13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

سورة الرعد تعارف یہ سورت بھی ہجرت سے پہلے نازل ہوئی تھی، اور اس کا بنیادی موضوع اسلام کے بنیادی عقائد یعنی توحید، رسالت اور آخرت کا اثبات اور ان پر عائد کیے جانے والے اعتراضات کا جواب ہے۔ پچھلی سورت یعنی سورة یوسف کے آخر ( آیت نمبر ١٠٥) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ آسمانوں اور زمین میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور اس کی وحدانیت کی بہت سی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں، لیکن کفار ان کی طرف دھیان دینے کے بجائے ان سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ اب اس سورت میں کائنات کی ان نشانیوں کی کچھ تفصیل بیان فرمائی گئی ہے جو پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ جس قادر مطلق نے اس کائنات کا یہ محیر العقول نظام بنایا ہے، اسے اپنی خدائی قائم کرنے کے لیے کسی مددگار یا شریک کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر انصاف کے ساتھ غور کیا جائے تو اس کائنات کا ہر ذرہ اللہ تعالیٰ کی توحید کی بھی گواہی دیتا ہے، اور اس بات کی بھی کہ یہ سارا نظام اس نے بےمقصد پیدا نہیں کردیا۔ اس کا یقینا کوئی مقصد ہے، اور وہ یہ کہ اس دنیوی زندگی میں کیے ہوئے ہر کام کا کسی دن حساب ہو، اور اس دن نیکیوں کا انعام اور برائیوں کی سزا دی جائے۔ اس سے خودبخود آخرت کا عقیدہ ثابت ہوتا ہے۔ پھر نیکی اور برائی کا تعین کرنے کے ل یے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح ہدایات بندوں کو دی جائیں۔ ان ہدایات کا ذریعہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ہیں جو وحی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے احکام معلوم کر کے دنیا والوں تک پہنچاتے ہیں۔ لہذا اسی سے رسالت کا عقیدہ بھی ثابت ہوتا ہے۔ کائنات کی جو نشانیاں اس سورت میں بیان کی گئی ہیں، ان میں بادلوں کی گرج چمک بھی ہے جس کا ذکر اس سورت کی آیت نمبر ١٣ میں آیا ہے۔ عربی میں گرج کو رعد کہا جاتا ہے۔ اسی پر اس سورت کا نام رعد رکھا گیا ہے۔

Ayah 13:1

الٓمّٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ١ؕ وَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 13:1 in the Quran reader

المر (1) یہ (اللہ کی) کتاب کی آیتیں ہیں، اور (اے پیغمبر) جو کچھ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے، برحق ہے، لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لار ہے۔

1: جیسا کہ سورة بقرہ کے شروع میں عرض کیا گیا ان حروف مقطعات کا صحیح مطلب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
Ayah 13:2

اَللّٰهُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ Open ayah 13:2 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے ایسے ستونوں کے بغیر آسمانوں کو بلند کیا جو تمہیں نظر آسکیں، (2) پھر اس نے عرش پر استوا فرمایا (3) اور سورج اور چاند کو کام پر لگا دیا (4) ہر چیز ایک معین میعاد تک کے لیے رواں دوان ہے۔ وہی تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے، وہی ان انشانیوں کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ تم اس بات کا یقین کرلو کہ (ایک دن) تمہیں اپنے پروردگار سے جا ملنا ہے (5)

2: یعنی یہ آسمان ایسے ستونوں پر نہیں کھڑے ہیں جو آنکھوں سے نظر آسکیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ ہی کے سہارے انہیں کھڑا کیا ہوا ہے۔ آیت کی یہ تفسیر حضرت مجاہد سے مروی ہے (روح المعانی 110:13) 3: استواء کے لفظی معنی سیدھا ہونے، قابو پانے اور بیٹھ جانے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مخلوقات کی طرح نہیں ہیں اس لیے ان کا استواء بھی مخلوقات جیسا نہیں۔ اس کی ٹھیک ٹھیک کیفیت اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اس لیے ہم نے اس لفظ کا اردو میں ترجمہ کرنے کی بجائے اسی لفظ کو برقرار رکھا ہے کیونکہ ہمارے لیے اتنا ایمان رکھنا کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عرش پر اس طرح استواء فرمایا جو ان کی شان کے لائق ہے اس سے زیادہ کسی بحث میں پڑنے کی نہ ضرورت ہے، نہ ہماری محدود عقل اس کا احاطہ کرسکتی ہے۔ 4: اشارہ اس طرف ہے کہ یہ چاند سورج بےمقصد گردش نہیں کر رہے ہیں، ان کے سپرد ایک کام ہے جو وہ انتہائی نظم و ضبط اور استقامت کے ساتھ اس طرح انجام دئیے جارہے ہیں کہ ان کے نظام الاوقات میں ایک لمحے کا بھی فرق نہیں آتا۔ اگر غور کیا جائے تو ان کے سپرد پوری دنیا کی خدمت ہے۔ لہذا ایک ہوش مند انسان کو یہ سوچنا چاہیے کہ یہ عظیم الشان مخلوقات اس کی خدمت کیوں انجام دے رہی ہیں ؟ اگر خود اس کے سپرد کوئی بڑی خدمت نہیں ہے تو چاند سورج کو کیا ضرورت ہے کہ وہ مستقل طور پر انسان کی خدمت انجام دیں ؟ 5: یعنی آخرت کا یقین پیدا کرلو۔ اور وہ اس طرح کہ جس ذات نے اتین حیرت انگیز کائنات پیدا فرمائی ہے۔ وہ اس بات پر کیوں قادر نہیں ہوسکتی کہ انسانوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کردے۔ نیز اس کی حکمت اور انصاف سے بعید ہے کہ وہ اچھے اور برے، ظالم اور مظلوم دونوں کے ساتھ ایک جیسا معاملہ کرے۔ اور اس نے اس دنیا کے بعد کوئی ایسا عالم پیدا نہ کیا ہو جس میں نیک لوگوں کو ان کی نیکی کا اچھا بدلہ اور برائی کرنے والوں کو ان کی برائی کے بعد سزا دی جاسکے۔
Ayah 13:3

وَ هُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْهٰرًا١ؕ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 13:3 in the Quran reader

اور وہی ذات ہے جس نے یہ زمین پھیلائی، اس میں پہاڑ اور دریا بنائے، اور اس میں ہر قسم کے پھلوں کے دو دو جوڑے پیدا کیے۔ (6) وہ دن کو رات کی چادر اڑھا دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان ساری باتوں میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو غور و فکر کریں۔

6: نباتات میں نر اور مادہ کے جوڑے ہوتے ہیں۔ کسی زمانے میں یہ حقیقت لوگوں کو معلوم نہیں تھی کہ نر اور مادہ کا یہ نظام ہر درخت اور ہر پودے میں ہوتا ہے، لیکن جدید سائنس کو یہ حقیقت اب دریافت ہوگئی ہے۔
Ayah 13:4

وَ فِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَیْرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ١۫ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِی الْاُكُلِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 13:4 in the Quran reader

اور زمین میں مختلف قطعے ہیں جو پاس پاس واقعے ہوئے ہیں (7) اور انگور کے باغ اور کھیتیاں اور کھجور کے درخت ہیں، جن میں سے کچھ دہرے تنے والے ہیں، اور کچھ اکہرے تنے والے۔ سب ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں، اور ہم ان میں سے کسی کو ذائقے میں دوسرے پر فوقیت دے دیتے ہیں۔ (8) یقینا ان سب باتوں میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیں۔

7: یعنی پاس پاس ہونے کے باوجود زمین کے مختلف حصوں کی خصوصیات میں فرق ہوتا ہے زمین کا ایک قطعہ کاشت کے لائق ہے، مگر اس کے بالکل برابر والا کاشت کے لائق نہیں۔ ایک حصے سے میٹھا پانی نکل رہا ہے۔ مگر اس کے قریب ہی دوسرے حصے سے کھارا پانی بر آمد ہوتا ہے۔ ایک قطعہ نرم ہے اور دوسرا سنگلاخ۔ 8: یعنی کسی درخت سے زیادہ پھل نکلتے ہیں کسی سے کم، کسی کا ذائقہ بہت اچھا ہوتا ہے، اور کسی کا اتنا اچھا نہیں ہوتا۔
Ayah 13:5

وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 13:5 in the Quran reader

اور اگر تمہیں (ان کافروں پر) تعجب ہوتا ہے تو ان کا یہ کہنا (واقعی) عجیب ہے کہ : کیا جب ہم مٹی ہوجائیں گے تو کیا سچ مچ ہم نئے سرے سے پیدا ہوں گے ؟ (9) یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب (کی قدرت) کا انکار کیا ہے، اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے گلوں میں طوق پڑے ہوئے ہیں (10) اور وہ دوزخ کے باسی ہیں۔ وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔

9: مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا مردوں کو زندہ کرنا کوئی تعجب کی بات نہیں، اس لیے کہ جو ذات یہ عظیم کائنات عدم سے وجود میں لاسکتی ہے، اس کے لیے انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے ؟ لیکن تعجب کے لائق تو یہ بات ہے کہ یہ کافر لوگ کھلی آنکھوں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے بیشمار مظاہر دیکھنے کے بعد بھی نئے سرے سے پیدا کرنے کو اللہ تعالیٰ قدرت سے بعید سمجھتے ہیں۔ 10: جب کسی کے گلے میں طوق پڑا ہوا ہو تو وہ ادھر ادھر دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے۔ اسی طرح یہ لوگ حقائق کو دیکھنے اور ان کی طرف دھیان کرنے سے محروم ہیں (روح المعانی) اس کے علاوہ گلے میں طوق در اصل غلامی کی علامت ہے۔ چنانچہ اسلام سے پہلے معاشروں میں غلاموں کے ساتھ یہی معاملہ کیا جاتا تھا۔ لہذا آیت کا اشارہ اس طرف بھی ہوسکتا ہے کہ ان لوگوں کے گلوں میں اپنی خواہشات اور شیطان کی غلامی کا طوق پڑا ہوا ہے، اس لیے وہ غیر جانب داری سے کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل نہیں رہے۔ اور بعض مفسرین نے اس جملے کا مطلب یہ بھی بیان کیا ہے کہ آخرت میں ان کے گلوں میں طوق ڈالے جائیں گے۔
Ayah 13:6

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 13:6 in the Quran reader

اور یہ لوگ خوشحالی (کی میعاد ختم ہونے) سے پہلے تم سے بدحالی کی جلدی مچائے ہوئے ہیں (11) حالانکہ ان سے پہلے ایسے عذاب کے واقعات گزر چکے ہیں جس نے لوگوں کو رسوا کر ڈالا تھا۔ اور یہ حقیقت ہے کہ لوگوں کے لیے ان کی زیادتی کے باوجود تمہارے رب کی ذات ایک معاف کرنے والی ذات ہے، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کا عذاب بڑا سخت ہے۔ (12)

11: کفار مکہ آنحضرت ﷺ سے یہ مطالبہ کرتے تھے کہ اگر ہمارا دین غلط ہے تو اللہ تعالیٰ سے کہیے کہ ہم پر عذاب نازل کردے۔ یہاں ان کے اس بےہودہ مطالبہ کی طرف اشارہ ہے۔ 12: یعنی جو چھوٹے چھوٹے گناہ انسان سے نادانی میں سر زد ہوجائیں یا بڑے گناہ ہوں، مگر انسان ان سے توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ ان زیادتیوں کے باوجود اپنے بندوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ لیکن کفر و شرک اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ضد اور عناد کا معاملہ ایسا ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا عذاب بھی بڑا سخت ہے۔ لہذا بندوں کو یہ سوچ کر بےفکر نہ ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا ہے، اس لیے وہ ہماری ہر نافرمانی کو ضرور معاف فرما دے گا۔
Ayah 13:7

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۠ Open ayah 13:7 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ کہتے ہیں کہ : بھلا ان پر (یعنی آنحضرت ﷺ پر) ان کے رب کی طرف سے کوئی معجزہ کیوں نہیں اتارا گیا ؟ (13) (اے پیغمبر) بات یہ ہے کہ تم تو صرف خطرے سے ہوشیار کرنے والے ہو، اور ہر قوم کے لیے کوئی نہ کوئی ایسا شخص ہوا ہے جو ہدایت کا راستہ دکھائے۔

13: آنحضرت ﷺ کو بہت سے معجزات دئیے گئے تھے، لیکن کفار مکہ اپنی طرف سے نت نئے معجزات کی فرمائش کرتے رہتے تھے۔ اور جب ان کا کوئی مطالبہ پورا نہ ہوتا تو وہ یہ بات کہتے تھے جو اس آیت میں مذکور ہے۔ جواب میں قرآن کریم نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ تو ایک پیغمبر ہیں وہ اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر کوئی مجعزہ نہیں دکھا سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کے پاس ایسے پیغمبر بھیجے ہیں ان سب کا یہی حال تھا۔
Ayahs 13:8–10

اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُ١ؕ وَ كُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ Open ayah 13:8 in the Quran reader

جس کسی مادہ کو جو حمل ہوتا ہے، اللہ اس کو بھی جانتا ہے، اور ماؤں کے رحم میں جو کوئی کمی بیشی ہوتی ہے اس کو بھی، (14) اور ہر چیز کا اس کے ہاں ایک اندازہ مقرر ہے۔

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْكَبِیْرُ الْمُتَعَالِ Open ayah 13:9 in the Quran reader

وہ غائب و حاضر تمام باتوں کا جاننے والا ہے، اس کی ذات بہت بڑی ہے، اس کی شان بہت اونچی۔

سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّیْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ Open ayah 13:10 in the Quran reader

تم میں سے کوئی چپکے سے بات کرے یا زور سے، کوئی رات کے وقت چھپا ہوا ہو، یا دن کے وقت چل پھر رہا ہو، وہ سب (اللہ کے علم کے لحاظ سے) برابر ہیں۔

14: یعنی اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ کس ماں کے پیٹ میں کیسا بچہ ہے۔ اور رحم میں رہتے ہوئے حمل بڑھ رہا ہے یا گھٹ رہا ہے۔
Ayahs 13:11–12

لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ Open ayah 13:11 in the Quran reader

ہر شخص کے آگے اور پیچھے وہ نگران (فرشتے) مقرر ہیں جو اللہ کے حکم سے باری باری اس کی حفاظت کرتے ہیں (15) یقین جانو کہ اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے حالات میں تبدیلی نہ لے آئے۔ (16) اور جب اللہ کسی قوم پر کوئی آفت لانے کا ارادہ کرلیتا ہے تو اس کا ٹالنا ممکن نہیں، اور ایسے لوگوں کا خود اس کے سوا کوئی رکھوالا نہیں ہوسکتا۔

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَۚ Open ayah 13:12 in the Quran reader

وہی ہے جو تمہیں بجلی کی چمک دکھلاتا ہے جس سے تمہیں (اس کے گرنے کا) ڈر بھی لگتا ہے، اور (بارش کی) امید بھی بندھتی ہے اور وہی (پانی سے) لدے ہوئے بادل اٹھاتا ہے۔

15: نگران سے یہاں مراد فرشتے ہیں اس آیت نے واضح فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی حفاظت کے لیے کچھ فرشتے مقرر فرما رکھے ہیں جو باری باری اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ قرآن کریم میں اصل لفظ معقبت استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں باری باری آنے والے اس کی تفصیل صحیح بخاری کی ایک حدیث میں آئی ہے کہ فرشتوں کی ایک جماعت دن کے وقت انسانوں کی نگرانی پر مامور ہے اور دوسری جماعت رات کے وقت ان کی حفاظت کرتی ہے۔ ابو داؤد کی ایک روایت میں حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ یہ فرشتے مختلف حادثات سے انسانوں کی حفاظت کرتے ہیں، البتہ جب اللہ تعالیٰ کا حکم ہی یہ ہو کہ کسی شخص کو کسی تکلیف میں مبتلا کیا جائے تو یہ فرشتے وہاں سے ہٹ جاتے ہیں (تفصیل کے لیے دیکھئے معارف القرآن) 16: انسانوں کی حفاظت پر جو فرشتے مقرر ہیں، اس سے کسی کو یہ غلطی فہمی ہوسکتی تھی کہ جب اللہ تعالیٰ نے حفاظت کا یہ انتظام کر رکھا ہے تو انسان کو بےفکر ہوجانا چاہیے۔ اور گناہ ثواب کی پرواہ بھی نہ کرنی چاہیے۔ کیونکہ یہ فرشتے حفاظت کرلیں گے آیت کے اس حصے میں اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ کہ یوں تو اللہ تعالیٰ کسی قوم کی اچھی حالت کو بدحالی سے خود بخود نہیں بدلتا، لیکن جب وہ نافرمانی پر کمر باندھ کر اپنی حالت خود بدل ڈالیں تو پھر اللہ تعالیٰ کا عذاب آتا ہے۔ اور اسے کوئی دور نہیں کرسکتا۔ چنانچہ وہ نگران فرشتے بھی ایسی صورت میں کام نہیں دیتے۔
Ayahs 13:13–14

وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ مِنْ خِیْفَتِهٖ١ۚ وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَآءُ وَ هُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِؕ Open ayah 13:13 in the Quran reader

اور بادلوں کی گرج اسی کی تسبیح اور حمد کرتی ہے (17) اور اس کے رعب سے فرشتے بھی (تسبیح میں لگے ہوئے ہیں) اور وہی کڑکتی ہوئی بجلیاں بھیجتا ہے۔ پھر جس پر چاہتا ہے انہیں مصیبت بنا کر گرا دیتا ہے، اور ان (کافروں) کا حال یہ ہے کہ اللہ ہی کے بارے میں بحثیں کر رہے ہیں، حالانکہ اس کی طاقت بڑی زبردست ہے۔

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 13:14 in the Quran reader

وہی ہے جس سے دعا کرنا برحق ہے۔ اور اس کو چھوڑ کر یہ لوگ جن (دیوتاؤں) کو پکارتے ہیں وہ ان کی دعاؤں کا کوئی جواب نہیں دیتے، البتہ ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو پانی کی طرف اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر یہ چاہے کہ پانی خود اس کے منہ تک پہنچ جائے، حالانکہ وہ کبھی خود منہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ اور (بتوں سے) کافروں کے دعا کرنے کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ بھٹکتی ہی پھرتی رہے۔

17: بادلوں کی گرج کا حمد اور تسبیح کرنا حقیقی معنی میں بھی ہوسکتا ہے ؛ کیونکہ کائنات کی ہر چیز کے بارے میں قرآن کریم نے سورة بنی اسرائیل میں فرمایا ہے کہ وہ اپنے اپنے انداز میں اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح کرتی ہے مگر لوگ ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں ہیں (15۔ 44) اور اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جو شخص بھی بادلوں کی گرج، چمک اس کے اسباب اور اس کے نتائج پر غور کرے گا، وہ دنیا کے کونے کونے تک پانی پہنچانے کے اس حیرت انگیز نظام کو دیکھ کر اس خالق ومالک کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا جس نے یہ نظام بنایا ہے، نیز وہ اس نتیجے تک ضرور پہنچے گا جس ذات نے یہ محیرا لعقول نظام بنایا ہے، وہ ہر عیب سے پاک ہے اور اس کو اپنی خدائی میں کسی شریک یا مددگار کی ضرورت نہیں، اور تسبیح کے یہی معنی ہیں۔
Ayah 13:15

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩ Open ayah 13:15 in the Quran reader

اور وہ اللہ ہی ہے جس کو آسمانوں اور زمین کی ساری مخلوقات سجدہ کرتی ہیں، کچھ خوشی سے، کچھ مجبوری سے، (18) اور ان کے سائے بھی صبح و شام اس کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔

18: سجدہ کرنے سے یہاں مراد اللہ تعالیٰ کے احکام کے آگے جھک جانا ہے، مومن خوشی خوشی ان احکام کے آگے جھکتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کے ہر فیصلے پر راضی رہتا ہے، اور کافر اللہ تعالیٰ کے تکوینی فیصلوں کے آگے مجبور ہے، اس لئے وہ چاہے یا نہ چاہے، اللہ تعالیٰ کائنات میں جو فیصلے فرماتا ہے مجبوراً ان کے آگے سرجھکانے کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ نہیں، واضح رہے کہ یہ سجدے کی آیت ہے، اس کی تلاوت یا سننے سے سجدہ واجب ہوتا ہے۔
Ayah 13:16

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ اَمْ هَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ١ۚ۬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَیْهِمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 13:16 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! ان کافروں سے) کہو کہ : وہ کون ہے جو آسمانوں اور زمین کی پرورش کرتا ہے ؟ کہو کہ : وہ اللہ ہے ! کہو کہ : کیا پھر بھی تم نے اس کو چھوڑ کر ایسے کارساز بنا لیے ہیں جنہیں خود اپنے آپ کو بھی نہ کوئی فائدہ پہنچانے کی قدرت حاصل ہے نہ نقصان پہنچانے کی ؟ کہو کہ : کیا اندھا اور دیکھنے والا برابر ہوسکتا ہے ؟ یا کیا اندھیریاں اور روشنی ایک جیسی ہوسکتی ہیں ؟ یا ان لوگوں نے اللہ کے ایسے شریک مانے ہوئے ہیں جنہوں نے کوئی چیز اسی طرح پیدا کی ہو جیسے اللہ پیدا کرتا ہے، (19) اور اس وجہ سے ان کو دونوں کی تخلیق ایک جیسی معلوم ہورہی ہو ؟ (اگر کوئی اس غلط فہمی میں مبتلا ہے تو اس سے) کہہ دو کہ : صرف اللہ ہر چیز کا خالق ہے، اور وہ تنہا ہی ایسا ہے کہ اس کا اقتدار سب پر حاوی ہے۔

19: مشرکین عرب جن دیوتاؤں کو خدا مان کر ان کی عبادت کرتے تھے، عام طور سے وہ یہ مانتے تھے کہ انہوں نے کائنات کی تخلیق میں کوئی حصہ نہیں لیا ؛ بلکہ ساری کائنات اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا کی ہے، لیکن ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے خدائی کے بہت سے اختیارات ان کو دے رکھے ہیں، اس لئے ان کی عبادت کرنی چاہیے، تاکہ وہ اپنے اختیارات ہمارے حق میں استعمال کریں، اور اللہ تعالیٰ سے ہماری سفارش بھی کریں، اس آیت میں اول تو یہ فرمایا گیا ہے کہ یہ من گھڑت دیوتا کوئی نفع یا نقصان اپنے آپ کو بھی نہیں پہنچا سکتے، دوسروں کو کیا پہنچائیں گے، پھر فرمایا گیا ہے کہ اگر ان دیوتاؤں نے بھی اللہ تعالیٰ کی طرح کچھ پیدا کیا ہوتا تب بھی ان کو خدا کا شریک ماننے کی کوئی وجہ ہوسکتی تھی، لیکن نہ واقعۃ انہوں نے کچھ پیدا کیا ہے اور نہ اکثر اہل عرب کا ایسا عقیدہ ہے، پھر ان کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دے کر ان کی عبادت کرنے کا آخر کیا جواز ہے ؟
Ayahs 13:17–20

اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًا١ؕ وَ مِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ١ؕ۬ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءً١ۚ وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ Open ayah 13:17 in the Quran reader

اسی نے آسمان سے پانی برسایا جس سے ندی نالے اپنی اپنی بشاط کے مطابق بہہ پڑے، پھر پانی کے ریلے نے پھولے ہوئے جھاگ کو اوپر اٹھا لیا، اور اسی قسم کا جھاگ اس وقت بھی اٹھتا ہے جب لوگ زیور یا برتن بنانے کے لیے دھاتوں کو آگ پر تپاتے ہیں۔ اللہ حق اور باطل کی مثال اسی طرح بیان کر رہا ہے کہ (دونوں قسم کا) جو جھاگ ہوتا ہے وہ تو باہر گر کر ضائع ہوجاتا ہے، لیکن وہ چیز جو لوگوں کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے۔ (20) اسی قسم کی تمثیلیں ہیں جو اللہ بیان کرتا ہے۔

لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى١ؔؕ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ١ۙ۬ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠ Open ayah 13:18 in the Quran reader

بھلائی انہی لوگوں کے حصے میں ہے جنہوں نے اپنے رب کا کہنا مانا ہے اور جنہوں نے اس کا کہنا نہیں مانا، اگر ان کے پاس دنیا بھر کی ساری چیزیں بھی ہوں گی، بلکہ اتنی ہی اور بھی، تو وہ (قیامت کے دن) اپنی جان بچانے کے لیے وہ سب کچھ دینے کو تیار ہوجائیں گے۔ ان لوگوں کے حصے میں بری طرح کا حساب ہے، اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ Open ayah 13:19 in the Quran reader

جو شخص یہ یقین رکھتا ہو کہ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے جو کچھ نازل ہوا ہے، برحق ہے، بھلا وہ اس جیسا کیسے ہوسکتا ہے جو بالکل اندھا ہو ؟ حقیقت یہ ہے کہ نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل و ہوش رکھتے ہوں۔

الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ Open ayah 13:20 in the Quran reader

(یعنی) وہ لوگ جو اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرتے ہیں، اور معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔

20: یعنی باطل چاہے کچھ عرصے غالب نظر آئے لیکن وہ جھاگ کی طرح بےفائدہ اور فنا ہوجاتا ہے اور حق پانی اور دوسری نفع بخش چیزوں کی طرح فائدہ مند اور باقی رہنے والا ہے
Ayah 13:21

وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ Open ayah 13:21 in the Quran reader

اور جن رشتوں کو اللہ نے جوڑے رکھنے کا حکم دیا ہے، یہ لوگ انہیں جوڑے رکھتے ہیں، (21) اور اپنے پر ورگار سے ڈرتے ہیں، اور حساب کے برے انجام سے خوف کھاتے ہیں۔

21: یعنی اللہ تعالیٰ نے جن تعلقات کو قائم رکھنے اور ان کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ہے، انہیں پوری طرح ادا کرتے ہیں اس میں رشتہ داروں کے تمام حقوق بھی داخل ہیں اور دینی رشتے سے جو حقوق پیدا ہوتے ہیں وہ بھی چنانچہ اللہ تعالیٰ نے جتنے انبیائے کرام پر ایمان لانے کا حکم دیا ہے ان سب پر ایمان بھی لاتے ہیں اور جن کی اطاعت کا حکم دیا ہے، ان کی اطاعت بھی کرتے ہیں
Ayahs 13:22–25

وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ Open ayah 13:22 in the Quran reader

اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی خوشنودی کی خاطر صبر سے کام لیا ہے، (22) اور نماز قائم کی ہے اور ہم نے انہیں جو رزق عطا فرمایا ہے، اس میں سے خفیہ بھی اور علانیہ بھی خرچ کیا ہے، اور وہ بدسلوکی کا دفاع حسن سلوک سے کرتے ہیں، (23) وطن اصلی میں بہترین انجام ان کا حصہ، (24)۔

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍۚ Open ayah 13:23 in the Quran reader

یعنی ہمیشہ رہنے کے لیے وہ باغات جن میں وہ خود بھی داخل ہوں گے، اور ان کے باپ دادوں، بیویوں اور اولاد میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی، اور (ان کے استقبال کے لیے) فرشتے ان کے پاس ہر دروازے سے (یہ کہتے ہوئے) داخل ہوں گے۔

سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ Open ayah 13:24 in the Quran reader

کہ تم نے (دنیا میں) جو صبر سے کام لیا تھا، اس کی بدولت اب تم پر سلامتی ہی سلامتی نازل ہوگی، اور (تمہارے) اصلی وطن میں یہ تمہارا بہترین انجام ہے۔

وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ۙ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 13:25 in the Quran reader

اور (دوسری طرف) جو لوگ اللہ سے کیے ہوئے عہد کو مضبوطی سے باندھنے کے بعد توڑتے ہیں اور جن رشتوں کو اللہ نے جوڑے رکھنے کا حکم دیا ہے، انہیں کاٹ ڈالتے ہیں، اور زمین میں فساد مچاتے ہیں، تو ایسے لوگوں کے حصے میں لعنت آتی ہے، اور اصلی وطن میں برا انجام انہی کا ہے۔

22: قرآن کریم کی اصطلاح میں صبر کا مفہوم بہت عام ہے۔ انسان اپنی نفسانی خواہشات کے تقاضوں کو جب بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کی وجہ سے دبا لے تو یہ صبر ہے۔ مثلا نفس کی خواہش یہ ہورہی ہے کہ اس وقت کی نماز چھوڑ دی جائے۔ ایسے موقع پر اس خواہش کی خلاف ورزی کر کے نماز پڑھنا صبر ہے۔ یا اگر کسی گناہ کی خواہش دل میں پیدا ہورہی ہے تو اس کو دبا کر گناہ سے بچ جانا صبر ہے۔ اسی طرح اگر کسی تکلیف کے موقع پر اگر نفس کا تقاضا یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر شکوہ اور غیر ضروری واویلا کیا جائے تو ایسے موقع پر اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی رہ کر اختیاری واویلا نہ کرنا بھی صبر ہے۔ اس طرح صبر کا لفظ دین کے تمام احکام پر عمل کو حاوی ہے۔ یہی معنی آیت نمبر 24 میں بھی مراد ہیں۔ 23: یعنی برائی کا بدلہ اچھائی سے دیتے ہیں اور دفاع کا لفظ استعمال فرما کر قرآن کریم نے یہ بھی واضح فرما دیا کہ اچھائی کرنے کا انجام بالاآخر یہ ہوتا ہے کہ دوسرے کی بد سلوکی کے برے اثرات مٹ جاتے ہیں۔ 24: اس آیت میں اصل الفاظ یہ ہے۔ لھم عقبی الدار۔ اس میں الدار کے لفظی معنی گھر کے ہیں۔ بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد آخرت کا عالم ہے یہ لفظ بکثرت وطن کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور یہاں آخرت کے بجائے اس لفظ کو استعمال کرنے سے بظاہر اشارہ اس طرف ہے کہ انسان کا اصلی گھر اور وطن آخرت ہے اس لیے کہ دنیا کی زندگی تو فنا ہوجانے والی ہے انسان کو ہمیشہ ہمیشہ جہاں رہنا ہے وہ آخرت کا عالم ہے اس لیے یہاں الدار کا ترجمہ اصلی وطن سے کیا گیا ہے یہی بات آگے آیت 24 اور 25 میں بھی ملحوظ رہنی چاہیے
Ayah 13:26

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠ Open ayah 13:26 in the Quran reader

اللہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق میں وسعت کردیتا ہے، اور (جس کے لیے چاہتا ہے) تنگی کردیتا ہے، (25) یہ (کافر) لوگ دنیوی زندگی پر مگن ہیں، حالانکہ آخرت کے مقابلے میں دنیوی زندگی کی حیثیت اس سے زیادہ نہیں کہ وہ معمولی سی پونجی ہے۔

25: پیچھے یہ بتایا گیا تھا کہ جو لوگ دین حق کو جھٹلا رہے ہیں ان پر اللہ کی لعنت ہے۔ اس پر کسی کو شبہہ ہوسکتا تھا کہ دنیا میں تو ان لوگوں کو خوب رزق مل رہا ہے اور بظاہر وہ خوش حال نظر آتے ہیں۔ اس آیت میں اس شبہ کا جواب دیا گیا ہے کہ دنیا میں رزق کی فراوانی یا اس کی تنگی کا اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبولیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنی حکمت بالغہ کے تحت رزق خوب عطا فرماتا ہے اور جس کو چاہتا ہے رزق کی تنگی میں مبتلا کردیتا ہے۔۔ کافر لوگ اگرچہ یہاں کی خوش حالی پر مگن ہیں۔ مگر انہیں یہ اندازہ نہیں کہ اس چند دن کی زندگی کا عیس آخرت کے مقابلے میں کچھ حیثیت نہیں رکھتا۔
Ayahs 13:27–30

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ اَنَابَۖۚ Open ayah 13:27 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، وہ یہ کہتے ہیں کہ ان پر (یعنی محمد ﷺ پر) ان کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی ؟ (26) کہہ دو کہ : اللہ جس کو چاہتا ہے، گمراہ کردیتا ہے اور اپنے راستے پر انہی کو لاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کریں۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُؕ Open ayah 13:28 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے ہیں اور جن کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ یا درکھو کہ صرف اللہ کا ذکر ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ Open ayah 13:29 in the Quran reader

(غرض) جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان کے حصے میں خوش حالی بھی ہے اور بہترین انجام بھی۔

كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِیْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاۡ عَلَیْهِمُ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ هُمْ یَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ١ؕ قُلْ هُوَ رَبِّیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ مَتَابِ Open ayah 13:30 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! جس طرح دوسرے رسول بھیجے گئے تھے) اسی طرح ہم نے تمہیں ایک ایسی امت میں رسول بنا کر بھیجا ہے جس سے پہلی بہت سی امتیں گزر چکی ہیں، تاکہ تم ان کے سامنے وہ کتاب پڑھ کر سنا دو جو ہم نے وحی کے ذریعے تم پر نازل کی ہے، اور یہ لوگ اس ذات کی ناشکری کر رہے ہیں جو سب پر مہربان ہے، کہہ دو کہ : وہ میرا پالنے والا ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ اسی پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے، اور اسی کی طرف مجھے لوٹ کر جانا ہے۔

26:: آنحضرت ﷺ کو بہت سے معجزات دئے گئے تھے، لیکن کفار مکہ اپنی طرف سے نت نئے معجزات کی فرمائش کرتے رہتے تھے، اور جب ان کا کوئی مطالبہ پورا نہ ہوتا تو وہ یہ بات کہتے تھے جو اس آیت میں مذکور ہے اور پیچھے آیت نمبر : 7 میں بھی گزری ہے، اس کا جواب آگے آیت نمبر 31 میں آرہا ہے، یہاں اس کا جواب دینے کے بجائے یہ فرمایا گیا ہے کہ یہ مطالبات ان کی گمراہی کی دلیل ہیں، اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے، گمراہی میں پڑا رہنے دیتا ہے اور ہدایت اسی کو نصیب ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ سے رجوع کرکے ہدایت مانگے، اور حق کی طلب رکھتا ہو، ایسا شخص ایمان لانے کے بعد اس کے حقوق ادا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی یاد میں سکون حاصل کرلیتا ہے، پھر اس کو اس قسم کے شکوک پیدا نہیں ہوتے، وہ ہر حال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت پر چھوڑ کر اس پر مطمئن رہتا ہے اگر اچھی حالت ہو تو اس پر شکر ادا کرتا ہے اور اگر کوئی تکلیف ہو تو اس پر صبر کرکے اللہ تعالیٰ سے اس کے دور ہونے کی دعا کرتا ہے اور اس بات پر مطمئن ہوتا ہے کہ جب تک تکلیف ہے اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت کے تحت ہے، اس لئے مجھے اس سے شکوہ نہیں ہے، اس طرح اسے تکلیف کے حالات میں بھی اطمینان قلب نصیب رہتا ہے، اور یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنی بیماری دور کرنے کے لئے آپریشن کروائے تو آپریشن کی تکلیف کے باوجود اسے اطمینان رہتا ہے کہ یہ عمل عین حکمت کے مطابق ہے۔
Ayahs 13:31–32

وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى١ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا١ؕ اَفَلَمْ یَایْئَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا تُصِیْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 13:31 in the Quran reader

اور اگر کوئی قرآن ایسا بھی اترتا ہے جس کے ذریعے پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹا دیے جاتے یا اس کی بدولت زمین شق کردی جاتی (اور اس سے دریا نکل پڑتے) یا اس کے نتیجے میں مردوں سے بات کرلی جاتی، (تب بھی یہ لوگ ایمان نہ لاتے) (27)۔ حقیقت تو یہ ہے کہ تمام تر اختیار اللہ کا ہے۔ کیا پھر بھی ایمان والوں نے یہ سوچ کر اپنا ذہن فارغ نہیں کیا کہ اگر اللہ چاہتا تو سارے ہی انسانوں کو (زبردستی) راہ پر لے آتا ؟ (28) اور جنہوں نے کفر اپنایا ہے ان پر تو ان کے کرتوت کی وجہ سے ہمیشہ کوئی نہ کوئی کھڑ کھڑانے والی مصیبت پڑتی رہتی ہے، یا ان کی بستی کے قریب کہیں نازل ہوتی رہتی ہے، یہاں تک کہ (ایک دن) اللہ نے جو وعدہ کر رکھا ہے وہ آکر پورا ہوجائے گا۔ (29) یقین رکھو کہ اللہ وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 13:32 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) حقیقت یہ ہے کہ تم سے پہلے پیغمبروں کا بھی مذاق اڑایا گیا تھا، اور ایسے کافروں کو بھی میں نے مہلت دی تھی مگر کچھ وقت کے بعد میں نے ان کو گرفت میں لے لیا، اب دیکھ لو کہ میرا عذاب کیسا تھا ؟

27: اس آیت میں ان معجزات کا ذکر فرمایا گیا ہے جن کی فرمائش مکہ مکرمہ کے کافر لوگ کیا کرتے تھے، وہ کہتے تھے کہ مکہ مکرمہ کے ارد گرد جو پہاڑ ہیں ان کو یہاں سے ہٹادو، اور یہاں کی زمین کو شق کرکے یہاں سے دریا نکال دو ، اور ہمارے باپ داداؤں کو زندہ کرکے ان سے ہماری بات کروادو، اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ اگر بالفرض یہ بےہودہ مطالبات پورے کر بھی دئے جاتے، تب بھی یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں تھے، کیونکہ یہ فرمائشیں حق طلبی کے جذبے سے نہیں، صرف ضد کی وجہ سے کی جارہی ہیں، سورة بنی اسرائیل (15۔ 90 تا 93) میں اسی قسم کی کچھ اور فرمائشیں بھی مذکور ہیں جو کفار کیا کرتے تھے اور اسی سورت کی آیت نمبر : 59 میں فرمائشی معجزات نہ دکھانے کی ایک وجہ یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ جب کسی قوم کو کسی خاص معجزے کی فرمائش پر وہ معجزہ دکھا دیا جاتا ہے اور وہ پھر بھی ایمان نہیں لاتی تو اس پر عذاب نازل ہوتا ہے، چنانچہ پچھلی امتوں عاد اور ثمود وغیرہ کے ساتھ یہی ہوا ہے، اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ یہ لوگ اپنے فرمائشی معجزات دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائیں گے، اور ابھی ان کو ہلاک کرنا منظور نہیں ہے، اس لئے بھی ایسے معجزات نہیں دکھائے جارہے ہیں۔ 28: کبھی کبھی مسلمانوں کو یہ خیال ہوتا تھا کہ جو معجزات یہ لوگ مانگ رہے ہیں، اگر وہ ان کو دکھا دئے جائیں تو شاید یہ لوگ مسلمان ہوجائیں، یہ آیت ان مسلمانوں کو ہدایت دے رہی ہے کہ انہیں اب اس بات سے اپنا ذہن فارغ کرلینا چاہیے اور یہ سوچنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں تو یہ بھی ہے کہ وہ ان سب کو اپنی قدرت سے زبردستی مسلمان کردے، لیکن چونکہ دنیا کی اس امتحان گاہ کا اصل مقصد ہی یہ ہے کہ ہر شخص اپنی عقل استعمال کرکے اپنے اختیار سے ایمان لائے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس معاملے میں اپنی قدرت کو استعمال نہیں کیا، البتہ ایسے دلائل واضح کردئے ہیں کہ اگر انسان ان پر انصاف سے غور کرے اور ہٹ دھرمی چھوڑ دے تو اس کو حقیقت تک پہنچنے میں دیر نہیں لگنی چاہیے، اس کے بعد کافروں کی ہر فرمائش پوری کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ 29: بعض مسلمانوں کو کبھی یہ خیال بھی ہوتا تھا کہ جب یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں تو ان پر ابھی کوئی عذاب کیوں نہیں آجاتا، اس آیت میں اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ ان لوگوں پر چھوٹی چھوٹی مصیبتیں تو اس دنیا میں بھی پڑتی رہتی ہیں مثلاً کبھی قحط آجاتا ہے کبھی کوئی اور بلا نازل ہوجاتی ہے، اور بعض اوقات ان کی قریبی بستیوں پر ایسی مصیبتیں آجاتی ہیں جن سے یہ لوگ خوف زدہ ہوجاتے ہیں، مگر ان کو اصل عذاب اس وقت ہوگا جب قیامت آنے کا وعدہ پورا ہوگا۔
Ayahs 13:33–35

اَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ۚ وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ قُلْ سَمُّوْهُمْ١ؕ اَمْ تُنَبِّئُوْنَهٗ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ١ؕ بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَ صُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 13:33 in the Quran reader

بھلا بتاؤ کہ ایک طرف وہ ذات ہے جو ہر ہر شخص کے ہر ہر کام کی نگرانی کر رہی ہے، اور دوسری طرف ان لوگوں نے اللہ کے ساتھ شریک مانے ہوئے ہیں ؟ (30) کہو کہ : ذرا ان (خدا کے شریکوں) کے نام تو بتاؤ (اگر کوئی نام لو گے) تو کیا اللہ کو کسی ایسے وجود کی خبر دو گے جس کا دنیا بھر میں اللہ کو بھی پتہ نہیں ہے ؟ یا خالی زبان سے ایسے نام لے لو گے جن کے پیچھے کوئی حقیقت نہیں ؟ (31) حقیقت تو یہ ہے کہ ان کافروں کو اپنی مکارانہ باتیں بڑی خوبصورت لگتی ہیں اور (اس طرح) ان کی ہدایت کے راستے میں رکاوٹ پیدا ہوگئی ہے۔ اور جسے اللہ گمراہی میں پڑا رہنے دے، اسے کوئی راہ پر لانے والا میسر نہیں آسکتا۔ (32)

لَهُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 13:34 in the Quran reader

ایسے لوگوں کے لیے دنیوی زندگی میں بھی عذاب ہے اور یقینا آخرت کا عذاب کہیں زیادہ بھاری ہوگا، اور کوئی نہیں ہے جو انہیں اللہ (کے عذاب) سے بچا سکے۔

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اُكُلُهَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّهَا١ؕ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ۖۗ وَّ عُقْبَى الْكٰفِرِیْنَ النَّارُ Open ayah 13:35 in the Quran reader

(دوسری طرف) وہ جنت جس کا متقی لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کا حال یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اس کے پھل بھی سدا بہار ہیں، اور اس کی چھاؤں بھی ! یہ انجام ہے ان لوگوں کا جنہوں نے تقوی اختیار کیا، جبکہ کافروں کا انجام دوزخ کی آگ ہے۔

30: اس تفسیر پر مبنی ہے جو امام رازی اور علامہ آلوسی نے حل العقد کے مصنف کے حوالے سے بیان کی ہے اس تفسیر کے مطابق من ھو قائم کی خبر موجود ہے جو محذوف ہے اور و جعلوا للہ شرکاء جملہ حالیہ ہے بندے کو یہ ترکیب دوسرے احتمالات کے مقابلے میں بہتر معلوم ہوتی ہے۔ واللہ اعلم۔ 31: نام تو انہوں نے بہت سے بتوں اور دیوتاؤں کے رکھ رکھے تھے، اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ اگر ان ناموں کے پیچھے کوئی حقیقت ہے تو اللہ تعالیٰ سے زیادہ اسے کون جان سکتا ہے، اللہ تعالیٰ کے علم میں تو ایسا کوئی بھی وجود ہے نہیں، اب اگر تم اس کو حقیقی وجود قرار دوگے تو اسکا مطلب یہ ہے کہ تم نہ صرف یہ کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ علم رکھنے کے مدعی ہوگے، بلکہ تمہارا یہ کہنا لازم آئے گا کہ جس کا اللہ تعالیٰ کو بھی علم نہیں ہے تم، (معاذاللہ) اللہ تعالیٰ کو اس کا پتہ بتا رہے ہو، اس سے بڑی جہالت کیا ہوسکتی ہے ؟ اور اگر ان ناموں کے پیچھے کوئی حقیقت نہیں ہے تو یہ سب باتیں ہی باتیں ہیں، بہر حال دونوں صورتوں میں یہی ثابت ہوتا ہے کہ تمہارا شرک کا عقیدہ بےبنیاد ہے۔ 32: جب کوئی شخص اس ضد پر اڑ جائے کہ جو کچھ میں کررہا ہوں وہی اچھا کام ہے اور اس کے مقابلے میں بڑی سے بڑی دلیل کو بھی سننے ماننے کو تیار نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو گمراہی میں پڑا رہنے دیتے ہیں، اور پھر اسے کوئی راہ راست پر لانے والا میسر نہیں آسکتا۔
Ayah 13:36

وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْكِرُ بَعْضَهٗ١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَ لَاۤ اُشْرِكَ بِهٖ١ؕ اِلَیْهِ اَدْعُوْا وَ اِلَیْهِ مَاٰبِ Open ayah 13:36 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اس کلام سے خوش ہوتے ہیں جو تم پر نازل کیا گیا ہے، اور انہی گروہوں میں وہ بھی ہیں جو اس کی بعض باتوں کا ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ (33) کہہ دو کہ : مجھے تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں، اور اس کے ساتھ کسی کو خدائی میں شریک نہ مانوں، اسی بات کی میں دعوت دیتا ہوں، اور اسی (اللہ) کی طرف مجھے لوٹ کر جانا ہے، (34)۔

33: اس آیت میں یہودیوں اور عیسائیوں کے مختلف گروہوں کا ذکر فرمایا گیا ہے، ان میں سے کچھ وہ ہیں جو قرآن کریم کی آیات سن کر خوش ہوتے ہیں کہ یہ وہی اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے جس کی پیشینگوئی پچھلی کتابوں میں کی گئی تھی، ، چنانچہ اس گروہ کے بہت سے افراد آنحضرت ﷺ پر ایمان لے آئے تھے، عیسائیوں میں سے بھی اور یہودیوں میں سے بھی، یہ حقیقت ذکر فرما کر ایک طرف تو کفار مکہ کو شرم دلائی گئی ہے کہ جن لوگوں کے پاس آسمانی ہدایت موجود ہے، وہ تو ایمان لارہے ہیں اور جن لوگوں کے پاس نہ کوئی کتاب ہے نہ کوئی اور آسمانی ہدایت، وہ ایمان لانے سے کترا رہے ہیں، اور دوسری طرف آنحضرت ﷺ اور دوسرے مسلمانوں کو تسلی بھی دی گئی ہے کہ جہاں اسلام کے دشمن موجود ہیں، وہاں بہت سے لوگ اس پیغام ہدایت کو قبول بھی کررہے ہیں، یہودیوں اور عیسائیوں میں دوسرا گروہ وہ کافروں کا ہے ان کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ وہ قرآن کریم کے بعض حصوں کا انکار کرتے ہیں بعض حصوں کا ذکر کرکے اشارہ کیا گیا ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں میں سے جو لوگ ایمان نہیں لائے وہ بھی قرآن کریم کی ساری باتوں کا انکار نہیں کرسکتے ؛ کیونکہ اس کی بہت سی باتیں وہ ہیں جو توارت یا انجیل میں بھی موجود ہیں، مثلاً توحید پچھلے انبیاء کرام پر ایمان اور ان کے واقعات آخرت کا عقیدہ وغیرہ، اس کا تقاضا یہ تھا کہ وہ سوچتے کہ آنحضرت ﷺ کو ان باتوں کے معلوم ہونے کا کوئی ذریعہ آپ کے پاس نہیں ہے، اس لئے یہ بات ظاہر ہے کہ آپ کو یہ باتیں وحی سے معلوم ہوئی ہیں اس صورت میں آپ کی رسالت کو تسلیم کرنا چاہیے۔ 34: اس آیت میں اسلام کے تین بنیادی عقائد توحید رسالت اور آخرت کا بیان فرمایا گیا ہے۔ پہلا فقرہ توحید کے اعلان پر مشتمل ہے دوسرے فقرے میں فرمایا گیا ہے کہ اسی بات کی میں دعوت دیتا ہوں۔ اس سے آنحضرت ﷺ کے رسول ہونے کا اثبات کیا گیا ہے۔ اور آخری فقرہ یعنی اسی کی طرف مجھے لوٹ کر جانا ہے۔ آخرت کے عقیدے کو ظاہر کرتا ہے۔ کہنا یہ مقصود ہے کہ یہ تینوں عقائد پچھلی کتابوں میں بھی ہوئے ہیں۔ پھر قرآن کریم کے انکار کا کیا جواز ہے۔
Ayah 13:37

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِیًّا١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ۠ Open ayah 13:37 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے اس (قرآن) کو عربی زبان میں ایک حکم نامہ بنا کر نازل کیا ہے۔ (35) اور (اے پیغمبر) تمہارے پاس جو علم آچکا ہے، اگر اس کے بعد بھی تم ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے چلے تو اللہ کے مقابلے میں نہ تمہارا کوئی مددگار ہوگا، نہ کوئی بچانے والا۔ (36)

35: یہاں سے آیت 38 تک اس بات کی وضاحت فرمائی گئی ہے کہ قرآن کریم کے جن حصوں کا یہ لوگ انکار کرتے ہیں اس کا بھی کوئی جواز نہیں ہے۔ وہ لوگ قرآن کریم کے ان احکام پر اعتراض کرتے تھے جو تورات اور انجیل کے احکام سے مختلف ہیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ بنیادی عقیدے تو تمام انبیائے کرام کی دعوت میں مشرک رہے ہیں لیکن فروعی اور جزوی احکام مختلف انبیائے کرام کی شریعتوں میں مختلف ہوتے رہے ہیں۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ ہر زمانے اور ہر امت کے حالات مختلف ہوتے ہیں اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تحت مختلف زمانوں میں احکام بھی بدلتے رہتے ہیں۔ یعنی بہ تسی چیزیں جو ایک نبی کی شریعت میں جائز تھیں۔ دوسرے نبی کی شریعت میں حلال کردی گئیں۔ اور بعض اوقات اس کے برعکس بھی ہوا ہے۔ تو جس طرح پچھلی امتوں میں احکام کی تبدیلی کا یہ سلسلہ چلتا رہا ہے اسی طرح یہ قرآن بھی ایک نیا حکم نامہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے اور اس کے عربی زبان میں ہونے سے اشارہ یہ کیا گیا ہے کہ یہ ان حالات سے بالکل مختلف حالات میں نازل ہوا ہے جن میں پچھلی کتابیں نازل ہوئی تھیں۔ اس لیے اسے عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے جو رہتی دنیا تک باقی رہنے والی زبان ہے اور اس میں اس آخری دور کے حالات کی رعایت رکھی گئی ہے۔ 36: یعنی قرآن کریم کے جو احکام ان کافروں کو اپنی خواہشات کے خلاف نظر آرہے ہیں ان میں آپ کو یہ اختیار نہیں ہے کہ ان کی رعایت سے ان میں کوئی تبدیلی کرسکیں۔ اگرچہ آنحضرت ﷺ سے اس بات کا تصور بھی نہیں ہوسکتا کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کے احکام میں کوئی تبدیلی فرمائی۔ لیکن ایک اصول کے طور پر یہ بات ارشاد فرما کر ساری دنیا کے لوگوں کو متنبہ کردیا گیا ہے۔
Ayah 13:38

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ Open ayah 13:38 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تم سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیجے ہیں اور انہیں بیوی بچے بھی عطا فرمائے ہیں، اور کسی رسول کو یہ اختیار نہیں تھا کہ وہ کوئی ایک آیت بھی اللہ کے حکم کے بغیر لاسکے۔ ہر زمانے کے لیے الگ کتاب دی گئی ہے۔ (37)

37: اس آیت میں ایک تو کفار کے اس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے اگر آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں تو آپ کی بیوی بچے کیوں ہیں ؟ جواب یہ دیا گیا ہے کہ بیوی بچے ایک دو انبیاء کرام کو چھوڑ کر تقریباً سارے انبیاء کو بھی عطا فرمائے گئے ہیں ؛ کیونکہ نبوت کا ان سے کوئی تعارض نہیں ہے، بلکہ انبیاء کرام اپنے عمل سے واضح کرتے ہیں کہ ان کے حقوق کیسے ادا کئے جاتے ہیں اور ان کے حقوق اور اللہ تعالیٰ کے حقوق میں توازن کیسے قائم رکھا جاتا ہے، دوسرے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ مختلف انبیاء کرام کی شریعتوں میں جزوی فرق ہوتا رہا ہے۔
Ayah 13:39

یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ١ۖۚ وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ Open ayah 13:39 in the Quran reader

اللہ جس (حکم) کو چاہتا ہے، منسوخ کردیتا ہے، اور (جس کو چاہتا ہے) باقی رکھتا ہے۔ اور تمام کتابوں کی جو اصل ہے، وہ اسی کے پاس ہے۔ (38)

38: تمام کتابوں کی اصل سے مراد لوح محفوظ ہے جس میں ازل سے یہ بات درج ہے کہ کس امت کو کون سی کتاب اور کیسے احکام دئے جائیں گے۔
Ayah 13:40

وَ اِنْ مَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ Open ayah 13:40 in the Quran reader

اور جس بات کی دھمکی ہم ان (کافروں) کو دیتے ہیں، چاہے اس کا کوئی حصہ ہم تمہیں (تمہاری زندگی ہی میں) دکھا دیں، یا (اس سے پہلے ہی) تمہیں دنیا سے اٹھالیں۔ بہرحال تمہارے ذمے تو صرف پیغام پہنچا دینا ہے، اور حساب لینے کی ذمہ داری ہماری ہے۔ (39)۔

39: بعض مسلمانوں کے دل میں یہ خیال آتا تھا کہ ان کافروں کی سرکشی کے باوجود ان پر کوئی عذاب کیوں نہیں آرہا ہے ؟ اس کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے کہ عذاب کا صحیح وقت اللہ تعالیٰ ہی نے اپنی حکمت کے تحت مقرر فرمایا ہوا ہے، وہ کسی وقت بھی آئے، آنحضرت ﷺ کو اپنا ذہن فارغ رکھنا چاہیے کہ ان کی ذمہ داری تبلیغ کی ہے، ان کافروں کا محاسبہ کرنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے جو وہ اپنی حکمت کے تحت مناسب وقت پر انجام دے گا۔ (توضیح القرآن)