Explained with ayahs 88–95
عیسیٰ ؑ کا تعارف
اس مبارک سورت کے شروع میں اس بات کا ثبوت گزر چکا کہ حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کے بندے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے باپ کے بغیر اپنے حکم سے حضرت مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا کیا ہے۔ اس لئے یہاں ان لوگوں کی نادانی بیان ہو رہی ہے جو آپ کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ جس سے ذات الہٰی پاک ہے۔ ان کے قول کو بیان فرمایا۔ پھر فرمایا یہ بڑی بھاری بات ہے ادا اور ادا تینوں لغت ہیں لیکن مشہور ادا ہے۔ ان کی یہ بات اتنی بری ہے کہ آسمان کپکپا کر ٹوٹ پڑے اور زمین جھٹکے لے لے کر پھٹ جائے۔ اس لئے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت جانتی ہے، ان میں رب کی توحید سمائی ہوئی ہے انہیں معلوم ہے کہ ان بدکار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–95
سورة مَرْیَم 52
یعنی سفارش اسی کے حق میں ہوگی جس نے پروانہ حاصل کیا ہو، اور وہی سفارش کرسکے گا جسے پروانہ ملا ہو۔ آیت کے الفاظ ایسے ہیں جو دونوں پہلوؤں پر یکساں روشنی ڈالتے ہیں۔
یہ بات کہ سفارش صرف اسی کے حق میں ہو سکے گی جس نے رحمان سے پروانہ حاصل کرلیا ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے دنیا میں ایمان لاکر خدا سے کچھ تعلق جوڑ کر اپنے آپ کو خدا کے عفو و درگزر کا مستحق بنا لیا ہو۔ اور یہ بات کہ سفارش وہی کرسکے گا جس کو پروانہ ملا ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں نے جن جن کو اپنا شفیع اور سفارشی سمجھ لیا ہے وہ سفارشیں کرنے کے مجاز نہ ہوں گے بلکہ خدا خود جس کو اجازت دے گا وہی شفاعت کے لیئے زبان کھول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
وَعَدَّهُمْ عَدًّا، یعنی حق تعالیٰ شانہ تمام افسانوں کے اشخاص و اعمال کا پورا علم رکھتے ہیں ان کے سانس ان کے قدم ان کے لقمے اور گھونٹ اللہ کے نزدیک شمار کئے ہوئے ہیں نہ کم ہو سکتے ہیں نہ زیادہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
تفسیر آیت 94 تا 95:۔ لَقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا (94) وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا (95) احصاء کا اصل مفہوم ضبط اور کنٹرول میں رکھنا ہے۔
اب یہ قیات کے دن ہر ایک کی حاضری کی نوعیت واضح فرما دی کہ سب خدا کے کامل کنٹرول میں ہیں اور ہر ایک کو خدا نے اچھی طرح گن رکھا ہے اس وجہ سے اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ کوئی اس کے قابو سے باہر ہوجائے یا گنتی میں کوئی سہو ہوجائے۔ پھر ہر ایک یکہ و تنہا حاضر ہوگا، نہ اس کے ساتھ اس کے اولاد و احفاد ہوں گے، نہ اعوان و انصار، نہ شرکاء و شفعاء نفسی نفسی کا عالم ہوگا اور سب کو خدا کے آگے اپنے باب میں خود جواب دہی کرنی ہوگی۔
Read the full tafseer →94۔ 1 یعنی آدم سے لے کر صبح قیامت تک جتنے بھی انسان، جن ہیں، سب کو اس نے گن رکھا ہے، سب اس کے قابو اور گرفت میں ہیں، کوئی اس سے چھپا ہے اور نہ چھپا رہ سکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–95
36: بعض مشرکین یہ کہا کرتے تھے کہ ہم لات اور عزا جیسی بتوں یا دوسرے معبودوں کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہماری سفارش کریں (سورة یونس :18) یہ ان کے اسی عقیدے کی طرف اشارہ ہے۔ اور جواب میں فرمایا گیا ہے کہ جن دیوتاؤں پر یہ بھروسہ کیے بیٹھے ہیں۔ قیامت کے دن وہ تو اس بات ہی سے انکار کردیں گے کہ ان کی عبادت کی گئی تھی اور وہ ان کی سفارش تو کیا کرتے، الٹے ان کے مخالف ہوجائیں گے۔ یہ مضمون سورة نحل : 86 میں بھی گذرا ہے جیسا کہ وہاں بھی عرض کیا گیا تھا، عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان بتوں کو بھی زبان دیدے اور وہ ان کے جھوٹا ہونے کا اعلان کریں، کیونکہ دنیا میں بےجان ہونے کی بنا پر…
Read the full tafseer →لقد احصھم وعدھم عدا (91 : 49) ” سب پر وہ محیط ہے اور اس نے ان کو شمار کر رکھا ہے “۔ لہٰذانہ کوئی اس سے بھاگ سکتا ہے ‘ نہ وہ کسی کو بھول سکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
2 یعنی ایک فرد بشر بھی اس کی بندگی سے باہر نہیں ہوسکتا۔ سب کو خدا کے سامنے جریدہ حاضر ہونا ہے اس وقت تمام تعلقات اور سازو سامان علیحدہ کرلیے جائیں گے فرضی معبود اور بیٹے، پوتے کام نہ دیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 94 لَقَدْ اَحْصٰٹہُمْ وَعَدَّہُمْ عَدًّا ”
ان میں سے ایک ایک اس کی نظر میں ہے۔ وہ سب انسانوں کا پوری طرح احاطہ کیے ہوئے ہے۔ کوئی ایک فرد بھی اس سے بچ کر کہیں ادھر ادھر نہیں ہو سکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
81 یعنی جو غلام یا بندہ ہو وہ بیٹا نہیں ہوسکتا اور جو بیٹا ہو وہ اس کا بندہ اور غلام نہیں ہوسکتا۔ اب جس ہستی کے پہلے ہی سب غلام و محتاج ہوں اس کو اولاد کی ضرورت بھی کیا ہے ؟ اور وہ اس کی اولاد بن کیسے سکتے ہیں ؟
Read the full tafseer →127۔ احاطہ میں لے رکھا ہے اپنی قدرت سے، اور خوب شمار کر رکھا ہے اپنے علم سے، خوب شمار کر رکھنے میں مخلوقات کی ذات وصفات، عمل وکردار، سب کی جانچ، سب کی گنتی آگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
آیت نمبر 83 تا 98
ترجمہ : کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہم نے شیاطین کو کفار پر مسلط کر رکھا ہے جو انہیں معصیت پر خوب اکساتے ابھارتے رہتے ہیں تو آپ ان پر عذاب طلب کرنے میں جلدی نہ کیجئے ہم تو خود ہی ان کے لیل و نہار یا سانس عذاب کے وقت تک (موت تک) شمار کر رہے ہیں، اس دن کا بھی تذکرہ کیجئے جس دن ہم متقیوں کو ان کے ایمان کی بدولت (بطور) مہمان سوار کر کے جمع کریں گے وفدٌ وافد کی جمع ہے معنی میں راکبٌ کے ہے اور مجرمین کو ان کے کفر کے سبب سے سخت پیاس کی حالت میں دوزخ کی طرف ہانکیں گے ورْدٌ واردٌ کی جمع ہے پیاسے پیدل کسی شخص کو شفاعت کا اختیار نہ ہوگا بجز اس شخص کے جس نے رحمٰن کے پاس سے اجازت لی ہو (اور…
Read the full tafseer →لقد احصہم وعدہم عدا۔ اللہ نے بلاشبہ سب کا احاطہ کرلیا ہے (اس کے دائرۂ علم وقدرت سے کوئی بھی
خارج نہیں) اور سب کو گن رکھا ہے یعنی تمام افراد کو ان کے افعال احوال اور زندگی و رزق کو اپنے علم وقدرت کے گھیرے میں لے لیا ہے۔ ہر چیز اس کے نزدیک اندازہ کے مطابق ہے۔
Read the full tafseer →(94) اس نے ان سب کو اپنے احاطہ میں کر رکھا ہے اور اپنے علم سے سب کو جمع کر رکھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–95
پہلی آیات سے مناسبت یہ ہے کہ جب شفاعت کی نفی فرمائی اور سب سے بڑھ کر شفاعت کی حق دار اولاد ہوتی ہے، اس لیے ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دے رکھی تھی، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کی نفی فرمائی، تاکہ خاص و عام ہر سفارشی کی نفی ہوجائے اور ہر اس عزت کی نفی ہوجائے جس کے حصول کا باعث وہ اپنے معبودوں کو سمجھتے تھے۔ (بقاعی)
وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا : اللہ تعالیٰ نے ان کا قول نقل کرتے ہوئے ساتھ ہی اس کے باطل ہونے کی دلیل بھی ذکر فرما دی کہ وہ کہتے ہیں کہ اس رحمٰن نے اولاد بنا رکھی ہے جس کی بےپناہ رحمت سے ساری کائنات وجود میں آئی ہے اور ہر چیز اپنی بقا کے لیے اسی کی محتاج ہے، جبکہ…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لقد احصھم یعنی ان کی تعداد کا اسے علم ہے۔ وعدھم عداً یہ تاکید کے لیے ہے یعنی اس پر ان میں سے کوئی مخفی نہیں ہے۔
میں کہتا ہوں : اللہ تعالیٰ کے اسماء میں المحصی بھی ہے یعنی حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں موجود ہے جس کو ترمذی نے نقل کیا ہے اس فعل کا اسشتقاق بھی اس پر دلالت کر رہا ہے۔ استاذ ابو اسحاق اسفرائینی نے کہا : اسماء الٰہیہ میں سے المحصی بھی ہے اور یہ مختص ہے کہ کثرت اسے غافل نہیں کرتیجی سے نور کی روشنی اور ہوا کا تیز چلنا اور پتوں کا گرنا وغیرہ وہ ہر پتے میں حرکات کے اجزاء کو اس وقت جانتا ہے پھر وہ کیسے نہیں جانتا جبکہ اس نے سب کچھ پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–97
1:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عباسؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لقد جئتم شیئا ادا “ یعنی بڑی بات (اور فرمایا) (آیت) ” تکاد السموت یتفطرن منہ “ یعنی شرک سے آسمان زمین پہاڑ اور ساری مخلوق خوف زدہ ہوجاتی ہے مگر انسان اور جنات (خوف زدہ نہیں ہوتے) اور قریب ہے کہ اس شرک کی وجہ سے اللہ کی عظمت کے لئے (سب چیزیں) نیچے گرپڑیں اور جیسے کہ مشرک کی کوئی نیکی شرک کے ساتھ نفع نہیں دیتی اسی طرح ہم امید رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ موحدین کے گناہوں کو بخش دیں کے (اور فرمایا) (آیت) ” وتخر الجبال ھدا “ یعنی گرپڑنا۔
اللہ تعالیٰ کے ذکر کرنے والوں سے پہاڑ کا خوش ہونا :
2:۔ ابن مبارک، سعید بن منصور، ابن ابی…
Read the full tafseer →[لَقَدْ اَحْصٰىهُمْ : بیشک اس نے شمار پورا کیا ہے ان کا ] [وَعَدَّ : اور اس نے گنتی کی ] [هُمْ : ان کی ] [عَدًّا : جیسے گنتی کرتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
اہل ایمان کا اکرام، قرآن مجید کی تیسیر، ہلاک شدہ امتوں کی بربادی کا اجمالی تذکرہ
پہلی آیت میں اہل ایمان کی ایک فضیلت بیان فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ (اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَھُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا) بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے اللہ تعالیٰ ان کے لیے محبت پیدا فرما دے گا یعنی تمام فرشتے جو آسمانوں کے رہنے والے ہیں اور تمام مومن بندے جو زمین پر رہتے اور بستے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے قلوب میں ان حضرات کی محبت ڈال دے گا اور یہ اللہ کی محبت کے بغیر نہیں ہوسکتا اللہ تعالیٰ خود بھی ان سے محبت فرمائے گا اور اپنے نیک بندوں کے دلوں میں بھی ان کی محبت ڈال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–98
ابطال عقیدۂ ابنیت وبیان ضلال و وبال منکرین وحدانیت و منکرین قیامت برائے تسلیہء نبی اکرم ﷺ
قال اللہ تعالیٰ ۔ و اتخذوا من دون اللہ اٰلھۃ۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ او تسمع لھم رکزا
(ربط) شروع سورت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی عبودیت اور بلا باپ کے ان کی ولادت کا ذکر فرمایا تاکہ ان کی والدۂ ماجدہ کی عصمت و نزاہت ثابت ہوجائے اور یہود بےبہبود کا رد ہو جو حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کو ولد الزنا اور ساحر بتلاتے تھے اب ان آیات میں ان لوگوں کے زعم فاسد کا رد ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا بتاتے ہیں اور اس پر گھمنڈ کرتے ہیں۔
نیز گزشتہ آیت میں قیامت اور خدا پرستوں کا حال اور مآل بیان فرمایا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
63:۔ وہ سب اللہ تعالیٰ کے احاطہ علم وقدرت میں ہیں ان کے تمام حالات کو جانتا ہے۔ ” وَ کُلُّھُمْ اٰتِیْهِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَرْدًا “ قیامت کے دن ان میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ کے سامنے اکا و تنہا حاضر ہوگا اور اس کیساتھ کوئی سفارشی اور یار و مددگار نہیں ہوگا۔ بعض نے کہا ہے کہ مراد یہ ہے کہ ہر عابد و معبود ایک دوسرے سے جدا ہوگا۔ ای کل واحد من اھل السموات والارض العابدین والمعبودین اتیہ عزو جل منفردا عن الاخر فینفرد العابدون عن الالھۃ التی زعموا انھا انصارا و شفعاء والمعبودون عن الاتباع الذین عبدوھم الخ (روح ج 16 ص 142) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–95
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کا رد فرمایا اور پھر ان کا انجام بھی ذکر کیا اللہ تعالیٰ نے قیامت کو پیش آنیوالے حالات کا تذکرہ بھی فرمایا اور ساتھ ایمان والوں کا انجام بھی بیان فرمایا کہ وہ اللہ کے حضور میں وفد کی شکل میں باعزت طور پر پیش ہوں گے برخلاف اس کے کافر اور مشرک مجرموں کو پیاسے جانوروں کی طرح ہانک کرلے جایا جائے گا اور ان کی سخت تذلیل ہوگی ۔
(عقیدہ ابنیت)
آج کی آیات میں بھی اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کے عقیدہ ابنیت کی تردید فرمائی ہے ، سورة بنی اسرائیل کے آخر میں اور سورة کہف میں بھی یہی تذکرہ ہے وہاں ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” لم یتخذ ولدا ولم یکن لہ شریک فی…
Read the full tafseer →لَقَدْ اَحْصٰىہُمْ وَعَدَّہُمْ عَدًّا 94ۭ
حصا
الإحصاء : التحصیل بالعدد، يقال : قد أحصیت کذا، وذلک من لفظ الحصا، واستعمال ذلک فيه من حيث إنهم کانوا يعتمدونه بالعدّ کا عتمادنا فيه علی الأصابع، قال اللہ تعالی:
وَأَحْصى كُلَّ شَيْءٍ عَدَداً [ الجن/ 28] ، أي : حصّله وأحاط به . وقال صلّى اللہ عليه وسلم : «من أحصاها دخل الجنّة» «2» وقال : «نفس تنجيها خير لک من إمارة لا تحصيها»
( ح ص ی ) الا حصاء
( افعال ) کے معنی عدد کو حاصل کرنا کہا جاتا ہے احصیت کذا میں نے اسے شمار کیا ۔ اصل میں یہ لفظ حصی ( کنکر یاں ) سے مشتق ہے اور اس سے گننے کا معنی اس لئے لیا گیا ہے کہ عرب لوگ گنتی میں کنکریوں پر اس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–95
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ان بزرگواروں کے بعد ناخلف پیدا ہوئے اب یہاں ایک ناخلف کی کیفیت بیان فرماتا ہے جس کو افرایت سے شروع کرتا ہے جس کی بابت بخاری، مسلم وغیرہما نے روایت کیا ہے کہ خباب بن ارت ؓ کہتے ہیں کہ میں عاص بن وائل سہمی کے پاس تقاضے کے لیے گیا اس نے کہا تو محمد ﷺ کا منکر ہوجائے تو تیرا قرضہ دے دوں میں نے کہا ہرگز نہ ہوگا یہاں تک کہ تو مر کر بھی جی اٹھے۔ اس نے کہا میں مر کر جب زندہ ہوں گا تو وہاں بھی میرے پاس مال و اسباب ہوگا وہاں تجھ کو دے دوں گا اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ وہ جو یہ کہتا ہے کیا اس کو علم غیب ہے یا خدا سے اس نے عہد لے لیا ہے۔ سو یہ ہرگز نہیں۔ ہم اس کے گناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
لَقَدْ اَحْصٰہُمْ وَعَدَّھُمْ عَدًّا۔ وَکُلُّھُمْ اٰتِیْہِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَرْدًا۔ (مریم : 94، 95)
(اللہ تعالیٰ نے سب کا احاطہ کر رکھا ہے اور اچھی طرح گن رکھا ہے۔ اور ان میں سے ہر ایک اس کے حضور قیامت کے دن یکہ و تنہا حاضر ہوگا۔ )
بدگمانی کا ازالہ
کفار اور مشرکین کی بےبسی کو واضح کرنے کے لیے ارشاد فرمایا کہ جب کفار کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور لایا جائے گا تو یہ گمان نہ کیا جائے کہ یہ بےہنگم بھیڑ کی شکل میں لائے جائیں گے اور اس بات کا کوئی امکان ہوگا کہ ان میں سے کوئی اگر گھسکنا یا بھاگنا چاہے تو وہ ایسا کرسکتا ہے، نہیں۔ ان میں سے ہر شخص پوری طرح اللہ تعالیٰ کے حصار میں ہوگا۔ اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–95
فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ کچھ بزرگ اللہ تعالیٰ کو اپنی بات منواسکتے ہیں انھوں نے اسی وجہ سے ہی یہ عقیدہ بنا رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی اولاد رکھتا ہے۔
قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں انبیاء کرام (علیہ السلام) اور بزرگوں کو یہاں تک کہ معصوم بچوں کو بھی سفارش کا حق دیا جائے گا لیکن یہ لوگ اسی کے حق میں سفارش کرسکیں گے۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ اجازت عنایت فرمائے گا۔ سفارش کرنے والی کتنی بڑی شخصیت کیوں نہ ہو وہ اس حد تک ہی سفارش کرپائے گی جس حد تک اسے سفارش کرنے کی اجازت ملے گی اس پر پوری امت کا اتفاق ہے۔ لیکن کچھ لوگوں نے اس سے بڑھ کر یہ عقیدہ اختیار کرلیا ہے کہ کچھ…
Read the full tafseer →94: لَقَدْ اَحْصٰھُمْ وَعَدَّھُمْ عَدًّا (اللہ تعالیٰ نے ان کو شمار کر رکھا ہے گن کہ اور اس کا احاطہ کر رکھا ہے) اپنے علم سے ان کو محصور و محیط کر رکھا ہے کہ کوئی شئی اس کے دائرئہ علم سے باہر نہیں۔
Read the full tafseer →94۔ لقد احصاھم وعدھم عدا، ، سب کو اس نے گن کررکھا ہے ان کے نفسوں کو ان کے دنوں کو اور ان کے آثار کو شمار کررکھا ہے اس سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–95
87۔ 94:۔ مشرکین مکہ کہتے تھے کہ اول تو قیامت قائم ہی نہ ہوگی اور ہم کسی عذاب میں پکڑے گئے تو جن نیک لوگوں کی مورتوں کی ہم پوجا کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ سے سفارش کر کے ہم کو اس عذاب سے چھڑا لیں گے۔ مشرکین مکہ کی اس بات کا جواب اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں یہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کی سفارش کا ہر کسی کو مالک اور مختار نہیں بنایا ہے جو یہ مشرک جس سے چاہیں گے اپنی سفارش کرلیں گے یہ شفاعت تو اللہ کے فرشتے اس کے رسول اور نیک لوگ ایسے لوگوں کے حق میں کریں گے جو اللہ کی وحدانیت اس کے رسولوں کو سچا جاننے کے عہد پر قائم ہوں گے لیکن سوائے شرک کے اور گناہوں میں عمر بھر گرفتار رہ کر بغیر توبہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–95
آیت 88
یہ ان لوگوں کے قول کی قباحت کا بیان ہے جو عناد اور انکار پر جمے ہوئے ہیں اور اس عزم باطل میں مبتلا ہیں کہ رحمٰن نے اپن ابیٹا بنایا ہے۔ جی اس کہ نصاریٰ کہتے ہیں (المسیح ابن اللہ) التوبۃ 30/9) ” مسیح اللہ کا بیٹا ہے “ یہودی کہتے ہیں (عزیز ابن اللہ) (التوبۃ :30/9) ” عزیز اللہ کا بیٹا ہے “ اور مشرکین کہتے ہیں ” فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ “ اللہ تعالیٰ ان کی باتوں سے بہت بلند اور بڑا ہے۔
(لقد جئتم شیاء ادا) یعنی تم نے بدترین بات کہی ہے۔ یہ اتنی بڑی بات ہے کہ (تکاد السموت) قریب تھا کہ آسمان اپنی عظمت اور صلابت کے باوصف (یتفطرن منہ) اس قول سے پھٹ جاتے۔ (وتنشق الارض) اور زمین پھٹ کر ریزہ ریزہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–95
بیٹا باپ کا غلام نہیں ہوتا کہ جیسے چاہے غلام کی طرح اس پر تصرف کرے
قول باری ہے (وما ینبغی للرحمن ان یتخذ ولداً ان کل من فی السموت و الارض الا اتی الرحمٰن عبداً ۔ رحمٰ کی یہ شان نہیں کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے۔ زمین اور آسمانوں کے اندر جو بھی ہیں سب اس کے حضور بندوں کی حیثیت سے پیش ہونے والے ہیں) اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ والد کی اپنے ولد پر ملکیت باقی نہیں رہتی کہ اس کی وجہ سے وہ اس کا غلام بنا رہے اور وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرے بلکہ مالک ہوتے ہی وہ اس پر آزاد ہوجاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیٹے اور غلام میں فرق رکھا ہے اور عبودیت یعنی غلام ہونے کے اثبات کے ساتھ نبوت یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–94
97 سب کچھ اللہ تعالیٰ کے احاطہ علم وقدرت میں ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس نے احاطہ کر رکھا ہے ان سب کا گن کر "۔ پس نہ کوئی اس کے احاطہ علم وقدرت سے باہر ہوسکتا ہے اور نہ اس کی گرفت و پکڑ سے بچ سکتا ہے۔ بلکہ ہر کسی نے اپنے وقت موعود و محدد میں اپنے کئے کا بھگتان بہرحال بھگت کر رہنا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ ہر شخص کی عمر، اس کے انفاس اور اس کے اقوال و اَفعال کا اس نے پوری طرح احاطہ اور شمار کر رکھا ہے۔ اور ہر چیز کی اس کے یہاں ایک خاص حد اور انتہا ہے ۔ { کُلُّ شَیْئٍ عِنْدَہ بِمِقْدَارٍ } ۔ سو آسمان و زمین کی سب مخلوق اس کے کامل کنٹرول اور مکمل قابو میں ہے۔ ہر ایک کو اس قادر مطلق نے پوری طرح گن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–98
اللہ تعالیٰ رشتے ناتے سے بےنیاز ہے
تشریح : یہودی اور عیسائی مشرک ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے پیغمبر کی تعلیمات جو کہ توحید کا سبق دیتی ہیں ان کو چھوڑ کر پیغمبروں کو ہی اللہ اور اللہ کا بیٹا بنا دیا۔ شرک اس قدر شدید گناہ ہے کہ اس سے دنیا تہس نہس ہوسکتی ہے۔ اللہ کیونکہ غفور الرحیم ہے، اس لیے وہ گنہگاروں، مشرکوں اور کافروں کو فوراً عذاب نہیں دیتا، مگر ان کے برے انجام کے بارے میں قرآن میں بار بار اعلان کیا گیا ہے۔ اسی طرح توحید کی خصوصیات، نیک اور بد لوگوں کا انجام بہت دفعہ بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ ڈاکٹرطارق السویڈان بیان کرتے ہیں۔
(1) دنیا اور آخرت 115 دفعہ قرآن میں آیا ہے۔ (2) فرشتے اور شیطان 88…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
(انسان پر شیطان کا تسلط)
یہ ان کے کردار سے ظاہر ہے کہ اللہ جل جلالہ نے ان کے بداعمال اور کفر کی سزا کے طور پر شیطانوں کو ان پر غلبہ دے دیا ہے اور وہ شیطان انہیں ہر لمحہ برُائی پر ابھارتے رہتے ہیں اور اسی کو ان کی نگاہوں میں سجاتے رہتے ہیں ۔ لہذا جلدی کی تو کوئی بات نہیں کہ پہلے ہی انسان کے پاس بہت محدود سی زندگی ہے اور وہ اوقات تو اسے پورا کرنے کی اجازت ہے نیز یہ اس روز قابل دید حال میں ہوں گے جب مومینن بہت عزت واحترام کے ساتھ اللہ کریم جو بہت رحم کرنے والا ہے کہ بارگاہ میں مہمانی سے مشرف ہو رہے ہوں گے اور یہ بدکار جہنم کی طرف پیاسے ہانکے جا رہے ہوں گے ایسی حالت میں…
Read the full tafseer →ف 9 نہ کسی کے ساتھ اس کا کوئی مددگار ہوگا اور نہ کوئی مال و اسباب جیسا کہ فرمایا : یوم لاینفع مال ولابنون (شعرا 88)
Read the full tafseer →(19:94) احصہم۔ اس نے ان کو گن رکھا ہے ماضی واحد مذکر غائب ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ عدہم عدا۔ اس نے ان کو خوب اچھی طرح گن رکھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–98
لغات القرآن آیت نمبر 88 تا 98
اِد سخت، بھاری چیز۔ تکاد قریب ہے۔ یتفطرن پھٹ پڑیں گے۔ تنشق ٹکڑے ہوجائیں گے۔ تخر ڈھے پڑیں، گر جائیں۔ ھد دھڑام سے گرنا۔ ماینبغی شایان شان نہیں ہے۔ احصی اس نے شمار کر رکھا ہے۔ عد گنتی۔ ود محبت لد جھگڑالو آدمی۔ رکز آہٹ، سرسراہٹ۔
تشریح :- آیت نمبر 88 تا 98
سورة مریم کی آیات کو نصاریٰ کے اس قول اور عقیدے پر ختم کیا گیا ہے جس میں انہوں نے نعوذ باللہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو (جو اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں) اللہ کا بیٹا ثابت کرنے کی مجرمانہ کوشش کی ہے۔ حالانکہ اس سورت کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے گہوارے ہی میں اس بات کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–95
یہاں فرمایا کہ یہ کافر جو خدا کے لئے بیٹا ثابت کر رہے ہیں، یہ احمق اتنا نہیں سمجھتے کہ خدا کی شان نہیں کہ کسی کو بیٹا بناوے۔ آسمان اور زمین میں کوئی ایسا نہیں جو اللہ کا بندہ نہ ہو۔ پھر جب سب بندے ہیں تو بیٹا کہاں سے ہو سکتا ہے جو بیٹا ہوتا تو وہ بندہ نہ ہوتا بلکہ اللہ کا ہم جنس اور مد مقابل ہوتا، اور وہاں یہ بات نہیں ۔ پس بیٹا بھی ممکن نہیں ۔ آگے فرمایا کہ ان میں سے کوئی ہمارے عذاب سے بچ نہیں سکتا ۔ اور ان میں سے ہر ایک علیحدہ علیحدہ ہمارے سامنے قیامت کے دن پیش ہوگا، اور اپنے عمل کی سزا پائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–95
[32] یہ اجازت صرف انبیاء اور صالحین کو ملے گی اور صرف مومنین کے لئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–95
ہولناک عقیدہ :
(ف 2) بت پرستی اور شرک اللہ تعالیٰ کو نہایت ناپسند ہے ، اس لئے اس سے نفس انسانی میں ذلت اعتقاء کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں ، اور انسان اس فطری شرافت سے محروم ہوجاتا ہے ، جو اس کا مخصوص حصہ ہے ، اور جن کی وجہ سے وہ تمام کائنات سے اعلی اور برتر ہے نیز مشرکانہ ذہنیت سے اللہ تعالیٰ کے تخیل کو سخت صدمہ پہنچتا ہے ، اور کوئی شخص معرفت و سلوک کی راہوں کو شرک کے طریقوں سے نہیں کرسکتا ، کیونکہ اس کا آئینہ قلب شرک کی ظلمتوں سے اندھا ہوجاتا ہے ، اور معرفت کی شعاعیں اس میں نفوذ نہیں کرسکتیں ۔
اس لئے قرآن ہر نوع کے مشرکانہ تخیل سے بیزاری کا اعلان کرتا ہے اور بنی نوع انسانی کیلئے اسے کھلی گمراہی…
Read the full tafseer →-94 بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے علم وقدرت نے ان سب کا احاطہ کر رکھا ہے اور ان سب کی پوری پوری گنتی کر رکھی ہے یعنی کوئی اس کی معلومات اور اس کے شمارے خارج نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–95
ف 2۔ ہر شخص خدا ہی کا محتاج اور محکوم ہوگا۔
Read the full tafseer →وہ ہی ہے جس نے ان سب کو گھیر رکھا ہے اور اس کی ہستی گن رکھی ہے :
94۔ جب سب کی سب اللہ تعالیٰ ہی کی مخلوق ہے تو مخلوق کا کمال بھی عبد ہی میں ہے ۔ سب سے اعلی پایہ کی مخلوق کونسی مخلوق ہے ؟ ظاہر ہے کہ انسان اور انسانوں میں سب سے انسب واعلی انسان محمد رسول اللہ صیا اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور آپ ﷺ کا بھی کمال اسی میں ہے کہ آپ ﷺ کو (عبدہ ورسولہ) فرمایا گیا گویا رسالت کا درجہ کتنا ہی بلند ہو اس کا کمال رفعت بھی بندہ ہونے ہی میں ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح معنوں میں بندہ ہونے کی توفیق عطا فرمائے ، اور یہ ارشاد فرما کر کہ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو شمار کر رکھا ہے اور گن لیا ہے تو اس میں اس طرف اشارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
وَعَدَّهُمْ عَدًّا
"And precisely calculated their numbers" - 19:94.
It means that Allah Ta’ ala has full knowledge of their doings.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–95
52. This implies two things: (1) Intercession will be allowed only for the one who might have received permission for it from the Merciful, that is, the one who believed in Allah in the world and made himself deserving of His pardon. (2) Only that one will be able to plead intercession who might have received permission for this from the Merciful, and not those ones whom people themselves had made their intercessors without any reason.
Read the full tafseer →