Ayah 16:111 یعنی خدا کا یہ حکم کہ " پیغمبر ﷺ کی جماعت غالب و منصور اور حق کے مخالف مغلوب و ذلیل ہوں گے، جنہیں دنیا میں مسلمان مجاہدین کے ہاتھوں اور آخرت میں براہ راست احکم الحاکمین کے دربار سے شرک و کفر کی سزا ملے گی " اس حکم کے وقوع کا وقت قریب آپہنچا۔ اور قیامت کی گھڑی بھی دور نہیں ہے۔ جس چیز کا آنا یقینی ہو اسے آئی ہوئی سمجھنا چاہیے پھر جلدی مچانے کی کیا ضرورت ہے۔ کفار ازراہ تکذیب و استہزاء کہا کرتے تھے کہ جس عذاب یا قیامت کے آنے کا تم وعدہ کرتے ہو، وہ جلد کیوں نہیں آجاتا انھیں متنبہ فرمایا کہ تمہارے ایسا کہنے سے وہ ٹلنے والا نہیں۔ بلکہ حتمی اور یقینی طور پر جلد آیا چاہتا ہے جس قدر دیر لگ رہی ہے وہ بھی ایک طرح سے تمہارے حق میں مفید ہے ممکن ہے بعض کو اصلاح و توبہ کی توفیق مل جائے۔ (وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بالْعَذَابِ ۭ وَلَوْلَآ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَاۗءَهُمُ الْعَذَابُ ) 29 ۔ العنکبوت :53) (يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا ۚ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا ۙ وَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ ) 42 ۔ الشوری :18)
12 یعنی جب حق کا غالب ہونا اور کفر و شرک پر سزا ملنا یقینی ہے تو توحید کی راہ اختیار کرو اور مشرکانہ طور و طریق سے علیحدہ ہوجاؤ۔ جنہیں تم خدا کا شریک ٹھہراتے ہو ان میں سے کوئی خدا کے حکم کو ٹال نہیں سکتا نہ عذاب الٰہی کو روک سکتا ہے۔
Ayah 16:21 یعنی فرشتوں کی جنس میں سے بعض کو جیسے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) یا حفظۃ الوحی، جن کی طرف " ( فَاِنَّهٗ يَسْلُكُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًا) 72 ۔ الجن :27) میں اشارہ کیا ہے۔
2 یہاں ' روح " سے مراد وحی الٰہی ہے جو خدا کی طرف سے پیغمبروں کی طرف غیر مرئی طریق پر بطور ایک بھید کے آتی ہے۔ چناچہ دوسری جگہ فرمایا (يُلْقِي الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ ) 40 ۔ غافر :15) ایک جگہ قرآن کی نسبت فرمایا (وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا) 42 ۔ الشوری :52) قرآن یا وحی الٰہی کو " روح " سے تعبیر فرمانے میں یہ اشارہ ہے کہ جس طرح مادی اجسام کو نفخ روح سے ظاہری حیات حاصل ہوتی ہے، اسی طرح جو قلوب جہل و ضلال کی بیماریوں سے مردہ ہوچکے تھے وہ وحی الٰہی کی روح پا کر زندہ ہوجاتے ہیں۔
3 وہ بندے انبیاء (علیہ السلام) ہیں جن کو خدا تعالیٰ ساری مخلوق میں سے اپنی حکمت کے موافق اپنے کامل اختیار سے چن لیتا ہے۔ ( ۂاَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ ) 6 ۔ الانعام :124) (اَللّٰهُ يَصْطَفِيْ مِنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ) 22 ۔ الحجر :75)
4 یعنی توحید کی تعلیم، شرک کا رد اور تقویٰ کی طرف دعوت، یہ ہمیشہ سے تمام انبیاء (علیہم السلام) کا مشترکہ و متفقہ نصب العین (مشن) رہا ہے۔ گویا اثبات توحید کی یہ نقلی دلیل ہوئی۔ آگے عقلی دلیلیں بیان کی جاتی ہیں۔
Ayah 16:35 یعنی زمین و آسمان کا نظام ایسا درست و استوار بنایا ہے جسے دیکھ کر لامحالہ یقین کرنا پڑتا ہے کہ تمام کائنات کا سلسلہ صرف ایک ہی مالک مختار کے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔ بلکہ کئی آزاد خداؤں کی کشمکش باہمی سرے سے اس نظام عالم کو موجود ہی نہ ہونے دیتی (لَوْ كَانَ فِيْهِمَآ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا) 21 ۔ الانبیآء :22) ( اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۢ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰي بَعْضٍ ) 23 ۔ المؤمنون :91)
Ayah 16:46 یعنی علویات و سفلیات کا انتظام درست کر کے تم کو پیدا کیا۔ تم خود اپنی خلقت میں غور کرو تو حق تعالیٰ کی عجیب و غریب صنعت وقدرت کا سبق ملے گا۔ تمہاری اصل کیا تھی ؟ ایک قطرہ بےجان، جس میں نہ حس و حرکت تھی نہ شعور و ارادہ، نہ وہ بات کرنے کے قابل تھا، نہ اس لائق تھا کہ کسی معاملہ میں جھگڑ کر اپنا حق منوا دے یا دوسروں پر غالب آجائے۔ اب دیکھو حق تعالیٰ نے اسی قطرہ ناچیز کو کیا سے کیا بنادیا۔ کیسی عجیب صورت عطا کی۔ اور کیسی اعلیٰ قوتیں اور کمالات اس پر فائض کیے جو ایک حرف بولنے پر قادر نہ تھا وہ کیسے لیکچر دینے لگا جس میں ادنیٰ حس و حرکت نہ تھی، اب کس طرح بات بات میں جھگڑے کرنے اور حجتیں نکالنے لگا۔ حتی کہ بعض اوقات مخلوق سے گزر کر خالق کے مقابلہ میں خم ٹھونک کر کھڑا ہوگیا، یہ بھی یاد نہ رکھا کہ میری اصل کیا تھی اور کیسے یہ طاقت حاصل ہوئی (اَوَلَمْ يَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ 77 وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِيَ خَلْقَهٗ ۭ قَالَ مَنْ يُّـحْيِ الْعِظَامَ وَهِىَ رَمِيْمٌ 78 قُلْ يُحْيِيْهَا الَّذِيْٓ اَنْشَاَهَآ اَوَّلَ مَرَّةٍ ۭ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِـيْمُۨ 79ۙ ) 36 ۔ یس :77 تا 79)
Ayah 16:57 یعنی اونٹ، گائے، بھیڑ، بکری تمہارے لیے پیدا کئے۔ ان میں سے بعض کے بال یا اون وغیرہ سے کمبل د سے، ڈیرے، خیمے اور سردی سے بچنے کے لیے مختلف قسم کے لباس تیار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ کسی کا دودھ پیا جاتا ہے، کسی کو ہل میں چلایا جاتا ہے۔ گھی مکھن وغیرہ کی ساری افراط ان ہی جانوروں کی بدولت ہے۔ ان کے چمڑے سے کیسے کیسے عمدہ اور بیش قیمت سامان تیار کیے جاتے ہیں۔ جن جانوروں کا گوشت کھانے میں کوئی معتدبہ بدنی یا اخلاقی مضرت نہیں ہے ان کا گوشت کھایا جاتا ہے، کتنے غریبوں کی شکم پروری ان سے ہوتی ہے اور جو دوسری غذائیں ہم کھاتے ہیں ان کی تیاری میں بھی ان حیونات کو کس قدر دخل ہے۔
Ayah 16:68 جب ڈھور ڈنگر گھر میں بندھے کھڑے ہوں یا جنگل میں غائب ہوں اس وقت انعام الٰہی کا ایسا صاف مظاہرہ نہیں ہوتا۔ ہاں جب چرنے کے لیے گھر سے نکلتے یا شام کو جنگل سے شکم سیر ہو کر گھر کی طرف لوٹتے ہیں اس وقت ایک عجیب رونق اور چہل پہل ہوتی ہے۔ مالک خود بھی دیکھ کر خوش ہوتا ہے اور دوسرے لوگ بھی کہتے ہیں کہ خدا نے فلاں زمیندار کو کیسا دھن دولت دیا ہے۔
Ayah 16:79 یعنی جہاں تم جریدہ بدون سامان و اسباب کے بڑی مشکل سے پہنچ سکتے تھے یہ جانور تم کو اور تمہارے بھاری بھاری سامانوں کو کھینچ کرلے جاتے ہیں۔ یہ خدا کی کتنی بڑی شفقت اور مہربانی ہے کہ ان حیوانات کو تمہاری خدمت میں لگا دیا اور ان سے کام لینے کی اجازت دی اور بڑی سخت اور مشکل مہمات ان جانوروں کے ذریعہ سے آسان کردیں۔ (اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَيْدِيْنَآ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ 71 وَذَلَّــلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَمِنْهَا يَاْكُلُوْنَ 72) 36 ۔ یس :72-71)
Ayah 16:810 یعنی سواری کرتے ہو اور عزت و شان ظاہر ہوتی ہے (تنبیہ) عرب میں گدھے کی سواری معیوب نہیں۔ وہاں کے گدھے نہایت قیمتی، خوبصورت، تیز رفتار درقدم باز ہوتے ہیں۔ بعض گدھوں کے سامنے گھوڑوں کی کچھ حقیقت نہیں رہتی۔ ایک زندہ دل ہندی نے خوب کہا تھا کہ حجاز میں " گدھا " نہیں " حمار " ہوتا ہے۔
11 یعنی جن حیوانات کا اوپر ذکر ہوا، ان کے علاوہ حق تعالیٰ تمہارے انتفاع کے لیے وہ چیزیں پیدا کرتا رہتا ہے اور کرتا رہے گا جن کی تمہیں فی الحال خبر بھی نہیں۔ اس میں وہ سب سواریاں بھی آگئیں جو قیامت تک بنتی رہیں گی۔
Ayah 16:912 پہلے ذکر فرمایا تھا کہ تم حیونات کی پیٹھ پر سوار ہوتے ہو اور وہ تم کو مع سامان و اسباب کے سخت اور کھٹن منزلیں طے کرا کر منزل مقصود پر پہنچا دیتے ہیں۔ یہ بدنی اور حسی سیر و سفر کا حال ہوا۔ اسی کی مناسبت سے اب روحانی اور معنوی سیرو سیاحت کی طرف کلام منتقل ہوگیا۔ یعنی جس طرح زمینی راستے طے کر کے منزل مقصود تک پہنچتے ہو، ایسے ہی خدا تک پہنچنے کا سیدھا راستہ بھی کھلا ہوا ہے۔ جس کی سمجھ سیدھی ہوگی۔ وہ مذکورہ بالا دلائل و بصائر میں غور کرکے حق تعالیٰ کی قدرت اور عظمت و جبروت پر ایمان لائے گا اور توحید وتقویٰ کی سیدھی راہ چل کر بےکھٹکے خدا تک پہنچ جائے گا۔ لیکن جس کی عقل سیدھی نہیں، اسے سیدھی سڑک پر چلنے کی توفیق کہاں ہوسکتی ہے وہ ہمیشہ اہواء و اوہام کی پیچدار پگڈنڈیوں میں پڑا بھٹکتا رہے گا۔ (وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهٖ ) 6 ۔ الانعام :153)
13 یعنی خدا کچھ اس بات سے عاجز نہیں تھا کہ ساری دنیا کو ایک ہی راہ پر لگا دیتا۔ لیکن اس کی حکمت مقتضی نہیں ہوئی کہ سب کو ایک ہی ڈھنگ اختیار کرنے پر مجبور کردے۔ جیسا کہ ہم پہلے متعدد مواقع میں اس کی تشریح کرچکے ہیں۔
Ayah 16:1014 یعنی پانی پینے کے قابل بنایا اور اسی سے درخت، گھاس وغیرہ نباتات اگائے جس سے تمہارے جانور چرتے ہیں۔
Ayah 16:111 یعنی ایک ہی پانی سے مختلف قسم کے پھل اور میوے اگاتا رہتا ہے جن کی شکل و صورت، رنگ و بو، مزہ اور تاثیر ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ اس میں غور کرنے والوں کے لیے خدا کی قدرت کاملہ اور صنعت غریبہ کا بڑا نشان ہے کہ ایک زمین، ایک آفتاب، ایک ہوا، اور ایک پانی سے کیسے رنگ برنگ کے پھول پھل پیدا ہوتے رہتے ہیں۔
Ayah 16:122 رات اور دن برابر ایک دوسرے کے پیچھے لگے چلے آتے ہیں تاکہ دنیا کا کاروبار چلے اور لوگ سکون و آرام حاصل کرسکیں۔ اسی طرح چاند سورج ایک معین نظام کے ماتحت نکلتے اور چھپتے رہتے ہیں۔ رات، دن کی آمد و شد اور شمس و قمر کے طلوع و غروب کے ساتھ انسانوں کے بیشمار فوائد وابستہ ہیں۔ بلکہ غور سے دیکھا جائے تو ان کے بدون انسان کی زندگی محال ہے۔ خدا تعالیٰ نے اپنے اقتدار کامل سے چاند سورج اور کل ستاروں کو ادنیٰ مزدوروں کی طرح ہمارے کاموں پر لگا رکھا ہے۔ مجال نہیں کہ ذرا سستی یا سرتابی کرسکیں۔ لیکن چونکہ رات دن اور چاند سورج سے بالکل صریح طور پر ہمارے کام متعلق ہیں اور دوسرے ستاروں سے ہمارے فوائد و مصالح کی وابستگی اس قدر واضح نہیں ہے، شاید اس لیے ان کو جدا کر کے دوسرے عنوان سے بیان فرمایا۔ واللہ اعلم۔
Ayah 16:133 یعنی جس بلندو برتر ہستی نے آسمانی چیزوں کو تمہارے کام میں لگایا اسی نے تمہارے فائدہ کے لیے زمین میں مختلف قسم کی مخلوقات پید اکیں جو ماہیت، شکل و صورت، رنگ و بو اور منافع و خواص میں ایک دوسرے سے بالکل علیحدہ ہیں۔ اس میں سب حیوانات، نباتات، جمادات، بسائط و مرکبات شامل ہوگئے۔
Ayah 16:144 یعنی ایسے ٹھاٹھیں مارنے والے خوفناک سمندر کو بھی جس کے سامنے انسان ضعیف البنیان کی کچھ بساط نہیں تمہارے کام میں لگا دیا کہ اس میں بےتکلف مچھلی کا شکار کر کے نہایت لذیذ اور تروتازہ گوشت حاصل کرتے ہو۔ اور اس کے بعض حصوں میں سے موتی اور مونگا نکالتے ہو جس کے قیمتی زیور تیار کیے جاتے ہیں بھلا سمندر کی موجوں کو دیکھو جن کے سامنے بڑے بڑے جہازوں کی ایک تنکہ کے برابر حقیقت نہیں۔ لیکن ایک چھوٹی سی کشتی کس طرح ان موجوں کو چیرتی پھاڑتی چلی جاتی ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کی قدرت کا نمونہ ہے کہ اس نے انسان کو عقل دی اور ایسی چیزیں تیار کرلینے کی ترکیب سمجھائی جن کے ذریعہ سے گویا سمندروں کو پایاب کرلیا گیا۔
5 یعنی جہازوں اور کشتیوں پر تجارتی مال لاد کر ایک ملک سے دوسرے ملک اور ایک براعظم سے دوسرے براعظم میں پہنچاؤ، اور خدا کے فضل سے بڑی فراخ روزی حاصل کرو، پھر خدا کا احسان مان کر اس کی نعمتوں کے شکر گزار رہو۔
Ayah 16:156 یعنی خدا تعالیٰ نے زمین پر بھاری پہاڑ رکھ دئیے تاکہ زمین اپنی اضطرابی حرکت سے تم کو لے کر بیٹھ نہ جائے۔ روایات و آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین ابتدائے آفرینش میں مضطربانہ طور پر ہلتی اور کانپتی تھی۔ خدا تعالیٰ نے اس میں پہاڑ پیدا کیے جن سے اس کی کپکپی بند ہوئی۔ آجکل جدید سائنس نے بھی اقرار کیا ہے کہ پہاڑوں کا وجود بڑی حد تک زلزلوں کی کثرت سے مانع ہے۔ بہرحال زمین کی حرکت و سکون کا مسئلہ جو حکماء میں مختلف فیہ رہا ہے اس سے آیت کا نفیاً یا اثباتاً کچھ تعلق نہیں، کیونکہ پہاڑوں کے ذریعہ سے جس حرکت کو بند کیا ہے وہ یہ دائمی حرکت نہیں جس میں اختلاف ہو رہا ہے۔
7 یعنی ندیوں اور نہروں کا سرچشمہ کہیں پہاڑوں میں ہوتا ہے لیکن وہ میدانوں اور پہاڑوں کو قطع کرتی ہوئی سینکڑوں ہزاروں میل کی مسافت پر خدا کے حکم سے ان بستیوں تک پہنچتی ہیں جن کا رزق ان کے پانی سے متعلق کیا گیا ہے۔
8 یعنی ایک ملک سے دوسرے ملک میں جاسکو۔
Ayah 16:169 یعنی پہاڑ، چشمے، درخت، ریت کے ٹیلے غرض مختلف قسم کی علامتیں قائم کردی ہیں جن سے مسافروں کے قافلے ٹھیک راستہ کا سراغ نکال سکیں۔ میں نے خود بعض اعراب (بدوؤں) کو دیکھا کہ مٹی کو سونگھ کر راستہ کا پتہ لگا لیتے ہیں۔
10 یعنی رات کے وقت دریا اور خشکی کے سفر میں بعض ستاروں کے ذریعہ سے راستہ کا پتہ لگا لیا جاتا ہے۔ " قطب نما " سے جو راہنمائی ہوتی ہے وہ بھی بالواسطہ ستارہ سے تعلق رکھتی ہے۔
Ayah 16:1711 یعنی سوچنا چاہیے یہ کس قدر حماقت ہے کہ جو چیزیں ایک مکھی کا پر اور مچھر کی ٹانگ بلکہ ایک جو کا دانہ یا ریت کا ذرہ پیدا کرنے پر قادر نہ ہوں انھیں معبود و مستعان ٹھہرا کر خداوند قدوس کے برابر کردیا جائے۔ جو مذکورہ بالا عجیب و غریب مخلوقات کا پیدا کرنے والا اور ان کے محکم نظام کو قائم رکھنے والا ہے اس گستاخی کو دیکھو اور خدا کے انعامات کو خیال کرو۔ حقیقت میں انسان بڑا ہی ناشکرا ہے۔
Ayah 16:1812 یعنی جو نعمتیں اوپر بیان ہوئیں " مشتے نمونہ ازخروارے " تھیں۔ باقی خدا کی نعمتیں تو اس قدر ہیں جن کا تم کسی طرح شمار نہیں کرسکتے۔
13 یعنی ان بیشمار نعمتوں کا شکر پوری طرح کس سے ادا ہوسکتا تھا۔ لہذا ادائے شکر میں جو کوتاہی رہ جاتی ہے خدا اس سے درگزر کرتا اور تھوڑے سے شکر پر بہت سا اجر عطا فرما دیتا ہے۔ یا یہ کفر ان نعمت کے بعد جو شخص توبہ کر کے شکر گزار بن جائے حق تعالیٰ اس کی پچھلی کوتاہیوں کو بخشتا اور آئندہ کے لیے رحمت مبذول فرماتا ہے۔ بلکہ ناشکری کی حالت میں بھی اپنی رحمت واسعہ سے اس کو بالکلیہ محروم نہیں کرتا۔ ہزاروں طرح کی نعمتیں دنیا میں فائض کرتا رہتا ہے۔
Ayah 16:191 یعنی حق تعالیٰ تمام ظاہری و باطنی احوال سے خبردار ہے، وہ خوب جانتا ہے کہ کون شخص اس کی نعمتوں پر کس حد تک دل سے اور کس حد تک جوارح سے شکر گزار بنتا ہے اور کون ایسا ہے جس کا ظاہر و باطن ادائے حق نعمت سے خالی رہتا ہے، یا مذکورہ بالا دلائل و نعم کو سن کر کون ہے جو سچے دل سے اس پر ایمان لاتا ہے اور کون ہے جو ظاہر میں دلائل سے لاجواب ہو کر بھی حق کو قبول نہیں کرتا۔ خدا کے علم میں جس کا جو حال ہوگا اسی کے موافق معاملہ کرے گا۔
Ayah 16:202 خدا تو وہ ہے جس کے عظیم الشان اور غیر محصور انعامات کا اوپر تذکرہ ہوا۔ اب مشرکین کی حماقت ملاحظہ ہو کہ ایسے عالم الکل اور خالق الکل خدا کا شریک ان چیزوں کو ٹھہرا دیا جو ایک گھاس کا تنکا پیدا نہیں کرسکتیں، بلکہ خود ان کا وجود بھی خدا کا پیدا کیا ہوا ہے۔
Ayah 16:213 یعنی جن چیزوں کو خدا کے سوا پوجتے ہیں سب مردے (بےجان) ہیں۔ خواہ دواماً مثلاً بت، یا فی الحال مثلاً جو بزرگ مرچکے اور ان کی پوجا کی جاتی ہے یا انجام و مال کے اعتبار سے مردہ ہیں۔ مثلاً حضرت مسیح، روح القدس اور ملائکتہ اللہ، جس کی بعض فرقے پرستش کرتے تھے بلکہ جن و شیطان بھی جن کو بعض ممسوخ الفطرت پوجتے ہیں سب پر ایک وقت موت طاری ہونے والی ہے۔ پس جس چیز کا وجود دوسرے کا عطا کیا ہوا ہو اور وہ جب چاہے چھین لے، اسے خدا کس طرح کہہ سکتے ہیں ؟ یا عبادت کے لائق کیسے ہوسکتا ہے ؟
4 یعنی یہ عجیب خدا ہیں جنہیں کچھ خبر نہیں کہ قیامت کب آئے گی اور وہ خود یا ان کے پرستار کب حساب و کتاب کے لیے اٹھائے جائیں گے۔ ایسی بےجان اور بیخبر ہستیوں کو خدا بتلانا انتہا درجہ کی حماقت اور جہل ہے۔
Ayah 16:225 یعنی جو دلائل و شواہد اوپر بیان ہوئے ایسے صاف اور واضح ہیں جس میں ادنیٰ غور کرنے سے انسان توحید کا یقین کرسکتا ہے لیکن غور و طلب تو وہ کرے جسے اپنی عاقبت کی فکر اور انجام کا ڈر ہو۔ جن کو بعد الموت کا یقین ہی نہیں نہ انجام کی طرف دھیان ہے وہ دلائل پر کب کان دھرتے اور ایمان و کفر کے نیک و بدانجام کی طرف کب التفات کرتے ہیں۔ پھر دلوں میں توحید کا اقرار اور پیغمبر کے سامنے تواضع سے گردن جھکانے کا خیال آئے تو کہاں سے آئے۔
Ayah 16:236 یعنی خوب سمجھ لو کبرو غرور کوئی اچھی اور پسندیدہ چیز نہیں، اس کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا، توحید کا انکار جو تم دلوں میں رکھتے ہو اور غرور وتکبر جس کا اظہار تمہاری چال ڈھال اور طور و طریق سے ہو رہا ہے، سب خدا کے علم میں ہے۔ وہ ہی ہر کھلے چھپے جرم کی سزا تم کو دے گا۔
Ayah 16:247 یعنی ناواقف اشخاص بغرض تحقیق یا واقف لوگ ازراہ امتحان جب ان مکذبین سے کہتے ہیں یا وہ مکذبین خود آپس میں ایک دوسرے سے ازراہ تمسخر و استہزاء سوال کرتے ہیں کہ " کہو تمہارے رب نے کیا چیز اتاری ہے "؟ مطلب یہ کہ قرآن جسے پیغمبر ﷺ خدا کا اتارا ہوا بتلاتے ہیں تمہارے نزدیک کیا چیز ہے اور محمد ﷺ اس دعوے میں کہاں تک سچے ہیں ؟ تو کہتے ہیں کہ (معاذ اللہ) قرآن میں رکھا ہی کیا ہے بجز اس کے کہ کتب سابقہ اور ملل سابقہ کی کچھ پرانی بےسند باتیں (توحید، نبوت، جنت و دوزخ وغیرہ) اور چند قصے کہانیاں نقل کردی گئی ہیں۔
Ayah 16:258 یعنی اس کہنے سے غرض یہ ہے کہ (معاذ اللہ) قرآن عزیز کو بےوقعت ٹھہرا کر اپنے ساتھ دوسروں کو گمراہ کریں اور اس طرح اپنے کفر وضلال کی پوری پوٹ کے ساتھ کچھ بوجھ ان لوگوں کے اضلال و اغواء کا بھی سر پر رکھیں۔ جنہیں اپنی نادانی اور جہالت سے گمراہ کر رہے ہیں۔ خیال کرو کیسی بدی کی پوٹ سر پر رکھ رہے ہیں۔ حدیث میں ہے " وَمَنْ دَعَا اِلٰی ضَلَالَۃٍ کَانَ عَلَیْہِ مِنَ الْاِثْمِ مِثْلُ اٰثَامِ مَنِ اتَّبَعَہ، لَا یَنْقُصُ ذٰلِکَ مِنْ اٰثَامِہِمْ شَیْئًا۔ " قال اللہ تعالیٰ (وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ ) 29 ۔ العنکبوت :13)
Ayah 16:269 یعنی لوگوں کو گمراہ کرنے اور پیغام حق کو پست کرنے کی جو تدبیریں آج کی جا رہی ہیں ان سے پہلے دوسری قومیں بھی انبیاء (علیہم السلام) کے مقابلہ میں ایسی تدبیریں کرچکی ہیں۔ انہوں نے مکرو تلبیس کے بڑے اونچے محل کھڑے کردیے، پھر جب خدا کا حکم پہنچا تو اس نے پکڑ کر بنیادیں ہلا دیں۔ آخر عذاب الٰہی کے ایک جھٹکا میں ان کے تیار کیے ہوئے محل ان ہی پر آپڑے جن کی چھتوں کے نیچے سب دب کر رہ گئے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی تدبیریں خود ان ہی پر الٹ دی گئیں۔ اور جو سامان غلبہ و حفاظت کا کیا تھا وہ فنا و ہلاکت کا سبب بن گیا۔ بلکہ بعض اقوام کی بستیاں حسی طور پر بھی تہ وبالا کردی گئیں۔
Ayah 16:271 یعنی جن شرکاء کی حمایت میں ہمارے پیغمبروں سے ہمیشہ لڑتے جھگڑتے تھے آج وہ کہاں ہیں۔ تمہاری مدد کو کیوں نہیں آتے (هَلْ يَنْصُرُوْنَكُمْ اَوْ يَنْتَصِرُوْنَ ) 26 ۔ الشعرآء :93) (فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ وَّلَا نَاصِرٍ ) 86 ۔ الطارق :10) یہ کہنا ہی ان کو رسوا کرنا ہے۔ یا رسوائی سے مراد جہنم میں داخل کرنا اور ان کی خفیہ مکاریوں کا پردہ فاش کرنا ہے۔ " (اِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَيْتَهٗ ) 3 ۔ آل عمران :192)
2 یعنی وہ تو کیا جواب دے سکتے۔ البتہ انبیاء (علیہم السلام) اور دوسرے باخبر لوگ اس وقت ان مکار دغابازوں کو سنا کر کہیں گے کہ دیکھ لیا جو ہم کہا کرتے تھے۔ آج کے دن ساری برائی اور رسوائی صرف منکرین حق کے لیے ہے۔
Ayah 16:283 یعنی شرک و کفر اختیار کر کے اپنے حق میں برا کرتے رہے۔ آخر اسی حالت میں موت کے فرشتے جان نکالنے کو آگئے۔ خلاصہ یہ کہ خاتمہ حالت کفر و شرک پر ہوا۔ العیاذ باللہ۔
4 یعنی اس وقت ساری فوں فاں نکل جائے گی۔ جو شرارت و بغاوت دنیا میں کرتے تھے سب کا انکار کر کے اطاعت وفاداری کا اظہار کریں گے کہ ہم نے کبھی کوئی بری حرکت نہیں کی ہمیشہ نیک چلن رہے۔ (يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا فَيَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا يَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَيَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰي شَيْءٍ ۭ اَلَآ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ ) 58 ۔ المجادلہ :18)
5 یعنی کیا جھوٹ بول کر خدا کو فریب دینا چاہتے ہو ؟ جس کے علم میں تمہاری ساری حرکات ہیں آج تمہارا کوئی مکر اور جھوٹ خدائی سزا سے نہیں بچاسکتا۔ وقت آگیا ہے کہ اپنی کرتوت کا مزہ چکھو۔
Ayahs 16:29–306 یہ مستکبرین کے مقابلہ میں متقین (پرہیزگاروں) کا حال بیان فرمایا کہ جب ان سے قرآن کے متعلق دریافت کیا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا چیز اتاری تو نہایت عقیدت و ادب سے کہتے ہیں کہ " نیک بات جو سراپا خیر و برکت ہے " ایسے لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ جس نے بھلائی کی دنیا میں اسے بھلائی کا خوشگوار پھل مل کر رہے گا۔ خدا کے یہاں کسی کی محنت اور ذرہ برابر نیکی ضائع نہیں جاتی۔
7 یعنی آخرت کی بھلائیوں اور نعمتوں کا تو پوچھنا ہی کیا ہے۔ دنیا و مافیا کی نعمتیں وہاں کی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے مقابلہ میں ہیچ ہیں۔
Ayah 16:318 یعنی جنتی جس قسم کی جسمانی راحت اور روحانی مسرت چاہیں گے وہاں حاصل ہوگی ( وَفِيْهَا مَا تَشْتَهِيْهِ الْاَنْفُسُ وَتَلَذُّ الْاَعْيُنُ ۚ وَاَنْتُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ ) 43 ۔ الزخرف :71)
9 یعنی ان تمام لوگوں کو جو کفر و شرک اور فسوق و عصیان سے پرہیز کرتے ہیں ایسا اچھا بدلہ ملے گا۔
Ayah 16:3210 یعنی ان کی جانیں موت کے وقت تک کفرو شرک کی نجاست سے پاک اور فسق و فجور کے میل کچیل سے صاف رہیں۔ اور حق تعالیٰ کی صحیح معرفت و محبت کی وجہ سے نہایت خوشدلی اور انشراح بلکہ اشتیاق کے ساتھ اپنی جان جاں آفریں کے حوالہ کی۔
11 ایک حیثیت سے روحانی طور پر تو انسان مرنے کے بعد ہی جنت یا دوزخ میں داخل ہوجاتا ہے۔ ہاں جسمانی حیثیت سے پوری طرح دخول حشر کے بعد ہوگا۔ ممکن ہے اس بشارت میں دونوں قسم کے دخول کی طرف اشارہ ہو۔
12 یعنی تمہارا عمل سبب عادی ہے دخول جنت کا۔ باقی سب حقیقی رحمت الٰہیہ ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا۔ " اِلاَّ اَنْ یَّتَغَمَّدَ نِیَ اللّٰہُ بِرَحْمَتِہٖ ۔ "
Ayah 16:331 جنت کی خوبیاں اور اس کا تفوق و امتیاز بیان فرمانے کے بعد ان غافلوں کو تنبیہ کی جاتی ہے جو محض دنیاوی سامانوں پر مست ہو کر آخرت کو بھلائے بیٹھے ہیں اور اپنا انجام سدھارنے کی کوئی فکر نہیں کرتے۔ یعنی کیا یہ لوگ اس کے منتظر ہیں کہ جس وقت فرشتے جان نکالنے کو آجائیں گے یا خدا کے حکم کے موافق قیامت قائم ہوجائے گی۔ یا مجرموں کی سزا دہی کا حکم پہنچ جائے گا اور جوتا سر پر پڑنے لگے گا، تب ایمان لا کر اپنی حالت درست کریں گے، حالانکہ اس وقت کا ایمان یا توبہ و رجوع کچھ نافع نہ ہوگا۔ ضرورت تو اس کی ہے کہ موت سے پہلے بعد الموت کی تیاری کی جائے اور عذاب آنے سے پیشتر بچاؤ کی تدبیر کرلیں۔
Ayah 16:342 یعنی اگلے معاندین بھی اسی طرح غرور و غفلت کے نشے میں پڑے رہے تھے۔ باطل پرستی میں تمادی ہوتی رہی، توبہ کے وقت توبہ نہ کی، اخیر تک انبیاء کی تکذیب و مخالفت پر تلے رہے اور ان کی باتوں کی ہنسی اڑاتے رہے۔ آخر جو کیا تھا سامنے آیا اور عذاب الٰہی وغیرہ کی جن خبروں سے ٹھٹھا کیا کرتے تھے وہ آنکھوں سے دیکھ لیں۔ ان کا استہزاء و تمسخر انہی پر الٹ پڑا، بھاگ کر جان بچانے کی کوئی سبیل نہ رہی اپنی شرارتوں کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ جو بویا تھا سو کاٹا۔ خدا کو ان سے کوئی بیر نہ تھا نہ اس کے یہاں ظلم وتعدی کا امکان ہے۔ ان لوگوں نے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی ماری کسی کا کیا بگڑا انہی کا نقصان ہوا۔
Ayah 16:353 یہاں سے ان باطل اعذار اور لچر پوچ دلائل کا رد شروع کرتے ہیں جو مشرکین اپنے شرک اور اعمال شرکیہ کا جواز و استحسان ثابت کرنے کے لیے پیش کرتے تھے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اگر غیر اللہ کی پرستش یا بعض جانوروں (مثلاً بحیرہ سائبہ وغیرہ) کو حرام ٹھہرا لینا برے اور بےسند کام ہوتے جنہیں خدا پسند نہ کرتا تو ہم کو کرنے کیوں دیتا۔ ضرور تھا کہ جب ہم اس کی مرضی کے خلاف کام کریں تو اس سے روک دے نہ رکیں تو فوراً سزا دے۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو یہ دلیل ہے کہ خدا کو وہ کام ناپسند نہیں۔ آٹھویں پارہ کے دوسرے ربع آیت (سَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَآ اَشْرَكْنَا وَلَآ اٰبَاۗؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِنْ شَيْءٍ ) 6 ۔ الانعام :148) کی جو تقریر ہم نے کی ہے اس میں مشرکین کا یہ شبہ اور اس کا مفصل جواب بیان کیا گیا ہے۔ وہاں ملاحظہ کرلیا جائے۔
4 یعنی مشرکین کا یہ کہنا غلط ہے کہ خدا کی طرف سے روکا نہیں گیا ابتدائے آفرینش سے آج تک حسب ضرورت مصلحت حق تعالیٰ انبیاء کو بھیجتا رہا ہے جن کا کام ہی یہ تھا کہ لوگوں کو شرک و اعمال شرکیہ سے روکیں۔ اور صاف صاف اعلان کریں کہ خدا تعالیٰ کو کیا کام پسند ہیں کیا ناپسند، اور ان میں سے ہر ایک کا انجام کیا ہے۔ باقی یہ کہ لوگوں کو تکوینی طور پر مجبور کیوں نہ کردیا گیا کہ وہ بدی کا راستہ اختیار ہی نہ کرسکتے تو یہ بات اس کی حکمت کے منافی تھی جیسا کہ ہم پہلے متعدد مواضع میں لکھ چکے ہیں۔ رہی یہ چیز کہ جو انبیاء کا کہنا نہ مانیں انھیں فوراً سزا دی جاتی تو بہت سی قوموں کو دنیا میں عبرتناک سزائیں بھی دی گئیں۔ جیسا کہ اگلی آیت میں مذکور ہے۔ ہاں عقلاً و نقلاً یہ ضروری نہیں کہ ارتکاب جرم کے ساتھ انھیں فوراً سزا دی جائے۔ مجرم کو ایک منٹ کی مہلت نہ ملے نہ اس کے لیے توبہ و اصلاح کا کوئی موقع باقی چھوڑا جائے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " یہ نادانوں کی باتیں ہیں کہ اللہ کو یہ کام برا لگتا تو کیوں کرنے دیتا۔ " (کیا ان کے روکنے سے خدا عاجز تھا ؟ ) یہاں جواب مجمل فرمایا کہ ہمیشہ رسول منع کرتے آئے ہیں، جس کی قسمت میں ہدایت تھی اس نے پائی، جو خراب ہونا تھا خراب ہوا۔ اللہ کو یہ ہی منظور ہے (کہ انسان کو فی الجملہ کسب و اختیار کی قوت دے کر آزاد رکھے۔ اینٹ پتھر کی طرح مجبور یا حیوانات کی طرح اس کا دائرہ عمل محدود نہ کرے بلکہ ہر طرف بڑھنے اور ترقی کرنے کا موقع دے) ۔
Ayah 16:365 یعنی اپنے اپنے وقت پر۔ پھر آخر میں پیغمبر عربی ﷺ کو رسول الثقلین بنا کر بھیجا۔ (تنبیہ) اس آیت سے لازم نہیں آتا کہ ہر قوم اور بستی میں رسول بلاواسطہ بھیجا گیا ہو۔ ہوسکتا ہے کہ ایک نبی کسی قوم میں اٹھایا جائے اور اس کے نائب جنہیں " ہادی " و " نذیر " کہا جاسکتا ہے دوسری اقوام میں بھیجے جائیں۔ ان کا بھیجنا گویا بالواسطہ اسی پیغمبر کا بھیجنا ہے، واللہ اعلم۔
6 حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں سرکش وہ جو ناحق سرداری کا دعویٰ کرے کچھ سند نہ رکھے۔ ایسے کو " طاغوت " کہتے ہیں بت، شیطان اور زبردست ظالم سب اس میں داخل ہیں۔ "
Ayah 16:377 یعنی جس کو قصور استعداد اور سوء اختیار کی بناء پر خدا گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت نہیں کرسکتا نہ اسے خدائی سزا سے کوئی بچا سکتا ہے۔ آپ کا ان کی ہدایت پر حریص ہونا بھی کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ پھر آپ ان کے غم میں اپنے کو اس قدر کیوں گھلاتے ہیں۔
Ayah 16:381 یعنی موت کے بعد دوسری زندگی ہی نہیں پھر عذاب کا کیا ڈر۔ سب ڈھکوسلے ہیں۔
2 یعنی تمہارے انکار اور اٹکل پچو قسمیں کھانے سے خدا کا پکا وعدہ ٹل نہیں سکتا، وہ تو ہو کر رہے گا۔ البتہ تم ایسی حقائق ثابتہ کا انکار کر کے اپنے جہل کا ثبوت دے رہے ہو۔ جو شخص خدا کے علم محیط اور شؤن قدرت و حکمت، تکوین کے راز اور اس کی غرض وغایت سے آگاہ ہوگا وہ کبھی بعث بعد الموت کا انکار نہیں کرسکتا۔ سچ ہے۔ " الناس اعداء ماجہلوا "
Ayah 16:393 یعنی معاد (قیامت وغیرہ کا آنا) عین حکمت ہے۔ اگر موت کے بعد دوسری زندگی نہ ہو تو دنیا میں جو مختلف اعمال و احوال پائے جاتے ہیں ان کے صاف اور مکمل نتائج کیسے ظاہر ہوں گے۔ یہاں کے جھگڑوں کا دو ٹوک فیصلہ تو وہیں ہوگا اور اس وقت منکرین معلوم کرلیں گے کہ قسمیں کھا کر جن باتوں کا انکار کرتے تھے وہ سچی تھیں۔ اور قسم کھانے والے جھوٹے تھے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی اس جہان میں بہت باتوں کا شبہ رہا اور کسی نے اللہ کو مانا کوئی منکر رہا تو دوسرا جہان ہونا لازم ہے کہ جھگڑے تحقیق ہوں، سچ اور جھوٹ جدا ہو اور مطیع و منکر اپنا کیا پائیں۔ "
Ayah 16:404 پھر مردوں کو دوبارہ زندہ کردینا کیا مشکل ہے۔ (تنبیہ) " کُنْ فَیَکُوْنُ " کی بحث پارہ الم رکوع وَقَالَتِ الْیَہُود الخ میں ملاحظہ کرلی جائے غرض صرف اس قدر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارادے سے ایک سیکنڈ کے لیے بھی مراد کا تخلف نہیں ہوسکتا۔ ارادہ کے بعد مراد کا نہایت سہولت و سرعت سے فوراً واقع ہونا اور کسی مانع و عائق کا مزاحمت نہ کر سکنا یہ ہی خلاصہ اس جملہ کا ہے۔