Al-Baqara 2:32

Al-Baqara · from ayah 32

2:32

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ؕ— اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ ۟قَالُوۡا سُبۡحٰنَكَ لَا عِلۡمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمۡتَنَا ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ

انہوں نے کہا، تو پاک ہے۔ جتنا علم تو نے ہمیں بخشا ہے، اس کے سوا ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ بے شک تو دانا (اور) حکمت والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

They said, "Exalted are You; we have no knowledge except what You have taught us. Indeed, it is You who is the Knowing, the Wise."

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 4 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:32

انہوں نے عرض کیا: "نقص سے پاک تو آپ ہی کی ذات ہے، ہم تو بس اتنا ہی علم رکھتے ہیں، جتنا آپ نے ہم کو دے دیا ہے حقیقت میں سب کچھ جاننے اور سمجھنے والا آپ کے سوا کوئی نہیں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

انہوں نے کہا، تو پاک ہے۔ جتنا علم تو نے ہمیں بخشا ہے، اس کے سوا ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ بے شک تو دانا (اور) حکمت والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان سب نے کہا اے اللہ! تیری ذات پاک ہے ہمیں تو صرف اتنا ہی علم ہے جتنا تونے ہمیں سکھا رکھا ہے، پورے علم وحکمت واﻻ تو تو ہی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ بول اٹھے آپ ہی کی ذات پاک ہے جو کچھ علم آپ نے ہمیں دیا ہے اس کے سوا ہم کچھ نہیں جانتے حقیقت میں علم و حکمت کے مالک تو صرف آپ ہیں

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولے پاکی ہے تجھے ہمیں کچھ علم نہیں مگر جتنا تو نے ہمیں سکھایا بے شک تو ہی علم و حکمت والا ہے -

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرشتوں نے عرض کیا: تیری ذات (ہر نقص سے) پاک ہے ہمیں کچھ علم نہیں مگر اسی قدر جو تو نے ہمیں سکھایا ہے، بیشک تو ہی (سب کچھ) جاننے والا حکمت والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھوں نے کہا تو پاک ہے، ہمیں کچھ علم نہیں مگر جو تو نے ہمیں سکھایا، بیشک تو ہی سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

فرشتے کہنے لگے نقص سے پاک تو تیری ہی ذات ہے۔ ہم تو اتنا ہی جانتے ہیں جتنا تو نے ہمیں سکھا یا ہے اور ہر چیز کو جاننے والا اور اس کی حکمت سمجھنے والا تو تو ہی ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

انہوں نے کہا کہ تو پاک ہے، ہمیں تو تو نے جو کچھ بتایا ہے اس کے سوا کوئی علم نہیں۔ بیشک تو ہی علم والا اور حکمت والا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

انہوں نے عرض کیا کہ (مالک) ہم تو بس وہی کچھ جانتے ہیں جو آپ نے ہمیں سکھایا ہے بیشک آپ ہی ہیں سب کچھ جانتے نہایت حکمتوں والے

— مولانا اسحاق مدنی

وہ بولے تو پاک ذات ہے۔ ہمیں تو کچھ علم نہیں مگر ہاں وہی جو تو نے ہمیں علم دے دیا۔۔ بیشک تو ہی ہے بڑا علم والا۔ حکمت والا۔۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہوں نے کہا (پروردگار !) نقص سے پاک تو آپ ہی کی ذات ہے ہمیں کوئی علم حاصل نہیں سوائے اس کے جو آپ نے ہمیں سکھادیا ہے۔ یقیناً آپ ہی ہیں جو سب کچھ جاننے والے کامل حکمت والے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

انہوں نے عرض کیا نقص سے پاک تو آپ کی ہی ذات ہے ہم تو بس اتنا ہی علم رکھتے ہیں جتنا آپ نے ہم کو دے دیا ہے۔ حقیقت میں سب کچھ جاننے اور سمجھنے والا آپ کے سوا کوئی نہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

They replied, "Glory be to You. You alone are free from defect. We possess only that much knowledge which You have given us. Indeed You alone are All-Knowing and All-Wise."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They said, :To You belongs all purity! We have no knowledge except what You have given us. Surely, You alone are the All-knowing, All-wise.

— Muhammad Taqi Usmani

They said, :To You belongs all purity! We have no knowledge except what You have given us. Surely, You alone are the All-knowing, All-wise.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They (angels) said: "Glory is to You, we have no knowledge except what you have taught us. Verily, You are the Knower, the Wise."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They said: Be glorified! We have no knowledge saving that which Thou hast taught us. Lo! Thou, only Thou, art the Knower, the Wise.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They said, "Exalted are You; we have no knowledge except what You have taught us. Indeed, it is You who is the Knowing, the Wise."

— Saheeh International

The angels replied, "You are glorious indeed! We do not know more than what You have taught us. You alone are All-knowing and All-wise".

— Muhammad Sarwar

They said: Glory be to Thee! we have no knowledge but that which Thou hast taught us; surely Thou art the Knowing, the Wise.

— Muhammad Habib Shakir

They said: hallowed be Thou no knowledge is our save that which Thou hast taught us, verily Thou! Thou art the Knower, Wise.

— Abdul Majid Daryabadi

They said: "Glory to Thee, of knowledge We have none, save what Thou Hast taught us: In truth it is Thou Who art perfect in knowledge and wisdom."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:32

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 31–33

آدم ؑ کی وجہ فضیلت یہاں سے اس بات کا بیان ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک خاص علم میں حضرت آدم ؑ کو فرشتوں پر بھی فضیلت دی۔ یہ واقعہ فرشتوں کے سجدہ کرنے کے بعد کا ہے لیکن اللہ کی جو حکمت آپ کے پیدا کرنے میں تھی اور جس کا علم فرشتوں کو نہ تھا اور اس کا اجمالی بیان اوپر کی آیت میں گزرا ہے اس کی مناسبت کی وجہ سے اس واقعہ کو پہلے بیان کیا اور فرشتوں کا سجدہ کرنا جو اس سے پہلے واقعہ ہوا تھا بعد میں بیان کردیا تاکہ خلیفہ کے پیدا کرنے کی مصلحت اور حکمت ظاہر ہوجائے اور یہ معلوم ہوجائے کہ یہ شرافت اور فضیلت حضرت آدم کو اس لئے ملی کہ انہیں وہ علم حاصل ہے جس سے فرشتے خالی ہیں، فرمایا کہ حضرت آدم ؑ کو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَقَرَة 43 ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر فرشتے اور فرشتوں کی ہر صنف کا علم صرف اسی شعبے تک محدود ہے جس سے اس کا تعلق ہے۔ مثلاً ہوا کے انتظام سے جو فرشتے متعلق ہیں، وہ ہوا کے متعلق سب کچھ جانتے ہیں، مگر پانی کے متعلق کچھ نہیں جانتے۔ یہی حال دوسرے شعبوں کے فرشتوں کا ہے۔ انسان کو ان کے برعکس جامع علم دیا گیا ہے۔ ایک ایک شعبے کے متعلق چاہے وہ اس شعبے کے فرشتوں سے کم جانتا ہو، مگر مجموعی حیثیت سے جو جامعیّت انسان کے علم کو بخشی گئی ہے، وہ فرشتوں کو میسّر نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 32–33

خلاصہ تفسیر اور جس وقت حکم دیا ہم نے سب فرشتوں کو (اور جنوں کو بھی جیسا کہ بعض روایات میں حضرت ابن عباس سے منقول ہے غرض ان سب کو یہ حکم دیا گیا کہ) سجدہ میں گرجاؤ آدم کے سامنے سو سب سجدہ میں گر پڑے بجز ابلیس کے کہ اس نے کہنا نہ مانا اور غرور میں آگیا اور ہوگیا کافروں میں سے،

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

سُبْحٰنَكَ: قرآن مجید میں یہ کلمہ مختلف مواقع پر استعمال ہوا ہے۔ نامناسب اور خلاف شان باتوں سے اللہ تعالیٰ کی تنزیہہ کے لئے مثلاً سُبْحَانَ اللّٰہِ وَتَعَالٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ. (۶۸ قصص) اللہ پاک اور برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ دعا کے موقع کے لئے مثلاً دَعْوَاہُمْ فِیْہَا سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ. (۱۰ یونس) ان کی دعا اس میں یہ ہو گی کہ تو پاک ہے اے اللہ۔ امر کے معنی کے لئے۔ مثلاً فَسُبْحٰنَ اللّٰہِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَحِیْنَ تُصْبِحُوْنَ. (۱۷ روم) پس اللہ کی تسبیح کرو جس وقت تم شام کرتے ہو اور جس وقت تم صبح کرتے ہو۔ تعجب کے ساتھ کسی چیز کے انکار کے لئے۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 30–32

30۔ 1 مَلاَئِکَۃُ (فرشتے) فرشتے اللہ کی نوری مخلوق ہیں جن کا مسکن آسمان ہے جو احکامات کے بجا لانے اور اس کی تحمید و تقدیس میں مصروف رہتے ہیں اور اس کے کسی حکم سے سرتابی نہیں کرتے۔ 30۔ 2 خَلِیْفَۃُ سے مراد ایسی قوم ہے جو ایک دوسرے کے بعد آئے گی اور یہ کہنا کہ انسان اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا خلیفہ اور نائب ہے غلط ہے۔ 30۔ 3 فرشتوں کا یہ کہنا حسد یا اعتراض کے طور پر نہ تھا بلکہ اس کی حقیقت اور حکمت معلوم کرنے کی غرض سے تھا کہ اے رب اس مخلوق کے پیدا کرنے میں کیا حکمت ہے جب کہ ان میں کچھ ایسے لوگ بھی ہونگے جو فساد پھیلائیں گے اور خون ریزی کریں گے ؟ اگر مقصود یہ ہے کہ تیری عبادت ہو تو اس کام کے لئے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 32–33

30 : بظاہر ان الفاظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ نام صرف حضرت آدم ؑ کو سکھائے گئے تھے اور فرشتے اس تعلیم میں شریک نہیں تھے، اس صورت میں اس سے ناموں کے بارے میں پوچھنا یہ بتانے کے لئے تھا کہ تم میں وہ صلاحیت نہیں رکھی گئی جو آدم ؑ کی تخلیق سے مقصود ہے، دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ آدم ؑ کو سکھاتے وقت فرشتے موجود تھے ؛ لیکن چونکہ ان میں ان باتوں کو سمجھنے یا یاد رکھنے کی صلاحیت نہیں تھی اس لئے وہ امتحان کے وقت جواب نے دے سکے، اس صورت میں ان کے جواب کا حاصل یہ ہوگا کہ ہمیں وہی علم حاصل ہوسکتا ہے جو آپ ہمیں دینا چاہیں اور اس کی صلاحیت ہمارے اندر پیدا کردیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 31–33

دیکھئے ! اب ہم چشم بصیرت سے نہایت بلند روشنیوں میں عالم بالا کے کسی مقام پر فرشتوں کی ایک جمعیت کا مشاہدہ کررہے ہیں اس تقریب میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ انسانیت کا منصب خلافت سپرد کیا جارہا ہے اور یوں ہیں اس عظیم راز سے آگاہ کردیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی اس انسانی مخلوق کی ذات میں ودیعت فرمایا ہے۔ وہ راز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مفاہیم کے اظہار کے لئے ان کے نام رکھنے کی صلاحیت دی اور اس طرح انسان ان ناموں کے ذریعہ اظہار مافی الضمیر کرتے ہیں ۔ ناموں کی حقیقت کیا ہے ؟ صرف یہ کہ وہ مختلف قسم کی آوازیں ہیں جو اپنے منہ سے نکالتا ہے اور جو ان محسوسات اور اشخاص پر دلالت کرتی ہیں جنہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 31–32

3 خلاصہ یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے حضرت آدم کو ہر ایک چیز کا نام مع اس کی حقیقت اور خاصیت کے اور نفع اور نقصان کے تعلیم فرما دیا اور یہ علم ان کے دل میں بلاواسطہ کلام القاء کردیا کیونکہ بدون اس کمال علمی کے خلافت اور دنیا پر حکومت کیونکر ممکن ہے اس کے بعد ملائکہ کو اس حکمت پر مطلع کرنے کی وجہ سے ملائکہ سے امور مزکورہ کا سوال کیا گیا اگر تم اپنی اس بات میں کہ تم کار خلافت انجام دے سکتے ہو، سچے ہو تو ان چیزوں کے نام و احوال بتاؤ لیکن انہوں نے اپنے عجز و قصور کا اقرار کیا اور خوب سمجھ سے کہ بدون اس علم عام کے کوئی کار خلافت زمین میں نہیں کرسکتا اور اس علم عام سے قدر قلیل ہم کو اگر حاصل ہوا بھی تو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 32 قَالُوْا سُبْحٰنَکَ آپ ہر نقص سے ‘ ہر عیب سے ‘ ہر ضعف سے ‘ ہر احتیاج سے مبرا اور منزہ ہیں ‘ اعلیٰ اور ارفع ہیں۔ ّ لَا عِلْمَ لَنَا اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ط اس کی یہی تعبیر بہتر معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس کائناتی حکومت میں ملائکہ کی حیثیت درحقیقت اس کے کارندوں یا civil servants کی ہے۔ چناچہ ہر ایک کو صرف اس کے شعبے کے مطابق علم دیا گیا ہے ‘ ان کا علم جامع نہیں ہے اور ان کے پاس تمام چیزوں کا مجموعی علم حاصل کرنے کی استعداد نہیں ہے۔ مثلاً کوئی فرشتہ بارش کے انتظام پر ماموؤ ہے ‘ کوئی پہاڑوں پر مامور ہے ‘ جس کا ذکر سیرت میں آتا ہے کہ جب طائف میں رسول اللہ ﷺ پر پتھراؤ ہوا تو اس کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

44 اس سے معلوم ہوا کہ فرشتوں کو صرف انہی امور کا علم دیا گیا ہے جن پر وہ مدبرات امر کی حیثیت سے مامور ہیں۔ مثلاً بادلوں اور پانی کا فرشتہ، پانی کے متعلق تو جملہ معلومات رکھتا ہے مگر دوسری تمام اشیاء کے افعال و خواص سے بالکل بیخبر ہے۔ یہی حال دوسرے فرشتوں کا ہے۔ جبکہ انسان کو تمام اشیاء کا سرسری علم دیا گیا تھا۔ پھر وہ تحقیق اور جستجو کے ذریعہ اس میں ازخود اضافہ کرسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

116 ۔ (اور اس سے برتر اور منزہ کہ تیرا کوئی سا بھی فعل حکمت سے خالی اور مصلحت سے عاری ہو) ملائکہ پرستی (دیوی دیوتا پوجا) پر ضرب شدید لگانا ہے۔ 117 ۔ (اور ہم ناچیز بندوں کے علم کی تیرے نامتناہی اور لامحدود علم کے سامنے بساط ہی کیا ؟ ) صفت خلق، صفت قدرت وغیرہ دوسری صفات کا ذکر ہی نہیں، خود صفت علم کے بھی معیار سے کہاں فرشتوں کا علم جزئی اور کہاں حق تعالیٰ کا علم کلی ! 118 ۔ (جس کے علم کے لیے حاضر و غائب، قریب وبعید، حال ومستقبل سب یکساں ! اور جو بحیثیت ہمی دان وہمہ بین کے ہر مخلوق کے ظرف سے، استعداد سے، ملکات طبع سے یکساں واقف ! ) 119 ۔ (اور اسی قانون حکم کے ماتحت بشر وملک ہر مخلوق میں اس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 31–33

وَعَلََّمَ آدَمَالْاَسْمَآئَ کُلَّھَا، اَسْمَاء سے مراد اشخاص ومسمیات کے نام اور ان کے خواص و فوائد کا علم ہے جو اللہ تعالیٰ نے القاء والہام کے ذریعہ حضرت آدم علیہ الصلاة السلام کو سکھلایا تھا، اسم کے ساتھ اگر مسمّٰی کا علم نہ ہو تو اسم محض ایک آواز رہے گی، ذہن میں اس کا کوئی مفہوم ظاہر نہ ہوگا، علامہ راغت نے اسی مفہوم کو اس طرح بیان فرمایا ہیں : '' اَنَّ معرفة الاسماء لا تحصل اِلَّا بمعرفة المسمّٰی و حصول صورتہ فی الضمیر '' کہ اسم کی معرفت بغیر مسمّٰی کی معرفت کے اور ذہن میں اس تصویر کے ہو نہیں سکتی، پھر جب آدم علیہ الصلاة والسلام سے کہا گیا کہ ان کے نام بتائو تو انہوں نے فوراً سب کچھ بیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قَالُوْا ( بولے) جب فرشتوں کو ثابت ہوگیا کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) ہم سے زیادہ عالم اور افضل ہیں تو اپنے عجز اور بشر کی افضلیت اور استحقاق خلافت کا اقرار کیا اور اس نعمت کا شکر کیا کہ حق تعالیٰ نے ان کے پیدا کرنے کی حکمت ظاہر فرمائی اس لیے ذیل کی آیت کے مضمون کو عجز وزاری اور تضرع کے ساتھ درگاہ الٰہی میں ( ادا کیا) بولے۔ سُبْحَانَکَ ( تو پاک ہے) سبحانک فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے اس کی تقدیرنُسَبِّحُکَ سُبْحَانًاہے اور یہ معنی ہیں کہ خداوندا آپ کے افعال مصلحتوں اور حکمتوں سے خالی ہونے سے بالکل پاک اور منزہ ہیں۔ لَاعِلْمَ لَنَا ( نہیں ہے ہمیں علم) یعنی ہم آپ کے کسی علم کا احاطہ نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(32) فرشتوں نے جوابا عرض کیا کہ ہم اپنے قول سے رجوع کرتے ہیں ہمیں جو تو نے بتایا اتنا ہی علم ہے تو ہم سے اور ان سے اور ہماری باتوں اور ان کی باتوں سے زیادہ باخبر ہے

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 31–33

کسی ورکشاپ کی ذمہ داری سپرد کرتے وقت یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کے اوزاروں کا علم کون رکھتا ہے، ظاہر ہے کہ انھیں وہی استعمال کرسکتا ہے جو کم از کم ان کا نام جانتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کی اشیاء کے نام آدم ؑ کو سکھائے اور فرشتوں پر واضح کیا کہ زمین کی خلافت کے لیے صرف تسبیح و تقدیس کافی نہیں بلکہ علم اسماء بھی ضروری ہے جو آدم کو عطا کیا گیا ہے، فرشتوں کو نہیں۔ رہی یہ بات کہ فرشتوں کو یہ علم کیوں نہیں دیا گیا اور انھیں زمین کی خلافت کیوں نہیں سونپی گئی تو اس کی حکمت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے : (اِنِّىْٓ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ) . بیشک میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ 3 اس سے معلوم ہوا کہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 32 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قالوا سبحنک لا علم لنا الا ما علمتنا اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے سبحنک تو اس سے پاک ہے کہ تیرے سوا کوئی غیب جانے۔ یہ انبئونی کے ارشاد کا جواب ہے۔ فرشتوں نے جواب دیا کہ وہ تو صرف وہی جانتے ہیں جو وہ انہیں سکھاتا ہے اور وہ کوئی ایسی بات نہیں کہتے جس انہیں علم نہیں جیسا کہ ہم میں سے جہال کہا کرتے ہیں۔ ما علمتنا میں ما بمعنی الذی ہے یعنی وہ جو تو نے ہمیں سکھایا اور یہ بھی جائز ہے کہ مامصدر یہ ہو بمعنی الا تعلیمک ایانا یعنی مگر تیرے سکھانے کے ساتھ۔ مسئلہ نمبر 2: جس شخص سے کوئی علمی بات پوچھی جائے اور وہ نہ جانتا ہو تو اس پر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 31–33

(1) امام الفریابی، ابن سعد، ابن جریر، ابن ابی حاتم، حاکم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آدم اس لئے نام رکھا گیا کیونکہ وہ سطح زمین سے پیدا کئے گئے جس میں سرخ سفید اور سیاہ اجزاء تھے۔ اسی وجہ سے لوگوں کے رنگ بھی مختلف ہیں ان میں سرخ، سفید، سیاہ، اچھے اور برے (سب) ہیں۔ (2) عبد بن حمید نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو سطح زمین سے پیدا فرمایا۔ سرخ، سفید اور کالی مٹی سے۔ آدم کی وجہ تسمیہ (3) ابن سعد، عبد بن حمید اور ابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ تم جانتے ہو آدم کیوں نام رکھا گیا اس لئے کہ سطح زمین سے پیدا کئے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ قَالُوْا : انہوں نے کہا ] [ سُبْحٰــنَكَ : پاک ہونا تیرا ہے ] [ لَاعِلْمَ لَنَآ : ہمیں کوئی علم نہیں ] [ اِلَّا مَا : سوائے اس کے جو ] [ عَلَّمْتَنَا ۭ : تو نے تعلیم دی ہم کو ] [ اِنَّكَ اَنْتَ : بیشک تو ہی ] [ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ : حقیقی جاننے والا دانا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

فرشتوں کا عجز اور اقرار جب فرشتوں نے دیکھ لیا کہ اس نئی مخلوق کو اللہ تعالیٰ نے علم کی دولت سے نواز دیا اور جو علوم اس کو دیئے ہیں وہ ہم میں نہیں ہیں تو انہوں نے اپنی عاجزی کا اقرار کرلیا اور بارگاہ خداوندی میں عرض کیا کہ ہم ان چیزوں کے نام نہیں بتاسکتے۔ ہمیں جو کچھ علم ہے ہے اسی قدر ہے جو آپ نے عطا فرمایا ہے۔ اور ساتھ ہی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کی کہ آپ نے جو اس مخلوق کو خلیفہ بنانے کا ارادہ فرمایا ہے بالکل صحیح ہے۔ آپ ہر عیب اور نقص سے پاک ہیں آپ نے جو کچھ ارادہ فرمایا، اس کے متعلق کسی قسم کا کوئی سوال اٹھانا درست نہیں اور آپ علیم ہیں سبھی کچھ جانتے ہیں اور حکیم بھی ہیں آپ کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 30–33

ذکر تخلیق سامان حیات روحانی واعطاء خلافت ربانی قال تعالیٰ واذ قال ربک للملئکۃ انی جاعل فی الارض۔۔۔ الی۔۔۔ انہ ھو التواب الرحیم گزشتہ آیات میں زمین و آسمان اور دیگر مخلوقات کی پیدائش کو بیان فرمایا کہ ہم نے ان تمام مخلوقات کو تمہارے نفع کے لیے پیدا کیا ہے۔ آئندہ آیات میں ان مخلوقات سے منتفع ہونے والی مخلوق یعنی انسان کا ذکر فرماتے ہیں۔ انسان سے پہلے دو قسم کی مخلوق موجود تھی۔ ایک فرشتے دوسرے جن اور یہ دونوں قسمیں علوی اور سفلی۔ ارضی اور سماوی اشیاء سے متمتع اور منتفع نہیں ہوسکتیں۔ فرشتوں کا نہ منتفع ہونا تو بالکل ظاہر ہے۔ فرشتوں کو نہ زن اور فرزند کی ضرورت اور نہ طعام و شراب اور نہ طعام و شراب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ف 81 ۔ فرشتوں نے اپنے عجز اور قصور علم کا اعتراف کرلیا کہ اے اللہ ! ہمیں تو صرف وہی چیزیں معلوم ہیں جن کا علم تو نے ہمیں ہماری استعداد کے مطابق عطا فرمایا ہے اور جو چیزیں ہماری قابلیت اور استعداد سے بالا ہیں ان کا ہمیں کوئی علم نہیں۔ لا علم لنا الا ما علمتنا بحسن قابلیتنا من العلم المناسبۃ لعالمنا ولا قدرۃ لنا علی ما ھو خارج عن دارۃ استعدادنا (ابو السعود ص 494 ج 1) ۔ 82 ۔ تو ہی علیم و حکیم ہے۔ تیرا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں، مختلف مخلوق میں مختلف استعدادیں رکھنے کی حکمت کو تو ہی اچھی طرح جانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 31–33

گزشتہ سے پیوستہ : اللہ تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان کو وحدانیت اختیار کرنے اور اپنے خالق کی عبادت کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور اس کی پہچان کے سلسلے میں اس کی صفات و کمالات کا ذکر ہوا۔ اللہ نے ان انعامات کا ذکر فرمایا جو اس نے نسل انسانی پر کیے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کا ذکر کیا “ واذ قال ربک للمئکۃ انی جاعل فی الارض خلیفۃ ” اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے سامنے تذکرہ کیا۔ کہ میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں تو فرشتوں نے جواب میں کہا “ اتجعل فیھا من یفسد فیھا ” کیا تو زمین میں ایسی ہستی کو بنائے گا جو فساد کریگی اور خون بہائے گی۔ حالانکہ ہم تیری تسبیح بیان کرتے ہیں ۔ تیری حمد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوْا سُبْحٰــنَكَ لَا عِلْمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا۝ 0 ۭ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ۝ 32 قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ سبحان و ( سُبْحَانَ ) أصله مصدر نحو : غفران، قال فَسُبْحانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ [ الروم/ 17] ، وسُبْحانَكَ لا عِلْمَ لَنا [ البقرة/ 32] ، وقول الشاعرسبحان من علقمة الفاخر «1» قيل : تقدیره سبحان علقمة علی طریق التّهكّم، فزاد فيه ( من)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 31–32

ترکیب : علم فعل ضمیر راجع طرف اللہ کے فاعل۔ آدم مفعول اول الاسماء کلہا تاکید اور مؤکد مفعول ثانی یہ جملہ مستانفہ ہوا۔ عرض فعل بافاعل ھم ضمیر راجع طرف مسمیات کے کہ جو ضمناً سمجھی جاتی ہے، اس لیے کہ تقدیر کلام یہ ہے اسماء المسمیات مضاف الیہ کو حذف کردیا۔ اس لیے کہ مضاف دلالت کر رہا ہے۔ علی الملائکہ جار مجرور متعلق عرض کے ہوا اور قال فعل ضمیر راجع طرف اللہ کے وہ فاعل انبؤنی الخ جملہ مقولہ ہے۔ ان کنتم صادقین جملہ شرطیہ اور انبؤنی دال بر جزاء۔ تفسیر : کیفیت پیدائشِ آدم (علیہ السلام) : پس خدائے تعالیٰ نے حسب تجویز حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور اس پیدا ہونے کی کیفیت احادیث میں یوں مرقوم…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 31–33

وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآئَ کُلَّھَا ثُمَّ عَرَضَھُمْ عَلَی الْمَلٰٓئِکَۃِ فَقَالَ اَنْبِئُوْنِیْ بِاَسْمَآئِ ھٰٓؤُلَائِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ قَالُوْا سُبْحٰنَکَ لاَعِلْمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَاط اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیمُ الْحَکِیْمُ قَالَ یٰٓاٰدَمُ اَنْبِئْھُمْ بِاَسْمَآئِھِمْج فَلَمَّآ اَنْبَاَھُمْ بِاَسْمَآئِھِمْ لا قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّکُمْ اِنِّیْٓ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاَعْلَمُ مَاتُبْدُوْنَ وَمَاکُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ ۔ (البقرۃ : 31 تا 33) (اور اس نے سکھادئیے آدم کو ساری چیزوں کے نام پھر انھیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا مجھے بتلائو ان چیزوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 31–33

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ خلیفہ کی علمی برتری اور فضیلت کا بیان۔ جناب آدم (علیہ السلام) کو ان تمام چیزوں کے ناموں سے آگاہ کردیا گیا جن سے انہیں واسطہ پڑنا تھا۔ پھر ان اشیاکو ملائکہ کے سامنے پیش کرکے حکم دیا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتلاؤ۔ ملائکہ نے نام بتلانے سے معذوری ظاہر کی اور عرض کی کہ بار الٰہا ! تیری ذات، احکام اور کام ہر کمزوری اور نقص سے پاک ہے ہم تو فقط اتنا ہی جانتے ہیں جو کچھ آپ نے ہمیں بتلایا ہے بلاشبہ تو ہر چیز کا علم بھی رکھنے والا ہے۔ ثابت ہوا کہ ملائکہ بھی غیب نہیں جانتے۔ اس کے بعد آدم (علیہ السلام) کو حکم فرمایا کہ ملائکہ کو ان چیزوں کے نام بتلاؤ حکم…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 32–33

استخلاف میں علمی فوائد : اس میں فرشتوں کی تردید ہے اور اس بات کی وضاحت ہے کہ جس کو میں نے استخلاف دینا ہے اسمیں علمی فوائد ہیں۔ جو تمام فوائد کی جڑ اور بنیاد ہیں۔ جن کی وجہ سے وہ استخلاف کے اہل ہیں۔ قَالُوْاسُبْحٰنَکََ : (انہوں نے کہا تو پاک ہے) نمبر 1: آپ اس سے پاک ہیں کہ آپ سے کوئی چیز مخفی رہے۔ نمبر 2: آپ اس سے پاک ہیں کہ آپ کی تدبیر پر اعتراض کیا جائے۔ نکتہ عجیبہ : اسماء کا علم حاصل کرنا عبادت کے لیے خلوت میں بیٹھنے سے بڑھ کر ہے۔ تو پھر علم شریعت کا تو کیا ہی کہنا ہے۔ سجنٰک یہ مصدر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ یعنی سبحت اللّٰہ تسبیحًا۔ لَا عِلْمَ لَنَآ اِلاَّمَاعَلَّمْتَنَا : (نہیں ہے ہمیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

32۔ (آیت)” قالوا سبحنک “ تیری پاکیزگی کا اقرار و اعتراف کرتے ہیں ۔ (آیت)” لا علم لنا الا ما علمتنا “ ۔ معنی اس کا مطلب یہ ہے کہ بیشک تو اس بات سے بزرگ و برتر ہے کہ ہم تیرے علم سے (متعلق) کسی چیز کا احاطہ کرسکیں مگر وہ ہی علم جو تو نے ہمیں بخشا (آیت)” انک انت العلیم “ اپنی مخلوق کے ساتھ علیم ہے ” الحکیم “ اپنے امر میں حکیم کے دو معنی ہیں ، ان دو میں سے ایک ہے ۔ معنی حاکم ہے اور وہ قاضی کو کہتے ہیں ، دوسرا معنی کسی معاملہ کو مستحکم اور مضبوط کرنے والا تاکہ اس کی طرف فساد راہ نہ پا سکے حکمت کا لغوی معنی روکنا ہے تو حکمت اپنے صاحب کو باطل سے روکتی ہے اور اسی سے ہے حکمت الدابۃ جسے ہندی میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 31–33

(31 ۔ 33): آیت { فَاِذَا سَوَّیْتُہٗ وَنَفْخُت فِیْہِ مِنْ رُّوْحِی فَقَعُوْالہ سَاجِدِیْنَ } (15۔ 29) سے اور شفاعت کی انس بن مالک کی بخاری و مسلم وغیرہ کی اس حدیث سے جس میں یہ ذکر ہے کہ میدان محشر میں لوگ حضرت آدم کے پاس سب انبیاء سے پہلے جا کر یہ کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ عزت دی ہے کہ فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا ہے اور آسمان و زمین کی سب چیزوں کے نام آپ کو سکھائے ہیں اس عزت کے سبب سے اللہ تعالیٰ آپ کی شفاعت منظور فرما وے گا 1۔ اور اسی طرح کی آیات و احادیث کے سبب سے اس پر تو سب مفسرین سلف کا اتفاق ہے کہ حضرت آدم کے اصل قصہ میں ملائکہ کے سجدہ کے بعد حضرت آدم کو سب چیزوں کے نام سکھائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 30–34

آیت 30 تا 34 (آیت) ” اور جب آپ کے رب نے فرشتوں سے کہا، میں زمین میں ایک خلیفہ بناؤں گا “ یہ ابوالبشر حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کی ابتدا اور ان کی فضیلت کا ذکر ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آدم کی تخلیق کا ارادہ کیا تو اس نے فرشتوں کو آگاہ کیا اور فرمایا کہ وہ آدم کو زمین کے اندر خلیفہ بنائے گا۔ اس پر تمام فرشتوں نے کہا (اتجعل فیگھا من یفسد فیھا) ” کیا تو زمین میں اس کو بنائے گا جو اس میں فساد کرے گا “ یعنی گناہوں کا ارتکاب کرکے زمین پر فساد برپا کرے گا (ویسفک الدماء) ” اور خون بہائے گا “ یہ عموم کے بعد تخصیص ہے اور اس کا مقصد قتل کے مفاسد کی شدت کو بیان کرنا ہے اور یہ فرشتوں کے گمان کے مطابق…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 32–34

غیر اللہ کو سجدہ کرنا قول باری ہے : واذ قلنا للملٓئکۃ اسجدوالا دم فسجدوا (اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا) شعبہ نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ ریز ہو کر دراصل فرشتوں نے اللہ کی اطاعت کی تھی۔ اللہ ہی نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو مسحور ملائکہ ہونے کا اعزاز بخشا تھا۔ معمر نے قتادہ سے قول باری : وخروالہ سجداً (اور اس کے سامنے سجدے میں گرپڑے) کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ برادران یوسف (علیہ السلام) کی تحیت یعنی سلام کرنے کا طریقہ یہی تھا کہ وہ اس مقصد کے لئے سجدہ ریز ہوجاتے تھے۔ اس بات کو تسلیم کرنے میں کوئی امتناع نہیں ہے کہ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 31–32

102 تعلیم آدم بذریعہ تعلیم اسماء : سو حضرت آدم کو تعلیم اسماء کے ذریعے نور علم سے نوازا گیا، اور تعلیم کے سلسلہ میں یہی وہ فطری طریقہ ہے جو اب تک جاری وساری ہے۔ چناچہ یہ علم حضرت آدم کی طبیعت وجبلت اور ان کی فطرت میں اس طرح ودیعت فرما دیا گیا، کہ وہ خود اپنی زندگی میں بھی ان چیزوں سے کام لے سکیں، اور ان کے بعد قیامت تک آنے والی ان کی اولاد بھی اس فطری و جبلی علم سے مستفید و فیضیاب ہوتی رہے۔ کیونکہ حضرت آدم (علیہ الصلوۃ والسلام) اور ان کی اولاد کو ان چیزوں سے واسطہ پڑنا تھا، اور ان کو ان کے استعمال کرنے کی ضرورت پیش آنا تھی، اس لئے اللہ پاک نے فطرت والہام کے طور پر ان تمام چیزوں کے نام، ان کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 31–33

علم کی برتری تشریح : پچھلی آیت میں اللہ اور فرشتوں کا مکالمہ اس بات پر ختم ہوا کہ اللہ تعالیٰ علیم وخبیر ہے۔ فرشتے تو محض ایک مخلوق اللہ ہیں اور کام صرف وہی کرسکتے ہیں جو ان کے ذمہ لگا دیا گیا۔ علم بھی صرف اتنا ہی ان کے پاس ہے جتنا اللہ نے ان کو سکھا دیا۔ ظاہر ہوتا ہے کہ ہر فرشتہ اپنی ڈیوٹی کے علاوہ نہیں جانتا، ہوا اور پانی کا بندوبست اور انسانوں کی رہنمائی جتنی اللہ کی طرف سے ان کو اجازت ہے اس کو ثابت کرتے ہیں۔ اللہ علیم و حکیم ہے اور آدم کی پیدائش بیکار نہیں اور یہ کہ آدم علم میں فرشتوں سے برتر ہے۔ اللہ نے کچھ چیزیں فرشتوں کے سامنے رکھیں اور ان کے نام دریافت کئے۔ فرشتے نام نہ جانتے تھے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 30–39

آیات 30- 39 اسرارو معارف یہاں تک دعوت الی اللہ اور عبادت کا ضروری ہونا بطور شکر کے اور اس درجہ میں کہ اللہ کا حق ہے بندے پر ارشاد ہوا پھر اس کے نتائج اور نافرمانی کی سزا کا ذکر اس انداز میں تھا کہ اللہ تمہارا رب ہے خالق ہے مگر یہاں سے اسی دعوت پر دوسری دلیل شروع فرمائی اور ایک اور طرح سے دعوت فکر دی ہے کہ ابتدائے نوع انسان کو دیکھو ، اللہ نے پیدائشی طور پر اسے کیا فضیلت بخشی اور کس طرح سے شیطان اس کے خلاف ہوا۔ اب اگر تم اللہ کی اطاعت نہ کرو گے تو یقینا تم اس کے پیچھے چلو گے کہ دوسری راہ اسی کی ہے جو بحیثیت انسان بھی تھیں کسی طرح زیب نہیں دیتا۔ انسان خلیفۃ اللہ فی الارض ہے : سو یہاں حضرت آدم…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 سبحانک۔ کہ کلمہ تنز یہ یہ ہے یعنی تیری ذات ہر قسم کے نقائص سے پاک ہے اس میں فرشتوں نے اپنی عاجزی اور نادانی کا اعتراف کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے کمال علم و حکمت کا اعتراف۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:32) سبحنک۔ مضاف مضاف الیہ ۔ تو پاک ہے۔ الا ما علمتنا۔ الا حرف استثناء ۔ ما موصولہ۔ علمتنا فعل فاعل اور مفعول مل کر جملہ فعلیہ ہوکر صلہ ۔ موصول وصلہ مل کر مستثنی اپنے مستثنی منہ (علم) کا (ہمیں تو کچھ علم نہیں) مگر وہی جو تو نے ہمیں علم دیا۔ العلیم بروزن فعیل مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بڑا دانا ۔ خوب جاننے والا۔ الحکیم۔ فعیل کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے حکمت والا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 30–33

لغات القرآن : آیت نمبر 30 تا 33 (خلیفہ): نائب، جو کسی کا قائم مقام ہو۔ (اتجعل): کیا تو بناتا ہے (ا، کیا ، تجعل تو بناتا ہے) ۔ (یفسد): فساد مچائے گا، تباہی پھیلائے گا۔ (یسفک ): خون بہائے گا، اسی سے لفظ آتا ہے ” سفاک “ ۔ (الدماء) : خون (دم، خون ) ۔ (نسبح): ہم تسبیح کرتے ہیں۔ (نقدس): ہم پاکیزگی بیان کرتے ہیں۔ (علم): اس نے سکھایا۔ (الاسماء) : نام (اسم، نام ) ۔ (عرض): اس نے سامنے رکھا۔ (انبئونی ): مجھے بتاؤ (انبئی ، بتا دے، انبئو، بتادو، ن، وقایہ، ی مجھے) ۔ (صدقین ): سچ بولنے والے۔ (سبحن ) : پاک اور بےعیب ذات۔ (علمتنا): تو نے ہمیں سکھا دیا۔ (الم اقل): کیا میں نے نہیں کہا تھا۔ (تبدون ): تم ظاہر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 31–34

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) پر تمام اشیاء پیش فرما کر سب چیزوں کا علم آپ کو عطا فرمایا۔ پھر اللہ جل شانہ نے فرشتوں سے پوچھا کہ اگر تم اپنے خیال میں سچے ہو کہ میں کوئی مخلوق تم سے زیادہ عالم پیدا نہ کروں اور خلافت کے تم ہی مستحق ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ۔ چونکہ فرشتوں میں وہ علم نہ تھا وہ کیا بتاتے اور اپنے قصور فہم اور کم علمی کا قائل ہونا پڑا۔ معذرت کرکے عرض کرنے لگے : " ہم کیا بتا سکتے ہیں، ہماری کیا حقیقت ہے " پھر خدا نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے ارشاد کیا کہ اب تم ان تمام اشیاء کے نام بتاؤ تو حضرت آدم (علیہ السلام) نے تمام نام تفصیلاً بتا دئیے، تو فرشتے ان کے قائل ہوئے۔ جب ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 31–33

[27] اشیاء کا علم انسان کو ان کے ناموں کے ذریعہ سے حاصل ہوتا ہے۔ آدم کو سب چیزوں کے نام بتانا گویا ان کو تمام اشیاء کا علم دینا تھا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 32–34

(ف 1) مسجودانسان : پھر اس لئے کہ فرشتوں کو انسان کو حقیقی قدر ومنزلت کا علم ہو ‘ اللہ نے تمام کو آدم (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ کرنے کا کہا ، سب کو آدم (علیہ السلام) کے سامنے جھکایا ، اسلامی فلسفہ تخلیق ہی یہی ہے کہ تمام کائنات انسان کے لئے پیدا کی گئی ہے ۔ (آیت) ” وخلق لکم ما فی الارض جمیعا “۔ ذرہ سے آفتاب تک اور زمین سے آسمان تک سب کچھ حضرت انسان کے لئے ، حتی کہ شمس و قمر بھی اسی کے خادم ہیں ۔ (آیت) ” وسخرلکم الشمس والقمر دآئبین “۔ یوں سمجھ لیجئے کہ آدم قبلہ مقصود ہے ہر چیز کا ، ساری کائنات کا محور انسان ہے ، شیطان جو ایک مشخص برائی ہے ، اس حقیقت کو نہ سمجھا اور اکڑ بیٹھا ، قرآن حکیم نے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 31–33

ف 1۔ اور اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو بنانے اور پیدا کرنے کے بعد ان کو تمام اشیاء کے نام اور خواص سکھا دیئے پھر وہ تمام اشیاء فرشتوں کے روبرو رکھیں اور ان سے فرمایا تم اگر اپنے دعوئے خلافت میں سچے ہو تو ان چیزوں کے نام مجھے بتائو اس پر فرشتوں نے عرض کیا اے بار الٰہ آپ کی ذات جملہ عیوب سے منزہ ہے ہم کو تو جو کچھ آپ نے سکھا دیا ہے اس کے سوا کسی اور چیز کا علم نہیں ہے بیشک آپ ہی بڑے عالم اور بڑے صاحب حکمت ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اے آدم تم ان اشیاء کے نام ان فرشتوں کو بتادو، پھر جب حضرت آدم (علیہ السلام) نے ان اشیاء کے نام ان فرشتوں کو بتائے تو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 31–33

ف 7۔ یعنی تمام موجودات روئے زمین کے اسما و خواص کا علم دے دیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 31–32

فرشتوں میں خلافت ارضی کی استعداد نہیں : 75: فرشتوں کی زبان حال سے جو نسل انسانی کے فساد و خون ریزی کا بیان ہوا تھا جس سے استحقاق نیابت آدم پر شبہ کا اظہار ہوتا تھا اس کا جواب اجمالاً یہ دیا گیا کہ ” میری نظر جس حقیقت پر ہے تمہیں اس کی خبر نہیں “ جس میں یہ اشارہ صاف نظر آ رہا ہے کہ جس چیز کو تم نیابت و خلافت کے منافی سمجھ رہے ہو ، دراصل وہی اس کی اہلیت کا بڑا سبب ہے کیونکہ نیابت زمین کی ضرورت ہی رفع فساد کے لئے ہے اور جہاں فساد نہ ہو وہاں خلیفہ اور نائب کے بھیجنے کی ضرورت ہی کیا ؟ دوسری بات یہ کہ جو شخص حقیقت فساد سمجھ ہی نہ سکے وہ کیسے معلوم کرسکے گا کہ یہ فساد ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ فسادی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 31–33

Allah is the creator of the language (2) This episode, according to Imam al-Ash'ari (رح) ، shows that language as such has been created by Allah Himself, and not invented by man - its use by different kinds of men has later on produced the many forms of language. (3) One should note a subtle suggestion here in the use of two words. In asking the angels for the names of things, Allah said, أَنبِئُونِي "Tell Me"; but in commanding Adam (علیہ السلام) to do so, He said, أَنبِئْهُم : "Tell them." The difference in the mode of expression shows that Adam (علیہ السلام) was given the rank of a…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

43. It seems that the knowledge of each angel and each genre of angel is confined to its own sphere of competence. The angels appointed to administer, let us say, things relating to air have full knowledge about this subject but have no knowledge, say, about water, and so on and so forth. Man's range of knowledge, however, is comprehensive. Even if man's information in a particular area may be narrower than that of the angel directly concerned with it, the total range of his knowledge has a comprehensiveness which has not been granted to the angels.

Read the full tafseer →