Explained with ayahs 122–123
انتباہ
پہلے بھی اس جیسی آیت شروع سورت میں گزر چکی ہے اور اس کی مفصل تفسیر بھی بیان ہوچکی ہے یہاں صرف تاکید کے طور پر ذکر کیا گیا اور انہیں نبی امی ﷺ کی تابعداری کی رغبت دلائی گئی جن کی صفتیں وہ اپنی کتابوں میں پاتے تھے جن کا نام اور کام بھی اس میں لکھا ہوا تھا بلکہ ان کی امت کا ذکر بھی اس میں موجود ہے پس انہیں اس کے چھپانے اور اللہ کی دوسری نعمتوں کو پوشیدہ کرنے سے ڈرایا جا رہا ہے اور دینی اور دنیوی نعمتوں کو ذکر کرنے کا کہا جا رہا ہے اور عرب میں جو نسلی طور پر بھی ان کے چچا زاد بھائی ہیں اللہ کی جو نعمت آئی ان میں جس خاتم الانبیاء کو اللہ نے مبعوث فرمایا ان سے حسد کر کے نبی ﷺ کی مخالفت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
سوْرَةُ الْبَقَرَة 123
یہاں سے ایک دوسرا سلسلہ تقریر شروع ہوتا ہے، جسے سمجھنے کے لیے حسب ذیل امور کو اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہیے
(1) حضرت نوح ؑ کے بعد حضرت ابراہیم ؑ پہلے نبی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی عالمگیر دعوت پھیلانے کے لیے مقرر کیا تھا۔ انہوں نے پہلے خود عراق سے مصر تک اور شام و فلسطین سے ریگستان عرب کے مختلف گوشوں تک برسوں گشت لگا کر اللہ کی اطاعت و فرماں برداری (یعنی اسلام) کی طرف لوگوں کو دعوت دی۔ پھر اپنے اس مشن کی اشاعت کے لیے مختلف علاقوں میں خلیفہ مقرر کیے۔ شرق اردن میں اپنے بھتیجے حضرت لوط ؑ کو، شام و فلسطین میں اپنے بیٹے اسحاق ؑ کو، اور اندرون عرب میں اپنے بڑے بیٹے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
خلاصہ تفسیر
اوپر کی آیت تک بنی اسرائیل کے متعلق جن خاص مضامین کا بیان کرنا مقصود تھا وہ تو ختم ہوئے اب ان مضامین کی ابتدائی تمہید جن کے اجمال کے یہ سارے مضامین تفصیل تھے اس کو دوبارہ پھر بیان کرتے ہیں جس کا مقصد یہ ہے کہ تمہید کا مضمون خاص یعنی ترغیب کے لئے انعام عام وخاص کا یاد دلانا اور ترہیب کیلئے قیامت کو پیش نظر کردینا بوجہ تکرار خوب ذہن نشین ہوجائے کیونکہ مقصود اعظم کلیات ہوتے ہیں جن کا خود استحضار ان کے اختصار کی وجہ سے سہل اور آسان ہوتا ہے اور بوجہ جامعیت اور انطباق کے ان کے ذریعہ سے ان کے جزئیات کا محفوظ رکھنا آسان ہوتا ہے اور محاورات میں یہ طرز بلیغ بھی اعلیٰ درجہ کا سمجھا جاتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
آیت 122 اور 123 یہ دونوں آیتیں معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ اوپر بھی گزر چکی ہیں اور وہاں ہم ان پر پوری تفصیل کے ساتھ بحث کرچکے ہیں۔ ملاحظہ ہو تفسیر آیات 47، 48
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–123
121۔ 1 اہل کتاب کے لوگوں کے اخلاق و کردار کی ضروری تفصیل کے بعد ان میں جو کچھ لوگ صالح اور اچھے کردار کے تھے، اس آیت میں ان کی خوبیاں، اور ان کے مومن ہونے کی خبر دی جا رہی ہے۔ ان میں عبد اللہ بن سلام اور ان جیسے دیگر افراد ہیں، جن کو یہودیوں میں سے قبول اسلام کی توفیق حاصل ہوئی۔
121۔ 2 وہ اس طرح پڑھتے ہیں جس طرح پڑھنے کا حق ہے کہ کئی مطلب بیان کئے گئے مثلا (1) خوب توجہ اور غور سے پڑھتے ہیں۔ جنت کا ذکر آتا ہے تو جنت کا سوال کرتے ہیں اور جہنم کا ذکر آتا ہے تو اس سے پناہ مانگتے ہیں۔ (2) اس کے حلال کو حلال، حرام کو حرام سمجھتے اور کلام الٰہی میں تحریف نہیں کرتے (جیسے دوسرے یہودی کرتے تھے (3) اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–122
78: بنی اسرائیل میں جہاں سرکش لوگ بڑی تعداد میں تھے وہاں بہت سے لوگ ایسے مخلص بھی تھے جنہوں نے تورات اور انجیل کو صرف پڑھا ہی نہیں تھا ؛ بلکہ اس کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے حق کی ہر بات کو قبول کرنے کے لئے اپنے سینوں کو کشادہ رکھا تھا، چنانچہ جب ان کو آنحضرت ﷺ کی دعوت پہنچی تو انہوں نے کسی عناد کے بغیر اسے قبول کیا، اس آیت میں ان حضرات کی تعریف کی گئی ہے اور سبق یہ دیا گیا ہے کہ کسی آسمانی کتاب کی تلاوت کا حق یہ ہے کہ اس کے تمام احکام کو دل سے مان کر ان کی تعمیل کی جائے، درحقیقت تورات پر ایمان رکھنے والے وہی ہیں جو اس کے احکام کی تعمیل میں آنحضرت ﷺ پر ایمان لاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
درس 7 ایک نظر میں
ان یہاں سے وہ حالات بیان کئے جارہے ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے کے دور سے متعلق ہیں یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کو جس طرح بیان کیا جارہا ہے اس سیاق کلام میں اس کی اہمیت بھی واضح ہوجاتی ہے ۔ مدینہ طیبہ میں اسلامی جماعت اور یہودیوں کے درمیان جو مختلف النوع اختلافات پائے جاتے تھے ، ان پر روشنی ڈالنے کے لئے یہ قصہ بےحد اہم تھا۔
کیونکہ اہل کتاب حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے واسطے سے اپنی نسبت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف کرتے تھے اور اپنی اس نسبت اور اللہ تعالیٰ کی جاب سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
7 بنی اسرائیل کو جو باتیں شروع میں یاد دلائی گئیں تھیں اب ان کے سب حالات ذکر کرنے کے بعد پھر وہی امور بغرض تاکید و تنبیہ یاد دلائے گئے کہ خوب دل نشین ہوجائیں اور ہدایت قبول کرلیں اور معلوم ہوجائے کہ اصل مقصود اس قصہ سے یہ ہے۔
Read the full tafseer →فرمایا :
آیت 122 یٰبَنِیْ اِسْرَآءِ یْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وَاَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ
یہ آیت بعینہٖ ان الفاظ میں چھٹے رکوع کے آغاز میں آچکی ہے۔ آیت 47 دوسری آیت بھی جوں کی توں آرہی ہے ‘ صرف الفاظ کی ترتیب تھوڑی سی بدلی ہے۔ عبارت کے شروع اور آخر والی بریکٹس ایک دوسرے کا عکس ہوتی ہیں۔ ایک کی گولائی دائیں طرف ہوتی ہے تو دوسری کی بائیں طرف۔ اسی طرح یہاں دوسری آیت کی ترتیب درمیان سے تھوڑی سی بدل دی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
148 بنی اسرائیل کا ذکر پانچویں رکوع سے شروع ہو کر چودھویں رکوع تک پورے دس رکوعات میں پوری تفصیل سے کیا گیا اور بتلایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے تو ان کو تمام اقوام عالم پر فضیلت دے کر تمام بنی نوع انسان کی ہدایت کا فریضہ انہیں سونپا تھا۔ مگر ان میں بیشمار ایسی اخلاقی بیماریاں پیدا ہوچکی تھیں۔ جن کی وجہ سے یہ امامت کے قابل ہی نہ رہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی ایسی تمام اخلاقی بیماریوں کا ذکر تفصیل سے بیان کردیا ہے اور آخر میں انہیں وہی ہدایت کی جا رہی ہے جو ابتداء میں بھی کی گئی تھی کہ اس دن سے ڈر کر اب بھی اپنی خباثتوں سے باز آجاؤ۔ جس دن کوئی شخص دوسرے کے کام نہ آسکے گا، نہ بدلہ قبول کیا جائے گا نہ…
Read the full tafseer →440 ۔ قوم بنی اسرائیل اور ان پر جو احسانات خداوندی تھے ان کا تعارف رکوع 5 میں مفصل کرایا جاچکا ہے۔ وہیں کے حاشیے ملاحظہ فرما لیے جائیں شروع میں تاریخ بنی اسرائیل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ سے بیان ہوئی۔ یعنی اس کے اس عہد کی جب وہ مستقل صاحب کتاب و شریعت ہو کر آزاد وخود مختار رہے اور ہر طرح کی نافرمانی وسرکشی میں بھی مبتلا۔ اب اسے اس کے قدیم ترین دور یعنی ابراہیمی کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی کے بعد سے تو آپ کی نسل کی دو شاخیں ہوئیں اور ایک کا نام دو پشتوں کے بعد بنی اسرائیل پڑا۔
441 ۔ (توحید کی علمبردار اور مبلغ کی حیثیت سے) قرآن مجید جو دعوی کرتا ہے کہ کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
آیت نمبر 122 تا 126
ترجمہ : اے بنی اسرائیل میری اس نعمت کو یاد کرو جس سے میں نے تم کو نوازا تھا اور میں نے تم کو اقوام عالم پر فضیلت عطا کی تھی، اسی جیسی آیت سابق میں گذر چکی ہے اور اس دن سے ڈرو جس دن کسی کے کام نہ آئے گا۔ اور نہ کسی سے فدیہ قبول کیا جائے گا، اور نہ کوئی سفارش ہی کسی کو فائدہ دے گی اور نہ (مجرموں) کو کہیں سے مدد ہی پہنچ سکے گی، کہ وہ اللہ کے عذاب سے بچا سکیں اور یاد کرو جب ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کے رب نے چند باتوں سے آزمایا اور ایک قراءت میں ابراہام ہے (اور وہ باتیں) جن کا اس کو مکلف کرنا اور مونچھوں کو کاٹنا اور سر کے بالوں میں مانگ نکالنا، اور ناخن تراشنا، اور بغل کے…
Read the full tafseer →يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِىَ الَّتِىْٓ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَاَنِّىْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ ۔ ( اے بنی اسرائیل یاد کرو میرا احسان جو میں نے تم پر کیا اور یہ کہ میں نے تمہیں فضیلت دی سارے جہان کے لوگوں پر)
Read the full tafseer →(122) اب پھر اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل پر اپنے انعامات اور احسانات کا ذکر فرماتے ہیں، اے یعقوب ؑ کی اولاد میرے ان انعامات کو یاد کرو جو میں نے تمہارے باپ داد پر فرعون اور اس کی قوم سے آزادی دے کر کیے ہیں اور اس کے علاوہ اور مزید انعامات کیے ہیں اور اسلام کی وجہ سے تمام جہان پر فضیلت دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
بنی اسرائیل سے خطاب کی ابتدا اللہ کی نعمتیں یاد دلانے اور قیامت اور اس کی ہولناکیوں سے ڈرانے سے ہوئی۔ مسلسل چوراسی آیات میں ان پر اللہ کی نعمتوں کے ساتھ ساتھ ان کی نافرمانیوں کا ذکر بھی فرمایا گیا۔ آخر میں دوبارہ انھیں اللہ کی نعمتیں یاد دلائی گئیں اور آخرت کے دن سے ڈرایا گیا اور متنبہ کیا گیا کہ اوپر بیان کی ہوئی بدکرداریوں کی وجہ سے تم ظالم ٹھہرے، سو اب امامت و قیادت بنی اسرائیل سے بنی اسماعیل میں منتقل ہو رہی ہے، جن میں ایک پیغمبر مبعوث کرنے کی دعا ابراہیم ؑ نے کعبہ کی بنیادیں اٹھاتے وقت کی تھی۔ ان آیات اور پچھلی تمام آیات کا مقصود اہل کتاب کو رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے اور آپ کی پیروی کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–123
آیت نمبر 121 تا 123
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الذین اتینھم الکتب قتادہ نے فرمایا : اس سے مراد نبی کریم ﷺ کے اصحاب ہیں۔ اور اس تاویل پر الکتب سے مراد قرآن ہے۔ ابن زید نے کہا : اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو نبی اسرائیل میں سے اسلام لائے تھے۔ اس تاویل پر الکتب سے مراد تورات ہے۔ اور آیت عام ہے (1) ۔ الذین محل رفع میں ہے کیونکہ یہ مبتدا ہے۔ اتینھم اس کا صلہ ہے۔ یتلونہ مبتدا کی خبر ہے۔ اگر تو چاہے تو خبر اولئک یؤمنون بہ کو بنا دے۔
یتلونہ حق تلاوتہ اس کے معنی میں اختلاف ہے۔ بعض نے فرمایا : وہ پیروی کرتے ہیں جیسے اس کی پیروی کرنے کا حق ہے یعنی اس کے امرونہی کی پیروی کرنے کے ساتھ، اس کے حلال کو حلال کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–123
(1) امام عبد الرزاق نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الذین اتینھم الکتب “ سے مراد یہود و نصاری ہیں۔
(2) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ لفظ آیت ” یتلونہ حق تلاوتہ “ سے مراد ہے کہ وہ اس حلال کو حلال کہتے ہیں۔ اور اس کے حرام کو حرام کہتے ہیں اور اس کی جگہوں سے (آیات کو) نہیں ہٹاتے۔
(3) ابو عبید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور الہروی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یتلونہ حق تلاوتہ “ یعنی اس کی اتباع کرتے ہیں جیسے اس کی اتباع کا حق ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت ” والقمر اذا تلہا “ (سورۃ شمس آیت 2) بطور دلیل پڑھی فرمایا کہ جب چاند…
Read the full tafseer →(یٰــبَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ : اے اسرائیل (علیہ السلام) کے بیٹو) (اذْکُرُوْا : تم لوگ یاد کرو ) (نِعْمَتِیَ : میری نعمت کو ) (الَّتِیْ : جس کو کہ) (اَنْعَمْتُ : میں نے انعام کیا ) (عَلَیْکُمْ : تم لوگوں پر) ( وَاَ نِّیْ : اور یہ کہ ) (فَضَّلْتُـکُمْ : میں نے فضیلت دی تم لوگوں کو) (عَلَی الْعٰلَمِیْنَ : سب جہانوں پر )
یٰــبَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ ۔ ” یَا “ حرفِ ندا ” بَنِیْ “ منادیٰ مضاف ‘ علامت نصب ” یاء “ ہے ‘ کیونکہ یہ ملحق بجمع مذکر سالم ہے۔ ” ابْنٌ“ کی اصل ” بَنَــوٌ“ بر ورزن ” فَعَلٌ“ ہے ۔ ناقص واوی ہے اور دلیل یہ ہے کہ اس کا مصدر ” بُنُوَّۃٌ “ ہے۔ اس کی جمع مکسر ” اَبْنَائٌ “ اور جمع سلامت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
بنی اسرائیل کو نعمتوں کی مکرریاد دہانی
یہ دونوں آیتیں سورة بقرہ کے چھٹے رکوع کے شروع میں گزر چکی ہیں۔ دونوں آیتوں میں وہاں ایک طرح کی تمہید تھی جس میں اللہ تعالیٰ نے اجمالی طور پر بنی اسرائیل کو اپنے انعامات یاد دلائے تھے اور انہیں آخرت کے عذاب سے ڈرایا تھا، اس کے بعد تفصیلی طور پر بعض نعمتوں کا تذکرہ فرمایا اور ان کی حرکتوں اور بد عملیوں اور جھوٹی آرزوؤں کا اور بچھڑے کی پرستش کرنے اور جادو کے پیچھے لگنے اور فرشتوں کو اپنا دشمن بتانے اور حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر دبی زبان سے راعِنَا کہنے اور اس کے برے معنی مراد لینے کا اور بعض دیگر امور کا تفصیلی بیان ہوا۔ بیان کے ختم پر اب یہاں پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
تکریر تذکیر واعادۂ تحذیر
قال تعالی۔ یبنی اسراء یل اذکروا نعمتی۔۔۔ الی۔۔۔ ولا ھم ینصرون
(ربط) ۔ ابتداء سورت میں جب بنی اسرائیل کو خطاب فرمایا تو اسی عنوان اور اسی آیت سے شروع فرمایا اور طویل تفصیل کے بعد پھر اسی عنوان اور اسی آیت پر خطاب کو ختم فرمایا وجہ اس کی یہ ہے کہ اولاً حق تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کو اجمالاً یاد دلایا تاکہ شکر کی راہ اختیار کریں اور کفران نعمت سے احتراز کریں۔ بعد ازاں حق تعالیٰ ن اپنے انعامات اور اپنی عنایات اور ان کی جنایات اور تقصیرات کی تفصیل فرمائی جو یہاں آکر ختم ہوئی اخیر میں حق تعالیٰ نے پھر اسی مضمون کا اعادہ فرمایا جو ابتداء میں اجمالاًً ان سے کہا کہا گیا تھا تاکہ…
Read the full tafseer →234 میرے ان تمام انعامات کو یاد کرو جو ابھی ابھی تمہیں یاد دلائے ہیں خصوصاً اس نعمت توحید کو جس کی وجہ سے تمہارے اسلاف کو دنیا میں سب سے اونچا اور ممتاز مقام حاصل ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–123
گذشتہ سے پیوستہ :
یہود ونصاری کی خرابیاں مختلف انداز میں بیان ہو رہی ہیں ، اس سے پیشتر اس بات کا ذکر بھی آچکا ہے کہ اہل کتاب چاہتے ہیں کہ جو لوگ ایمان لا چکے ہیں وہ بھی پہلے دین یعنی یہودیت یا نصرانیت کی طرف پلٹ آئیں ، ان کی خواہش یہ ہے کہ اہل ایمان کمزور ہوجائیں اگرچہ ان پر حق واضح ہوچکا ہے ، تاہم وہ حسد کی بنا پر نبی آخر الزمان پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوتے ، نبی کریم ﷺ بعض باتوں میں موافقت بھی کرنے تھے مقصد یہ تھا کہ شاید یہ لوگ ہمارے ہو کر ایمان لے آئیں چناچہ مسلمان بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے ہجرت کے بعد بھی سولہ (16) سترہ (17) ماہ تک قبلہ بیت المقدس ہی رہا مگر بعد…
Read the full tafseer →يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِىَ الَّتِىْٓ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَاَنِّىْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ 122
اِسْرَاۗءِيْلَ
( بني) ، جمع ابن، والألف في ابن عوض من لام الکلمة المحذوفة فأصلها بنو .
(إسرائيل) ، علم أعجمي، وقد يلفظ بتخفیف الهمزة إسراييل، وقد تبقی الهمزة وتحذف الیاء أي إسرائل، وقد تحذف الهمزة والیاء معا أي : إسرال .
نعم
النِّعْمَةُ : الحالةُ الحسنةُ ، وبِنَاء النِّعْمَة بِناء الحالةِ التي يكون عليها الإنسان کالجِلْسَة والرِّكْبَة، والنَّعْمَةُ : التَّنَعُّمُ ، وبِنَاؤُها بِنَاءُ المَرَّة من الفِعْلِ کا لضَّرْبَة والشَّتْمَة، والنِّعْمَةُ للجِنْسِ تقال للقلیلِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
ترکیب : یا حرف ندا بنی مضاف اصل میں بنین ابن بمعنی پسر تھان اضافت سے ساقط ہوگیا اسرائیل مضاف الیہ مجموعہ منادی اذکروا فعل امر حاضر معروف ضمیر انتم فاعل نعمتی موصوف التی موصول انعمت علیکم جملہ صلہ عائد محذوف مجموعہ معطوف علیہ و انی فضلتکم علی العلمین جملہ معطوف پھر سب مل کر مفعول ہوا اذکروا کا۔ اذکروا اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ ندائیہ ہوا۔ واتقوا الخ اس کی ترکیب بیان ہوچکی وہاں دیکھ لو۔
تفسیر : اس سورة میں خدا تعالیٰ نے جب بنی اسرائیل سے کلام شروع کیا تھا تو وہاں بھی یہی فرمایا تھا کہ یا بنی اسرائیل اذکروا نعمتی الآیہ اور پھر جب ان کی نصیحت اور ان کے مکائد پر فضیحت سے فراغت پائی تو پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
یٰبَنِیْٓ اِسْرَائِیْلَ اذْکُرُوْ نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وَاَنِّی فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ۔ وَاتَّقُوْا یَوْمًا لَّاتَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّلَا یُقْبَلُ مِنْھَاعَدْلٌ وَّلَا تَنْفَعُھَا شَفَاعَۃٌ وَّلاَھُمْ یُنْصَرُوْنَ ۔
(اے بنی اسرائیل ! میری وہ نعمتیں یاد کرو جو میں نے تم کو بخشیں اور یہ کہ میں نے تمہیں دنیا جہان والوں پر فضیلت دی۔ اور اس روز سے ڈرو جب نہ کوئی کسی کے کام آئے گا اور نہ اس کی طرف سے معاوضہ قبول کیا جائے گا اور نہ اسے سفارش نفع پہنچا سکے گی اور نہ انھیں مدد ہی پہنچ سکے گی۔ ) (البقرۃ : 122 تا 123)
یہ دونوں آیتیں، اس سے پہلے سنتالیس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
فہم القرآن
ربط کلام : سورة البقرۃ میں اہل کتاب بنی اسرائیل کو تیسری بار خطاب کیا جار ہا ہے۔ جس میں بیت اللہ کی تاریخ ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاؤں کا ذکر خاص کر اس دعا کا ذکر ہے جس میں انہوں نے مکہ میں مبعوث ہونے والے آخری پیغمبر کے لیے اللہ کے حضور کی تھی۔
اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو تیسری مرتبہ اپنی عطا کردہ نعمتیں اور فضیلتیں یاد کروا کر احساس دلا رہا ہے کہ تم جس عزت رفتہ کے حصول کے خواہش مند ہو وہ نبی آخر الزماں ﷺ کی مخالفت کے راستے پر چل کر حاصل نہیں ہوسکتی۔ آج تم مسلمانوں کے خلاف ایک دوسرے کے معاون اور مددگار بن رہے ہو اس دن کی ہولناکیاں اپنے احاطۂ خیال میں لاؤ جس دن تم رائی کے…
Read the full tafseer →تفسیر آیت 122:
122: یٰبَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ : (اے بنی اسرائیل تم یاد کرو میری ان نعمتوں کو جو میں نے تم پر کیں) یعنی انعمتھا علیکم۔ تم پر میں نے انعام کیا۔
وَاَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ : (اور میں نے تمہیں فضیلت دی جہاں کے لوگوں پر) میں نے تمہیں تمہارے زمانے کے لوگوں پر فضیلت دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–124
(تفسیر) 122۔:
ابن عامر (رح) نے ابراہیم کے لفظکو بعض جگہوں پر ابراھام پڑھا ہے اور یہ تینتیس جگہیں اور کل مقامات ننانوے (99) ہیں جہاں ابراہیم کا لفظ آیا ہے ، ابراہیم عجمی نام ہے اس لیے یہ منصرف نہیں بلکہ غیر منصرف ہے اور یہ ابراہیم بن تارخ اور یہ تارخ آزر بن ناخور ہے، ان کی پیدائش اھواز کے علاقہ سوس میں ہوئی اور کہا گیا ہے کہ بابل میں ہوئی اور کہا گیا ہے کہ مقام کو ثی میں ہوئی اور کہا گیا ہے کسکر کے مقام پر ہوئی اور کہا گیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ولادت حران میں ہوئی اور ان کے والد نمرود بن کنعان کی سرزمین بابل لے آئے اور ابتلاء کا معنی آزمانا اور امتحان میں ڈالنا ہے اور اس کا معنی امر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
(122 ۔ 123) ۔ آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے یہود ان نعمتوں کو بھول گئے تھے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے بڑوں پر کی تھیں جن کے سبب سے وہ نبی زادے اور بادشاہ زادے کہلاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جگہ جگہ ان کو ہوشیار کرنے کے لئے پہلے یا بنی اسرائیل کے لفظ سے ان کو مخاطب کیا ہے اور پھر اپنی نعمتوں کو یاد دلایا ہے تاکہ وہ سمجھ جائیں کہ جو اللہ نعمتوں کے دینے پر قادر ہے وہ ایک دم میں اپنی نعمتیں چھین لینے پر بھی قادر ہے۔ محمد رسول ﷺ ایک تو اللہ کے رسول ہیں جس بات کو ان کے دل خوب ہی جانتے ہیں کیونکہ اس پر ان کی کتاب پوری گواہی دیتی ہے۔ دوسرے وہ ان کے چچا زاد بھائی بھی ہیں۔ اتنی مدت اولاد اسحاق میں نبوت رہی اب اگر بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–123
اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب عطا کی اور کتاب عطا کر کے ان پر احسان کیا ہے (آیت) يَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ ۭ” وہ اس کی تلاوت کرتے ہیں جیسا کہ تلاوت کرنے کا حق ہے۔ “ یعنی اس کی اتباع کرتے ہیں جیسا کہ اتباع کرنے کا حق ہے۔ یہاں (تلاوت) سے مراد اتباع ہے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کے حلال ٹھہرائے ہوئے امور کو حلال اور اس کے حرام ٹھہرائے ہوئے امور کو حرام سمجھتے ہیں۔ اس کی محکمات پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور اس کی متشابہات پر ایمان لاتے ہیں۔ اہل کتاب میں سے یہی وہ لوگ ہیں جو خوش بخت ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کو پہچانا اور اس کے شکر گزار ہوئے جو تمام رسولوں پر ایمان لائے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–124
قو ل باری ہے : واذا ابتلی ابراھیم ربہ بکلمات فاتمھن (یاد کرو جب ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور وہ ان سب پر پورا اتر گیا) اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کے مابین اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عباس کے قول کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مناسک میں آزمایا حسن بصری کے قول کے مطابق یہ آزمائش حضرت اسماعیلی (علیہ السلام) کی قربانی اور کواکب کے ذریعے کی گئی (کواکب کے ذریعے آزمائش کا ذکر قرآن میں موجود ہے) طائوس نے حضرت ابن عباس سے روایت بیان کی ہے کہ اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو طہارت کے حکم کے ذریعے آزمایا۔ اس سلسلے میں سر کے ساتھ تعلق رکھنے والے پانچ حکم اور…
Read the full tafseer →340 بنی اسرائیل کے سب جہانوں پر فضیلت پانے کا مطلب ؟ : یعنی اپنے دور میں اور اپنے زمانے کے اعتبار سے کہ اس زمانے میں توحید خداوندی کے عقیدہ صافیہ کے حامل و علمبردار تم ہی لوگ تھے۔ سو اسی بنا پر تمہیں اس عظیم الشان شرف و اعزاز سے نوازا گیا۔ پس تم لوگ اس کو یاد کرو اور اپنی ذمہ داری کو نبھاؤ، اور دین حق کے امین و علمبردار بن جاؤ، تاکہ تمہیں دارین کی سعادت و کامیابی سے نوازا جائے ۔ { اَوْفُوْا بَعَہْدِیْ اُوْف بِعَہْدِکُمْ } ۔ اور اگر تم اس آخری اور کامل دین حق پر ایمان لاؤ گے، اور تمہیں دیکھ کر دوسرے بھی ایمان لائیں گے، تو تمہیں دوہرا اجر ملے گا، اور اگر تم نے جانتے بوجھتے حق سے منہ موڑا، تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
تشریح : گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل کا ذکر بڑی تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے، ان کی ہر قسم کی کمزوریوں کو اچھی طرح بیان کیا جا چکا ہے۔ یہاں بنی اسرائیل کو تمام دیئے گئے انعامات یاد کروائے جارہے ہیں اور پھر واضح کیا جارہا ہے کہ اب اگر انہوں نے مزید ہٹ دھرمی، تعصب گروہ بندی اور ضد کا مظاہرہ کیا اور بنی آخرالزماں ﷺ پر ایمان نہ لائے، سیدھی راہ اگر اختیار نہ کی تو پھر آخرت میں ان کی گرفت یقیناً ہوگی اور آخرت کی گرفت بڑی سخت اور اٹل ہے۔ وہاں پر ہر شخص اپنے کئے کا بدلہ بڑے انصاف سے اور ضرور پائے گا۔ دنیا میں سزا سے بچنے کے لئے کسی کی سفارش، فدیہ (بدلہ) جرمانہ یا طاقت کام آسکتی ہے مگر آخرت میں نہ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–129
آیات 122- 129
اسرارو معارف
ہر طرح کے عقلی ، نقلی اور اعجازی جواب ارشاد فرما کر جب سب طرف سے عاجز کردیا اور حضور ﷺ کی حقانیت واضح ہوگئی تو پھر خطاب براہ راست بنی اسرائیل کو ہوا کہ اے اولاد یعقوب (علیہ السلام) ! میرے احسانات و انعامات جو میں نے تم پر کئے یاد کرو ، یہ میرا ہی احسان تھا کہ تمہیں تمہارے دور کی پوری دنیا پہ فضیلت عطاء کی۔
بنی اسرائیل کے ساتھ بات اس قدر طویل ہے کہ آپ ﷺ کی بعثت کے زمانے میں بھی ایک عالم میں یہی لوگ سربراہ تھے بلکہ مذاہب عالم پر چھائے ہوئے تھے اور خود مشرکین عرب بھی اپنی مشکلات میں ان کی طرف رجوع کرتے۔ حتیٰ کہ نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس سے سوال کرنے کے لئے مدینہ آتے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
ف 3 یہاں سے دوبارہ اہل کتاب کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ اوپر بیان کی ہوئی بد کرداریوں کی و جہ سے تم ظالم ٹھہرتے ہو سو اب امامت و قیادت امت جانشین ہوں گے۔ (ترجمان) اس سے دوبارہ آنحضرت ﷺ کی اتباع پر ابھارنا مقصود ہے۔ (شوکانی )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–122
(2:121) الذین اتینھم الکتاب یتلونہ حق تلاوتہ اولئک یؤمنون بہ ومن یکفر بہ فارلئک ھم الخسرون۔
اس آیت کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں۔ اور وجہ اس کی یہ ہے کہ یتلونہ۔ تلاوتہ۔ بہ۔ بہ میں علماء نے ہ کے مرجع کے متعلق اختلاف کیا ہے۔ اگرچہ آیت کے اصل مطلب میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم نے یہاں الکتب سے مراد توراۃ و انجیل لیا ہے اور اس کوہ کا مرجع اختیار کیا ہے (صاحب تفہیم القرآن کی مطابقت میں) اور بعض نے الکتاب سے مراد القرآن لیا ہے۔
الذین موصول اتینھم الکتاب صلہ۔ حق۔ مصدر کی طرف اضافت کی وجہ سے منصوب ہے۔
اولئک سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو کتاب دی گئی اور جسے وہ پڑھتے ہیں جیسا کہ پڑھنے کا حق ہے اور دوسرے اولئک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
لغات القرآن : آیت نمبر 122 تا 123
عدل (معاوضہ) ۔ لا تنفع (نفع نہ دے گا) ۔
تشریح : آیت نمبر 122 تا 123
بنی اسرائیل کی زندگی کے خاص خاص واقعات ، ناشائستہ حرکات، نافرمانیوں ، عہد شکنیوں اور بےانتہا انعامات کے تفصیلی ذکر کے بعد آخر میں ایک مرتبہ ان کو پھر یاد دلایا گیا ہے کہ اے بنی اسرائیل یہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر کرم کئے تھے اور تمہیں دنیا کی زندگانی میں جو شرف اور برتری عطا کی گئی تھی وہ محض اللہ نے عطا کی تھی وہ اللہ جو انسانوں کی بیشمار خطاؤں اور گناہوں کے باوجود اپنی رحمت کے دروازے کسی پر بند نہیں کرتا۔ لیکن جب اس کا فیصلہ آجاتا ہے تو ساری دنیا کی طاقتیں مل کر بھی اس کی گرفت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–123
مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ اسکی آیتوں میں کچھ ردوبدل نہیں کرتے بلکہ اس کے احکام کے پورے پابند ہیں ۔ پھر فرمایا جو لوگ اس ڈھنگ پر نہیں وہ ٹوٹے نقصان وخسارہ میں ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ چند روز دنیا کے لئے انہوں نے اپنی عقبیٰ برباد کی اس سے بڑھ کر اور کیا ٹوٹا (نقصان) ہوگا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–123
[81] یعنی جو اہل کتاب ضد اور ہٹ دھرمی سے کام نہیں لیتے وہ خود اپنی کتاب کے مطالعہ سے قرآن کی حقانیت و صداقت کے قائل ہوجائیں گے اور اس پر ایمان لے آئیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–124
منصب امام و نبوت :
(ف 1) ان آیات میں تین باتیں بتائی ہیں ۔ حضرت ابراہیم کا ابتلا ، امامت کی خوشخبری ، حضرت ابراہیم کا مطالبہ اور اس کا جواب ابتلا کے متعلق حضرت ابن عباس کا خیال ہے کہ وہ دس خصائل ہیں جنہیں فطرت انسانی کی اصلاح سے گہرا تعلق ہے اور حضڑت ابراہیم ان میں کامیاب نکلے ۔ یعنی ان پر پوری طرح عمل کیا ، دس باتیں یہ ہیں ۔ (1) کلی کرنا (2) ناک میں پانی دینا (3) کنگھار کرنا (4) مونچھیں تراشوانا (5) مسواک کا استعمال کرنا (6) ختنہ کرانا (7) بغل کو صاف رکھنا (8) بال زیر ناف صاف کرنا (9) ناخن کٹوانا (10) اور پانی سے طہارت کرنا ۔ اللہ تعالیٰ نے جب دیکھا کہ حضرت ابراہیم فطرت کے قوانین کو سمجھتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
ف 3 اے یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد ! تم میرے ان احسانات کو یاد کرو جو انعامات و احسانات میں تے تم پر کئے ہیں اور اس بات کو بھی یاد کرو کہ میں نے تم کو اقوام عالم پر خاص فوقیت و برتری عطا کی تھی اور اس دن سے ڈرو جس دن نہ تو کوئی کسی کے کام آسکے اور نہ کسی کی طرف سے کوئی فدیہ اور معاوضہ قبول کیا جائے اور نہ کسی کو کوئی سفارش مفید و نافع ہو اور نہ ان کو کسی طرف دار کی طرف داری اور کسی مددگار کی مدد پہنچ سکے۔ (تیسیر)
اقوام عالم کا مطلب وہی ہے جو ہم نے پہلے اسی قسم کی آیت کے تحت میں عرض کیا تھا کہ یا تو اس زمانہ کی اقوام مراد ہیں اور یا پھر بعض خصوصیات میں ان کو برتری اور فوقیت حاصل ہو یہ مطلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–124
ف 3۔ یہاں تک یہود کی چالیں اور قباحتیں جن میں سے بعض میں نصاری بھی شریک ہیں بیان فرمائی گئیں ہیں آگے یہ بتلانا مقصود ہے کہ ایسے ہٹ دھرم لوگوں سے امید ایمان نہ رکھنی چاہیے اور اس میں رسول اللہ کا ازالہ غم وفکر ہے کہ آپ ان کے عام طور پر ایمان لانے سے مایوس ہوجائیے اور پریشانی اور کلفت دل سے دور کردیجیے اور علاوہ ان کے ان کی ایک اور قباحت کا بیان ہے کہ رسول اللہ کا اتباع کرنے کی ان کو کیا توفیق ہوتی وہ یہاں تک بلند پروازی کرتے ہیں کہ نعوذ باللہ آپ کو اپنی راہ پر چلانے کی فکر محال میں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
اجمال اور تفصیل ِاجمال کے بعد دوبارہ اجمال کی حکمت :
228: آیت نمبر 122 اس سے پہلے آیت 40 ، اور آیت نمبر 47 میں دو بار ذکر کی جا چکی ہے۔ اور تیسری بار پھر ذکر کی ہے اور اس طرح آیت 123 بھی اس سے پہلے آیت 48 میں بیان کی جا چکی ہے۔ ان دونوں آیات کی تفصیل کے لئے حاشیہ نمبر 88 تا 91 اور 101 تا 103 نمبر ملاحظہ ہوں۔ آیت 40 اور 47 میں جو اجمال تھا اس کی تفصیل آیت 48 سے 121 تک کی گئی اور بنی اسرائیل کے متعلق جن خاص خاص مضامین کا بیان کرنا مقصود تھا وہ پورا ہوا۔ پھر اس تفصیل کے بعد مجمل طور پر دوبارہ ان کے انعامات الٰہی کو ذکر کیا جاتا ہے۔ محاورات میں یہ طرز بلیغ بھی اعلیٰ درجہ کا سمجھا جاتا ہے کہ مفصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
A large section of this Sarah, ending with the previous verse, has been dealing with different aspects of the conduct of the Israelites (that is, the Jews) in the course of their history. This account had begun with the statement which has been repeated at the end in these two verses. The statement is of a general and principal kind, and the verses which come in between the beginning and the end are, so to say, a detailed demonstration of the statement. On the one hand, it encourages the Israelites to come back to the Straight Path by reminding them of the blessings which Allah has bestowed…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
123. A fresh subject is now broached. In order to appreciate it fully, the following should be clearly borne in mind:
(1) After Noah, Abraham was the first Prophet appointed by God to spread the universal message of Islam. At the outset, he journeyed for many years from Iraq to Egypt, and from Syria and Palestine to various parts of Arabia inviting people to serve and obey God. Later he appointed deputies in various regions to carry on his mission. He sent his nephew Lot to Transjordan, his son Isaac to Syria and Palestine, and his eldest son Ishmael to Arabia. Then he built, in Makka, the…
Read the full tafseer →