Explained with ayahs 27–33
تقدس مریم اور عوام
حضرت مریم ؑ نے اللہ کے اس حکم کو بھی تسلیم کرلیا اور اپنے بچے کو گود میں لئے ہوئے لوگوں کے پاس آئیں۔ دیکھتے ہی ہر ایک انگشت بدنداں رہ گیا اور ہر منہ سے نکل گیا کہ مریم تو نے تو بڑا ہی برا کام کیا۔ نوف بکالی کہتے ہیں کہ لوگ حضرت مریم کی جستجو میں نکلے تھے لیکن اللہ کی شان کہیں انہیں کھوج ہی نہ ملا۔ راستے میں ایک چرواہا ملا اس سے پوچھا کہ ایسی ایسی عورت کو تو نے کہیں اس جنگل میں دیکھا ہے ؟ اس نے کہا نہیں۔ لیکن میں نے رات کو عجیب بات دیکھی ہے کہ میری یہ تمام گائیں اس وادی کی طرف سجدے میں گرگئیں۔ میں نے تو اس سے پہلے کبھی ایسا واقعہ نہیں دیکھا۔ اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
سورة مَرْیَم 20
قرآن کی معنوی تحریف کرنے والوں نے اس آیت کا یہ مطلب لیا ہے کہ " ہم اس سے کیا بات کریں جو کل کا بچہ ہے " یعنی ان کے نزدیک یہ گفتگو حضرت عیسیٰ کی جوانی کے زمانے میں ہوئی اور بنی اسرائیل کے بڑے بوڑھوں نے کہا کہ بھلا اس لڑکے سے کیا بات کریں جو کل ہمارے سامنے گہوارے میں پڑا تھا۔ مگر جو شخص موقع و محل اور سیاق وسباق پر کچھ بھی غور کرے گا وہ محسوس کرے گا یہ محض ایک مہمل تاویل ہے جو معجزے سے بچنے کے لیے کی گئی ہے۔ اور کچھ نہیں تو ظالموں نے یہی سوچا ہوتا کہ جس بات پر اعتراض کرنے کے لیئے وہ لوگ آئے تھے وہ تو بچے کی پیدائش کے وقت پیش آئی تھی نہ کہ اس کے جوان ہونے کے وقت۔ علاوہ بریں سورة…
Read the full tafseer →(آیت) وَاَوْصٰىنِيْ بالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ کسی چیز کا حکم جب زیادہ تاکید کے ساتھ کیا جائے تو اس کو وصیت کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں حضرت عیسیٰ ؑ نے اس جگہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے نماز اور زکوٰة کی وصیت فرمائی اس کا مفہوم یہی ہے کہ بڑی تاکید سے ان دونوں چیزوں کا مجھے حکم دیا۔
نماز اور زکوٰة، ایسی عبادتیں ہیں کہ آدم ؑ سے لے کر خاتم الانبیاء ﷺ تک ہر نبی و رسول کی شریعت میں فرض رہی ہیں البتہ مختلف شریعتوں میں ان کی تفصیلات اور جزیات مختلف رہی ہیں۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی شریعت میں بھی نماز اور زکوٰة فرض تھے۔ رہا یہ معاملہ کہ عیسیٰ ؑ تو کبھی مالدار ہی نہیں ہوئے، نہ گھر بنایا نہ کچھ جمع کیا پھر زکوٰة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
تفسیر آیت 30 تا 33:۔ قَالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا (30) وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيْنَ مَا كُنْتُ وَأَوْصَانِي بِالصَّلاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا (31) وَبَرًّا بِوَالِدَتِي وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيًّا (32) وَالسَّلامُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّا (33)
گہوارے میں حضرت مسیح کے ارشادات : یہ حضرت مسیح کے وہ ارشادات ہیں جو اس موقع پر انہوں نے اپنی اور اپنی والدہ ماجدہ کی بریت میں گہوارے کے اندر سے فرمائے۔ حضرت مریم جس امتحان میں ڈال دی گئی تھیں اس سے پوری عزت اور سرخروئی کے ساتھ عہدہ برآ ہونے کے لیے ضروری…
Read the full tafseer →31۔ 1 اللہ کے دین میں ثابت قدم، یا ہر چیز میں زیادتی، برتری اور کامیابی میرا مقدر ہے یا لوگوں کے لئے نافع، نیکی کے کام کرنے کا حکم دینے والا اور برائی سے روکنے والا۔ (فتح القدیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
18: یعنی جب تک میں اس دنیا میں زندہ رہوں گا مجھ پر نماز اور زکوٰۃ فرض رہے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
یوں حضرت عیسیٰ یہ اعلان کرتے ہیں کہ وہ اللہ کے بندے ہیں ، وہ خدا کے بیٹے نہیں ہیں ، جس طرح بعض عیسانی فرقے دعویٰ کرتے ہیں۔ نہ وہ بذات خود الہ ہیں جس طرح بعض دور سے فرقے عقیدہ رکھتے ہیں ۔ نہ یہ بات ہے کہ وہ تینوں کا ایک ہیں اور تین الہ واحد ہیں جیسا کہ ایک دوسرا فرقہ یہ عقیدہ رکھتا ہے۔ وہ اعلان کرتے ہیں کہ اللہ نے مجھے نبی بنایا ہے۔ نہ بیٹا بنایا ہے اور نہ شریک۔ مجھ میں برکت ڈلای ہے اور یہ حکم دیا ہے کہ پوری زندگی میں نماز ادا کروں اور زکوۃ رپ عمل کروں۔ والدہ کے ساتھ حسن سلوک کروں اور فیملی کے ساتھ خوشگوار تعلقات رکھوں۔ خود میری زنگدی محدود ہے۔ موت کے لئے ایک دن مقرر ہے۔ مروں گا ، پھر اٹھایا…
Read the full tafseer →2 یعنی جب تک زندہ ہوں، جس وقت اور جس جگہ کے مناسب جس قسم کی صلوٰۃ و زکوٰۃ کا حکم ہو، اس کی شروط و حقوق کی رعایت کے ساتھ برابر ادا کرتا رہوں۔ جیسے دوسری جگہ مومنین کی نسبت فرمایا (الَّذِيْنَ هُمْ عَلٰي صَلَاتِهِمْ دَاۗىِٕمُوْنَ ) 70 ۔ المعارج :23) اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر آن اور ہر وقت نمازیں پڑھتے رہتے ہیں۔ بلکہ یہ مراد ہے کہ جس وقت جس طرح کی نماز کا حکم ہو ہمیشہ پابندی سے تعمیل حکم کرتے ہیں اور اس کی برکات و انوار ہمہ وقت ان کو محیط رہتی ہیں۔ کوئی شخص کہے کہ ہم جب تک زندہ ہیں۔ نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج وغیرہ کے مامور ہیں کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے گا کہ ہر ایک مسلمان مامور ہے کہ ہر وقت نماز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–34
آیت 28 یٰٓاُخْتَ ہٰرُوْنَ مَا کَانَ اَبُوْکِ امْرَاَ سَوْ ءٍ وَّمَا کَانَتْ اُمُّکِ بَغِیًّا
حضرت مریم کو ہارون کی بہن کہنے کی وجہ یا تو یہ ہوسکتی ہے کہ ان کا ہارون نامی کوئی بھائی ہو ‘ یا یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے ہونے کی وجہ سے ایک برگزیدہِ جدّ امجد کے طور پر آپ علیہ السلام کا نام لیا گیا ہو کہ دیکھو کس عظیم شخصیت کی نسل سے تمہارا تعلق ہے اور حرکت تم نے کس قدر گری ہوئی کی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
29 سیدنا عیسیٰ نے کلام فی المھد سے اپنی والدہ کی بہتان سے مکمل بریّت کردی :۔ تب اس نومولود بچے کو اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے قوت گویائی عطا فرمائی اور پہلی بات جو اس نے کی وہ یہ تھی کہ میں اللہ کا بندہ ہوں بالفاظ دیگر میں نہ اللہ ہوں اور نہ ابن اللہ ہوں اور یہ ایسی بنیادی بات تھی جو بعد میں اس کے پیروکاروں میں ہی متنازعہ فیہ بن گئی۔ کسی نے انھیں اللہ ہی کہہ دیا اور کسی نے اللہ کا بیٹا۔ آپ نے اپنے اس معجزانہ کلام کے آغاز میں ہی اس کی تردید فرما دی تھی۔ نیز یہ بھی بتایا کہ اللہ نے مجھے کتاب دی ہے اور اپنا نبی بھی بنایا ہے اس کے دو مفہوم ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ نے مجھے کتاب تورات کا علم عطا فرمایا…
Read the full tafseer →47۔ یعنی خلق کو میرے ذریعہ سے دین کا نفع پہنچے گا۔ مبارک کے معنی معلم خیر کے بھی کیے گئے ہیں۔ قال مجاھد معلما للخیر۔ قال غیرہ جعلنی نفاعا (جصاص)
48۔ یعنی مجھے احکام شریعت دے کر بھیجا گیا ہے میرے اوپر بھی زندگی بھر عبادتیں اور احکام شریعت کی پیروی فرض ہیں۔ انجیل برنابا میں، جو حضرت مسیح کے ایک حواری کی جانب منسوب ہے، اور جسے مسیحی اپنے اعراض و عقائد کے مخالف پاکر جعلی قرار دیتے ہیں، اس میں اس مفہوم کی آیت موجود ہے (ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–40
آیت نمبر 26 تا 40
ترجمہ : پھر پکی اور تازہ کھجوریں کھاؤ اور چشمہ کا پانی پیو اور بیٹے سے آنکھیں ٹھنڈی کرو عینًا تمییز ہے فاعل سے منقول ہے یعنی تو اس بچہ کو دیکھ کر آنکھوں کو ٹھنڈا کر کے سکون حاصل کر دوسرے بچوں کی طرف التفات نہ کر فاِمَّا میں ان شرطیہ کے نون کو ما زائدہ میں مدغم کردیا گیا ہے تَرَیِنَّ اس کا لام کلمہ اور عین کلمہ حذف کردیا گیا ہے عین کلمہ کی حرکت نقل کر کے را کو دے دی گئی اور یائے ضمیر کو التقاء ساکنین کی وجہ سے کسرہ دے دیا گیا اگر تو کسی بشر کو دیکھے اور وہ تیرے بچہ کے متعلق سوال کرے تو کہہ دینا کہ میں نے اس بچہ وغیرہ کے بارے میں لوگوں سے کلام کرنے سے رحمٰن کے لئے سکوت کا روزہ…
Read the full tafseer →وجعلنی مبارکا این ما کنت اور اس نے مجھے برکت والا بنایا ہے میں جہاں بھی ہوں۔ یعنی آسمان میں ہوں یا زمین میں اللہ نے مجھے نفع رساں بنایا ہے۔ اس جملہ میں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی نفع رسانی ثابت ہو رہی ہے۔ زمین میں انسانوں کو اور آسمان میں ملائکہ کو لفظ برکت کا معنی یا ثبات خیر ہے اس پر یہ بَرَکَ الْبَعِیْر (اونٹ بیٹھ گیا) کے محاورہ سے ماخوذ ہوگا۔ یا زیادتی عطا برکت کا معنی ہے ‘ دعا میں کہا جاتا ہے اللّٰہُمَّ بَارِکْ فِیْ عَطَاءِکَاے اللہ ! اپنی عطا میں زیادتی عطا فرما ‘ یا اس کا معنی ہے عظمت و بزرگی ‘ جیسے بولتے ہیں یہ فلاں شخص کی برکت سے ہے اس جگہ مبارکًا سے بعض علماء کے نزدیک نفع رساں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
(30۔ 31) حضرت عیسیٰ ؑ بول اٹھے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے ماں کے پیٹ ہی سے مجھے علم توریت وانجیل دیا (گو آئندہ دے گا مگر بوجہ یقینی ہونے کے ایسا ہے جیسے دے دی) اور ماں کے پیٹ سے نکلنے کے بعد مجھے نبی بنایا (یعنی بنائے گا) اور میں جس مقام پر بھی ہوں، مجھے نیکیوں کی تعلیم دینے والا بنایا ہے اور اس نے مجھے نماز ادا کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا ہے جب تک کہ میں زندہ ہوں۔
Read the full tafseer →ۙوَّجَعَلَنِيْ مُبٰرَكًا اَيْنَ مَا كُنْتُ ۠ : ”مُبٰرَكًا“ یہاں باب مفاعلہ مقابلے کے معنی میں نہیں بلکہ مبالغہ کے لیے ہے، یعنی بہت برکت والا۔ برکت کا معنی خیر کثیر ہے جو ”بِرْکَۃٌ“ سے ہے، جس کا معنی تالاب ہے جس میں بہت پانی ہوتا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے لوگوں کے لیے بہت خیر و برکت اور نفع پہنچانے والا بنایا ہے۔
وَاَوْصٰىنِيْ بالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ : نماز اور زکاۃ کی خاص تاکید کی وجہ کے لیے دیکھیے سورة توبہ (5، 11) اس آیت سے معلوم ہوا کہ نماز، زکاۃ اور شریعت کے دوسرے احکام موت تک کسی کو معاف نہیں۔ ہمارے نبی کریم ﷺ کو بھی فوت ہونے تک عبادت کا حکم ہوا، چناچہ فرمایا : (وَاعْبُدْ رَبَّكَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاشارت الیہ قالوا کیف نکلم من کان فی المھد صبیا۔ حضرت مریم کو ترک کلام کا جو حکم دیا گیا تھا۔ آپ نے اسے لازم پکڑا۔ اس آیت میں وارد نہیں ہے کہ آپ نے انی نذرت للرحمن صوما بول کر کہا تھا بلکہ یہ وارد ہے کہ آپ نے اشارہ فرمایا۔ پس یہ ان علماء کے قول کو تقویت دیتا ہے کہ (قولی) کا جو امر آپ کو دیا گیا تھا اس سے مراد اشارہ ہے۔ روایت ہے کہ جب آپ نے بچے کی طرف اشارہ کیا تو لوگوں نے کہا : اس کا ہمارے ساتھ استخفاف اس کے زنا سے بھی ہم پر زیادہ سخت ہے۔ پھر انہوں نے تقریر و ثبوت کی جہت سے کہا : کیف نکلم من کان فی المھد صبیا۔ (1) اس آیت میں کان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
1:۔ عبدالرزاق، ابن ابی شیبہ، عبدبن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے (آیت) ” قال انی عبداللہ “ کے بارے میں فرمایا کہ اس بارے میں فیصلہ کیا گیا جو فیصلہ کیا گیا کہ میں اس طرح سے ہوں۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے انس ؓ سے روایت کیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی ماں کے پیٹ میں انجیل پڑھ لی تھی اور اس کو یاد بھی کرلیا تھا اس وجہ سے فرمایا (آیت) ” قال انی عبداللہ اتانی الکتاب “۔
3:۔ اسماعیل نے معجم میں ابونعیم نے حلیہ میں ابن لال نے مکارم الاخلاق میں ابن مردویہ اور نجار نے تاریخ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قول ہے (آیت) ’ ’ وجعلنی مبرکا این…
Read the full tafseer →[وَّجَعَلَنِيْ : اور اس نے بنایا مجھ کو ] [مُبٰرَكًا : برکت دیا ہوا ] [اَيْنَ مَا : جہاں کہیں بھی ] [كُنْتُ : میں ہوں ] [وَاَوْصٰىنِيْ : اور اس نے تاکید کی مجھ کو ] [بِالصَّلٰوةِ : نماز کی ] [وَالزَّكٰوةِ : اور زکٰوۃ کی ] [مَا دُمْتُ : جب تک میں رہوں ] [حَيًّا : زندہ ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
کسی کو اپنی اولاد بنانا اللہ تعالیٰ کے شایان شان نہیں ہے
ان آیات میں بھی حضرت عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) کا تذکرہ ہے اور اللہ پاک کی توحید بیان فرمائی ہے اور یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ شرک سے، کسی کو اولاد بنانے سے بری اور بیزار ہے پہلے تو یہ فرمایا کہ یہ عیسیٰ بن مریم جن کا ذکر گزشتہ آیات میں ہوا۔ ان کے بارے ہم نے سچی بات بیان کردی اس سچی بات میں لوگ جھگڑتے ہیں اور یہ جھگڑالو یہود و نصاریٰ ہیں اور اب تو جھوٹی نبوت کے دعویدار بھی ان کے ہم نوا ہوگئے ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے باپ تجویز کرتے ہیں اس کے بعد فرمایا کہ یہ بات اللہ کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ کسی کو اپنی اولاد بنائے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–33
قال اللٰہ تعالیٰ ۔ واذکر فی الکتٰب مریم۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ و یوم اموت ویوم ابعث حیا۔
(ربط) حق تعالیٰ نے گزشتہ رکوع میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا کہ بحالت پیری ایک پیر ناتواں اور ایک بانجھ اور بوڑھی بیوی سے بلا سبب ظاہری ایک مبارک فرزند یعنی یحییٰ (علیہ السلام) کا تولد ہوا۔ اب اس سے زیادہ عجیب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا قصہ بیان کرتے ہیں۔ اس لیے کہ بوڑھے مرد اور بانجھ عورت سے بچہ پیدا ہونا اگرچہ عجیب ہے۔ مگر والدین سے بچہ کا پیدا ہونا عادۃ قریب الی العقل ہے اور بغیر باپ کے محض ماں سے بچہ پیدا ہونا بہت ہی عجیب و غریب ہے جو اللہ کی کمال قدرت پر دلالت کرتا ہے کہ خدائے تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
23:۔ یہاں مرزائی اعتراض کرتے ہیں کہ اگر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) آسمان پر زندہ ہیں تو وہ وہاں نماز کس طرح پڑھتے ہیں اور زکوۃ کس طرح دیتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ زندگی سے یہاں مطلق زندگی مراد نہیں بلکہ متعارف زندگی مراد ہے یعنی وہ زندگی جو روئے زمین پر بسر کی جائے۔ وانت تعلم انالظاھر المتبادر من المدۃ المذکورۃ مدۃ کونہ (علیہ الصلوۃ والسلام) حیا فی الدنیا علی ما ھو المتعارف و ذلک لا یشمل مدۃ کونہ (علیہ السلام) فی السماء (روح ج 16 ص 90) ۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ نماز تو وہ آسمان پر بھی پڑھ سکتے ہیں اس میں کوئی استحالہ نہیں۔ باقی رہا زکوۃ کا سوال تو وہ ان پر فرض ہی نہیں کیونکہ آسمان پر ان کے پاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا ذکر ہوا ، اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم (علیہ السلام) کی پریشانی کا حال ذکر کیا اور پھر ان کو تسلی بھی دی جنگل یا پہاڑی غار میں ان کو کھانے پینے کی اشیاء اپنی قدرت تامہ سے مہیا کیں ، پھر یہ بھی فرمایا کہ اے مریم (علیہ السلام) اگر کسی شخص سے ملاقات ہوجائے تو کہنا کہ آج کے دن میں نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے ، لہذا کسی سے کلام نہیں کروں گی اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم (علیہ السلام) کے مع بچے قوم کے پاس آنے اور مسیح (علیہ السلام) کی طرف سے اپنی ماں کی صفائی بیان کرنے کا ذکر فرمایا ہے ۔
(حضرت مریم (علیہ السلام) قوم کے پاس)
ارشاد…
Read the full tafseer →وَّجَعَلَنِيْ مُبٰرَكًا اَيْنَ مَا كُنْتُ 0۠ وَاَوْصٰىنِيْ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّكٰوۃِ مَا دُمْتُ حَيًّا 31۠ۖ
برك
أصل البَرْك صدر البعیر وإن استعمل في غيره، ويقال له : بركة، وبَرَكَ البعیر : ألقی بركه، واعتبر منه معنی اللزوم، فقیل : ابْتَرَكُوا في الحرب، أي : ثبتوا ولازموا موضع الحرب، وبَرَاكَاء الحرب وبَرُوكَاؤُها للمکان الذي يلزمه الأبطال، وابْتَرَكَتِ الدابة : وقفت وقوفا کالبروک، وسمّي محبس الماء بِرْكَة، والبَرَكَةُ : ثبوت الخیر الإلهي في الشیء .
قال تعالی: لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 96]
( ب رک ) البرک
اصل میں البرک کے معنی اونٹ کے سینہ کے ہیں (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
3 ؎ حضرت مریم [ کا خود کلام نہ کرنا گود کے بچہ کی طرف اشارہ کرنا کہ یہ خود اپنا حال بیان کر دے گا اپنی برأت کا اظہار مقصود تھا کس لیے کہ حرامی بچہ میں یہ کمال و کرامت کہاں کہ وہ کلام کرے اور کلام بھی ایسا پر معنی اور بلند مرتبہ کہ میں خدا کا بندہ ہوں خدا نہیں کیونکہ آنے والا حال خدا نے ان پر منکشف کردیا تھا کہ میرے معتقدوں میں سے بہت لوگ مجھے ابن اللہ یا خدا کہیں گے اس میں ضمناً نصاریٰ پر تعریض بھی ہے کہ وہ تو اپنے کو خدا کا بندہ کہتے تھے تم ان کو ابن اللہ اور خدا کہتے ہو یہ کیا اتباع عیسیٰ ہے۔ دوم یہ کہ اس نے مجھے کتاب دی اور نبی بنایا گو اس وقت نہ کتاب انجیل ملی تھی نہ نبوت مگر یقینا ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
قَالَ اِنِّیْ عَبْدُاللّٰہِ قف ط اٰ تٰنِیَ الْکِتٰبَ وَجَعَلَنِیْ نَبِیًّا۔ وَّجَعَلَنِیْ مُبٰرَکًا اَیْنَ مَا کُنْتُ ص وَاَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ مَا دُمْتُ حَیًّا۔ وَّبَرًّا م بِوَالِدَتِیْ ز وَلَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا۔ (مریم : 30، 31، 32)
(بچے نے جواب دیا، میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب عطا کی ہے اور اس نے مجھے نبی بنایا ہے۔ اور اس نے مجھے سرچشمہ خیروبرکت ٹھہرایا ہے، میں جہاں کہیں بھی ہوں، اور اس نے مجھے نماز ادا کرنے کا حکم دیا اور زکوٰۃ دینے کا، میں جب تک زندہ رہوں۔ اور مجھے اپنی ماں کا فرمانبردار بنایا ہے، مجھے سرکش اور بدبخت نہیں بنایا ہے۔ )
گہوارے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
فہم القرآن
ربط کلام : ابھی لوگوں کا شور و غل ختم نہیں ہوا تھا کہ والدہ کا اشارہ پاکر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جواب دیتے ہیں۔
حضرت مریم [ کا اشارہ ہوا ہی تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بول اٹھے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی اور نبی بنایا ہے۔ میں جہاں کہیں ہوں اس نے اپنی برکات سے نوازا ہے۔ میرے رب نے مجھے وصیت کی ہے کہ جب تک زندہ رہوں نماز پڑھوں اور زکوٰۃ ادا کروں۔ مجھے یہ بھی وصیت کی گئی ہے کہ میں اپنی والدہ ماجدہ کے ساتھ بہتر سے بہتر سلوک کرتا رہوں اور میرے رب نے مجھے باغی اور منحوس نہیں بنایا۔ میرے رب نے میری پیدائش، موت اور موت کے بعد اٹھنے کے دن مجھے اپنی رحمت کے دامن میں لے…
Read the full tafseer →31: وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰـرَکًا اَیْنَ مَاکُنْتُ (اور مجھے بابرکت بنایا۔ جہاں بھی ہوں) مُبَارَکًا فائدہ پہنچانے والا جہاں بھی ہوں۔ نمبر 2۔ خیر کا معلم وَاَوْصٰنِیْ (اور مجھے حکم دیا) بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ (نماز اور زکوٰۃ کا) اگر میں مال کا مالک ہوا۔ نمبر 2۔ زکوۃ سے صدقہ الفطر مراد ہے۔ نمبر 3۔ تطھیر بدن مراد ہے۔
ایک احتمال یہ ہے اَوْ صَانِیْ بان امرکم بالصلاۃ والزکٰوۃ کہ مجھے اس نے تمہیں نماز و زکوۃ کی وصیت کرنے کا حکم دیا۔ مَا دُمْتُ حَیًّا زندگی بھر۔
نحو : حیًّا ظرف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ای مدۃ حیاتی ساری زندگی۔
Read the full tafseer →تفسیر۔
31۔ وجعلنی مبارکا اینما کنت، جس طرح آپ متوجہ ہوں گے اس جانب کو ہم آپ کے لیے نافع بنادیں گے۔ مجاہد کا قول ہے کہ اس سے معلم خیرہونا مراد ہے۔ عطاء نے کہا اللہ کی توحید و عبادت کی طرف بلانے والا، بعض نے کہا مجھے اللہ نے ان لوگوں کے لیے جو میری پیروی کریں مبارک بنایا ہے۔ واوصانی بالصلاۃ والزکاۃ ، مجھے ان دونوں کا حکم دیا گیا۔
سوال : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس مال نہیں تھا پھر زکوۃ کا حکم کیسے دے دیا ؟
جواب نمبر 1۔ بعض حضرات نے کہا اگر آپ مال دار ہوتے تو پھر زکوۃ ہوگی۔ 2۔ آپ کو زکوۃ کا حکم دیا گیا مطلب یہ ہے کہ آپ اس کا حکم آگے جاری کریں۔ جو صاحب استطاعت ہوں وہ اپنی زکوۃ نکالیں۔ 3۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
27۔ 33:۔ تفسیر سدی میں ہے کہ حضرت عیسیٰ کے پیدا ہونے کے بعد شیطان نے مریم (علیہا السلام) کی قوم میں یہ خبر پھیلا دی کہ مریم کے ہاں بن باپ کا بچہ پیدا ہوا اس خبر کو سن کر قوم کے لوگ بڑے جوش میں آئے اور مریم (علیہا السلام) کو اس الگ مکان میں سے بستی میں بلایا اس پر مریم (علیہا السلام) چلہ نہانے کے بعد عیسیٰ (علیہ السلام) کو لے کر قوم کے لوگوں کے پاس گئیں یہ تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق ہے کہ گھبراہٹ کے وقت مریم (علیہ السلام) کو جو آواز آئی تھی وہ جبرئیل (علیہ السلام) کی آواز نہیں تھی۔ اوپر گذر چکا ہے کہ مجاہد کے قول کو ترجیح دی ہے اس واسطے تفسیر ابن جریر میں ہے کہ عیسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
آیت 27
یعنی جب حضرت مریم علیھا السلام اپنے نفاس سے پاک ہوئیں تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو لے کر اپنی قوم میں تشریف لائیں، چونکہ انہیں اپنی برٓت اور اپنی طہارت نفس کا علم تھا اس لئے انہوں نے کسی کی پروانہ کی۔ لوگوں نے باتیں بناتے ہوئے کہا : (لقد جئت شیا فریا) ” تو نے بڑا عجیب کام کیا “ یعنی بہت نازیبا کام، اس سے ان کی مراد زنا تھا۔۔۔. حالانکہ وہ اس سے پاک تھیں۔
(یاخت ھرون) ” اے ہارون کی بہن۔ “ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مریم علیھا السلام کا کوئی حقیقی بھائی تھا جس کی طرف ان کو منسوب کیا گیا۔ وہ انبیاء کے نام پر نام رکھا کرتے تھے۔ یہ ہارون، موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی ہارون بن عمران (علیہ…
Read the full tafseer →قول باری ہے (وجعلنی مبارکاً اینما کنت اور مجھے بابرکت کیا جہاں کہیں بھی میں رہوں) مجاہد کا قول ہے ” مجھے اللہ نے نیکی اور بھلائی سکھانے والا بنایا ہے۔ “ دوسروں کا قول ہے۔ ” مجھے لوگوں کو نفع پہنچانے والا بنایا ہے۔ “
قول باری ہے (واوصانی بالصلوۃ والزکوۃ ما دمت حیاً اور نماز زکوۃ کی پابندی کا حکم دیا جب تک میں زندہ رہوں) ایک قول کے مطابق اس سے مال کی زکوۃ مراد ہے اور دوسرے قول کے مطابق گناہوں سے پاک کرنا مراد ہے۔
Read the full tafseer →39 اپنی خیر و برکت کی عنایت و نوازش کا ذکر وبیان : سو ماں کی گود میں کیے جانے والے اس معجزانہ کلام میں حضرت عیسیٰ نے مزید کہا کہ " میرے رب نے مجھے بڑا برکت والا انسان بنایا ہے "۔ سو میں جہاں بھی رہوں گا اور جہاں بھی جاؤں گا، مجھ سے لوگوں کو خیر و برکت ہی ملے گی اور نفع ہی پہنچے گا۔ اور جس شخص کی عظمت شان یہ ہو کیا وہ کبھی غلط نسب کا ہوسکتا ہے ؟ ۔ سبحان اللہ ۔ حضرت عیسیٰ نے اپنے ان سیدھے سادے الفاظ میں کیسی جامع اور پر مغز باتیں کہیں کہ ان سے یہود و نصاریٰ سمیت تمام باطل پرستوں کے سب فتنوں کا قلع قمع کردیا۔ اور اس طور پر کہ آئندہ قیامت تک ہونے والے تمام فتنوں اور جملہ مفاسد کا راستہ بند کردیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–34
سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور بچپن کی گفتگو
تشریح : سیدہ مریم کا پورا واقعہ سورة آل عمران میں بڑی وضاحت سے گزر چکا ہے کہ آپ کی والدہ نے آپ کو بیت المقدس میں عبادت کے لیے بٹھا دیا تھا۔ یہ محراب شرقی حصہ میں واقعہ تھی، جہاں آپ نے ایک پردہ ڈال کر اپنے آپ کو لوگوں کی نظروں سے چھپا رکھا تھا۔ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہی سیدہ مریم (علیہا السلام) کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کی پیدائش بھی اللہ کی قدرت کی کامل نشانی ہے اور سیدنا مریم (علیہا السلام) کا انتہائی پاکدامن اور نیک ہونے کے باوجود بغیر کسی مرد کے ملے (نکاح وغیرہ) بیٹا پیدا کرنا بھی اللہ کی بہت بڑی نشانیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–41
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
اور اے حبیب ﷺ اس سے عجیب تر اور فکر انگیز واقعہ ایسی کتاب اللہ میں سنا دیجئے جو حضرت مریم (علیہا السلام) کا ہے اور جس کے متعلق یہود اور نصاری نے اپنے اپنے نظریات گھڑ رکھے ہیں کہ اس کی حقیقی اور واقعی صورت کیا ہے یہ بات تب شروع ہوتی ہے جب حضرت مریم (علیہا السلام) اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر غسل وغیرہ کرنے کے لیے پردہ میں چلی گئیں تو وہاں ان کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا جس نے انسانی شکل میں ظاہر ہو کر ان سے بات کرنا چاہی ، یاد رہے حضرت مریم (علیہا السلام) کا ذکر آل عمران میں گذر چکا ہے ۔
(اولیاء اللہ سے فرشتہ کا ہمکلام ہونا)
کہ ان کی والدہ نے منت مانی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
ف 10 یعنی پیدائش سے موت تک اور موت سے قیامت تک میں اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں رہوں گا۔
Read the full tafseer →(19:31) ما دمت۔ فعل ناقص۔ واحد متکلم۔ ما دمت حیا۔ جب تک میں زندہ رہوں۔ حیابوجہ خبر کے منصوب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–36
لغات القرآن آیت نمبر 22 تا 36
انتبذت (انتباذ) الگ ہوگئی، جدا ہوگئی
قصی دور کا فاصلہ۔ المخاض زچگی کا درد۔ دردزہ۔ جزع جڑ۔ نسیا منسیا بھولی بسری چیز۔ بےنام و نشان ہوجانا۔ سری پانی کا چشمہ۔ ھزی ہلالی۔ جھکادے۔ تساقط گرائی گی۔ رطب ترو تازہ۔ جنی پکا ہوا پھل۔ قری عین آنکھیں ٹھنڈی رکھ۔ ترین تو دیکھے۔ نذرت میں نے منت مان رکھی ہے۔ تحملہ وہ اس کو اٹھا لائے۔ فری (افترائ) عجیب اور نرالی بات۔ المھد گود۔ صبی بچہ۔ اوصنی مجھے حکم دیا۔ مادمت حیا جب تک میں زندہ ہوں۔ شقی بدنصیب، بدنصیب، بدقسمت۔ یمترون وہ شک کرتے ہیں۔
تشریح : آیت نمبر 22 تا 36
حضرت مریم نے جب سے ہوش سنبھالا تھا اس وقت سے وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا ذکر اور حضرت مریم (علیہا السلام) پر تہمت اور چالیس روز کے بچہ کی شہادت
جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوچکے تو بعد چلہ کے مریم (علیہا السلام) ان کو گود میں لے کر اپنی قوم کے پاس آئیں۔ وہاں لوگوں کا ان پر ہنگامہ ہوا، اور طعن وتشنیع شروع ہوئی۔ کہنے لگے :" اے مریم ! یہ تو نے بری بات کی۔ اے ہارون کی بہن ! (حضرت ہارون برادر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہی کی طرف نسبت کی کیونکہ ان کی نسل سے تھیں، اس لئے ہارون کی بہن کہا یہ عرب کا محاورہ ہے) ۔ تیرا باپ تو بدکار نہ تھا اور نہ تیری ماں فاحشہ تھی، تو حرام کار کہاں سے پیدا ہوئی "۔ مریم نے اپنے بچہ کی طرف اشارہ کردیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
[15] یعنی انجیل۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
(ف 1) حضرت مریم (علیہ السلام) درد زہ کی وجہ سے بےقرار ہوگئیں ، اور جنگل کی طرف نکل کھڑی ہوئیں ، وہیں حضرت مسیح (علیہ السلام) تولد ہوئے ، اس طرح سے بچہ کی پیدائش بجائے خود حضرت مریم (علیہ السلام) کے لئے خوش آیندہ نہ تھی ، اس پر مزید یہ کھٹکا کہ لوگ کیا کہیں گے ، اور پھر بےسروسامانی کا یہ عالم کہ اپنے پاس کوئی موجود نہیں جو دلداری کرسکے ، اس لئے انسانی فطرت کی کمزوری سے انہوں نے اضطرار یہ کہا کہ (آیت) ” یلیتنی مت قبل ھذا وکنت نسیا منسیا “۔ تو بالکل بجا فرمایا حالات کا تقاضا یہی تھا کہ ان کے منہ سے اس قسم کے کلمات نکلیں ۔
اللہ تعالیٰ نے تسلی دی ، حضرت مریم (علیہ السلام) کو فرشتہ نے پکار کر کہا…
Read the full tafseer →-3 1 اور میں جہاں کہیں بھی ہوں مجھ کو اسی اللہ تعالیٰ نے برکت والا بنایا ہے اور اسی نے مجھ کو جب تک میں زندہ ہوں نماز پڑھنے اور زکوۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ یعنی برکت والا یہ برکت تبلیغ کی ہوگی کہ میں جس حالت میں بھی ہوں اس کے دین کی تبلیغ کرتا رہوں گا یا عام برکت مراد ہوگی جو انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا خاصہ ہے اور نماز پڑھنے اور زکوۃ ادا کرنے کا حکم دیا جب تک میں مکلف زندگی یعنی دنیوی زندگی کے ساتھ مقید ہوں اور اگر کوئی اور صورت پیش آجائے اور یہ دنیوی زندگی کسی اور زندگی میں تبدیل ہوجائے اس کے احکام دوسرے ہوں گے اور وہاں کی نماز اور زکوۃ کسی اور طرح کی ہوگی۔
Read the full tafseer →ف 6۔ یعنی مجھ سے خلق کو دین کا نفع پہنچے گا۔
Read the full tafseer →عیسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ میں عیسائیوں کے ترجمان مفسرین کرام :
31۔ زیر نظر آیت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی تقریر میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ ارشاد فرمایا تھا (وجعلنی مبرکا) چونکہ قوم کے اکثر لوگ آپ کو ” فتنہ جو “ اور ” نامبارک “ قرار دیتے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ سے اعلان کرا دیا کہ تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ میں ” فتنہ جو “ اور ” نامبارک “ نہیں بلکہ مجھے تو میرے رب نے بابرکت بنایا ہے ، لیکن ہمارے بعض مفسرین نے عیسائیوں کی ترجمانی کرتے ہوئے اس کی یہ تفسیر فرمائی ۔ ” نفاعا “ اور ” قضاء للحوائج “ کہ میں لوگوں کے لئے نفع رساں ہوں اور ان کے لئے بہت حاجت روا بھی ہوں اور ظاہر ہے کہ یہی کچھ…
Read the full tafseer →وَأَوْصَانِي بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ
"And has enjoined Sa1ah and Zakah upon me." - 19:31.
The word أَوْصَانِي is derived from the word وَصِیِّۃ (Wasiyyah) which normally means 'to bequeath', but when used in the context of issuing an order, it implies an emphatic command, and here it is used to put emphasis on a command of Allah. For this reason it is translated in the text as 'enjoined'. Here Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) has said that Allah Ta’ ala had commanded him to offer Prayers and give the obligatory charity (Zakah), the intention being that he was commanded to observe both these…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
20. People who misinterpret the Quran translate this verse as: How shall we talk with him, who is but a child of yesterday? They attribute these words to the elderly people of the Jews, who said years later, when Jesus was a grown up boy, that they could not have any useful dialogue with a mere kid. But the person who keeps the whole context in view, will realize that this interpretation is absurd and has been given merely to avoid the miracle. As a matter of fact, the dialogue took place when the people were condemning Mary who being unmarried, had brought forth a child, and not when the…
Read the full tafseer →