16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsآسان قرآن

Ayahs 16:41–46

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً١ؕ وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:41 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے دوسروں کے ظلم سہنے کے بعد اللہ کی خاطر اپنا وطن چھوڑا ہے، یقین رکھو کہ انہیں ہم دنیا میں بھی اچھی طرح بسائیں گے، اور آخرت کا اجر تو یقینا سب سے بڑا ہے۔ کاش کہ یہ لوگ جان لیتے۔ (19)

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 16:42 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے صبر سے کام لیا ہے، اور جو اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:43 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے بھی کسی اور کو نہیں، انسانوں ہی کو پیغمبر بنا کر بھیجا تھا جن پر ہم وحی نازل کرتے تھے۔ (اے منکرو) اب اگر تمہیں اس بات کا علم نہیں ہے تو جو علم والے ہیں ان سے پوچھ لو۔

بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ١ؕ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:44 in the Quran reader

ان پیغمبروں کو روشن دلائل اور آسمانی کتابیں دے کر بھیجا گیا تھا۔ اور (اے پیغمبر) ہم نے تم پر بھی یہ قرآن اس لیے نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کے سامنے ان باتوں کی واضح تشریح کر دو جو ان کے لیے اتاری گئی ہیں اور تاکہ وہ غور و فکر سے کام لیں۔

اَفَاَمِنَ الَّذِیْنَ مَكَرُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 16:45 in the Quran reader

تو کیا وہ لوگ جو برے برے منصوبے بنا رہے ہیں اس بات سے بالکل بےخوف ہوگئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے، یا ان پر عذاب ایسی جگہ سے آپڑے کہ انہیں احساس تک نہ ہو ؟

اَوْ یَاْخُذَهُمْ فِیْ تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَۙ Open ayah 16:46 in the Quran reader

یا انہیں چلتے پھرتے ہی اپنی پکڑ میں لے لے، کیونکہ وہ اسے عاجز نہیں کرسکتے۔

19: جیسا کہ اس سورت کے تعارف میں عرض کیا گیا، یہ آیت ان صحابہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو کفار کے ظلم سے تنگ آکر حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔ البتہ اس میں جو عام الفاظ استعمال ہوئے ہیں، وہ ہر اس شخص کو شامل ہیں جو اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر اپنا وطن چھوڑ کر ہجرت کرے۔ اور آخر میں جو فرمایا گیا کہ ”کاش یہ لوگ جان لیتے“۔ اس سے مراد بظاہر یہ مہاجرین ہی ہیں۔ اور مطلب یہ ہے کہ اگر ان لوگوں کو اس اجر کا علم ہوجائے تو بےوطن ہونے سے انہیں جو تکلیف ہو رہی ہے وہ بالکل باقی نہ رہے۔ اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ان سے مراد کافر لوگ ہیں۔ اور مطلب یہ ہے کہ کاش اس حقیقت کا علم ان کافروں کو بھی ہوجائے تو وہ اپنے کفر سے توبہ کرلیں۔
Ayah 16:47

اَوْ یَاْخُذَهُمْ عَلٰى تَخَوُّفٍ١ؕ فَاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:47 in the Quran reader

یا انہیں اس طرح گرفت میں لے کہ وہ دھیرے دھیرے گھٹتے چلے جائیں۔ (20) کیونکہ تمہارا پروردگار بڑا شفیق، نہایت مہربان ہے۔ (21)

20: یعنی ایک دم سے تو عذاب آکر انہیں ہلاک نہ کرے، لیکن اپنی بد عملی کی سزا میں دھیرے دھیرے ان کی افرادی قوت اور ان کا مال و دولت گھٹتا چلا جائے۔ یہ تفسیر روح المعانی میں متعدد صحابہ اور تابعین سے منقول ہے۔ 21: اس ”کیونکہ“ کا تعلق بےخوف ہونے سے ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ چونکہ شفیق اور مہربان ہے۔ اس لیے اس نے کافروں کو مہلت دی ہوئی ہے اور فوری طور پر انہیں عذاب میں نہیں پکڑا، اس لیے یہ کافر لوگ بےخوف ہوگئے ہیں، حالانکہ پچھلی امتوں کے واقعات سے سبق لے کر انہیں بےخوف نہیں ہونا چاہیے۔
Ayahs 16:48–49

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ الشَّمَآئِلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ Open ayah 16:48 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے جو چیز بھی پیدا کی ہے اس کے سائے اللہ کو سجدے کرتے ہوئے دائیں اور بائیں جھکے رہتے ہیں اور وہ سب عاجزی کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں ؟ (22)

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ دَآبَّةٍ وَّ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:49 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں جتنے جاندار ہیں وہ اور سارے فرشتے اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور وہ ذرا تکبر نہیں کرتے۔

22: انسان کتنا بھی مغرور یا متکبر ہوجائے، اس کا سایہ جب زمین پر پڑتا ہے تو وہ عاجزی اور انکساری کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کے ساتھ اس کے سائے کی شکل میں ایک ایسی چیز پیدا فرمادی ہے جو اس کے اختیار کے بغیر ہر وقت اللہ تعالیٰ کے آگے سجدہ ریز رہتی ہے۔ یہاں تک کہ جو لوگ سورج کی پوجا کرتے ہیں۔ وہ خود تو سورج کے آگے جھک رہے ہوتے ہیں اور ان کے سائے اس کی مخالف سمت میں سجدہ ریز ہوتے ہیں۔
Ayahs 16:50–55

یَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ۠۩ Open ayah 16:50 in the Quran reader

وہ اپنے اس پروردگار سے ڈرتے ہیں جو ان کے اوپر ہے اور وہی کام کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔ (23)

وَ قَالَ اللّٰهُ لَا تَتَّخِذُوْۤا اِلٰهَیْنِ اثْنَیْنِ١ۚ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَاِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ Open ayah 16:51 in the Quran reader

اور اللہ نے فرمایا ہے کہ : دو دو معبود نہ بنا بیٹھنا، وہ تو بس ایک ہی معبود ہے۔ اس لیے بس مجھی سے ڈرا کرو۔

وَ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَهُ الدِّیْنُ وَاصِبًا١ؕ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَتَّقُوْنَ Open ayah 16:52 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے، اور اسی کی اطاعت ہر حال میں لازم ہے۔ کیا پھر بھی تم اللہ کے سوا اوروں سے ڈرتے ہو ؟

وَ مَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَیْهِ تَجْئَرُوْنَۚ Open ayah 16:53 in the Quran reader

اور تم کو جو نعمت بھی حاصل ہوتی ہے، وہ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، پھر جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی سے فریادیں کرتے ہو۔

ثُمَّ اِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْكُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 16:54 in the Quran reader

اس کے بعد جب وہ تم سے تکلیف دور کردیتا ہے تو تم میں سے ایک گروہ اچانک اپنے پروردگار کے ساتھ شرک شروع کردیتا ہے۔

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١۫ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:55 in the Quran reader

تاکہ ہم نے اسے جو نعمت دی تھی اس کی ناشکری کرے۔ اچھا ! کچھ عیش کرلو، پھر عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا۔

23: یہ آیت سجدہ ہے، یعنی جو شخص بھی یہ آیت عربی زبان میں پڑھے، اس پر سجدہ کرنا واجب ہوجاتا ہے، اسے سجدہ تلاوت کہتے ہیں، جو نماز کے سجدے کے علاوہ ہے، البتہ صرف ترجمہ پڑھنے سے یا آیت کو پڑھے بغیر صرف دیکھنے سے سجدہ واجب نہیں ہوتا۔
Ayah 16:56

وَ یَجْعَلُوْنَ لِمَا لَا یَعْلَمُوْنَ نَصِیْبًا مِّمَّا رَزَقْنٰهُمْ١ؕ تَاللّٰهِ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 16:56 in the Quran reader

اور ہم نے جو رزق انہیں دیا ہے اس میں وہ ان (بتوں) کا حصہ لگاتے ہیں جن کی حقیقت خود انہیں معلوم نہیں ہے۔ (24) اللہ کی قسم ! تم سے ضرور باز پرس ہوگی کہ تم کیسے بہتان باندھا کرتے تھے۔

24: عرب کے مشرکین اپنی زرعی پیداوار اور جانوروں کا ایک حصہ بتوں کے نام پر نذر کردیتے تھے۔ اس کی طرف اشارہ ہے کہ جن بتوں کی نہ حقیقت ان کو معلوم ہے نہ ان کے وجود کی کوئی دلیل ان کے پاس ہے، اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے رزق کو ان کے لیے نذر کردیتے ہیں۔ اس رسم کی تفصیل سورة انعام آیت 136 میں گذری ہے۔
Ayahs 16:57–62

وَ یَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ سُبْحٰنَهٗ١ۙ وَ لَهُمْ مَّا یَشْتَهُوْنَ Open ayah 16:57 in the Quran reader

اور اللہ کے لیے تو انہوں نے بیٹیاں گھڑ رکھی ہیں۔ سبحان اللہ ! اور خود اپنے لیے وہ (بیٹے چاہتے ہیں) جو اپنی خواہش کے مطابق ہوں (25)

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌۚ Open ayah 16:58 in the Quran reader

اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی (پیدائش) کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے، اور وہ دل ہی دل میں کڑھتا رہتا ہے۔

یَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓءِ مَا بُشِّرَ بِهٖ١ؕ اَیُمْسِكُهٗ عَلٰى هُوْنٍ اَمْ یَدُسُّهٗ فِی التُّرَابِ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 16:59 in the Quran reader

اس خوشخبری کو برا سمجھ کر لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے (اور سوچتا ہے کہ) ذلت برداشت کر کے اسے اپنے پاس رہنے دے، یا اسے زمین میں گاڑھ دے۔ دیکھو انہوں نے کتنی بری باتیں طے کر رکھی ہیں۔

لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ١ۚ وَ لِلّٰهِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 16:60 in the Quran reader

بری بری باتیں تو انہی میں ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، اور اعلی درجے کی صفات صرف اللہ کی ہیں، اور وہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

وَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَّا تَرَكَ عَلَیْهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ یُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 16:61 in the Quran reader

اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے ظلم کی وجہ سے (فورا) اپنی پکڑ میں لیتا تو روئے زمین پر کوئی جاندار باقی نہ چھوڑتا، لیکن وہ ان کو ایک معین وقت تک مہلت دیتا ہے۔ پھر جب ان کا وہ معین وقت آجائے گا تو وہ گھڑی بھر بھی اس سے آگے پیچھے نہیں ہوسکیں گے۔

وَ یَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ مَا یَكْرَهُوْنَ وَ تَصِفُ اَلْسِنَتُهُمُ الْكَذِبَ اَنَّ لَهُمُ الْحُسْنٰى١ؕ لَا جَرَمَ اَنَّ لَهُمُ النَّارَ وَ اَنَّهُمْ مُّفْرَطُوْنَ Open ayah 16:62 in the Quran reader

اور انہوں نے اللہ کے لیے وہ چیزیں گھڑ رکھی ہیں جنہیں خود ناپسند کرتے ہیں، پھر بھی ان کی زبانیں (اپنی) جھوٹی تعریف کرتی رہتی ہیں کہ ساری بھلائی انہی کے حصے میں ہے۔ لازمی بات ہے کہ (ایسے رویے کی وجہ سے) ان کے حصے میں تو دوزخ ہے، اور انہیں اسی میں پڑا رہنے دیا جائے گا۔

25: مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اول تو اللہ تعالیٰ اولاد کی ضروت سے پاک ہے دوسرے یہ خود اپنے لیے بیٹیوں کو پسند نہیں کرتے، بلکہ بیٹوں کی ولادت کے خواہش مند رہتے ہیں، جو بذات خود بڑی گمراہی کی بات ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے بارے میں کہتے ہیں کہ اسکی بیٹیاں ہیں۔
Ayahs 16:63–66

تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِیُّهُمُ الْیَوْمَ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:63 in the Quran reader

(اے پیغمبر) اللہ کی قسم ! تم سے پہلے جو امتیں گزری ہیں، ہم نے ان کے پاس پیغمبر بھیجے تھے، تو شیطان نے ان کے اعمال کو خوب بنا سنوار کر ان کے سامنے پیش کیا۔ (26) چنانچہ وہی (شیطان) آج ان کا سرپرست بنا ہوا ہے اور (اس کی وجہ سے) ان کے لیے دردناک عذاب تیار ہے۔

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ۙ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 16:64 in the Quran reader

اور ہم نے تم پر یہ کتاب اسی لیے اتاری ہے تاکہ تم ان کے سامنے وہ باتیں کھول کھول کر بیان کردو جن میں انہوں نے مختلف راستے اپنائے ہوئے ہیں، اور تاکہ یہ ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت کا سامان ہو۔

وَ اللّٰهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ۠ Open ayah 16:65 in the Quran reader

اور اللہ نے آسمان سے پانی برسایا، اور زمین کے مردہ ہوجانے کے بعد اس میں جان ڈال دی۔ یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو بات سنتے ہیں۔

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَیْنِ فَرْثٍ وَّ دَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلشّٰرِبِیْنَ Open ayah 16:66 in the Quran reader

اور بیشک تمہارے لیے مویشیوں میں بھی سوچنے کا بڑا سامان ہے، ان کے پیٹ میں جو گوبر اور خون ہے اس کے بیچ میں سے ہم تمہیں ایسا صاف ستھرا دودھ پینے کو دیتے ہیں جو پینے والوں کے لیے خوشگوار ہوتا ہے۔

26: یعنی یہ پٹی پڑھائی کہ تم جو اعمال کر رہے ہو وہی بہترین اعمال ہے۔
Ayah 16:67

وَ مِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِیْلِ وَ الْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ سَكَرًا وَّ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 16:67 in the Quran reader

اور کھجور کے پھلوں اور انگوروں سے بھی (ہم تمہیں ایک مشروب عطا کرتے ہیں) جس سے تم شراب بھی بناتے ہو، اور پاکیزہ رزق بھی (27) بیشک اس میں بھی ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔

27: یہ سورت مکی ہے۔ جب یہ نازل ہوئی تو اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی، لیکن اسی آیت میں شراب کو پاکیزہ رزق کے مقابلے میں ذکر فرماکر ایک لطیف اشارہ اس طرف کردیا گیا تھا کہ شراب پاکیزہ رزق نہیں ہے۔
Ayahs 16:68–69

وَ اَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعْرِشُوْنَۙ Open ayah 16:68 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ : تو پہاڑوں میں، اور درختوں میں اور لوگ جو چھتریاں اٹھاتے ہیں ان میں اپنے گھر بنا۔ (28)

ثُمَّ كُلِیْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُكِیْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا١ؕ یَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِیْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:69 in the Quran reader

پھر ہر قسم کے پھلوں سے اپنی خوراک حاصل کر، پھر ان راستوں پر چل جو تیرے رب نے تیرے لیے آسان بنا دیے ہیں۔ (اسی طرح) اس مکھی کے پیٹ سے وہ مختلف رنگوں والا مشروب نکلتا ہے جس میں لوگوں کے لیے شفا ہے۔ یقینا ان سب باتوں میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو سوچتے سمجھتے ہوں۔

28: چھتریاں اٹھانے سے مراد وہ ٹٹیاں ہیں جن پر مختلف قسم کی بیلیں چڑھائی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر شہد کی مکھی کے گھر بنانے کا ذکر اس لیے فرمایا ہے کہ وہ جو چھتے بناتی ہے وہ عجیب و غریب صنعت کا شاہکار ہوتے ہیں اور عام طور پر وہ یہ چھتے اونچی جگہوں پر بناتی ہے تاکہ اس میں بننے والا شہد زمین کی کثافتوں سے بھی محفوظ رہے۔ اور اسے تازہ ہوا بھی میسر آئے۔ توجہ اس طرف دلائی جا رہی ہے کہ یہ سب کچھ اسے اللہ تعالیٰ نے سکھایا ہے۔ تفصیلات کے لیے دیکھئے معارف القرا ان ج : 5 ص 362 تا 367
Ayah 16:70

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۙ۫ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْ لَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 16:70 in the Quran reader

اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا ہے پھر وہ تمہاری روح قبض کرتا ہے، اور تم میں سے کوئی ایسا ہوتا ہے جو عمر کے سب سے ناکارہ حصے تک پہنچا دیا جاتا ہے، جس میں پہنچ کر وہ سب کچھ جاننے کے بعد بھی کچھ نہیں جانتا۔ (29) بیشک اللہ بڑے علم والا، بڑی قدرت والا ہے۔

29: انتہائی بڑھاپے کی حالت کو ”ناکارہ عمر“ سے تعبیر کیا گیا ہے جس میں انسان کی جسمانی اور ذہنی قوتیں ناکارہ ہوجاتی ہیں۔ اور سب کچھ جاننے کے باوجود کچھ نہ جاننے کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ بڑھاپے کے اس حصے میں انسان اس علم کا اکثر حصہ بھول جاتا ہے جو اس نے اپنی پچھلی زندگی میں حاصل کیا تھا، اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس زمانے میں بکثرت ایسا ہوتا ہے کہ ابھی اسے ایک بات بتائی گئی، اور تھوڑی سی دیر میں وہ ایسا ہوگیا جیسے اس کو کچھ بتایا ہی نہیں گیا تھا۔ یہ حقائق بیان فرما کر غافل انسان کو اس طرف متوجہ کیا جا رہا ہے کہ اسے اپنی کسی طاقت اور صلاحیت پر غرور نہیں کرنا چاہیے۔ جو کوئی طاقت اسے ملی ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، اور جب وہ چاہے واپس لے لیتا ہے۔ ان تغیرات سے اسے یہ سبق سیکھنا چاہیے کہ یہ سارا کارخانہ ایک بڑے علم والے، بڑی قدرت والے خدا کا بنایا ہوا ہے جس کا کوئی شریک نہیں، اور بالآخر ہر شخص کو اسی کے پاس واپس جانا ہے۔
Ayahs 16:71–73

وَ اللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ١ۚ فَمَا الَّذِیْنَ فُضِّلُوْا بِرَآدِّیْ رِزْقِهِمْ عَلٰى مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَهُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ١ؕ اَفَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 16:71 in the Quran reader

اور اللہ نے تم میں سے کچھ لوگوں کو رزق کے معاملے میں دوسروں پر برتری دے رکھی ہے۔ اب جن لوگوں کو برتری دی گئی ہے وہ اپنا رزق اپنے غلاموں کو اس طرح نہیں لوٹا دیتے کہ وہ سب برابر ہوجائیں۔ (30) تو کیا یہ لوگ اللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں ؟ (31)

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِیْنَ وَ حَفَدَةً وَّ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ هُمْ یَكْفُرُوْنَۙ Open ayah 16:72 in the Quran reader

اور اللہ نے تم ہی میں سے تمہارے لیے بیویاں بنائی ہیں، اور تمہاری بیویوں سے تمہارے لیے بیٹے اور پوتے پیدا کیے ہیں، اور تمہیں اچھی اچھی چیزوں میں سے رزق فراہم کیا ہے۔ کیا پھر بھی یہ لوگ بےبنیاد باتوں پر ایمان لاتے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں ؟

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَۚ Open ayah 16:73 in the Quran reader

اور یہ اللہ کو چھوڑ کر ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو ان کو آسمانوں اور زمین میں سے کسی طرح کا رزق دینے کا نہ کوئی اختیار رکھتی ہیں نہ رکھ سکتی ہیں۔

30: مطلب یہ ہے کہ تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں کرتا کہ اپنے غلام کو اپنی دولت اس طرح دیدے کہ وہ دولت میں اس کے برابر ہوجائے۔ اب تم خود مانتے ہو کہ جن دیوتاؤں کو تم نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک یعنی غلام ہیں۔ پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ نے انہیں اپنی خدائی اس طرح دے دی ہو کہ انہیں اللہ کے برابر معبود بننے کا حق حاصل ہوگیا ہو۔ 31: یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کر کے یہ دعوی کرتے ہیں کہ فلاں نعمت اللہ نے نہیں، بلکہ ان کے گھڑے ہوئے دیوتاؤں نے دی ہے۔
Ayahs 16:74–79

فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:74 in the Quran reader

لہذا تم اللہ کے لیے مثالیں نہ گھڑو۔ (32) بیشک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ مَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ یُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّ جَهْرًا١ؕ هَلْ یَسْتَوٗنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:75 in the Quran reader

اللہ ایک مثال دیتا ہے کہ ایک طرف ایک غلام ہے جو کسی کی ملکیت میں ہے، اس کو کسی چیز پر کوئی اختیار نہیں، اور دوسری طرف وہ شخص ہے جس کو ہم نے اپنے پاس سے عمدہ رزق عطا کیا ہے، اور وہ اس میں سے پوشیدہ طور پر بھی اور کھلے بندوں بھی خوب خرچ کرتا ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ ساری تعریفیں اللہ کی ہیں، لیکن ان میں سے اکثر لوگ (ایسی صاف بات بھی) نہیں جانتے۔

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلَیْنِ اَحَدُهُمَاۤ اَبْكَمُ لَا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ هُوَ كَلٌّ عَلٰى مَوْلٰىهُ١ۙ اَیْنَمَا یُوَجِّهْهُّ لَا یَاْتِ بِخَیْرٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیْ هُوَ١ۙ وَ مَنْ یَّاْمُرُ بِالْعَدْلِ١ۙ وَ هُوَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۠ Open ayah 16:76 in the Quran reader

اور اللہ ایک اور مثال دیتا ہے کہ دو آدمی ہیں ان میں سے ایک گونگا ہے جو کوئی کام نہیں کرسکتا، اور اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے، وہ اسے جہاں کہیں بھیجتا ہے، وہ کوئی ڈھنگ کا کام کر کے نہیں لاتا، کیا ایسا شخص اس دوسرے آدمی کے برابر ہوسکتا ہے جو دوسروں کو بھی اعتدال کا حکم دیتا ہے اور خود بھی سیدھے راستے پر قائم ہے ؟

وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَاۤ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 16:77 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کے سارے بھید اللہ کے قبضے میں ہیں۔ اور قیامت کا معاملہ آنکھ جھپکنے سے زیادہ نہیں ہوگا، بلکہ اس سے بھی جلدی۔ یقین رکھو کہ اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔

وَ اللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْئًا١ۙ وَّ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:78 in the Quran reader

اور اللہ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ سے اس حالت میں نکالا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے، اور تمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل پیدا کیے، تاکہ تم شکر ادا کرو۔

اَلَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِیْ جَوِّ السَّمَآءِ١ؕ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 16:79 in the Quran reader

کیا انہوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا کہ وہ آسمان کی فضا میں اللہ کے حکم کے پابند ہیں ؟ انہیں اللہ کے سوا کوئی اور تھامے ہوئے نہیں ہے۔ یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہوں۔

32: مشرکین عرب بعض اوقات اپنے شرک کی تائید میں یہ مثال دیتے تھے کہ جس طرح دنیا کا بادشاہ تنہا اپنی حکومت نہیں چلاتا، بلکہ اسے حکومت کے بہت سے کام اپنے مددگاروں کو سونپنے پڑتے ہیں، اسی طرح (معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی خدائی کے بہت سے کام ان دیوتاؤں کو سونپ رکھے ہیں۔ اور ان معاملات میں وہ خود مختار ہوگئے ہیں۔ اس آیت میں ان سے کہا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے دنیا کے بادشاہوں کی، بلکہ کسی بھی مخلوق کی مثال دینا انتہائی جہالت کی بات ہے۔ اس کے بعد آیت نمبر 75، 76 میں اللہ تعالیٰ نے دو مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ جن کا مقصد یہ ہے کہ اگر مخلوقات ہی کی مثال لینی ہے تو ان دو مثالوں سے ظاہر ہے کہ مخلوق مخلوق میں بھی فرق ہوتا ہے، کوئی مخلوق اعلی درجے کی ہے، کوئی ادنیٰ درجے کی، جب مخلوق مخلوق میں اتنا فرق ہے تو خالق اور مخلوق میں کتنا فرق ہوگا ؟ پھر کسی مخلوق کو خالق کے ساتھ عبادت میں کیسے شریک کیا جاسکتا ہے ؟
Ayah 16:80

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْۢ بُیُوْتِكُمْ سَكَنًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ جُلُوْدِ الْاَنْعَامِ بُیُوْتًا تَسْتَخِفُّوْنَهَا یَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَ یَوْمَ اِقَامَتِكُمْ١ۙ وَ مِنْ اَصْوَافِهَا وَ اَوْبَارِهَا وَ اَشْعَارِهَاۤ اَثَاثًا وَّ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 16:80 in the Quran reader

اور اس نے تمہارے لیے تمہارے گھروں کو سکون کی جگہ بنایا، اور تمہارے لیے مویشیوں کی کھالوں سے ایسے گھر بنائے جو تمہیں سفر پر روانہ ہوتے وقت اور کسی جگہ ٹھہرتے وقت ہلکے پھلکے محسوس ہوتے ہیں۔ (33) اور ان کے اون، ان کے رویں اور ان کے بالوں سے گھریلو سامان اور ایسی چیزیں پیدا کیں جو ایک مدت تک تمہیں فائدہ پہنچاتی ہیں۔

33: ان گھروں سے مراد وہ خیمے ہیں جو چمڑے سے بنائے جاتے ہیں، اور عرب کے لوگ انہیں سفر میں ساتھ لے جاتے تھے تاکہ جہاں چاہیں، انہیں نصب کر کے پڑاؤ ڈال لیں۔