16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 16:1–9

اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:1 in the Quran reader

اللہ کا حکم (عذاب) آہی پہنچا تو (کافروں ! ) اس کے لئے جلدی نہ کرو لوگ جن کو اللہ کا شریک بناتے ہیں وہ ان سے پاک اور بلند تر ہے

یُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اَنْ اَنْذِرُوْۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوْنِ Open ayah 16:2 in the Quran reader

وہی فرشتوں کو اپنا حکم دے کر اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے نازل فرماتا ہے کہ لوگوں کو خبردار کردیں کہ میرے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں سو مجھ سے ڈرتے رہو

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:3 in the Quran reader

اسی نے آسمانوں کو اور زمین کو حکمت سے پیدا فرمایا۔ اس کی ذات ان (لوگوں) کے شرک سے بلند تر ہے

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:4 in the Quran reader

انسان کو نطفہ سے پیدا فرمایا پھر وہ (اسی کے بارے) یکایک کھلم کھلا جھگڑنے لگا

وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَا١ۚ لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۪ Open ayah 16:5 in the Quran reader

اور اسی نے چوپایوں کو پیدا فرمایا ان میں تمہارے جاڑے کا لباس ہے (اون کھال وغیرہ سے) اور (بہت سے) فائدے ہیں اور ان میں سے کھاتے بھی ہو

وَ لَكُمْ فِیْهَا جَمَالٌ حِیْنَ تُرِیْحُوْنَ وَ حِیْنَ تَسْرَحُوْنَ۪ Open ayah 16:6 in the Quran reader

اور جب تم ان کو شام کو لاتے ہو اور جب ان کو صبح کو چرانے کے لئے لے جاتے ہو تو اس میں تمہاری شان بھی ہے

وَ تَحْمِلُ اَثْقَالَكُمْ اِلٰى بَلَدٍ لَّمْ تَكُوْنُوْا بٰلِغِیْهِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ١ؕ اِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 16:7 in the Quran reader

اور وہ تمہارے بوجھ بھی ایسے شہر کو لے جاتے ہیں جہاں تم جان کر محنت میں ڈالے بغیر نہیں پہنچ سکتے تھے بیشک تمہارا پروردگار بڑی شفقت (اور) رحمت والا ہے

وَّ الْخَیْلَ وَ الْبِغَالَ وَ الْحَمِیْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَ زِیْنَةً١ؕ وَ یَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:8 in the Quran reader

اور گھوڑے اور خچر اور گدھے (پیدا فرمائے) تاکہ تم ان پر سواری کرو اور (وہ تمہارے لئے) زینت بھی ہوں اور وہ (اور چیزیں بھی) پیدا فرماتا ہے جن کی تم کو خبر نہیں

وَ عَلَى اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِیْلِ وَ مِنْهَا جَآئِرٌ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 16:9 in the Quran reader

اور سیدھا راستہ اللہ تک جا پہنچتا ہے اور بعض (راستے) ٹیڑھے بھی ہیں اور اگر وہ چاہتے تو تم سب کو سیدھے راستے پر چلا دیتے

(رکوع نمبر 1) اسرارومعارف اہل مکہ مذاق اڑاتے اور وقوع عذاب کی تردید میں کہتے کہ بھئی وہ عذاب کہاں ہے جس سے روزانہ ڈرایا جاتا ہے ارشاد ہوا کہ گھبراؤ مت اللہ جل جلالہ کا فیصلہ آپہنچا اور دنیا میں واقعی بہت تھوڑے عرصہ میں مسلمانوں کے ہاتھوں مسلسل شکستیں کھا کر ذلیل ہوئے کچھ قتل ہوگئے کچھ قید بنا لیے گئے اور پھر مکہ مکرمہ فتح ہوگیا اور سب غلام بن کر آپ ﷺ کی شفقتوں کے صدقے آزاد ہوئے حالانکہ اسباب دنیا کے لحاظ سے یہ سب ناممکن نظرآتا تھا اور ایسے ہی اگر دنیا کی عمر کے اعتبار سے دیکھا جائے تو قیام قیامت بھی آپہنچا ہے کہ اللہ کریم کا آخری نبی اور آخری کتاب آچکی اب جہان میں آخری امت ہی تو ہے کوئی نئی امت نہ آئے گی لہذا اب تو قیامت ہی آنے والی ہے لہذا فرمایا اللہ جل جلالہ کی گرفت تو سر پہ کھڑی ہے اگر چندے مہلت نصیب ہے تو جلدی نہ کرو اور ان لمحات کو غنیمت جانو کہ اللہ جل جلالہ ہر عیب سے پاک اور بلند ہے جب اس نے فرما دیا کہ قیامت قائم ہوگی تو یقینا ہوگی کہ اس کا ارشاد برحق ہے اور کوئی اس کا شریک نہیں نہ برابری کا دعوی کرسکتا ہے کہ اس کے فیصلوں پر اثر انداز ہو ، رہی یہ بات کہ بھلا ہم صاحب عزت ووقار بھی تھے اور ہمارے بال سفید نہیں آج تک لوگ بزرگوں کے پیچھے چلے ہیں اور ہم ایک ایسے نوجوان کی پیروی کیسے اختیار کریں جو ہمارے سامنے پیدا ہوا پلا بڑھا تو یہ اللہ جل جلالہ کی مرضی ہے کہ وہ کس کو مقتدا بناتا ہے ۔ (بزرگی و قیادت) قیادت کی اہلیت سن وسال سے نہیں بلکہ اللہ کریم کے عطا کردہ علم سے ہوتی ہے اور یہ اس کی مرضی کہ اس نے اپنی نبوت و رسالت کیلئے کس کو پسند فرما لیا اور اس پر وحی کا نزول فرمایا ایسے ہی ولایت کی سند عمر نہیں کہ ہر بوڑھا آدمی ہی ولی کامل ہو بلکہ اللہ جل جلالہ کا عطا کردہ نور ہے جس سینے میں وہ بھر دے ہاں وحی جب بھی اور جس پر بھی آئی اسی نے سب سے پہلے اللہ جل جلالہ کی توحید کی طرف دعوت دی اور یہ کتنی عجیب بات ہے کہ کم وبیش سوا لاکھ کے قریب بنی اور مختلف زبانوں اور مختلف خطہ ہائے زمین مبعوث ہوئے جو سب کے سب اپنے دور کے مانے ہوئے صاحب خرد لوگ تھے مگر سب ان دو باتوں ہی کی طرف بلاتے رہے اور پوری طرح ان باتوں پر متفق رہے کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے اور معبود برحق ہے کوئی دوسرا عبادت کے لائق نہیں دوسرے اس کی نافرمانی سے ڈرتے رہو کہ تمہیں حساب دینا ہوگا تو کیا یہ عقلا محال نہیں کہ اتنے سارے لوگ کسی ایسی بات پر متفق ہوجائیں جو صحیح نہ ہو ، یہ بجائے خود بہت بڑی دلیل ہے ۔ پھر تم جن ہستیوں کو اس کا شریک قرار دیتے ہو وہ سب مخلوق ہیں اور زمین وآسمان اور اس کی ہر شے کا خالق تو اللہ جل جلالہ ہے جس نے بیشمار حکمتیں ان میں سمو دی ہیں بھلا مخلوق خالق کی شریک کیسے ہو سکتی ہے ، لہذا وہ ان سب باتوں سے پاک ہے جو تم نے گھڑ رکھی ہیں وہ ایسا قادر ہے کہ ایک ناپاک قطرے کو وجود انسانی کے لیے بیج کی حیثیت دے دی اور اسی کی تربیت فرما کر ایک پیکر حسن یعنی انسان پیدا فرماتا ہے عجیب بات نہیں کہ پھر یہ تخلیق اپنے خالق کی ذات وصفات میں زبان درازی کرتی ہے اور جھگڑتی ہے بھلا یہ کیا انسان کو زیب دیتا ہے ہرگز نہیں ۔ اسی نے تو چوپائے پیدا فرمائے جو تمہاری ضرورتیں پوری کرتے ہیں ان کے بال ، کھال اور ہڈیاں تک تمہارے استعمال میں آتی ہیں بعضے پال کر ان سے منافع کماتے ہو تو بعض کو اپنی غذا بناتے ہو بلکہ وہ تمہارا حسن ہیں ان کا صبح کو چرنے جانا اور پھر گھروں کو واپس آنا تمہاری شوکت بڑھاتا ہے آج کے جدید دور کا انسان بھی چوپاؤں اور قدرتی تخلیقات کا اتنا ہی محتاج ہے جتنے قدیم عرب تھے اور آج کی فارمنگ بھی اتنی نفع بخش اور باعث عزت ہے جتنی تب تھی ۔ بعض جانوروں کو بار برداری کے کام میں لاتے ہو اور مشکل مقامات پر تمہارے نقل وحمل کا کام کرتے ہیں جہاں خود تمہارے لیے چیزوں کا پہچاننا بہت دشوار ہوجاتا مگر تمہارا پروردگار کتنا کریم کس قدر شفقت والا اور کتنا ہی مہربان ہے اس نے تمہاری سواری کو گھوڑے خچر اور گدھے پیدا فرما دیئے جو ہر قسم کے راستوں پہ سفر کرتے ہیں اور تمہیں پہنچانے کا کام کرتے ہیں اور پھر اس پر پس نہیں تم نہیں جانتے کہ ابھی تمہاری سواری کو کیا کیا کچھ پیدا فرمائے گا کتاب اللہ کی یہ ایسی پیشگوئی ہے کہ آج تک کی سواری کی ساری ایجادات کے ساتھ آئندہ کی ایجادات کو بھی شامل ہے کہ ہر ایجاد محض چند چیزوں کی خصوصیات سے آگاہ ہو کر انہیں مختلف نسبتوں سے جوڑنے کا نام ہے جس کا شعور وہی ذات عظیم عطا کرتی ہے اور یہ سب دلائل ایک ہی سیدھے راستے کو روشن کر رہے ہیں جو اللہ کی اطاعت کا راستہ ہے مگر لوگوں نے اسے چھوڑ کر ٹیڑھے راستے اپنا لیے ہیں حالانکہ وہ قادر ہے چاہتا تو سب کو حکما ایک ہی راہ پر ڈال دیتا مگر یہ اس کی حکمت کا تقاضا نہ تھا لہذا راہ واضح کر کے اختیار کرنا یا نہ کرنا خود انسان پہ چھوڑ دیا ۔
Ayahs 16:10–21

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً لَّكُمْ مِّنْهُ شَرَابٌ وَّ مِنْهُ شَجَرٌ فِیْهِ تُسِیْمُوْنَ Open ayah 16:10 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا جسے تم پیتے ہو اور اسی سے درخت بھی (شاداب ہوتے ہیں) جن سے تم (اپنے چوپایوں کو) چراتے ہو

یُنْۢبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ النَّخِیْلَ وَ الْاَعْنَابَ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:11 in the Quran reader

وہ اسی تے تمہارے لئے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور اگاتا ہے اور ہر طرح کے میوہ جات۔ بیشک غور کرنے والوں کے لئے اس میں بڑی نشانی ہے

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ۙ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ وَ النُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَۙ Open ayah 16:12 in the Quran reader

اور اسی نے تمہارے لئے رات اور دن اور سورج اور چاند کو کام میں لگایا اور اسی کے حکم سے ستارے بھی کام میں گئے ہوئے ہیں۔ بیشک سمجھنے والوں کے لئے اس میں (قدرت باری) بڑی نشانیاں ہیں

وَ مَا ذَرَاَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 16:13 in the Quran reader

اور جو طرح طرح کے رنگوں کی چیزیں زمین میں تمہارے لئے پیدا فرمائیں ، بیشک اس میں نصیحت حاصل کرنے والوں کے لئے نشانی (دلیل) ہے

وَ هُوَ الَّذِیْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:14 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے سمندر کو (تمہارے) بس میں کیا تاکہ تم اس میں سے تازہ گوشت کھاؤ اور تم اس میں سے زبور (موتی وغیرہ) نکالو جس کو تم پہنتے ہو اور تم دیکھتے ہو کہ جہاز اس (سمندر) میں پانی کو پھاڑتے چلے جاتے ہیں اور تاکہ تم (اس میں سے) اس (اللہ) کا فضل (معاش) تلاش کرو اور تاکہ تم شکر ادا کرو

وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ اَنْهٰرًا وَّ سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 16:15 in the Quran reader

اور اسی نے زمین پر پہاڑ رکھ دیئے کہ تم کو لے کر کہیں جھک نہ جائے اور نہریں (دریا) اور راستے بنادیئے تاکہ تم منزل تک پہنچ سکو

وَ عَلٰمٰتٍ١ؕ وَ بِالنَّجْمِ هُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 16:16 in the Quran reader

اور بہت سی نشانیاں (بنائیں) اور لوگ ستاروں سے بھی راستے معلوم کرتے ہیں

اَفَمَنْ یَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا یَخْلُقُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:17 in the Quran reader

پس کیا وہ جو (اتنی مخلوق) پیدا فرمائے اس جیسا ہے جو پیدا نہیں کرسکتا ؟ پھر کیا تم نہیں سمجھتے ؟

وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:18 in the Quran reader

اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننے لگو تو انہیں نہ گن سکو۔ بیشک اللہ بڑے بخشنے والے مہربان ہیں

وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 16:19 in the Quran reader

اور اللہ جانتے ہیں جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو

وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَؕ Open ayah 16:20 in the Quran reader

اور جن لوگوں کی یہ اللہ کے سوا عبادت کرتے ہیں وہ کوئی چیز بھی تو پیدا نہیں کرسکتے اور وہ خود پیدا کئے جاتے (مخلوق) ہیں

اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ١ۚ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ١ۙ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ۠ Open ayah 16:21 in the Quran reader

مردہ ہیں ، زندہ نہیں ہیں اور نہ ان کو یہ پتہ ہے کہ وہ (لوگ) کب اٹھائے جائیں گے

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف وہ ایسا قادر ہے اور اتنا کریم ہے کہ تمہاری خاطر پانی کو کس طرح صاف کرکے بہترین بخارات کی شکل میں اوپر لے جا کر تم پر برسایا جو خود تمہارے پینے کے استعمال میں بھی آتا ہے اور زمین پر طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے جسے تمہارے مویشی چرتے ہیں اسی سے تمہارے لیے کھیتیاں اگاتا ہے اور طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے جسے تمہارے مویشی چرتے ہیں اسی سے تمہارے لیے کھیتیاں اگاتا ہے اور طرح طرح کا سبزہ اگاتا ہے اور پھلدار درخت پیدا فرما کر ان پر پھل لگاتا ہے جیسے زیتون کھجوریں ، انگور اور طرح طرح کے پھل ایک سی زمین پر ایک سا پانی برسا کر یہ بیشمار طرح کے سبزے درخت کھیتیاں اور پھل پھول اگانا اس کی قدرت کاملہ کی بہت بڑی دلیل ہے مگر فکر شرط ہے اگر کوئی غور کرے تو پائے گا اسی قادر مطلق نے شب وروز کا نظام تمہاری سہولت آرام اور ضرورت کے لیے تمہاری خدمت پہ لگا دیا اور سورج چاند ستاروں کو اسی کے حکم نے مسخر کردیا ہے کہ نہ صرف شب وروز کے بنانے میں بلکہ موسموں کے تغیر وتبدل اور کھیتیاں اور پھل اگانے اور پکانے میں پکانے میں پوری پوری خدمت بجا لا رہے ہیں ، اگر عقل سلامت ہو تو یہ دلیلیں کم نہیں ، ذرا دیکھو تو صرف زمین سے پیدا ہونے والی اشیا میں کیا رنگا رنگی ہے ذرا سوچنے سے اس کی عظمت سامنے آجاتی ہے کہ کتنا عظیم خالق ہے اس نے تو سمندروں تک کو تمہاری خدمت پہ لگا دیا نہ صرف بارش کا پانی مہیا کرتے ہیں بلکہ تمہیں مچھلی کی صورت میں تازہ گوشت فراہم کرتے ہیں اور اپنی تہ میں قیمتی جواہرات رکھتے ہیں جنہیں حاصل کرکے تم زیور اور سامان زینت بناتے ہو اور ذرا دیکھو جہاز اور کشتیاں کیسے سمندروں ، دریاؤں کا سینہ چیرتی ہوئی رواں دواں تمہیں دور دراز مقامات پر لے جاتی ہیں اور تلاش معاش اور کاروبار کا ذریعہ بنتی ہیں یہ سب انعامات اس لیے ہیں کہ تم اس کا شکر ادا کرو ، صرف زمین کی ساخت ہی دیکھ لو اس نے اسے درست رکھنے کے لیے اس پر بھاری پہاڑ سجا دیئے کہ ڈولنے نہ لگے اور تمہارا جینا دشوار نہ کر دے پھر ان بلندیوں پر برف جما کر اسے چشموں اور ندیوں کا سبب بنایا تھا جو تمہارے لیے دریا بناتے ہیں ان میں تمہاری گذر گاہیں بنا دیں اور عجیب صورتیں بنا دیں کہ جن کو نشان بنا کر تم راستے پہچانتے ہو ، اور ستاروں تک کو سمت بتانے کا ذریعہ بنا دیا ۔ اب غور کرو جو یہ سب کچھ پیدا کرنے والا ہے کوئی بھی اس کی برابری کا دعوی کرسکتا ہے جس کا تخلیق میں کوئی حصہ نہیں بلکہ خود مخلوق ہے بھلا تم اتنی سی بات سمجھ نہیں پاتے اور مخلوق کو خالق کا شریک ٹھہرا لیتے ہو ۔ اگر تم اپنا سارا زور علم صرف کر دو تو اللہ کریم کی نعمتوں کو جو وہ تمہیں دیتا ہے صرف شمار تک نہیں کرسکتے اور پھر وہ بہت بڑا بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے کہ گزشتہ کی توبہ کرکے اس کی بخشش ورحمت کو پالو کہ آئندہ کے لیے بھی سدھر سکو ، پھر یہ بھی جان لو کہ اس کی ذات سے کچھ بھی چھپا ہوا نہیں تمہارے ظاہر و باطن سب سے آگاہ ہے اور جن ہستیوں کو اس کا شریک بنایا جاتا ہے اور نفع کی امید پر اللہ جل جلالہ کی طرف پکارا جاتا ہے یا ان سے اس طرح ڈرتے ہو جیسا اللہ جل جلالہ سے ڈرنا چاہئے تو وہ سب کی سب مخلوق ہیں کسی ذرے کی بھی خالق نہیں ہیں اس کے دست قدرت میں مجبور وبے بس یہ تک نہیں جانتے کہ کب حشر بپا ہوگا اور کس گھڑی اللہ جل جلالہ کے حضور ہونا پڑجائے گا ۔
Ayahs 16:22–25

اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:22 in the Quran reader

تمہارا معبود اکیلا عبادت کا مستحق ہے تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل انکار کر رہے ہیں اور وہ تکبر کرتے ہیں

لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ Open ayah 16:23 in the Quran reader

ے شک اللہ سب جانتے ہیں جو یہ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں بیشک وہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ مَّا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 16:24 in the Quran reader

اور جب ان (کافروں) سے کہا جاتا ہے تمہارے پروردگار نے کیا چیز نازل فرمائی ہے تو وہ کہتے ہیں پہلے لوگوں کی حکایتیں ہیں

لِیَحْمِلُوْۤا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۙ وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ۠ Open ayah 16:25 in the Quran reader

تاکہ یہ قیامت کے دن اپنے گناہوں کا بھی پورا پورا بوجھ اٹھائیں اور جن کو یہ بےعلمی سے گمراہ کر رہے ہیں ان کے بوجھ میں سے بھی۔ سن لو جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں وہ بہت برے ہیں

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف اتنی بڑی کائنات کا خالق مالک اور پالنے والا جب اکیلا ہے تو وہی تمہارا معبود بھی ہے جو اکیلا عبادت کے لائق ہے ، اور جو لوگ اس کی واحدانیت پر یقین نہیں کرتے ان کے قلوب تباہ ہوچکے ہیں اور انکار کی مصیبت میں مبتلا ہیں کہ ۔ (قلب کی بیماری وصحت) قلب انسانی کا سب سے مہلک مرض عظمت الہی سے غافل ہو کر دوسروں سے امیدیں وابستہ کرنے میں ہے یعنی شرک اور اس کی صحت مندی کی علامت محبت الہی ہے لہذا جب قلب تباہ ہوتا ہے تو انسان میں تکبر پیدا ہوجاتا ہے جس کا اظہار منکرین کے کردار سے ہو رہا ہے اور بلاشبہ اللہ جل جلالہ سے ان کی کوئی بات چھپی ہوئی نہیں وہ سب جانتا ہے جو یہ ظاہرا کرتے ہیں یا چھپ کر اور یہ جان لو کہ اللہ جل جلالہ تکبر کرنے والوں کو کبھی اچھا نہیں جانتا ان کا حال یہ ہے کہ نہ صرف خود گمراہ ہیں بلکہ اگر کوئی پوچھے کہ رب کریم نے کیا نازل فرمایا تو کہہ دیتے ہیں محض قصہ کہانی ہے پہلے لوگ بھی اس طرح کے دعوے کرتے تھے اور خود کو نبی بتاتے اور یہی کہانیاں دہرایا کرتے تھے اب انہوں نے نقل کرنا شروع کردیا تو یوں انہیں گمراہ کرکے اپنے گناہوں کے ساتھ ان کی گمراہی کا سبب کا بوجھ بھی اپنے اوپر لاد رہے ہیں اور یہ خواہ مخواہ کا بوجھ جہالت کے باعث اپنے اوپر لا د رہے ہیں جو کہ بہت ہی برا ہے
Ayahs 16:26–34

قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتَى اللّٰهُ بُنْیَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ اَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 16:26 in the Quran reader

بیشک ان سے پہلے لوگوں نے بھی (اسی ہی) مکاریاں کی تھیں سو اللہ نے ان کا گھر بنیادوں سے ڈھا دیا پھر اوپر سے ان پر چھت گر پڑی اور ان پر عذاب ایسی طرف سے آیا کہ ان کو خیال بھی نہ تھا

ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُخْزِیْهِمْ وَ یَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تُشَآقُّوْنَ فِیْهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْیَ الْیَوْمَ وَ السُّوْٓءَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 16:27 in the Quran reader

پھر وہ (اللہ) ان کو قیامت کے دن بھی ذلیل فرمائے گا اور فرمائے گا میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کے بارے تم جھگڑا کیا کرتے تھے ؟ جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ کہیں گے کہ بیشک آج پوری رسوائی اور عذاب کافروں پر ہے

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۪ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ بَلٰۤى اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:28 in the Quran reader

(ان کا عالم یہ ہے) جب فرشتے ان لوگوں کی روحیں قبض کرنے لگتے ہیں تو یہ اپنے ہی حق میں ظلم کرنے والے (ہوتے ہیں) پھر ایک دم مطیع وفرمانبردار ہوجاتے ہیں (اور کہتے ہیں) ہم تو کوئی برا کام نہیں کرتے تھے ہاں جو کچھ تم کیا کرتے تھے بیشک اللہ اسے خوب جانتے ہیں

فَادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 16:29 in the Quran reader

سو جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ اس میں ہمیشہ رہنے کو۔ پس تکبر کرے والوں کا برا ٹھکانہ ہے

وَ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا مَا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوْا خَیْرًا١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ١ؕ وَ لَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:30 in the Quran reader

اور جب پرہیزگاروں سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل فرمایا ہے۔ کہتے ہیں بہت اچھا (کلام) جو لوگ نیک کام کرتے ہیں ان کے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے اور آخرت کا گھر تو (اور زیادہ) بہتر ہے اور واقعی پرہیزگاروں کا کیا ہی اچھا گھر ہے

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْزِی اللّٰهُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:31 in the Quran reader

ہمیشہ رہنے والے باغ جن میں وہ داخل ہوں گے ان کے تابع نہریں بہہ رہی ہیں وہاں جو چاہیں گے ان کے لئے میسر ہوگا۔ اللہ پرہیزگاروں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ طَیِّبِیْنَ١ۙ یَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَیْكُمُ١ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:32 in the Quran reader

جب فرشتے ان لوگوں کی روحیں قبض کرتے ہیں تو وہ (کفر وشرک سے) پاک ہوتے ہیں وہ (فرشتے) کہتے ہیں تم پر سلامتی ہے جو اعمال کرتے تھے ان کے بدلے جنت میں داخل ہوجاؤ

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:33 in the Quran reader

کیا یہ (کافر) اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ فرشتے (جان لینے کو) ان کے پاس آئیں یا آپ کے پروردگار کا حکم (عذاب) آپہنچے اسی طرح ان لوگوں نے کیا تھا جو ان سے پہلے تھے اور اللہ نے ان پر زیادتی نہیں کی و لیکن وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 16:34 in the Quran reader

پس ان کو ان کے اعمال کے برے بدلے ملے اور جس چیز (عذاب) کا مذاق اڑایا کرتے تھے اس نے ان کو ہر طرف سے گھیر لیا

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف جہاں تک اپنی حفاظت اقتدار اور غلبے کا تعلق ہے جس کے خاطر یہ دوسروں کو بھی گمراہ کرنے سے نہیں چوکتے تو اس کی مثالیں سامنے ہیں کہ ان سے پہلی کافر قوموں نے بہت تدبیریں کی تھیں اور بڑے دنیاوی اسباب جمع کئے تھے مگر تقدیر باری کے سامنے پیش نہ گئی اللہ کریم نے انہیں ایسے برباد کیا کہ بنیادوں تک سے اکھیڑ دیا اور ان کی چھتیں انہی پر گر گئیں یعنی جو تدبیریں حفاظت کیلئے کی تھیں وہی تباہی کا باعث بن گئیں اور عذاب الہی نے ایسا پکڑا کہ وہ سمجھ ہی نہ پائے کہ یہ مصیبت کدھر سے آرہی ہے یہ تو دنیا کا حال تھا اصل خرابی تو میدان حشر میں ہوگی جب انہیں تمام عالم کے روبرو رسوا کیا جائے گا اور پوچھا جائے گا کہ وہ معبودان باطلہ کیا ہوئے کہاں گئے وہ عہدے اور مال منال جن کی خاطر اللہ کریم کی نافرمانی اور کفر کو اختیار کرلیا تھا اور اسی پر مصر تھے کہ ٹلنے کا نام نہیں لیتے تھے ان کا یہ حال دیکھ کر اہل حق کہہ اٹھیں گے کہ آج رسوائی اور عذاب کی حد ہوگئی اور کفار اپنے اصلی ٹھکانے پر پہنچے ، ایسے لوگ جن کی موت ہی کفر پر آتی ہے تب وہ بھی اطاعت کریں گے اور کہیں گے کہ ہم نے تو جو بھلا جانا وہی کیا کوئی برائی نہیں کی اب بھی بات ماننے اور اطاعت کے لیے تیار ہیں تو ارشاد ہوگا کیوں نہی بہت خوب کہتے ہو مگر جان لو تمہارا کوئی عمل ایسا نہیں جو اللہ کریم کے ذاتی علم میں نہ ہو لہذا دھوکا نہ دے سکو گے چلو جاؤ دوزخ کے دروازوں میں سے اپنی سزا کے مطابق داخل ہوجاؤ جہاں سے تمہیں کبھی باہر نہیں آنا بلکہ ہمیشہ وہیں رہو گے اور کتنا ہی برا ٹھکانہ ہے جہاں انہیں ان کا تکبر لے گیا ، (تبلیغ دین پر انعامات کا وعدہ) یہی بات جب اہل حق سے پوچھی جائے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل فرمایا تو کہتے ہیں بہترین بات کو دو عالم کی بھلائی اور کامیابی کی بات ہے لہذا ایسی نیکی کرنے والوں کے لیے یا اللہ کی بات اللہ کے بندوں تک پہچاننے والوں کیلئے دار دنیا میں بھی بھلائی ہے اللہ جل جلالہ کی رضا اور سکون قلبی جیسی دولت ہے اور آخرت تو ہے ہی ایسے لوگوں کی بہترین اور اہل تقوی کا گھر آخرت میں کتنا ہی بہترین ہے یا رہے یہاں تبلیغ دین سے مراد دین پر عمل کرتے ہوئے اسے اللہ کریم کی مخلوق تک پہچانا ہے ورنہ تبلیغ کے نام پر رسومات کا رواج نہ درست ہے نہ انعامات کے وعدہ کا سزاوار وہ ٹھکانہ خوبصورت اور ہمیشہ رہنے والے باغ ہیں جن کے تابع ہیں بہنے والی نہریں اور ایسے عجیب باغ کہ اہل جنت جس چیز کی خواہش کریں گے ان میں موجود پائیں گے ، اللہ کریم پرہیزگاروں کو ایسے ہی انعامات سے نوازے گا ، ایسے لوگ جن کی موت حق پر آتی ہے اور فرشتے اسلام کی پاکیزگی اور ایمان کی طہارت پر ان کی ارواح قبض کرتے ہیں انہیں فرشتے کہتے ہیں کہ تم پر سلامتی ہو ، ہماری تو ذمہ داری ہے کہ تمہارا تعلق حیات ۔ (موت کے فورا بعد داخلے سے قبر کی وہ حالت مراد ہے جو اہل جنت کی ہوگی جس میں قبر کو جنت کا باغ فرمایا گیا ہے) دنیا کا قطع کرتے ہیں مگر جنت تمہاری راہ دیکھ رہی ہے لہذا سیدھے جنت میں داخل ہوجاؤ یہ تمہاری اطاعت کا انعام ہے ، یہ کفار فرشتوں کی آمد کے منتظر ہیں یا اللہ جل جلالہ کا فیصلہ سننے کا انتظار کر رہے ہیں کہ توجہ کرکے ایمان قبول نہیں کرتے یہی حال ان سے پہلے کفار کا تھا کہ کفر پر ہی مر گئے مگر توبہ کی توفیق نہ ہوئی تو ایسا کرکے خود اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں اللہ جل جلالہ نے تو ان سے کوئی زیادتی نہیں کی عقل و شعور بخشا نبی اور کتاب بھیجی حق کی طرف دعوت دی مگر ان کی اپنی بداعمالی ان کے راستے کی دیوار بن گئی بالآخر ان کے گناہوں کا نتیجہ ان کے سامنے آیا اور جس عذاب کا مذاق اڑایا کرتے تھے اسی کے شکار ہوئے ،
Ayahs 16:35–40

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ نَّحْنُ وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:35 in the Quran reader

اور مشرک لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتے تو ہم اور ہمارے آباؤ اجداد اس کے سوا کسی چیز کی عبادت نہ کرتے اور نہ ہم اس کے (حکم کے) بغیر کسی چیز کو حرام ٹھہراتے ان سے پہلے لوگوں نے بھی ایسی ہی حرکت کی تھی سو پیغمبروں کے ذمہ تو صاف صاف (بات) پہنچا دینا ہے

وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْهِ الضَّلٰلَةُ١ؕ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 16:36 in the Quran reader

اور بیشک ہم ہر امت میں پیغمبر بھیجتے رہے ہیں کہ اللہ کی عبادت کرو اور شیطان (بتوں) سے بچتے رہو سو ان میں کوئی ایسا ہوا ہے جس کو اللہ نے ہدایت بخشی اور کوئی ایسا ہے کہ اس پر گمراہی ثابت ہوگئی پس زمین میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا

اِنْ تَحْرِصْ عَلٰى هُدٰىهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ یُّضِلُّ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 16:37 in the Quran reader

اگر ان کے راہ راست پر آنے کی آپ کو تمنا ہو تو بیشک اللہ ایسے شخص کہ ہدایت نہیں فرماتے جسے گمراہ کرتے ہیں اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ لَا یَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ یَّمُوْتُ١ؕ بَلٰى وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:38 in the Quran reader

اور یہ لوگ اللہ کی بڑی سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ جو مرجاتا ہے اللہ اس کو دوبارہ زندہ نہ کرے گا۔ ہرگز نہیں (بلکہ) اس وعدہ کو تو اس (اللہ) نے اپنے ذمہ لازم کررکھا ہے و لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

لِیُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِیْ یَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِیْنَ Open ayah 16:39 in the Quran reader

تاکہ جس چیز میں لوگ اختلاف کرتے ہیں وہ ان کے سامنے ظاہر فرمادے اور تاکہ کافروں کو پتہ چل جائے کہ وہی جھوٹے تھے

اِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَیْءٍ اِذَاۤ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 16:40 in the Quran reader

جب ہم کسی چیز کو کرنا چاہتے ہیں اس سے ہمارا اتنا ہی فرمانا ہوتا ہے کہ تو ہوجا پس وہ ہوجاتی ہے

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف ذرا مشرکین کی دلیل دیکھئے کہ اگر ہم اللہ جل جلالہ کی منشاء کے خلاف کر رہے ہیں اور وہ نہیں چاہتا کہ اس کے سوا کسی کی پوجا کی جائے تو ہمیں روک کیوں نہیں دیا جاتا ہم تو اگر وہ روک دے تو نہ کسی اور کی پوجا کرسکیں نہ ہم یا ہمارے باپ دادا بھی اس کی مرضی کے خلاف کوئی رسم ایجاد کرسکیں کہ کسی شے کو حلال قرار دے دیں یا کسی کو حرام گویا ان تمام امور میں اس کی رضا شامل ہے فرمایا یہی نہیں ان سے پہلے گذرنے والے اور تباہ ہونے والے کفار بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے مگر یہ اس قدر بودی بات ہے کہ جواب کے لائق ہی نہیں اور انبیاء کا کام تو اللہ جل جلالہ کا حکم پہنچا دینا ہے جس میں کوئی غلط فہمی نہیں چھوڑتے اور کھول کھول کر بیان کردیتے ہیں جیسے آپ بھی کر رہے ہیں یہاں مشرکین کی اس بات کو قابل جواب ہی نہیں مانا گیا کہ یہی تو فلسفہ تخلیق آدم ہے کہ اسے اللہ کی رضا اور ناراضگی کا بتا دیا جائے پھر عمل کی مہلت دی جائے اور جو راہ وہ اپنے لیے اختیار کرے اسی کے انجام کو پائے ہاں کمی یہ تھی کہ انسان کو بتایا نہ جاتا تو اس پہلو کو کبھی تشنہ نہ چھوڑا گیا ۔ (ہر قوم اور ہر ملک میں نبی مبعوث ہوئے یا ان کے نمائندے پہنچے) بلکہ ہم نے ہر قوم میں رسول اور نبی مبعوث فرمائے گویا ہر ملک اور قوم میں نبی بھیجے گئے وہ ہند ہو یا یورپ مغرب بعید ہو یا بلاد مشرق ہوں ہر ہر قوم میں نبی مبعوث ہوئے یا انبیاء کے نمائندے ان کی تعلیمات لے کر پہنچے اور یہ بات سمجھائی کہ عبادت صرف اللہ جل جلالہ کا حق ہے اور اس کے سوا کسی کی عبادت کرنا شیطان کی پیروی ہے جس سے ہر حال بچو پھر ان میں بعض کو ہدایت بھی نصیب ہوئی جن میں کچھ قبولیت کی استعداد باقی تھی انہیں اللہ جل جلالہ نے ہدایت دی اور باقی جن کے قلوب مردہ ہوچکے تھے اور گناہوں کی دلدل میں دھنس کر ہدایت کی حیات آفرینی سے بہت دور جا چکے تھے وہ گمراہ ہی رہے مگر روئے زمین ایسے گمراہوں اور کفار کے برے انجام کی شہادتوں سے بھر ہوا ہے ذرا پھر کر دیکھو تو ، کہ ایسے لوگوں کا انجام کیا ہوا ۔ (اگر دل اس قدر تباہ ہوجائے کہ ہدایت کی توفیق ہی کھو دے تو پھر نبی کی محنت سے بھی ھدایت نصیب نہیں ہوتی) اب آپ اگر شدید خواہش کے تحت ان سے بہت محنت بھی کریں تو یہ ہدایت نہ پا سکیں گے کہ انہوں نے گناہ کر کے اپنا تعلق ذات باری سے ایسا توڑ لیا ہے کہ اب اللہ انہیں ہدایت نہ دے گا اور نہ اس امر میں کوئی ہستی ان کی کوئی بھی مدد کرسکتی ہے یہ تو ایسے بدنصیب تھے کہ اللہ جل جلالہ ہی کی بڑی بڑی قسمیں کھا کر دوسروں کو بھی گمراہ کرتے اور کہتے تھے کہ اللہ جل جلالہ کبھی مردوں کو زندہ کرے گا بھلا کیوں نہیں ضرور زندہ کرے گا کہ اس نے خود وعدہ کر رکھا ہے جسے پورا کرنا ہی حق ہے مگر یہ حقیقت اکثر لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی یہی زندہ کرنا ہی تو یہ بتانے کے لیے ہوگا کہ ان کے اختلافات کی حیثیت کیا تھی اور حق کیا تھا اور یہ تو اس لیے بھی ہوگا کہ کفار کو جھوٹا ثابت کیا جائے اور اللہ کریم کی بات سچی ثابت ہو اور یہ سب کچھ اللہ جل جلالہ کے لیے کچھ مشکل نہ ہوگا اسے کونسے کاریگر لگانے ہیں اس کی ذات کا تو حکم ہی چلتا ہے جب کسی شے کو کرنا چاہا ایس کو فرما دیا کہ ہوجا تو وہ فورا ہوجاتی ہے ۔