16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 16:111–119

یَوْمَ تَاْتِیْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا وَ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 16:111 in the Quran reader

اسدن ہر شخص اپنی طرف داری میں گفتگو کرے گا اور ہر شخص کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر زیادتی نہیں کی جائے گی

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْیَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَئِنَّةً یَّاْتِیْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَ الْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 16:112 in the Quran reader

اور اللہ ایک بستی کی مثال بیان فرماتے ہیں کہ وہ بڑے امن و اطمینان میں تھے ان کے کھانے پینے کی چیزیں بڑی فراغت کے ساتھ ہر طرف سے ان کے پاس پہنچا کرتی تھیں سو انہوں نے اللہ کی نعمتوں کی ناقدری کی تو اللہ نے ان کے اعمال کے سبب ان کو قحط اور خوف کا لباس پہنا کر مزہ چکھایا

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 16:113 in the Quran reader

اور یقینا ان کے پاس ان ہی میں سے ایک پیغمبر آئے تو انہوں نے ان کو جھوٹا کہا پس ان (لوگوں) کو عذاب نے آپکڑا اور وہ ظالم تھے

فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا١۪ وَّ اشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 16:114 in the Quran reader

پس اللہ نے تم کو جو حلال اور پاکیزہ رزق دیا ہے اس میں سے کھاؤ اور اللہ کی نعمت پر شکر ادا کرو اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:115 in the Quran reader

بیشک اس نے تم پر مردار اور خون اور سور کا گوشت حرام فرمادیا ہے اور جس پر (بوقت ذبح) اللہ کے علاوہ کسی اور کا نام لیا جائے (وہ بھی) ہاں اگر کوئی بہت مجبور ہوجائے بشرطیکہ گناہ کرنے والا اور حد سے نکلنے والا نہ ہو تو یقینا اللہ بخشنے والے مہربان ہیں

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 16:116 in the Quran reader

اور یونہی جھوٹ جو تمہاری زبانوں پہ آجائے نہ کہا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے تاکہ اللہ پر جھوٹ بہتان باندھنے لگو بیشک جو لوگ اللہ پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں ان کا بھلا نہیں ہوگا

مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۪ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:117 in the Quran reader

چند روزہ فائدہ ہے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:118 in the Quran reader

اور یہودیوں پر جو چیزیں ہم نے حرام کردی تھیں وہ ہم آپ سے پہلے بیان فرما چکے اور ہم نے ان پر زیادتی نہیں کی و لیکن وہ خود ہی اپنے آپ پر زیادتی کرتے تھے

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ عَمِلُوا السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:119 in the Quran reader

پھر بیشک آپ کا رب ایسے لوگوں کے لئے جنہوں نے نادانی سے برا کام کیا پھر اس کے بعد توبہ کرلی اور نیک ہوگئے (اپنی اصلاح کرلی) یقینا اس کے بعد آپ کا پروردگار بڑا بخشنے والا مہربان ہے

(رکوع نمبر 15) اسرارومعارف قیامت کا روز ایسا کٹھن ہوگا کہ ہر شخص اپنی جان کی فکر میں اپنے اور صرف اپنے لیے شور کر رہا ہوگا دنیا کے رشتے ناطے اور دنیا داری کی محبتیں سب کچھ کسی کو ذرہ برابر متاثر نہ کرسکے گا ، لیکن یہ شور بھی کس کام کا جبکہ بدلہ پورے انصاف اور عدل سے ملے گا اور کسی پر ذرہ برابر زیادتی نہ کی جائے گی بلکہ اللہ جل جلالہ کی رحمت و بخشش سے احسان تو کیا جائے گا کہ تھوڑے عمل کا اجر زیادہ عطا کردیا جائے ، مگر گناہ اور جرم کی سزا اسی قدر ملے گی جو اس جرم پر مرتب ہوگی ، یہ الگ بات ہے کہ اللہ جل جلالہ کی نافرمانی نہ معمولی جرم ہے اور نہ اس کی سزا معمولی ہوگی ، دنیا میں بھی اس کی مثالیں موجود ہیں کہ کتنے ایسے شہر تھے جو بڑے مزے سے رہتے تھے اور ہر جانب سے روزی وہاں کچھی چلی آتی تھی مگر انہوں نے انعامات الہی سے کفر کیا تو اللہ جل جلالہ نے ان پر بھوک اور خوف جیسی بلائیں مسلط کردی جو ان کے کردار کا پھل تھا خود اہل مکہ اس کی بہترین مثال تھے کہ آپ ﷺ کی ہجرت کے بعد وہاں قحط پڑگیا ، حتی کہ لوگوں نے کتے بلیاں اور مردار کیا غلاظت تک کھائی پھر ابو سفیان نے ایمان لانے سے قبل آپ ﷺ سے درخواست کی کہ آپ ﷺ تو صلہ رحمی کرنے والے ہیں اور یہ آپ ﷺ کی قوم تباہ ہو رہی ہے جس پر آپ ﷺ نے مدینہ منور سے کھانے کا سامان بھی بھجوایا اور دعا فرمائی تو انہیں قحط سے نجات نصیب ہوئی ۔ (کفر اور نافرمانی سے افلاس مسلط ہوتا ہے) یہ بات ثابت ہوئی کہ کفر اور نافرمانی سے قحط اور افلاس مسلط ہوتا ہے اور خوف کی سزا دی جاتی ہے ، ہمارے انگریزی خواں طبقے کو خصوصا یہ خیال رہتا ہے کہ پھر یہ سزا مغرب کے کافر اور بدکار معاشرے کو کیوں نہیں دی جاتی لیکن شاید وہ مغرب کی محض ظاہری چمک دیکھتے ہیں اندر سے واقف نہیں ، یورپ وامری کہ میں لوگ مہمان تک برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے ، بوڑھے والدین کو کھانے کے لیے کچھ دے نہیں سکتے ، بچوں کو سرکاری وظیفہ نہ ملے تو پال نہیں سکتے ، باوجود اس کے کہ اکثر لوگ دو دو جگہ نوکری کرتے ہیں اور رات دن بھاگ دوڑ لگی رہتی ہے ، یہ تو ان کا معاشی حال ہے رہا خوف تو کافر معاشرے کی سب سے خطرناک اور لاعلاج بیماری ہی خوف ہے ، اور یہ عجیب بات ہے کہ وہ یہ تک نہیں جانتے کہ یہ خوف کس شے کا ہے یا کیسا ہے ، اس کا نام ہی انجانا خوف (FEAE OF THW UNK NOWN) رکھا گیا ہے بلکہ خود یہاں اپنے معاشرے میں بدکار کو دیکھ لیں کروڑ پتی ہے تو بھی مقروض ہی ہوگا اور خوف زدہ بھی حکومت اس کا علاج ہر طرح سے کرنے کی کوشش کرتی ہے ، کاش اس معاشرے میں حکما اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے روک دیا جائے تو یہ سارا مسئلہ خود بخود حل ہوجائے ، کہ جب بھی کسی کو ایسی سزا ملی تو اس کا سبب یہی بنا کہ ان کے پاس اللہ جل جلالہ کا رسول ﷺ آیا یا اس کی تعلیمات پہنچیں ، انہوں نے ان کا انکار کیا تو گرفتار بلا ہوگئے ان پر کسی نے کوئی زیادتی نہ کی بلکہ وہ خود اپنے لیے ظالم ثابت ہوئے ۔ لہذا ضرور کھاؤ پیو کھانے پینے سے ممانعت نہیں کی گئی کہ اللہ جل جلالہ نے یہ نعمتیں اسی لیے تو پیدا فرمائی مگر حلال یعنی جائز طریقے سے حاصل کرکے اور پاکیزہ صاف ستھری اور اللہ جل جلالہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو ، اگر تمہیں اس کی عظمت کا اقرار ہے اور تم اسی کی عبادت کرنے والے ہو تو ، (حلال کھانا) یہاں غذا اور کھانے کا مزاج پر اثر ہوتا ہے کہ حلال اور طیب کھانے سے شکر اور عبادت کرنے کی توفیق ارزاں ہوتی ہے اور حدیث شریف کے مفہوم کے مطابق پیٹ میں حرام ہو تو نہ تو دعا قبول ہوتی ہے اور نہ گوشت کا حصہ جو حرام سے بنا دوزخ کی آگ سے بچ سکے گا ۔ اب بڑے بڑے حرام کھانے یہ ہیں کہ اللہ جل جلالہ نے ہر مردار کو حرام کردیا خواہ ویسے وہ جانور حلال بھی ہو مگر بغیر ذبح کے مر گیا تو حرام ہوگا اور خون حرام ہے ، خنزیر حرام ہے اور ایسا ذبح بھی حرام ہے جس پر بوقت ذبح اللہ جل جلالہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو ، اور ان حرام اشیاء میں سے بھی مجبور ہو کر کوئی جان بچانے کے لیے کسی قدر کھالے کہ نہ تو لذت کی طلب ہو اور نہ محض پیٹ بھرنے کی تو اسے گناہ نہ ہوگا کہ اللہ جل جلالہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے یعنی مشرکین نے جو بہت سی اشیاء اپنی طرف سے حرام قرار دے رکھی تھیں ، ان میں تو صرف یہ چار چیزیں ایسی ہیں جو واقعی اللہ جل جلالہ کی طرف سے حرام ہیں باقی انہوں نے اپنی طرف سے گھڑ لی ہیں اور اپنی طرف سے یہ گھڑ لینا کہ فلاں چیز حلال یا حرام ہے ، اللہ جل جلالہ پر جھوٹ اور بہتان باندھنے والی بات ہے جو اتنا بڑا جرم ہے کہ اللہ جل جلالہ پر بہتان باندھنے والے کبھی بھی فلاح یعنی کامیابی کا منہ نہیں دیکھتے ، اگر چند روز دنیا کی مہلت کو وہ اپنی نادانی سے کامیابی سمجھتے ہیں تو یہ کوئی بات نہیں ، محض چند روزہ اور بہت کم فرصت ہے جس کے بعد ایسے لوگوں کے لیے بہت دردناک عذاب ہے ، اگرچہ قرآن وحدیث میں اور چیزیں حرام ہونا بھی ثابت ہے مگر مولانا اشرف علی تھانوی (رح) کی تفسیر کے مطابق جو چیزیں مشرکین نے حرام قرار دے رکھی تھیں ان میں سے واقعتا صرف یہ چار چیزیں ہی حرام تھیں ، ہاں یہودیوں پر بعض اور چیزیں بھی حرام تھیں جن کا بیان قبل ازیں ہوچکا اور آپ ﷺ کو بتا دیا گیا وہ بھی اللہ کریم نے زیادتی نہیں کی تھی بلکہ ان کی اپنی زیادتیوں کا نتیجہ تھا ۔ اللہ کریم تو بہت بڑی رحمت و بخشش والا ہے کہ اگر عہد جہالت میں کوئی ایسی قباحتوں میں مبتلا بھی رہا ہو یا اپنی جہالت کے باعث گناہ اور نافرمانی میں مبتلا ہو بھی جائے اور پھر توبہ کرلے نیز توبہ یہ ہے کہ اپنے کردار کی اصلاح کرلے تو اللہ جل جلالہ کی بخشش کو پالے گا ۔
Ayahs 16:120–128

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِیْفًا١ؕ وَ لَمْ یَكُ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 16:120 in the Quran reader

بیشک ابراہیم (علیہ السلام) بڑے پیشوا (اور) اللہ کے فرمانبردار تھے جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے

شَاكِرًا لِّاَنْعُمِهٖ١ؕ اِجْتَبٰىهُ وَ هَدٰىهُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 16:121 in the Quran reader

اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والے تھے اور اس نے ان کو منتخب کرلیا تھا اور سیدھی راہ پر ڈال دیا تھا

وَ اٰتَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً١ؕ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَؕ Open ayah 16:122 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو دنیا میں بھی خوبیاں عطا فرمائی تھیں اور یقینا وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں سے ہوں گے

ثُمَّ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 16:123 in the Quran reader

پھر ہم نے آپ کی طرف وحی فرمائی کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت (طریقے) کی پیروی کریں جو ایک طرف (صرف اللہ) کے ہو رہے تھے اور شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے

اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَى الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 16:124 in the Quran reader

یقینا ہفتے کے دن کو ان ہی لوگوں کے لئے مقرر فرمایا گیا تھا جنہوں نے اس میں اختلاف کیا تھا۔ اور یقینا آپ کا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ فرما دیں گے جن میں وہ اختلاف کرتے تھے

اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 16:125 in the Quran reader

اپنے پروردگار کی راہ کی طرف دانائی اور نیک نصیحت سے بلائیے اور ان سے اچھے انداز میں بحث فرمائیں بیشک آپ کا پروردگار بہتر جانتا ہے کہ جو اس کی راہ سے بھٹک گیا اور وہ راہ پر چلنے والوں کو بھی خوب جانتا ہے

وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ لَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَیْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ Open ayah 16:126 in the Quran reader

اور اگر بدلہ لینے لگو تو اتنا ہی بدلہ لو جتنا تمہارے ساتھ برتاؤ کیا گیا اور البتہ اگر تم صبر کرو تو وہ صبر کرنے والوں کے حق میں بہت اچھا ہے

وَ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 16:127 in the Quran reader

اور صبر کیجئے اور آپ صبر کرنا اللہ ہی کی توفیق سے ہے اور ان پر غم نہ کیجئے اور جو کچھ یہ تدبیریں کرتے ہیں اس سے تنگ دل نہ ہوئیے

اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِیْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ۠ Open ayah 16:128 in the Quran reader

بیشک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں جو پرہیز گار ہوتے ہیں اور جو خلوص دل سے نیک کام کرنے والے ہوتے ہیں

(رکوع نمبر 16) اسرارومعارف مشرکین عرب ہوں یا یہود ونصاری ان کا خود کو ابراہیم (علیہ السلام) کا متبع قرار دینا اور ان عقائد و اعمال کے ساتھ ہرگز زیب نہیں دیتا کہ وہ تو بلاشبہ ایک بہت عظیم پیشوا اور اللہ کریم کے اطاعت گذار بندے تھے ان کا تو کوئی عقیدہ یا عمل خود ساختہ نہ تھا جبکہ تمہارا سارا مذہب ایجاد بندہ ہے اور وہ تو ہرگز شرک نہیں کرتے تھے جس پر تمہارے مذاہب کی بنیاد ہے نیز وہ اللہ کے انعامات پر اس کا شکر ادا کرنے والے تھے اور اللہ کے چنے ہوئے بندے تھے ، کہ ساری عمر معاشرے حکومت اور ہر طاغوت سے ٹکر لی مگر اللہ جل جلالہ کی اطاعت کا دامن نہ چھوڑا ، اولاد وازواج اور گھر بار کی محبت انہیں اللہ جل جلالہ کی راہ میں ہجرت سے مانع نہ ہوسکی ، اہلیہ اور لخت جگر کو ویران صحرا میں چھوڑ دیا تو اللہ جل جلالہ نے انہیں منتخب فرما کر ایک عالم کا پیشوا ومقتداء کردیا ، اور دار دنیا میں بہت بلند مقام بخشا جبکہ دار آخرت میں بھی وہ اللہ جل جلالہ کے پسندیدہ اور نیک بندوں میں ہوں گے ، پھر آپ ﷺ کو اے حبیب وحی فرمائی کہ آپ ﷺ بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت پہ کاربند ہوں یعنی اللہ جل جلالہ کی اطاعت اسی جذبے اور طریقے سے کریں کہ ان کا طریق اطاعت مثالی تھا کہ وہ بالکل سیدھے اور کھرے تھے اور ہرگز ہر گز شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے جیسا کہ یہ لوگ مبتلا ہیں نہ وہ رسومات میں گرفتار تھے جس طرح ان لوگوں نے ایجاد کر رکھی ہیں اور یہ حلال و حرام یا دنوں کی تخصیص ابراہیم (علیہ السلام) پر لازم نہ تھی نہ وہ کرتے تھے جیسا کہ یہ لوگ کرتے ہیں ۔ (بغیر ارشاد نبوی ﷺ دنوں کو باعث برکت یا عہد بنا لینا ویسا ہی ہے جیسا حرام حلال اپنی طرف سے ایجاد کرنا اور یہ سخت جرم ہے) مثلا ہفتہ کی خاص تعظیم ہی کو لیں تو بھلا انہیں اس کا حکم کس نے دیا وہ تو انہیں خاص لوگوں کے ساتھ خاص تھا جنہوں نے اس میں اختلاف کیا کسی نے مانا اور کسی سے نہ مانا یا حیلے حوالے کئے اور تباہ ہوگئے نیز اس کا حقیقی بدلہ تو قیامت کے روز پائیں گے اور سارے اختلافات کا فیصلہ ہوجائے گا تو ثابت ہوا کہ دنوں کی تخصیص یا عہد قرار دینا بھی اتنا ہی بڑا جرم ہے جتنا اپنی طرف سے چیزوں کو حلال یا حرام ٹھہرانا ہے ۔ آپ ﷺ کا کام دعوت الی اللہ ہے لہذا لوگوں کو بڑی حکمت سے اور نصیحت کرنے کے انداز میں اپنے رب کی طرف دعوت دیجئے ۔ (طریق دعوت) یہاں یہ بات طے ہوگئی کہ نبوت کا مقصد اصلی لوگوں کو اللہ جل جلالہ کی طرف بلانا ہے ، اسلامی ریاست کا قیام ، فوج ، اور جہاد ، عدلیہ اور انتظامیہ یہ سب کچھ صرف اس ایک کام کے حصول کی خاطر ہے ، لہذا جہاں یہ سب کچھ تو ہو مگر قوانین اللہ جل جلالہ کے رائج نہ ہوں اور ریاست و حکومت مذہب کو لوگوں کا ذاتی معاملہ کہہ کر الگ ہوجائے اور تمام کوششیں یعنی فوج اور سول سب محض چند افراد کے اقتدار کے تحفظ کی خاطر ہوں ایسی ریاست نہ اسلامی ہے نہ اسے اسلامی کہا جائے گا اور اسے اسلامی بنانا بقدر استطاعت ہر مسلمان کا پہلا فرض ہے کہ اصل کام دین کا احیاء بندوں کو اللہ جل جلالہ کے قریب کرنا اور صرف اس کی بندگی پہ لگانا ہے ، اب اس کے لیے اسلوب کیا ہوگا بہت حکمت اور دانشمندی سے دعوت دی جائے گی نیز موعظہ حسنہ یعنی بہترین نصیحت کے انداز میں کہ نصیحت کا انداز ایسا ہوتا ہے جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ نصیحت کرنے والا جیسے نصیحت کر رہا ہے خود اس کی بہتری کی فکر میں ہے لہذا بات کرنے میں اسلوب ایسا ہو کہ سننے والا یہ سمجھ سکے کہ اللہ جل جلالہ کی اطاعت کرنا خود میری ضرورت ہے اور میرے ہی بھلے کی بات ہے ، یہ شخص دین کے نام پر اپنے آپ کو میرے اوپر مسلط نہیں کر رہا ، تو دو باتیں دعوت کی جان ہیں ، اول حکمت یعنی ضرورت ، موقع اور حالات کا تقاضا دیکھ کر بات کی جائے اس میں یہ سب شامل ہے کہ لوگ کس طرح کی نافرمانی میں گرفتار میں وہ شرک ہے یا کفر ہے یا بدعات میں پھنسے ہیں ، پھر ان کی عملی استعداد کیا ہے ، کس انداز کی بات سمجھ سکیں گے ان کا دنیاوی مقام و مرتبہ کیسا ہے غرض مخاطب کی ضرورت اور حالت کا پورا لحاظ رکھا جائے گا ، اور بات موعظہ حسنہ میں کی جائے گی موعظہ خود نصیحت کا نام ہے جس میں مخاطب کی بہتری اور بھلائی مقدم ہو جبکہ اس پر حسنہ کا اضافہ بھی ہے کہ یہ کام بہت ہی خوبصورت اور مخلصانہ انداز میں کیا جائے ، اور تیسری بات مجادلہ یعنی بحث ومناظرہ ہے کہ مخاطب یا ان کا کوئی فرد اپنی بات کو سچا اور داعی کی بات کو غلط ثابت کرنے کے لیے بحث کرتا ہے ، یا مناظرہ کرتا ہے تو اس میں بھی بحث کے حسن کو ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے ، مباحثہ یا مناظرہ کا حسن یہ ہے کہ حق کو ثابت کرنے کے لیے سب کام ہو ، محض دوسرے فریق کو رسوا کرنے یا اپنا علمی مقام و مرتبہ منوانے کے لیے نہ ہو نیز بات کرنے میں پورا ادب واحترام رکھا جائے ، اور طعنہ زنی نہ کی جائے کتاب اللہ میں اس کی مثالیں موجود ہیں خصوصا فرعون جیسے ظالم اور قطعی کافر اور اپنے آپ کو خدا کہلوانے والے جابر کو بھی دعوت دینے کے لیے موسیٰ وہارون (علیہم السلام) کو فرمایا بات مزیدار لہجے میں کیجئے گا ، لہذا اس سے بڑا بدبخت کون ہوگا جو اللہ جل جلالہ کے دین کو پہنچانے اللہ جل جلالہ کی عظمت کی بجائے اپنی بڑائی منوانا چاہئے اس میں علماء اور مقتدا یعنی پیران کرام کے لیے بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے کہ آپ ﷺ کا کام دعوت الی اللہ ہے اس کے بعد کون گمراہی اختیار کرتا ہے اور کون ہدایت کا راستہ اپناتا یہ سب اللہ کریم کے علم میں ہے ، اس راہ میں مشکلات کا آنا تو لازمی ہے کفار یا معاندین جسمانی ایذا پہنچانے سے بھی نہ چوکیں گے لہذا اگر ایسی صورت ہو تو آپ ﷺ کو بھی بدلہ لینا درست ہے مگر اسی حد تک کہ جب آپ قابو پائیں تو اتنی ہی ایذا کو دی جائے لیکن اگر اس حال پر صبر اختیار کیا جائے اور درگذر سے کام لیا جائے اور صبر کرنے والے کے لیے بھی بہت اعلی بات ہے اور جہاں تک آپ ﷺ کی ذات عالی کا تعلق ہے تو آپ کو تو صبر ہی زیبا ہے کہ اللہ جل جلالہ کی توفیق آپ کے ساتھ ہے کفار ومشرکین کی ایذاؤں پہ اور مؤمنین کے ساتھ ان کی زیادتیوں پہ قطعا دلگیر نہ ہوں کہ ان کی یہ حیلہ سازیاں آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گی ، (معیت ذاتی) آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ سے فیض پانے والوں کو تو احسان یعنی کیفیات قلبی کے اعتبار سے نہایت خلوص کے ساتھ قرب الہی اور تقوی یعنی تعلق باللہ حاصل ہے اور ایسے لوگوں کو اللہ کی ذاتی معیت حاصل ہوتی ہے جس کا حاصل یہ ہے دنیا داروں کی سازشیں ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں ۔