Explained with ayahs 91–92
عہد و پیمان کی حفاظت
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ عہد و پیمان کی حفاظت کریں قسموں کو پورا کریں۔ توڑیں نہیں۔ قسموں کو نہ توڑنے کی تاکید کی اور آیت میں فرمایا کہ اپنی قسموں کا نشانہ اللہ کو نہ بناؤ۔ اس سے بھی قسموں کی حفاظت کرنے کی تاکید مقصود ہے اور آیت میں ہے کہ قسم توڑنے کا کفارہ ہے قسموں کی پوری حفاظت کرو۔ پس ان آیتوں میں یہ حکم ہے۔ اور بخاری و مسلم کی حدیث میں آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں واللہ میں جس چیز پر قسم کھا لوں اور پھر اس کے خلاف میں بہتری دیکھوں تو انشاء اللہ تعالیٰ ضرور اس نیک کام کو کروں گا اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔ تو مندرجہ بالا آیتوں اور احادیث میں کچھ فرق نہ…
Read the full tafseer →سورة النَّحْل 90
یہاں علی الترتیب تین قسم کے معاہدوں کو ان کی اہمیت کے لحاظ سے الگ الگ بیان کر کے ان کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے۔ ایک وہ عہد جو انسان نے خدا کے ساتھ باندھا ہو، اور یہ اپنی اہمیت میں سب سے بڑھ کر ہے۔ دوسرا وہ عہد جو ایک انسان یا گروہ نے دوسرے انسان یا گروہ سے باندھا ہو اور اس پر اللہ کی قسم کھائی ہو، یا کسی نہ کسی طور پر اللہ کا نام لے کر اپنے قول کی پختگی کا یقین دلایا ہو۔ یہ دوسرے درجے کی اہمیت رکھتا ہے۔ تیسرا وہ عہد و پیمان جو اللہ کا نام لیے بغیر کیا گیا ہو۔ اس کی اہمیت اوپر کی دو قسموں کے بعد ہے۔ لیکن پابندی ان سب کی ضروری ہے اور خلاف ورزی ان میں سے کسی کی بھی روا نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
(آیت) اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِىَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ۔ اس آیت میں مسلمانوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ جس جماعت سے تمہارا معاہدہ ہوجائے اس معاہدہ کو دنیوی اغراض و منافع کے لئے نہ توڑو مثلا تمہیں یہ محسوس ہو کہ جس جماعت یا پارٹی سے معاہدہ ہوا ہے یہ کمزور اور تعداد میں قلیل ہے یا مال کے اعتبار سے مفلس ہے اور اس کے بالمقابل دوسری جماعت کثیر اور قوی ہے یا مال و دولت والی ہے تو صرف اس طمع سے قوی اور مالدار پارٹی میں شامل ہوجانے سے منافع زیادہ ہوں گے پہلی جماعت کا عہد توڑنا جائز نہیں بلکہ اپنے عہد پر قائم رہے اور نفع وضرر کو خدا تعالیٰ کے سپرد کرے البتہ جس جماعت یا پارٹی سے عہد کیا ہے وہ اگر خلاف شرع…
Read the full tafseer →وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِيْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا ۭ تَتَّخِذُوْنَ اَيْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَيْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِىَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ ۭ اِنَّمَا يَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖ ۭ وَلَيُبَيِّنَنَّ لَكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ مَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ۔
انکاث نکث کی جمع ہے جس کے معنی ادھیڑی ہوئی رسی یا تار تار کیے کپڑے یا سوت کے ہیں۔ دخل کے معنی مکروفریب اور فساد کے ہیںَ
یہود کی مفسدانہ سرگرمیوں کی طرف اشارہ : ان یہود ہی کو مخاطب کرکے فرمایا کہ اس عورت کے مانند نہ بنا جاؤ جو اپنا کا تا ہوا سوت، اس کو اچھی طرح کاتنے اور مضبوط کرنے کے بعد، خود اپنے ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
92۔ 1 یعنی مؤکد بہ حلف عہد کو توڑ دینا ایسا ہی ہے جیسے کوئی عورت سوت کاتنے کے بعد اسے خود ہی ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے۔ یہ تمثیل ہے۔
92۔ 2 یعنی دھوکہ اور فریب دینے کا ذریعہ بناؤ۔
92۔ 3 جب تم دیکھو کہ اب تم زیادہ ہوگئے ہو تو اپنے گمان سے حلف توڑ دو ، جب کہ قسم اور معاہدے کے وقت وہ گروہ کمزور تھا، لیکن کمزوری کے باوجود وہ مطمئن تھا کہ معاہدے کی وجہ سے ہمیں نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ لیکن تم عذر اور نقص عہد کر کے نقصان پہنچاؤ۔ زمانہء جایلیت میں اخلاقی پستی کی وجہ سے اس قسم کی عہد شکنی عام تھی، مسلمانوں کو اس اخلاقی پستی سے روکا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
39: روایات میں ہے کہ مکہ مکرمہ میں ایک دیوانی عورت تھی جسے خرقاء کہتے تھے۔ وہ بڑی محنت سے دن بھر سوت کا تتی تھی، اور شام کو اسے ادھیڑ ڈالتی تھی۔ یہ عورت اس معاملے میں ایک ضرب المثل بن گئی تھی۔ جب کوئی شخص اچھا خاصا کام کر کے خود ہی اسے بگاڑ دے تو اسے اس عورت سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ یہاں یہ تشبیہ ان لوگوں کے لیے استعمال کی گئی ہے جو زور و شور سے کسی بات کی قسم کھا کر اسے توڑ ڈالیں
40: جھوٹی قسم کھانے یا قسم کو توڑنے کا مقصد عام طور پر کوئی نہ کوئی دنیا کا فائدہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا گیا ہے کہ اس معمولی سے فائدے کی خاطر ایسے گناہ کا ارتکاب نہ کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
قرآن کہتا ہے :
ولا تکونوا کالتی نقضت غزلھا من بعد قوۃ انکاثا تتخذون ایمانکم دخلا بینکم ان تکون امۃ ھی اربی من امۃ انما یبلوکم اللہ بہ ولیبینن لکم یوم القیمۃ ما کنتم فیہ تختلفون (61 : 19) ” تمہاری حالت اس عورت کی سی نہ ہوجائے جس نے آپ ہی محنت سے سوت کاتا اور پھر آپ ہی اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ تم اپنی قسموں کو آپس کے معاملات میں مکرو فریب کا ہتھیار بناتے ہوتا کہ ایک قوم دوسری قوم سے بڑھ کر فائدے حاصل کرے۔ حالانکہ اللہ اس عہد و پیمان کے ذریعہ سے تم کو آزمائش میں ڈالتا ہے ، اور ضرور وہ قیامت کے روز تمہارے تمام اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا “۔
جو شخص عہد توڑتا ہے وہ اس بیوقوف عورت کی طرح ہے…
Read the full tafseer →4 یعنی عہد باندھ کر توڑ ڈالنا ایسی حماقت ہے جسے کوئی عورت دن بھر سوت کا تے، پھر کتا کتایا سوت شام کے وقت توڑ کر پارہ پارہ کر دے۔ چناچہ مکہ میں ایک دیوانی عورت ایسا ہی کیا کرتی تھی، مطلب یہ ہے کہ معاہدات کو محض کچے دھاگے کی طرح سمجھ لینا کہ جب چاہا کاتا اور جب چاہا انگلیوں کی ادنیٰ حرکت سے بےتکلف توڑ ڈالا سخت ناعاقبت اندیشی اور دیوانگی ہے۔ بات کا اعتبار نہ رہے تو دنیا کا نظام مختل ہوجائے۔ قول وقرار کی پابندی ہی سے عدل کی ترازو سیدھی رہ سکتی ہے۔ جو قومیں قانون عدل و انصاف سے ہٹ کر محض اغراض و خواہشات کی پوجا کرنے لگتی ہیں، ان کے یہاں معاہدات صرف توڑنے کے لیے رہ جاتے ہیں جہاں معاہد قوم کو اپنے…
Read the full tafseer →آیت 92 وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِيْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا
دیکھو تم تو ایک مدت سے نبی آخر الزماں کے منتظر چلے آ رہے تھے اور اہل عرب کو اس حوالے سے دھمکایا بھی کرتے تھے کہ نبی آخر الزمان آنے والے ہیں جب وہ تشریف لے آئے تو ہم ان کے ساتھ مل کر تم لوگوں پر غالب آجائیں گے۔ اب جب کہ وہ نبی آگئے ہیں تو تم لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ تم ان کو جھٹلانے کے لیے بہانے ڈھونڈ رہے ہو ! تو کیا اب تم لوگ اپنے منصوبوں اور افکار و نظریات کے تانے بانے خود اپنے ہی ہاتھوں تار تار کردینے پر تل گئے ہو ؟ کیا اس دیوانی عورت کی طرح تمہاری بھی مت ماری گئی ہے جو بڑی محنت اور مشقت کے ساتھ کا تے…
Read the full tafseer →95 معاہدوں کو توڑنے کی ممانعت :۔ مکہ میں ایک دیوانی عورت رہتی تھی جس کا نام خرقاء (توڑ پھوڑ دینے والی) پڑگیا تھا۔ دن بھر سوت کا تتی رہتی پھر اسے توڑ پھوڑ کر پھینک دیتی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ تفسیر سورة نحل) اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ تم اپنے باہمی معاہدات کو کچے دھاگے کی طرح نہ سمجھو کہ جب چاہا اپنا معاہدہ توڑ دیا اور اس عورت کی طرح دیوانے نہ بنو۔ عرب کے کافر قبیلوں کا یہ حال تھا کہ ایک قبیلے سے دوستی کا عہد کرتے اور قسمیں کھاتے۔ پھر دوسرے قبیلے کو اس سے زبردست پا کر پہلا عہد توڑ ڈالتے اور اس قبیلے سے عہد کرلیتے اور بعض قبیلوں نے مسلمانوں سے بھی ایسا ہی معاملہ کیا۔…
Read the full tafseer →145۔ (کہ کہیں تم بھی اس کی طرح اپنی قسموں کو، ان کی پختگی کے بعدتوڑ ڈالنے لگو) روایتوں میں آتا ہے کہ مکہ میں ایک دیوانی عورت تھی۔ دن بھر مشقت سے سوت کا تتی، اور پھر بیدردی سے اپنے ہاتھ سے تکا بوٹی کر ڈالتی، اولین مخاطبین قرآن اس سے خوب واقف تھے۔ اس کی مثال دے کر فرمایا ہے کہ کہیں تم اپنا حال اس کا سانہ کرلینا۔
146۔ (کثرت یا ثروت میں یا اور کسی اعتبار سے) (آیت) ” اربی “ کے معنی ہیں، کہ عدد یا مال میں بڑھ جائے۔ ھی ازید عددا واوفر مالا (کشاف) وھذہ الزیادۃ قد تکون فی العدد وفی القوۃ وفی الشرف (کبیر) یعنی مثلا کافروں کے دو گروہوں میں باہم مخالفت ہوئی، اور تمہاری ایک فریق سے صلح ہے۔ لیکن تم نے پلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–100
آیت نمبر 90 تا 100
ترجمہ : بلا شبہ اللہ تعالیٰ عدل (یعنی) توحید یا انصاف اور احسان (یعنی) اداء فرائض کا یا (اس طرح) عبادت کرنے کا گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے، جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے، اور قرابتداروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا اہتمام کرنے کی وجہ سے خاص طور پر قرابتداروں کا ذکر کیا ہے حالانکہ احسان کے عموم میں وہ بھی داخل ہیں حکم دیتا ہے اور (اللہ) فحش یعنی زنا اور شرعًا منکرات سے مثلاً کفر و معاصی، اور لوگوں پر ظلم کرنے سے منع کرتا ہے (ممانعت ظلم کو اہتمام کی وجہ سے خاص طور پر ذکر کیا ہے ورنہ تو نھی عن الفحش میں ظلم بھی داخل ہے) امرو نہی کی تم کو نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو، (تذکرون) میں…
Read the full tafseer →ولا تکونوا کالتی نقضت غزلھا من بعد قوت انکاثا اور تم (مکہ کی) اس (بیوقوف) عورت کی طرح نہ ہوجاؤ جس نے اپنا سوت کاتنے کے بعد ریزہ ریزہ کر کے نوچ ڈالا۔
غَزْل بٹنا ‘ کاتنا ‘ مضبوط کرنا۔ انکاث ‘ نِکُث کی جمع ہے ‘ ریزہ ریزہ ‘ سارے بل کھلے ہوئے۔
ابن ابی حاتم نے ابوبکر بن ابی حفص کا بیان نقل کیا ہے کہ (مکہ کی ایک عورت) سعیدہ اسدیہ پاگل تھی۔ بال اور کھجور کی چھال کے ریشے جمع کرتی تھی۔ اسی کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔ بغوی نے لکھا ہے کہ کلبی اور مقاتل نے کہا کہ ربطہ بنت عمر بن سعد بن کعب بن زید بن مناۃ بن تمیم ایک الھڑ ‘ بیوقوف عورت تھی۔ اس کا لقب جعر تھا۔ اس کے دماغ میں کچھ خرابی تھی۔ اس نے ایک چرخہ…
Read the full tafseer →(92) اور تم عہد شکنی کرکے رائطہ نامی دیوانی عورت کی طرح مت بنو کہ جس نے اپنا سوت کاتنے کے بعد پھر ٹکڑے ٹکڑے کرڈالا کہ تم بھی اپنے وعدوں کو مکرو فریب اور فساد کا ذریعہ بنانے لگو، محض اس وجہ سے کہ ایک جماعت دوسری جماعت سے زیادہ ہوجائے پس اس زیادہ ہونے سے یا اس نقص عہد سے اللہ تعالیٰ تمہاری آزمائش کرتا ہے اور دین میں جو کچھ اختلاف کرتے ہو، اس کی حقیقت قیامت کے دن تمہارے اوپر ظاہر کر دے گا۔
شان نزول : (آیت) ”۔ ولا تکونوا کالتی نقضت (الخ)
ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ابوبکر بن ابی حفص سے روایت کیا ہے کہ سعیدیہ اسدیہ دیوانی ایک عورت تھی، جو بالوں کو اور سوت کو جمع کرتی اور کات کر پھر توڑ…
Read the full tafseer →وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِيْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا۔۔ : ”غَزْلٌ“ مصدر بمعنی مفعول ہے، فعل ”غَزَلَ یَغْزِلُ“ (ض) آتا ہے، روئی یا اون کا سوت (دھاگا) بنانا۔ ”اَنْكَاثًا“ ”نِکْثٌ“ (نون کے کسرہ کے ساتھ) کی جمع ہے، ٹکڑے۔
3 یہ ایک تشبیہ ہے جو قسموں کو پختہ کرنے کے بعد ان کو توڑنے والوں کے لیے بیان کی گئی ہے، ضروری نہیں کہ ایسی عورت کہیں پائی بھی گئی ہو، جو عورت بھی ایسا کرے گی اسے یہی کہا جائے گا کہ یہ کتنی احمق ہے۔ اسی طرح قسمیں توڑنے والوں کا حال بھی اس عورت کا سا ہے، اگرچہ ابن جریر اور ابن ابی حاتم کی بعض روایات میں ہے کہ مکہ میں ایک پاگل عورت تھی جو سوت کا تتی تھی اور…
Read the full tafseer →آیت نمبر 92
قولہ تعالیٰ : ولا تکونوا کالتی نقضت غزلھا من بعد قوۃ انکاثا، النقض اور النکث (توڑنا) دونوں کا ایک ہی معنی ہے، اور اسم النکث اور النقض ہے، اور جمع الأنکاث ہے۔ پس اس آیت نے اس آدمی کو جو حلف اٹھاتا ہے، معاہدہ کرتا ہے، اور وہ اپنے عہد کو خوب پختہ کرتا ہے اور پھر اسے توڑ دیتا ہے اسے اس عورت کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو اپنا سوت کا تتی ہے اور اسے مضبوط بٹتی ہے اور پھر اسے کھول دیتی ہے، پارہ پارہ کردیتی ہے۔ اور روایت کی جاتی ہے کہ مکہ میں رہنے والی ایک بیوقوف عورت تھی، اس کا نام ریطہ بنت عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ تھا وہ اس طرح کرتی تھی، پس اس کے ساتھ یہ تشبیہ واقع ہوئی ہے، یہ فراء نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–96
1:۔ ابن ابی حاتم نے ا بوبکر بن حفص ؓ سے روایت کیا کہ سعیدہ الاسد یہ ایک مجنونہ عورت تھی بال اور پتے جمع کرتی تھی (اور ان کو کات کر پھر ریزہ ریزہ کردیتی تھی) تو یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” ولا تکونوا کالتی نقضت غزلھا “ (الآیہ ) ۔
2:۔ ابن مردویہ نے عطاء بن ابی رباح کے طریق سے عطاء بن ابی رباح (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو ابن عباس ؓ نے فرمایا اے عطا کیا میں تجھ کو جنت والوں میں سے ایک عورت نہ دکھاوں (پھر) انہوں نے مجھ کو ایک حبشی زرد رنگ کی عورت دکھائی اور فرمایا یہ عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی مجھے جنون کی بیماری ہے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھ کو عافیت دے رسول اللہ ﷺ نے اس سے…
Read the full tafseer →[وَلَا تَكُوْنُوْا : اور تم لوگ مت ہونا ] [ كَالَّتِيْ : اس عورت کی مانند جس نے ] [ نَقَضَتْ : توڑا ] [ غَزْلَهَا : اپنے کا تے ہوئے سوت کو ] [ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ : قوت دئے جانے کے بعد ] [ انكَاثًا ۭ: ریزے ریزے ] [ تَتَّخِذُوْنَ : تم لوگ بناتے ہو ] [ اَيْمَانكُمْ : اپنی قسموں کو ] [ دَخَلًۢا : باعث فساد ] [ بَيْنَكُمْ : اپنے مابین ] [ ان : تاکہ ] [ تَكُوْنَ : ہوجائے ] [ اُمَّةٌ: ایک گروہ ] [ هِىَ : (کہ) وہ ہی ] [ اَرْبٰى: زیادہ بڑھنے والا ہو ] [ مِنْ اُمَّةٍ ۭ: دوسرے گروہ سے ] [ انمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ يَبْلُوْكُمُ : آزماتا ہے تم کو ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ بِهٖ ۭ: اس سے ] [ وَ :…
Read the full tafseer →(وَ لَا تَکُوْنُوْا کَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَھَا مِنْ بَعْدِ قُوَّۃٍ اَنْکَاثًا) (اور اس عورت کی طرح نہ ہوجاؤ جس نے اپنے کا تے ہوئے کو محنت کرنے کے بعد ذرا ذرا کرکے توڑ ڈالا) اس جملہ میں یہ بتایا ہے کہ تم عہد توڑ کر ایسی عورت کی طرح مت بن جاؤ جس نے سوت کاتا پھر اس کو مضبوطی کے ساتھ بٹا اور پھر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے پھینک دیے پہلے تو سوت کے کاتنے میں محنت کی پھر بٹنے میں محنت کی پھر جو کیا دھرا تھا اس کے ٹکڑے کرکے ڈال دئیے اگر کسی عورت کا یہ حال تمہیں معلوم ہو تو اسے بیوقوف اور احمق بتاؤ گے لہٰذا تم عہد کرکے اس عہد کو توڑنے کی حرکت نہ کرو ورنہ تم بھی حماقت کرنے والوں میں شمار ہوجاؤ گے، بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–100
تلقین مکارم اخلاق محاسن اعمال و آداب
قال اللہ تعالیٰ : ان اللہ یامر بالعدل والاحسان .... الیٰ .... والذین ہم بہ مشرکون۔
(ربط) گزشتہ آیت میں یہ بتلایا تھا کہ یہ قرآن پر شے کا بیان ہے اور وہ ایک جامع کتاب ہے اور ہدایت اور رحمت ہے اور اہل ایمان کے لیے بشارت ہے اب ان آیات میں بتلاتے ہیں کہ یہ قرآن جو اللہ نے آپ ﷺ پر نازل کیا ہے وہ تمام مکارم اخلاق اور محاسن آداب اور اعمال خیر کا حکم دیتا ہے اور تمام برائیوں اور بد اخلاقیوں اور بد اعمالیوں سے منع کرتا ہے اور قوت غضبیہ اور قوت شہویہ کی اصلاح کرتا ہے کہ نہ کوئی فحش بات زبان سے نکالو اور نہ کسی پر ظلم کرو اور نہ قسم کھا کر توڑو اور نہ خدا سے بدعہدی…
Read the full tafseer →75:۔ یہ عہد تورنے والوں کے لیے تمچیل ہے۔ کہتے ہیں مکہ مکرمہ میں ایک عورت تھی جس کے دماغ میں خلل تھا وہ سوت کا تتی تھی مگر کاتنے کے بعد سوت کو نوچ ڈالتی (ابن کثیر) فرمایا عہد کو توڑنا بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ وہ کم عقل عورت سوت کات کر توڑ دیتی تھی۔ ” انکاثا “ ٹکڑے ٹکڑے۔ یہ ” غزلھا “ سے حال ہے۔ ” تتخذون، لا تکوانوا “ کے فاعل سے حال ہے۔ ” دخلاً “ سے مراد غدر و خیانت ہے اور یہ ” تتخذون “ کا مفعول ثانی ہے (روح) ان تکون ای بسبب ان تکون (مدارک) امۃ اول سے جماعت مشرکین اور امۃ ثانی سے جماعت مومنین مراد ہے اوبی تعداد اور مال و دولت میں زیادہ، ازید عددا واوفر مالا (مدارک ج 2 ص 230) ۔ یعنی مشرکین کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–95
(ربط آیات)
گذشتہ سے پیوستہ درس میں قرآن کریم کی جامعیت کا ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کو (آیت) ” تبیانا لکل شیئ “ بنایا ہے یعنی اس کتاب میں بنیادی طور پر ہر چیز کی وضاحت موجود ہے ، اس کے بعد گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے جامع ترین آیت (آیت) ” ان اللہ یامر بالعدل والاحسان “۔ میں تین مثبت اور تین منفی اشیاء کا ذکر فرمایا یعنی تین کام کرنے کا حکم دیا اور تین سے منع فرما دیا ، کرنے والے امور میں عدل واحان اور قرابت داروں کے حقوق کی ادائیگی ہے اور روکنے والے کام بےحیائی ، برائی اور سرکشی ہیں ، یہ آیت کریمہ قرآن کے تبیان کی بہترین مثال ہے کہ کوئی اچھی یابری چیز ایسی نہیں جو ان چھ باتوں سے…
Read the full tafseer →وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِيْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا ۭ تَتَّخِذُوْنَ اَيْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَيْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِىَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ ۭ اِنَّمَا يَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖ ۭ وَلَيُبَيِّنَنَّ لَكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ مَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ 92
غزل
قال تعالی: وَلا تَكُونُوا كَالَّتِي نَقَضَتْ غَزْلَها[ النحل/ 92] ، وقد غَزَلَتْ غَزْلَهَا .
والْغَزَالُ : ولد الظّبية، والْغَزَالَةُ : قرصة الشمس، وكني بالغَزْلِ والْمُغَازَلَةِ عن مشافنة «3» المرأة التي كأنها غَزَالٌ ، وغَزِلَ الکلب غَزَلًا : إذا أدرک الْغَزَالَ فلهي عنه بعد إدراکه .
( غ زل )…
Read the full tafseer →ترکیب : انکاثا جمع نکث بمعنی المنکوث ای المنقوص شکستہ مفعول ثانی ہے کیونکہ نقضت بمعنی صیرت اور حال بھی ہوسکتا ہے۔ غزلہا
سے تتخذون جملہ حال ہے ضمیر تکونوا سے ان تکون ای مخافۃ ان تکون۔ امۃ اسم کانھی اربی جملہ خبرکان۔
Read the full tafseer →وَلاَ تَکُوْنُوْا کَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَھَا مِنْ م بَعْدِقُوَّۃٍ اَنْکَاثًا ط تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَکُمْ دَخَلاً م بَیْنَکُمْ اَنْ تَکُوْنَ اُمَّۃٌ ہِیَ اَرْبٰی مِنْ اُمَّۃٍ ط اِنَّمَا یَبْلُوْکُمُ اللّٰہُ بِہٖ ط وَلَیُبَیِّنَنَّ لَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ مَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ ۔ (سورۃ النحل : 92)
(اس عورت کی طرح نہ ہوجاؤ جس نے توڑ ڈالا اپنے سوت کو مضبوط کاتنے کے بعد اور تارتار کر ڈالا، تم اپنی قسموں کو ایک دوسرے کو فریب دینے کا ذریعہ بناتے ہو تاکہ اس طرح ہوجائے ایک گروہ زیادہ فائدہ اٹھانے والا دوسرے گروہ سے، اللہ تعالیٰ تمہیں ان قسموں کے ذریعے آزماتا ہے اور وہ قیامت کے دن تم…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ عہد کو توڑنا اور قسم کا احترام نہ کرنا اپنے اچھے کردار کی نفی کرتا ہے۔
انسان کتنا ہی صاحب کردار اور باوقار کیوں نہ ہو جب دوسرے سے کیے ہوئے عہد کو توڑتا ہے اور اپنی قسم کا خیال نہیں رکھتا تو ایساشخص اس حد تک لوگوں کی نظروں میں گر جاتا ہے کہ لوگ نہ صرف اس کے صالح کردار کی نفی کرتے ہیں بلکہ اس کی نماز روزہ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ لوگوں کو ایسے شخص سے اس قدر نفرت ہوجاتی ہے کہ اس کا نام سنتے ہی لوگ اسے بےایمان کہتے ہیں۔ ایسا شخص قسم کی بےحرمتی اور عہد شکنی کی وجہ سے اپنے ماضی کے اچھے کردار کی نفی کر بیٹھتا ہے۔ اس شخص کی مکہ کی اس عورت (یہ کوئی خاص…
Read the full tafseer →عہد کو کچے دھاگے کی طرح مت خیال کرو :
92: وَلَاتَکُوْنُوْا (اور مت بنو) قسم توڑنے میں کَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَھَا مِنْ 0 بَعْدِ قُوَّۃٍ اَنْکَاثًا۔ اس عورت کی طرح جس نے اپنے دھاگے کو مضبوط کرنے کے بعد توڑ دیا) اس عورت کی طرح جس نے کاٹ دیا اپنے دھاگے کو مضبوط اور پختہ کرنے کے بعد اور اسکو ٹکڑے ٹکرے کردیا۔ اَنْکَاثًا جمع نکث۔ جس کے بٹ کو اتار دیا جائے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس کا نام ریطہ تھا اور یہ احمق عورت تھی وہ اور اس کی لونڈیاں صبح سے ظہر تک سوت کا تتیں پھر وہ ان کو جتنا کا تا ہوتا ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا حکم دیتی۔ تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَکُمْ دَخَلًا (تم بھی اپنی قسموں کو آپس میں فساد ڈالنے کا…
Read the full tafseer →(92)” ولا تکونوا کالتی نقضت غزلھا من بعد قوۃ “ اس کے بیٹھنے اور مضبوط کرنے کے بعد کلبی اور مقاتل رحمہما اللہ کا بیان ہے کہ یہ ایک عورت خرقائ ( توڑنے والی) تھی جو احمق اور بیوقوف تھی اور اس کا تعلق قریش سے تھا، اس کا نام ربطہ بنت عمرو بن سعد بن کعب بن زید بن مناۃ بن تمیم ہے۔ اس کا لقب جعر تھا۔ اس کے دماغ میں کچھ خرابی تھی اس نے ایک چرخہ ہاتھ بھر کا اور اس میں ایک میخ انگل بھر کی اور دمر کہ بہت بڑا بنا رکھا تھا وہ اون روائیں اور بالوں کی کتائی کرتی تھی اور اپنی باندیوں سے بھی کتواتی تھی، سب مل کر دوپہر تک کا تتی تھیں، دوپہر کو وہ سب کاتا ہوا دھاگہ کھول ڈالتی تھی۔ یہی اس کا روزانہ کا معمول تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
91۔ 92۔ اوپر کی آیت میں جن احکام کا ذکر تھا اس میں سے ایفائے عہد کو اللہ جل شانہ نے خاص طور پر علیحدہ بیان فرمایا اور یہ عہد علم ہے خواہ بیعت کا عہد ہو خواہ کوئی اور عہد ہو غرض انسان رات دن اپنے معاملات دینی یا دنیاوی جو قول وقرار کیا کرتا ہے اس کے خلاف کرنے کو منع فرمایا کہ جب تم کسی بات کا عہد کرو تو اس کو پورا کرو اور اگر کسی بات پر قسم کھاؤ تو اس کو توڑو نہیں اور خاص کر اس صورت میں جب کئی بار قسمیں کھائی ہوں کیونکہ تاکیدی قسم کے توڑنے کا گناہ معمولی قسم کے توڑنے سے بڑھ کر ہے۔ صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس نے کسی بات پر قسم کھائی اور پھر دوسری بات کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
آیت : (91-92)
یہ آیت کریمہ ان تمام عہدوں کو شامل ہے جو بندے نے اپنے رب کے ساتھ کئے ہیں ‘ مثلاً عبادات ‘ نذریں اور قسمیں وغیرہ جن کو بندے نے اپنے آپ پر لازم کیا ہو جبکہ وہ صحیح اور جائز ہوں اور یہ اس معاہدے کو بھی شامل ہے جو دو بندوں کے درمیان ہو ‘ مثلاً لین دین کرنے والے دو اشخاص کے درمیان معاہدہ اور وہ وعدہ جو بندہ کسی اور کے ساتھ کرتا ہے اور اپنے آُ پر اس کو لازم قرار دے لیتا ہے۔ ان تمام صورتوں میں قدرت رکھتے ہوئے معاہدوں اور وعدوں کو پورا کرنا واجب ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے عہد توڑنے سے روکا ہے ‘ چناچہ فرمایا : (ولا تنقضوا الایمان بعد توکیدھا) ” اور جب پکی قسمیں کھاؤ تو ان کو مت توڑو۔ “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–97
قول باری ہے (ولا تکونوا کالتی نقضت غزلھا من بعد قو ۃ انکاتاً تمہاری حالت اس عورت کی سی نہ ہوجائے جس نے آپ ہی محنت سے سوت کاتا اور پھر آپ ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا) آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو جو تقرب الٰہی کی نیت سے اپنے اوپر کوئی نیکی اور عبادت لازم کرلے اور پھر اسے فسخ کر کے پورا نہ کرے اس عورت کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو اون یا کسی قسم کی کوئی اور شے کات کر دھاگا بنائے اور پھر اسے اچھی طرح کات لینے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کو ڈالے۔ قول باری (من بعد قوۃ) کا یہی مفہوم ہے اس لئے کہ عرب کے لوگ مضبوطی کے ساتھ سوت یا اون کاتنے کا نام دیتے ہیں۔ اس لئے جو شخص اپنے اوپر کوئی چیز لازم کرے یا کوئی عبادت واجب…
Read the full tafseer →202۔ اپنے کیے پر پانی نہیں پھیرنا :۔
سو ارشاد فرمایا گیا ” اور تم لوگ اپنے کیے کرائے کو خود اپنے ہاتھوں برباد نہیں کرنا “ بعض حضرات مفسرین کا کہنا ہے مکہ مکرمہ میں ایک ایسی عورت تھی جو کہ دن بھر سوت کا تتی رہتی اور اپنی لڑکیوں سے کتواتی۔ مگر شام کو وہ اس سب کو خود توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیتی۔ اور اس طرح اپنی محنت کو اپنے ہاتھوں خود ضائع کردیتی۔ اور لوگ اس کو کہتے ” ما احمق ھذہ “ کس قدر بیوقوف عورت ہے یہ ؟ “ سو اس بناء پر یہ ایک ایسی ضرب المثال ہوگی جو کہ ہر اس شخص اور ایسے موقع پر چسپاں ہوتی ہے جہاں کوئی اپنے کئے کرائے کو اپنے ہاتھوں خود ضائع کردے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →اعمال حسنہ اور برے اعمال کی پہچان
تشریح : ان تمام احکامات کا ذکر بڑی تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے۔ مختصراً عرض ہے کہ یہاں تین باتوں کا حکم دیا گیا ہے یعنی عدل، احسان اور قرابت داروں پر خرچ کرنا اور تین باتوں سے منع کیا گیا ہے یعنی فحش کلامی، ہر برا کام اور ظلم وستم۔
ان میں جن اعمال کو بجا لانے اور جن سے روکا گیا ہے یہ احکامات اصل میں انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے بہترین نسخہ ہیں۔ جو دنیا و آخرت کی بھلائیاں کامیابیاں اور خوشیاں حاصل کرنے کی پکی سند ہیں۔
پھر ایفائے عہد، یعنی وعدے کو پورا کرنا ایک مسلمان کی شان ہے کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے اپنے کیے گئے وعدہ کو نبھانا فرض ہے۔ پھر قسموں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–100
(رکوع نمبر 13)
اسرارومعارف
پھر کتاب اللہ جل جلالہ کی تعلیمات کی خوبی اور کمال دیکھئے کہ ذرا بھی عقل سلیم نصیب ہو ایسی تعلیمات کا انکار نہیں کیا جاسکتا ، یہاں ایک آیہ مبارکہ میں قرآنی تعلیمات کا سارا خلاصہ اور حاصل ارشاد فرما دیا گیا ۔
(عدل)
کہ اللہ جل جلالہ تین باتوں کے کرنے کا حکم دیتے ہیں ، عدل ، احسان اور (آیت) ” ایتای ذالقربی “ برابر کرنے کے معنوں میں آتا ہے ، اسی لیے جھگڑے میں فیصلے کو عدل کہا جاتا ہے یعنی افراط وتفریط سے بچ کر اعتدال کا حسین راستہ ، یعنی سب سے پہلے بندہ اپنے اور اپنے رب کے درمیان عدل کرے کہ اللہ جل جلالہ کی رضا کو خواہشات نفس پر مقدم رکھے اور اس کے احکام کی تعمیل میں…
Read the full tafseer →ف 9 یہ ایک تشبیہ ہے جو قسموں کو پختہ کرنے کے بعد ان کو توڑنے والوں کے لئے بیان کی گی ہے۔ ضرویر نہیں کہ ایسی عورت کہیں پائی بھی گئی ہو اگر یہ ان جرتیر اور ابن ابی حاتم کی بعض روایات میں ہے کہ مکہ میں ایک پاگل عورت تھی و نبوت کا تتی اور پھر سے خوب بٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتی۔ حضرت ابن عباس اور مجاہد کہتے ہیں کہ اس آیت میں قسمیں توڑنے والوں کو اس عورت سے تشبیہ دی گی ہے واللہ اعلم فیضا القربی)
10 یعنی کسی گروہ سے اس لئے بدعہدی نہ کرو جب تم نے عہد ……موجود تھے اور یہ سمجھو طاقت ور تھا اور اب تم طاقتور ہوگئے ہو اور یہ کمزور ہوگیا ہے یا اب تمہیں اس سے زیادہ طاقتور کوئی دوسرا حلیف مل گیا جیسا کہ اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
(16:92) نقضت غزلھا۔ نقضت۔ ماضی واحد مؤنث غائب اس عورت نے توڑ ڈالا۔ بل کھول دئیے۔
غزلھا۔ مضاف مضاف الیہ۔ غزل کا تا ہوا دھاگہ۔
غزل یغزل (ضرب) غزل (روئی یا اون کا تنا۔ اغزل عورت کا چرخہ کاتنا اور باب سمع سے غزل یغزل وتغزل۔ عورتوں سے محبت جتانا۔ ان کے حسن و جمال کی تعریف کرنا۔ اسی سے غزل عشقیہ کلام ہے۔
الکاثا۔ ٹکڑے ٹکڑے نکث کی جمع جس کے معنی سوت کے اس ٹکڑے کے ہیں جو دوبارہ کاتنے کے لئے توڑا جائے۔
نقضت غزلھا من بعد قوۃ انکاثا۔ اس نے اپنے دھاگے کو مضبوط کاتنے کے بعد توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ انکاتا غزل کا حال ہے۔
مکہ میں ایک بیوقوف قریشی عورت تھی جو صبح سے دوپہر تک یا دن بھر باندیوں کو ساتھ لے کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
لغات القرآن آیت نمبر 90 تا 92
یا مر وہ حکم دیتا ہے۔ العدل انصاف۔ الاحسان نیکی کرنا۔ ایتاء دینا۔ ذی القربی رشتہ دار۔ ینھی وہ روکتا ہے۔ الفحشاء (فحش) بےحیائی۔ المنکر ناشائستہ کام۔ البغی سرکشی۔ یعظ وہ نصیحت کرتا ہے۔ افو وا پورا کرو۔ عھدتم تم نے وعدہ کیا، عہد کیا۔ لاتنقضوا تم نہ تو ڈرو۔ الایمان قسمیں۔ تو کیں۔ پکا کرنا۔ کفیل ذمہ دار۔ نقضت جس نے توڑا۔ غزل کا تا ہوا سوت۔ انکات ٹکڑے ٹکڑے۔ دخلابینکم آس میں مداخلت کا بہانہ کرنا۔ امۃ ایک جماعت۔ اربی زیادہ بڑھا ہوا۔ یبلو وہ آزماتا ہے۔
تشریح : آیت نمبر 90 تا 92
گزشتہ آیات میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے اپنے رسول حضرت مصطفیٰ ﷺ پر جس قرآن کریم کو نازل فرمایا…
Read the full tafseer →اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ تم اس عورت جیسے نہ بن جاؤ جو سوت کتوا کر پکا ہوجانے کے بعد پھر الٹا چرخا پھروا کر تانے نے بل کھلوا ڈالتی تھی۔ اس فعل سے اس واسطے تشبیہ دی کہ عہد کا باندھ کر توڑ ڈالنا اس عورت کی حماقت کے موافق ہے۔ تم عہد شکنی کر کے یہ چاہتے ہو کہ خیانت کر کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ سے مال میں فوقیت دلا دو ۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری آزمائش کرتا ہے تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجاوے کہ کون وفا دار ہے اور کون بےوفا، یعنی کون خدا کے عہد کا یعنی رسول مقبول ﷺ کی بیعت کا لحاظ رکھتا ہے اور کون نہیں رکھتا۔ اور قیامت کے دن بد عہدی کے گناہ تمہیں جتلائے جائیں گے اور حق وناحق علیحدہ علیحدہ کردیا…
Read the full tafseer →[59] مکہ میں ایک دیوانی عورت تھی۔ دن بھر مشقت سے سوت کا تتی اور پھر اپنے ہاتھوں سے اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتی۔ اولین مخاطب قرآن اس سے خوب واقف تھے۔ اس کی مثال دے کر فرمایا کہ کہیں تم اپنا حال اس کا سا نہ کرلینا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
(ف 1) ان آیات میں وفاء عہد کی تلقین کی ہے اور بتایا ہے کہ تمہیں عہد ومعاہدہ کے معاملہ میں اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرنا چاہئے ، ایسا نہ ہو کہ مضبوط عہد کرنے کے بعد محض اس لئے کہ تم طاقتور حلیف کا ساتھ دو ، عہد توڑ دو ، کیونکہ تمہاری مثال پھر اس دیوانی کی سی ہوگی ، جو سوت کات کر تاگا تاگا کر دے ۔
قرآن کی اصطلاح میں عہد وہ التزام ہے جو شرع ، اخلاق یا مجلس کی جانب سے تمہارے اوپر عائد ہوتا ہو ، یا جیسے تم خود اپنے اوپر لازم بنا لو ۔
حل لغات :
انکاثا : (ٹکرے ٹکڑے) جمع نکث بمعنی توڑنا اور کاٹنا
دخلا : عذر کرنا ، عقل و قرائن کا تباہ ہونا ۔
Read the full tafseer →92 ۔ اور تم عہد شکنی کر کے اس دیوانی عورت کے مشابہ مت ہونا جو اپنے کا تے ہوئے سوت کو محنت کرنے اور مضبوط کاتنے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کردیتی تھی اور اپنے کا تے کو توڑ ڈالتی تھی اس عورت کی طرح تم بھی اپنی قسموں کو پختہ کرنے کے بعد محض آپس میں فسا ڈالنے کا ذریعہ بنانے لگو اور قسموں کو توڑنے لگو اور یہ صرف اس لئے کہ ایک جماعت دوسری جماعت سے بڑھی ہوئی ہے اور ایک فرقہ دوسرے فرقہ سے زیادہ ہے سوائے اس کے نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس جماعتی فرق کی وجہ سے تم کو آزماتا اور پرکھتا ہے اور جن چیزوں میں تم اختلاف کرتے رہے ہو قیامت کے دن ان سب کی حقیقت تم پر واضح اور ظاہر کر دے گا ۔ یعنی عام طور سے لوگ باہم عہد و پیمان…
Read the full tafseer →ف 4۔ کیونکہ قسم وعہد توڑنے سے موافقین کو بےاعتباری اور مخالفین کو برانگیختگی پیدا ہوتی ہے اور یہ اصل ہے فساد کی۔
5۔ دیکھیں وفاء عہد کرتے ہو یا جھکتا پلہ دیکھ کر ادھر ڈھل جاتے ہو۔
Read the full tafseer →بدعہدی کی مثال بیان کی جاتی ہے کہ اس پر اچھی طرح غور کرو :
105۔ زیر نظر آیت کے اس حصہ میں بدعہدی کی مثال بیان کی جا رہی ہے کہ وہ کیا ہے ؟ فرمایا اس کی مثال ایسی ہے کہ جس نے بڑی جانفشانی سے سوت کا تا اور پھر خود ہی جھنجھلا کر ٹکڑے ٹکڑے کر کے برباد کردیا یعنی جب ایک شخص یا ایک گروہ کوئی معاہدہ کرتا ہے تو اس کی پختگی کے لئے بڑی بڑی باتیں کرتا ہے اور ہر طرح دوسرے فریق کو یقین دلاتا ہے پھر اگر ایک بات اتنی کوشش کے بعد پختہ کی گئی ہے تو کیونکر جائز ہو سکتا ہے کہ جس نے کل پختہ کی تھی وہ آج اسے اپنے ہاتھوں سے توڑ کر رکھ دے ؟
تاریخ کا طالب علم اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ اسلام سے پہلے عرب کے مشرک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
In verse 92: أَن تَكُونَ أُمَّةٌ هِيَ أَرْبَىٰ مِنْ أُمَّةٍ (merely because a group is higher [ in number and wealth ] than the other), Muslims have been ordered that they should not break the pact they enter into with a group simply for the sake of worldly interests and gains. For example, they may come to think that the group or party with which they have entered into a pact is weak and few in numbers, or lacks financial backing, while the other group or party abounds in numbers and strength, or is wealthy. Now, if they are tempted to join the party having power and wealth in the hope of…
Read the full tafseer →90. In this verse, Allah has enjoined three kinds of covenants which have been mentioned in the order of their importance. The first of these covenants is the one between man and his Allah which is the most important of all. The second in importance is the covenant between one man or one group of men and another man or another group of men, which is taken with Allah as a witness or in which the name of God has been used. The third covenant is that which has been made without using Allah’s name. Though this is third in importance, its fulfillment is as important as that of the first two and…
Read the full tafseer →