16. Surah An-Nahl
النحلThe Bee · 128 ayahsآسان قرآن
تعارف
تعارف
سورة النحل تعارف اس سورت کا بنیادی موضوع اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کا مفصل بیان ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں انسان کے فائدے کے لیے پیدا فرمائی ہیں۔ اسی لیے اس سورت کو سورة النعم (نعمتوں کی سورت) بھی کہا جاتا ہے۔ عرب کے مشرکین عام طور سے یہ مانتے تھے کہ ان میں سے بیشتر نعمتیں اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ اس کے باوجود وہ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی خدائی میں وہ بت بھی شریک ہیں جن کی وہ عبادت کرتے تھے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کا تذکرہ فرما کر انہیں توحید پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔ ان کے اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے، اور ایمان نہ لانے کی صورت میں انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے۔ یہ سورت جس زمانے میں نازل ہوئی، اس وقت بہت سے مسلمان کفار کے ظلم و ستم سے تنگ آکر حبشہ کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہورہے تھے۔ آیت نمبر ٤١ و ٤٢ میں ان کو تسلی دی گئی ہے کہ ان کے مصائب و آلام کا دور ختم ہونے والا ہے۔ اور انہیں دنیا میں بھی اچھا ٹھکانا عطا ہوگا، اور آخرت میں بھی ان کے لیے بڑا اجر وثواب ہے، بشرطیکہ وہ صبر سے کام لیں، اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں۔ سورت کے آخری حصے میں اسلامی شریعت کے کچھ اہم احکام بھی بیان فرمائے گئے ہیں جو ایک مسلمان کے طرز عمل کی بنیاد ہونے چاہیئں۔ نحل عربی میں شہد کی مکھی کو کہتے ہیں۔ اس سورت کی آیت نمبر ٦٨ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات کا تذکرہ کرتے ہوئے شہد کی مکھی کا حوالہ دیا ہے کہ وہ کس طرح اللہ کے حکم سے پہاڑوں اور جنگلوں میں اپنے چھتے بناتی اور شہد پیدا کرتی ہے۔ اسی لیے سورت کا نام نحل رکھا گیا ہے۔
اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:1 in the Quran reader
اللہ کا حکم آن پہنچا ہے، لہذا اس کے لیے جلدی نہ مچاؤ (1)۔ جو شرک یہ لوگ کر رہے ہیں، وہ اس سے پاک اور بہت بالا و برتر ہے۔
یُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اَنْ اَنْذِرُوْۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوْنِ Open ayah 16:2 in the Quran reader
وہ اپنے حکم سے فرشتوں کو اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اس زندگی بخشنے والی وحی کے ساتھ اتارتا ہے کہ : لوگوں کو آگاہ کردو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے، لہذا تم مجھی سے ڈرو، (کسی اور سے نہیں)۔
خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:3 in the Quran reader
اس نے آسمانوں اور زمین کو برحق مقصد سے پیدا کیا ہے۔ جو شرک یہ لوگ کرتے ہیں، وہ اس سے بہت بالا و برتر ہے۔
خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:4 in the Quran reader
اس نے انسان کو نطفے سے پیدا کیا، پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ کھلم کھلا جھگڑے پر آمادہ ہوگیا۔ (2)
وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَا١ۚ لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۪ Open ayah 16:5 in the Quran reader
اور چوپائے اسی نے پیدا کیے جن میں تمہارے لیے سردی سے بچاؤ کا سامان ہے، (3) اور اس کے علاوہ بہت سے فائدے ہیں، اور انہی میں سے تم کھاتے بھی ہو۔
وَ لَكُمْ فِیْهَا جَمَالٌ حِیْنَ تُرِیْحُوْنَ وَ حِیْنَ تَسْرَحُوْنَ۪ Open ayah 16:6 in the Quran reader
اور جب تم انہیں شام کے وقت گھر واپس لاتے ہو، اور جب انہیں صبح کو چرانے لے جاتے ہو تو ان میں تمہارے لیے ایک خوشنما منظر بھی ہے۔
وَ تَحْمِلُ اَثْقَالَكُمْ اِلٰى بَلَدٍ لَّمْ تَكُوْنُوْا بٰلِغِیْهِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ١ؕ اِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 16:7 in the Quran reader
اور یہ تمہارے بوجھ لاد کر ایسے شہر تک لے جاتے ہیں جہاں تم جان جوکھوں میں ڈالے بغیر نہیں پہنچ سکتے تھے۔ حقیقت یہ ہے تمہارا پروردگار بہت شفیق، بڑا مہربان ہے۔
وَّ الْخَیْلَ وَ الْبِغَالَ وَ الْحَمِیْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَ زِیْنَةً١ؕ وَ یَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:8 in the Quran reader
اور گھوڑے، خچر اور گدھے اسی نے پیدا کیے ہیں تاکہ تم ان پر سواری کرو، اور وہ زینت کا سامان بنیں۔ اور وہ بہت سی ایسی چیزیں پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم بھی نہیں ہے۔ (4)
وَ عَلَى اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِیْلِ وَ مِنْهَا جَآئِرٌ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 16:9 in the Quran reader
اور سیدھا راستہ دکھانے کی ذمہ داری اللہ نے لی ہے، اور بہت سے راستے ٹیڑھے ہیں اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو سیدھے راستے پر پہنچا بھی دیتا۔ (5)
هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً لَّكُمْ مِّنْهُ شَرَابٌ وَّ مِنْهُ شَجَرٌ فِیْهِ تُسِیْمُوْنَ Open ayah 16:10 in the Quran reader
وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا جس سے تمہیں پینے کی چیزیں حاصل ہوتی ہیں، اور اسی سے وہ درخت اگتے ہیں جن سے تم مویشیوں کو چراتے ہو۔
یُنْۢبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ النَّخِیْلَ وَ الْاَعْنَابَ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:11 in the Quran reader
اسی سے اللہ تمہارے لیے کھیتیاں، زیتون، کھجور کے درخت، انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتا ہے۔ (6) حقیقت یہ ہے کہ ان سب باتوں میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانی ہے جو سوچتے سمجھتے ہوں۔
وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ۙ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ وَ النُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَۙ Open ayah 16:12 in the Quran reader
اور اس نے دن اور رات کو اور سورج اور چاند کو تمہاری خدمت پر لگا رکھا ہے، اور ستارے بھی اس کے حکم سے کام پر لگے ہوئے ہیں۔ یقینا ان باتوں میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیں۔
وَ مَا ذَرَاَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 16:13 in the Quran reader
اسی طرح وہ ساری رنگ برنگ کی چیزیں جو اس نے تمہاری خاطر زمین میں پھیلا رکھی ہیں، وہ بھی اس کے حکم سے کام پر لگی ہوئی ہیں۔ بیشک ان سب میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو سبق حاصل کریں۔
وَ هُوَ الَّذِیْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:14 in the Quran reader
اور وہی ہے جس نے سمندر کو کام پر لگایا، تاکہ تم اس سے تازہ گوشت کھاؤ (7) اور اس سے وہ زیورات نکالو جو تم پہنتے ہو۔ (8) اور تم دیکھتے ہو کہ اس میں کشتیاں پانی کو چیرتی ہوئی چلتی ہیں، تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو، اور تاکہ شکر گزار بنو۔ (9)
وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ اَنْهٰرًا وَّ سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 16:15 in the Quran reader
اور اس نے زمین میں پہاڑوں کے لنگڑ ڈال دیے ہیں تاکہ وہ تم کو لے کر ڈگمگائے نہیں، (10) اور دریا اور راستے بنائے ہیں تاکہ تم منزل مقصود تک پہنچ سکو۔
وَ عَلٰمٰتٍ١ؕ وَ بِالنَّجْمِ هُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 16:16 in the Quran reader
اور (راستوں کی پہچان کے لیے) بہت سی علامتیں بنائی ہیں۔ اور ستاروں سے بھی لوگ راستہ معلوم کرتے ہیں۔
اَفَمَنْ یَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا یَخْلُقُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:17 in the Quran reader
اب بتاؤ کہ جو کچھ پیدا نہیں کرتے ؟ کیا پھر بھی تم کوئی سبق نہیں لیتے ؟
وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:18 in the Quran reader
اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننے لگو، تو انہیں شمار نہیں کرسکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔ (11)
وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 16:19 in the Quran reader
اور اللہ وہ باتیں بھی جانتا ہے جو تم چھپ کر کرتے ہو، اور وہ بھی جو تم علی الاعلان کرتے ہو۔
وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَؕ Open ayah 16:20 in the Quran reader
اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر یہ لوگ جن (دیوتاؤں) کو پکارتے ہیں، وہ کچھ بھی پیدا نہیں کرتے، وہ تو خود ہی مخلوق ہیں۔
اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ١ۚ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ١ۙ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ۠ Open ayah 16:21 in the Quran reader
وہ بےجان ہیں، ان میں زندگی نہیں، اور ان کو اس بات کا بھی احساس نہیں ہے کہ ان لوگوں کو کب زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔ (12)
اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:22 in the Quran reader
تمہارا معبود تو بس ایک ہی خدا ہے۔ لہذا جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ان کے دل میں انکار پیوست ہوگیا ہے، اور وہ گھمنڈ میں مبتلا ہیں۔
لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ Open ayah 16:23 in the Quran reader
ظاہر بات ہے کہ اللہ وہ باتیں بھی جانتا ہے جو وہ چھپ کر کرتے ہیں، اور وہ بھی جو وہ علی الاعلان کرتے ہیں۔ وہ یقینا گھمنڈ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (13)
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ مَّا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 16:24 in the Quran reader
اور جب ان سے کہا گیا کہ : تمہارے رب نے کیا بات نازل کی ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ : گزرے ہوئے لوگوں کے افسانے !۔
لِیَحْمِلُوْۤا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۙ وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ۠ Open ayah 16:25 in the Quran reader
(ان باتوں کا) نتیجہ یہ ہے کہ وہ قیامت کے دن خود اپنے (گناہوں) کے پورے پورے بوجھ بھی اپنے اوپر لادیں گے، اور ان لوگوں کے بوجھ کا ایک حصہ بھی جنہیں یہ کسی علم کے بغیر گمراہ کر رہے ہیں۔ (14) یاد رکھو کہ بہت برا بوجھ ہے جو یہ لاد رہے ہیں۔
قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتَى اللّٰهُ بُنْیَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ اَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 16:26 in the Quran reader
ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی مکر کے منصوبے بنائے تھے۔ پھر ہوا یہ کہ (منصوبوں کی) جو عمارتیں انہوں نے تعمیر کی تھیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں جڑ بنیاد سے اکھاڑ پھینکا، پھر ان کے اوپر سے چھت بھی ان پر آگری، اور ان پر عذاب ایسی جگہ سے آدھمکا جس کا انہیں احساس تک نہیں تھا۔
ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُخْزِیْهِمْ وَ یَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تُشَآقُّوْنَ فِیْهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْیَ الْیَوْمَ وَ السُّوْٓءَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 16:27 in the Quran reader
پھر قیامت کے دن اللہ انہیں رسوا کرے گا، اور ان سے پوچھے گا کہ : کہاں ہیں وہ میرے شریک جن کی خاطر تم (مسلمانوں سے) جھگڑا کیا کرتے تھے ؟ جن لوگوں کو علم عطا ہوا ہے وہ (اس دن) کہیں گے کہ : بڑی رسوائی اور بدحالی مسلط ہے آج ان کافروں پر۔
الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۪ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ بَلٰۤى اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:28 in the Quran reader
جن کی روحیں فرشتوں نے اس حالت میں قبض کیں جب انہوں نے اپنی جانوں پر (کفر کی وجہ سے) ظلم کر رکھا تھا۔ (15) اس موقع پر لوگ بڑی فرمانبرداری کے بول بولیں گے کہ ہم تو کوئی برا کام نہیں کرتے تھے۔ (ان سے کہا جائے گا) کیسے نہیں کرتے تھے ؟ اللہ کو سب معلوم ہے کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔
فَادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 16:29 in the Quran reader
لہذا اب ہمیشہ جہنم میں رہنے کے لیے اس کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ، کیونکہ تکبر کرنے والوں کا یہی برا ٹھکانا ہے۔
وَ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا مَا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوْا خَیْرًا١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ١ؕ وَ لَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:30 in the Quran reader
اور (دوسری طرف) متقی لوگوں سے پوچھا گیا کہ : تمہارے پروردگار نے کیا چیز نازل کی ہے ؟ تو انہوں نے کہا : خیر ہی خیر اتاری ہے۔ (اسی طرح) جن لوگوں نے نیکی کی روش اختیار کی ہے، ان کے لیے اس دنیا میں بھی بہتری ہے، اور آخرت کا گھر تو ہے ہی سراپا بہتری، یقینا متقیوں کا گھر بہترین ہے۔
جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْزِی اللّٰهُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:31 in the Quran reader
ہمیشہ ہمیشہ بسنے کے لیے وہ باغات جن میں وہ داخل ہوں گے، جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی، اور وہاں جو کچھ وہ چاہیں گے، انہیں ملے گا۔ متقی لوگوں کو اللہ ایسا ہی صلہ دیتا ہے۔
الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ طَیِّبِیْنَ١ۙ یَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَیْكُمُ١ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:32 in the Quran reader
یہ وہ لوگ ہیں جن کی روحیں فرشتے ایسی حالت میں قبض کرتے ہیں کہ وہ پاک صاف ہوتے ہیں وہ ان سے کہتے ہیں کہ : سلامتی ہو تم پر ! جو عمل تم کرتے رہے ہو، اس کے صلے میں جنت میں داخل ہوجاؤ۔
هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:33 in the Quran reader
یہ (کافر) لوگ اب (ایمان لانے کے لیے) اس کے سوا کس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آکھڑے ہوں، یا (قیامت یا عذاب کی صورت میں) تمہارے پروردگار کا حکم ہی آجائے۔ جو امتیں ان سے پہلے گزری ہیں، انہوں نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ اور اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا، لیکن وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے تھے۔
فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 16:34 in the Quran reader
اس لیے ان کے برے اعمال کا وبال ان پر پڑا، اور جس چیز کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے، اسی نے ان کو آکر گھیر لیا۔
وَ قَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ نَّحْنُ وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:35 in the Quran reader
اور جن لوگوں نے شرک اختیار کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم اس کے سوا کسی اور چیز کی عبادت نہ کرتے، نہ ہم، نہ ہمارے باپ دادا، اور نہ ہم اس کے (حکم کے) بغیر کوئی چیز حرام قرار دیتے۔ جو امتیں ان سے پہلے گزری ہیں انہوں نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ لیکن پیغمبروں کی ذمہ داری اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ صاف صاف طریقے پر پیغام پہنچا دیں۔ (16)
وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْهِ الضَّلٰلَةُ١ؕ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 16:36 in the Quran reader
اور واقعہ یہ ہے کہ ہم نے ہر امت میں کوئی نہ کوئی پیغمبر اس ہدایت کے ساتھ بھیجا ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو، اور طاغوت سے اجتناب کرو۔ (17) پھر ان میں سے کچھ وہ تھے جن کو اللہ نے ہدایت دے دی اور کچھ ایسے تھے جن پر گمراہی مسلط ہوگئی۔ تو ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ (پیغمبروں کو) جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا ؟
اِنْ تَحْرِصْ عَلٰى هُدٰىهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ یُّضِلُّ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 16:37 in the Quran reader
(اے پیغمبر) اگر تمہیں یہ حرص ہے کہ یہ لوگ ہدایت پر آجائیں، تو حقیقت یہ ہے کہ اللہ جن کو (ان کے عناد کی وجہ سے) گمراہ کردیتا ہے ان کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا، اور ایسے لوگوں کو کسی قسم کے مددگار بھی میسر نہیں آتے۔
وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ لَا یَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ یَّمُوْتُ١ؕ بَلٰى وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:38 in the Quran reader
اور ان لوگوں نے بڑا زور لگا لگا کر اللہ کی قسمیں کھائی ہیں کہ جو لوگ مرجاتے ہیں، اللہ ان کو دوبارہ زندہ نہیں کرے گا۔ بھلا کیوں نہیں کرے گا ؟ یہ تو ایک وعدہ ہے جسے سچا کرنے کی ذمہ داری اللہ نے لے رکھی ہے، لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔
لِیُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِیْ یَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِیْنَ Open ayah 16:39 in the Quran reader
(دوبارہ زندہ کرنے کا یہ وعدہ اللہ نے اس لیے کیا ہے) تاکہ وہ لوگوں کے سامنے ان باتوں کو اچھی طرح واضح کردے جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں اور تاکہ کافر لوگ جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔
اِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَیْءٍ اِذَاۤ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 16:40 in the Quran reader
اور جب ہم کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو ہماری طرف سے صرف اتنی بات ہوتی ہے کہ ہم اسے کہتے ہیں : ہوجا۔ بس وہ ہوجاتی ہے۔ (18)