15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

سورة الحجر تعارف اس سورت کی آیت نمبر ٩٤ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مکہ مکرمہ میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی تھی، کیونکہ اس آیت میں پہلی بار آپ کو کھل کر اسلام کی عام تبلیغ کا حکم دیا گیا ہے۔ سورت کے شروع میں یہ حقیقت بیان فرمائی گئی ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی ہوئی کتاب ہے، اور جو لوگ اس کی مخالفت کر رہے ہیں، ایک وقت آئے گا جب وہ تمنا کریں گے کہ کاش وہ اسلام لے آتے۔ یہ لوگ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کبھی ( معاذ اللہ) مجنون کہتے، اور کبھی کاہن قرار دیتے تھے۔ ان باتوں کی تردید کرتے ہوئے کہانت کی حقیقت آیت نمبر ١٧ اور ١٨ میں بیان فرمائی گئی ہے۔ ان لوگوں کے کفر کی اصل وجہ ان کا تکبر تھا، اس لیے ابلیس کا واقعہ آیات نمبر ٢٦ تا ٤٤ میں بیان کیا گیا ہے کہ اس کے تکبر نے کس طرح اس کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کیا۔ کفار کی عبرت کے لیے حضرت ابراہیم، حضرت لوط، حضرت شعیب اور حضرت صالح (علیہم السلام) کے واقعات اختصار کے ساتھ بیان فرمائے گئے ہیں۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ ان کافروں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے وہ یہ نہ سمجھیں کہ ان کی محنت بیکار جارہی ہے۔ ان کا فریضہ اتنا ہے کہ وہ موثر انداز میں تبلیغ کریں، جو وہ بہترین طریقے پر انجام دے رہے ہیں۔ نتائج کی ذمہ داری ان پر نہیں ہے۔ سورت کا نام قوم ثمود کی بستیوں کے نام پر رکھا گیا ہے جو حجر کہلاتی تھیں، اور ان کا ذکر اس سورت کی آیت نمبر ٨٠ میں آیا ہے۔

Ayahs 15:1–3

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ وَ قُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 15:1 in the Quran reader

الر۔ یہ (اللہ کی) کتاب اور روشن قرآن کی آیتیں ہیں۔

رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 15:2 in the Quran reader

ایک وقت آئے گا جب یہ کافر لوگ بڑی تمنائیں کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے۔

ذَرْهُمْ یَاْكُلُوْا وَ یَتَمَتَّعُوْا وَ یُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:3 in the Quran reader

(اے پیغمبر) انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دو کہ یہ خوب کھا لیں، مزے اڑا لیں، اور خیالی امیدیں انہیں غفلت میں ڈالے رکھیں، (1) کیونکہ عنقریب انہیں پتہ چل جائے گا (کہ حقیقت کیا تھی)۔

1: اس آیت میں قرآن کریم نے توجہ دلائی ہے کہ صرف کھانے پینے اور دنیا میں مزے اڑانے کو اپنی زندگی کا اصل مقصد بنا لینا اور اسی کے لیے اس طرح لمبی لمبی خیالی امیدیں باندھتے رہنا جیسے زندگی بس یہی۔ یہ کافروں کا کام ہے مسلمان دنیا میں رہتا ضرور ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں سے فائدہ بھی اٹھاتا ہے مگر اس دنیا کو اپنی زندگی کا مقصد نہیں بناتا۔ بلکہ اسے آخرت کی بھلائی کے لیے استعمال کرتا ہے جس کا بہترین راستہ شریعت کے احکام کی پابندی ہے۔
Ayahs 15:4–8

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا وَ لَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ Open ayah 15:4 in the Quran reader

اور ہم نے جس کسی بستی کو ہلاک کیا تھا، اس کے لیے ایک معین وقت لکھا ہوا تھا۔

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَ Open ayah 15:5 in the Quran reader

کوئی قوم اپنے معین وقت سے نہ پہلے ہلاک ہوتی ہے اور نہ اس سے آگے جاسکتی ہے۔

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌؕ Open ayah 15:6 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ : اے وہ شخص جس پر یہ ذکر (یعنی قرآن) اتارا گیا ہے ! تم یقینی طور پر مجنون ہو۔

لَوْ مَا تَاْتِیْنَا بِالْمَلٰٓئِكَةِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 15:7 in the Quran reader

اگر تم واقعی سچے ہو تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لے آتے ؟

مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ مَا كَانُوْۤا اِذًا مُّنْظَرِیْنَ Open ayah 15:8 in the Quran reader

ہم فرشتوں کو اتارتے ہیں تو برحق فیصلہ دے کر اتارتے ہیں، اور ایسا ہوتا تو ان کو مہلت بھی نہ ملتی۔ (2)

2: یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتے اتارنے کی فرمائش کا جواب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس قوم کے لیے کوئی پیغمبر بھیجا گیا ہو، اس کے پاس ہم فرشتے اس وقت اتارتے ہیں جب اس قوم کی نافرمانی حد سے گذر جاتی ہے، اور اس فیصلے کا وقت آجاتا ہے کہ اب ان پر عذاب نازل ہوگا۔ اور جب یہ فیصلہ کر کے فرشتے بھیج دئیے جاتے ہیں تو پھر اس قوم کو ایمان لانے کی مہلت نہیں ملتی۔ کیونکہ یہ دنیا ایک امتحان کی جگہ ہے۔ یہاں انسان سے جو ایمان مطلوب ہے وہ ایمان بالغیب ہے جس میں انسان اپنی عقل اور سمجھ کو کام میں لا کر اللہ تعالیٰ اور اس کی توحید کے آگے سر تسلیم خم کرے۔ اگر غیب کی ساری چیزیں دنیا میں دکھا دی جائیں تو امتحان ہی کیا ہوا ؟
Ayah 15:9

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 15:9 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ یہ ذکر (یعنی قرآن) ہم نے ہی اتارا ہے، اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ (3)

3: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ واضح فرمایا ہے کہ اگرچہ قرآن کریم سے پہلے بھی آسمانی کتابیں بھیجی گئی تھیں، لیکن چونکہ وہ خاص خاص قوموں اور خاص خاص زمانوں کے لیے آئی تھیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو قیامت تک محفوظ رکھنے کی کوئی ضمانت نہیں دی تھی، بلکہ ان کی حفاظت کا کام انہی لوگوں کو سونپ دیا گیا تھا جو ان کے مخاطب تھے، جیسا کہ سورة مائدہ آیت 44 میں فرمایا گیا ہے لیکن قرآن کریم چونکہ آخری آسمانی کتاب ہے جو قیامت تک کے لیے نافذ العمل رہے گی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا خود ذمہ لیا ہے، چنانچہ اس میں قیامت تک کوئی رد و بدل نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت اس طرح فرمائی ہے کہ چھوٹے چھوٹے بچوں کے سینوں میں اسے اس طرح محفوظ کردیا ہے کہ اگر بالفرض کوئی دشمن قرآن کریم کے سارے نسخے (معاذ اللہ) ختم کردے تب بھی چھوٹے چھوٹے بچے اسے دوبارہ کسی معمولی تبدیلی کے بغیر لکھوا سکتے ہیں جو بذات خود قرآن کریم کا زندہ معجزہ ہے۔
Ayahs 15:10–12

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ شِیَعِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:10 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) ہم تم سے پہلے بھی پچھلی قوموں کے مختلف گروہوں میں اپنے پیغمبر بھیج چکے ہیں۔

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 15:11 in the Quran reader

اور ان کے پاس کوئی رسول ایسا نہیں آتا تھا جس کا وہ مذاق نہ اڑاتے ہوں۔

كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:12 in the Quran reader

مجرم لوگوں کے دلوں میں یہ بات (4) ہم اسی طرح داخل کرتے ہیں۔

4: ”یہ بات“ سے قرآن کریم بھی مراد ہوسکتا ہے، یعنی قرآن کریم ان کے دلوں میں داخل تو ہوتا ہے، لیکن ان کے مجرمانہ طرز عمل کی وجہ سے وہ انہیں ایمان کی دولت نہیں بخشتا۔ اور ”یہ بات“ سے ان کے مذاق اڑانے کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے۔ یعنی ان کے مجرمانہ طرز عمل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے، اور کفر و بغاوت اور استہزاء ان کے دلوں میں داخل کردیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے۔
Ayahs 15:13–15

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ قَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:13 in the Quran reader

کہ وہ اس پر ایمان نہیں لاتے۔ اور پچھلے لوگوں کا بھی یہی طریقہ چلا آیا ہے۔

وَ لَوْ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ فَظَلُّوْا فِیْهِ یَعْرُجُوْنَۙ Open ayah 15:14 in the Quran reader

اور اگر (بالفرض) ہم ان کے لیے آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیں اور وہ دن کی روشنی میں اس پر چڑھتے بھی چلے جائیں۔

لَقَالُوْۤا اِنَّمَا سُكِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ۠ Open ayah 15:15 in the Quran reader

تب بھی یہی کہیں گے کہ ہماری نظر بندی کردی گئی ہے، بلکہ ہم لوگ جادو کے اثر میں آئے ہوئے ہیں۔ (5)

5: مطلب یہ ہے کہ ان کے سارے مطالبات محض ضد پر مبنی ہیں۔ فرشتے اتارنا تو درکنار، اگر خود ان کو آسمان پر لے جایا جائے تب بھی یہ آنحضرت ﷺ کو جھٹلانے کا کوئی نہ کوئی بہانہ گھڑ لیں گے۔ اور یہ کہیں گے کہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے۔
Ayah 15:16

وَ لَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ زَیَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِیْنَۙ Open ayah 15:16 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان میں بہت سے برج بنائے ہیں۔ (6) اور اس کو دیکھنے والوں کے لیے سجاوٹ عطا کی ہے۔ (7)

6: برج اصل میں قلعے کو کہتے ہیں، لیکن اکثر مفسرین نے کہا ہے یہاں بروج سے مراد ستارے ہیں 7: یعنی آسمان ستاروں سے سجا ہوا نظر آتا ہے یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ قرآن کریم نے آسمان کا لفظ مختلف مقامات پر مختلف معنی میں استعمال فرمایا ہے کہیں اس سے مراد ان سات آسمانوں میں سے کوئی آسمان ہوتا ہے جن کے بارے میں قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اوپر تلے پیدا فرمایا ہے اور کہیں اس سے اوپر کی سمت مراد ہوتی ہے چنانچہ آگے آیت نمبر 21 میں جہاں یہ فرمایا گیا ہے کہ آسمان سے پانی ہم نے اتارا ہے وہاں آسمان سے ہی معنی مراد ہیں۔ بظاہر اس آیت میں بھی یہی معنی مراد ہیں۔
Ayahs 15:17–18

وَ حَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 15:17 in the Quran reader

اور اسے ہر مردود شیطان سے محفوظ رکھا ہے۔

اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 15:18 in the Quran reader

البتہ جو کوئی چوری سے کچھ سننے کی کوشش کرے تو ایک روشن شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔ (8)

8: یہ حقیقت قرآن کریم نے کئی جگہ بیان فرمائی ہے کہ شیطان آسمان کے اوپر جاکر عالم بالا کی خبریں حاصل کرنا چاہتے ہیں، تاکہ وہ خبریں کاہنوں اور نجومیوں تک پہنچائیں، اور وہ ان کے ذریعے لوگوں کو یہ باور کرائیں کہ انہیں غیب کی باتیں معلوم ہوجاتی ہیں، لیکن آسمان میں ان کا داخلہ شروع ہی سے بند ہے، البتہ آنحضرت ﷺ کی دنیا میں تشریف آوری سے پہلے یہ شیاطین آسمان کے قریب جاکر فرشتوں کی باتیں چوری چھپے سننے کی کوشش کرتے تھے اور وہاں سے کوئی بات کان میں پڑجاتی توا سکے ساتھ سینکڑوں جھوٹ ملاکر کاہنوں کو بتا دیتے تھے، اس طرح کبھی کوئی بات صحیح بھی نکل آتی تھی ؛ لیکن آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری کے بعد ان کو آسمان کے قریب جانے سے بھی روک دیا گیا، اب اگر وہ ایسی کوشش کرتے ہیں تو ان کو ایک شعلے کے ذریعے مار کر بھگا دیا جاتا ہے، اس حقیقت کی پوری تفصیل انشاء اللہ سورة جن میں آئے گی۔
Ayah 15:19

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْزُوْنٍ Open ayah 15:19 in the Quran reader

اور زمین کو ہم نے پھیلا دیا ہے، اور اس کو جمانے کے لیے اس میں پہاڑ رکھ دیے ہیں، (9) اور اس میں ہر قسم کی چیزیں توازن کے ساتھ اگائی ہیں۔

9: قرآن کریم نے کئی جگہ بیان فرمایا ہے کہ شروع میں جب زمین کو سمندر پر بچھایا گیا تو وہ ڈولتی تھی، اس لئے اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پیدا فرمائے ؛ تاکہ وہ زمین کو جما کر رکھیں، دیکھئے سورة نحل آیت نمبر : 15
Ayah 15:20

وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ وَ مَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِیْنَ Open ayah 15:20 in the Quran reader

اور اس میں تمہارے لیے بھی روزی کے سامان پیدا کیے ہیں اور ان (مخلوقات) کے لیے بھی جنہیں تم رزق نہیں دیتے۔ (10)

10: اگرچہ ہر چیز کو رزق تو حقیقت میں اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے ؛ لیکن بعض پالتو جانور ایسے ہیں جنہیں انسان ظاہری طور پر چارہ فراہم کرتا ہے، ان کے علاوہ اکثر مخلوقات ایسی ہیں جنہیں رزق مہیا کرنے میں ظاہری طور پر بھی انسان کا کوئی دخل نہیں ہے، اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ہم نے انسانوں کے لئے بھی رزق کے سامان پیدا کئے ہیں اور ان مخلو قات کے لئے بھی جنہیں انسان ظاہری طور پر کوئی غذا فراہم نہیں کرتا۔ عربی گرامر کی رو سے اس آیت کا ترجمہ ایک اور طرح بھی ممکن ہے اور وہ مخلوقات بھی پیدا کی ہیں جن کو تم رزق نہیں دیتے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے فائدے کے لئے وہ مخلوقات بھی پیدا کی ہیں جن کو وہ ظاہری طور پر بھی رزق نہیں دیتا مگر ان سے فائدہ اٹھاتا ہے جیسے شکار کے جانور۔
Ayahs 15:21–24

وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُهٗ١٘ وَ مَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ Open ayah 15:21 in the Quran reader

اور کوئی (ضرورت کی) چیز ایسی نہیں ہے جس کے ہمارے پاس خزانے موجود نہ ہوں، مگر ہم اس کو ایک معین مقدار میں اتارتے ہیں۔

وَ اَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَسْقَیْنٰكُمُوْهُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِیْنَ Open ayah 15:22 in the Quran reader

اور وہ ہوائیں جو بادلوں کو پانی سے بھر دیتی ہیں، ہم نے بھیجی ہیں، پھر آسمان سے پانی ہم نے اتارا ہے، پھر اس سے تمہیں سیراب ہم نے کیا ہے، اور تمہارے بس میں یہ نہیں ہے کہ تم اس کو ذخیرہ کر کے رکھ سکو۔

وَ اِنَّا لَنَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ نَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ Open ayah 15:23 in the Quran reader

ہم ہی زندگی دیتے ہیں، اور ہم ہی موت دیتے ہیں، اور ہم ہی سب کے وارث ہیں۔

وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْكُمْ وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِیْنَ Open ayah 15:24 in the Quran reader

تم میں سے جو آگے نکل گئے ہیں، ان کو بھی ہم جانتے ہیں اور جو پیچھے رہ گئے ہیں ان سے بھی ہم واقف ہیں۔ (11)

11: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو قومیں تم سے پہلے گذر چکی ہیں ان کے حالات سے بھی ہم واقف ہیں، اور جو قومیں آگے آنے والی ہیں، ان کے حالات سے بھی اور یہ مطلب بھی ممکن ہے کہ تم میں سے جو لوگ نیک کاموں میں دوروں سے آگے بڑھ گئے ہیں ان کو بھی ہم جانتے ہیں اور جو پیچھے رہ گئے ہیں۔ ان کو بھی۔
Ayahs 15:25–26

وَ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَحْشُرُهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 15:25 in the Quran reader

اور یقین رکھو کہ تمہارا پروردگار ہی ہے جو ان سب کو حشر میں اکٹھا کرے گا، بیشک اس کی حکمت بھی بڑی ہے، اس کا علم بھی بڑا۔

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍۚ Open ayah 15:26 in the Quran reader

ہم نے انسان کو سڑے ہوئے گارے کی کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا۔ (12)

12: اس سے مراد حضرت آدم ؑ کی تخلیق ہے جس کا مفصل واقعہ سورة بقرہ (30، 34) میں گذر چکا ہے اور وہاں فرشتوں کو سجدے کا حکم دینے سے متعلق ضروری نکات بھی بیان ہوچکے ہیں
Ayah 15:27

وَ الْجَآنَّ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ Open ayah 15:27 in the Quran reader

اور جنات کو اس سے پہلے ہم نے لو کی آگ سے پیدا کیا تھا۔ (13)

13: جس طرح انسان کے جد امجد حضرت آدم ؑ ہیں اسی طرح جنات میں سب سے پہلے جس جن کو پیدا کیا گیا اس کا نام جان تھا اور اسے آگ سے پیدا کیا گیا
Ayahs 15:28–38

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:28 in the Quran reader

اور وہ وقت یاد کرو جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا تھا کہ : میں گارے کی کھنکھناتی ہوئی مٹی سے ایک بشر کو پیدا کرنے والا ہوں۔

فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ Open ayah 15:29 in the Quran reader

لہذا جب میں اس کو پوری طرح بنا لوں، اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے آگے سجدے میں گر جانا۔

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ Open ayah 15:30 in the Quran reader

چنانچہ سارے کے سارے فرشتوں نے سجدہ کیا۔

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:31 in the Quran reader

سوائے ابلیس کے کہ اس نے سجدہ کرنے والوں میں شامل ہونے سے انکار کردیا۔

قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:32 in the Quran reader

اللہ نے کہا : ابلیس ! تجھے کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہیں ہوا ؟

قَالَ لَمْ اَكُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:33 in the Quran reader

اس نے کہا : میں ایسا (گرا ہوا) نہیں ہوں کہ ایک ایسے بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے سڑے ہوئے گارے کی کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا ہے۔

قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۙ Open ayah 15:34 in the Quran reader

اللہ نے کہا : اچھا تو یہاں سے نکل جا، کیونکہ تو مردود ہوگیا ہے۔

وَّ اِنَّ عَلَیْكَ اللَّعْنَةَ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ Open ayah 15:35 in the Quran reader

اور تجھ پر قیامت کے دن تک پھٹکار پڑی رہے گی۔

قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 15:36 in the Quran reader

کہنے لگا : یا رب ! پھر مجھے اس دن تک (زندہ رہنے کی) مہلت دیدے جب لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جائیں گے۔

قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ Open ayah 15:37 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا کہ : جا پھر تجھے مہلت (تو) دے دی گئی۔

اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ Open ayah 15:38 in the Quran reader

(مگر) ایک ایسی میعاد کے دن تک جو ہمیں معلوم ہے۔ (14)

14: شیطان نے مہلت تو روز حشر تک کے لئے مانگی تھی ؛ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس وقت کے بجائے ایک اور معین وقت تک کے لئے اسے مہلت دی، اکثر مفسرین کے مطابق وہ پہلے صور کے پھونکنے تک ہے جس کے بعد ساری مخلوقات کو موت آئے گی، اس وقت شیطان کو بھی موت آجائے گی۔
Ayah 15:39

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاُزَیِّنَنَّ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:39 in the Quran reader

کہنے لگا : یا رب ! چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، اس لیے اب میں قسم کھاتا ہوں کہ ان انسانوں کے لیے دنیا میں دلکشی پیدا کروں گا۔ (15) اور ان سب کو گمراہ کر کے رہوں گا۔

15: یعنی ایسی دلکشی پیدا کروں گا جو انہیں تیری نافرمانی پر آمادہ کرے گی۔