16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 16:1

اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:1 in the Quran reader

خدا کا حکم (یعنی عذاب گویا) آ ہی پہنچا تو (کافرو) اس لے لئے جلدی مت کرو۔ یہ لوگ جو (خدا کا) شریک بناتے ہیں وہ اس سے پاک اور بالاتر ہے۔

تفسیر (1)” اتی “ اللہ کا حکم آگیا اور قریب آگیا۔ ” امر اللہ “ ابن عرفہ نے کہا کہ جس چیز کی یقینی توقع ہو عرب اس کے لیے کہتے ہیں وہ چیز ہوگئی یا وہ کام بعد میں متوقع پذیر ہونے والا ہو اس کو ماضی سے تعبیر کرتے ہیں۔ یعنی اللہ کا امر آگیا۔ ” فلا تستعجلوہ “ اس کے وقوع پذیر ہونے میں جلدی نہ کرو۔ ” امر اللہ “ کلبی (رح) کا قول ہے کہ اس سے مراد قیامت ہے۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ” اقتربت الساعۃ “ تو کفار ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ شخص کہتا ہے کہ پچھلی گھڑی قریب آگئی تم اپنے بعض کاموں کو چھوڑ دو تاکہ تم بھی دیکھ لو کہ آخر کیا ہونے والا ہے۔ جب کوئی چیز نازل نہ ہوئی تو کہنے لگے تم جس چیز سے ہم کو ڈرا رہے ہو اس کا تو نام و نشان بھی نہیں پیدا ہوا۔ اس پر آیت ” اقترب للناس حسابھم “ نازل ہوئی۔ یہ آیت سن کر کافر خوفزدہ ہوگئے۔ پھر کچھ مدت تک مزید انتظار کیا لیکن طویل انتظار کے بعد بھی کچھ نہ ہوا تو کہنے لگے محمد (ﷺ) تم ہم کو ڈراتے ہو اور ہوا کچھ بھی نہیں اس وقت ” اتی امر اللہ “ نازل ہوئی۔ اس جملہ کے سننے کے بعد رسول اللہ ﷺ اپنی جگہ سے جلدی کھڑے ہوئے اور لوگوں نے اپنا سر اوپر اٹھا کر دیکھا اور خیال کیا کہ قیامت حقیقت میں آ ہی گئی۔ اس پر ” فلا تستعجلوہ “ نازل ہوا۔ اس وقت لوگوں کو اطمینان ہوا۔ استعجال کسی چیز کو وقت سے پہلے طلب کرنا جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے اور قیامت کو ان دونوں کی طرف بھیجا گیا ہے۔ آپ ﷺ نے دونوں انگلیوں سبابہ اور وسطی سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔ قریب ہے کہ وہ مجھ تک سبقت کرجائے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کی بعثت قیامت کی علامات میں سے ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس جب حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو بھیجا گیا اور اثناء راہ میں آپ آسمان والوں کی طرف سے گزرے تو اہل سماوات نے کہا اللہ اکبر قیامت برپا ہوگئی اور بعض نے کہا کہ امر سے مراد یہاں جھٹلانے والوں کی سزا اور عذاب تلوار کے ذریعے۔ اس کا واقعہ یہ ہوا کہ نضر بن حارث نے کہا تھا کہ اے اللہ ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کردے۔ پس کافروں نے وقت سے پہلے عذاب کی مانگ کی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور نضر کو بدر کے دن قتل کیا گیا۔ ” سبحانہ وتعالیٰ عما یشرکون “ جن اوصاف کے ساتھ یہ مشرکین متصف کرتے ہیں اللہ ان سے پاک ہے۔
Ayah 16:2

یُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اَنْ اَنْذِرُوْۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوْنِ Open ayah 16:2 in the Quran reader

وہی فرشتوں کو پیغام دیکر اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس کے پاس چاہتا ہے بھیجتا ہے۔ کہ (لوگوں کو) بتادو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو مجھی سے ڈرو۔

(2) ینزل الملائکۃ “ عام قراء نے یاء کے ضمہ اور زاء کے کسرہ کے ساتھ ہے۔ ” والملائکۃ “ منصوب ہے۔ یعقوب نے تاء کے فتحہ کے ساتھ اور زاء کے فتحہ کے ساتھ اور والملائ کہ کو رفع کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” بالروح “ اس سے مراد وحی ہے اس کو روح کے ساتھ تعبیر کیا کیونکہ اس سے دل اور حق زندہ ہوتا ہے۔ عطاء (رح) کا قول ہے کہ نبوت مراد ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد رحمت ہے۔ ابو عبیدہ کہتے ہیں روح سے مراد مع الروح ہے اس سے جبرئیل (علیہ السلام) مراد ہیں۔ ” من امرہ علی من یشاء من عبادہ ان انذرو “ تم جان لو۔ ” انہ لا الہ الا انا فاتقون “ اس کا معنی ہے کہ ان کو حکم کرو، اس فرمان ( لا الہ الا اللہ) کے ساتھ اور ڈرائو، خوف دلائو قرآن کے ساتھ۔ اگر وہ ایسا کلمہ نہ پڑھیں تو پھر ان کو ڈرائو۔
Ayah 16:3

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:3 in the Quran reader

اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی برحکمت پیدا کیا اس کی ذات ان (کافروں) کے شرک سے اونچی ہے۔

تفسیر (3)” خلق السموت والارض بالحق تعالیٰ عما یشکرون “ ان کے شرک سے اللہ تعالیٰ بالاتر ہے۔
Ayah 16:4

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:4 in the Quran reader

اسی نے انسان کو نطفے سے بنایا مگر وہ اس (خالق) کے بارے میں علانیہ جھگڑنے لگا۔

(4)” خلق الانسان من نطفۃ فاذا ھو خصیم “ باطل پر جھگڑنے والا۔ ” مبین “ اس آیت کا نزول ابی بن خلف جمحی کے متعلق ہوا کہ یہ بعث بعد الموت کا منکر تھا۔ یہ ایک بوسیدہ ہڈی لے کر آیا اور کہنے لگا کہ کیا آپ یہ کہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو بوسیدہ ہونے کے بعد دوبارہ زندہ کردے گا، اس کے لیے اللہ رب العزت نے ” وضرب لنا مثلاً ونسی خلقہ “ نازل فرمائی۔ صحیح یہ ہے کہ یہ آیت اپنے عموم پر ہے اور اس میں قدرت کا بیان ہے اور جو قبیح فعل کرتے تھے اس کو ظاہر کردیا کہ اللہ نے ان پر جو نعمتیں کی ہیں ان پر انکار کرتے ہیں۔
Ayah 16:5

وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَا١ۚ لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۪ Open ayah 16:5 in the Quran reader

اور چارپایوں کو بھی اسی نے پیدا کیا۔ ان میں تمہارے لئے جڑاول اور بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو کھاتے بھی ہو۔

(5) والانعام خلقھا “ انعام سے مراد ابل، گائے، بکریاں ہیں۔ ” لکم فیھا دف “ جانوروں کے بال، اون کو تم لباس بنا کر پہنتے ہو اور کمبل وغیرہ سردی سے بچاؤ کے لئے استعمال کرتے ہو۔ و منافع اس سے مراد افزائش نسل ، دودھ، باربرداری، سواری کے منافع ہیں ومنھا تاکلون یعنی ان کے گوشت تم کھاتے ہو
Ayah 16:6

وَ لَكُمْ فِیْهَا جَمَالٌ حِیْنَ تُرِیْحُوْنَ وَ حِیْنَ تَسْرَحُوْنَ۪ Open ayah 16:6 in the Quran reader

اور جب شام کو انھیں (جنگل سے) لاتے ہو اور) جب صبح کو (جنگل) چرانے لیجاتے ہو تو ان سے تمہاری عزت وشان ہے۔

6 ولکم فیھاجمال “ اس سے مراد زینت ہے۔ ” حین تریحون “ جب تم اپنے چوپایوں کو شام کے وقت چرا کر لاتے ہو۔ ” وحین تسرحون “ جب تم صبح کے وقت اپنے گھروں سے چراگاہ کی طرف چرانے کے لیے لے جاتے ہو۔ یہاں رواح کو مقدم کیا کیونکہ منافع راحت کے بعد لی جاتی ہیں اور مالک کو اپنا منافع لے کر اس کو سکون حاصل ہوتا ہے۔
Ayah 16:7

وَ تَحْمِلُ اَثْقَالَكُمْ اِلٰى بَلَدٍ لَّمْ تَكُوْنُوْا بٰلِغِیْهِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ١ؕ اِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 16:7 in the Quran reader

اور (دور دراز) شہروں میں جہاں تم زحمت شاقہ کے بغیر پہنچ نہیں سکتے وہ تمہارے بوجھ اٹھا کرلے جاتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ تمہارے پروردگار نہایت شفقت والا مہربان ہے۔

(7)” و تحمل القالکم “ سامان کو لاد کر ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف لے جاتے ہیں۔” الی بلد “ دوسرے شہر لے جاتے ہیں۔ عکرمہ (رح) کہتے ہیں کہ بلد سے مراد مکہ ہے۔ ” لم تکونو ا بالغیہ الابشق الانفس “ بوجھ اٹھانے کی مشقت اور کوشش۔ شق کہتے ہیں کہ کسی چیز کے دو حصے کردینا۔ تم ان تک نہیں پہنچ سکتے مگر نقصان کے ساتھ، جسم کی تکلیف کے ذریعے یا سامان کے نقصان کے ذریعے۔ ابو جعفر کا قول ہے کہ ” بشق “ شین کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ اس میں دو لغتیں ہیں ۔ مثل رطل اور رطل کے ۔ ” ان ربکم لرئوف رحیم “ یہ منافع تمہارے لیے پیدا کیے۔
Ayah 16:8

وَّ الْخَیْلَ وَ الْبِغَالَ وَ الْحَمِیْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَ زِیْنَةً١ؕ وَ یَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:8 in the Quran reader

اور اسی نے گھوڑے اور خچر اور گدھے (پیدا کئے) تاکہ تم ان پر سوار ہو اور (وہ تمہارے لئے) رونق وزینت (بھی ہیں) اور وہ (اور چیزیں بھی) پیدا کرتا ہے جنکی تم کو خبر نہیں۔

(8)” والخیل “ اور گھوڑے کو پیدا کیا۔ اس سے مراد جنس ہے نہ کہ ایک ہی اونٹ۔ جیسے کہ نساء جنس ہے اور اسماء جنس ہے۔” والبغال والحمیر لترکبوھا وزینۃ “ اور ان کو تمہارے لیے زینت بنایا ان منافع کے ساتھ ساتھ۔ گھوڑے اور خچر کے گوش کا حکم اس آیت سے گھوڑے کے گوشت کی حرمت کا استدلال کیا گیا۔ یہ ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ اس پر یہی آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا کہ اس آیت میں سواری کرنے کا حکم دیا نہ کہ کھانے کا۔ یہی قول امام مالک اور امام ابوحنیفہ رحمہما اللہ کا ہے اور ایک جماعت نے گھوڑے کے گوشت کھانے کو مباح قرار دیا۔ یہ قول حسن ، شریح، عطائ، سعید بن جبیر رحمہم اللہ کا ہے اور یہی قول امام شافعی اور اسحاق رحمہما اللہ کا ہے جو حضرات اس کی اباحت کے قائل ہیں ان کے نزدیک آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس کی حلت و حرمت بیان نہیں کی بلکہ اپنے بندوں پر اپنے انعامات کو جتلایا ہے اور اپنے بندوں پر متنبہ کیا ہے اپنی کمال قدرت و حکمت کو۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے خیبر کے دن گدھے کے گوشت کھانے سے منع فرمایا اور گھوڑے کے گوشت کھانے کی رخصت دی۔ عطاء بن ابی الرباح حضرت جابر ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ آپ ﷺ کے زمانے میں گھوڑے کا گوشت کھاتے تھے اور خچر و گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔ حضرت مقدام ؓ سے روایت ہے وہ خالد بن ولید سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے گھوڑے کے گوشت کھانے سے منع فرمایا اور خچر اور گدھے کا گوشت کھانے سے بھی منع فرمایا۔ امام بغوی (رح) فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے ۔” ویخلق مالا تعلمون “ یعنی جنت میں مومنوں کے لیے اور دوزخ میں کافروں کے لیے ایسی ایسی راحتیں اور تکلیفیں پیدا کی ہیں جن کا تمہیں پتہ بھی نہیں نہ کسی آنکھ نے ان کو دیکھا نہ کسی کان نے سنا، نہ کسی شخص کے دل میں اس کا خیال آیا۔ قتادہ (رح) کا قول ہے کہ نباتات میں گھن (ایک قسم کا کیڑا) کا لگنا اور پھلوں میں کیڑوں کا ہونا۔
Ayah 16:9

وَ عَلَى اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِیْلِ وَ مِنْهَا جَآئِرٌ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 16:9 in the Quran reader

اور سیدھا راستہ تو خدا تک جا پہنچتا ہے اور بعض راستے ٹیڑھے ہیں (وہ اس تک نہیں پہنچتے) اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو سیدھا راستے پر چلا دیتا۔

تفسیر (9)” وعلی اللہ قصد السبیل “ گمراہی سے ہدایت کے راستے کی طرف رہنمائی کا بیان ہے۔ بعض نے کہا کہ حق کو بیان کرنا نشانیوں اور دلائل کے ساتھ اور قصد سے مراد صراط مستقیم ہے۔ ” ومنھا جائر “ راہ مستقیم سے یا اللہ کے رخ سے کٹا ہوا۔ ” قصد من السبیل “ سے مراد دین اسلام ہے اور ” جائر “ سے مراد یہودیت و نصرانیت ہے یا تمام مذاہب کفار ہیں۔ جابر بن عبداللہ ؓ کا قول ہے کہ قصد السبیل سے شریعت اور فرائض کا بیان ہے۔ عبداللہ بن مبارک (رح) سہل بن عبداللہ کے نزدیک قصل السبیل سے مراد سنت ہے اور ” ومنھا جائر “ سے مراد خواہشات اور بدعات ہیں۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ” وان ھذا صراطی مستقیماً فاتبعوہ ولا تتبعو السبل “ …” ولو شاء لھداکم اجمعین “ اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا فرمان ” ولو شئنا لا تینا کل نفس ھداھا “ اگر ہم چاہتے تو ہر ایک نفس کو ہدایت دے دیتے۔
Ayah 16:10

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً لَّكُمْ مِّنْهُ شَرَابٌ وَّ مِنْهُ شَجَرٌ فِیْهِ تُسِیْمُوْنَ Open ayah 16:10 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا جسے تم پیتے ہو اور اس سے درخت بھی (شاداب ہوتے ہیں) جن میں تم اپنے چارپایوں کو چراتے ہو۔

(10)” ھو الذی انزل من السماء ماء لکم منہ شراب “ جس سے تم پیتے ہو۔” ومنہ شجر “ اس پانی کے ساتھ تم اپنے درختوں کو پلاتے ہو اور تمہاری کھیتی کا ذریعہ ہیں۔ ” فیہ “ ان درختوں میں ” تسیمون “ اس میں تم اپنے مویشی چراتے ہو۔
Ayah 16:11

یُنْۢبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ النَّخِیْلَ وَ الْاَعْنَابَ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:11 in the Quran reader

اسی پانی سے وہ تمہارے لئے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور اور (اور بیشمار درخت) اگاتا ہے اور ہر طرح کے پھل (پیدا کرتا ہے) غور کرنے والوں کے لئے اس میں (قدرت خدا کی بڑی) نشانی ہے۔

(11)” ینبت لکم “ نازل کردہ پانی سے تمہارے لیے کھیتی وغیرہ پیدا کرتا ہے۔ ابوبکر نے عاصم کے حوالے سے ” ینبت “ نون کے ساتھ پڑا ہے۔ ” الروع والزیتون…تا … لقوم یتفکرون “
Ayah 16:12

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ۙ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ وَ النُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَۙ Open ayah 16:12 in the Quran reader

اور اسی نے تمہارے لئے رات اور دن اور سورج اور چاند کو کام میں لگایا۔ اور اسی کے حکم سے ستارے بھی کام میں لگے ہوئے ہیں۔ سمجھنے والوں کے لئے اس میں (قدرت خدا کی بہت سی) نشانیاں ہیں۔

(12)” وسخر لکم “ تمہارے لیے ان کو مسخر کرلیا۔ ” الیل… تا … مسخرات “ ان تمام اشیاء کو تمہارے تابع کرلیا۔ ” بامرہ “ اس کے حکم سے حفص اور عاصم نے ” والنجوم مسخرات “ کو مرفوع پڑھا ہے مبتدا ہونے کی وجہ سے۔ ” ان فی ذلک لایات لقوم یعقلون “
Ayah 16:13

وَ مَا ذَرَاَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 16:13 in the Quran reader

اور جو طرح طرح کے رنگوں کی چیزیں اس نے زمین میں پیدا کیں (سب تمہارے زیر فرمان کردیں) نصیحت پکڑنے والوں کے لئے اس میں نشانی ہے۔

تفسیر (13)” وما ذرا “ اور تمہارے لیے ان چیزوں کو پیدا کیا۔ ” لکم “ تمہارے لیے ان پیدا کی ہوئی اشیاء کو مسخر کیا ” فی الارض “ خواہ ان پیدا کردہ اشیاء کا تعلق دواب کے ساتھ ہو، درختوں کے ساتھ ہو اور پھلو کے ساتھ ہو وغیرہ۔” مختلفاً “ منصوب ہے حال ہونے کی وجہ سے۔ ” الوانہ ان فی ذلک لایۃ یذکرون “ اس کا اعتبار کرتے ہیں۔
Ayah 16:14

وَ هُوَ الَّذِیْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:14 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے دریا کو تمہارے اختیار میں کیا تاکہ اس میں سے تازہ گوشت کھاؤ۔ اور اس سے زیور (موتی وغیرہ) نکالو جسے تم پہنتے ہو۔ اور تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں دریا میں پانی کو پھاڑتی چلی جاتی ہیں اور اس لئے بھی (دریا کو تمہارے اختیار میں کیا) کہ تم خدا کے فضل سے (معاش) تلاش کرو اور تاکہ (اسکا) شکر کرو۔

(14)” وھو الذی سخر البحر لتاکلو منہ لحماً طریاً “ اس سے مراد مچھلی ہے۔ ” وتستخرجوامنہ حلیۃ تلبسونھا “ حلیۃ سے مراد موتی اور زیور ہے۔ ” وتری الفلک مواخر فیہ “ اس میں کشتیاں چلتی ہیں۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس کا ترجمہ ہے آنے جانے والی۔ ایک جاتی ہے اور دوسری آتی ہے۔ باوجود یہ کہ ہوا کی رفتار ایک ہی ہے۔ حسن (رح) کا قول ہے کہ اس سے مراد بھری ہوئی، فراء اور اخفش کا قول ہے پانی کو اپنے دونوں بازوئوں سے پھاڑنے والیاں۔ مجاہد (رح) کا قول ہے ہوائوں کی رفتار کے سامنے سے کشتیاں آتی ہیں اور ہوائوں کو پھاڑتی ہیں۔ مخراصل میں کہاجاتا ہے پانی کو پھاڑنا یا کشتی کی آواز۔ حدیث میں آتا ہے کہ جب کسی کو پیشاب کرنے کا ارادہ ہو تو ہوا کی طرف پیٹھ کرکے بیٹھے۔ حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ اپنی پیٹھ ہوا کے مقابل کردو تاکہ ہوا پھٹ کر دائیں بائیں سے نکل جائے اور پیشاب بھی تمہارے جسم کی طرف عود کر نہ آئے۔ ابو عبیدہ کا قول ہے کہ تیزا ہوا چلنے کے وقت جو آواز پیدا ہوتی ہے اس کو مخر کہاجاتا ہے۔ ” والتبتغو ا من فضلہ “ اس کے ذریعے اپنا فضل (تجارت) تلاش کرو۔ ” ولعلکم تشکرون “ جب تم دیکھو کہ اللہ کی تمام بنائی ہوئی اشیاء تمہارے لیے مسخر کردی ہیں اس پر تم اللہ کا شکر ادا کرو۔
Ayah 16:15

وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ اَنْهٰرًا وَّ سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 16:15 in the Quran reader

اور اسی نے زمین پر پہاڑ (بناکر) رکھ دیئے کہ تم کو لے کر کہیں جھک نہ جائے اور نہریں اور ستے بنادیئے تاکہ ایک مقام سے دوسرے مقام تک (آسانی سے) جا سکو۔

(15)” والقی فی الارضی رواسی ان تمیدبکم “ تاکہ وہ حرکت نہ کرے اور ایک دوسرے کی طرف مائل نہ ہو۔ مید اضطراب کو کہا جاتا ہے اور اس پر کسی چیز کا نہ ٹھہرنا اور بعض نے کہا کہ اس سے وہ جگہ مراد ہے جہاں کشتیاں آکر رکتی ہیں۔ وہب کا قول ہے جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا تو وہ لرز رہی تھی۔ فرشتے کہنے لگے کہ یہ تو اپنی پشت پر کسی کو قرار نہیں پکڑنے دے گی لیکن جونہی صبح ہوئی تو زمین کے اندر پہاڑ قائم ہوگئے اور فرشتوں کو معلوم بھی نہ ہوا کہ کہاں سے پیدا ہوئے۔ ” وانھاراوسبلاً “ اور اس زمین میں مختلف قسم کی نہریں پیدا کی ہیں اور مختلف قسم کے راستے بنائے ہیں۔ ” لعلکم تھتدون “ تم ان راستوں کے ذریعے ہدایت کا راستہ حاصل کرو گمراہ ہونے سے بچو
Ayah 16:16

وَ عَلٰمٰتٍ١ؕ وَ بِالنَّجْمِ هُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 16:16 in the Quran reader

اور (راستوں میں) نشانات (بنادیئے) اور لوگ ستاروں سے بھی راستے معلوم کرتے ہیں۔

(16) ” و علامات “ ان راستوں پر کچھ نشانیاں بھی بنائی ہیں۔ بعض نے کہا کہ یہاں کلام پورا ہوگیا۔ آگے پھر نئے کلام کی ابتداء کی۔۔ وبالنجم ھم یھتدون کی مختلف تفاسیر ” وبالنجم ھم یھتدون “ محمد بن کعب اور کلبی رحمہما اللہ کا بیان ہے کہ علامات سے مراد پہاڑ ہیں۔ دن کے وقت پہاڑوں سے راستہ معلوم ہوتا ہے اور رات کے وقت ستاروں سے۔ مجاہد (رح) کا قول ہے کہ اس سے مراد تمام ستارے ہیں جن کے ذریعے علامات پہچانی جاتی ہیں اور ان کے ذریعے ہدایت حاصل کی جاتی ہے۔ سدی (رح) کا قول ہے کہ النجم سے مراد ثریا ہے بنات العنش اور دونوں فرقد، جدی ان سے لوگ راہ بھی معلوم کرلیتے ہیں اور جہت قبلہ بھی اور قتادہ کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ستاروں کو تین وجوہ سے پیدا کیا آسمان کی زینت کے لیے، راستے معلوم کرنے کے لیے اور شیطان کو مارنے کے لیے اور جن لوگوں نے کہا کہ ستاروں کو اس کے علاوہ بھی پید ا کیا تو انہوں نے تکلف سے کام لیا اور ان کے پاس اس کا علم بھی نہیں۔
Ayah 16:17

اَفَمَنْ یَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا یَخْلُقُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:17 in the Quran reader

تو جو (اتنی مخلوقات) پیدا کرے کیا وہ ویسا ہے جو کچھ بھی پیدا نہ کرسکے ؟ تو پھر تم غور کیوں نہیں کرتے ؟

(17)” افمن یخلق “ اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کیا۔ ” کمن لا یخلق “ یعنی ان بتوں نے۔ ” افلا تذکرون “
Ayah 16:18

وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:18 in the Quran reader

اور اگر تم خدا کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو گن نہ سکو بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

(18)” وان تعدوانعمۃ اللہ لا تحصوھا ان اللہ لغفور “ تمہارے گناہوں کی پاداش میں، وہ اپنی نعمتوں کو منقطع نہیں کرتا۔ ” رحیم “ تمہارے لیے نعمتوں کو وسیع قرار دی ہیں۔
Ayah 16:19

وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 16:19 in the Quran reader

اور جو کچھ تم چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو سب سے خدا واقف ہے۔

(19) واللہ یعلم ما تسرون وما تعلنون “
Ayah 16:20

وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَؕ Open ayah 16:20 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو یہ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ کوئی چیز بھی تو نہیں بنا سکتے بلکہ خود ان کو اور بناتے ہیں

(20) والذین یدعون من دون اللہ “ جو پکارتے ہیں بتوں کو، عاصم اور یعقوب نے ” یدعون “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔” لا یخلقون شیاء وھم یخلقون “
Ayah 16:21

اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ١ۚ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ١ۙ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ۠ Open ayah 16:21 in the Quran reader

وہ لاشیں ہیں بےجان ان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ اٹھائے کب جائیں گے۔

(21)” اموات “ یہ بت بےجان ہیں۔ ” غیر احیاء وما یشعرون “ یہ بت شعور نہیں رکھتے۔ ” ایان “ کہ قیامت کب آئے گی۔ ” یبعثون “ قرآن اس پر دلالت کرتا ہے کہ قیامت کے دن ان بتوں کو حاضر کیا جائیگا اور ان کو زندگی دی جائے گی، یہ بت ان کے پجاریوں سے برأت کرلیں گے۔ بعض نے کہا کہ کفار کو معلوم نہیں کہ بتوں کو کب اٹھایاجائے گا۔
Ayah 16:22

اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:22 in the Quran reader

تمہارا معبود تو اکیلا خدا ہے تو جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل انکار کر رہے ہیں اور وہ سرکش ہو رہے ہیں۔

(22)” الھکم الہ واحد فالذین لا یومنون بالاخرۃ قلوبھم منکرۃ “ اس کا معنی ہے ” جاحدۃ “ انکار کرنا۔ ” وھم مستکبرون “ اور وہ قبول حق سے تکبر کرتے ہیں۔
Ayah 16:23

لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ Open ayah 16:23 in the Quran reader

یہ جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں خدا ضرور اس کو جانتا ہے۔ وہ سرکشوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔

(23)” لاجرم “ حق بات ہے۔” ان اللہ یعلم ما یسرون وما یعلنون انہ لا یحب المستکبرین “ حضرت عبداللہ ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ فرمایا کہ جنت میں وہ شخص داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں ایک ذرہ برابر تکبر ہوگا اور وہ شخص دوزخ میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہوگا۔ ایک شخص نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! (ﷺ) ہم میں سے بعض لوگ چاہتے ہیں کہ ان کا لباس خوبصورت ہو، اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ جمال والا ہے ، جمال کو پسند کرتا ہے، تکبر حق سے روگردانی اور لوگوں کو حقیر سمجھنے سے ہوتا ہے۔ ( بعض نے کہا کہ حق کے مقابلے میں مغرور ہوجانا اور حق کو حق نہ جاننا)
Ayah 16:24

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ مَّا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 16:24 in the Quran reader

اور جب ان (کافروں) سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا اتارا ہے ؟ تو کہتے ہیں کہ (وہ تو) پہلے لوگوں کی حکایتیں ہیں۔

تفسیر (24)” واذا قیل لھم “ وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں لائے۔ یہ مشرکین مکہ تھے ا ن کی سزائیں تقسیم کردی ہیں جب کہ انہوں نے حاجیوں سے سوال کیا۔ ” ماذا انزل ربکم قالوا اساطیر الاولین “ پچھلوں کی باتیں ہیں یا وہی باطل حکایتیں ہیں۔
Ayah 16:25

لِیَحْمِلُوْۤا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۙ وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ۠ Open ayah 16:25 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان کو بکنے دو ) یہ قیامت کے دن اپنے (اعمال کے) پورے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور جن کو یہ بےتحقیق گمراہ کرتے ہیں ان کے بوجھ بھی (اٹھائیں گے) سن رکھو کہ جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں برے ہیں۔

(25)” لیحملوا “ کہ وہ اٹھائیں گے ” اوزارھم “ اپنے نفسوں کے گناہ ” کاملۃ “ یہاں کمال کو ذکر کیا کیونکہ جب ان کو دنیا میں مصیبتوں نے گھیر لیا تو ان کے پاس کوئی نیکیاں نہیں تھیں جو ان کے گناہوں کا کفارہ بن جاتیں۔ ” یوم القیامۃ ومن اوزار الدین یضلونھم بغیر علم “ بغیر دلیل کے ان کو ایمان سے روکتے تھے۔” الا ساء ما یزرون “ جو گناہ وہ اپنے اوپر لاد رہے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص ہدایت کی طرف بلائے گا اس پر بھی اتنا ہی گناہ ہوگا جتنا گناہ کرنے والے پر اور گناہ کرنے والے کے بوجھ سے اس میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔
Ayah 16:26

قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتَى اللّٰهُ بُنْیَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ اَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 16:26 in the Quran reader

ان سے پہلے لوگوں نے بھی (ایسی ہی) مکاریاں کی تھیں تو خدا (کا حکم) ان کی عمارت کے ستونوں پر آپہنچا اور چھت ان پر ان کے اوپر سے گر پڑی اور (ایسی طرف سے) ان پر عذاب آ واقع ہوا جہاں سے ان کو خیال بھی نہ تھا۔

قد مکر الذین من قبلھم سے کون مراد ہے (26) قد مکر الذین من قبلھم “ اس سے مراد نمرود بن کنعان ہے اور اس نے آسمان کی طرف چڑھنے کے لیے بابل میں ایک اونچی عمارت بنوائی تھی۔ ابن عباس ؓ اور وہب کا بیان ہے کہ اس عمارت کی اونچائی پانچ ہزار ذراع تھی۔ کعب اور مقاتل کا بیان ہے کہ اس کی بلندی دو فرسخ تھی۔ لیکن تیز آندھی آنے کی وجہ سے وہ سمندر میں جا گری اور اس کا کچھ ان لوگوں پر گرپڑا جس کی وجہ سے وہ ہلاک ہوگئے۔ جب ان پر وہ عمارت گری تو وہ اپنی زبان کے ساتھ جزع فرع کرنے لگے اور وہ ایک دوسرے کو تہتر زبانوں میں پکارنے لگے۔ اسی وجہ سے اس کا نام بابل پڑگیا۔ اس سے پہلے ان لوگوں کی زبانیں سر یانی تھیں۔ اسی وجہ سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ” فاتی اللہ بنیانھم من القواعد “ ان کے بنائے ہوئے گھر کو جڑ سے اکھاڑ دیا۔ ” فخر علیھم السقف “ اور وہ عمارت ان کے گھروں کی چھتوں پر آگری۔ ” من فوقھم واتاھم العذاب من حیث لا یشعرون “ وہ اپنے امن میں تھے کہ اچانک ان پر عذاب آگیا۔
Ayah 16:27

ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُخْزِیْهِمْ وَ یَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تُشَآقُّوْنَ فِیْهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْیَ الْیَوْمَ وَ السُّوْٓءَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 16:27 in the Quran reader

پھر وہ ان کو قیامت کے دن بھی ذلیل کرے گا اور کہے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کے بارے میں تم جھگڑا کرتے تھے ؟ جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہیں گے کہ آج کافروں کی رسوائی اور برائی ہے۔

(27)” ثم یوم القیامۃ یخزیھم “ ان کو عذاب کے ذریعے مزید رسوا کرے گا۔ ” ویقول این شرکائی الذین کنتم تشافون فیھم “ جس وجہ سے تم مومنین کی مخالفت کرتے تھے، تم ان کو حاضر نہیں کرسکو گے تاکہ وہ تمہارے سے عذاب کو دور کریں۔ نافع نے ” تشاقون “ نون کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اضافت کی بناء پر اور دوسرے حضرات نے فتحہ کے ساتھ پڑھا۔ ” قال الذین اونو العلم “ اس سے مراد مومنین ہیں۔ ” ان الخزی “ بلاشبہ ان کے ذلت ” الیوم والسوئ “ عذاب ہے۔
Ayah 16:28

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۪ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ بَلٰۤى اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:28 in the Quran reader

(ان کا حال یہ ہے کہ) جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے لگتے ہیں (وہ یہ) اپنے ہی حق میں ظلم کرنے والے (ہوتے ہیں) تو مطیع ومنقاد ہوجاتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم کوئی برا کام نہیں کرتے تھے۔ ہاں جو کچھ تم کیا کرتے تھے خدا اسے خوب جانتا ہے۔

تفسیر (28)” الذین تتوفاھم الملائکۃ “ جن کی جان فرشتوں نے قبض کرلی تھی۔ حمزہ نے ” یتوفاھم “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور ان کے بعد جن کی روح قبض کی ہے۔” ظالمی انفسھم “ کفر کی وجہ سے یا کفر کی حالت میں منصوب ہے حال ہونے کی وجہ سے۔ یعنی اس حال میں کہ وہ کفر پر ڈٹے ہوئے تھے۔ ” فالقوا لسلم “ وہ تسلیم ہوجائے یا پیروی کرنے پر آمادہ ہوجائیں اور کہنے لگے۔” ما کنا نعمل من سوئ “ اس سے مراد شرک ہے ان کو فرشتوں نے کہا ” بلی ان اللہ علیہم بما کنتو تعملون “ عکرمہ (رح) کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ کفار ہیں جو بدر کی لڑائی میں مارے گئے۔
Ayah 16:29

فَادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 16:29 in the Quran reader

سو دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ہمیشہ اس میں رہو گے۔ اب تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے۔

(29)” فادخلوا “ ان کو کہاجائے گا کہ داخل ہوجائو۔ ” ابواب جہنم خالدین فیھا فلیس مثوی المتکبرین “ ایمان سے منہ پھیرنے والوں کای ہی انجام بد ہوگا۔
Ayah 16:30

وَ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا مَا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوْا خَیْرًا١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ١ؕ وَ لَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:30 in the Quran reader

اور (جب) پرہیزگاروں سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل کیا ہے ؟ تو کہتے ہیں کہ بہترین (کلام) جو لوگ نیکو کار ہیں ان کے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے اور آخرت کا گھر تو بہت ہی اچھا ہے۔ اور پرہیزگاروں کا گھر بہت خوب ہے۔

(30)” وقیل للذین اتقوا “ اور یہ اس وجہ سے کہ عرب کے بعض قبیلے موسم حج میں لوگوں کو بھیجا کرتے تھے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے متعلق خبر معلوم کریں تو وہ مشرک حاجیوں کے راستے میں بیٹھ جاتے تو ان بیٹھنے والوں سے گزرنے والا اگر پوچھتا تو یہ جواب دیتے کہ وہ ساحر، کاہن، جھوٹا، شاعر اور مجنون ہے ۔ (نعوذ باللہ) اگر پوچھنے والے کو اچھی خبر نہ ملتی تو وہ ان بیٹھنے والوں کے متعلق کہتا کہ یہ سب شر ہیں۔ اگر وہ وفد مکہ داخل ہونے سے پہلے واپس چلا جاتا تو اپنے حامیوں سے جا کر یہی خبر بیان کرتے اور اگر وہ مکہ میں داخل ہوجاتے تو پھر صحابہ کرام ؓ ان کو صحیح خبر دیتے کہ وہ سچے نبی (ﷺ) ہمارے اندر مبعوث ہوئے ہیں۔ ماذا انزل ربکم قالو اخیراً “ یعنی ہم پر بہتر چیز نازل فرمائی۔ پھر وہ اسی پر ابتداء کرتے۔” للذین احسنو فی ھذا الدنیا حسنۃ “ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عزت۔ ابن عباس ؓ کے نزدیک ثواب کو دس گناتک بڑھادیاجاتا ہے۔ ضخاک (رح) کا قول ہے کہ اس سے مراد فتح اور نصرت ہے۔ مجاہد (رح) کا قول ہے کہ اس سے اچھی روزی مراد ہے۔” ولدار الاخرۃ “ اس گھر سے آخرت کا گھر بہتر ہے۔” خیر ولنعم دار المتقین “ حسن (رح) کا قول ہے کہ دارلمتقین سے مراد دنیا ہے۔ اہل تقوی یہیں سے آخرت کا سامان لے کر جاتے تھے۔ اکثر مفسرین رحمہم اللہ کے نزدیک اس سے مراد جنت ہے۔ پھر اس جنت کی تفسیر بیان کردی ہے۔
Ayah 16:31

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْزِی اللّٰهُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:31 in the Quran reader

وہ بہشت جاودانی (ہیں) جن میں وہ داخل ہوں گے ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں) وہاں جو چاہیں گے ان کے لئے میسر ہوگا۔ خدا پرہیزگاروں کو ایسا ہی بدلا دیتا ہے۔

(31)” جنات عدن یدخلونھا تجری من تحتھا… تا المتقین “
Ayah 16:32

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ طَیِّبِیْنَ١ۙ یَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَیْكُمُ١ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:32 in the Quran reader

(ان کی کیفیت یہ ہے کہ) جب فرشتے انکی جانیں نکالنے لگتے ہیں اور یہ (کفر و شرک سے) پاک ہوتے ہیں تو سلام علیکم کہتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) جو عمل تم کیا کرتے تھے ان کے بدلے میں بہشت میں داخل ہوجاؤ۔

(32)” الذین تتوفاھم الملائکۃ طین “ وہ مومن جو شرک سے پاک ہیں۔ مجاہد (رح) کا قول ہے کہ اس سے مراد اپنے اقوال و افعال میں پاکیزہ۔ بعض نے اس کا ترجمہ یہ بیان کیا ہے۔ یعنی خوش، جنت کی خوشخبری پا کر خوش و خرم ہونے والے ” یقولون “ فرشتے ان کو کہیں گے۔” سلام علیکم “ بعض نے کہا کہ اس معنی ہے کہ ان کو اللہ کی طرف سے سلامتی پہنچادو۔
Ayah 16:33

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:33 in the Quran reader

کیا یہ (کافر) اس بات کے منتظر ہیں کہ فرشتے انکے پاس (جان نکالنے) آئیں یا تمہارے پروردگار کا حکم (عذاب) آپہنچے ؟ اسی طرح ان لوگوں نے کیا تھا جو ان سے پہلے تھے۔ اور خدا نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔

تفسیر (33)” ھل ینظرون الا ان تاتیھم المالکۃ “ ان کی ارواح کو قبض کرکے ” او یاتی امر ربک “ اس سے مراد قیامت کا دن۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد عذاب ہے۔ ” وکذلک فعل الذین من قبلھم “ انہوں نے انکار کیا۔ جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں نے انکار کیا۔ ” وما ظلمھم اللہ “ ان کے جھٹلانے کی وجہ سے ان پر ظلم نہیں کیا۔ ” ولکن کانوا انفسھم یظلمون “
Ayah 16:34

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 16:34 in the Quran reader

تو ان کو ان کے اعمال کے برے بدلے اور جس چیز کے ساتھ وہ ٹھٹھے کیا کرتے تھے اس نے ان کو (ہر طرف سے) گھیر لیا

(34)” فاصابھم سیئات ما عملوا “ ان کے کفر کے سبب اور ان کے برے اعمال کے سبب ” وحاق بھم “ ان پر عذاب نازل ہوا۔ ” ما کانو ا بہ یستھزء ون “
Ayah 16:35

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ نَّحْنُ وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:35 in the Quran reader

اور مشرک کہتے ہیں کہ اگر خدا چاہتا تو نہ ہم ہی اس کے سوا کسی چیز کو پوجتے اور نہ ہمارے بڑے ہی (پوجتے) اور نہ اس کے (فرمان کے) بغیر ہم کسی چیز کو حرام ٹھراتے۔ (اے پیغمبر) اسی طرح ان سے اگلے لوگوں نے کیا تھا۔ تو پیغمبروں کے ذمے (خدا کے احکام کو) کھول کر پہنچا دینے کے سوا اور کچھ نہیں۔

(35)” وقال الذین اشرکو الو شاء اللہ ما عبدنا من دونہ من شئی … تا … من شئی “ ان سے مراد بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس کے علاوہ سے ہم سے راضی ہوگیا تو ہمارے لیے ہدایت یافتہ ہوگا اس کے علاوہ۔” کذلک فعل الذین من قبلھم فھل علی الرسل الا البلاغ المبین “ یہ لوگ ہدایت یافتہ نہیں ہوں گے۔ آپ کے اوپر صرف تبلیغ کرنا ہے۔
Ayah 16:36

وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْهِ الضَّلٰلَةُ١ؕ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 16:36 in the Quran reader

اور ہم نے ہر جماعت میں پیغمبر بھیجا کہ خدا ہی کی عبادت کرو اور بتوں (کی پرستش) سے اجتناب کرو۔ تو ان میں بعض ایسے ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی اور بعض ایسے ہیں جن پر گمراہی ثابت ہوئی۔ سو زمین پر چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا ؟

(36)” ولقد بعثنا فی کل امۃ رسولاً “ جیسا کہ تم میں ہم نے رسول بنا کر بھیجا۔ ” ان عبدوا اللہ واجتبوا الطاغوت “ وہ معبود ہے اللہ کے سوا۔ ” فمنھم من ھدی اللہ “ اللہ نے ان کو اپنے دین کی طرف رہنمائی کی۔ ” ومنھم من حقت علیہ الضلالۃ “ ان کے لیے گمراہی پختہ ہوگئی۔ یہاں تک کہ وہ کفر پر ہی مرے۔ ” فسیروا فی الارض فانظروا کیف کان عاقبۃ المکذبین “ ان کے کاموں کا انجام کہ ان کے مکانات کو عذاب سے منہدم کردیا اور تمہیں ہلاک کردیا گیا۔
Ayah 16:37

اِنْ تَحْرِصْ عَلٰى هُدٰىهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ یُّضِلُّ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 16:37 in the Quran reader

اگر تم ان (کفار) کی ہدایت کیلئے للچاؤ تو جس کو خدا گمراہ کردیتا ہے اس کو وہ ہدایت نہیں دیا کرتا اور ایسے لوگوں کو کوئی مددگار بھی نہیں ہوتا۔

(37)” ان تحرص علی ھداھم “ اے محمد ! (ﷺ) آپ ان کے متعلق کتنی ہی تمنا کریں۔ ” فان اللہ لا یھدی من یضل “ اہل مکہ کے قراء نے ” یھدی “ یاء کے فتحہ اور دال کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی اللہ جس کو گمراہ رکھنا چاہے اس کو کوئی ہدایت نہیں دیتا۔ دوسرے قراء نے یاء کے ضمہ اور دال کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو گمراہ کردے اس کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرما ” من یضلل فلا ھادی لہ “…” وما لھم من ناصرین “ ان کو عذاب سے کوئی نہیں روک سکتا۔
Ayah 16:38

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ لَا یَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ یَّمُوْتُ١ؕ بَلٰى وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:38 in the Quran reader

اور یہ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ جو مرجاتا ہے خدا اسے (قیامت کے دن قبر سے) نہیں اٹھائیگا۔ ہرگز نہیں۔ یہ (خدا کا) وعدہ سچا ہے اور اس کا پورا کرنا اسے ضرور ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

تفسیر (38)” واقسمو ا باللہ جھد ایمانھم لا یبعث اللہ من یموت “ اور وہ بعثت کے انکار کرنے والے تھے۔ ان کی تردید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ” بلیٰ وعدا علیہ حقاً ولکن اکثرالناس لا یعلمون “
Ayah 16:39

لِیُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِیْ یَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِیْنَ Open ayah 16:39 in the Quran reader

تاکہ جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں وہ ان پر ظاہر کر دے اور اس لئے کہ کافر جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔

(39)” لیبین لھم الھذین یختلفون “ تاکہ ان پر وہ امر واضح کردے جس کے متعلق وہ اختلاف کرتے ہیں۔ ” فیہ ولبعلم الذین کفروا انھم کانواکاذبین “
Ayah 16:40

اِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَیْءٍ اِذَاۤ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 16:40 in the Quran reader

جب ہم کسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو ہمارے بات یہی ہے کہ اس کو کہہ دیتے ہیں کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔

(40)” انما قولنا لشیء اذا اردنا ہ ان نقول لہ کن فیکون “ کہ جب ہم مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کو زندہ کرنے میں کسی قسم کی تھکاوٹ نہیں ہوتی اور نہ اس چیز کے پیدا کرنے میں جو فنا ہوچکی ہے ، صرف ہم یہی کہتے ہیں ” کن “ تو وہ ہوجاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بنی آدم نے مجھے جھٹلایا اور اس کے لیے یہ مناسب نہیں تھا اور بنی آدم نے مجھے برا بھلا کہا حالانکہ یہ اس کے مناسب نہ تھا۔ تکذیب تو یہ کی کہ اس نے کہا کہ اللہ نے جیسے شروع میں مجھے پیدا کیا ایسا دوبارہ ہرگز مجھے پیدا نہیں کرے گا حالانکہ ابتدائی تخلیق دوبارہپ یدا کرنے سے آسان نہ تھی اور برا بھلا یہ کہا کہ اس نے میرے لیے اولاد اختیار کرلی ہے حالانکہ میں ایک ہوں بےنیاز ہوں نہ میں کسی کا باپ ہوں نہ کسی کا بیٹا، میری مثل کوئی بھی نہیں ہے۔