14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

سورة ابراہیم تعارف دوسری مکی سورتوں کی طرح اس سورت کا موضوع بھی اسلام کے بنیادی عقائد کا اثبات اور ان کا انکار کرنے کے خوفناک نتائج پر تنبیہ ہے۔ چونکہ عرب کے مشرکین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مانتے تھے، اس لیے سورت کے آخر سے پہلے رکوع میں ان کی وہ پر اثر دعا نقل فرمائی گئی ہے جس میں انہوں نے شرک اور بت پرستی کی صاف صاف برائی بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی ہے کہ انہیں اور ان کے بیٹوں کو بت پرستی سے محفوظ رکھا جائے۔ اسی وجہ سے اس سورت کا نام سورة ابراہیم ہے۔

Ayah 14:1

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 14:1 in the Quran reader

الر۔ (اے پیغمبر) یہ ایک کتاب ہے جو ہم نے تم پر نازل کیا ہے، تاکہ تم لوگوں کو ان کے پروردگار کے حکم سے اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لے آؤ، یعنی اس ذات کے راستے کی طرف جس کا اقتدار سب پر غالب ہے، (اور) جو ہر تعریف کا مستحق ہے۔

Ayah 14:2

اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدِۙ Open ayah 14:2 in the Quran reader

وہ اللہ کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے، اسی کی ملکیت ہے۔ اور افسوس ہے ان لوگوں پر جو حق کا انکار کرتے ہیں، کیونکہ انہیں سخت عذاب ہونے والا ہے۔

Ayah 14:3

اِ۟لَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 14:3 in the Quran reader

وہ لوگ جو آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں، اور دوسروں کو اللہ کے راستے پر آنے سے روکتے ہیں، اور اس میں ٹیڑھ تلاش کرتے رہتے ہیں۔ (1) وہ پرلے درجے کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔

1: اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ وہ اسلام میں کوئی نہ کوئی عیب تلاش کرتے رہتے ہیں، تاکہ انہیں اعتراض کا موقع ملے، اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ اس فکر میں لگے رہتے ہیں کہ قرآن وسنت میں کوئی بات ان کے خیالات اور خواہشات کے مطابق مل جائے تو اس کو اپنے باطل نظریات کی تائید میں پیش کریں۔
Ayah 14:4

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِیُبَیِّنَ لَهُمْ١ؕ فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 14:4 in the Quran reader

اور ہم نے جب بھی کوئی رسول بھیجا، خود اس کی قوم کی زبان میں بھیجا تاکہ وہ ان کے سامنے حق کو اچھی طرح واضح کرسکے۔ (2) پھر اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے، ہدایت دے دیتا ہے۔ (3) اور وہی ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، جس کی حکمت بھی کامل۔

2: کفار ن کہ کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ قرآن عربی زبان میں کیوں اتارا گیا ہے، اگر یہ کسی ایسی زبان میں ہوتا جو آنحضرت ﷺ نہیں جانتے تو اسکا معجزہ ہونا بالکل واضح ہوجاتا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے ہر رسول کو اس کی قوم کی مادری زبان میں اس لئے بھیجا ہے کہ وہ اپنی قوم کو اس کی اپنی زبان میں اللہ تعالیٰ کے احکام سمجھا سکے، کسی اور زبان میں قرآن نازل کیا جاتا تو تم یہ اعتراض کرتے کہ اسے ہم کیسے سمجھیں ؟ چنانچہ یہی بات سورة حم السجدہ (41۔ 44) میں فرمائی گئی ہے۔ 3: یعنی جو کوئی حق کا طلب گار بن کر اس کو پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت دے دیتے ہیں اور جو شخص جد اور عناد کے ساتھ پڑ تھا ہے اسے گمراہی میں بھٹکتا چھوڑ دیتے ہیں۔ مزید دکھئے پھچلی سور ایت 33 کا حاشیہ۔
Ayahs 14:5–8

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 14:5 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ : اپنی قوم کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاؤ، اور (مختلف لوگوں کو) اللہ نے (خوشحالی اور بدحالی کے) جو دن دکھائے ہیں، (4) ان کے حوالے سے انہیں نصیحت کرو۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو صبر اور شکر کا خوگر ہو، اس کے لیے ان واقعات میں بڑی نشانیاں ہیں۔

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ وَ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 14:6 in the Quran reader

وہ وقت یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ : اللہ نے تم پر جو انعام کیا ہے، اسے یاد رکھو کہ اس نے تمہیں فرعون کے لوگوں سے نجات دی، جو تمہیں بدترین تکلیفیں پہنچاتے تھے، اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے، اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے، اور ان تمام واقعات میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارا زبردست امتحان تھا۔

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَئِنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ Open ayah 14:7 in the Quran reader

اور وہ وقت بھی جب تمہارے پروردگار نے اعلان فرما دیا تھا کہ اگر تم نے واقعی شکر ادا کیا تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا، اور اگر تم نے ناشکری کی تو یقین جانو، میرا عذاب بڑا سخت ہے۔

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 14:8 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا تھا کہ : اگر تم اور زمین پر بسنے والے تمام لوگ بھی ناشکری کریں، تو (اللہ کا کوئی نقصان نہیں، کیونکہ) اللہ بڑا بےنیاز ہے، بذات خود قابل تعریف۔

4: اصل قرآنی لفظ ایام اللہ ہے جس کے لفظی معنی ہیں اللہ کے دن۔ لیکن محاورے میں اس سے مراد وہ دن ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے خاص خاص اور اہم واقعات دکھلائے ہیں۔ مثلاً نافرمان قوموں پر عذاب کا نازل ہونا۔ اور فرماں برداروں کو دشمنوں کے مقابلے میں کامیابی عطا ہونا۔ لہذا آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان خاص خاص واقعات کا حوالہ دے کر اپنی قوم کو نصیحت کیجئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری اختیار کریں۔
Ayah 14:9

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۛؕ۬ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ۛؕ لَا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرَدُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فِیْۤ اَفْوَاهِهِمْ وَ قَالُوْۤا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَ اِنَّا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 14:9 in the Quran reader

(اے کفار مکہ) کیا تمہیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچتی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں، قوم نوح، عاد، ثمود اور ان کے بعد آنے والی قومیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (5) ان سب کے پاس ان کے رسول کھلے کھلے دلائل لے کر آئے، تو انہوں نے ان کہ منہ پر اپنے ہاتھ رکھ دیے، (6) اور کہا کہ : جو پیغام تمہیں دے کر بھیجا گیا ہے، ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں، اور جس بات کی تم ہمیں دعوت دے رہے ہو، اس کے بارے میں ہمیں بڑا بھاری شک ہے۔

5: اس سے مراد وہ قومیں بھی ہوسکتی ہیں جن کی تاریخ محفوظ نہیں رہ سکی اور وہ بھی جن کا اجامعلی حال تو معلوم ہے لیکن ان کی تعداد اور ان کے تفصیلی حالات کا کسی کو پتہ نہیں۔ 6: یہ ایک محاورہ ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ انہیں زبردستی بولنے اور تبلیغ کرنے سے روکا۔
Ayah 14:10

قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَدْعُوْكُمْ لِیَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرَكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ قَالُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ؕ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 14:10 in the Quran reader

ان کے پیغمبروں نے ان سے کہا : کیا اللہ کے بارے میں شک ہے جو سارے آسمانوں اور زمین کا خالق ہے ؟ وہ تمہیں بلا رہا ہے کہ تمہاری خاطر تمہارے گناہ معاف کردے، اور تمہیں ایک مقررہ مدت تک مہلت دے۔ (7) انہوں نے کہا کہ : تمہاری حقیقت اس کے سوا کچھ بھی نہیں کہ تم ایسے ہی انسان ہو جیسے ہم ہیں۔ تم یہ چاہتے ہو کہ ہمارے باپ دادا جن کی عبادت کرتے آئے ہیں ان سے ہمیں روک دو ، لہذا کوئی صاف صاف معجزہ لاکر دکھاؤ۔ (8)

7: مطلب یہ ہے کہ عذاب الٰہی سے تمہیں نجات مل جائے اور گناہوں کی معافی کے بعد تمہیں تمہاری عمر پوری ہونے تک زندگی سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملے۔ 8: اللہ تعالیٰ نے تقریبا ہر نبی کو کوئی نہ کوئی معجزہ عطا فرمایا تھا لیکن ان کافروں کا کہنا تھا کہ جس جس معجزے کی ہم فرمائش کرتے جائیں۔ وہ دکھاتے جاؤ۔
Ayahs 14:11–14

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَمُنُّ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِیَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 14:11 in the Quran reader

ان سے ان کے پیغمبروں نے کہا : ہم واقعی تمہارے ہی جیسے انسان ہیں، لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے خصوصی احسان فرما دیتا ہے۔ اور یہ بات ہمارے اختیار میں نہیں ہے کہ ہم اللہ کے حکم کے بغیر تمہیں کوئی معجزہ لا دکھائیں، اور مومنوں کو صرف اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ (9)

وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَا١ؕ وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَیْتُمُوْنَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۠ Open ayah 14:12 in the Quran reader

اور آخر ہم کیوں اللہ پر بھروسہ نہ رکھیں، جبکہ اس نے ہمیں ان راستوں کی ہدایت دے دی ہے جن پر ہمیں چلنا ہے ؟ اور تم نے ہمیں جو تکلیفیں پہنچائی ہیں، ان پر ہم یقینا صبر کریں گے، اور جن لوگوں کو بھروسہ رکھنا ہو، انہیں اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 14:13 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا تھا، انہوں نے اپنے پیغمبروں سے کہا کہ : ہم تمہیں اپنی سرزمین سے نکال کر رہیں گے، ورنہ تمہیں ہمارے دین میں واپس آنا پڑے گا۔ چنانچہ ان کے پروردگار نے ان پر وحی بھیجی کہ : یقین رکھو، ہم ان ظالموں کو ہلاک کردیں گے۔

وَ لَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَ خَافَ وَعِیْدِ Open ayah 14:14 in the Quran reader

اور ان کے بعد یقینا تمہیں زمین میں بسائیں گے، یہ ہے ہر اس شخص کا صلہ جو میرے سامنے کھڑا ہونے کا خوف رکھتا اور میری وعید سے ڈرتا ہے۔

9: یعنی اگر تم اس بات کو نہیں مانتے اور ایمان لانے والوں کو تکلیف پہنچانے کے درپے ہو تو مومن کو ان اوچھے ہتھکنڈوں سے ڈرایا نہیں جاسکتا۔ کیونکہ اس کا بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ پر ہوتا ہے۔
Ayahs 14:15–16

وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 14:15 in the Quran reader

اور ان کافروں نے خود فیصلہ مانگا، (10) اور (نتیجہ یہ ہوا کہ) ہر ڈینگیں مارنے والا ہٹ دھرم نامراد ہو کر رہا۔

مِّنْ وَّرَآئِهٖ جَهَنَّمُ وَ یُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِیْدٍۙ Open ayah 14:16 in the Quran reader

اس کے آگے جہنم ہے اور (وہاں) اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔

10: یعنی پیغمبروں سے یہ مطالبہ کیا کہ اگر تم سچے ہو تو اللہ تعالیٰ سے کہہ کر ایسا عذاب ہم پر بھجوا دو جس سے حق و باطل کا فیصلہ ہوجائے۔ یہ بات کہہ کر وہ در اصل پیغمبروں کا متکبرانہ انداز میں مذاق اڑاتے تھے۔
Ayah 14:17

یَّتَجَرَّعُهٗ وَ لَا یَكَادُ یُسِیْغُهٗ وَ یَاْتِیْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَیِّتٍ١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ Open ayah 14:17 in the Quran reader

وہ اسے گھونٹ گھونٹ کر کے پیے گا، اور اسے ایسا محسوس ہوگا کہ وہ اسے حلق سے اتار نہیں سکے گا، (11) موت اس پر ہر طرف سے آرہی ہوگی، مگر وہ مرے گا نہیں، (12) اور اس کے آگے (ہمیشہ) ایک اور سخت عذاب موجود ہوگا، (13)۔

11: یہ ترجمہ امام رازی ؒ کی بیان فرمائی ہوئی ایک تفسیر پر مبنی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں محسوس یہ ہوگا کہ وہ اس پانی کو حق سے اتار نہیں سکیں گے۔ لیکن گھونٹ گھونٹ کر کے بڑی مشکل سے اور بڑی دیر میں وہ حلق سے اترے گا۔ 12: ہر طرف سے موت آنے کا مطلب یہ ہے کہ عذاب کی جو مختلف صورتیں سامنے آئیں گی۔ وہ ایسی ہوں گی جو دنیا میں جان لیوا اور موت کا سبب ہوتی ہیں مگر وہاں ان کی وجہ سے انہیں موت نہیں آئے گی۔ 13: یعنی ہر عذاب کے بعد ایک دوسرا سخت عذاب آنے والا ہوگا، تاکہ ایک ہی قسم کا عذاب سہہ سہہ کر انسان اس کا عادی نہ ہوجائے والعیاذ باللہ تعالیٰ۔
Ayah 14:18

مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ اِ۟شْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ Open ayah 14:18 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کی روش اختیار کی ہے، ان کی حالت یہ ہے کہ ان کے اعمال اس راکھ کی طرح ہیں جسے آندھی طوفان والے دن میں ہوا تیزی سے اڑا لے جائے، (14) انہوں نے جو کچھ کمائی کی ہوگی، اس میں سے کچھ ان کے ہاتھ نہیں آئے گا۔ یہی تو پرلے درجے کی گمراہی ہے۔

14: کافر لوگ دنیا میں کچھ اچھے کام بھی کرتے ہیں۔ مثلاً غریبوں کی امداد وغیرہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ ان کے ایسے اچھے کاموں کا بدلہ انہیں دنیا ہی میں دے دیا جاتا ہے۔ آخرت میں ان کا کوئی ثواب نہیں ملتا، کیونکہ وہاں ثواب ملنے کے لیے ایمان شرط ہے۔ لہذا آخرت میں وہ اعمال ان کے کچھ کام نہیں آتے۔ اس کی مثال یہ دی گئی ہے کہ جس طرح راکھ کو آندھی اڑا لے جائے تو اس کا کوئی پتہ نشان نہیں ملتا۔ اسی طرح کافروں کے ان اعمال کو ان کا کفر کا لعدم کردے گا۔ اور ان اعمال کا کوئی فائدہ ان کو آخرت میں نہیں ملے گا۔
Ayahs 14:19–21

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۙ Open ayah 14:19 in the Quran reader

کیا تمہیں یہ بات نظر نہیں آتی کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو برحق مقصد سے پیدا کیا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم سب کو فنا کردے، اور ایک نئی مخلوق وجود میں لے آئے۔ (15)

وَّ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 14:20 in the Quran reader

اور یہ بات اللہ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔

وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِیْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَیْنٰكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ۠ Open ayah 14:21 in the Quran reader

اور یہ سب لوگ اللہ کے آگے پیش ہوں گے۔ پھر جو لوگ (دنیا میں) کمزور تھے، وہ بڑائی بگھارنے والوں سے کہیں گے کہ : ہم تو تمہارے پیچھے چلنے والے لوگ تھے، تو کیا اب تم ہمیں اللہ کے عذاب سے بچا لو گے ؟ وہ کہیں گے : اگر اللہ نے ہمیں ہدایت دی ہوتی تو ہم بھی تمہیں ہدایت دے دیتے۔ چاہے ہم چیخیں چلائیں یا صبر کریں، دونوں صورتیں ہمارے لیے برابر ہیں، ہمارے لیے چھٹکارے کا کوئی راستہ نہیں۔

15: اس آیت کریمہ میں آخرت کی زندگی کا ضروری ہونا بھی بیان فرمایا گیا ہے اور اس پر کافروں کو جو شبہ ہوتا ہے۔ اس کا جواب بھی دیا گیا ہے۔ پہلے تو یہ فرمایا گیا ہے کہ اس کائنات کی تخلیق ایک برحق مقصد کے لیے کی گئی ہے۔ اور وہ مقصد یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرماں برداروں کو انعام دیا جائے اور نافرمانوں اور ظالموں کو سزا ملے اگر آخرت کی زندگی نہ ہوتی تو نیک اور بد سب برابر ہوجاتے۔ لہذا انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اس دنیا کے بعد ایک دوسری زندگی ہو جس میں ہر انسان کو اس کے مناسب بدلہ دیا جاسکے۔ رہا کافروں کا یہ اعتراض کہ مر کر مٹی میں مل جانے کے بعد انسان کس طرح دوبارہ زندہ ہوں گے۔ تو اس کا جواب اگلے جملے میں یہ دیا گیا ہے کہ بالکل عدم سے وجود میں لانا زیادہ مشکل کام ہے اور جو مخلوق ایک مرتبہ وجود میں آچکی ہو تو اس پر موت طاری کر کے اسے زندہ کردینا اس کے مقابلے میں زیادہ آسان ہے۔ جب اللہ تعالیٰ پہلے مشکل کام پر قادر ہے تو اس دوسرے کام کی تو یقیناً قدرت رکھتا ہے۔
Ayah 14:22

وَ قَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لِیَ عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّاۤ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ١ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِیْ وَ لُوْمُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ١ؕ اِنِّیْ كَفَرْتُ بِمَاۤ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 14:22 in the Quran reader

اور جب ہر بات کا فیصلہ ہوجائے گا تو شیطان (اپنے ماننے والوں سے) کہے گا : حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے تم سے وعدہ کیا تو اس کی خلاف ورزی کی۔ اور مجھے تم پر اس سے زیادہ کوئی اختیار حاصل نہیں تھا کہ میں نے تمہیں (اللہ کی نافرمانی کی) دعوت دی تو تم نے میری بات مان لی۔ لہذا اب مجھے ملامت نہ کرو۔ بلکہ خود اپنے آپ کو ملامت کرو۔ نہ تمہاری فریاد پر میں تمہاری مدد کرسکتا ہوں، اور نہ میری فریاد پر تم میری مدد کرسکتے ہو۔ تم نے اس سے پہلے مجھے اللہ کا جو شریک مان لیا تھا، (آج) میں نے اس کا انکار کردیا ہے۔ (16) جن لوگوں نے یہ ظلم کیا تھا، ان کے حصے میں تو اب دردناک عذاب ہے۔

16: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شیطان کو شریک ماننے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی ایسی ہی اطاعت کی جائے جیسی اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے۔ شیطان اس وقت کہے گا کہ اب میں تمہارے اس طریق کار کے صحیح ہونے کا انکار کرتا ہوں۔
Ayah 14:23

وَ اُدْخِلَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ؕ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ Open ayah 14:23 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے تھے، اور انہوں نے نیک عمل کیے تھے، انہیں ایسے باغات میں داخل کیا جائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اپنے پروردگار کے حکم سے وہ ان (باغوں) میں ہمیشہ رہیں گے۔ وہ آپس میں ایک دوسرے کا استقبال سلام سے کریں گے۔ (17)

17: اوپر دوزخیوں کا مکالمہ مذکور تھا کہ وہ ایک دوسرے کو ملامت بھی کریں گے اور اس بات کا اعلان بھی کہ ان کے لئے تباہی کے سوا کچھ نہیں، اس کے مقابلے میں جنت والوں کا طریقہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ ہر ملاقات کے وقت ایک دوسرے کو تباہی کے بجائے سلامتی کا پیغام دیں گے۔
Ayah 14:24

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَیِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِی السَّمَآءِۙ Open ayah 14:24 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کلمہ طیبہ کی کیسی مثال بیان کی ہے ؟ وہ ایک پاکیزہ درخت کی طرح ہے جس کی جڑ (زمین میں) مضبوطی سے جمی ہوئی ہے، اور اس کی شاخیں آسمان میں ہیں۔ (18)

18: کلمہ طیبہ سے مراد کلمہ توحید یعنی لا الہ الا اللہ ہے اور اکثر مفسرین نے فرمایا ہے کہ پاکیزہ درخت سے مراد کھجور کا درخت ہے جس کی جڑیں زمین میں مضبوطی کے ساتھ جمی ہوتی ہیں، اور تیز ہوائیں اور آندھیاں اسے نقصان نہیں پہنچاسکتیں، نہ اسے اپنی جگہ سے ہلا سکتی ہیں، اسی طرح جب توحید کا کلمہ انسان کے دل و دماغ میں پیوست ہوجاتا ہے تو ایمان کی خاطر اسے کیسی ہی تکلیفوں یا مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑے اس کے ایمان میں کوئی کمزوری نہیں آتی ؛ چنانچہ آنحضرت ﷺ کے صحابہ کو ہر قسم کی اذیتیں دی گئیں ؛ لیکن توحید کا جو کلمہ ان کے دل میں گھر کرچکا تھا اس میں مصائب کی ان آندھیوں سے ذرہ برابر تزلزل نہیں آیا، کھجور کے درخت کی دوسری صفت اس آیت میں یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ اسکی شاخیں آسمان کی طرف بلند ہوتی ہیں، اور زمین کی کثافتوں سے دور رہتی ہیں، اسی طرح جب توحید کا کلمہ مومن کے دل میں پیوست ہوجاتا ہے تو اسکے تمام نیک کام جو درحقیقت اسی کلمے کی شاخیں ہیں آسمان کی طرف بلند ہوتے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ تک پہنچ کر اس کی خوشنودی حاصل کرتے ہیں، اور دنیا پرستی کی کثافتوں سے محفوظ رہتے ہیں۔
Ayah 14:25

تُؤْتِیْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِیْنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّهَا١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 14:25 in the Quran reader

اپنے رب کے حکم سے وہ ہر آن پھل دیتا ہے۔ (19) اللہ (اس قسم کی) مثالیں اس لیے دیتا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔

19: یعنی یہ درخت سدا بہار ہے، اس پر کبھی خزاں نہیں ہوتی، اور وہ ہر حال میں پھل دیتا ہے اگر اس سے مراد کھجور کا درخت ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا پھل سارے سال کھایا جاتا ہے، نیز جس زمانے میں بظاہر اس پر پھل نہیں ہوتا، اس زمانے میں بھی اس سے مختلف فائدے حاصل کئے جاتے ہیں، کبھی اس سے نیرا نکال کر پیا جاتا ہے، کبھی اس کے تنے کا گودا نکال کر کھایا جاتا ہے، اور کبھی اس کے پتوں سے مختلف چیزیں بنائی جاتی ہیں، اسی طرح جب کوئی شخص توحید کے کلمے پر ایمان لے آتا ہے تو چاہے خوش حال ہو یا تنگدست، عیش و آرام میں یا تکلیفوں میں ہر حال میں اس کے ایمان کی بدولت اسکے اعمال نامے میں نیکیاں بڑھتی رہتی ہیں اور اس کے نتیجے میں اس کے ثواب میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے، جو درحقیقت توحید کے کلمے کا پھل ہے۔
Ayah 14:26

وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِیْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِیْثَةِ اِ۟جْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ Open ayah 14:26 in the Quran reader

اور ناپاک کلمے کی مثال ایک خراب درخت کی طرح ہے جسے زمین کے اوپر ہی اوپر سے اکھاڑ لیا جائے، اس میں ذرا بھی جماؤ نہ ہو۔ (20)

20: ناپاک کلمہ سے مراد کفر کا کلمہ ہے، اس کی مثال ایسا خراب درخت ہے جس کی کوئی مضبوط جڑ نہ ہو ؛ بلکہ وہ جھاڑ جھنکاڑ کی شکل میں خود اگ آئے، اس میں جماؤ بالکل نہیں ہوتا، اس لئے جو شخص چاہے اسے آسانی سے اکھاڑ ڈالتا ہے، اسی طرح کافرانہ عقیدوں کی کوئی عقلی یا نقلی بنیاد نہیں ہوتی، ان کی تردید آسانی سے کی جاسکتی ہے، اور غالباً اس سے مسلمانوں کو یہ تسلی دی گئی ہے کہ کفر وشرک کے جن عقیدوں نے آج مسلمانوں پر زمین تنگ کی ہوئی ہے عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب ان کو اس طرح اکھاڑ پھینکا جائے گا جیسے جھاڑ جھنکاڑ کو اکھاڑ پھینک دیا جاتا ہے۔
Ayahs 14:27–28

یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ یُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِیْنَ١ۙ۫ وَ یَفْعَلُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ۠ Open ayah 14:27 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے ہیں، اللہ ان کو اس مضبوط بات پر دنیا کی زندگی میں جماؤ عطا کرتا ہے اور آخرت میں بھی، (21) اور ظالم لوگوں کو اللہ بھٹکا دیتا ہے، اور اللہ (اپنی حکمت کے مطابق) جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّ اَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِۙ Open ayah 14:28 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل ڈالا، اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں لا اتار۔

21: دنیا میں جماؤ عطا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مومن پر کتنی زبردستی کی جائے وہ توحید کے اس کلمے کو چھوڑ نے کے لئے تیار نہیں ہوتا، اور آخرت میں جماؤ پیدا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ قبر میں جب اس سے سوال و جواب ہوگا تو وہ اپنے اس کلمے اور عقیدے کا اظہار کرے گا جس کے نتیجے میں اسے آخرت کی ابدی نعمتیں نصیب ہوں گی۔
Ayahs 14:29–30

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 14:29 in the Quran reader

جس کا نام جہنم ہے ؟ (22) وہ اس میں جلیں گے، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِیْرَكُمْ اِلَى النَّارِ Open ayah 14:30 in the Quran reader

اور انہوں نے اللہ کے ساتھ (اس کی خدائی میں) کچھ شریک بنا لیے، تاکہ لوگوں کو اس کے راستے سے گمراہ کریں۔ ان سے کہو کہ : (تھوڑے سے) مزے اڑا لو، کیونکہ آخر کار تمہیں جانا دوزخ ہی کی طرف ہے۔

22: یہ مکہ مکرمہ کے کافر سرداروں کی طرف اشارہ ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے طرح طرح کی نعمتوں سے نوازا تھا، لیکن انہوں نے ان نعمتوں کی ناشکری کی، جس کے نتیجے میں خود بھی تباہی مول لی اور اپنی قوم کو بھی تباہی کے راستے پر لے گئے۔
Ayahs 14:31–34

قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خِلٰلٌ Open ayah 14:31 in the Quran reader

میرے جو بندے ایمان لائے ہیں، ان سے کہہ دو کہ وہ نماز قائم کریں، اور ہم نے ان کو جو رزق دیا ہے اس میں سے پوشیدہ طور پر بھی اور علانیہ بھی (نیکی کے کاموں میں) خرچ کریں (اور یہ کام) اس دن کے آنے سے پہلے پہلے (کرلیں) جس میں نہ کوئی خریدو فروخت ہوگی، نہ کوئی دوستی آئے گی۔ (23)

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَۚ Open ayah 14:32 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کے ذریعے تمہارے رزق کے لیے پھل اگائے، اور کشتیوں کو تمہارے لیے رام کردیا، تاکہ وہ اس کے حکم سے سمندر میں چلیں، اور دریاؤں کو بھی تمہاری خدمت پر لگا دیا۔

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ دَآئِبَیْنِ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَۚ Open ayah 14:33 in the Quran reader

اور تمہاری خاطر سورج اور چاند کو اس طرح کام پر لگایا کہ وہ مسلسل سفر میں ہیں، اور تمہاری خاطر رات اور دن کو بھی کام پر لگایا۔

وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ١ؕ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ۠ Open ayah 14:34 in the Quran reader

اور تم نے جو کچھ مانگا، اس نے اس میں سے (جو تمہارے لیے مناسب تھا) تمہیں دیا۔ اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنے لگو تو شمار (بھی) نہیں کرسکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان بہت بےانصاف، بڑا ناشکرا ہے۔

23: اس سے مراد حساب و کتاب کا دن ہے۔ اس دن کوئی شخص پیسے خرچ کر کے جنت نہیں خرید سکے گا اور نہ دوستی کے تعلقات کی بنا پر اپنے آپ کو عذاب سے بچا سکے گا۔
Ayah 14:35

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَؕ Open ayah 14:35 in the Quran reader

اور یاد کرو وہ وقت جب ابراہیم نے (اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے) کہا تھا کہ : یا رب ! اس شہر کو پر امن بنا دیجیے (24) اور مجھے اور میرے بیٹوں کو اس بات سے بچایے کہ ہم بتوں کی پرستش کریں۔ (25)

24: اس سے مراد مکہ مکرمہ کا شہر ہے جہاں حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی اہلیہ ہاجرہ ؓ اور اپنے صاحب زادے حضرت اسماعیل ؑ کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے چھوڑا تھا، اس وقت یہاں کوئی آبادی نہیں تھی نہ بظاہر زندہ رہنے کا کوئی سامان، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہاں پہلے زمزم کا کنواں جاری فرمایا، جسے دیکھ کر قبیلہ جرہم کے لوگ یہاں آکر حضرت ہاجرہ ؓ کی اجازت سے آباد ہوئے اور پھر رفتہ رفتہ یہ ایک شہر بن گیا۔ 25: مکہ مکرمہ کے مشرکین حضرت ابراہیم ؑ کو اپنا بڑا مانتے تھے اس لیے ان آیات میں اللہ تعالیٰ ان کی یہ دعا نقل فرما کر انہیں متنبہ فرما رہے ہیں کہ وہ تو بت پرستی سے اتنے بیزار تھے کہ انہوں نے اپنی اولاد کو اس سے محفوظ رہنے کی دعا مانگی تھی پھر تم لوگوں نے کہاں سے بت پرستی شروع کردی۔
Ayah 14:36

رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ١ۚ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 14:36 in the Quran reader

میرے پروردگار ! ان بتوں نے لوگوں کی بڑی تعداد کو گمراہ کیا ہے۔ لہذا جو کوئی میری راہ پر چلے، وہ تو میرا ہے، اور جو میرا کہنا نہ مانے، تو (اس کا معاملہ میں آپ پر چھوڑتا ہوں) آپ بہت بخشنے والے بڑے مہربان ہیں۔ (26)

26: مطلب یہ ہے کہ اپنی اولاد اور دوسرے لوگوں کو بت پرستی سے بچنے کی تاکید کرتا رہوں گا، پھر جو لوگ میری ان ہدایات پر عمل کریں گے، وہ تو مجھ سے تعلق رکھنے کا دعوی کرسکیں گے، لیکن جو میری بات نہیں مانیں گے، ان کے لئے میں بددعا نہیں کرتا ؛ بلکہ اسکا معاملہ آپ پر چھوڑتا ہوں، آپ غفور رحیم ہیں، اس لئے ان کی مغفرت کا یہ راستہ بھی نکال سکتے ہیں کہ ان کو ہدایت عطا فرمادیں۔
Ayahs 14:37–40

رَبَّنَاۤ اِنِّیْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِكَ الْمُحَرَّمِ١ۙ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِیْۤ اِلَیْهِمْ وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَشْكُرُوْنَ Open ayah 14:37 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! میں نے اپنی کچھ اولاد کو آپ کے حرمت والے گھر کے پاس ایک ایسی وادی میں لا بسایا ہے جس میں کوئی کھیتی نہیں ہوتی، ہمارے پروردگار ! (یہ میں نے اس لیے کیا) تاکہ یہ نماز قائم کریں۔ لہذا لوگوں کے دلوں میں ان کے لیے کشش پیدا کردیجیے، اور ان کو پھلوں کا رزق عطا فرمایے۔ (27) تاکہ وہ شکر گزار بنیں۔

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَ مَا نُعْلِنُ١ؕ وَ مَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ Open ayah 14:38 in the Quran reader

اے ہمارے رب ! ہم جو کام چھپ کر کرتے ہیں، وہ بھی آپ کے علم میں ہیں، اور جو کام علانیہ کرتے ہیں، وہ بھی۔ اور اللہ سے نہ زمین کی کوئی چیز چھپی ہوئی ہے، نہ آسمان کی کوئی چیز۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 14:39 in the Quran reader

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق (جیسے بیٹے) عطا فرمائے۔ بیشک میرا رب بڑا دعائیں سننے والا ہے۔

رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ۖۗ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ Open ayah 14:40 in the Quran reader

یا رب ! مجھے بھی نماز قائم کرنے والا بنا دیجیے اور میری اولاد میں سے بھی (ایسے لوگ پیدا فرمایے جو نماز قائم کریں) اے ہمارے پروردگار ! اور میری دعا قبول فرمالیجیے ،

27: حضرت ابراہیم ؑ کی دعا ایسی قبول ہوئی کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل مکہ مکرمہ کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں، موسم حج میں تو یہ نظارہ ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ کہاں کہاں سے لوگ مشقتیں اٹھا کر اس خشک اور بےآب وگیاہ علاقے میں پہنچتے ہیں، موسم حج کے علاوہ بھی لوگ بار بار عمرے اور دوسری عبادتوں کے لئے وہاں پہنچتے ہیں، اور جو ایک مرتبہ وہاں چلا جاتا ہے، اسے بار بار حاضری کا شوق لگا رہتا ہے، اور پھلوں کی افراط کا یہ عالم ہے کہ دنیا بھر کے پھل بڑی تعداد میں وہاں پہنچتے ہیں، حالانکہ وہاں کی زمین میں اپنا کوئی پھل پیدا نہیں ہوتا۔