اور نون کی وجہ سے غیر منصرف ہوتا ہے۔ الا ماعلمتنا ما مصدریہ ہے۔ ای الاعلما علمتنا اور یہ موضع لا سے بدل ہو کر مرفوع المحل ہے۔ جیسا کہ لا الہ الا اللہ۔ انت مبتداء العلیم اس کی خبر الحکیم خبر ثانی۔ یہ سب جملہ خبر ان ہوا اور ممکن ہے کہ انت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 31–33

وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآئَ کُلَّھَا ثُمَّ عَرَضَھُمْ عَلَی الْمَلٰٓئِکَۃِ فَقَالَ اَنْبِئُوْنِیْ بِاَسْمَآئِ ھٰٓؤُلَائِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ قَالُوْا سُبْحٰنَکَ لاَعِلْمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَاط اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیمُ الْحَکِیْمُ قَالَ یٰٓاٰدَمُ اَنْبِئْھُمْ بِاَسْمَآئِھِمْج فَلَمَّآ اَنْبَاَھُمْ بِاَسْمَآئِھِمْ لا قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّکُمْ اِنِّیْٓ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاَعْلَمُ مَاتُبْدُوْنَ وَمَاکُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ ۔ (البقرۃ : 31 تا 33) (اور اس نے سکھادئیے آدم کو ساری چیزوں کے نام پھر انھیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا مجھے بتلائو ان چیزوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 31–33

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ خلیفہ کی علمی برتری اور فضیلت کا بیان۔ جناب آدم (علیہ السلام) کو ان تمام چیزوں کے ناموں سے آگاہ کردیا گیا جن سے انہیں واسطہ پڑنا تھا۔ پھر ان اشیاکو ملائکہ کے سامنے پیش کرکے حکم دیا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتلاؤ۔ ملائکہ نے نام بتلانے سے معذوری ظاہر کی اور عرض کی کہ بار الٰہا ! تیری ذات، احکام اور کام ہر کمزوری اور نقص سے پاک ہے ہم تو فقط اتنا ہی جانتے ہیں جو کچھ آپ نے ہمیں بتلایا ہے بلاشبہ تو ہر چیز کا علم بھی رکھنے والا ہے۔ ثابت ہوا کہ ملائکہ بھی غیب نہیں جانتے۔ اس کے بعد آدم (علیہ السلام) کو حکم فرمایا کہ ملائکہ کو ان چیزوں کے نام بتلاؤ حکم…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 32–33

استخلاف میں علمی فوائد : اس میں فرشتوں کی تردید ہے اور اس بات کی وضاحت ہے کہ جس کو میں نے استخلاف دینا ہے اسمیں علمی فوائد ہیں۔ جو تمام فوائد کی جڑ اور بنیاد ہیں۔ جن کی وجہ سے وہ استخلاف کے اہل ہیں۔ قَالُوْاسُبْحٰنَکََ : (انہوں نے کہا تو پاک ہے) نمبر 1: آپ اس سے پاک ہیں کہ آپ سے کوئی چیز مخفی رہے۔ نمبر 2: آپ اس سے پاک ہیں کہ آپ کی تدبیر پر اعتراض کیا جائے۔ نکتہ عجیبہ : اسماء کا علم حاصل کرنا عبادت کے لیے خلوت میں بیٹھنے سے بڑھ کر ہے۔ تو پھر علم شریعت کا تو کیا ہی کہنا ہے۔ سجنٰک یہ مصدر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ یعنی سبحت اللّٰہ تسبیحًا۔ لَا عِلْمَ لَنَآ اِلاَّمَاعَلَّمْتَنَا : (نہیں ہے ہمیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 33۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” یادم انبئہم باسماء ھم “ یعنی ان کے ناموں کی ان کو خبر دیجئے ، پس حضرت آدم (علیہ السلام) نے ہر شئی کا نام لیا اور اس کی حکمت ذکر کی جس کی خاطر اسے پیدا کیا گیا ۔ (آیت)” فلما انباھم باسماء ھم “۔ (قال) اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” الم اقل لکم “ اے میرے فرشتو ! کیا میں نے تم کو کہا نہ تھا (آیت)” انی اعلم غیب السموات والارض “ آسمان و زمین میں سے جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہوگا یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ان کو فرما چکا (آیت)” ان اعلم مالا تعلمون “ ابن کثیر (رح) اور حضرت نافع ؓ اور ابو عمرو ؓ ” انی “ کو یاء کی زبر کے ساتھ پڑھا اور اسی طرح ہر اس یاء کو زیر کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 31–33

(31 ۔ 33): آیت { فَاِذَا سَوَّیْتُہٗ وَنَفْخُت فِیْہِ مِنْ رُّوْحِی فَقَعُوْالہ سَاجِدِیْنَ } (15۔ 29) سے اور شفاعت کی انس بن مالک کی بخاری و مسلم وغیرہ کی اس حدیث سے جس میں یہ ذکر ہے کہ میدان محشر میں لوگ حضرت آدم کے پاس سب انبیاء سے پہلے جا کر یہ کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ عزت دی ہے کہ فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا ہے اور آسمان و زمین کی سب چیزوں کے نام آپ کو سکھائے ہیں اس عزت کے سبب سے اللہ تعالیٰ آپ کی شفاعت منظور فرما وے گا 1۔ اور اسی طرح کی آیات و احادیث کے سبب سے اس پر تو سب مفسرین سلف کا اتفاق ہے کہ حضرت آدم کے اصل قصہ میں ملائکہ کے سجدہ کے بعد حضرت آدم کو سب چیزوں کے نام سکھائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 30–34

آیت 30 تا 34 (آیت) ” اور جب آپ کے رب نے فرشتوں سے کہا، میں زمین میں ایک خلیفہ بناؤں گا “ یہ ابوالبشر حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کی ابتدا اور ان کی فضیلت کا ذکر ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آدم کی تخلیق کا ارادہ کیا تو اس نے فرشتوں کو آگاہ کیا اور فرمایا کہ وہ آدم کو زمین کے اندر خلیفہ بنائے گا۔ اس پر تمام فرشتوں نے کہا (اتجعل فیگھا من یفسد فیھا) ” کیا تو زمین میں اس کو بنائے گا جو اس میں فساد کرے گا “ یعنی گناہوں کا ارتکاب کرکے زمین پر فساد برپا کرے گا (ویسفک الدماء) ” اور خون بہائے گا “ یہ عموم کے بعد تخصیص ہے اور اس کا مقصد قتل کے مفاسد کی شدت کو بیان کرنا ہے اور یہ فرشتوں کے گمان کے مطابق…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 32–34

غیر اللہ کو سجدہ کرنا قول باری ہے : واذ قلنا للملٓئکۃ اسجدوالا دم فسجدوا (اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا) شعبہ نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ ریز ہو کر دراصل فرشتوں نے اللہ کی اطاعت کی تھی۔ اللہ ہی نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو مسحور ملائکہ ہونے کا اعزاز بخشا تھا۔ معمر نے قتادہ سے قول باری : وخروالہ سجداً (اور اس کے سامنے سجدے میں گرپڑے) کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ برادران یوسف (علیہ السلام) کی تحیت یعنی سلام کرنے کا طریقہ یہی تھا کہ وہ اس مقصد کے لئے سجدہ ریز ہوجاتے تھے۔ اس بات کو تسلیم کرنے میں کوئی امتناع نہیں ہے کہ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

103 آدم کا ذکر " مُعِلّم ملائکہ " کے اسلوب میں : دقّت تعبیر ملاحظہ ہو کہ فرشتوں کو جب ان چیزوں کے نام بتانے کو کہا گیا تو ان سے فرمایا گیا ۔ { اَنْبِئُوْنِیْ } ۔ " بتاؤ مجھے نام ان چیزوں کے " اور آدم کو جب یہی بات ارشاد فرمائی گئی تو ان سے فرمایا گیا ۔ { اَنْبِئْہُمْ بِأَسْمَائِہِمْ } ۔ " بتاؤ ان (فرشتوں) کو نام ان چیزوں کے "، سو اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ آدم فرشتوں کے لئے استاذ اور معلم قرار دئے گئے۔ نیز یہاں سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ آدم خاکی کا مرتبہ نوری فرشتوں سے بڑا ہے کہ آدم کو ان کا مسجود بھی قرار دیا گیا، اور معلم بھی۔ پس ثابت ہوا کہ اہل بدعت کا یہ سمجھنا کہ نوری کا مرتبہ خاکی سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 31–33

علم کی برتری تشریح : پچھلی آیت میں اللہ اور فرشتوں کا مکالمہ اس بات پر ختم ہوا کہ اللہ تعالیٰ علیم وخبیر ہے۔ فرشتے تو محض ایک مخلوق اللہ ہیں اور کام صرف وہی کرسکتے ہیں جو ان کے ذمہ لگا دیا گیا۔ علم بھی صرف اتنا ہی ان کے پاس ہے جتنا اللہ نے ان کو سکھا دیا۔ ظاہر ہوتا ہے کہ ہر فرشتہ اپنی ڈیوٹی کے علاوہ نہیں جانتا، ہوا اور پانی کا بندوبست اور انسانوں کی رہنمائی جتنی اللہ کی طرف سے ان کو اجازت ہے اس کو ثابت کرتے ہیں۔ اللہ علیم و حکیم ہے اور آدم کی پیدائش بیکار نہیں اور یہ کہ آدم علم میں فرشتوں سے برتر ہے۔ اللہ نے کچھ چیزیں فرشتوں کے سامنے رکھیں اور ان کے نام دریافت کئے۔ فرشتے نام نہ جانتے تھے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 30–39

آیات 30- 39 اسرارو معارف یہاں تک دعوت الی اللہ اور عبادت کا ضروری ہونا بطور شکر کے اور اس درجہ میں کہ اللہ کا حق ہے بندے پر ارشاد ہوا پھر اس کے نتائج اور نافرمانی کی سزا کا ذکر اس انداز میں تھا کہ اللہ تمہارا رب ہے خالق ہے مگر یہاں سے اسی دعوت پر دوسری دلیل شروع فرمائی اور ایک اور طرح سے دعوت فکر دی ہے کہ ابتدائے نوع انسان کو دیکھو ، اللہ نے پیدائشی طور پر اسے کیا فضیلت بخشی اور کس طرح سے شیطان اس کے خلاف ہوا۔ اب اگر تم اللہ کی اطاعت نہ کرو گے تو یقینا تم اس کے پیچھے چلو گے کہ دوسری راہ اسی کی ہے جو بحیثیت انسان بھی تھیں کسی طرح زیب نہیں دیتا۔ انسان خلیفۃ اللہ فی الارض ہے : سو یہاں حضرت آدم…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 ۔ اس سے معلوم ہوا کہ فرشتوں کا علم جزوی حثیت کا ہے اور وہ باوجود مقرب ہونے کے علم غیب نہیں رکھتے۔ حدیث عائشہ ؓ میں ہے کہ جو شخص یہ گمان کرے کہ آنحضرت ﷺ کل کی بات جانتے ہیں تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھا۔ (صحیح مسلم) پھر نجومیوں اور کا ہنوں کے متعلق یہ اعتقاد کہ وہ غیب کی باتیں جانتے ہیں صریح نادانی اور جہالت ہے۔ (وحیدی) اور کوئی غیب کی بات پوچھنے کے لیے کاہن یا نجومی کے پاس جانا اور اس کی تصدیق کرنا کفر ہے۔ (قرطبی۔ ابن کثیر)2 ۔ علم کے ذریعہ آدم (علیہ السلام) کی فضیلت ظاہر کرنے کے بعد اب فرشتوں پر اسے دوسرے اشرف یہ بخشا کہ ان کو آدم کو سامنے سجدہ کا حکم دیا۔ اس سجدہ سے مراد…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:33) ما تبدون۔ ما۔ موصولہ تبدون جملہ فعلیہ ہو کر اس کا صلہ۔ تبدون تم ظاہر کرتے ہو۔ تم ظاہر کرو گے مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ابداء (افعال) مصدر بمعنی نمایاں طور پر ظاہر کرنا۔ یا ظاہر ہونا۔ بدئ۔ مادہ کنتم تکتمون ۔ ماضی استمراری جمع مذکر حاضر، تم چھپاتے تھے۔ کتمان۔ کنتم (باب نصر) چھپانا۔ پوشیدہ کرنا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 30–33

لغات القرآن : آیت نمبر 30 تا 33 (خلیفہ): نائب، جو کسی کا قائم مقام ہو۔ (اتجعل): کیا تو بناتا ہے (ا، کیا ، تجعل تو بناتا ہے) ۔ (یفسد): فساد مچائے گا، تباہی پھیلائے گا۔ (یسفک ): خون بہائے گا، اسی سے لفظ آتا ہے ” سفاک “ ۔ (الدماء) : خون (دم، خون ) ۔ (نسبح): ہم تسبیح کرتے ہیں۔ (نقدس): ہم پاکیزگی بیان کرتے ہیں۔ (علم): اس نے سکھایا۔ (الاسماء) : نام (اسم، نام ) ۔ (عرض): اس نے سامنے رکھا۔ (انبئونی ): مجھے بتاؤ (انبئی ، بتا دے، انبئو، بتادو، ن، وقایہ، ی مجھے) ۔ (صدقین ): سچ بولنے والے۔ (سبحن ) : پاک اور بےعیب ذات۔ (علمتنا): تو نے ہمیں سکھا دیا۔ (الم اقل): کیا میں نے نہیں کہا تھا۔ (تبدون ): تم ظاہر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 31–34

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) پر تمام اشیاء پیش فرما کر سب چیزوں کا علم آپ کو عطا فرمایا۔ پھر اللہ جل شانہ نے فرشتوں سے پوچھا کہ اگر تم اپنے خیال میں سچے ہو کہ میں کوئی مخلوق تم سے زیادہ عالم پیدا نہ کروں اور خلافت کے تم ہی مستحق ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ۔ چونکہ فرشتوں میں وہ علم نہ تھا وہ کیا بتاتے اور اپنے قصور فہم اور کم علمی کا قائل ہونا پڑا۔ معذرت کرکے عرض کرنے لگے : " ہم کیا بتا سکتے ہیں، ہماری کیا حقیقت ہے " پھر خدا نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے ارشاد کیا کہ اب تم ان تمام اشیاء کے نام بتاؤ تو حضرت آدم (علیہ السلام) نے تمام نام تفصیلاً بتا دئیے، تو فرشتے ان کے قائل ہوئے۔ جب ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 31–33

[27] اشیاء کا علم انسان کو ان کے ناموں کے ذریعہ سے حاصل ہوتا ہے۔ آدم کو سب چیزوں کے نام بتانا گویا ان کو تمام اشیاء کا علم دینا تھا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 32–34

(ف 1) مسجودانسان : پھر اس لئے کہ فرشتوں کو انسان کو حقیقی قدر ومنزلت کا علم ہو ‘ اللہ نے تمام کو آدم (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ کرنے کا کہا ، سب کو آدم (علیہ السلام) کے سامنے جھکایا ، اسلامی فلسفہ تخلیق ہی یہی ہے کہ تمام کائنات انسان کے لئے پیدا کی گئی ہے ۔ (آیت) ” وخلق لکم ما فی الارض جمیعا “۔ ذرہ سے آفتاب تک اور زمین سے آسمان تک سب کچھ حضرت انسان کے لئے ، حتی کہ شمس و قمر بھی اسی کے خادم ہیں ۔ (آیت) ” وسخرلکم الشمس والقمر دآئبین “۔ یوں سمجھ لیجئے کہ آدم قبلہ مقصود ہے ہر چیز کا ، ساری کائنات کا محور انسان ہے ، شیطان جو ایک مشخص برائی ہے ، اس حقیقت کو نہ سمجھا اور اکڑ بیٹھا ، قرآن حکیم نے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 31–33

ف 1۔ اور اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو بنانے اور پیدا کرنے کے بعد ان کو تمام اشیاء کے نام اور خواص سکھا دیئے پھر وہ تمام اشیاء فرشتوں کے روبرو رکھیں اور ان سے فرمایا تم اگر اپنے دعوئے خلافت میں سچے ہو تو ان چیزوں کے نام مجھے بتائو اس پر فرشتوں نے عرض کیا اے بار الٰہ آپ کی ذات جملہ عیوب سے منزہ ہے ہم کو تو جو کچھ آپ نے سکھا دیا ہے اس کے سوا کسی اور چیز کا علم نہیں ہے بیشک آپ ہی بڑے عالم اور بڑے صاحب حکمت ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اے آدم تم ان اشیاء کے نام ان فرشتوں کو بتادو، پھر جب حضرت آدم (علیہ السلام) نے ان اشیاء کے نام ان فرشتوں کو بتائے تو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 31–33

ف 7۔ یعنی تمام موجودات روئے زمین کے اسما و خواص کا علم دے دیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا فرشتوں نے اپنے بیان سے کچھ چھپایا بھی تھا ؟ 79: ” اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو وہ بھی میرے علم میں ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو وہ بھی مجھ سے مخفی نہیں ہے ؕ۔ “ یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ اپنے بیان سے فرشتوں نے کچھ چھپالیا تھا جس کو کسی وجہ سے انہوں نے اظہار نہیں کیا ؟ جس طرح آدم (علیہ السلام) کا ملائکہ کو اسماء بتانا یہ معنی نہیں رکھتا کہ آدم (علیہ السلام) نے ان کو وہ علم دے دیا جو اللہ تعالیٰ نے نہ دیا تھا۔ بلکہ یہ ان کے عمل کی خبر دیتا ہے انسان کے اشیاء تصرف پر تاکہ معلوم ہوجائے کہ اس کو ان کی صفات پر اطلاع ہے کیونکہ بغیر اطلاع کے تصرف ممکن نہیں۔ کُتُمْ کا معنی چھپانا ہے مگر ایک چیز جب کسی کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 31–33

Allah is the creator of the language (2) This episode, according to Imam al-Ash'ari (رح) ، shows that language as such has been created by Allah Himself, and not invented by man - its use by different kinds of men has later on produced the many forms of language. (3) One should note a subtle suggestion here in the use of two words. In asking the angels for the names of things, Allah said, أَنبِئُونِي "Tell Me"; but in commanding Adam (علیہ السلام) to do so, He said, أَنبِئْهُم : "Tell them." The difference in the mode of expression shows that Adam (علیہ السلام) was given the rank of a…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

44. This demonstration of Adam's capacity was an answer to the first of the doubts the angels had expressed. In this manner, they were made to realize that God had not only bestowed some authority upon man, but had also endowed him with knowledge. Fear of mischief and disorder through man's appointment as vicegerent is only one aspect of the matter. The other aspect is constructive and offsets man's potentiality for spreading mischief. For the wise will not sacrifice a major good for fear of a minor harm.

Read the full tafseer →