Maryam 19:92

Maryam · from ayah 92

19:92

وَمَا یَنْۢبَغِیْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا ۟ؕوَمَا يَنۡۢبَـغِىۡ لِلرَّحۡمٰنِ اَنۡ يَّتَّخِذَ وَلَدًا

اور خدا کو شایاں نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And it is not appropriate for the Most Merciful that He should take a son.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 6 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Maryam

All translations of 19:92

رحمان کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور خدا کو شایاں نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے

— مولانا فتح محمد جالندہری

شان رحمٰن کے ﻻئق نہیں کہ وه اوﻻد رکھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

حالانکہ خدائے رحمن کی یہ شان نہیں ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور رحمن کے لائق نہیں کہ اولاد اختیار کرے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (خدائے) رحمان کے شایانِ شان نہیں ہے کہ وہ (کسی کو اپنا) لڑکا بنائے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

حالانکہ رحمان کے لائق نہیں کہ وہ کوئی اولاد بنائے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

حالانکہ رحمن کے شایان شان نہیں کہ وہ کسی کو اولاد بنائے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یہ بات خدا کے شایان نہیں ہے کہ وہ اولاد بنائے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

حالانکہ (خدائے) رحمان کی یہ شان نہیں کہ وہ کسی کو اپنی اولاد بنائے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور خدائے رحمن کے لائق یہ (کسی طرح) نہیں کہ وہ بیٹا اختیار کرے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یہ بات رحمن کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ (کسی کو اپنی) اولاد بنائے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اللہ کے شایان نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

It does not befit the Most Compassionate Lord that He should take a son.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

while it does not behove the All-Merciful to have a son.

— Muhammad Taqi Usmani

while it does not behove the All-Merciful to have a son.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But it is not suitable for the Most Gracious that He should beget a son.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

When it is not meet for (the Majesty of) the Beneficent that He should choose a son.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And it is not appropriate for the Most Merciful that He should take a son.

— Saheeh International

The Beneficent God is too Exalted to have a son.

— Muhammad Sarwar

And it is not worthy of the Beneficent Allah that He should take (to Himself) a son.

— Muhammad Habib Shakir

And it behoveth not the Compassionate that he should take a son. *Chapter: 19

— Abdul Majid Daryabadi

For it is not consonant with the majesty of (Allah) Most Gracious that He should beget a son.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 19:92

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 88–95

عیسیٰ ؑ کا تعارف اس مبارک سورت کے شروع میں اس بات کا ثبوت گزر چکا کہ حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کے بندے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے باپ کے بغیر اپنے حکم سے حضرت مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا کیا ہے۔ اس لئے یہاں ان لوگوں کی نادانی بیان ہو رہی ہے جو آپ کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ جس سے ذات الہٰی پاک ہے۔ ان کے قول کو بیان فرمایا۔ پھر فرمایا یہ بڑی بھاری بات ہے ادا اور ادا تینوں لغت ہیں لیکن مشہور ادا ہے۔ ان کی یہ بات اتنی بری ہے کہ آسمان کپکپا کر ٹوٹ پڑے اور زمین جھٹکے لے لے کر پھٹ جائے۔ اس لئے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت جانتی ہے، ان میں رب کی توحید سمائی ہوئی ہے انہیں معلوم ہے کہ ان بدکار…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 87–95

سورة مَرْیَم 52 یعنی سفارش اسی کے حق میں ہوگی جس نے پروانہ حاصل کیا ہو، اور وہی سفارش کرسکے گا جسے پروانہ ملا ہو۔ آیت کے الفاظ ایسے ہیں جو دونوں پہلوؤں پر یکساں روشنی ڈالتے ہیں۔ یہ بات کہ سفارش صرف اسی کے حق میں ہو سکے گی جس نے رحمان سے پروانہ حاصل کرلیا ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے دنیا میں ایمان لاکر خدا سے کچھ تعلق جوڑ کر اپنے آپ کو خدا کے عفو و درگزر کا مستحق بنا لیا ہو۔ اور یہ بات کہ سفارش وہی کرسکے گا جس کو پروانہ ملا ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں نے جن جن کو اپنا شفیع اور سفارشی سمجھ لیا ہے وہ سفارشیں کرنے کے مجاز نہ ہوں گے بلکہ خدا خود جس کو اجازت دے گا وہی شفاعت کے لیئے زبان کھول…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 90–93

معارف و مسائل وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا، ان آیات سے معلوم ہوا کہ زمین اور پہاڑ اور اس کی تمام چیزوں میں ایک خاص قسم کا عقل و شعور موجود ہے اگرچہ وہ اس درجہ کا نہ ہو جس پر احکام الٰہی مرتب ہوتے ہیں جیسے انسان کی عقل و شعور۔ یہی عقل و شعور ہے جس کی وجہ سے دنیا کی ہر چیز اللہ کے نام کی تسبیح کرتی ہے جیسا کہ قرآن کریم کا ارشاد ہے (آیت) وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ ، یعنی کوئی چیز دنیا میں ایسی نہیں جو اللہ کی حمد کے ساتھ تسبیح نہ کرتی ہو ان چیزوں کا یہی شعور و ادراک ہے جس کا ذکر ان آیات مذکورہ میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک قرار دیتے خصوصًا اللہ تعالیٰ کے لئے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَمَا يَنْبَغِي لِلرَّحْمَنِ أَنْ يَتَّخِذَ وَلَدًا۔ یہ خدا کے لیے اولاد مانن کی ضلالت کی تردید خدا کی صفات الوہیت کے منافی ہونے کے پہلو سے فرمائی کہ آخر اس کو ضرورت کیا پڑی ہے کہ وہ اپنے لیے اولاد بنائے ! نہ اس کو اپنے کاموں میں کسی شریک و معاون کی ضرورت ہے نہ اپنی املاک و جائداد کے لیے کسی وارثو والی کی، نہ اپنی نام زندہ رکھنے کے لیے وہ کسی کا محتاج ہے، نہ اسے بڑھاپے کا کوئی سہارا مطولب ہے، وہ اپنی ذات میں غنی اور بےنیاز ہے تو آخر وہ اولاد کس مقصد کے لیے بنائے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 92–93

93۔ 1 جب سب اللہ کے غلام اور اس کے عاجز بندے ہیں تو پھر اسے اولاد کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ اور یہ اس کے لائق بھی نہیں ہے

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 81–95

36: بعض مشرکین یہ کہا کرتے تھے کہ ہم لات اور عزا جیسی بتوں یا دوسرے معبودوں کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہماری سفارش کریں (سورة یونس :18) یہ ان کے اسی عقیدے کی طرف اشارہ ہے۔ اور جواب میں فرمایا گیا ہے کہ جن دیوتاؤں پر یہ بھروسہ کیے بیٹھے ہیں۔ قیامت کے دن وہ تو اس بات ہی سے انکار کردیں گے کہ ان کی عبادت کی گئی تھی اور وہ ان کی سفارش تو کیا کرتے، الٹے ان کے مخالف ہوجائیں گے۔ یہ مضمون سورة نحل : 86 میں بھی گذرا ہے جیسا کہ وہاں بھی عرض کیا گیا تھا، عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان بتوں کو بھی زبان دیدے اور وہ ان کے جھوٹا ہونے کا اعلان کریں، کیونکہ دنیا میں بےجان ہونے کی بنا پر…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 91–93

زمین و آسمان میں جو چیز بھی ہے وہ اپنے رب معبود کے سامنے ایک مطیع فرمان عبادت گزار کی طرح جھکتی ہے۔ لہذا اسے ولد اور شریک کی کیا ضرورت ہے۔ یہ سب تو مخلوق اور بندے ہیں۔ یہ پوری کائنات کے حقیقی مفہوم پر غور کرنا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 اس کی شان تقدیس و تنزیہ اور کمال غنا کے منافی ہے کہ وہ کسی کو اولاد بنائے۔ نصاریٰ جس غرض کے لیے اولاد کے قائل ہوئے ہیں یعنی کفارہ کے مسئلہ، خدا تعالیٰ کو " رحمان " مان کر اس کی ضرورت نہیں رہتی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 92 وَمَا یَنْبَغِیْ للرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا ” دراصل اولاد کی خواہش اور ضرورت ایک کمزوری ہے۔ اس بات کی وضاحت پہلے بھی کی جا چکی ہے کہ اولاد کی ضرورت انسان کو ہے اور اس لیے ہے کہ وہ خود فانی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمیں مرنا ہے ‘ اس دنیا سے ہمارا نام و نشان مٹ جانا ہے۔ اپنی اس کمزوری کے تحت ہم اولاد کی خواہش کرتے ہیں۔ ہم اپنی اولاد کے ذریعے دراصل اپنی ہستی کا تسلسل چاہتے ہیں ‘ اولاد کی شکل میں ہم اس دنیا میں اپنی بقا چاہتے ہیں۔ مندرجہ ذیل الفاظ میں Pyramids اہرام مصر کے حوالے سے یہی فلسفہ بیان ہوا ہے : Calm and self possessed , Still and resolute , The Pyramids echo into eternity…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

80 اللہ کی اولاد قرار دینا اللہ کو گالی دینے کے مترادف ہے :۔ شایاں اس لئے نہیں کہ اولاد باپ کی نہ مخلوق ہوتی ہے نہ مملوک بلکہ اس کی شریک اور ہم جنس ہوتی ہے۔ اور اللہ ایسے تمام نقائص سے مبرا ہے نہ اس کا کوئی ہم جنس ہے نہ شریک۔ سب اسی کی مخلوق، مملوک اور اس کے عاجز بندے اور غلام ہیں۔ علاوہ ازیں اسے اولاد کی ضرورت بھی نہیں۔ اولاد سے جو جو مفادات وابستہ ہوتے ہیں ان میں سے کسی ایک کی بھی اسے احتیاج نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

125۔ خدا کو خدا مان کر یوں بھی تو کسی صورت میں اس کا صاحب اولاد تسلیم نہیں کیا جاسکتا، پھر جب اس کی صفت رحمانیت کو اس کی تمام صفات پر غالب ومقدم تسلیم کرلیا جائے (جیسا کہ مسیحیت میں ہے) جب تو اور بھی اس عقیدہ کی مہملیت اور مضحکہ خیزی کہیں زیادہ نظرآنے لگتی ہے کہ اسی رحمت مطلق کو معاصی خلائق کے کفارہ کے لئے اپنے بیٹے کی ضرورت پڑے !

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 83–98

آیت نمبر 83 تا 98 ترجمہ : کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہم نے شیاطین کو کفار پر مسلط کر رکھا ہے جو انہیں معصیت پر خوب اکساتے ابھارتے رہتے ہیں تو آپ ان پر عذاب طلب کرنے میں جلدی نہ کیجئے ہم تو خود ہی ان کے لیل و نہار یا سانس عذاب کے وقت تک (موت تک) شمار کر رہے ہیں، اس دن کا بھی تذکرہ کیجئے جس دن ہم متقیوں کو ان کے ایمان کی بدولت (بطور) مہمان سوار کر کے جمع کریں گے وفدٌ وافد کی جمع ہے معنی میں راکبٌ کے ہے اور مجرمین کو ان کے کفر کے سبب سے سخت پیاس کی حالت میں دوزخ کی طرف ہانکیں گے ورْدٌ واردٌ کی جمع ہے پیاسے پیدل کسی شخص کو شفاعت کا اختیار نہ ہوگا بجز اس شخص کے جس نے رحمٰن کے پاس سے اجازت لی ہو (اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما ینبغی للرحمن ان یتخذ ولدا۔ ہالان کہ خدا تعالیٰ کی شان نہیں کہ وہ اولاد اختیار کرے۔ ینبغی کا ترجمہ دو طرح سے ہوسکتا ہے (1) جائز نہیں ہو نہیں سکتا۔ (2) مناسب اور زیبا نہیں اوّل صورت میں انبغی ینبغی باب انفعال سے ہوگا جو بغی کا مطاوع۔ بغی کا معنی ہے طلب کرنا ‘ طلب شے کے بعد اس شے کے ہوجانے کا نمبر آتا ہے حاصل ترجمہ یہ ہوگا کہ بالفرض اگر اللہ اپنے لئے اولاد کا طالب بھی ہو تب بھی اس کے لئے اولاد کا ہونا ممکن نہیں اس کی اولاد ہو ہی نہیں سکتی ‘ دوسری صورت ظاہر ہے اللہ کی اولاد ہونا ‘ اس کی شان کے خلاف ہے نقص ہے عیب ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے (بجائے اللہ کے) آیت میں صفت رحمانیت پر حکم کو مرتب کرنے سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 91–92

(91۔ 92) اس بات سے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف اولاد منسوب کرتے ہیں جیسا کہ حضرت عزیر کو اللہ کا بیٹا بناتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کی شان نہیں کہ وہ اولاد اختیار کرے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 88–95

پہلی آیات سے مناسبت یہ ہے کہ جب شفاعت کی نفی فرمائی اور سب سے بڑھ کر شفاعت کی حق دار اولاد ہوتی ہے، اس لیے ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دے رکھی تھی، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کی نفی فرمائی، تاکہ خاص و عام ہر سفارشی کی نفی ہوجائے اور ہر اس عزت کی نفی ہوجائے جس کے حصول کا باعث وہ اپنے معبودوں کو سمجھتے تھے۔ (بقاعی) وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا : اللہ تعالیٰ نے ان کا قول نقل کرتے ہوئے ساتھ ہی اس کے باطل ہونے کی دلیل بھی ذکر فرما دی کہ وہ کہتے ہیں کہ اس رحمٰن نے اولاد بنا رکھی ہے جس کی بےپناہ رحمت سے ساری کائنات وجود میں آئی ہے اور ہر چیز اپنی بقا کے لیے اسی کی محتاج ہے، جبکہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 92–93

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما ینبغی للرحمن ان یتخذولداً ۔ اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰکا ارشاد ہے : وما ینبغی للرحمن ان یتخذولداً ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات سے بیٹے کی نفی کی کیونکہ بیٹا ہونا جنسیت اور حدوث کا تقاضا کرتا ہے جیسا کہ ہم نے سورة بقرہ میں بیان کیا یعنی اللہ تعالیٰ کی شان سے لائق یہ نہیں اس کے ساتھ اس کا یہ وصف بیان کیا جاسکتا ہے اور نہ اس کے حق میں یہ جائز ہے کیونکہ بیٹا ہمیشہ والد سے ہوتا ہے پھر اس کا بھی والد اور اصل ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اس سے پاک اور منزہ ہے۔ شاعر نے کہا : فی رأس خلقاء من عنقاء مشرفۃ ما ینبغی دونھا سھل ولا جبل (2) ان کل من فی السموت والارض…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 88–97

1:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عباسؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لقد جئتم شیئا ادا “ یعنی بڑی بات (اور فرمایا) (آیت) ” تکاد السموت یتفطرن منہ “ یعنی شرک سے آسمان زمین پہاڑ اور ساری مخلوق خوف زدہ ہوجاتی ہے مگر انسان اور جنات (خوف زدہ نہیں ہوتے) اور قریب ہے کہ اس شرک کی وجہ سے اللہ کی عظمت کے لئے (سب چیزیں) نیچے گرپڑیں اور جیسے کہ مشرک کی کوئی نیکی شرک کے ساتھ نفع نہیں دیتی اسی طرح ہم امید رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ موحدین کے گناہوں کو بخش دیں کے (اور فرمایا) (آیت) ” وتخر الجبال ھدا “ یعنی گرپڑنا۔ اللہ تعالیٰ کے ذکر کرنے والوں سے پہاڑ کا خوش ہونا : 2:۔ ابن مبارک، سعید بن منصور، ابن ابی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَمَا يَنْۢبَغِيْ : اور شایان شان نہیں ہوتا ] [لِلرَّحْمٰنِ : رحمن کے لئے ] [ان : کہ ] [يَّـتَّخِذَ : وہ بنائے ] [وَلَدًا : کوئی اولاد ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 89–93

پھر فرمایا (اِنْ کُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًا) آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے سب رحمن کے حضور میں بندہ بنے ہوئے حاضر ہوں گے۔ (سب اللہ کے بندے ہیں اور بندگی کی حالت میں اللہ تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہوں گے اس کا بندہ ہونے سے کسی کو بھی انکار اور استنکاف نہ ہوگا جو سراپا بندہ ہو وہ کیونکر خالق جل مجدہ کی اولاد ہوسکتا ہے) (لَقَدْ اَحْصٰھُمْ وَعَدَّھُمْ عَدًّا) ان تمام حاضر ہونے والوں کو اس نے اپنے علمی احاطہ میں لے رکھا ہے اور انھیں خوب شمار کر رکھا ہے۔ کوئی بھی بچ کر اور بھاگ کر اس کے قبضہ قدرت سے نکل نہیں سکتا یہ جو لوگ اس کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 81–98

ابطال عقیدۂ ابنیت وبیان ضلال و وبال منکرین وحدانیت و منکرین قیامت برائے تسلیہء نبی اکرم ﷺ قال اللہ تعالیٰ ۔ و اتخذوا من دون اللہ اٰلھۃ۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ او تسمع لھم رکزا (ربط) شروع سورت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی عبودیت اور بلا باپ کے ان کی ولادت کا ذکر فرمایا تاکہ ان کی والدۂ ماجدہ کی عصمت و نزاہت ثابت ہوجائے اور یہود بےبہبود کا رد ہو جو حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کو ولد الزنا اور ساحر بتلاتے تھے اب ان آیات میں ان لوگوں کے زعم فاسد کا رد ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا بتاتے ہیں اور اس پر گھمنڈ کرتے ہیں۔ نیز گزشتہ آیت میں قیامت اور خدا پرستوں کا حال اور مآل بیان فرمایا۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 88–92

61:۔ یہ شکوی ہے۔ سورة کہف کی ابتداء میں فرمایا ” ویُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوْا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا “ یعنی ان لوگوں کو زجر و تخویف سنائی جو اللہ کے سوا اوروں کو نائب و متصرف سمجھتے تھے اس کے بعد سورة کہف اور مریم میں مشرکین کے شبہات کا ازالہ کیا گیا اب آخر میں ازالہ شبہات کے بعد سورة کہف والے شکوے کا اعادہ کیا گیا ہے تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی نائب نہیں اور اللہ کے سوا اوروں کو متصرف اور کارساز سمجھنا بہت بڑا جرم ہے اور ولد سے یہاں ولد حقیقی مراد نہیں ہے بلکہ نائب اور سفارشی مراد ہے جیسا کہ ” اتخذ “ کی تعبیر بتا رہی ہے۔ ” لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْئًا اِدًّا “ سے ” اَنْ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 88–95

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کا رد فرمایا اور پھر ان کا انجام بھی ذکر کیا اللہ تعالیٰ نے قیامت کو پیش آنیوالے حالات کا تذکرہ بھی فرمایا اور ساتھ ایمان والوں کا انجام بھی بیان فرمایا کہ وہ اللہ کے حضور میں وفد کی شکل میں باعزت طور پر پیش ہوں گے برخلاف اس کے کافر اور مشرک مجرموں کو پیاسے جانوروں کی طرح ہانک کرلے جایا جائے گا اور ان کی سخت تذلیل ہوگی ۔ (عقیدہ ابنیت) آج کی آیات میں بھی اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کے عقیدہ ابنیت کی تردید فرمائی ہے ، سورة بنی اسرائیل کے آخر میں اور سورة کہف میں بھی یہی تذکرہ ہے وہاں ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” لم یتخذ ولدا ولم یکن لہ شریک فی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا يَنْۢبَغِيْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ يَّـتَّخِذَ وَلَدًا۝ 92ۭ ابتغاء (ينبغي) البَغْي : طلب تجاوز الاقتصاد فيما يتحرّى، تجاوزه أم لم يتجاوزه، فتارة يعتبر في القدر الذي هو الكمية، وتارة يعتبر في الوصف الذي هو الكيفية، يقال : بَغَيْتُ الشیء : إذا طلبت أكثر ما يجب، وابْتَغَيْتُ كذلك، قال اللہ عزّ وجل : لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ [ التوبة/ 48] ، وأمّا الابتغاء فقد خصّ بالاجتهاد في الطلب، فمتی کان الطلب لشیء محمود فالابتغاء فيه محمود نحو : ابْتِغاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ [ الإسراء/ 28] ، وابْتِغاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلى [ اللیل/ 20] ، الابتغاء فقد خصّ بالاجتهاد في الطلب، فمتی کان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 77–95

تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ان بزرگواروں کے بعد ناخلف پیدا ہوئے اب یہاں ایک ناخلف کی کیفیت بیان فرماتا ہے جس کو افرایت سے شروع کرتا ہے جس کی بابت بخاری، مسلم وغیرہما نے روایت کیا ہے کہ خباب بن ارت ؓ کہتے ہیں کہ میں عاص بن وائل سہمی کے پاس تقاضے کے لیے گیا اس نے کہا تو محمد ﷺ کا منکر ہوجائے تو تیرا قرضہ دے دوں میں نے کہا ہرگز نہ ہوگا یہاں تک کہ تو مر کر بھی جی اٹھے۔ اس نے کہا میں مر کر جب زندہ ہوں گا تو وہاں بھی میرے پاس مال و اسباب ہوگا وہاں تجھ کو دے دوں گا اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ وہ جو یہ کہتا ہے کیا اس کو علم غیب ہے یا خدا سے اس نے عہد لے لیا ہے۔ سو یہ ہرگز نہیں۔ ہم اس کے گناہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَا یَنْبَغِیْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا۔ (مریم : 92) (اور یہ بات خدا کے شایاں نہیں ہے کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنا لے۔ ) ایک آسان دلیل اس آیت کریمہ میں نہایت سہل انداز میں اللہ تعالیٰ کی صفات کے حوالے سے ان گمراہ لوگوں کی تردید فرمائی گئی ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی اولاد بنا رکھی ہے کہ آخر اللہ تعالیٰ کو اولاد کی ضرورت کیا ہے ؟ اولاد کی ضرورت کسی نہ کسی احتیاج کے وقت پیدا ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر احتیاج سے پاک ہے یا یہ خواہش ہوتی ہے کہ میری اولاد بڑھاپے میں میری لاٹھی بنے۔ اللہ تعالیٰ پر کبھی بڑھاپا نہیں آئے گا۔ کبھی یہ سوچا جاتا ہے کہ بعد میں میرا نام لینے والا کون ہوگا ؟ اللہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 88–95

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ کچھ بزرگ اللہ تعالیٰ کو اپنی بات منواسکتے ہیں انھوں نے اسی وجہ سے ہی یہ عقیدہ بنا رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی اولاد رکھتا ہے۔ قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں انبیاء کرام (علیہ السلام) اور بزرگوں کو یہاں تک کہ معصوم بچوں کو بھی سفارش کا حق دیا جائے گا لیکن یہ لوگ اسی کے حق میں سفارش کرسکیں گے۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ اجازت عنایت فرمائے گا۔ سفارش کرنے والی کتنی بڑی شخصیت کیوں نہ ہو وہ اس حد تک ہی سفارش کرپائے گی جس حد تک اسے سفارش کرنے کی اجازت ملے گی اس پر پوری امت کا اتفاق ہے۔ لیکن کچھ لوگوں نے اس سے بڑھ کر یہ عقیدہ اختیار کرلیا ہے کہ کچھ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

92: وَمَا یَنْبَغِیْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا (اور رحمان کے لئے مناسب نہیں کہ وہ اولاد اپنے لئے تجویز کرے) انبغی یہ بغٰی کا مطاوع بن کر آتا ہے۔ اس کا معنی طلب کرنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ طلب شئی کے بعد اس شیٔ کے ہوجانے کی باری آتی ہے۔ اب اگر بالفرض اللہ تعالیٰ اپنے لئے اولاد کا طالب بھی ہو۔ تب بھی اولاد اس کیلئے ممکن نہیں۔ اس کی اولاد ہو ہی نہیں سکتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لڑکا بنانا حاجت و جنسیت کو چاہتا ہے اور اس کی ذات ان دونوں باتوں سے پاک ہے۔ کیونکہ یہ دونوں نقص و عیب ہیں۔ نکتہ : رحمان کے لفظ کو بار بار دھرایا گیا تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ رحمان اکیلا ہی اس صفت کا حقدار ہے اور کوئی اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 92۔ وماینبغی للرحمن ان یتخذ ولدا۔ مناسب یہ ہے کہ اس کے لیے ولدقرار نہ دیاجائے اور نہ ہی اس کی طرف نسبت کی جائے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 87–95

87۔ 94:۔ مشرکین مکہ کہتے تھے کہ اول تو قیامت قائم ہی نہ ہوگی اور ہم کسی عذاب میں پکڑے گئے تو جن نیک لوگوں کی مورتوں کی ہم پوجا کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ سے سفارش کر کے ہم کو اس عذاب سے چھڑا لیں گے۔ مشرکین مکہ کی اس بات کا جواب اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں یہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کی سفارش کا ہر کسی کو مالک اور مختار نہیں بنایا ہے جو یہ مشرک جس سے چاہیں گے اپنی سفارش کرلیں گے یہ شفاعت تو اللہ کے فرشتے اس کے رسول اور نیک لوگ ایسے لوگوں کے حق میں کریں گے جو اللہ کی وحدانیت اس کے رسولوں کو سچا جاننے کے عہد پر قائم ہوں گے لیکن سوائے شرک کے اور گناہوں میں عمر بھر گرفتار رہ کر بغیر توبہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 88–95

آیت 88 یہ ان لوگوں کے قول کی قباحت کا بیان ہے جو عناد اور انکار پر جمے ہوئے ہیں اور اس عزم باطل میں مبتلا ہیں کہ رحمٰن نے اپن ابیٹا بنایا ہے۔ جی اس کہ نصاریٰ کہتے ہیں (المسیح ابن اللہ) التوبۃ 30/9) ” مسیح اللہ کا بیٹا ہے “ یہودی کہتے ہیں (عزیز ابن اللہ) (التوبۃ :30/9) ” عزیز اللہ کا بیٹا ہے “ اور مشرکین کہتے ہیں ” فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ “ اللہ تعالیٰ ان کی باتوں سے بہت بلند اور بڑا ہے۔ (لقد جئتم شیاء ادا) یعنی تم نے بدترین بات کہی ہے۔ یہ اتنی بڑی بات ہے کہ (تکاد السموت) قریب تھا کہ آسمان اپنی عظمت اور صلابت کے باوصف (یتفطرن منہ) اس قول سے پھٹ جاتے۔ (وتنشق الارض) اور زمین پھٹ کر ریزہ ریزہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 92–95

بیٹا باپ کا غلام نہیں ہوتا کہ جیسے چاہے غلام کی طرح اس پر تصرف کرے قول باری ہے (وما ینبغی للرحمن ان یتخذ ولداً ان کل من فی السموت و الارض الا اتی الرحمٰن عبداً ۔ رحمٰ کی یہ شان نہیں کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے۔ زمین اور آسمانوں کے اندر جو بھی ہیں سب اس کے حضور بندوں کی حیثیت سے پیش ہونے والے ہیں) اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ والد کی اپنے ولد پر ملکیت باقی نہیں رہتی کہ اس کی وجہ سے وہ اس کا غلام بنا رہے اور وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرے بلکہ مالک ہوتے ہی وہ اس پر آزاد ہوجاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیٹے اور غلام میں فرق رکھا ہے اور عبودیت یعنی غلام ہونے کے اثبات کے ساتھ نبوت یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 88–94

97 سب کچھ اللہ تعالیٰ کے احاطہ علم وقدرت میں ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس نے احاطہ کر رکھا ہے ان سب کا گن کر "۔ پس نہ کوئی اس کے احاطہ علم وقدرت سے باہر ہوسکتا ہے اور نہ اس کی گرفت و پکڑ سے بچ سکتا ہے۔ بلکہ ہر کسی نے اپنے وقت موعود و محدد میں اپنے کئے کا بھگتان بہرحال بھگت کر رہنا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ ہر شخص کی عمر، اس کے انفاس اور اس کے اقوال و اَفعال کا اس نے پوری طرح احاطہ اور شمار کر رکھا ہے۔ اور ہر چیز کی اس کے یہاں ایک خاص حد اور انتہا ہے ۔ { کُلُّ شَیْئٍ عِنْدَہ بِمِقْدَارٍ } ۔ سو آسمان و زمین کی سب مخلوق اس کے کامل کنٹرول اور مکمل قابو میں ہے۔ ہر ایک کو اس قادر مطلق نے پوری طرح گن…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 88–98

اللہ تعالیٰ رشتے ناتے سے بےنیاز ہے تشریح : یہودی اور عیسائی مشرک ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے پیغمبر کی تعلیمات جو کہ توحید کا سبق دیتی ہیں ان کو چھوڑ کر پیغمبروں کو ہی اللہ اور اللہ کا بیٹا بنا دیا۔ شرک اس قدر شدید گناہ ہے کہ اس سے دنیا تہس نہس ہوسکتی ہے۔ اللہ کیونکہ غفور الرحیم ہے، اس لیے وہ گنہگاروں، مشرکوں اور کافروں کو فوراً عذاب نہیں دیتا، مگر ان کے برے انجام کے بارے میں قرآن میں بار بار اعلان کیا گیا ہے۔ اسی طرح توحید کی خصوصیات، نیک اور بد لوگوں کا انجام بہت دفعہ بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ ڈاکٹرطارق السویڈان بیان کرتے ہیں۔ (1) دنیا اور آخرت 115 دفعہ قرآن میں آیا ہے۔ (2) فرشتے اور شیطان 88…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 83–98

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف (انسان پر شیطان کا تسلط) یہ ان کے کردار سے ظاہر ہے کہ اللہ جل جلالہ نے ان کے بداعمال اور کفر کی سزا کے طور پر شیطانوں کو ان پر غلبہ دے دیا ہے اور وہ شیطان انہیں ہر لمحہ برُائی پر ابھارتے رہتے ہیں اور اسی کو ان کی نگاہوں میں سجاتے رہتے ہیں ۔ لہذا جلدی کی تو کوئی بات نہیں کہ پہلے ہی انسان کے پاس بہت محدود سی زندگی ہے اور وہ اوقات تو اسے پورا کرنے کی اجازت ہے نیز یہ اس روز قابل دید حال میں ہوں گے جب مومینن بہت عزت واحترام کے ساتھ اللہ کریم جو بہت رحم کرنے والا ہے کہ بارگاہ میں مہمانی سے مشرف ہو رہے ہوں گے اور یہ بدکار جہنم کی طرف پیاسے ہانکے جا رہے ہوں گے ایسی حالت میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 یعنی ناممکن اور محال ہے اس لئے کہ اولاد ہم جنس ہوتی ہے اور اللہ کا کوئی ہم جنس نہیں یا پھر اولاد کمزوری میں سہارے کے لئے ہوتی ہے اور اللہ اپنی ذات اور صفات میں ہر ایک سے بےنیاز ہے وہ ہمیشہ سے عزیز و غالب ہے اور ہمیشہ عزیز و غالب رہے گا۔ (کبیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(19:92) ما ینبغی۔ مضارع منفی۔ واحد مذکر غائب انبغاء انفعال مصدر۔ لائق نہیں ہے۔ زیبا نہیں ہے۔ نہیں ہوسکتا ۔ سزاوار نہیں ہے

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 88–98

لغات القرآن آیت نمبر 88 تا 98 اِد سخت، بھاری چیز۔ تکاد قریب ہے۔ یتفطرن پھٹ پڑیں گے۔ تنشق ٹکڑے ہوجائیں گے۔ تخر ڈھے پڑیں، گر جائیں۔ ھد دھڑام سے گرنا۔ ماینبغی شایان شان نہیں ہے۔ احصی اس نے شمار کر رکھا ہے۔ عد گنتی۔ ود محبت لد جھگڑالو آدمی۔ رکز آہٹ، سرسراہٹ۔ تشریح :- آیت نمبر 88 تا 98 سورة مریم کی آیات کو نصاریٰ کے اس قول اور عقیدے پر ختم کیا گیا ہے جس میں انہوں نے نعوذ باللہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو (جو اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں) اللہ کا بیٹا ثابت کرنے کی مجرمانہ کوشش کی ہے۔ حالانکہ اس سورت کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے گہوارے ہی میں اس بات کا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 92–95

یہاں فرمایا کہ یہ کافر جو خدا کے لئے بیٹا ثابت کر رہے ہیں، یہ احمق اتنا نہیں سمجھتے کہ خدا کی شان نہیں کہ کسی کو بیٹا بناوے۔ آسمان اور زمین میں کوئی ایسا نہیں جو اللہ کا بندہ نہ ہو۔ پھر جب سب بندے ہیں تو بیٹا کہاں سے ہو سکتا ہے جو بیٹا ہوتا تو وہ بندہ نہ ہوتا بلکہ اللہ کا ہم جنس اور مد مقابل ہوتا، اور وہاں یہ بات نہیں ۔ پس بیٹا بھی ممکن نہیں ۔ آگے فرمایا کہ ان میں سے کوئی ہمارے عذاب سے بچ نہیں سکتا ۔ اور ان میں سے ہر ایک علیحدہ علیحدہ ہمارے سامنے قیامت کے دن پیش ہوگا، اور اپنے عمل کی سزا پائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 87–95

[32] یہ اجازت صرف انبیاء اور صالحین کو ملے گی اور صرف مومنین کے لئے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 91–95

ہولناک عقیدہ : (ف 2) بت پرستی اور شرک اللہ تعالیٰ کو نہایت ناپسند ہے ، اس لئے اس سے نفس انسانی میں ذلت اعتقاء کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں ، اور انسان اس فطری شرافت سے محروم ہوجاتا ہے ، جو اس کا مخصوص حصہ ہے ، اور جن کی وجہ سے وہ تمام کائنات سے اعلی اور برتر ہے نیز مشرکانہ ذہنیت سے اللہ تعالیٰ کے تخیل کو سخت صدمہ پہنچتا ہے ، اور کوئی شخص معرفت و سلوک کی راہوں کو شرک کے طریقوں سے نہیں کرسکتا ، کیونکہ اس کا آئینہ قلب شرک کی ظلمتوں سے اندھا ہوجاتا ہے ، اور معرفت کی شعاعیں اس میں نفوذ نہیں کرسکتیں ۔ اس لئے قرآن ہر نوع کے مشرکانہ تخیل سے بیزاری کا اعلان کرتا ہے اور بنی نوع انسانی کیلئے اسے کھلی گمراہی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-92 حالانکہ رحمان کو یہ لائق نہیں اور اس کی یہ شان نہیں کہ وہ اولاد اختیار کرے اور وہ اولاد رکھے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ کے لائق نہیں کہ وہ کسی کو اولاد بنائے کہ اس کی شان کے خلاف ہے : 92۔ یہ بات اللہ تعالیٰ کی ذات کے خلاف ہے کہ وہ کسی کو اولاد بنائے کیونکہ یہ صفت الوہیت کے منافی ہے اور جو صاحب اولاد ہو وہ اللہ نہیں ہو سکتا اور جو اللہ ہے وہ صاحب اولاد نہیں ہو سکتا ۔ اس کو اپنے کاموں میں کسی کو شریک کرنے کی ضرورت نہیں اور اس کو اپنی املاک اور جائیداد کے لئے کسی وارث کی بھی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ وہ اپنا نام زندہ رکھنے کے لئے کسی دوسرے کا محتاج نہیں اور نہ ہی اس کو بڑھاپے میں کسی سہارے کی ضرورت ہے اور جو بوڑھا ہوجائے اور وہ اللہ ہونے کا مستحق ہی نہیں ۔ جب وہ غنی اور بےنیاز ہے تو آخر وہ اولاد کیوں بنائے گا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 90–93

Commentary وَتَخِرُّ‌ الْجِبَالُ هَدًّا "And the mountains to fall down crumbling" - 19:90. These verses suggest that the earth, the mountains and everything that grows thereon possess a certain degree of knowledge and intelligence though in their case these perceptions are not of the same extent as that bestowed on human beings. This explains the fact that everything in the world glorifies Allah Ta’ ala as will be evident from the verse. وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ "Arid there is not a single thing that does not extol His purity and praise." - 17:44. These verses refer to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 87–95

52. This implies two things: (1) Intercession will be allowed only for the one who might have received permission for it from the Merciful, that is, the one who believed in Allah in the world and made himself deserving of His pardon. (2) Only that one will be able to plead intercession who might have received permission for this from the Merciful, and not those ones whom people themselves had made their intercessors without any reason.

Read the full tafseer →