15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsآسان قرآن

Ayahs 15:40–41

اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 15:40 in the Quran reader

سوائے تیرے ان بندوں کے جنہیں تو نے ان میں سے اپنے لیے مخلص بنا لیا ہو۔

قَالَ هٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ Open ayah 15:41 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا : یہ ہے وہ سیدھا راستہ جو مجھ تک پہنچتا ہے۔ (16)

16: اللہ تعالیٰ نے اسی وقت واضح فرمادیا کہ جو لوگ اخلاص اور بندگی کا راستہ اختیار کریں گے وہ سیدھا مجھ تک پہنچے گا اور ایسے لوگوں پر شیطان کے بہکاوے کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔
Ayah 15:42

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 15:42 in the Quran reader

یقین رکھو کہ جو میرے بندے ہیں، ان پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا، (17) سوائے ان گمراہ لوگوں کے جو تیرے پیچھے چلیں گے۔

17: میرے بندوں سے مراد وہ بندے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم پر چلنے کا پختہ عزم رکھتے ہیں اور اسی سے مدد مانگتے ہوں، ایسے لوگوں پر شیطان کا زور نہ چلنے کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ شیطان انہیں بھی گمراہ کرنے کی کوشش تو کرے گا لیکن وہ اپنے اخلاص اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کے دھوکے میں نہیں آئیں گے۔
Ayahs 15:43–47

وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اَجْمَعِیْنَ۫ۙ Open ayah 15:43 in the Quran reader

اور جہنم ایسے تمام لوگوں کا طے شدہ ٹھکانا ہے۔

لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ١ؕ لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ۠ Open ayah 15:44 in the Quran reader

اس کے سات دروازے ہیں۔ ہر دروازے (میں داخلے) کے لیے ان (دوزخیوں کا) ایک ایک گروہ بانٹ دیا گیا ہے۔

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍؕ Open ayah 15:45 in the Quran reader

(دوسری طرف) متقی لوگ باغات اور چشموں کے درمیان رہیں گے۔

اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیْنَ Open ayah 15:46 in the Quran reader

(ان سے کہا جائے گا کہ) ان (باغات) میں سلامتی کے ساتھ بےخوف ہو کر داخل ہوجاؤ۔

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 15:47 in the Quran reader

ان کے سینوں میں جو کچھ رنجش ہوگی، اسے ہم نکال پھینکیں گے، (18) وہ بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے اونچی نشستوں پر بیٹھے ہوں گے۔

18: یعنی دنیا میں ان حضرات کے درمیان اگر کوئی رنجش رہی ہو تو جنت میں پہنچنے کے بعد اللہ تعالیٰ وہ ان کے دلوں سے نکال دیں گے
Ayahs 15:48–51

لَا یَمَسُّهُمْ فِیْهَا نَصَبٌ وَّ مَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِیْنَ Open ayah 15:48 in the Quran reader

وہاں نہ کوئی تھکن ان کے پاس آئے گی، اور نہ ان کو وہاں سے نکالا جائے گا۔

نَبِّئْ عِبَادِیْۤ اَنِّیْۤ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 15:49 in the Quran reader

میرے بندوں کو بتادو کہ میں ہی بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہوں۔

وَ اَنَّ عَذَابِیْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِیْمُ Open ayah 15:50 in the Quran reader

اور یہ بھی بتادو کہ میرا عذاب ہی دردناک عذاب ہے۔

وَ نَبِّئْهُمْ عَنْ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 15:51 in the Quran reader

اور انہیں ابراہیم کے مہمانوں کا حال سنا دو۔ (19)

19: مہمانوں سے مراد وہ فرشتے ہیں جو حضرت ابراہیم ؑ کے پاس بھییجے گئے تھے۔ اوپر یہ بیان کیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بھی وسیع ہے، اور عذاب بھی بڑا سخت ہے، لہذا ایک انسان کو نہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا چاہیے، اور نہ اس کے عذاب سے بےفکر ہو کر بیٹھنا چاہیے۔ اس مناسبت سے ان مہمانوں کا یہ واقعہ ذکر فرمایا گیا ہے، کیونکہ اس واقعے میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا بھی بیان ہے کہ یہ فرشتے حجرت ابراہیم ؑ کے پاس بڑھاپے میں حضرت اسحاق ؑ جیسے بیٹے کی پیدائش کی خبر لے کر آئے، اور اللہ تعالیٰ کے سخت عذاب کا بھی ذکر ہے کہ انہی فرشتوں کے ذریعے حضرت لوط ؑ کی قوم پر عذاب نازل کیا گیا۔ یہ واقعہ قدرے تفصیل کے ساتھ سور ہود آیت 69 تا 83 میں گذر چکا ہے۔ اس کے مختلف حصوں کی وضاحت ہم نے وہاں کی ہے۔
Ayah 15:52

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ اِنَّا مِنْكُمْ وَ جِلُوْنَ Open ayah 15:52 in the Quran reader

اس وقت کا حال جب وہ ان کے پاس پہنچے، اور سلام کیا۔ ابراہیم نے کہا کہ : ہمیں تو تم سے ڈر لگ رہا ہے (20)

20: سورة ہود میں گزرچکا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ ان کو انسان سمجھ کر انکی مہمانی کے لئے بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت لے کر آئے تھے، لیکن انہوں نے کھانے سے پرہیز کیا جو اس علاقے کے رواج کے مطابق اس بات کی علامت تھی کہ یہ کوئی دشمن ہیں اور کسی برے ارادے سے آئے ہیں اس لئے انہیں خوف محسوس ہوا۔
Ayahs 15:53–62

قَالُوْا لَا تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 15:53 in the Quran reader

انہوں نے کہا : ڈریے نہیں، ہم تو آپ کو ایک صاحب علم لڑکے (کی ولادت) کی خوشخبری دے رہے ہیں۔

قَالَ اَبَشَّرْتُمُوْنِیْ عَلٰۤى اَنْ مَّسَّنِیَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ Open ayah 15:54 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا : کیا تم مجھے اس حالت میں خوشخبری دے رہے ہو جبکہ مجھے پر بڑھاپا چھا چکا ہے ؟ پھر کس بنیاد پر مجھے خوشخبری دے رہے ہو ؟

قَالُوْا بَشَّرْنٰكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِیْنَ Open ayah 15:55 in the Quran reader

وہ بولے : ہم نے آپ کو سچی خوشخبری دی ہے، لہذا آپ ان لوگوں میں شامل نہ ہوں جو ناامید ہوجاتے ہیں۔

قَالَ وَ مَنْ یَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ Open ayah 15:56 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا : اپنے پروردگار کی رحمت سے گمراہوں کے سوا کون ناامید ہوسکتا ہے ؟

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 15:57 in the Quran reader

(پھر) انہوں نے پوچھا کہ : اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتو ! اب آپ کے سامنے کیا مہم ہے ؟

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:58 in the Quran reader

انہوں نے کہا : ہمیں ایک مجرم قوم کی طرف (عذاب نازل کرنے کے لیے) بھیجا گیا ہے۔

اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ اِنَّا لَمُنَجُّوْهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:59 in the Quran reader

البتہ لوط کے گھر والے اس سے مستثنی ہیں، ان سب کو ہم بچالیں گے۔

اِلَّا امْرَاَتَهٗ قَدَّرْنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الْغٰبِرِیْنَ۠ Open ayah 15:60 in the Quran reader

سوائے ان کی بیوی کے۔ ہم نے یہ طے کر رکھا ہے کہ وہ ان لوگوں میں شامل رہے گی جو (عذاب کا نشانہ بننے کے لیے) پیچھے رہ جائیں گے۔

فَلَمَّا جَآءَ اٰلَ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلُوْنَۙ Open ayah 15:61 in the Quran reader

چنانچہ جب یہ فرشتے لوط کے گھر والوں کے پاس پہنچے۔

قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ Open ayah 15:62 in the Quran reader

تو لوط نے کہا : آپ لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہیں۔ (21)

21: حضرت لوط ؑ اپنی قوم کی بد فطرتی سے واقف تھے کہ یہ لوگ اجنبیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے گھبراہٹ کا اظہار کیا۔ حضرت لوط ؑ کی اس بد نہاد قوم کے مختصر تعارف کے لیے دیکھئے۔ سورة اعراف آیت 80 پر ہمارا حاشیہ۔
Ayahs 15:63–65

قَالُوْا بَلْ جِئْنٰكَ بِمَا كَانُوْا فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 15:63 in the Quran reader

انہوں نے کہا : نہیں، بلکہ ہم آپ کے پاس وہ (عذاب) لے کر آئے ہیں جس میں یہ لوگ شک کیا کرتے تھے۔

وَ اَتَیْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 15:64 in the Quran reader

ہم آپ کے پاس اٹل فیصلہ لے کر آئے ہیں، اور یقین رکھیے کہ ہم سچے ہیں۔

فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ اتَّبِعْ اَدْبَارَهُمْ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ وَّ امْضُوْا حَیْثُ تُؤْمَرُوْنَ Open ayah 15:65 in the Quran reader

لہذا آپ رات کے کسی حصے میں اپنے گھر والوں کو لے کر نکل جایے، اور آپ خود ان کے پیچھے پیچھے چلیے (22) اور آپ میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے، اور وہیں جانے کے لیے چلتے رہیں جہاں کا آپ کو حکم دیا جارہا ہے۔

22: حضرت لوط ؑ کو پیچھے چلنے کا حکم اس لیے دیا گیا تاکہ آپ اپنے تمام ساتھیوں کی نگرانی کرسکیں، خاص طور پر ان سب کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ پیچھے مڑ کر نہ دیکھیں۔ حضرت لوط ؑ کے پیچھے ہونے کی وجہ سے کسی کو یہ جرأت نہیں ہوسکتی تھی کہ وہ اس حکم کی خلاف ورزی کرے۔
Ayahs 15:66–67

وَ قَضَیْنَاۤ اِلَیْهِ ذٰلِكَ الْاَمْرَ اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 15:66 in the Quran reader

اور (اس طرح) ہم نے لوط تک اپنا یہ فیصلہ پہنچا دیا کہ صبح ہوتے ہی ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی جائے گی۔

وَ جَآءَ اَهْلُ الْمَدِیْنَةِ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 15:67 in the Quran reader

اور شہر والے خوشی مناتے ہوئے (لوط کے پاس) آپہنچے۔ (23)

23: یہ فرشتے خوبصورت نوجوانوں کی شکل میں آئے تھے اس لیے جیسا کہ حضرت لوط ؑ کو اندیشہ تھا۔ یہ لوگ اپنی ہوس کو پوری کرنے کے شوق میں خوشی مناتے ہوئے آئے۔
Ayahs 15:68–71

قَالَ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَیْفِیْ فَلَا تَفْضَحُوْنِۙ Open ayah 15:68 in the Quran reader

لوط نے (ان سے) کہا کہ : یہ لوگ میرے مہمان ہیں، لہذا مجھے رسوا نہ کرو۔

وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ Open ayah 15:69 in the Quran reader

اور اللہ سے ڈرو، اور مجھے ذلیل نہ کرو۔

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 15:70 in the Quran reader

کہنے لگے : کیا ہم نے آپ کو پہلے ہی دنیا جہان کے لوگوں (کو مہمان بنانے) سے منع نہیں کر رکھا تھا ؟

قَالَ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِیْۤ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَؕ Open ayah 15:71 in the Quran reader

لوط نے کہا : اگر تم میرے کہنے پر عمل کرو تو یہ میری بیٹیاں (جو تمہارے نکاح میں ہیں، تمہارے پاس) موجود ہی ہیں۔ (24)

24: کسی نبی کی امت میں جتنی عورتیں ہوتی ہیں، وہ اس نبی کی روحانی بیٹیاں ہوتی ہیں۔ حضرت لوط ؑ نے ان بد قماش لوگوں کو نرمی سے سمجھانے کی کوشش کی کہ تمہاری عورتیں جو میری روحانی بیٹیاں ہیں، تمہارے گھروں میں موجود ہیں۔ تم اپنی نفسانی خواہشات ان سے پوری کرسکتے ہو، اور یہی فطرت کا پاکیزہ طریقہ ہے۔
Ayahs 15:72–76

لَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِیْ سَكْرَتِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 15:72 in the Quran reader

(اے پیغمبر) تمہاری زندگی کی قسم ! حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ اپنی بدمستی میں اندھے بنے ہوئے تھے۔

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُشْرِقِیْنَۙ Open ayah 15:73 in the Quran reader

چنانچہ سورج نکلتے ہی ان کو چنگھاڑ نے آپکڑا۔

فَجَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍؕ Open ayah 15:74 in the Quran reader

پھر ہم نے اس زمین کو تہ وبالا کر کے رکھ دیا، اور ان پر پکی مٹی کے پتھروں کی بارش برسا دی۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِیْنَ Open ayah 15:75 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ اس سارے واقعے میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو عبرت کی نگاہ سے دیکھتے ہوں۔

وَ اِنَّهَا لَبِسَبِیْلٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 15:76 in the Quran reader

اور یہ بستیاں ایک ایسے راستے پر واقع ہیں جس پر لوگ مستقل چلتے رہتے ہیں۔ (25)

25: حضرت لوط ؑ کی بستیاں اردن کے بحیرہ مردار کے آس پاس واقع تھیں، اور عرب کے لوگ جب شام کا سفر کرتے تو ان بستیوں کے آثار ان کے راستے میں پڑتے تھے۔ آیت 72 کے بارے میں یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے سوا کسی کی قسم کھانا انسانوں کے لیے جائز نہیں۔ دیکھئے سورة صافات کا حاشیہ نمبر 1
Ayahs 15:77–78

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 15:77 in the Quran reader

یقینا اس میں ایمان والوں کے لیے بڑی عبرت ہے۔

وَ اِنْ كَانَ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ لَظٰلِمِیْنَۙ Open ayah 15:78 in the Quran reader

اور ایکہ کے باشندے (بھی) بڑے ظالم تھے۔ (26)

26: ایکہ اصل میں گھنے جنگل کو کہتے ہیں۔ حضرت شعیب ؑ جس قوم کی طرف بھیجے گئے تھے وہ ایسے ہی گھنے جنگل کے پاس واقع تھی۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اسی بستی کا نام مدین تھا، اور بعض کا کہنا ہے کہ یہ مدین کے علاوہ کوئی اور بستی تھی، اور حضرت شعیب ؑ اس کی طرف بھی بھیجے گئے تھے۔ اس قوم کا واقعہ سورة اعراف آیت 85 تا 93 میں گذر گیا ہے تفصیلات کے لیے ان آیات کے حواشی ملاحظہ فرمائیے۔
Ayah 15:79

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ١ۘ وَ اِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِیْنٍؕ۠ Open ayah 15:79 in the Quran reader

چنانچہ ہم نے ان سے بھی انتقام لیا۔ اور ان دونوں قوموں کی بستیاں کھلی شاہراہ پر واقع ہیں۔ (27)

27: دونوں سے مراد حضرت لوط ؑ اور حضرت شعیب ؑ کی بستیاں ہیں۔ جیسا کہ اوپر گزرا۔ حضرت لوط ؑ کی بستیاں تو بحیرہ مردار کے پاس تھیں، اور حضرت شعیب ؑ کی بستی مدین بھی اردن میں واقع تھی، اور اہل عرب شام جاتے ہوئے ان دونوں کے پاس سے گذرا کرتے تھے۔