16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 16:1

اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:1 in the Quran reader

اللہ کا حکم آپہنچا تو اب اس میں جلدی نہ مچاؤ،1۔ پاک اور برتر ہے وہ (اللہ) شرک سے جو یہ (لوگ) کرتے رہتے ہیں،2۔

1۔ (اے منکرو ! ) منکرین بار بار شرارت وطعن کی راہ سے کہا کرتے تھے کہ عذاب الہی اگر فی الواقع کوئی چیز ہے، تو آکیوں نہیں جاتا، اس میں آخر اتنی دیر کیوں لگ رہی ہے ؟ جواب اسی کا ارشاد ہورہا ہے۔ (آیت) ” امر اللہ “۔ یعنی سزائے کفر وشرک کا حکم الہی۔۔ مراد عذاب دنیوی بھی ہوسکتا ہے اور عذاب قیامت بھی، قریب تو دونوں ہی عذاب آچکے۔ ذلک وعید من اللہ لاھل الشرک بہ اخبرھم ان الساعۃ قدقربت وان عذابھم قد حضر اجلہ فدنا (ابن جریر) ھو تھدید من اللہ اھل الکفر بہ وبرسولہ واعلام منہ لھم قریب العذاب منھم والھلاک (ابن جریر) فالمراد بہ علی قول الجمھور یوم القیامۃ (روح) وعن ابن جریح تفسیر بنزول العذاب فقط فقال المراد بالامر ھنا ما وعدہ اللہ تعالیٰ نبیہ ﷺ من النصر والظفر علی الاعداء والانتقام منھم بالقتل والسبی ونھب الاموال والاستیلاء علی المنازل والدیار (روح) 2۔ اس کی ذات بھی منزہ اور اس کی صفات بھی ارفع ان تمام نالائق امور سے جو اہل شرک وجاہلیت اس کی جانب منسوب کرتے رہتے ہیں۔
Ayah 16:2

یُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اَنْ اَنْذِرُوْۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوْنِ Open ayah 16:2 in the Quran reader

فرشتوں کو وحی کے ساتھ اپنے حکم سے نازل کرتا رہتا ہے اپنے بندوں میں جس پر وہ چاہے،3۔ (اس حکم کے ساتھ) کہ (لوگوں کو) خبردار کردو، کہ کوئی معبود بجز میرے نہیں ہے۔ سو مجھی سے ڈرتے رہو،4۔

3۔ یعنی انبیاء ومرسلین پر۔ (آیت) ” من یشآء “ نے ظاہر کردیا کہ نبوت عطیہ الہی ہے، امر استحقاقی نہیں۔ (آیت) ” بالروح “۔ روح سے مراد یہاں وحی الہی ہے۔ بالروح ای بالوحی (ابن جریر، عن ابن عباس ؓ المراد من الروح الوحی وھو کلام اللہ (کبیر) (آیت) ” من امرہ “۔ میں اس کی تاکید ہے کہ یہ نزول ملائکہ ونزول وحی اللہ ہی کے حکم سے ہوتا ہے، کوئی اور اس میں دخیل نہیں۔ یعنی ان ذلک التنزیل والنزول لایکون الا بامر اللہ تعالیٰ (کبیر) فرشتوں کا قرآن مجید میں جہاں جہاں ذکر ہے، وہاں برابر اسی طرح کی قیدیں لگا دی ہیں۔ مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ فرشتے اپنی طرف سے کسی امر میں سبقت کی مجال نہیں رکھتے، پابند ہیں تمامتر حکم الہی کے۔ امام رازی (رح) اس طرح کی متعدد آیات نقل کرکے لکھتے ہیں :۔ کل ھذا الایات دالۃ علی انھم لایقدمون علی عمل من الاعمال الا بامر اللہ تعالیٰ واذنہ (کبیر) دیوتا پرستی ملائکہ پرستی ہی کا دوسرا نام ہے۔ قرآن مجید کا اس لیے اس باب میں اس قدر اہتمام و احتیاط بالکل قدرتی ہے۔ (آیت) ” المآئکۃ صیغہ جمع میں بہ معنی جنس ملائکہ ہے، خواہ مراد اس سے صرف حضرت جبرئیل ہی ہوں، لیکن جیسا کہ امام رازی (رح) نے لکھا ہے، رسول اللہ ﷺ پر نزول تنہا جبرئیل (علیہ السلام) کا تھا ہی کب، کبھی غزوات میں فرشتوں کی پوری پوری فوجیں اتاری جاتیں، کہیں ملک الجبال آپ کی خدمت میں پہنچ جاتے، کبھی ملک البحار، کبھی کوئی اور۔ انہ سبحانہ وتعالیٰ ماانزل علی محمد ﷺ جبرئیل وحدہ بل فی اکثر الاحوال کان ینزل مع جبریل افواجا من الملئکۃ (کبیر) المراد بالملئکۃ عند الجمھور جبریل (علیہ السلام) ویسمی الواحد بالجمع کما قال الواحدی اذا کان رئیسا وعند بعض ھو (علیہ السلام) ومن معہ من حفظۃ الوحی (روح) من کو بعض نے بیانیہ و تفسیر یہ لیا ہے، اور (آیت) ” من امرہ “ سے وحی ہی مراد رکھی ہے۔ من امرہ بیان للروح المراد بہ الوحی (روح) ترجمہ اس صورت میں یوں ہوگا :۔ ” نازل کرتا ہے فرشتوں کو وحی یعنی اپنی حکم کے ساتھ “۔ اس میں اشارہ ادھر بھی ہے کہ پیغمبر پر وحی جو آتی ہے ملائکہ امین وصادق کے ذریعہ سے آتی ہے، کسی شیطان فاسق کے ذریعہ سے نہیں۔ نیز آیت سے اس کی تعلیم بھی مل جاتی ہے کہ پیغمبر صاحب وحی ہوجانے کے بعد بھی بندہ رہتا ہے۔ اور فرشتے بھی بہ ایں کمال تقرب ومنزلت حد عبودیت سے نہیں آگے بڑھنے پاتے۔ 4۔ (اور میرے مقابلہ میں کسی کو خاطر میں نہ لاؤ) انذار ایسا اعلان ہے جس کے ساتھ خوف بھی ملا جلا ہو۔ الانذار ھو الاعلام مع التخویف (کبیر)
Ayah 16:3

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:3 in the Quran reader

اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے حکمت کے ساتھ، وہ برتر ہے ہر شرک سے، جو یہ (لوگ) کرتے رہتے ہیں،5۔

5۔ آیت سے کئی تعلیمات حاصل ہوئیں، مثلا یہ کہ (1) آسمان و زمین خود ساختہ نہیں، مخلوق ہیں۔ (2) مخلوق اللہ کی ہے نہ کہ کسی اور کی۔ (3) ان سب کی خلقت بلاکسی غرض ومقصد کے، سیروتفریح، کھیل وتماشہ کی طرح نہیں، گہرے حکیمانہ مقصد ہی سے ہوئی ہے۔
Ayah 16:4

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:4 in the Quran reader

اس نے انسان کو نطفہ سے پیدا کیا مگر وہ تو کھلم کھلا مقابلہ پر آگیا،6۔

6۔ اور اپنے رب کی ذات وصفات کے باب میں کیسے کیسے مناقشے برپا کردیئے۔ (آیت) ” خلق الانسان من نطفۃ “۔ یہاں یہ یاد دلا دیا کہ انسان جو استکبار وانانیت سے لبریز ہوجاتا ہے، حقیقۃ اس کی اصل مادی ہے کتنی حقیر و پست !۔
Ayah 16:5

وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَا١ۚ لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۪ Open ayah 16:5 in the Quran reader

اور چوپائے بھی اسی نے بنائے، ان میں تمہارے لئے گرم لباس بھی ہے، اور (اور بھی) فائدے ہیں، اور ان میں سے تم کھاتے بھی ہو،7۔

7۔ مطلب یہ ہوا کہ چوپایوں میں کوئی شان ربوبیت والوہیت اصلا نہیں۔ سب کے سب اللہ کے مخلوق ومربوب ہیں، انسان ہی کے نفع و خدمت کے لیے، نہ کہ الٹے انسان کے مخدوم اوردیوتا بننے کے قابل۔ یہ تردید ہورہی ہے ان مشرک و جاہل قوموں کی جنہوں نے گائے اور بیل اور بھینس وغیرہ کی پرستش کی ہے۔ (آیت) ” دفء “۔ لفظی معنی سرمائی پوشش کے ہیں۔ الدفیء غلاف البرد (راغب) اس عموم میں دوشالے، شال، پوستین، دھ سے، خیمے، ڈیرے وغیرہ سب آگئے۔ آیت) ” ومنافع “۔ چناچہ کوئی چوپایہ ہل چلانے کے کام میں آتا ہے، کوئی سواری کے، کوئی بار برداری کے اور کسی کی جلد سے جوتے اور بکس اور دوسرے قسم کے چرمی سامان بنتا ہے۔ وقس علی ہذا فقہاء نے آیت سے استدلال کیا ہے کہ چوپایوں کی کھال، اون وغیرہ سے نفع حاصل کرنا، زندہ اور مردہ دونوں حالتوں میں جائز ہے۔ ذلک یقتضی جواز الانتفاع باصوافھا واوبارھا فی سائر الاحوال من حیاۃ اوموت (جصاص)
Ayah 16:6

وَ لَكُمْ فِیْهَا جَمَالٌ حِیْنَ تُرِیْحُوْنَ وَ حِیْنَ تَسْرَحُوْنَ۪ Open ayah 16:6 in the Quran reader

اور ان کی وجہ سے تمہارے رونق بھی ہے جس کہ (ان کو) شام کے وقت (گھر) لاتے ہو اور جب کہ (انہیں) صبح کے وقت (چرنے) چھوڑدیتے ہو،8۔

8۔ محققین نے لکھا ہے کہ منافع ضروری کے بعدجمال کا ذکر لانا اس کی دلیل ہے کہ زینت، جمال وغیرہ مصالح زاید کا قصد بھی مضر نہیں، جبکہ مانع شرعی (مثلا فخر وتکبر) سے خالی ہو، اور کوئی امر مباح مقصود ہو، مثلا دفع مذلت یا حصول مسرت۔
Ayah 16:7

وَ تَحْمِلُ اَثْقَالَكُمْ اِلٰى بَلَدٍ لَّمْ تَكُوْنُوْا بٰلِغِیْهِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ١ؕ اِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 16:7 in the Quran reader

اور وہ تمہارے بوجھ بھی ایسے شہر کو لے جاتے ہیں جہاں تم بغیر نفس کی سخت مشقت کے پہنچ نہیں سکتے،9۔ تمہارا پروردگار بیشک بڑا شفقت والا ہے، بڑا رحمت والا ہے،10۔

9۔ یعنی دور دراز مقامات کی مسافت طے کرنے اور سامان منتقل کرنے میں کیسی مدد اور سہولت، اونٹ، گھوڑے، بیل وغیرہ سے میسر آجاتی ہے۔ 10۔ (چنانچہ تمہارے نفع اور آسائش کے لیے کیسے کیسے سامان اس نے بہم پہنچا دیئے ! )
Ayah 16:8

وَّ الْخَیْلَ وَ الْبِغَالَ وَ الْحَمِیْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَ زِیْنَةً١ؕ وَ یَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:8 in the Quran reader

اور (اسی نے پیدا کئے) گھوڑے اور خچر اور گدھے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور زینت کے لئے بھی، اور وہ پیدا کرتارہتا ہے ایسی چیزیں جن کی تم کو خبر نہیں،11۔

11۔ اس عموم کے تحت میں جانوروں کے علاوہ تمام انسان کی ایجاد کی ہوئی سواریاں بھی قیامت تک کے لیے آگئیں۔ انسانی صنعت وصناعت کی مدد سے جو جو طریقے حمل ونقل کے نکلے ہیں، وہ آخر اللہ ہی کے خلق میں داخل ہیں۔ (آیت) ” والخیل والبغال والحمیر “۔ مشرک قوموں نے گھوڑے کی بھی پرستش کی ہے اور گدھے کی بھی۔ ملاحظہ ہوں انگریزی تفسیر القرآن کے حاشیے۔ عرب میں ان تینوں جانوروں کی بڑی اہمیت تھی، چناچہ ہٹی نے اپنی ” تاریخ عرب “ میں لکھا ہے کہ نجد کے گھوڑے اور حسا کے گدھے اور عمان کے خچر ساری دنیا میں مشہور ہیں۔ (صفحہ 22) (آیت) ” وزینۃ “۔ یعنی طرح طرح کے نفیس سامان آرایش وزینت انہی جانوروں سے حاصل ہوتے رہتے ہیں۔ اور خود یہ جانور بھی تجمل وتزئین انسانی کا ذریعہ ہیں۔ ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 8۔ نیز ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی، جن فقہاء نے گھوڑے اور خچر اور گدھے کے گوشت کو ناجائز قرار دیا ہے، ان کا ایک استدلال اس آیت سے بھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ادھر جہاں انعام (مویشیوں) کا ذکر آیا، وہاں حق تعالیٰ نے (آیت) ” ومنھا تاکلون “۔ کی بھی تصریح کردی، اور یہاں صرف (آیت) ” لترکبوھا وزینۃ ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جانور صرف سواری اور آرائش کے کام کے ہیں، کھانے کے لیے نہیں۔
Ayah 16:9

وَ عَلَى اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِیْلِ وَ مِنْهَا جَآئِرٌ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 16:9 in the Quran reader

اور اللہ ہی پر ہے راستہ (کا دکھانا) ،12۔ اور بعض اس میں سے ٹیڑھے بھی ہیں،13۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب ہی کو راہ یاب کردیتا،14۔

12۔ (طالبان حق کے لیے) (آیت) ” علی اللہ “۔ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے طالبان حق کو راہ راست دکھا ہی دیتا ہے۔ یہ مراد نہیں (جیسا کہ معتزلہ نے سمجھ لیا ہے) کہ اللہ پر راہ راست دکھانا واجب ہے۔ والمراد علی اللہ بحسبہ الفضل والکرم ان یبین دین الحق والمذھب الصحیح (کبیر) اے اقامۃ السبیل وتعدیلھارحمۃ وفضلا (بیضاوی) ولیس ذلک للوجوب اذلا یجب علی اللہ شیئا ولکن یفعل ذلک تفضلا (مدارک) (آیت) ” قصد السبیل “۔ قصد یہاں صورۃ مصدر ہے۔ لیکن معنی فاعل یعنی راہ قاصد یا مستقیم۔ الطریق الموصل الی الحق (کشاف) مصدر بمعنی الفاعل وھو القاصد یقال سبیل قصد وقاصد اے مستقیم (کشاف) (آیت) ” السبیل “۔ صورۃ مفرد ہے لیکن مراد جنس سبیل ہے۔ المراد بالسبیل الجنس ولذلک اضاف الیھا القصد (کشاف) 13۔ یعنی ایسے راستے جو دین حق کے خلاف ہیں، اور حق تعالیٰ تک نہیں پہنچاتے۔ اور ان پر چلنے سے بچنے کا حکم ہے۔ مراد اس سے کفر وضلالت کے مختلف طریقے ہیں۔ یعنی من السبیل ما ھو جائز غیر قاصد للحق وھو انواع الکفر والضلال (کبیر) (آیت) ” منھا “۔ ضمیر سبیل کی طرف ہے، جو لغت حجاز میں مؤنث ہے۔ تعود علی السبیل وھی مؤنثۃ فی لغۃ الحجاز (کبیر) (آیت) ” جآئر “۔ جور کے معنی حق سے انحراف یا کجی کے ہیں، اے عادل مائل ومعنی الجور فی اللغۃ المیل عن الحق (کبیر) 14۔ (لیکن اس کی مشیت تکوینی میں ہدایت عام وعالمگیر واضطراری نہیں رکھی گئی، بلکہ صرف انہیں افراد کے لئے رکھی گئی، جو اپنے ارادہ سے حق کی تلاش کریں)
Ayah 16:10

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً لَّكُمْ مِّنْهُ شَرَابٌ وَّ مِنْهُ شَجَرٌ فِیْهِ تُسِیْمُوْنَ Open ayah 16:10 in the Quran reader

وہ (اللہ) وہی ہے جس نے تمہارے لئے آسمان سے پانی برسایا جس سے تمہیں پینے کو ملتا ہے اور اسی سے سبزہ زار پیدا ہوتے ہیں جن میں تم مویشی چراتے ہو۔15۔

15۔ یہاں یہ بتایا کہ کھانے پینے کی ساری لذتوں اور نعمتوں کا آخری سرا اسی قادر مطلق کے ہاتھ میں ہے۔ شجر کے عموم میں پودے، درخت، جھاڑیاں، گھاس، سب داخل ہیں۔ قال الزجاج کل ما نتبت علی الارض فھو شجر (کبیر) اے نبات مطلقا سواء کان لہ ساق ام لاکما نقل عن الزجاج (روح) یہاں مراد چراگاہیں ہیں۔ یعنی الشجر الذی ترعاہ المواشی (کشاف)
Ayah 16:11

یُنْۢبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ النَّخِیْلَ وَ الْاَعْنَابَ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:11 in the Quran reader

اور اسی سے تمہارے لئے کھیتی اگاتے ہیں نیز زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل بیشک اس میں (بڑی) نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو سوچتے رہتے ہیں،16۔

16۔ یعنی اس سارے محکم نظام وانتظام نباتی ہیں اہل فکر و تدبر کے لئے اللہ کی ربوبیت، قدرت، حکمت و توحید کی بڑی بڑی نشانیاں موجود ہیں۔ (آیت) ” الزیتون والنخیل والاعناب “۔ زیتون کھجور، انگور کے طبی فوائد نیز اہل عرب کے لئے ان کی اہمیت خصوصی پر ملاحظہ ہوں انگریزی تفسیر القرآن کے حاشیے۔ (آیت) ” ینبت لکم سے یہ مسئلہ ایک بار پھر روشنی میں آگیا کہ یہ سارا نتظام نباتی انسان ہی کے لئے ہے۔
Ayah 16:12

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ۙ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ وَ النُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَۙ Open ayah 16:12 in the Quran reader

اور اسی نے تمہارے (فائدہ کے) لئے (اپنا) مسخر کیا ہے رات کو اور دن کو اور سورج کو اور چاند کو، اور ستارے بھی اس کے حکم سے مسخر (قدرت) ہیں بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے (بڑی) نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے رہتے،17۔

17۔ یعنی اس سارے نظام فلکی کے جزئیات وتفصیلات پر اگر عقل و تدبر سے کام لو، تو تم خود بول اٹھوگے کہ بیشک جس نے ایسے کامل ومستحکم انتظامات کر رکھے ہیں وہی ذات واحد قادر مطلق و حکیم کل اور سب کی پروردگار ہے۔ (آیت) ” سخرلکم۔۔ بامرہ “۔ یہاں یہ بتایا ہے کہ سارے مخلوقات جو اپنے فرائض تکوینی انجام دیتے رہتے ہیں، ان سے مقصود خلیفۃ اللہ، نوع بشری کی خدمت ہے، تو یہ کیسی الٹی سمجھ اور کس درجہ حماقت وسخافت ہے کہ خود انہی خادموں کو دیوی، دیوتا کے مرتبہ تک پہنچا دیا جائے ! (آیت) ” مسخرت بامرہ “۔ سارے اجرام فلکی بہ ایں عظمت وبے نہایتی اللہ کے قوانین طبعی ہی کے پابند ہیں، اور ان سے بال بھر ادھر ادھر نہیں ہٹ سکتے۔ مشرک قوموں کی دیومالا اٹھا کر دیکھئے چندرماں برہسپت دیوتا سے لڑتے نظر آئیں گے۔ اور زہرہ وعطادر کے درمیان جنگ ہوتی ملے گی۔
Ayah 16:13

وَ مَا ذَرَاَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 16:13 in the Quran reader

اور (ان چیزوں کو بھی مسخر بنایا) جنہیں زمین پر تمہارے لئے پھیلایا، ان کے اقسام مختلف ہیں، بیشک اس میں بھی نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو نصیحت حاصل کرتے رہتے ہیں،18۔

18۔ ایک ہی سطح زمین پر، ایک ہی آفتاب کی روشنی میں، ایک ہی فضائے ہوائی میں، ایک ہی بارش سے اور بعض اوقات تو فضا میں ایک دوسرے سے بالکل متصل ہی، مختلف شکل و صورت کے، مختلف جسامت کے، مختلف مزہ اور بو باس کے، مختلف رنگوں کے، مختلف خاصیتوں کے پھول، پھل، میوے، غلے پیدا کرتے رہنا جس قدر حکیمانہ انتظام قدرت پر دلالت کرسکتا ہے، کسی صاحب نظر واہل بصیرت سے مخفی نہیں۔ (آیت) ” الوانہ “۔ لون کے اصلی معنی تو رنگ کے ہیں، لیکن الوان سے انواع و اقسام بھی مراد ہوتی ہیں۔ ویعبر بالالوان عن الاجناس والانواع (راغب)
Ayah 16:14

وَ هُوَ الَّذِیْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:14 in the Quran reader

اور وہ وہی (اللہ) ہے جس نے سمندر کو مسخر کر رکھا ہے تاکہ تم اس میں سے تازہ گوشت کھاؤ،19۔ اور تاکہ تم اس میں زیور نکالو جسے تم پہنتے ہو،20۔ اور تو کشتیوں کو دیکھتا ہے کہ اس میں پانی چیرتی ہوئی چلی جاتی ہیں تاکہ تم اللہ کے فضل سے تلاش کرتے رہو، اور تاکہ تم (اس کا) شکر ادا کرتے رہو،21۔

19۔ (حلال دریائی جانوروں کا) البحر۔ بحر کا مفہوم عربی میں وسیع ہے۔ سمندر اور دریادونوں اس کے تحت میں آجاتے ہیں۔ البحر یشمل الملح والعذب (بحر) اصل البحر کل مکان واسع جامع للماء الکثیر (راغب) (آیت) ’ سخر البحر “۔ یعنی دریا وسمندر بھی اسی کے قانون تکوینی کے محکوم ومسخر ہیں۔ نہ خود آفریدہ ہیں نہ خود مختار۔ مصر میں دریائے نیل کی پرستش کا نظارہ اسی طرح عام رہ چکا ہے۔ ، جس طرح آج ہندوستان میں گنگا مائی اور جمنا مائی، اور سرجومائی اور نربدامائی اور تاپتی مائی اور بھاگیرتی مائی، اور اور بیشمار دریاؤں کی پرستش کا ہے۔ 20۔ جیسے موتی یا مونگے، صوفیہ محققین نے کہا ہے کہ پر زینت لباس جبکہ حاجب عن الحق نہ ہو، خلاف طریق نہیں۔ 21۔ یہ ابتغاء فضل اور توقع شکر اس کی صاف دلیل ہیں کہ بڑی سی بڑی بحری تجارتیں کرنا، اور ان سے نفع اٹھانا ذرا بھی منافی تقوی نہیں۔ (آیت) ” تری الفلک “۔ خطاب عام ناظرین سے ہے۔ (آیت) ” فیہ “۔ یعنی دریا میں، سمندر میں۔ (آیت) لتبتغوا من فضلہ “۔ یعنی ان بحری سواریوں سے تجارت کرو۔ ابتغاء فضل سے مراد تجارت ہے۔ ابتغاء الفضل اے التجارۃ (کشاف)
Ayah 16:15

وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ اَنْهٰرًا وَّ سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 16:15 in the Quran reader

اور اس نے زمین میں پہاڑ رکھ دیئے ہیں تاکہ وہ تم کو لے کر ڈگمگانے نہ لگے،22۔ اور دریا اور راستے (بنا دیئے) تاکہ تم راہ پاتے رہو اور علامتیں بھی (بنائیں) ،23۔

22۔ (اور یہ پہاڑ سطح زمین کا توازن قائم رکھیں) (آیت) ’ ’ ان تمید بکم “۔ سے جس حرکت ارض کی نفی مقصود ہے وہ زمین کی دو لابی یا اضطرابی حرکت ہے، جیسے جسم ہوا سے پتانے لگتا ہے۔ مطلق حرکت ارض کے مسئلہ کو، جو تمامتر ایک سائنسی بحث ہے، قرآن مجید کی کم از کم اس آیت سے نفیا واثباتا کوئی تعلق نہیں۔ 23۔ (انہی راستوں کی شناخت کیلئے) ٹیلے، پہاڑیاں، درخت، چشمے وغیرہ سب علامات راہ کا کام دیتے ہیں۔
Ayah 16:16

وَ عَلٰمٰتٍ١ؕ وَ بِالنَّجْمِ هُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 16:16 in the Quran reader

اور ستاروں سے بھی (لوگ) راہ پاتے رہتے ہیں،24۔

24۔ ستاروں کی قدر و قیمت اس حیثیت سے کوئی سمندر کے ملاحوں، جہاز رانوں کشتی بانوں اور صحرا اور ریگستان کے مسافروں سے پوچھے اس دور ترقی میں بھی بڑے بڑے دخانی جہازوں کے کپتانوں کا سہارا بھی ” قطب نما “ ہی رہتا ہے ! یعنی وہ آلہ قطب ” ستارہ “ کی سمت متعین کرتا رہتا ہے۔ (آیت) ’ بالنجم “۔ نجم بہ طور اسم جنس کے آیا ہے۔ صرف صورۃ مفرد ہے نہ کہ معنی والمراد بالنجم الجنس (کبیر)
Ayah 16:17

اَفَمَنْ یَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا یَخْلُقُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:17 in the Quran reader

اچھا تو کیا وہ جو پیدا کرتا ہے اسی جیسا ہوجائے گا جو پیدا نہیں کرسکتا ؟ تو کیا تم (اتنا بھی) غور نہیں کرتے،25۔

25۔ خطاب مشرکوں سے ہے کہ تم اتنی موٹی بات بھی نہیں سمجھتے، اور اتنا واضح اور بین فرق بھی تمہیں محسوس نہیں ہوتا۔
Ayah 16:18

وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:18 in the Quran reader

اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنے لگو تو ان کا احاطہ نہ کرپاؤ گے،26۔ بیشک اللہ بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحمت والا ہے،27۔

26۔ یعنی یہ چند نعمتیں تو محض نمونہ کے طور پر بیان ہوئیں، ورنہ اللہ کی بیشمار نعمتوں کا حصر بھلا کس کے امکان میں ہے ؟ (آیت) ” نعمۃ اللہ “۔ نعمۃ صورۃ مفرد ہے ؛ معنی بہ طور اسم جنس آیا ہے۔ تمام اقسام نعمت کو شامل۔ 27۔ چناچہ صفت غفر کے تقاضہ سے وہ مشرکین وملحدین تک کی توبہ قبول کرکے انہیں بخش دیتا ہے۔ اور صفت رحم کے تقاضہ سے وہ مشرکوں اور کافروں کو ان کی زندگی میں دنیوی نعمتوں سے یکسر محروم نہیں کرتا۔
Ayah 16:19

وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 16:19 in the Quran reader

اور اللہ جانتا ہے اس کو بھی جو تم چھپاتے ہو اور اس کو بھی جو تم ظاہر کرتے ہو،28۔

28۔ یعنی یہ حاضر و غائب کی تفریق تو ہمارے معیار سے ہے۔ اللہ کیلئے ہر شے یکساں اور اس پر سب عیاں ہے۔ اس کا علم کامل بھی ہے، محیط بھی۔
Ayah 16:20

وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَؕ Open ayah 16:20 in the Quran reader

اور جن کو یہ اللہ کے علاوہ پکارتے ہیں وہ کسی کو پیدا نہیں سکتے اور وہ خود بھی مخلوق ہیں،29۔

29۔ یعنی ان مشرکین کی کیسی حماقت ہے کی دیوی دیوتا انہیں بنائے ہوئے ہیں، جو ایک گھاس کے تنکے تک کی تخلیق پر قادر نہیں، بلکہ خود اپنے وجود تک کے لئے بھی خالق کائنات کے محتاج ہیں۔
Ayah 16:21

اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ١ۚ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ١ۙ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ۠ Open ayah 16:21 in the Quran reader

اور وہ مردے ہیں نہ کہ زندہ اور ان کو اتنی بھی خبر نہیں کہ (مردے) کب اٹھائے جائیں گے،30۔

30۔ چناچہ بعض کو تو سرے سے بعث کا علم واحساس ہی نہیں۔ بعض جن کو اتنا علم ہے، انہیں بھی وقت معین کا علم نہیں، ایسے بیخبروں کو، ایسے ناقص علم والوں کو معبود تسلیم کرلینا جہل وسفاہت کی انتہاء ہے ! (آیت) ” اموات غیر احیآء “۔ یہ صفت کسی نہ کسی معنی میں سارے معبودان باطل میں مشترک پائی جاتی ہے۔ مورتیوں کا بےجان ہونا تو ظاہر ہی ہے۔ باقی جن ” بزرگوں “ کی پرستش کی جاتی ہے، وہ بھی یا تو وفات پائے ہوئے ہوتے ہیں، اور یا عنقریب وفات پانے والے ہیں :۔
Ayah 16:22

اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:22 in the Quran reader

تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے البتہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کے دل منکر ہورہے ہیں اور وہ تکبر کررہے ہیں،31۔

31۔ (قبول حق سے) (آیت) ” الھکم الہ واحد “۔ خطاب ساری نسل انسانی سے ہے، سب کو بتایا ہے کہ حق تعالیٰ لاثانی اور لاشریک لہ ہے۔ یعنی حق کے اتنے وضوح کے بعد بھی ایمان نہیں لاتے۔ (آیت) ” قلوبھم منکرۃ “۔ یعنی ان کے قلب ایسے نکارہ اور فاسد ہوچکے ہیں کہ وہ ہر معقول بات سے انکار ہی پر تلے ہوئے ہیں، ان کے دلوں میں نہ حق کی طلب و تلاش ہے، اور نہ کوئی فکر عاقبت ہے۔
Ayah 16:23

لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ Open ayah 16:23 in the Quran reader

اللہ ضرور جانتا ہے اس کو بھی کہ جو وہ چھپاتے ہیں اور اس کو بھی جو کچھ کہ وہ ظاہر کرتے ہیں بیشک وہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا،32۔

32۔ (چنانچہ ہر مستکبر کو سزا بھی وقت مقرر پردے گا) خوب غور کرکے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ دین حق قبول کرلینے کے بعد بہرحال نفس کو قانون الہی کی اطاعت میں دینا پڑتا ہے، اور یہ اکثر طبائع کو بھی سخت گراں گزرتا ہے۔ انکے انکار والحاد کی بنیاد عموما خود سری، خود بینی وخود رائی ہی پر ہوئی ہے۔
Ayah 16:24

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ مَّا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 16:24 in the Quran reader

اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا چیز نازل کی تو کہتے ہیں کہ (وہی) اگلوں کے بےسند قصے،33۔

33۔ یہ گہرا فشانی قرآن مجید جیسی محقق کتاب سے متعلق ! مشرکین مکہ تو خیر اپنی بیخبر ی، تاریک خیالی اور جہالت کیلئے ضرب المثل ہی ہیں، کمال یہ ہے کہ آج فرنگستان کے بڑے بڑے ” روشن خیال “ مدعیان علم و دانش بہک بہک کر بس یہی کہتے ہیں کہ ” قرآن “ میں ہے کیا، یہود ونصاری کی کتابوں سے کچھ قصے لے لے کر انہیں مسخ وتحریف کے بعد جمع کردیا گیا ہے۔ “ (آیت) ” لھم “۔ سے مراد مشرکین قریش ہیں۔ (آیت) ” واذا قیل لھم “۔ یعنی جب ان سے باہر کا کوئی شخص سوال کرتا ہے۔ یا خود آپس میں یہ ایک دوسرے سے پوچھ پاچھ کرتے ہیں۔
Ayah 16:25

لِیَحْمِلُوْۤا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۙ وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ۠ Open ayah 16:25 in the Quran reader

نتیجہ یہ ہے کہ قیامت کے دن یہ اپنے (گناہوں کا بھی) پورا بوجھ اٹھائیں گے اور ان لوگوں کے بھی (گناہوں کا) بوجھ جنہیں یہ بغیر علم سے کام لئے گمراہ کررہے دیکھو جی ! (کیسا) برا ہے (یہ بوجھ) جو اپنے اوپر لاد رہے ہیں،34۔

34۔ وعید ان لوگوں کے حق میں ارشاد ہورہی ہے، جو دوسروں سے قرآن کا تعارف اسے (آیت) ” اساطیر الاولین “ کہہ کر کراتے تھے، آخرت میں یہ اپنے انکار کا ثمرہ بھی چکھیں گے، اور دوسروں کے گمراہ کرنے کا بھی۔ (آیت) ” لیحملوا “ میں ل عاقبت کا ہے۔ اللام لام العاقبۃ (کبیر) (آیت) ” بغیر علم “۔ یعنی قرآن مجید کے متعلق ایسی بےسروپارائے یہ خود ہی بلاتحقیق، بلاسند، بلاثبوت دے بیٹھتے ہیں۔
Ayah 16:26

قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتَى اللّٰهُ بُنْیَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ اَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 16:26 in the Quran reader

بڑی بری چالیں وہ لوگ چلے جو ان کے قبل تھے سو اللہ نے ان کی (ساری) عمارت جڑ بنیاد سے اکھیڑ دی پھر ان کے اوپر سے ان پر چھت آپڑی اور ان پر عذاب اس طرف سے آیا جدھر سے ان کو خیال بھی نہ تھا،35۔

35۔ واقعات تاریخی کو یہاں تمثیلی رنگ انشاء میں پیش کیا گیا ہے۔ یعنی جن پر قوت و شوکت منکرین سابقین نے انبیاء کرام کے خلاف خوب خوب منصوبے گانٹھے تھے، بڑی بڑی زبردست چالیں سوچی تھیں، حق تعالیٰ نے ان کی ایک نہ چلنے دی، ان کی ساری خیالی عمارتیں مسمار ہو کر رہیں، اور وہ اس طرح بربادونابود ہوئے کہ جیسے سب چھت کے نیچے دب کر رہ گئے۔ (آیت) ’ من حیث لایشعرون “۔ شامت زدہ قوموں پر تباہی عموما ایسے ہی راستوں اور طریقوں سے آتی ہے، جدھر ان کا خیال و گمان بھی نہیں ہوتا :۔
Ayah 16:27

ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُخْزِیْهِمْ وَ یَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تُشَآقُّوْنَ فِیْهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْیَ الْیَوْمَ وَ السُّوْٓءَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 16:27 in the Quran reader

پھر قیامت کے دن (اللہ) انہیں رسوا کرے گا اور کہے گا میرے وہ ” شریک “ کہاں ہیں جن کے باب میں تم لڑا جھگڑا کرتے تھے،36۔ علم والے (اس وقت) بول اٹھیں گے کہ آج (پوری) رسوائی اور سختی کافروں پر ہے،37۔

36۔ (اہل ایمان سے) یعنی آخرت میں منکرین پوری اور انتہائی طور پر ذلت ورسوائی کے شکار ہوں گے، اور انہیں اور زیادہ جلانے، کڑھانے کے لیے ان سے سوال ہوگا کہ اب بتلاؤ، وہ تمہارے معبود کدھر گئے، جنہیں تم شریک الوہیت سمجھا کرتے تھے، اور جن کی خاطر تم اہل ایمان سے لڑتے جھگڑتے رہتے تھے۔ (آیت) ” شرکآء ی “۔ یعنی میرے شریک تمہارے زعم وپندار کے مطابق۔ ای شرکاءی فی زعمکم واعتقادکم (کبیر عن الزجاج) علی الاضافۃ الی نفسہ حکایۃ لاضافتھم (کشاف) الذین کنتم تزعمون فی الدنیا انھم شرکاءی (ابن جریر) 37۔ وہ منکرین مردودومخذول تو کیا جواب دیں گے، البتہ اہل حق پکار اٹھیں گے کہ آج کے دن (جیسا کہ ہم دنیا میں کہا کرتے اور سمجھتے رہتے تھے) پوری ذلت ورسوائی اور ساری سختی ومصیبت منکرین حق ہی کے لیے ہے ! فرقہ مرحبہ نے یہیں سے یہ استدلال کیا ہے کہ عذاب آخرت کافروں ہی کے ساتھ مخصوص، محدود ہے، مومنین عاصی کو اس سے تعلق نہ ہوگا۔ (آیت) ” الذین اوتوالعلم “۔ یعنی انبیاء مرسلین اور ان کے متبعین صادقین، وھم الانبیاء (علیہم السلام) ال مومن ون الذین اوتوا علما بدلائل التوحید (روح) قال یحییٰ بن سلام ھم ال مومن ون (بحر)
Ayah 16:28

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۪ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ بَلٰۤى اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:28 in the Quran reader

جن کی جانیں فرشتوں نے اس حال میں قبض کی تھیں کہ وہ اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے،38۔ تب وہ صلح کا پیغام ڈال چلیں گے کہ ہم تو کوئی برائی نہیں کرتے رہے،39۔ بیشک اللہ خوب جانتا ہے اس کو جو کچھ تم کرتے رہے تھے،40۔

38۔ یعنی موت کے وقت تک کفر وشرک میں مبتلا رہے تھے اے حال کو نھم مستمرین علی الشرک (روح) 39۔ اس پر ہیبت وہولناک منظر سے دو چار ہو کر منکرین حق اب خوشامدانہ لہجہ میں عرض کرنا شروع کریں گے کہ بھلا ہماری کیا مجال تھی، جو ہم شرک میں مبتلا ہوتے ! کہاں تو دنیا میں اتنا اکڑے ہوئے رہتے تھے، اور کہاں اب خوشامد پر اتر آئیں گے۔ (آیت) ” ماکنا نعمل من سوٓء “۔ یعنی اپنے خیال و عقیدہ میں تو ہم کوئی بری بات نہیں کررہے تھے، المراد ماکنا عاملین السوء فی اعتقادنا اے کان اعتقادنا ان علمنا غیر سیء (روح) 40۔ (تو اب تمہارے اقرار و انکار سے ہوتا کیا ہے۔ تمہارا حال تو عالم الغیب پر خود ہی سب روشن ہے)
Ayah 16:29

فَادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 16:29 in the Quran reader

تو اب جہنم کے دروازوں میں داخل ہو، اس میں ہمیشہ رہنے والے (ہوکر) غرض کیسا برا ٹھکانہ ہے تکبر کرنے والوں کا،41۔

41۔ یعنی ان لوگوں کا جو رعونت نفس کی بنا پر قبول حق سے انکار کرتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” فلبئس “۔ میں ل تاکید کا ہے۔ واللام فی فلبئس لام التاکید (بحر) (آیت) ” مثوی المتکبرین “ ان الفاظ سے گویا یہ ظاہر کردیا کہ تکبر کی قدرتی اجزاء دوزخ ہی ہے۔ ووصف التکبیر دلیل علی استحقاق صاحبہ النار (بحر) (آیت) ” فادخلوا ابواب جھنم “۔ یعنی اپنی اپنی منزل وطبقہ کے مطابق جہنم کے مختلف دروازوں سے اس کے مختلف درجوں میں داخل ہو۔ خطاب لکل صنف منھم ان یدخل باب من ابواب جھنم (روح) ” خلدین فیھا “ یہاں تمام اہل جہنم کو سنا دیا کہ درجات عذاب گونسبۃ کم اور زائد ہوں، لیکن خلود و دوام بہرحال سب کے لیے ہے۔ رہائی، مخلصی کی صورت کسی کے لیے نہیں،
Ayah 16:30

وَ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا مَا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوْا خَیْرًا١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ١ؕ وَ لَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:30 in the Quran reader

اور جو لوگ بچتے رہتے ہیں ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا چیز نازل کی ہے ؟ تو وہ کہتے ہیں بڑی خیر نازل فرمائی ہے،42۔ جن لوگوں نے نیکی کی، ان کے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے اور عالم آخرت تو اور (زیادہ) بہتر ہے،43۔ اور اہل تقوی کا وہ گھر واقعی اچھا ہے

42۔ یعنی ایسا کلام جو سرتا سر خیروبرکت ہی ہے۔ (آیت) ” للذین اتقوا “۔ یعنی وہ لوگ جو کفر وشرک سے بچے رہتے ہیں۔ قال اصحابنا یرید الذین اتقوا الشرک وایقنوا انہ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ (کبیر) یعنی المومنین (بیضاوی) آیت نمبر 24 میں ابھی مکذبین قرآن کا ذکر آچکا ہے کہ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا چیزاتری ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اساطیر الاولین۔ اب ٹھیک ان کے مقابل گروہ مومنین کا ذکر ہے، کہ جب ان سے قرآن کی بابت سوال کیا جاتا ہے، تو وہ جواب میں اسے سرتاسرخیروبرکت بتاتے ہیں۔ 43۔ اس دنیا کی بھلائی سے تو مراد یہاں کی کل نعمتیں ہوسکتی ہیں، مثلا فتح ومال غنیمت، نیک نامی، فارغ البالی، اطمینان قلب، وغیرہ اور پھر سب سے بڑھ کر اجر آخرت کا وعدہ وبشارت۔ اور عالم آخرت اس سے بھی کہیں بڑھ چڑھ کر بہتر اس لحاظ سے ہوگا کہ اول تو وعدہ اجر کے تحقق و ظہور کا مقام وہی ہوگا، اور پھر وہاں کی نعمتیں کیا بہ لحاظ تعداد، کیا بہ لحاظ مقدار اور کیا بہ لحاظ دوام و قیام، اور کیا بہ لحاظ کیفیت ونوعیت، دنیا کی نعمتوں سے کوئی نسبت ہی نہ رکھتی ہوں گی، (آیت) ” الذین احسنوا فی ھذہ الدنیا حسنۃ “۔ یعنی اہل ایمان، وھؤلاء مومنون (ابن جریر، عن قتادۃ)
Ayah 16:31

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْزِی اللّٰهُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:31 in the Quran reader

ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن میں یہ داخل ہوں گے، ان (باغوں) کے نیچے ندیاں بہ رہی ہوں گی، انہیں ہر چیز (مل جائے گی) جو کچھ وہ چاہیں گے اسی طرح کا عوض اللہ اہل تقوی کا دیتا ہے،44۔

44۔ (آیت) ” المتقین “ یہ وہی ہیں جن کا ذکر ایک آیت قبل الذین اتقوا سے آچکا ہے یعنی اہل ایمان۔ (آیت) ” لھم فیھا ما یشآون “۔ ایک بڑی گہری اور اصولی حقیقت ان دو مختصر لفظوں کے اندر آگئی ہے۔ جنت میں جو ہوا بھی چلے گی، سب اہل جنت کی مرضی کے مطابق ہوگی، جو کچھ بھی جس کسی کا جی چاہے گا، سب پورا ہو کر رہے گا۔ ہر تمنا نکل کر، ہر آرزو حاصل ہو کر رہے گی، ایک ایک نعمت جامع جواب ہر مذاق اور ہر درجہ کے سائلین کے لیے آگیا۔
Ayah 16:32

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ طَیِّبِیْنَ١ۙ یَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَیْكُمُ١ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:32 in the Quran reader

یعنی وہ لوگ) جن کی روحین فرشتے قبض کرتے ہیں اس حال میں کہ وہ پاک ہوتے ہیں،45۔ (فرشتے) کہتے جاتے ہیں تم پر سلام ہو تم جنت میں داخل ہوجاؤ اپنے اعمال کے سبب سے،46۔

45۔ (ہر کفر وشرک کی آلودگی سے) معناہ علی ماروی عن ابی معاذ ظاھرین من دنس الشرک وھو المناسب لجعلہ فی مقابلۃ ظالمی انفسھم (روح) قال ابومعاذ طاھرین من الشرک بالکلمۃ الطیبۃ (بحر) طاھرین من ظلم انفسھم بالکفر (مدارک) یعنی یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو آخر وقت تک توحید و ایمان پر قائم رہتے ہیں۔ یہاں ٹھیک ان طبقات کا مقابلہ ہورہا ہے، جن کا ذکر آیت نمبر 28 میں آچکا ہے کہ فرشتے ان کی جانیں سختی اور عذاب سے نکال رہے ہوں گے۔ (آیت) ” طیبین “۔ جو لوگ کفر وشرک، فسق وفجور کی آلودگیوں سے پاک ہیں، ان کی روحیں صحیح معرفت و محبت الہی سے معمور رہتی ہیں اور یہ قدرۃ اپنی جانیں بڑے سروروشوق کے ساتھ جاں آفرین کو سپرد کرتے ہیں۔ 46۔ فرشتوں کا زبان سے یہ کہتے جانا ظاہر ہے کہ مومینن کی تعظیم واکرام کے لیے ہوگا، (آیت) ” یقولون سلم علیکم، ادخلوا الجنۃ “۔ محققین کا بیان ہے کہ منامی، رؤیائی یا روحانی حیثیت سے تو مومن وفات پاتے ہی جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔ (خود برزخ جس عالم کا نام ہے، وہ آخرت ہی کی ایک ہلکی منامنی، رؤیائی شکل ہے) البتہ پوری طرح مادی اور جسمانی طور پر قیامت کے بعد جنت میں داخل ہوگا۔ وھو وقت قبض ارواحھم قالہ ابن مسعود ومحمد بن کعب و مجاھد والاکفرون جعلوا التبشیر بالجنۃ دخولا مجازا (بحر) (آیت) ” بما کنتم تعملون “۔ یعنی جنت میں یہ آپ کی باریابی آپ ہی آپ یا کسی کے طفیل میں یا کسی کے احسان سے نہیں ہورہی ہے، بلکہ خود آپ ہی کے حسن عمل وشیوۂ طاعت کا ثمرہ ہے یہ کہہ کہہ کر مومنین اہل جنت کے دل کو اور زیادہ مسرور کیا جائے گا۔ اس تصریح اور ان نصوص کے درمیان، جن میں کہ کہا گیا ہے کہ جنت تو صرف افضال الہی سے ملے گی، کوئی تعارض وتناقض نہیں۔ سبب حقیقی تو بیشک وہی رحمت الہی ہی ہے، لیکن سبب قریب وسبب عادی ان لوگوں کا حسن عمل ہے۔
Ayah 16:33

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:33 in the Quran reader

یہ (منکرین) تو بس اسی کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آجائیں یا آپ کے پروردگار کا فیصلہ آجائے،47۔ ایسا ہی ان لوگوں نے بھی کیا تھا جو ان کے قبل تھے ان پر اللہ نے ظلم (ذرا بھی) نہیں کیا تھا، بلکہ وہ آپ ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے،48۔

47۔ (جس کے بعد قبول ایمان کی گنجائش ہی نہ باقی رہ جائے) ذکر ان منکرین معاندین کا ہے جو وضوح حق کے بعد بھی اپنی ضد اور ہٹ پر قائم ہیں۔ ھل نفی کے معنی میں ما کا مرادف ہے۔ (آیت) ” تاتیھم المآئکۃ یعنی موت یا عذاب کے فرشتے آجائیں جس کے بعد ایمان مقبول نہیں ہوتا۔ لقبض ارواحھم (روح، عن مجاہد وقتادۃ) لقبض ارواحھم (ابن جریر) (آیت) ” یاتی امر ربک “۔ یعنی قیامت برپا ہوجائے، یا عذاب دنیوی نازل ہوجائے۔ اے العذاب المستاصل اوالقیامۃ (کشاف۔ مدارک) اے القیامۃ (روح۔ عن مجادوقتادۃ) قال بعضھم المراد بالعذاب الدنیوی (روح) 48۔ یعنی کفر، شرک وفسق، غرض سزا کے سارے کام جان جان کر کرتے تھے (آیت) ” فعل الذین من قبلھم “۔ یعنی انہوں نے بھی کفر وعناد پر اصرار کیا تھا، اور انہیں بھی سزا ملی تھی۔
Ayahs 16:34–35

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 16:34 in the Quran reader

آخر انہیں ان کے اعمال کی سزائیں ملیں،49۔ اور انہیں اسی (عذاب) نے گھیرلیا جس پر وہ تمسخر کرتے تھے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ نَّحْنُ وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:35 in the Quran reader

اور شرک کرنے والے کہتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم اس کے سوا کسی کی بھی پرستش نہ کرتے (نہ) ہم اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم اس کے بدون (حکم) کسی چیز کو حرام کرسکتے،50۔ ایسی ہی (حرکت) وہ لوگ بھی کرچکے ہیں جو ان کے قبل ہوئے ہیں،51۔ سو پیغمبروں کے ذمہ تو صرف صاف صاف پہنچا دینا ہے،52۔

49۔ (خواہ اسی زندگی میں، خواہ بعد موت، خواہ دونوں جگہ) 50۔ مشرکین کہتے تھے کہ خدا کو اگر ہمارے طریقے ناپسند ہیں تو وہ ہمیں روک ہی کیوں نہیں دیتا، اس نے ہمیں ان چیزوں پر قدرت ہی کیوں دی ؟ یہ احمق حق تعالیٰ کی مشیت تکوینی (یابندوں کی قوت اختیار وآزادی عمل) اور اس کی رضا وحکم کے درمیان کوئی فرق ہی نہیں کرتے تھے ! 51۔ یعنی یہی ضابطہ زمانہ ماضی کے گمراہوں کو بھی پیش آچکا ہے، حالانکہ اگر ذرا بھی سوچیں، تو یہی سوال الٹ کر خود ان پر بھی عائد ہوتا ہے۔ آخر ان کے عقائد کی رو سے بھی تو خدا کو کچھ چیزیں پسند ہیں اور کچھ ناپسند، تو وہ اپنی ناپسندیدہ چیزوں کو واقع ہی کیوں ہونے دیتا ہے ؟ 52۔ (اور اس فریضہ سے وہ ہر دور اور زمانہ میں پوری طرح ادا ہوچکے) ھل یہاں بھی نفی کے مفہوم میں اور ما کے مرادف ہے (آیت) ” البلغ المبین “ پوری تبلیغ یہ کہ جو دعوے ہوں وہ واضح ہوں، اور ان میں کوئی گنجلک یا خفا باقی نہ رہ جائے اور ہر دعوی پر دلیلیں صحیح، روشن اور عام فہم قائم ہوجائیں۔
Ayah 16:36

وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْهِ الضَّلٰلَةُ١ؕ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 16:36 in the Quran reader

اور یقیناً ہم نے ہر امت میں ایک پیامبر بھیجا ہے کہ اللہ کی عبادت کرو اور شیطان (کی راہ) سے بچو،53۔ سو ان میں وہ بھی ہوئے جنہیں اللہ نے ہدایت دی اور وہ بھی جن پر گمراہی ثابت ہو کر رہی تو زمین پر چلو پھر و دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا (برا) انجام ہوا،54۔

53۔ (سو یہ توحید اور دین حق کی تعلیم کوئی نئی تعلیم نہیں، شروع سے چلی آرہی ہے) (آیت) ” رسولا “۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر ملک وقوم میں، مستقلا کوئی رسول ہی (اصطلاحی معنی میں) آیا ہو۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ ہر قوم تک پیغمبر کی تعلیم پہنچ گئی ہو، خواہ اس کے کسی نائب ہی کے ذریعہ سے۔ ہندوستان میں کوئی پیغمبر ہوئے یہاں نہیں ؟ یہ سوال ایک مدت سے چھڑا ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہاں پیغمبر کی بعثت کا امکان تو بہرحال ہے، لیکن جزم ویقین کے ساتھ کسی صاحب کو پیغمبر قرار دے لینا، جب تک کہ ان کی پیغمبری پر کوئی مستقل دلیل نہ مل جائے، زیادتی ہے۔ (آیت) ” الطاغوت “۔ یہ منجملہ ان الفاظ کے ہے، جن کا ترجمہ اردو میں ایک لفظ سے ہونا دشوار ہے۔ اس لفظ پر حاشیہ سورة آل عمران پ 3) (آیت) ” ومن یکفر بالطاغوت ویؤمن باللہ “ کے ذیل میں گزر چکا۔ 54۔ اور تاریخ وعلم الآثار سے مدد لے کر دیکھو کہ وہ سرکش وخود فراموش قوموں کا کیا انجام بیان کررہی ہیں) (آیت) ” فسیروا “۔ خطاب مشرکوں سے ہے۔ ایھا المشرکون المکذبون (روح) (آیت) ” فمنھم۔۔۔ الضللۃ “ ، پیغمبر (علیہ السلام) کو تسکین دی ہے کہ آپ زیادہ غم وتردد نہ کیجئے، ضلالت وہدایت کے یہ معا ملات تو قدیم سے چلے آرہے ہیں۔
Ayah 16:37

اِنْ تَحْرِصْ عَلٰى هُدٰىهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ یُّضِلُّ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 16:37 in the Quran reader

اگر آپ کو ان کے راہ راست پر آنے کی تمنا ہے تو اللہ ایسے کو راہ نہیں دکھاتا جسے وہ (اس کے عناد کے باعث) گمراہ کرچکا ہے، اور نہ ان کا کوئی حمایتی ہوگا،55۔

55۔ (سو آپ صبر سے کام لیجئے) اب پھر خطاب رسول اللہ ﷺ سے ہے، آپ ﷺ کی افراط شفقت علی الخلق کی بنا پر آپ ﷺ کو اس حقیقت پر توجہ دلائی جارہی ہے کہ جو لوگ خود اپنی ہدایت کی پروا نہیں رکھتے، ان کے لئے قانون تکوینی بدلا نہیں جائے گا “۔ وہ بدستور یوں ہی گمراہی میں پڑا رہیں گے۔
Ayah 16:38

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ لَا یَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ یَّمُوْتُ١ؕ بَلٰى وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:38 in the Quran reader

اور یہ بڑے زور وشور سے خدا کی قسمیں کھاکر کہتے ہیں کہ جو مرجاتا ہے خدا اسے دوبارہ نہیں اٹھائے گا،56۔ کیوں نہیں (کرے گا) اس وعدہ کو اس نے اپنے اوپر لازم کرلیا ہے لیکن اکثر لوگ (اتنا بھی) علم نہیں رکھتے،57۔

56۔ (اور یہ حشر ونشر، جزا وسزا سب ڈھکوسلے ہیں) جاہلیت عرب کے ” روشن خیال “ آج بھی کل کے ” روشن خیالوں “ کی طرح آپس میں بڑے زور وشور اور دعوے کے ساتھ کہا کرتے تھے کہ کیسا حشر ونشر ؟ یہ کچھ بھی ہونا ہوانا نہیں، محض خوش اعتقادیاں ہیں۔ 57۔ ان ” آزادخیالوں “ کی تردید میں ارشاد ہورہا ہے کہ تمہاری لغو والا یعنی تردید سے ہوتا کیا ہے۔ یہ عقیدہ جزاء وسزا تو دین حق کے بنیادی عقائد میں ہے، اور عقیدۂ توحید کا ایک لازمی تتمہ ہے۔ (آیت) ” بلی “ نفی کے جواب میں ہے۔ یعنی کیوں نہ کرے گا، ضرور کرے گا۔ لایجاب النفی اے بلی یبعث (روح)
Ayah 16:39

لِیُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِیْ یَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِیْنَ Open ayah 16:39 in the Quran reader

(اور یہ دوبارہ اٹھانا اس لئے ہوگا) کہ جس امر کے باب میں یہ لوگ اختلاف کرتے تھے اس کا ان کے روبرو اظہار کردے اور تاکہ اہل کفر یقین کرلیں کہ وہ (واقعی) جھوٹے ہی تھے،58۔

58۔ (اور انبیاء ومومنین ہی سچے تھے) ارشاد ہورہا ہے کہ یہ وقوع معاد تو عین حکمت ہے۔ وہیں تو ان کافروں پر پوری طرح ظاہر ہو کر رہے گا کہ اس دار ابتلاء میں جن جن مسائل کے باب میں وہ اہل حق سے لڑتے جھگڑتے رہتے تھے، ان میں وہ کس قدر ناحق پر تھے، اور وہیں ان پر شہودا وعیانا یہ روشن ہو کر رہے گا، کہ وہ خود سرتا سر باطل پر، اور انبیاء ومومنین حق پر تھے۔ (آیت) ’ لیبین “۔ میں ل کا تعلق فعل مقدر نبعثھم سے ہے۔ لھم کی ضمیر جمع غائب ہر مرنے والے کافر و مومن پر شامل ہے۔ اے من یموت وھو شامل للمومنین والکفار (بحر)
Ayah 16:40

اِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَیْءٍ اِذَاۤ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 16:40 in the Quran reader

ہم جب کسی چیز (کے پیدا کرنے) کا ارادہ کرلیتے ہیں تو بس اس سے ہمارا اتنا ہی کہنا ہوتا ہے کہ ہوجا، بس وہ ہوجاتی ہے،59۔

59۔ (سو ایسے قادر مطلق کو مردہ اجسام میں دوبارہ جان ڈال دینا کیا مشکل ہے ؟ اور اس میں شبہ عقلی ہو ہی کیا سکتا ہے ؟ ) قولنا اور نقول سے یہ لازم نہیں آتا کہ حق تعالیٰ اس کلمہ کن کا (جو خود ایک دو حرفی حادث لفظ ہے) تلفظ بھی کرتا ہو مراد صرف اس قدر ہے کہ چھوٹی بڑی کوئی سی بھی چیز ہو، اس کی تکوین کے لئے، اس کے وجود میں آجانے کے لئے حق تعالیٰ کا محض ارادہ کافی ہے۔ ادھر ارادۂ الہی اس سے متعلق ہوا، اور ادھر معا اور فی الفور وہ شے عدم سے وجود میں آگئی۔ لشیء اور لہ دونوں میں ل تبلیغ کا ہے۔ والظاھر ان اللام فی لشیء وفی لہ للتبلیغ (بحر)